آئی، آئی، پی ٹی آئی

آئی، آئی، پی ٹی آئی


پی ٹی آئی کے ورکر اور ووٹر بڑے حوصلہ مند لوگ ہیں۔ زیادہ تر پڑھے لکھے، جذبے سے معمور۔جوشیلے اور محنتی۔ وطن سے محبت کرنے والوں کا یہ گروہ ملک میں صحیح معنوں میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جونظام کی چیرہ دستیوں سے اکتا چکے ہیں۔ ظلم سہنے کی اب مزید تاب ان میں نہیں ہے ۔ نظام سیاست میں ایک سے چہرے ایک سی باتیں سن سن کر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ یہ لوگ کچھ کرنا چاہتے ہین ۔ اس ملک کے لئے ، اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے ۔ ان میں طاقت بھی ہے اورحوصلہ بھی ۔ امید بھی ہے اور تبدیلی کی آگ بھی۔ یہ لوگ پڑھے لکھے بھی دوسری جماعتوں کے ورکرز سے زیادہ ہیں۔ ماڈرن ٹیکنالوجی بھی یہ جانتے ہیں اور جدید علوم سے واقفیت بھی رکھتے ہیں۔ انکے دل صاف اورہمت جواں
ہوتی ہے۔


ان لوگوں کی وطن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے بہت کم وقت میں ایک ایسا انقلاب بپا کرنے کی کوشش کی جس کی روایت اس ملک میں موجود نہیں۔ دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے جو ماحول اور جذبہ تھا وہ ان سب کارکنوں کی وجہ سے دیدنی تھا۔چند برسوں میں انہوں نے ایک ایسی جماعت کھڑی کر دی جو سب روایتی جماعتوں کے لیئے چیلنج بن گئی۔جلسے ہوتے تو انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم ہوتا۔ نعرہ لگتا تو سب یک زبان ہوتے۔ کسی جلسے میں کوئی بدتمیزی نہیں ہوتی تھی۔ مدتوں سے گھروں میں بیٹھی خواتین سرگرم عمل ہو گئیں۔ گھروں میں کنوینسنگ شروع ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر انہی لوگوں کی وجہ سے تحریک میں زور پڑنے لگا۔ جماعت میں نظم بڑھنے لگا۔تبدیلی سامنے نظر آنے لگی۔ حوصلے ہمالہ کی طرح بلند ہونے لگے۔ ان سب لوگوں نے عمران خان کو اپنا لیڈر مان کر وہ کارنامے کرنا شروع کئے جو روایتی سیاسی جماعتوں نے کبھی سوچے بھی نہیں تھے۔ یہ لوگ ہر فرسودہ سیاسی رسم اور ظلم کی ہر روایت کو چیلنج کرنے کے درپے تھے۔ ہر قیمت پر اس ملک کی بہتری کے خواہاں تھے۔یہ بڑے کمال کے لوگ تھے۔
آج جو پی ٹی آئی کا حال ہے اس پر یہ لوگ بہت پریشان بھی ہیں اور پشیمان بھی۔ اب پی ٹی آئی جو ہے اور جو کر رہی ہے اسکا خواب تو ان لوگوں نے نہیں دیکھا تھا۔ یہ تعبیر تو نہیں تھی۔ نئے پاکستان کا منظر ایسا تو ان لوگوں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔
عمران خان نے اپنی پے درپے حماقتوں سے ان کے خواب چکنا چور کر دئیے۔ ان کو مایوس کیا اور ان کے جذبے کو پاوں تلے روند دیا۔ ان لوگوں کا مقصد عمران خان کو وزیر اعظم بنوانا نہیں ملک میں صحیح معنوں میں تبدیلی لانا تھا۔ ان کا مقصد انقلاب لانا تھا، دھرنا دینا نہیں۔ ان کا مقصد تبدیلی لانا تھا لوگوں کی تذلیل کرنا نہیں۔ ان کا مقصد حالات کو بہتر بنانا تھا ان کوبگاڑنا نہیں۔ ان کا مقصد تبدیلی لانا تھا، بات بات پر تبدیل ہونا نہیں۔ عمران خان نے ان تبدیلی کے متوالوں کو ہر جگہ مایوس کیا۔ کراچی ہو یا لاہور، پشاور ہو یا اندرون سندھ، اب یہ بے مثال ورکرچپ سادھ چکے ہیں ۔ خاموش ہو گئے ہیں۔ پھر سے اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں جس سے انہوں نے بغاوت کی تھی۔ پھر سے اس جبر کا شکار ہو گئے ہیں جس کے خلا ف انہوں نے آواز اٹھائی تھی۔ پھر سے ان جماعتوں کو تسلیم کر رہے ہیں جن کی نامعقولیت سے یہ تنگ تھے۔ پھر سے انقلاب کی خواہش ان کے سینوں میں دفن ہو گئی ہے۔ اب ان لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ حوصلہ ٹوٹ گیا ہے۔ امید کا دامن چھوٹ گیا ہے۔

عمران خان سیاست کے معاملات میں اتنے ناسمجھ ہوں گے یہ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔

خان صاحب کا سب سے بڑا دعوی تھا کہ ان کو آزمایا نہیں گیا۔ لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد عمراں خان قوم کی کسی بھی آزمائش پر پورا نہیں اترے۔ اسی وجہ سے وہی عمران خان جو دلوں کی دھڑکن تھے اب ہر جگہ مذاق بن گئے ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اب ان کی حیثیت صرف انٹرٹیمنٹ کی رہ گئی ہے۔ وہی شخص جس کی ہر بات پر لوگ گھنٹوں سر دھنتے تھے اب اسی کی ہر بات پر کئی کئی دن ٹھٹھا اور مذاق بنا رہتا ہے۔ طنز، طعنہ اور جگت صرف خان صاحب پر نہیں ہوتی بلکہ اس کا شکار وہ سنجیدہ اور حوصلہ مند کارکن بھی بنتا ہے جس نے تبدیلی کو نعرہ لگایا تھا۔ جس نے انصاف کا دعوی کیا تھا۔ جس نے نئے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔

اب جو صورت حال ہے اس میں نہ قصور اس کارکن کا ہے نہ پی ٹی آئی کا۔ اس صورت حال کی ذمہ داری صرف اور صرف عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ لوگ اب بھی اس نظام سے تنگ ہیں ۔ اس ملک کی بہتری کے خواہاں ہے اور تبدیلی چاہتے ہیں ۔ مگر اب ان کو راستہ نہیں دکھائی دے رہا۔ اعتبار نہیں آ رہا۔

عمران خان کو چاہیے کہ وہ اچھے سپورٹسمین کی طرح اپنی غلطی تسلیم کریں۔ ان نوجوانوں سے کی جانے والی زیادتی پر معافی مانگیں اور پی ٹی آئی کی قیادت سے استعفی دے دیں۔ پی ٹی آئی کے لئے کام ضرور کریں مگر ایک سوشل ورکر کی حیثیت سے۔ جلسوں میں شرکت ضرور کریں مگر صرف ایک شعلہ بیان مقرر کی حیثیت سے۔ پی ٹی آئی سے نکالے گئے صالح لوگوں کو واپس بلایا جائے۔ ناراض ارکان کو منایا جائے۔جاوید ہاشمی ، جسٹس وجیہ الدین، حامد خان اور عدنان رندھاوا سے معافی مانگی جائے۔ فوزیہ قصوری جیسی لاجواب خاتون کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں۔ اسد عمر کی ذہانت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ وجیہ الدین کے سپرد جماعت کی قیادت کی جائے۔ میڈیا کے برائلر مفکرین کے بجائے میڈیا شیخ رشید کے حوالے کیا جائے جنہیں اس کام کا تجربہ بھی اور اہلیت بھی۔ یہ سب لوگ مل کر پی ٹی آئی کو دوبارہ منظم کریں۔ نوجوانوں کو حوصلہ دیں۔ انکے جذبے کو جلا بخشیں۔

پی ٹی آئی کا ورکر بہت ذہین ہے۔ یہ افراد کی پرستش سے ماورا ہے ۔ اندھا دھند تقلید اسکی سرشت میں ہے ہی نہیں۔ یہ فرد نہیں نظریے کو مانتے ہیں۔ عمران خان نے ان نظریاتی لوگوں کو بہت خواب دکھائے ہیں۔ بہت امیدیں دلائی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خان صاحب ان لوگوں کے لئے قربانی دیں۔ ان کے خوابوں کے لئے اپنا وزیر اعظم کا خواب قربان کریں۔ پھر دیکھے کس طرح یہی نوجوان ہر طرف انقلاب بپا کرتا ہے۔ اس وطن کے لئے کام کرتا ہے ۔ اس ملک اور اس جماعت کا نام بلند کرتا ہے۔ یہ نوجوان پھر نیند سے جاگے گا۔ پھر قوت بنے گا۔ تبدیلی پی ٹی آئی کے نام سے پھر آئے گی اور دو ہزار اٹھارہ میں پورا ملک فلک شگاف ہو کرکہے گا۔
آئی، آئی، پی ٹی آئی

بشکریہ

عمار مسعود