افسانہ : “اعتراف”.

تحریر: حمیرا فضاء.
“ہمارے گھر کا ماحول انتہائی مذہبی تھا‎‏اور ابا جی جلالی طبیعت والے اصول پرست انسان,اماں بنا چوں و چرا اُن کے ہر حکم کی بجا آوری کرتیں,اور باقی بہن بھائی کی طرح میں بھی اُن کے ہر فیصلے کے آگے لب بستہ رہتا .مجھے حکم ان کی ہر بات ماننے کا تھا.اپنی من مرضی کرنےکی جرات مجھ سمیت کسی بہن بھائی میں نہ تھی,شائد ہم میں سے کسی کو اُس وقت “اپنی مرضی”جیسے الفاظ کے معنی و اثرات کا علم ہی نہیں تھا. حالانکہ مجھ سمیت کسی نے بھی عملی طور پر ابا جی کا غصہ سہا نہیں تھا مگر اُن کی شخصیت کا رعب ہی کچھ ایسا تھا کہ اُن کی جنبش ابرو ہی اپنے حکم ناموں پر عمل کروانے کیلئے کافی ہوتی تھی-
میں اُن دنوں میٹرک کے امتحانات کے بعد فارغ تھا اور رزلٹ کا منتظر تھا,ابا جی کے حکم کے مطابق ایک انسٹیٹیوٹ سے کمپیوٹر اور انگلش لینگوئج کے کورسز کررہا تھا اور یہی وہ دن تھے جب میرے اندر تبدیلیوں کا نقطہ آغاز ہوا,مجھے اپنے ہم عمر لڑکوں اور اپنی ذات میں موجود فرق اور اس کی وجہ سمجھ آنی شروع ہوئی اور پھر ٹھیک تب سے مجھے دورُخی زندگی گزارنی پڑی.
میں نے ابا جی کے عتاب سے بچنے کا حل یہ نکالا کہ خود پہ متابعت کا خول چڑها لیا .اس لیے اپنی سرشت کے برعکس میں ہمہ وقت خود کو نیک پارسا اور فرمانبردار ثابت کرنے کی سعی میں رہتا.جونہی نماز کا وقت ہوتا سر پہ ٹوپی رکھتا اور گھر سے نکل جاتا,ابا جی سمجھتے میں مسجد میں ہوں اور میں فطری خصلت سے مجبور دوستوں میں آوارہ گردی کرتا .جب کبھی ابا جی کو اپنی طرف آتے دیکھتا تو چہرے پر عقیدت مندانہ تاثر لاتا اور ہونٹوں کو مصنوعی جنبش دیتا کہ ذکر اذکار میں مصروف ہوں .میں نے ہمیشہ ایک مذہبی کتاب کمرے میں ضرور رکھی تاکہ ابا جی اگر اچانک چھاپا ماریں تو مووی یا ناول بند کرکے وه کتاب کھول لوں.تعلیم وہی حاصل کی جو ابا جی نے چاہی مگر ذہن و دل پہ اثر صفر رہا .نوکری ابا جی کی پسند سے کی مگر ہیرا پھیری طبیعت کا حصہ بنی رہی .گھر ابا جی کی مرضی سے بسایا مگر دل کو اپنی پسند کی گرل فرینڈ سے آباد رکھا .یو نہی وقت سرعت سے گزرتا گیا اور پھر ابا جی سخت علیل ہوگئے .بس چند دن کے اندر اندر بستر پر ڈھے سے گئے .شاید ان کا وقت رحلت قریب تھا .
ایک دن انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اتنی محبت,شفقت اور اپنائیت سے مخاطب ہوۓ کہ جس کی مجھے تمنا تو تھی مگر کبھی تصور نہ کیا تھا .
“پتر میں نے ساری زندگی تجھ سے سختی کی اور تو اتنا فرمانبردار اور صالح ہے کہ تو نے ہمیشہ میرا مان رکھا اور سچ بولا .میں آج تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو کیا چاہتا ہے ؟”, ابا جی نحیف لہجے میں کبیدگی سے بولے .ان کا یہ کہنا تھا کہ میرے دل میں انکی محبت جاگ اٹھی .میرے سارے گناه دل میں سائیں سائیں کرنے لگے .میری ہر خطا ندامت کا سیلاب بن کر آنکھوں سے امڈ پڑی .پر میرے ترساں چہرے پر اعتماد اور حوصلے کا رنگ آگیا.
“ابا جی میں نے اپنی ساری چاہتیں پوری کرلیں .بس آج منافقت کا خول اتارنا چاہتا ہوں اور آپ سے سچ بولنا چاہتا ہوں” .میں نے بغیر ڈر اور خوف کے پوری ایمانداری سے کہا.
ابا جی نے کمزور مگر زمانہ شناس نظروں سے مجھے دیکھا تھا پھر مضبوط لہجے اور لڑکھڑائی آواز میں بولے.
“میری سختی نے ہی تجھے سچ بولنے نہ دیا تھا بیٹا”, ابا جی نے بھی اعتراف کیا تھا.
ہم دونوں ہی خاموش رہ گئے تھے.