افسانچہ : “لاپروائی” از ریما نور رضوان.

“اےمیڈم !پیسے دے دے نا”,
وہ اپنی شاندار گاڑی میں بیٹھی تھی تو مانگنے والی معصوم بچی آگے پیچھے پھیرنے لگی تھی,
“میڈم!کھانا کھائوں گی, پانچ روپے دے دے”۔
“پانچ سو کا پیٹرول دال دو”,
میڈم نے پیٹرول پمپ پر پانچ سو کا نوٹ نکالا تھا۔
“میڈم جی! ڈال دیا،”
میٹر بند تھا دوسو کا پیٹرول ڈالا تھا۔وہ گاڑی میں بیٹھی میوزک سن رہی تھی۔
“واہ جی واہ میڈم جی مجھے دینے کےلیےپانچ روپے نہیں یہاں دو سو روپوں کا پیٹرول باقی پیسے اُس کی جیب میں۔۔۔۔۔۔۔۔
بچی یہ کہہ کر رکی نہیں تھی.