افسانچہ : “کیا میں مائیکل بن گیا؟”۔

تحریر :         بلال حسین
 وہ دروازے پر کھڑی ہوئی کسی کو سمجھا رہی تھیں اور وہ بے بس بیچارا بھی سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا اور احسان مندی کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ میں اسی وقت نہا کر نکلا تھااور آئینے کے سامنے اپنے بالوں کو سنوارنے میں مصروف ہی تھا کہ والدہ کی درشت لہجے میں اونچی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائیں اور میں نے فورا ہی گھر کے دروازے کی جانب کوچ کیا ۔ میں نے دیکھا کہ والدہ کے ہاتھ میں ٹھنڈی پانی کی بوتل ہے اور ایک مردانہ ہاتھ دروازے کے باہر سے اندر کی جانب جس میں ہمارے گھر کا پانی ( کانچ کا گلاس ) کا گلاس ہے ، ہوا میں معلق تھا۔ والدہ کافی سخت قسم کی مذہبی خاتون ہیں اور چند ایک باتوں پر تو بہت زیادہ اُصولی ہیں ، دنیا ادھر سے اُدھر کی ہوجائے گی لیکن اُن کے اصول کبھی نہیں ختم ہوسکتے ۔ جیسے جیسے میرے قدموں کی رفتار والدہ کی جانب بڑھ رہی تھی میں صاف محسوس کرسکتا تھاکہ اُن کے چہرے کی تشویش بھی بڑھ رہی ہے ، گویا میں سمجھ چکا تھا کہ وہ مجھے حالیہ صورتحال میں وہاں قبول نہیں کرنا چاہتی ہیں لہذا میں یہ سب کا ادراک و احساس کر کے مزید تیزی کے ساتھ دروازے تک پہنچ گیا ۔ دروازے کے باہر مائیکل نظر آیا جس نے ہمیشہ کی طرح مجھے خندہ پیشانی اور ادب سے سلام کیااور میں نے مائیکل کے سلام کا جواب دیا ۔ ماجرا دریافت کرنے پر مجھے مائیکل نے بتایا کہ آنٹی مجھے یہ کانچ کا مہنگا گلاس رکھنے کی بات کر رہی ہیں ۔ والدہ کی جانب دیکھا تو اُنہوں نے کج روی اور بے دلی کے ساتھ عرض کیا ” گرمی دیکھو کس قدر پڑھ رہی ہے ، لو کے جھکڑ چل رہے ہیں ، جسم اور روح جھلسانے والا موسم ہے اسی لیے میں مائیکل سے کہہ رہی ہوں کہ یہ گلاس اپنے پاس رکھ لے اور جب بھی پانی پینا ہو تو گلاس نکال کر کسی بھی گھر سے ٹھنڈا مانگ کر پی لیا کرے ۔ ا س میں حرج ہی کیا ہے ” ۔۔ مائیکل نے مسکرا کے عرض کیا کہ ” میں بھی تو آنٹی کو یہی کہہ رہا ہوں کہ آنٹی جب مجھے ٹھنڈا پانی پینا ہوگا تو میں یہیں آجاؤں گا لیکن یہ قیمتی گلاس میں نہیں رکھ سکتا ۔۔ اگر یہ ٹوٹ ووٹ گیا تو میں کہاں سے پیسے دوں گا ؟” ۔ مائیکل کی طبیعت اور مفلس مزاج کو میں بخوبی سمجھ چکا تھا لیکن وہ بہت معصوم اور بھولا تھا ۔ جبکہ میری والدہ نے غصیلے انداز میں گہری سانس بھری اور دروازے سے چند گز کے فاصلے پر ، مائیکل کی نظروں سے اوجھل ہو کر کھڑی ہوگئیں اور اپنی گردن کو خم دے کر اشارہ سے مجھے اپنے پاس بلا لیا ۔۔ میں والدہ کے نزدیک گیا تو اُنہوں نے دانتوں کو پیس کر منافرت بھرے انداز میں کہا ” اِس نے میرا گلاس ناپاک کردیا ہے ، یہ عیسائی ہے اور محلے بھر کا گند اُٹھاتا ہے ، مجھے نہیں چاہئے یہ گلاس ” ۔۔ میں نے کہا بس امی اتنی سی بات ۔۔ میں ابھی آپ کا مسئلہ حل کردیتا ہوں  ۔ والدہ نے غیر متوقع طور پر مجھے متعجب نظروں سے دیکھا اور پھر اگلے لمحے مسکرا دیں کہ میرے بیٹے کی مائیکل بہت عزت کرتا ہے اور اب تو مائیکل مان ہی جائے گا ۔ میں مائیکل کے پاس دوبارہ دروازے تک آیا اور عقب میں والدہ بھی آکر مسرور نگاہوں سے دیکھنے لگیں ۔ میں نے مائیکل سے پوچھا کہ تمہاری بات بھی سچ ہے کہ جب ٹھنڈا پانی نہ ہوگا تو تم اپنی تشنگی کیسے مٹاپاؤ گے لہذا میں نے والدہ کے ہاتھ سے یخ پانی کی بوتل لی اور مائیکل کے ہاتھ سے گلاس لیا، بوتل کا پانی ، گلاس میں انڈیلا اور غٹا غٹ پی گیا ۔ والدہ کے منہ سے بے ساختگی میں لفظ “ارے ” نکلا اور پھر اُن کے چہرے پر شدید ناپسندیدگی کےتاثرات واضح ہوگئے ۔ میں نے پانی پینے کے بعد والدہ کی طرح گلاس کو ہوا میں اُٹھا کر بڑے مؤدب انداز میں عرض کیا ” یہ دیکھیں آپ کا گلاس پاک ہوگیا ” ۔