افسانہ “ادھ جلا سگریٹ” از بلال اسلم۔

ہم دونوں کلاس روم سے نکلے تو مجھے سگریٹ کی طلب محسوس ہونے لگی ۔
“تم ایسا کرو کہ لان میں جا کر بیٹھو، میں سگریٹ پی کر آتا ہوں ” میں نے اسے کہا تو وہ بھی ساتھ چلنے کی ضد کرنے لگی ۔
” نہیں نا! میں بھی ساتھ چلتی ہوں ۔۔۔ تم سگریٹ پی لینا اور میں کافی پی لوں گی ۔۔”
عجیب لڑکی تھی، جب سے یونیورسٹی آئی تھی میرا سایہ بن کر رہ گئی تھی ۔کبھی کبھی تو میں اس کے یوں ہر وقت اپنے ساتھ چمٹے رہنے پر جھنجھلا سا جاتا تھا ۔ بندے میں اتنا اعتماد تو آ ہی جانا چاہیے کہ اپنے ہم عمر لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے میں کسی قسم کی جھجھک کا مظاہرہ نہ کرنا پڑے اور وہ تھی لڑکے تو دور کی بات، لڑکیوں سے بھی سہمی سہمی رہتی تھی ۔ جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا مجھے تبھی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ خاتون بھی لڑکیوں کی اس قبیل سے تعلق رکھتی ہیں، جو اس انتظار میں رہتی ہیں کہ انہیں کوئی کاکروچ یا کوئی چھپکلی وغیرہ نظر آئے اور وہ بلا تامل چیخیں مار مار کر محلہ سر پر اٹھا لیں، لہٰذا میں نے اسے ہر اس متوقع Ragging سے بچایا جو میرے خیال میں آنے والے وقت میں مذاق کے نام پر اسے احساسِ ذلت کے عمیق گڑھوں میں پھینکنے والی تھی ۔پتا نہیں نام نہاد لبرلز لڑکے لڑکیون نے یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا ٹھیکہ کیوں دے رکھا تھا ۔۔۔؟ اسلامی مدارس میں تو نئے آنے والے طلبہ کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔ خیر تو بات اس چھوئی موئی سی لڑکی کی ہو رہی تھی ۔ اسے دعویٰ تھا کہ وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتی ہے جبکہ مجھے ایسی کوئی غلط فہمی نہیں تھی ۔ میں بس اس کی معصومیت پر فریفتہ تھا ۔ اس کی سفید دودھیا گردن کے عقب میں اور سیاہ گھنیرے بالوں کے ڈھیلے ڈھالے جُوڑے کے نیچے اُگے ان بھورے بالوں کا دیوانہ تھا جنہیں وہ یہ جانتے ہوئے بھی میرے سامنے لے آتی تھی کہ اگر وہ میرے سامنے آئے تو میں خود پر اپنا اختیار کھو بیٹھوں گا ۔ کتنی ہی بار اور کتنی ہی دیر میں نے اس کی شرم سے غیر ہوتی حالت کے باوجود اپنے ہونٹ نرم، ملیح گردن کے عقب میں گاڑھے رکھے تھے جہاں ان بھورے ریشمی بالوں کی دو لکیریں سی کھنچی ہوئی نظر آتی تھیں ۔ پتا نہیں مجھ سے اسے ڈر کیوں نہیں لگتا تھا ۔
ہم دونوں چلتے ہوئے یونیورسٹی سے باہر آ گئے اور ایک قریبی کیفے ٹیریا کی طرف بڑھ گئے ۔


ہم دونوں ریسٹورنٹ کے فرسٹ فلور پر کھڑکی کے قریب پڑے ہوئے کرسی میز پر بیٹھ گئے ۔ میں نے جیب سے سگریٹ کیس اور لائیٹر نکالا اور سگریٹ جلائی۔ اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے رُخ پھیر لیا۔ اسے میرا سگریٹ پینا بہت برا لگتا تھا اور میں چاہتا تھا کہ میں بھی اسے برا لگوں، اس لیے آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر دیتا جو کسی بھی طور ایک سلجھے ہوئے اور تعلیم یافتہ انسان کے شایانِ شان نہیں ہوتی تھی ۔ اصل میں، میں چاہتا تھا کہ وہ میری جان چھوڑے اور کسی ذمہ دار اور اپنے مستقبل کے بارے ميں سنجیدہ لڑکے کا انتخاب کر کے اس کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارے۔

میرے ایسا غیر ذمہ دار اور لاپرواہ شخص کسی بھی طور اس کے قابل نہیں تھا، لیکن میری ہر اوچھی حرکت کا اس پر الٹا اثر پڑتا ۔ وہ روتی دھوتی۔۔۔ مجھ سے لڑتی جھگڑتی اور آنسو بہا کر پھر سے میری محبت کا دم بھرنے لگتی ۔ ویٹر اس کے سامنے کافی اور میرے سامنے چائے رکھ کر جا چکا تھا ۔
” تم نے مجھے ستانے اور رُلانے کی قسم کھا رکھی ہے کیا ۔۔۔؟” وہ زچ ہوتے ہوئے بولی۔
“اب میں نے ایسا کیا کر دیا ہے ۔۔۔؟” میں اس کی بے محل اور بے تکی بات پر حیران ہوا اور میری حیرانی اپنی جگہ درست تھی ۔ جہاں تک مجھے یاد تھا، میں نے ریسٹورنٹ میں بیٹھنے کے بعد سگریٹ پینے کے علاوہ ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی جس پر اس کا اعتراض کرنا بنتا ۔
“میں نے کافی منگوائی تھی تو تمہیں بھی کافی پینا چاہیے تھی نا ۔۔۔ یہ سڑی ہوئی چائے منگوانا ضروری تھی کیا ۔۔۔؟” اس نے چائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک بار پھر برا سا منہ بنایا ۔ میں نے اپنی ہنسی بمشکل دبائی۔
“اب اگر مجھے کافی اچھی نہیں لگتی تو میں کیوں پیوں۔۔۔؟ بتاؤ۔۔” میں نے اسے رسان سے سمجھانے کی کوشش کی
“میری چائے تم سے برداشت نہیں ہو رہی اور چلی ہو میرے ساتھ زندگی گزارنے ۔۔۔” نہ چاہتے ہوئے بھی میری زبان سے طنزیہ الفاظ نکل گئے ۔ وہ کچھ نہیں بولی اور خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی ۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہو، تاہم بولی کچھ نہیں اور سر جھٹک کر کافی کے سپ لینے لگی۔ میرا آدھا سگریٹ ابھی باقی تھا لیکن اب چونکہ چائے آ گئی تھی اس لیے سگریٹ بےکار تھا ۔ میں نے انگوٹھے اور بڑی انگلی کی ہلکی سی جنبش سے سگریٹ کھڑکی سے باہر اُچھال دیا ۔ حالانکہ یہ کوئی اتنی خاص بات نہیں تھی لیکن پتا نہیں کیوں میرے سامنے بیٹھی ہوئی اس معصوم سی لڑکی کے چہرے پر ایک رنگ سا آ کر گزر گیا ۔ وہ جیسے سکتے کی کیفیت میں آ گئی تھی ۔ میں حیران ہوا ۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی ۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے مزید کچھ پوچھتا، وہ پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑی ۔ میں پریشان ہو گیا ۔ پتا نہیں اسے بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا تھا ۔
“ارے بتاؤ تو سہی۔۔۔ کیوں رو رہی ہو۔۔۔؟” مجھے لگا جیسے اچانک اس کی طبعیت خراب ہو گئی ہے ۔ نازک بھی تو بہت تھی ۔ آئے دن بیمار رہنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔۔۔ لیکن جب اس کا آنسوؤں سے دُھلا چہرہ اٹھا اور اس کے ہونٹوں سے وہ الفاظ برآمد ہوئے جنہیں سنتے ہی میں سکتے میں چلا گیا ۔
“باسل! مجھے اپنی زندگی سے اس ادھ جلے سگریٹ کی طرح تو نہیں نکال باہر کرو گے ۔۔۔؟” میں ہکا بکا اسے دیکھنے لگا ۔ کیا لڑکی تھی وہ ۔ میں آج تک نہیں سمجھ پایا تھا ۔
” کیسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔؟”
“نہیں پلیز! بتاؤ مجھے ۔۔۔” وہ منتوں پر اتر آئی ۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔
“مجھے بتاؤ باسل کہ تمہاری زندگی میں میری اہمیت اس ادھ جلے سگریٹ جتنی تو نہیں ہے ۔۔۔؟” یہ لڑکی ہر روز مجھے ایک نئے انداز سے حیران کرتی تھی تو آج مجھے حیران کرنے سے بھلا کیسے چُوکتی ۔
” میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ تمہارے پاس بیٹھا تمہاری فضول بکواس سنتا رہوں۔۔۔” میں سٹپٹا گیا ۔ اس نے مجھے لا جواب کر دیا تھا ۔
“کافی پی لی ہو تو چلیں ۔۔۔؟” میں اٹھ کھڑا ہوا ۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ میں نے بل ادا کیا اور ہم کیفے ٹیریا سے باہر آ گئے ۔ یہ کیفے ٹیریا ایک مصروف شاہراہ پر واقع تھا ۔ وہ رکی اور بے اختیار ماتھے پر اپنی ہتھیلی رکھی ۔ اسے جیسے اچانک کچھ یاد آ گیا تھا ۔
” مما پاپا نے منع بھی کیا تھا کہ میں آج یونیورسٹی نہ آؤں لیکن کیا کروں ۔۔ تم سے ایک دن بھی دور رہنا اب میرے لئے ناممکن ہے ۔۔۔ اف آج تو ہم سب گھر والوں نے ذوہیب بھائی کے لئے لڑکی دیکھنے جانا تھا ۔۔۔ اوکے بائے” کہتے ہوئے وہ تیزی سے کیفے ٹیریا کی سیڑھیاں اترنے لگی ۔ میں اسے کہنا چاہتا تھا کہ آرام سے جائے لیکن میرے الفاظ میرے منہ ہی میں رہ گئے ۔ وہ روڈ کراس کرنے سے پہلے مجھے ہاتھ ہلانے کے لئے مڑی اور اسی لمحے ایک تیز رفتار گاڑی نے اس کے نازک سے وجود کو یوں ہوا میں معلق کر دیا جیسے کوئی تفریح کی غرض سے ننھے منے سے بچے کو ہوا میں اچھال دے ۔ میرا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میری رگوں سے ساری توانائی نچوڑ لی ہو ۔ میں نے بمشکل حواس مجتمع کیے اور چیختا چلاتا اس کی طرف دوڑ پڑا ۔ میں نہیں جانتا کہ اس وقت میرے منہ کون کون سے الفاظ نکلے ۔ میرے پہنچنے سے پہلے اس کے گِرد کافی لوگ جمع ہو چکے تھے ۔ میں لوگوں کے ہجوم میں سے راستہ بناتا ہوا اس تک پہنچا۔ وہ سڑک کے بیچوں بیچ خون میں لت پت پڑی تھی ۔ اس کے گرد خون کا ایک تالاب سا بن گیا تھا ۔ وہ آخری سانسیں لے رہی تھی ۔ میں نے بھاگ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا ۔
“سس۔۔۔ سدرہ ۔۔ سدرہ ۔۔۔ آآآ ۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ آنکھیں کھولو پلیز۔۔۔” الفاظ میرے حلق سے ٹُوٹ ٹُوٹ کر نکل رہے تھے ۔ میں نے زور زور سے اس کے گال تھپتھپائے ۔ اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں ۔ موت کی زردی اس کی آنکھوں میں جیسے جم کر رہ گئی تھی ۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے کانپتے ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ لیا ۔
“بب ۔۔۔ با۔۔۔ با ۔۔۔۔سل۔۔۔۔” الفاظ اس کے ہونٹوں سے نکلنے سے پہلے ہی مردہ ہو گئے ۔ اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا اور میرے ہاتھ پر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی ۔ وہ اپنے آخری الفاظ، اپنی بے پناہ محبت کی طرح سینے میں دبائے میری دنیا اندھیر کر گئی ۔ بے ساختہ میرا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا اور ایک دلدوز چیخ میرے سینے سے برآمد ہوئی ۔ وہ شخص جس کی آنکھوں سے کبھی ایک آنسو نہیں نکلا تھا، آج بلک بلک کر رو رہا تھا ۔ مجھے یوں لگا جیسے میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہو ۔ ایک لُٹے پُٹے شخص کی کیا حالت ہوتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہو رہا تھا ۔ آج سے پہلے میں نے کبھی اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن اس وقت میں چیخ چیخ کر اعتراف کر رہا تھا کہ مجھے اپنی بانہوں میں بے جان پڑی ہوئی اس لڑکی سے بے پناہ اور بے تحاشا محبت تھی ۔ میرے منہ سے اظہارِ محبت سننے کے لیے اس لڑکی کو مرنا پڑا تھا ۔