افسانہ : “برکت” از اسماء ملک اعوان.

تحریر : اسماء ملک اعوان.

آج بھی شام ڈھلے پسینہ خشک کرتے ہوئے نعیم جب گھر میں داخل ہوا تو چہرے پر پریشانی کے واضح تاثرات تھے،گھر کی دہلیز پار کرتے ہی اس نے صحن میں بچھے تخت پر اماں کو اپنا منتظر پایا تھا،وہ جانتا تھا کہ اماں کس چیز کے انتظار میں سرِ شام سے ہی تخت پر پڑاؤ ڈال کر بیٹھی تھی،ایک لمحے کیلئے اس کے دل میں آیا کہ وہ الٹے پیروں واپس ہولے۔۔اور اس کا دل صرف گھر سے بھاگنے کو نہیں چاہا تھا،اس کا دل اس علاقے،اس شہر بلکہ اس زندگی سے ہی منہ موڑ لینے کا چاہا تھا۔۔۔اور یہ خواہش صرف آج پیدا نہیں ہوئی تھی یہ خواہش تو پچھلے کئی سالوں سے مسلسل اس کے دل میں کسی ناگ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی تھی ۔۔جو دن میں کئی کئی بار سر اٹھا کر اپنے دل کی دیواروں پر اپنے زہریلے دانت گاڑ تا رہتا تھا۔
اور جب جب اس کا سامنا ہر اس انسان سے ہوتا جس کا قرض اس پر چڑھا تھااور وہ اسے سوالیہ اور استہزائیہ نظروں سے دیکھتے تب ،جب اس کی بن بیاہی بہنوں کو دیکھنے مہمان آتے اوربہنوں کا سلیقہ،ہاتھ کا ذائقہ اور خوبصورتی دیکھنے کے بجائے اس کے گھر کی دیواروں سے لپٹی ہوئی غربت،بوسیدہ ٹین کی چھتوں سے ٹپکتی ہوئی مالی خستہ حالت اور گھر کے ادھڑے ہوئے فرش سے رستی ہوئی زبوں حالی دیکھتے اور پھر زبان سے کچھ کہے بناء اٹھ کر پھر کبھی نہ آنے کیلئے چلتے بنتے تب،جب بیاہی بہنیں ہر دوسرے تیسرے مہینے کسی نہ کسی ’’لالچ کے فرمائشی پروگرام کی تکمیل‘‘ کیلئے گھر آکر بیٹھ جاتیں اور صرف اسی صورت میں ان کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوتی کہ ان کی خواہش پوری کی جائے تب۔۔اسے چھوٹے بھائیوں کیلئے کام دھندے کے سلسلے میں کئی لوگوں کے باقاعدہ ہاتھ پیر جوڑنے پڑتے تب۔۔جب اس کی بیوی امید سے ہونے کے باعث اچھی خوارک کا مطالبہ کرتی تب۔۔۔اور تب جب اس کا بچہ خاندان اور محلے کے دوسرے بچوں کے پاس موجود کھلونے اور دوسری چیزیں دیکھ کر اِس سے بھی فرمائش کرتا،بیمار پڑتا تب۔۔۔اور تب جب اماں اس کے سامنے کبھی کمیٹی کی قسط کا یا کسی دوسری چیز کا مطالبہ کرتی جو کہ بنیادی طور پر رقم کا ہی ہوتا تھا تب۔۔۔
اور یہ وہ جب جب تھے تب تب اس کے دل میں بیٹھا وہ سرکش ناگ بری طرح پھن لہرا کر بیدار ہوتا تھا۔۔’’بھاگ جا۔۔چھوڑ دے۔۔یہ بھی کوئی زندگی ہے‘‘ اس وقت اس ناگ کی ’’ہس ہس‘‘ اس کے کانوں میں یہی سرگوشیاں کرتی۔
نعیم سارا دن رکشہ چلاتا تھاآمدنی اچھی خاصی ہوجاتی تھی،ہر روز وہ یہ سوچتا کہ اب کچھ رقم پس انداز بھی کرنی چاہئے،کچھ جوڑ کر رکھنا چاہئے،’’برا وقت‘‘ کہہ کر نہیں آتا اور اس کے زہر کا تریاق نوٹوں سے ہی ممکن ہے مگر۔۔ہر روز اس کا یہ ارادہ پانی کا بلبلہ ثابت ہوتا۔۔چار روپے کیا وہ چار پیسے بھی جوڑ نہیں پاتا تھا،اب تو خیر وہ کرائے کا رکشہ چلارہا تھا لیکن تین سال پہلے جب وہ اپنا ذاتی رکشہ چلاتا تھاجو اس نے اپنی دو بہنوں کی شادی کے اخراجات کے سلسلے میں اسے بیچنا پڑا تھا تب بھی اس کی مالی حالت اتنی ہی دگرگوں تھی جتنی کہ اب،لہذاٰ وہ یہ شکوہ بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اپنا ذاتی کام ٹھپ ہونے پر ہی اس کا یہ حال ہوا ہے۔۔۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ روز ہونے والی آمدنی کا مخصوص حصہ رکشے کے مالک کو دینے کے باوجود بھی اچھا خاصہ حصہ اس کے اپنے اخراجات کیلئے بچ جاتا ہے تو پھر وہ جاتا کہاں ہے۔۔اگر وہ روپیہ ان تمام مسائل کے حل پر ہی خرچ ہوتا ہے جنہوں نے اس کو چکی کا پاٹ بنا رکھا ہے توپھر وہ مسائل حل کیوں نہیں ہوتے۔اس کی اور اس کے خاندان کی زندگی بہتر کیوں نہیں ہوجاتی۔
اماں سے کہتا تو وہ یہ کہہ کرکہ ’’تیری بیوی کے سبز قدم کا اثر ہے،مرد کا رزق اس کی عورت کی قسمت سے ہوتا ہے‘‘ خود بری الذمہ ہوجاتی۔۔
بیوی سے دل کا بوجھ بانٹنا چاہتا تو وہ الٹا شکوک و شبہات لے کر بیٹھ جاتی’’جو مرد اپنی حلال کی کمائی کسی بھی طرح کے چھوٹے یا بڑے حرام کام میں اڑاتے ہیں وہ یونہی پریشان رہتے ہیں۔‘‘ وہ مہینے میں ایک آدھ بار یار دوستوں کے ساتھ ’’چڑھا ‘‘ لیا کرتا تھا اور کسی سستی سی طوائف کا مجرہ بھی دیکھ لیا کرتا تھا اورایسا کرکے وہ بھول جایا کرتا تھا مگر غزالہ کو یاد رہتا تھا۔۔
بڑی بہن سے شکایت کرتا تو وہ ’’کسی نے رزق پر بندش کروادی ہے میرے بھائی پر‘‘ کہتی۔۔اور وہ سوچتا رہ جاتا کہ اس کے جان پہچان کی سات نسلوں میں بھی کوئی ایسا رئیسِ اعظم پیدا نہیں ہوا جو یونہی کسی پر جادو ٹونا کروانے میں ہزاروں روپے خرچ کردے۔۔مگر پھر بہن کے ہی لا کر دئے جانے والے تعویزوں کو ہدایت کئے گئے اوقات میں جلاتا بھی،بازو سے بھی باند کر لیتا۔۔لیکن وہی ڈھاک کے تین پات والا معاملہ۔
ہر روز کی طرح آج بھی اس کا سارا وقت یہی سب سوچنے میں گزر گیا تھا،اماں نے اس کے گھر آنے کے کچھ ہی دیر بعد کچھ رقم کا مطالبہ کردیا تھا،بیٹے کو نئی چھرے والی پستول چاہیے تھی،غزالہ کے بھائی کی شادی قریب آرہی تھی اس کو سستے ہی سہی مگر نئے کپڑے چاہیے تھے۔۔۔اس رات دستر خوان پر بیٹھ کر آلو گوشت اور مٹر پلاؤ اسے جتنا بد مزہ اور بکواس لگا تھا زندگی میں کبھی نہیں لگا تھا۔۔کیونکہ اس رات روپے اپنی جیب سے نکال کر ان سب میں بانٹ دینے کے بعد اس کے پاس صرف پچاس روپے بچے تھے۔۔آمدنی آج بھی بڑھی تھی مگر اس میں برکت نہیں تھی۔۔ دن بھر کی تکان،گھر آکر پھر وہی ’’فرمائشی رونے‘‘ مسئلوں میں گھری اپنی زندگی،خاندان کا بڑا بیٹا ہونا کس قدر تکلیف دہ اور اذیت ناک امر ہے،وہی سوچیں اور وہی اس کے دل میں کنڈلی مارے بیٹھا ناگ۔۔یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی۔۔۔فجر کی اذان قریبی مسجد سے بلند ہوئی تو وہ کچھ کسمسایا۔۔یکدم اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا تھا۔
’’نماز میں دعا کیا کر۔۔ایک وظیفہ دیتا ہوں تجھے۔۔نماز کے بعد پڑھا کرنا‘‘ اس کے ایک دوست نے کل ہی تو اسے ایک وظیفہ بتاتے ہوئے کہا تھا۔۔
اذان ختم ہونے تک وہ کسلمندی سے پڑا آنکھیں بند کئے یہی سوچتا رہا کہ کیا اسے دوست کے مشورے پر عمل کرنا چاہئے۔۔؟؟
’’اذان کے بعد کافی وقت ہوتا ہے۔۔باجماعت نہیں تو گھر میں ہی پڑھ لوں گا۔۔اٹھتا ہوں ابھی‘‘ ارادے باندھے ہوئے وہ ایک بار پھر گہری نیند میں ڈوب گیا تھا۔۔
ساتوں آسمانوں کی بلندیوں سے بھی کہیں بہت اوپر نوری فرشتوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔
ختم شُد.