افسانہ : “جنت کی چڑیا” از جواد ادریس۔

شام کا سورج غروب ہونے والا تھا،محلے کی گلیوں میں تقریباً اب سب اپنے اپنے گھروں میں تھے،البتہ موٹر سائیکل پرسوار ایک دودھ والا مختلف گھروں میں دودھ دینے میں مصروف تھا، دُور کسی گلی سے ڈھولک کی دھپ کے ساتھ روائتی گیتوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی مگربول صاف سنائی نہ دیتے تھے، ڈھولکی کی تھاپ کے ساتھ تالیوں کی بھی ایک مدھم گونج سنائی دے رہی تھی۔ متین ڈرائیور جو کہ محلے میں ایک اچھے اخلاق کے بے حد محبت والی شخصیت مانے جاتے تھے ان کے گھر پر خاصا سناٹاچھایا تھا، متین صاحب کی بیوی اور ان کے بچے سہمے ہوئے بیٹھے تھے جیسے انہیں کسی کا ڈر ستائے جا رہا تھا، متین صاحب کی بیوی شمیم نیک سیرت خاتون تھی اور اپنے منجھلے بیٹے زین کو گود میں چھپائے بیٹھی تھی، بڑی بیٹی عشرت دونوں چھوٹی بہنوں لائبہ اور طیبہ کو خود سے چمٹائے الگ پریشان بیٹھی تھی۔

اچانک دروازے پر شور مچ گیا، لکڑی کے دروازے کے دو کواڑوں کو کوئی زور زور سے کھٹکھٹانا شروع ہو گیا اور وہ ڈھولک اور تالیوں کا شور اب صاف سنائی دے رہا تھا،شمیم اب کافی ڈر گئی تھی مگر اس نے عشرت سے کہا کہ سب بچوں کو لے کر اندر چلی جائے اورخودلڑکھڑاتی ہوئی دروازے تک گئی اور کانپتے ہاتھوں سے دروازے کے کواڑ کھول دئیے اور اپنے سامنے چار خواجہ سراوں کو دیکھا اور انہی قدموں پیچھے صحن میں آگئی اور وہ سب ڈھولک بجاتے تالیاں پیٹتے گانا گاتے، شمیم سے اشارے میں اندر آنے کی اجازت لے کر داخل ہو گئے۔
”شمیم باجی۔ ہائے صدقے جاواں پریشان کیوں ہو، پیغام بھیج تو دیا تھا۔۔پھر بھی چاء شاء (چاۓ) کا انتظام نہیں کیا ہمارے لیے؟“، گرو ببلی نے بے دھڑک بول دیا۔
”ہاں ہاں، اتنا مبارک دن ہے۔۔۔ اپنی امانت کو لینے آئی ہیں، چاء۔تو بنتی ہے ناں باجی“، گرو ببلی کی تینوں چیلیوں نے بھی گرو کی ہاں میں ہاں ملا ئی،سب وہاں صحن میں پڑی چارپائی اور موڑھوں پر بیٹھ گئے۔
”ماشا اللہ، باجی نے گھر، پودے اور بچے سب اتنے پیارے طریقے سے سنبھالے ہوئے ہیں۔۔ اللہ نظر نہ لگائے“، اُن میں سے ایک مسکان نے گھر کے چاروں طرف دیکھتے ہوئے تعریف کی۔
”بچو!!! کدھر چھپ گئے ہو سوہنیو۔۔۔ ماں صدقے جائے آجاؤ۔۔کہاں غائب ہو، اک تے پتہ نہیں بچے کھسریاں کولوں کیوں ڈردے نے“(ایک تو پتا نہیں بچے کھسروں سے کیوں ڈرتے ہیں) گروببلی بھی اپنے نام کی ایک شے تھی،ایک ہی وقت میں تین زبانیں (انگریزی،اردو اور پنجابی) ایسی نفاست اور بے ساختگی سے بولتی تھی کہ حد نہیں۔
”گرو جی، ایس محلے والیاں نے کیہڑا سانوں سُکھ لین دیتا اے۔۔ پتہ نہیں ساڈے بارے کی کی بچیاں دے ذہن وچ پئی جاندے نے۔۔“ (گرو جی محلے والوں نے کونسا ہمیں کوئی سکھ دیا ہے،پتا نہیں ہمارے بارے میں کیسی کیسی بری باتیں بچوں کے ذہن میں بٹھا دیتے ہیں)، مسکان نے اتراتے تالی مارکرکہا۔
” جوبن۔۔ بچہ۔۔ ماں صدقے کڈی سمجھدار ہو گئی ایں۔۔ بچے تے ڈرن ایس مہک کولوں، قسمے اے میری بچی نے ترقی نیں کیتی ایڈا پیڑا فرکہ اوتوں بیلی کلام ۔۔۔“، ببلی ہنسنے لگی۔
”گرو جی۔۔۔ اے مسکان بڑی لوتر باز اے فیر تے۔۔ قسمے مینو کیندی سی۔۔ شلپا شیٹھی لگدی ایں توں“ مہک نے بولا۔
” آئے ہائے۔۔ کڑے۔۔ باجی ۔۔۔ کسے پاکستانی ہیرون نال ای ملا دینا سی، اڑیے ایدا جُسا ویکھ مینو تے صائمہ نور لگدی اے تو اینو شلپا بنان لگی ایں“ سونو نے بھی فوراََ منہ کھول لیا۔۔
” ملا تے جوبن سے۔۔۔او کیڑا کٹ اے، ویسے مینو ریما کہہ دے، صائمہ کولوں ودھ کے سوہنی ہے تے قسمے اودا ڈانس بڑا پسند اے، مینو کوئی پوچھے آپ کیا بننا چاہتی ہیں، میں کہواں گی ریما۔۔“ مہک بولی۔
” نی لوتر باذو۔۔پھو پا۔۔۔ ہر ٹائم لڑدیاں مردیاں ہو۔بچہ خیال کرو اسی کیڑے کمے آئیاں۔۔۔چُپ کرو۔۔ ماں صدقے، بچو۔۔ کیتھے ہو آ جاو نا۔۔ باجی شمیم بلا نہ ذینی میری بچی نوں“ گرو ببلی بڑے پیار بھرے انداز میں بولی۔
بچے سب کمرے سے نکل کر باہر صحن میں آگئے اور سب خواجہ سراوں نے پیار بھی دیا اور دعائیں بھی دیں،مسکان نے گرو سے پوچھا”گرو جی! رب سوہنا خیر رکھے یہ ہے وہ جس کوہم لینے آئے ہیں؟ زین۔۔۔ جو آج سے زینی ہو جائے گی “۔
”ہاں مسکان میری بچی۔۔ماں صدقے“ گرو ببلی نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا دیا۔ ”چیسی کلام اے گرو۔۔جوبن۔“ سب چیلا ایک ساتھ بولیں۔
شمیم سب کے لیئے چائے لے آئی اور عشرت دھڑک سے بولی ” یہ کیا بدتمیزی ہے۔ کون کسے لے کر جائے گا، یہ ہمارا بھائی ہے، اسے تم کیسے لے جا سکتے ہو؟ امی آپ ان کو سمجھاتی کیوں نہیں کیوں آجاتے ہیں یہ ہر چند مہینوں بعد۔۔؟“
” عشرت پُتر، رب سوہنا کاش میرے منہ سے یہ لفظ نہ نکلواتا ، مگر سوہنیے یہ تیرا بھائی نہیں ہے، یہ میری بیٹی بن سکتی ہے، یہ جنت کی چڑیا ہے، ماں صدقے پیاری سی چڑیا۔۔۔ ادھر آمیری جان“ گرو نے بڑے دل کے ساتھ ذینی کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا،عشرت نے فورا سہمے ہوئے زین کو پکڑ لیا اور اپنے ساتھ لگا لیا، ”پُتر تو نہیں جانتی تیری ماں کتنی پریشان ہے، اس زینی کی وجہ سے تیرا کوئی رشتہ نہیں لیتا، تمہارے گھر کوئی آتا نہیں، محلے والے بچوں کو اس کے ساتھ کھیلنے نہیں دیتے۔۔ تو سمجھ پُتر۔۔ میں بھی ایک ماں ہوں، میں ہی تیری ماں کا دُکھ سمجھ سکتی ہوں، میں اسے لے جاوں گی اپنے بچوں کی طرح ہی پالوں گی، یہ دیکھ۔۔ دیکھ یہ بھی میری بچیاں ہیں، یہ مسکان، سونو، مہک،خوشبو ، یہ سب میری بیٹیاں ہیں ایسے ہی میں ان کو ان کے گھروں سے لائی تھی، سچ کہوں تو انہیں اپنے محفوظ گھروں سے دھتکار کر نکال دینے کے بعد اگر میں ان نمانیوں کو چھت نہ دیتی تو اللہ جانے ان کا کیا بنتا“، گرو ببلی نے بھرے دل کے ساتھ سب کہہ دیا۔
”ہم تو نہیں نکال رہے ناں، زین کو گھر سے۔۔۔ جیسا بھی ہے ہمارا ہے۔۔ ہم نے قبول کیا ہے اور ان شا اللہ زندگی بھر ساتھ رکھیں گے، تم کون ہوتے ہو اسے لے جانے والے “، عشرت بھڑک اُٹھی۔

”سوہنی، تو کیسے بات کررہی ہے گرو سے۔۔۔۔۔“ مسکان نے عشرت سے کہنا چاہا۔
”مسکان۔۔۔ میری بچی۔۔ تیرں ماں بات کر رہی ہے ناں۔۔“ گرو نے مسکان کوغصیلی آنکھیں دکھاتے ہوئے روک دیا۔
”عشرت پُتر ابھی یہ چھوٹا ہے جب یہ بڑا ہو گیا ناں۔۔۔ ماں صدقے جائے پھر اس کے لیے مشکل ہو جانا ہے۔۔۔ پھر ہمارے معاشرے نے اسے قبول نہیں کرنا وہ بھی تمہارے ساتھ۔ہمارا کیا ہے۔۔ ہمیں تو معاشرہ پوچھے نہ پوچھے ہم زندہ رہ لیتے ہیں۔“
”امی آپ کیوں نہیں کچھ بولتی ہیں۔۔۔ نہیں لے کر جا سکتے یہ زین کو“، سرجھکائے بیٹھی شمیم نے جواباََ اپنے آنکھوں سے گرتے چند آنسو اپنے دوپٹے سے صاف کر تے ہوئے سر اٹھایا۔
”بابو۔۔ میری بات سن۔۔ تجھے یاد ہے ناں وہ دن۔۔۔ میں یاد نہیں کرونا چاہتی مگر ماں صدقے جائے، تیرے ابو نے کیسے اس معاشرے کے ڈر سے خود کو سولی پر چڑھا لیا تھا۔ پُتر وہ بہادر تھا اس نے تم سب پر ایک آنچ نہ آنے دینے کی پوری کوشش کی تھی مگر اس سماج نے اسے چین لینے نہ دیا، محلے کا دوکاندار ہو، محلے میں مسجد والے ساتھی ہو ں، خواہ کوئی بھی تھا اس نے اس کو صرف یہ سنایا کہ اتنی بیٹیاں اوپر سے ایک بیٹا ہوا تو وہ بھی جنت کی چڑیا، کسی کو نہ بتایا، آخر وہ ہار گیا اور یہ ظالم سماج جیت گیا، رب سوہنا اس کی روح کو سکون دے، بہت نیک بندہ تھا مجھے کہہ گیا تھا کہ اگر کل کو کوئی مسئلہ ہوا ببلی تو، تم جا کر اس کو وہاں سے لے آنا۔۔۔۔ میں آج تک کبھی اسے لینے آئی؟ نہیں ناں، اب بھی کئی مہینوں بعد آئی ہوں۔۔ تیرے باپ کے ہوتے آئی تھی، اس نے مجھے روک دیا تھا،میں نے اس کی لاج رکھی کیونکہ جب مجھے گھر سے نکال دیا گیا تھا تب اس گھر نے مجھے پناہ دی تھی اس گھر کا نمک کھایا ہے میں نے، کئی دن مجھے کھانا کھلایا گیا، آخر کار تب بھی اس دنیا کے طعنوں کی وجہ سے متین صاحب کی ماں، اللہ جنت نصیب کرے خالہ صبورن کے کہنے پر مجھے پھر ایک گرو کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔۔ مگر اب کیا حالات ہو گئے میں نہیں چاہتی کہ اس کے روح بھی پریشان ہو،۔۔ پُتر تھوڑا سمجھ۔۔“ ببلی نے بھرے ہوئے دل سے آنکھوں میں آنسو گرتے ہوئے سب بولا اور اسی پر اس نے اپنی خواجہ سراء بچیوں کی طرف مزید اشارہ کیا۔
”یہ دیکھ۔۔ یہ میری بیٹیاں ہیں، کیا ان کے دل نہیں، ان کے اندر کیا کسی اور رنگ کا خون بہتا ہے، مگر دیکھ لے یہ۔۔ مسکان، اس کے گھر والوں نے اسے گھر سے نکال دیا جب انہوں نے دیکھا کہ پوری لڑکی نہیں ہے۔۔۔اس کا کیا قصور تھا مگر دربدر ہو گئی ناں۔۔۔ یہ سونودیکھنے میں لڑکا لگتا ہے ناں، جی رہا تھا اپنی جھوٹی زندگی مگر پھرکیا تھا ڈانسر تھا باپ نے کہیں مہندی میں ناچتے دیکھ لیا تو کھسرا قرار دے دیا اور گھر سے نکال دیا، یہ مہک“ببلی نے تیسری کی جانب اشارہ کیا”یہ ابھی پیدا ہوئی تھی نہ جانے کون ظالم تھا کوڑے کے ڈھیر پرسردیوں کی راتوں میں پھینک گیا تھا اس کا کیا قصور تھا میں اس ڈھائی کلو گوشت کے لوتھڑے کو سینے سے نہ لگاتی تو آج یہ تو مر چکی ہوتی، کون قصور وار ہوتا۔۔۔ اور یہ خوشبو،سات بھائی ہیں اس کے سگے۔۔ یہ آٹھواں تھا پہلے تو ماں باپ تھے گھر میں برداشت کرتے رہے معاشرے سے چھپاتے رہے مگر کب تک، ماں باپ کے مرنے کی دیر تھی گھر سے بھابھیوں نے گھر سے نکلوا دیا۔۔۔ ماں صدقے اس میں ان کا کیا قصور جب بنانے والے نے ان کو بنایا ہی ایسا ہے تو۔۔۔ کیوں جنت کے بجائے جہنم کمانے لگے ہوئے ہیں یہ سماج والے!“ گرو ببلی رونے لگی اور چاروں خواجہ سراؤں نے ماں کو پیچھے سے آکر سنبھالا۔ ” میں کیاہوں۔ اسی محلے والوں نے دیکھا تھا کہ کیسے میرے سگے باپ نے میرے ساتھ کیا کیا سلوک کیے تھے، بس صبر رکھا اور کیا کر سکتی تھی میں رب سوہنے کا شکر ہے آج میں ایک ماں ہوں، چاہے ہم سلائی کڑھائی کا کام کرتے ہیں مگر کم سے کم اپنے بچوں کو سنبھالتی ہوں اس معاشرے کی طرح ان کو در بدر ہونے کے لیے نہیں چھوڑ رہی“۔
ایک سناٹا سا چھا گیا تھا سب خاموش تھے اتنے میں زین کی ماں شمیم نے اپنی چُپ ختم کی اور گرو ببلی سے سوالیہ انداز میں پوچھنے لگی۔
” دُنیا کی تمام باتیں بھی سہہ لیں، خاوند کی جدائی نے بھی آدھا کر دیا، بچوں کی فکر میں باقی زندگی بھی گزرہی جائے گی، خوشیاں تو اس گھر سے روٹھ گئی ہیں۔ مگر پھر لگتا تھا کہ اب بچے بڑے ہو رہے ہیں ان کی خاطر خود کو مضبوط کر لوں اور آگے بڑھوں ان کی زندگی،ان کا مستقبل اچھا کروں۔۔۔۔زمانے کا ڈر نہیں ہے اب، نہ ہی یہ فکر ہے کہ میرے بچے اب محفوظ نہیں کیونکہ میری تربیت ایسی نہیں ہو گی کہ ان کو کسی قسم کی کوئی ذہنی پریشانی اٹھانی پڑے۔۔ میں تو ان کو بھی مضبوط بنانے میں مگن ہوں، چاہتی ہوں کہ اللہ نے جیسے بھی دئیے ہیں اس کی دین ہے میں کیوں اس کا گلہ کروں، ان کے والد شاید وہ سب سہہ نہ سکے جو کہ اس سماج نے ان کے ساتھ کیا۔۔۔تم بھی ماں ہو، سمجھ سکتی ہو۔۔۔ آج اگر میں اپنی زندگی کا ایک حصہ تمہیں دے دوں صرف زمانے کے ڈر سے تو کل کو ہر ماں ایک فکر میں پڑ جائے گی۔ اور اس کو بھی چین نہ آئے گا اور کہیں وہ ان کے والد کی طرح اس دُنیا سے چلی گئی تو تمہیں کیسا لگے گا ببلی ۔۔۔۔“
”نہ باجی۔۔ رب سوہنا آپ کا سایہ ان بچوں پر سلامت رکھے۔۔ ایسا نہ کہو،۔دل پر گھونسہ پڑتا ہے“ ،ببلی نے زین کی ماں کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
”بس پھر میں چاہتی ہوں کیوں نہ ان بچوں کو ایک ماں کا نہیں، دو ماوں کا پیار، تربیت اور خیال ملے، اسی گھر میں۔۔ میں اپنے زین کو جیسا بھی ہے اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں‘‘ شمیم نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے گرو ببلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ۔
”ہائے ناں باجی ایسا نہ کر۔۔۔ کیوں گنہگار کرتی ہو۔۔۔ باجی۔۔۔ اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں۔۔ بہت ماں باپ دیکھے ہیں تیرے جیسی ماں نہیں دیکھی۔۔ تو نے تو مجھے بھی وہ رُتبہ دے دیا جس کی حقدار پتہ نہیں میں ہوں کہ نہیں۔۔۔بھاڑ میں جائے محلے والے جو باتیں کرتے ہیں، دُنیا والے بھی جو اپنی اولاد، چاہے وہ ہمارے جیسی کیوں نہ ہو، اسے قبول نہیں کرتے اپنے گھر میں جگہ نہیں دیتے۔۔۔ آج سے میرا بھی وعدہ ہے میں کسی کے گھر ایسے نہ جاوں گی کسی بچے کو لینے بلکہ ان کو سمجھاؤں گی بھی کہ یہ دیکھو ایک ماں جس نے دُنیا کے جھوٹے ریت رواجوں کو اپنے ارادے سے مات دے دی“، وہ بہت مشکور انداز میں سب کہنے لگی۔
”میرا زین بڑا ہو کر، زین بنے گا یا زینی بننا پسند کرے گا وہ اس کی مرضی ہو گی، وہ میرا تو رہے گا نا میں تو اس کی ماں رہوں گی ناں۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔ بلکہ اب تو ایک اور ماں ہے۔ میں تو دُعا کرتی ہوں کہ اس معاشرے کے سب لوگ اگر اپنے ایسے بچوں کو اپنے ساتھ ہی رکھیں انہیں وہ پیار دیں جو باقی بچوں کو دیتے ہیں تو یقینا وہ نام روشن کریں گے۔۔۔ کاش کہ یہ معاشرہ سمجھ جائے کہ اگر ہم ان کو سب کچھ دیں۔۔تعلیم۔۔غذاء۔۔عزت۔۔تحفظ تو انہیں یوں سڑکوں پر گھر گھر جا کر اپنا حق نہ مانگنا پڑے۔۔جگہ جگہ ناچنا نہ پڑے۔۔طرح طرح کی ”گندی“زیادتیوں سے نہ گزرنا پرے۔۔بس تو مجھ پر رحم کر۔۔۔میرا بچہ مجھ سے جُدا نہ کر۔۔۔“ شمیم بیگم نے حوصلے سے کہہ دیا۔

” باجی۔۔ اللہ نے آج دن بہت مبارک کیا ہے۔۔ میں زندگی بھر یاد رکھوں گی اور ان شاء اللہ اس گھر کے لیے اس گھر والوں کے لیے میری دعائیں ہمیشہ رہیں گی۔ زین صرف جنت کی چڑیا نہیں ہے۔۔ وہ ”اس“ جنت کی بھی چڑیا ہے۔۔جسے تم جیسی ماں واقعی جنت بناسکتی ہے۔۔“، گرو ببلی نے شمیم بیگم کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کربا خوشی کہہ دیا۔
” چلو نی کُڑیو، جشن منا و۔۔ آج تے اسی ایس محلے دی ریت بدلی اے کل توں دُنیا بدلنی اے“،وہ اٹھ کر جھومتے ہوئے بولی تھی۔
سب نے خوشی سے ڈھولک اور تالیاں بجانا شروع کر دیں اور شمیم بیگم کے بچے بھی خوش تھے کہ ان کا بھائی ان کے ساتھ ہے چاہے وہ جیسا بھی ہے، ہے تو ان کا اپنا ناں۔۔۔۔۔
محلے کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں اپنی اپنی ”نارمل“ اولادوں کو سینے سے چمٹائے بیٹھے تھے۔
شمیم نے بھی یہی کیا تھا۔۔
اور آپ۔۔آپ ایسا کب کریں گے۔۔؟؟

ختم شد۔