افسانہ : “ڈائین” از محمد یاسر.

تحریر : محمد یاسر.
“اپنے بارے میں بات کرنا تم انسانوں کیلئے ہمیشہ سے بے حد آسان کام رہا ہے لیکن میرے لئے یہ ایک بے وقوفی کا مگر دلچسپ کھیل کی طرح ہے,اپنا آپ عیاں کرنا کچھ اتنا بھی غیر فطری کام نہیں ہے,یہ مجھے ابھی سمجھ آرہا ہے اسی لئے میں آج مُصر ہوں کہ اپنی داستان سنائوں,دراصل یہ میری کہانی نہیں ہے,یہ میری کارستانی ہے,میری آئے دن کی نت نئی فتوحات سے بھری ہوئی ,میرے چھوڑے ہوئے نرالے شگوفوں سی سجی ہوئی ,میرے سجائے ہوئے تماشوں کی جو زمین و آسمان گھمادیا کرتے ہیں.
اپنے تعارُف میں فی الحال صرف اتنا ہی کہوں گی کہ میرا وُجود “اس”دُنیا سے” اُس” دنیا تک کی چند بڑی سچائیوں میں سے ایک ہے ,ایک تلخ حقیقت,ایک انمٹ نقش,پتھر پر لکیر,ایک بھیانک مذاق,ایک دو دھاری تلوار , میں وہ ہوں جو کبھی دکھائی نہیں دیتی مگر جب چاہے جسے چاہے دن میں تارے دکھادیتی ہوں, ایسی جگہ لے جاکر مارتی ہوں جہاں پانی بھی نہیں ملتا,کب آسمان کے چاند سے زمین کی خاک بنا ڈالوں,کب شریف گریبانوں کو چاک کرکے کنجر بنادوں اور کس لمحے اپنے چاک پر دھر کے ایک طاقتور کو اپنی ڈُگڈگی پر ناچنے والا بندر, یہ کوئی نہیں جانتا ,اس کُرہ ارض پر کوئی ایسا نفس نہیں جو میرے وجود سے منکر ہونے کی جرائت بھی کرے,میں ہر آن ہر لمحے ہر زی روح کے شعور و لاشعور میں رہتی ہوں.
یہ جو دل و دماغ میں محبت کا خناس سمائے رکھنے کے دعویدار خود کو محبت کے عالمی چیمپئن ثابت کرنے پر تُلے رہتے ہیں نا یہ کائنات کے سب سے بڑے جھوٹے ہوتے ہیں اگر ان کے حواسوں کی چیر پھاڑ کی جائے تو علم ہوجائے کہ دنیا کے ہر لیلی و مجنوں ,شیریں و فرہاد اور رومیو جیولیٹ کے حواس اُن کے محبوب و معشوق نے نہیں صرف اور صرف میں نے مختل کر رکھے ہیں اور اس صفائی سے کہ ان میں سے کسی کو احساس تک نہیں ہوپاتا کہ دشمن باہر نہیں ہے,نقب زن اُن کی اپنی ذات میں گوشہ نشین ہے کسی آستین کے سانپ کی طرح,مگر میں اتنی معمولی شے تھوڑا ہی ہوں,ہاں! میں دعوی سے کہتی ہوں کہ آستین کا سانپ تو کیا اژدہا بھی بے چارہ میرے آگے چیونٹی ہے چیونٹی.
جادو گرنی سمجھ رہے ہو نا مجھے تم۔۔ہے نا؟،
جادو کا سحر ایک نہ ایک دن ضرور ٹوٹتا ہے،کوئی ایسا طلسم،کوئی ایسا ورد ضرور ہوتا ہے جو اس کا توڑ کر سکے مگر میرا سحر تو روز ازل سے قائم و دائم ہے ،کائنات کی جن چند چیزوں کو اللہ نے روز محشر تک زوال نہیں دیا اُن میں سے ایک میں بھی ہوں,دنیا کی تاریخ اگر کبھی کسی حقیقت پسند محقق اور مورخ نے لکھی تو دنیا کی بڑی بڑی جنگوں کے پیچھے جو چند عوامل اُسے نظر آئیں گے اُن میں سے ایک جزو میرا وجود بھی ضرور ہوگا اور وہ مورخ اس دنیا کی داستان کبھی میرے ذکر کے بغیر مکمل نہیں کرے گا.
تم دنیا میں ہونے والی غارت گری دیکھتے ,سُنتے اور اُس کاکبھی شکار ہوتے ہو اور کبھی شکار بناتے ہو…
مگر حقیقت میں غارت گر میں ہوں.
تمہاری اس دنیا میں دہشت گردی کا بازار گرم ہے…لیکن دہشت میں ہوں.
وحشت ,جنون ,دیوانگی, بے چینی و بے قراری,بے بسی و لاچاری یہ سب میری ہی ذات کے مینار سے پھوٹنے والی شعاعیں ہیں جنہوں نے تمہاری زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے,تم سب جو کچھ ہو,اور جو کچھ حاصل کرنے کی تگ و دو میں اپنی زندگی کو محنت و ریاضت بنا لیتے ہو وہ سب میری ہی مرہون منت ہے.
  مگر اس قدر تھڑڈلا اور کم ظرف بھی کوئی ہوگا اس کُرہ ارض پر جتنے کہ تم سب ,تمہاری زندگی میں ہر حرکت و تحریک میرے دم سے ہے,صفر سے ہندسوں کی دنیا کا سب سے بڑا ہندسہ بننے کی جدوجہد جو تم سب کرتے ہو وہ میری ہی دین ہے اس کے باوجود کہیں میرا ذکر آجائے تو تم سب اس طرح کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ تلا کرتے ہو جیسے میں کوئی اچھوت ہوں,کہا نا میں تو تم سب کے ہی اندر ہوں تو پھر اُتنی ہی گھِن خود سے کیوں نہیں کھاتے ؟ جتنی غلیظ گالیاں تم مجھے دیتے ہو میں نہ ہوتی تو کیا تم زندگی میں کچھ بن سکتے ہو ؟کیا کہا ہاں… ۔۔کیا مطلب ؟, ایک توتم لوگ اس قدر کے جھوٹے ہو کہ یقین نہیں آتا…خیر زرا اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں پر نظر ڈالتے ہوئے خود اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھو,تمہیں سب سمجھ آجائے گا..
سرکاری ملازم کرپشن کرتا ہے کس لئے؟،میری وجہ سے۔
 ملاوٹ کرنے والا،زخیرہ اندوزی کرنے والا،بازار میں بیٹھنے والی طوائف،وہ مسیحا جو ہسپتالوں میں مریضوں کو ڈنگر اور ذاتی کلینکس میں پالن ہار کا درجہ دیتا ہے، سکول کالج کے وہ اساتذہ جو ذاتی اکیڈمی کو دن دُگنی رات چوگنی ترقی دینے کیلئے سکول کالج میں ڈھنگ سے نہیں پڑھاتے ،جمعدار سے لے کر سیاستدانوں تک،گائوں شہر اور ملک کی سرحدوں سے نکل کر دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کی سرحد کو اندھا دھند پھلانگتے ہوئے اپنے مفادات کی آگ میں باقی دنیا کو ایندھن کی طرح جھونکنے والی عالمی طاقتوں تک جو کچھ تم لوگ صدیوں سے کرتے آرہے ہو اور اس غلط فہمی کا شکار ہو کہ طاقت کا سرچشمہ بن جائو گے،دنیا کا سارا خزانہ تمہاری ملکیت ہوگا،کامیابی کا ہما اپنے سروں پر نہیں بلکہ خود اپنی ذات کو وہ ہما بنا کر اپنے ہی سر پر تاج بنا کر پہننا چاہتے ہو ، بھاگتے پھر رہے ہو ،قتل ،قبضہ،جائز ناجائز کا فرق بھلا کر جانتے ہو کس کیلئے ؟۔۔۔میرے لئے۔۔۔صرف اور صرف میری وجہ سے۔
سوچ میں تو پڑ گئے ہوگے کہ آخر میں ہوں کون۔۔۔؟
کہا تو ہے میں دکھائی نہیں دیتی صرف محسوس ہوتی ہوں۔۔اس شدت کے ساتھ جیسے انگلی کی پُور میں چبھی پھانس،جیسے دل کے وسط میں چٹکی لیتی ہوئی کسک،جیسے ایڑھی کا کانٹا، دانت میں آدھی رات کے وقت اچانک اٹھ آنے والا درد۔۔
مگر میں پھانس،کسک،کانٹا اور درد نہیں ہوں،ان میں سے کچھ جسمانی وجود رکھتے ہیں اور کچھ کا منبع ذرا سی تلاش بسیار کے بعد مل جاتا ہے جیسے الجھا ہوا کوئی سرا،لیکن میری کھوج کوئی نہیں لگا سکتا کیونکہ کوئی میری ذات پر سوال ہی نہیں اٹھاتا کہ میں کیوں ہوں؟ ،کیسے اور کس لئے دنیا کی ہر مخلوق کو صدیوں سے بے حال کئے ہوئے ہوں؟،میں کیا ہوں؟ اور میں کب سے ہوں؟۔
تم کبھی یہ بھی نہیں سوچتے کہ میں کس مشاقی سے تمہارے ساتھ کھیل جاتی ہوں اپنے تئیں تم سب مجھ سے نفرت کرتے ہو ،مجھے پچھاڑنے کی کوششوں میں خود کو ہلکان کربیٹھتے ہو زبان سے نہ سہی مگر دل ہی دل میں اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہو کہ تم نے خود کو میرا نوالہ بننے نہیں دیا،قسمیں کھا کھا کر تمہارا گلا سوکھ جاتا ہے کہ تمہارا مجھ سے کوئی تعلق نہیں مگر ذرا سا ہوش کے در کھول لو تو تمہیں پتا چل جائے کہ میں بڑی ہوشیاری سے تمہارا احساس مار ڈالتی ہوں ہاں احساس ۔۔۔ تمہاری بنیاد۔۔وہ اکائی جس پر تم اشرف المخلوقات ٹھہرائے گئے۔۔
نہیں یقین آرہا نا؟۔۔۔چلو میں دکھاتی ہوں کہ میں کیسے تمہیں نوری سے ناری بناتی ہوں۔۔تم خاک سے بنے ہو میں کیسے تمہاری ہی خاک تمہیں چٹواتی ہوں..وہ دیکھو ۔۔وہ عورت اور وہ بچہ نظر آرہا ہے۔۔ہاں وہ۔۔جو ایک چوراہے پر بیٹھی ہے۔۔ اُسے بغور دیکھتے رہو۔۔”.
*********
سندھی مسلم سوسائٹی کی یہ معروف و مصروف چورنگی ہے جس کی ایک جانب آمنے سامنے دو تین بینکس ہیں,دوسری جانب پرائیوٹ سکولز کی قطاریں اور باقی اطراف میں بڑے ریسٹورنٹس ,چورنگی کے چاروں اطراف جانے والی سڑکیں ہر وقت ٹریفک کے سیلاب کا منظر پیش کرتی رہتی ہیں اور اسی چورنگی پر وہ برس ہا برس سے ڈیوٹی دیتی آرہی ہے, اُس کا خاوند کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اور معروف چورنگی پر رزق کی غرض سے آتے جاتے راہگیروں و گاڑیوں کے پیچھے پیچھے صبح سے رات گئے تک بھاگا کرتا ہے,گداگری اُس کے خاندان کا آبائی پیشہ ہے،نسل در نسل پروان چڑھنے والا پیشہ جس پر نہ تو اُسے کسی قسم کی شرم محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی بھانت بھانت کے لوگوں سے جھڑکیاں کھانے اور ناروا سلوک پر ہتک,دن بھر کی خواری کے بعد وہ تین چار ہزار کی دہاڑی لگالیا کرتا ہے,مہینوں میں آنے والا وہ ایک دن اُس کیلئے خوش بختی کا دن ہوتا ہے جب کوئی عورت اُسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک آدھ گھنٹے کیلئے لے جایا کرتی ہے اس کام کے اُسے دوہزار اضافی مل جایا کرتے ہیں البتہ اس بات کا تذکرہ وہ کبھی اپنی بیوی سے نہیں کرتا, اُس کی بیوی چونکہ شادی سے پہلے بھی اسی پیشے کا ایک سرکردہ رکن تھی چنانچہ شادی کے چوتھے روز ہی میاں کے کہنے پر دھندے کیلئے گھر سے نکلتے ہوئے اُسے قطعا کوئی عار محسوس نہیں ہوا تھا,وہ خود بھی ایک بھرے پُرے گھر سے بیاہ کر آئی تھی اور شوہر کے گھر میں بھی وہی عالم تھا کہ کھانا نہیں تھا،نہیں کھانا تو اتنا ہی تھا جتنا اُن کے نصیب میں تھا مگر ہر دوسرے شکم پورے کی طرح گنجائش، ضرورت اور خواہش سے کم تھا کیونکہ کھانے والوں کی ایک فوج تھی اور وہ ساری رینجمنٹ ہی کم عمری سے گداگری کے کام سے منسلک تھی اور کم عمری سے ہی اس کام کی بدولت عزت نفس,خوداری اور اسی قسم کی صفات اُن میں پیدا نہیں ہوتی تھیں جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ سب اپنے ذاتی پکے دو منزلہ گھروں کے مالک تھے,ٹی وی فریج,موٹر سائیکلیں سب کچھ تھا اور یہ سارا کچھ اُس محنت مزدوری کی کمائی کی دین تھا جسے خدا اچھا نہیں سمجھتا,خود وہ بھی شوہر کی طرح اس چورنگی پر صبح سے شام تک بیٹھی بھیک مانگا کرتی تھی, کچھ منچلے کبھی اُس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے تو سو پچاس میں ہاتھ پکڑوالیتی ,کوئی فحش کلام کرنا چاہتا تو دو سو تین سو میں یہ خواہش بھی پوری کر دیتی,کوئی جسم کو چھونا چاہتا تو ہزار روپے میں چند منٹوں کیلئے وہ اُس کی دسترس میں اپنا جسم دے دیتی اور بس,اس سے آگے وہ کبھی نہیں گئی اور یہ بات اُس نے اپنے شوہر سے کبھی نہیں چھپائی اور ہر بار ایسی بات بتا کر اُس نے پورے ٹبر کے سامنے شوہر سے اپنی ہڈیاں سنکوائیں اور رات اندھیرے شوہر کو رقم گن گن کر اپنے  جسم کے ان حصوں کو چومتا ہوا پایا جن کی کمائی اُس کے ہاتھ میں تھی.
شادی کے ان آٹھ سالوں نے اُسے چار اولادیں بھی دیں اور جنہیں باری باری وہ اپنے ساتھ کام پر لے کر آئی تاکہ اُسے بھیک بھی زیادہ ملے اور بچوں کی ٹریننگ بھی ہوسکے اور ماشاء اللہ اُس کے تینوں بڑے بچے اُس کی سوچ سے بڑھ کر ذہین اور شاطر نکلے تھے کہ اب وہ تینوں ماں باپ کے ساتھ نہیں بلکہ الگ الگ انفرادی حیثیت میں کمانے لگے تھے اور روز کی پانچ سو سات سو کی دہاڑی لگا لیا کرتے تھے اور ان میں سے کسی نے اب تک کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کیا تھا صرف دو بار منجھلی بیٹی ایک امیر کبیر عورت کے ہاتھوں بُری طرح زدوکوب ہوئی تھی جہاں وہ نوکرانی تھی اور تین چار بار سب سے بڑا بیٹا چند اوباشوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوا تھا اور یہ دنیا ہے یہاں ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں کہہ کر اُن دونوں نے ان معاملات پر مٹی ڈال دی تھی,اُن دونوں میاں بیوی کو افسوس صرف اس بات کا تھا کہ ان کی کوئی اولاد اپاہج یا ذہنی معذور کیوں نہ ہوسکی تھی تب وہ زیادہ بہتر زندگی گزارسکتے تھے.
بہرحال چوتھا بیٹا اڑھائی برس کا ہوچکا تھا چنانچہ آج کل وہ ماں کے ساتھ اس چورنگی پر ڈیوٹی دے رہا تھا,سارا وقت وہ ماں سے چمٹا رہتا تھا,ماتھے پر کس کر باندھی ہوئی پٹی اُسے خاصا بے چین کرتی رہتی، اُتارنے کی کوشش کرتا تو ماں نظر بچا کر کس کے ایک تھپڑ پیٹھ پر جڑتی کہ وہ پٹی اتارنے سے باز رہے ,نتیجے کے طور پر وہ پٹی کو بھول کر بھاں بھاں کرکے رونے لگتا,چہرہ شدت گریہ سے لال ہوجاتا ,بدن گرم اور یہ اُس بیمار بچے کے علاج کیلئے روپیہ مانگتی ہوئی ماں کے سوانگ میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے کافی رہتا,زرا سا سستانے کیلئے ماں اُسے گود سے اتار لیتی جب راہگیر سورج سوا نیزے پر ہونے کی وجہ سے آمدورفت کم کرلیا کرتے تھے یہ وقفہ اُس بچے کیلئے راحت کا وقت ہوتا تھا,آس پاس دوسری مانگنے والی مائوں کے بچوں کے ساتھ وہ خوب دوڑتا پھرتا ,کھیلتا کودتا,اس دوران وہ اپنے گریبان سے کمائے جانے والے روپے گن کر احتیاط سے واپس گریبان میں ڈال دیتی.
اس وقت بھی وہ بچہ اپنے ساتھی بچوں کے ساتھ کچھ فاصلے پر کھیل رہا تھا جبکہ وہ ریسٹورنٹس کے پاس اکا دُکا کھڑے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی,کچھ دیر جاتی تھی شام ہونے میں تب یہ چورنگی ٹریفک کے اژدہام کی وجہ سے کھچا کھچ بھرنے والی تھی,گاڑیوں کی لمبی قطاریں ان ریسٹورنٹس کے سامنے آ آ کر رُکنی تھیں اور کھاتے پیتے لوگوں کا جم غفیر رات گئے تک ان ریسٹورنٹس میں لطف اندوز ہونے کیلئے آتا رہنے والا تھا اور یقینا ہمیشہ کی طرح وہ کچھ نہ کچھ اُس کی خالی ہتھیلی پر بھی رکھ ہی دیتے مگر اُس کے وہم و گُمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ ہی لمحوں میں اُس کی قسمت کیسا پلٹا کھانے والی ہے.
وہ اطمینان سے چہرے پر مسکینی اور مردنی طاری کئے دعائوں کی برسات ہونٹوں پر لیئے ایک فرد سے دوسرے فرد تک جارہی تھی تب ہی قریب میں ٹائر چرچرائے اور عجیب سا شور فضاء میں بلند ہوا اور یکدم افراتفری پھیلی وہ بھی حیران نظروں سے اُس جانب دیکھنے لگی جہاں سب بھاگے جارہے تھے, بے ساختہ اُس کے ہاتھوں سے وہ چند سکے چھوٹے تھے جو پچھلے چھے منٹ میں اُس نے کمائے تھے اور بناء کچھ سوچے سمجھے وہ اُس جانب بھاگ کھڑی ہوئی تھی.
 اُس کا اڑھائی سالہ بچہ سڑک پر گرا ہوا تھا اور اُس کے ساتھ ہی خون کی نہر بہہ رہی تھی جو یقینا اُس کی اولاد کے سر سے پھوٹی تھی,لوگ اب اُس گاڑی والے کو نیچے اترنے کا کہہ رہے تھے جس کی گاڑی کی ٹکر سے وہ ہنستا کھیلتا بچہ یوں خون میں لت پت پڑا تھا,وہ اُسے گود میں اٹھا کر یکدم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی,آس پاس کیا ہورہا تھا اس بات سے بے خبر اس وقت اُسے بس اپنی اولاد کی یہ حالت چہکوں پہکوں رُلا رہی تھی,ہر چند وہ اور اُس کا شوہر اکثر یہ بات کرتے تھے کہ کاش اُن کی کوئی اولاد مفلوج ہوجائے تو وہ ڈھیروں بھیک کماسکیں گے لیکن اب ایسا سنگین حادثہ ہوگیا تھا تو اُس کا کلیجہ پھٹنے لگا تھا,وہ ماں تھی …
بھیک مانگنے والی بے حس ماں..مصنوعی لہجے میں لوگوں کو دعائیں دے کر روپے کمانے والی بے شرم ماں..بے دید و بے لحاظ ماں…مگر ماں تھی..
یہ لفظ ہی عجیب ہے…
عجیب ہی تاثیر ہے اس لفظ کی..
اور یہ رشتہ..یہ تعلق…نہ جانے کیا پڑھ کر خدا نے تخلیق کیا ہے اسے..
اس لمحے وہ سب بھول گئی تھی وہ بس اپنے بچے کو زندہ دیکھنا چاہتی تھی,صحیح سلامت ہنستا کھیلتا, بے ساختہ اُسے گود میں لیئے وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی,دائیں ہاتھ سے سر کے اُس حصے کو سختی سے تھام کر جہاں سے خون مسلسل بہہ رہا تھا..یہ بھی اُسے بھول گیا تھا کہ چوٹ عین وہیں آئی تھی جہاں جھوٹی چوٹ کا تاثر دینے کیلئے وہ نقلی پٹی اپنے بچے کے باندھا کرتی تھی وہ پٹی نہ جانے کہاں گر پڑی تھی ورنہ اُسی کو باندھ کر ابتدائی طبی مدد کے تحت خون روکا جاسکتا تھا,وہ آنسوئوں سے بھری نگاہوں سے اطراف میں دیکھنے لگی تھی,دھندلی آنکھوں سے آج اُس نے اندھیر ہوتی دنیا دیکھ لی تھی ,کوئی کلینک کوئی ہسپتال کوئی مددگار اُسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا,لوگ اُس گاڑی والے سے کیا کہہ رہے تھے اُس کی توجہ اس جانب بھی نہیں تھی معا وہ ٹھٹکی.
******
“دیکھا تم نے اُس عورت اور اُس بچے کو؟،تم یقینا سوچ رہے ہوگے کہ ایسے حادثے تو آئے دن ہوتے رہتے ہیں ،ایسی حالت میں دنیا کی ہر ماں اسی طرح بلک پڑتی ہے،اس طرح کا کوئی بھی واقعہ کسی کا بھی دل لرزا دیتا ہے،یقینا ایسا ہی ہے،تم میں سے کچھ اب مجھ پر ہنسنے کیلئے پر تولنے لگے ہوگے کہ اتنے لمبے لمبے قصیدے میں اپنے بارے میں اتنی دیر سے پڑھ رہی ہوں لیکن اس سارے قصے میں جو اس سڑک پر ہورہا ہے میرا کردار کہاں ہے؟،اے عقل کے اندھے ذرا غور کر اُس عورت کا وہاں موجود ہونا ہی میرے وجود کی گواہی ہے اور میں کس طرح اس کی ممتا کو سُلاتی ہوں تم اب یہ دیکھو.”
********
وہ آدمی ان لوگوں کو وضاحتیں دے رہا تھا کہ” غلطی میری نہیں ہے,میں تو بے حد احتیاط سے گاڑی پارک کررہا تھا جب وہ بچہ بھاگتا ہوا اچانک گاڑی کے سامنے آیا،گاڑی کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی اس کے باوجود وہ بڑی شدت سے بونٹ سے ٹکرا کر گرپڑا،سر میں یہ چوٹ سڑک سے ٹکراکر لگنے والی ضرب کا نتیجہ ہے،میں اس کا علاج کروادوں گا تم لوگ وقت ضائع نہ کرو بچے کو گاڑی میں ڈالنے میں میری مدد کرو” ،مگر اُس پھنس جانے والے آدمی, جس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ امیر تھا،حلئیے سے بااثر اور طاقت ور لگتا تھا،شریف تھا اور خداترسی کے ہاتھوں ذلیل ہورہا تھا،کی کوئی وضاحت ،کوئی تاویل, کوئی گزارش کسی کی سمجھ نہ آرہی تھی، ریڑھی والے سے لیکر ہوٹل کے بیرے تک ہر ایک اُس کا وہ گریبان پکڑنے کی کوشش میں تھا جو اُن سب کے تئیں ایک امیر ،اکھڑ،بدتمیز اور خود کو فرعون اعظم سمجھنے والے انسان کا گریبان تھا جو غریبوں کو کیڑہ مکوڑہ سمجھ کر صدیوں سے روندتا چلا آرہا تھا.
وہ جھنڈ غربت اور غرض کی چکی میں پسنے والے لوگوں کا ہجوم تھا جو اپنی ہر غلطی،ہر کوتاہی،ہر گناہ امراء کے کھاتے میں ڈال کر خود کو مظلوم اول تصور کر کے نفرت کا بیج نسلوں سے بوتا آرہا تھا اور ان میں سے کسی کو بھی اس عورت کا خیال نہیں آرہا تھا جو اُس بچے کو گود میں لیئے جانے کیا سوچ رہی تھی۔
 کچھ لمحے پہلے وہ آس پاس کوئی کلینک ڈھونڈ رہی تھی،یہ خواہش کررہی تھی کہ جلد از جلد اُس کے بچے کو کسی ہسپتال لے جاکر مرہم پٹی کردی جائے تاکہ اُس کی جان بچ سکے، مگر وہ اب بچے کا علاج جلدی نہ چاہتی تھی،”یہ بہت امیر آدمی لگتا ہے اور بے حد شریف بھی اگر اتنی معمولی سی چوٹ پر ہسپتال لے گیا تو چند ہزار میں ہی چھوٹ جائے گا…. نہیں نہیں,تھوڑی چوٹ گہری ہوگی تو ہسپتال میں میرے بچےکو داخل بھی کرلیا جائے گا بل بھی تگڑا بنے گا پھر دوا دارو,پھل فروٹ اور نہ جانے کس کس چیز کے پیسے یہ الگ سے دے گا ذرا سی عقل مندی کا مظاہرہ کرنے پر یہ چوٹ اس امیر آدمی کو لاکھوں کی پڑے گی,ہسپتال سے چھٹی میں زبردستی حاصل کرلوں گی وہاں اس کے گلے پڑ جائوں گی کہ سارے روپے یکمشت مجھے ہی دے جائے ہاں یہی ٹھیک ہے”,لمحہ بھر میں اُس نے کھڑے کھڑے لائحہ عمل مرتب کیا اور اگلے ہی لمحے بے ساختہ وہ دو زانوں ہوکر سڑک پر بیٹھ گئی اور بلند آواز میں بین ڈالنے لگی.
” ہائے ہائے مار ڈالا ظالم نے میرا بچہ مار ڈالا”.
” ارے کوئی دیکھو میری گود اجاڑ ڈالی اس بے درد نے گاڑی اندھوں کی طرح چلاتے ہیں ہماری جانوں سے کھیلتے ہیں”.
” ارے دیکھو لوگوں کو ٹی وی والوں کو بُلائو آکر دیکھیں کیسے پی کر چلاتے ہیں یہ لوگ گاڑی روند ڈالا میرا بچہ”. اُس کی سینہ کوبی سُن کر وہ جھنڈ اُس آدمی کو چھوڑ کر اُس عورت کی جانب لپکے تھا.
“تم فکر نہ کرو ہم اسے بھاگنے نہیں دیں گے علاج بھی یہی کروائے گا اور باقی خرچہ بھی یہی اٹھائے گا”, وہ کوئی راہگیر تھا جو رقت سے اُسے تسلی دے رہا تھا.
” ارے اتنا خون بہہ رہا ہے میں کہاں سے اتنا روپیہ لائوں گی ارے میرا بچہ ارے میرے اللہ”,اُس نے ان سُنی کرتے ہوئے پٹنا جاری رکھا.
” گھبرائو مت اسے گاڑی میں ڈالو”, کسی نے بچے کو اُس کی گود سے لینے کی کوشش کی تھی وہ یکدم اُسی پر پل پڑی.
” ہاتھ نہ لگانا مفت میں بانٹنے کیلئے پیدا نہیں کیا تھا اسے میرا بچہ مار دیا اس آدمی نے اور تم لوگ مجھے جھوٹی تسلیاں دے رہے ہو”. وہ آدمی بھونچکا کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کسی ایسے عجیب و غریب منظر کی طرح جو سینما سکرین پر انسان بے چینی و بے قراری سے اس امید پر دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ چند سیکنڈز میں وہ منظر بدل جائے گا اُس بے چارے کی بھی یہی حالت تھی اُس عورت کا وہ ڈرامائی بین اُسے بخوبی سمجھ آرہا تھا دل تو تھا چند موٹی موٹی گالیاں اُس عورت کی شان اقدس میں نکالے, آس پاس موجود اُن نام نہاد ہمدردوں پر لعنت بھیجے اور وہاں سے فرار ہوجائے مگر یہ خوف خدا اور اس بچے کی جان کو پہنچنے والے کسی انتہائی نقصان کا خیال تھا جو اُسے مفرور نہ ہونے دے رہا تھا چنانچہ خود پر جبر کرتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور اُس ہجوم کی باتوں و آوازوں کی پرواء کیئے بغیر اُس عورت کے رونے دھونے کو نظر انداز کرتے ہوئے بچہ گود میں لیکر گاڑی میں سوار ہوگیا.
وہ عورت دم سادھے اُس کے پیچھے ہولی.ہسپتال میں بھی اُس عورت نے وہی ڈرامہ دہرانے کی کوشش کی تھی جو وہ سڑک پر سٹیج کر چکی تھی مگر اُس نے درشتی سے کہا “زیادہ ہوشیاری مت کرو ورنہ ابھی پولیس بُلوالوں گا ٹھیک طریقے سے تمہارا دماغ درست کردے گی لہذا منہ بند کرکے بیٹھو اپنا”, اُس کے تیور اُس عورت کو کافی کچھ باور کرواگئے تھے , صرف اپنی تسلی کیلئے اُس آدمی نے بچے کی ایم آر آئی کروائی تھی اور تمام رپورٹس کلیئر تھیں کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی تھی البتہ خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا جس میں سراسر ہاتھ اُس عورت کے ڈرامے اور اُن لوگوں کا تھا,پٹی کردی گئی تھی,بچہ ہوش میں ضرور آگیا تھا مگر کچھ نقاہت تھی اور کچھ خوف جس کے زیر اثر وہ تھا اس لئے حالت تشویش ناک ہی تھی,اُس نے ہسپتال کے اتنے دن کے تمام Dues ادا کیئے جتنے دن اُس بچے کو ابھی ہسپتال میں رُکنا تھا,چند ہزار اُس عورت کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے وہ صرف اتنا بولا تھا “تم ماں کے نام پر گالی ہو اگر میرے دل میں خوف خدا نہ ہوتا تو خدا کی قسم تمہیں اپنے ہاتھوں سے مارتا,اس قدر بے حس ہو تم لعنت ہے تم پر,صرف روپوں کی خاطر اپنی اولاد کی زندگی سے کھیل گئیں “, کہہ کر وہ رُکا نہیں تھا,وہ ساکت جامد کھڑی اُسے جاتا دیکھتی رہی تھی, آنسو تواتر سے اُس کا گریبان بھگونے لگے تھے. ملامت,زیاں,شرم سب کچھ تھا ان آنسوئوں میں اور پھر اُس نے دل ہی دل میں کسی کو گالی دی تھی.
********
“دیکھا تم نے,مانتے ہو پھر کہ کس طرح میں اپنا کام کردکھاتی ہوں,نہیں سمجھے نا,میں شیطان کی آلہ کار ہوں,وہ کارندہ جسے خدا نے تخلیق کیا اور تم انسانوں کے اندر میرا مخصوص مادہ شامل کردیا ,ساتھ ہی تمہیں میرے دیگر ساتھیوں کی طرح میرے بارے میں بھی مکمل آگاہی دے ڈالی,مجھ سے اجتناب برتنے کا حکم دیا مگر تم لوگ ہا ہا ہا خدا کی بنائی ہوئی اس آخری سلطنت کے راج پاٹ میں کچھ ایسے الجھے ہو کہ نہ تو میرے وجود کو تسلیم کرتے ہو اور نہ ہی میری شر انگیزیوں سے خود کو بچا پاتے ہو,حالانکہ تمہیں خدا نے واضح الفاظ میں میرے ساتھیوں سمیت مجھ سے دور رہنے کا حکم دیا ہے,پھر بھی ہر بار میرے آقا شیطان کی مدد سے میرے بہکادینے پر تم لوگ بہک جاتے ہو,نہیں سمجھے نا..ذرا غور کرو یہ عورت اچھی بھلی اپنی مامتا کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی اُس وقت اتنی طاقت تھی اس کے پاس کہ یہ وہاں بیٹھے بیٹھے دو جہانوں پر رائج عرش ہلا سکتی تھی,عرش والا کس قدر محبت سے اسے تک رہا ہوگا ذرا سوچو,ستر مائوں سے زیادہ چاہنے والے پر کیسے ایک ماں کے خالص آنسوئوں کا اثر نہ ہوتا مگر اس بدبخت عورت نے میرے حرکت میں آتے ہی میری آواز پر لبیک کہہ دی اور خدا کی نظروں میں معتوب ٹھہری,وہ آدمی اس عورت پر لعنت بھیج گیا کون جانتا ہے یہ لعنت خدا کی طرف سے ہی تھی.تم یقینا سوچ میں پڑ گئے ہوگے کہ آخر میں ہوں کون ؟،تو دل تھام کر سُنو میں وہ” ڈائین ” ہوں جو آزمائش کے طور پر دنیا میں تمہارے لیئے اتاری گئی ہوں تاکہ تمہارے ایمان کو خالص کیا جاسکے مگر میں ایسا ہونے نہیں دیتی,میرے زیر اثر تم سب اپنی مرضی سے آتے ہو مگر پھر گالی بھی مجھے ہی دیتے ہو, میرا نام “لالچ” ہے اور میں روز قیامت تک تم لوگوں کو خدا کی نظر سے گراتی رہوں گی اس دعوی کے ساتھ کہ روز محشر تک تم سب اسی طرح کامیابی ،رزق،روپے اور طاقت کیلئے میرے ہر ہتکھنڈے کے زیر اثر آتے رہو گے حالانکہ میری تکذیب کا اختیار ہے تمہارے پاس مگر کیا اتنی ہمت اور جگرا ہے تم سب میں کہ میرا انکار کرسکو ؟۔۔ہا ہا ہا۔”.
ختم شُد.