افسانہ : “کیکٹس” (Cactus)۔۔از ایڈیسن ادریس مسیح۔

”مبارک ہو بیٹی ہو ئی ہے ” پُرجوش آواز نے ذیشان احمد کے چہرے سے وہ ساری امید،خوشی،جوش،مسکراہٹ اور اور۔۔سب ہی کچھ نوچ ڈالاتھا۔ زندگی میں پہلی بار شاید وہ کسی خبر پر اس بری طرح سے لرز اٹھا تھاکہ اس کے ہا تھ سے موبائل چھوٹ کر گر گیا تھا، اس کی آنکھوں کی روشنی پل بھر کے لئے غائب ہو گئی تھی، دل اس زور سے دھڑکا بلکہ پھڑکا تھا کہ ایک لمحے کو اسے لگا ابھی پسلیوں کاپنجرہ توڑ کرسینے سے باہر آ گرے گا بے اختیار اس کا داہنا ہا تھ اٹھا اور سینے پر عین دل کے مقام کو جکڑ لیا، اس کے جسم کے ہر مسام سے پسینہ پھوٹ نکلا تھابالکل ویسے ہی جیسے شادی کے بعد چھ سال تک مسلسل اس کے دل سے اولاد کے لئے دعائیں نکلا کر تی تھیں،اگلے ہی لمحے اسے احساس ہو ا کہ اس نے دعا مانگنے میں غلطی کی اسے اولاد کی دعا نہیں مانگنی چاہئے تھی وہ اس لمحے کو کوسنے لگا جب اُس نے اللہ کی رحمت پر توکل کرکے بہت گڑگڑاکردعا کی تھی،اس تیقن سے کہ اس بار تو اللہ دعا ضرور ہی سنے گا اور دعا سن لی گئی تھی اور پچھلے نو ماہ اُس نے انگلیوں پہ دن گن گن کرگزارے تھے،عزیز از جان بیوی کو ہتھیلی کاچھالہ بنا کر رکھا تھا اوراب۔۔دعا حقیقت بن کر دنیا میں آنکھ کھول چکی تھی تو۔۔وہ۔۔

”ہیلو۔۔ہیلو ذیشان۔۔کیا ہوا۔۔آواز آرہی ہے میری۔۔بیٹی ہو ئی ہے بیٹی اللہ کی رحمت آئی ہے تمہارے گھر ہیلو ذیشان۔۔ذیشان بیٹا”
اس کے قدموں میں گرے ہو ئے موبائل فون سے پھوٹتی ہو ئی اس کی ماں کی آواز اس کے پیروں سے لپٹ رہی تھی زنجیر ہو رہی تھی ذیشان احمد ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور آگے بڑھ گیا زنجیر ٹوٹ گئی فون گونگا ہوگیا اگلے چند منٹس تک وہ بھی گنگ سا کھڑا ٹائلوں والے چکنے فرش پر اوندھے منہ پڑے ہو ئے موبائل فون کو پتھریلی آنکھوں سے گھورتا رہا تھا پھر پتہ نہیں پہلے اس کا ہا تھ زمین کی طرف جھکا تھا یا کمر…..لیکن اس نے موبائل واپس اٹھا لیا تھاذیشا ن کے ہا تھ میں آتے ہی فون پھر سے ٹھنکنا شروع ہو گیا تھا ذیشان نے وحشت بھرے انداز میں موبائل فون کودیکھا اوراور کال کا ٹ کر سوئچ آف کر دیالیکن اگلے ہی لمحے اس کے کانپتے ہو ئے دل نے ٹوکا کہ فون بند نہیں کر نا چاہئے تھااس نے دوبارہ فون آن کرنا چاہا لیکن نہیں کیا بلکہ جیب میں ڈال کراُس نے جھکا سرلئے نظریں اٹھا کر سامنے موجود مزار کو دیکھا۔۔بڑا ہی شکوہ تھا اُس کی آنکھوں میں۔۔ابھی چند لمحوں پہلے ہی تو اُس نے چادر چڑھائی تھی،فاتحہ پڑھی تھی،دعا کی تھی،شکرانا پڑھا تھا،کچھ گھنٹوں پہلے تک اُس کی بیوی کا کیس بالکل نارمل تھا مگر پھر اچانک کیا ہوا کہ طبیعت بگڑ گئی،اللہ جانے یہ ہسپتال والے اچانک ہی زچہ و بچہ کی جان بچانے کیلئے ”قصائی“ کیوں بن جاتے ہیں۔
”پچاس ہزار فوری جمع کروائیں،کیس Complicatedہوگیا ہے،آپ کی مسز BP ہائی ہونے کی وجہ سے بالکل Respondنہیں کررہی ہیں“،ہسپتال کے کاریڈور میں وہ پُرامید انداز میں دعائیں کرتے ہوئے ٹہل رہا تھا کہ ڈاکٹر نے اُسے اپنے کیبن میں بلواکر کہا تھا اور وہ جس جس کو فون کرکے پیسے مانگ سکتا تھا،مانگے تھے اور خدا خوش رکھے،اس اچانک کے آڑے وقت میں اُس کے دوستوں نے اُس سے نظریں نہیں چرائی تھیں،روپے جمع کرواکر وہ ماں کو ہسپتال چھوڑ کر یہاں غازی کے مزار پر آیا تھا۔۔۔سب کچھ خیر خیریت سے ہوجانے کیلئے۔۔چھے سال سے اُس کے جس آنگن نے بچے کی قلقاریاں نہیں سنی تھیں اُس سونے آنگن کی چہکار دنیا میں لانے کیلئے۔۔اور اب۔۔بیٹی۔۔مگر بیٹی۔۔۔بیٹی کیوں۔۔کس لئے۔۔شکوہ آنکھوں میں اٹھا تھا اور کندے ندامت سے جھکے تھے۔۔اُس نے ”االلہ والے“ سے پیٹھ موڑی اور تیزی سے مزار کے احاطے سے باہر نکل گیا۔۔سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ کئی جگہوں پر لڑکھڑایا۔۔اذیت۔۔تکلیف۔۔ڈر۔۔ہاں ڈر۔۔اُسے ڈر لگ رہا تھا۔۔باپ بن جانے سے نہیں۔۔۔بیٹی ہوجانے سے۔۔بیٹی کیوں ہوگئی تھی۔۔کیسے ہوگئی تھی۔۔نہیں ہونی چاہئے تھی۔۔
ڈر سے لڑتے،آنکھوں میں بار بار امڈ نے والے آنسوؤں سے جھگڑتے ہوئے وہ اپنے فلیٹ تک پہنچا تھا، اُسے حیرت ہوئی،فلیٹ بلڈنگ میں تو ہر وقت رونق رہتی تھی پھر اتنا سناٹا کیوں تھا،وہ لفٹ میں چڑھ گیا، کو ریڈور میں پہنچ کر اُسے محسوس ہوا کہ بہت سارے لو گ جمع ہیں،وہ بری طرح سے گھبرا گیا تھامگر پھر اچانک ہی وہ سب غائب ہوگئے،اس نے سر دائیں بائیں ہلاکر پھر سے دیکھا لیکن کو ریڈور خالی ہی تھا تسلی ہو ئی،اسی لمحے اُسے اپنے ہی فلور کے کونے والے فلیٹ میں رہنے والے مدثرصاحب آتے دکھا ئی دئیے ان کو دیکھ کر ذیشان غیر ارادی طور پر رک گیااس کا دل چاہا کہ وہ کہیں چھپ جا ئے لیکن وہ چھپ نہیں سکتا تھا مدثر صاحب اسے دیکھ چکے تھے اور مدثر صاحب کی آنکھیں آنکھیں نہیں تھیں سی سی ٹی وی کیمرہ تھیں اور زبان….نہیں اس کی کو ئی مثال نہیں ہے بس اتنا سمجھ لیجئے کہ آپ نے اب تک اپنی زندگی میں ان سے زیادہ باتونی، ادھر کی ادھر پہنچانے اور چیونٹی کو آگ اگلنے والا ڈریگن بنا کرپیش کر نے والے کسی شخص سے نہیں ملے ہوں گے۔
اس سے پہلے کہ ذیشان ان کے متوقع سوال کا جواب سوچتا وہ سیڑھیاں پھلانگتے ہو ئے اس کے اتنے قریب آچکے تھے کہ سرگوشی میں پوچھ سکتے تھے۔
ِِ ِِ ِِّّ سب ٹھیک ہے ناں ذیشان؟
ذیشان کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کب اس کا سر اثبات میں اس زور سے ہلا کہ مدثر صاحب نے محسوس کر لیا کہ اس کے سر کو دائیں بائیں ہلنا چاہئے تھا، ماتھے پر بل ڈال کر کچھ اور قریب آکر سرگوشی میں پوچھا
اچھا تو ہوا کیا ہے۔۔بیٹا یا بیٹی؟
بب۔۔بے۔۔بیٹا۔۔بیٹا ہوا ہے
ذیشان کے کانپتے ہو ئے ہونٹوں سے سہما ہوا سا جھوٹ نکلا جو مدثر صاحب کی آنکھوں میں حیرت بن کر پھیل گیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پو چھتے ذیشان اپنے فلیٹ تک جانے کے بجائے پلٹ کربھاگتا ہوا لفٹ تک گیااور اسی طرح بھاگتے ہو ئے بلڈ نگ سے باہر آگیا اور اسی طرح سڑک پر بھاگنے لگا،پسینے میں شرابور،ٹانگوں کی ہڈیوں کی چٹخ کو نظر انداز کرتے ہوئے پھولے ہوئے تنفس کے ساتھ بھاگتے بھاگتے اچانک اسے احساس ہوا کہ اسے بھاگنا نہیں چاہئے وہ اچانک ہی رک گیا اورسانسیں ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اُس نے آس پاس دیکھا،اُسے ہر طرف مرد ہی مرد دکھائی دے رہے تھے۔۔پندرہ سال سے لے کر ساٹھ برس تک کی عمر کے ہررنگ اور نسل کے مرد۔۔اُن سب کے چہرے ایک جیسے تھے۔۔خوفناک۔۔ اُن سب کے ہونٹوں پر ایک جیسی مسکراہٹ تھی۔۔مکروہ۔۔اُن سب کی آنکھوں میں ایک ہی چیز تھی۔۔ہوس۔۔۔وہ یکدم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔تپتی دھوپ کے نیچے گھٹنوں کے بل آگ اگلتی سڑک پرگرکے۔۔دونوں ہتھیلیوں میں منہ کو ڈھانپے۔۔ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ سسکتی آواز سے بس ایک ہی لفظ ادا کررہا تھا۔۔”بیٹی“۔۔۔”بیٹی“۔۔۔
کچھ دیر بعد اُس نے سر اٹھا کر آنسوؤں سے بھری آنکھیں ارد گرد دوڑائیں تھیں۔۔وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔سڑک سنسان تھی۔۔ اس نے اپنی زبان پر نمکین ذائقہ محسوس کیا جو اس وقت اسے اتنا کڑوا لگا کہ اس نے مونچھوں میں اٹکے ہوئے آنسو بے دردی سے پو نچھ ڈالے، تھوک نگل کر سوکھے گلے کو تر کرنے کی کوشش کی تو حلق میں کانٹے چبھ گئے اسے یاد آیا جب اسے ٹانسلز کی شکایت ہو ئی تھی تو کچھ بھی نگلتے ہو ئے ایسا ہی محسو س ہو تا تھا بے اختیار اس کا ہا تھ اپنے گلے پر آن ٹھہرا اسے خدشہ سا ہوا کہ اسے دوبارہ سے ٹانسلز ہو گئے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے اسے یاد آیا کہ اسے ٹانسلز نہیں ہو ئے بلکہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہو ئی ہے….شادی کے چھ سال بعد….چھ سالوں کے طویل صبر کا پھل…بیٹی…. کیکٹس….!
وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور خود کو سمجھانے لگا کہ جو ہونا تھا وہ چکا اب اس طرح بھاگنے سے وہ بھاگ نہیں پا ئے گاوہ اپنے آپ کو سمجھانا چاہتا تھا کہ بیٹی خدا کی رحمت ہو تی ہے لیکن اس کو سمجھ آیا کہ رحمت اور زحمت میں صرف ایک نقطے کا فرق ہو تا ہے….اور اسی ایک نقطے پر آکر وہ اٹک کر رہ گیا تھا اسے لگا کہ ساری کائنات ہی اٹک اٹک کر چل رہی ہے بے اختیار اس نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو اسے لگا کہ وہ غلط سوچ رہا تھا زندگی کہیں نہیں اٹکی تھی…چل رہی تھی، لوگ چل رہے تھے، گاڑیاں چل رہی تھیں، سڑک پر کتے چل رہے تھے، بینک چل رہے تھے،دفتر چل رہے تھے، دکانیں چل رہی تھیں بازار چل رہے تھے۔
بازار کا خیال آتے ہی وہ چونک اٹھا اس کے گھر سے قریبی بازار اس کے سامنے مخالف سڑک پر تھا بے اختیار اس نے سڑک کے پار دیکھا سامنے دیوار مردانہ کمزوری کے اشتہار سے داغ دار ہو رہی تھی زندگی میں پہلی بار اس نے اس اشتہار کو پو را پڑھا اور آج پہلی ہی بار اسے احساس ہوا کہ کاش وہ پڑھا لکھا نہ ہوتا یا پھر پو رے ملک میں لوگ اتنے پڑھے لکھے ہو تے کہ ان اشتہاروں اور اس جیسی دوسری چیزوں اور عوامل سے ان کی اشتہا اتنی نہ بڑھ پا تی کہ وہ خودہی اشتہاری ہو جا تے، کتنے ہی اشتہار کتنی ہی خبریں کتنی ہی تصویریں اس کی نظروں کے سامنے گھوم گئیں اس کا دل کانپا تھا،لرزا تھا، یا پھٹ پڑا تھا کچھ سمجھ نہیں آیا…لیکن شاید پھٹ ہی گیا ہوگاجبھی تو دل کا سارا خون اچھل کر اس کی آنکھوں میں آگیا تھا اس نے زور زور سے پلکیں جھپکیں تھیں اور سامنے سے گزرتے ہو ئے رکشے کو ہا تھ دے دیا تھارکشہ ابھی پو ری طرح سے رکا بھی نہیں تھا کہ وہ کود کر اس میں سوار ہو گیا اور سیٹ پر بکھر کر تیز تیز سانسیں بھرنے لگا رکشہ ڈرائیور نے کچھ گھبرا کر پو چھا تھا۔
”کہاں جانا ہے بھائی؟“
ذیشان نے پھولی سانسوں کے درمیان اٹک اٹک کر بولا ”پتہ نہیں۔۔کسی بازار لے چلو۔۔جہاں ایک ایک گھنٹے کی بچی کا برقعہ ملے۔۔میری بیٹی پیدا ہو ئی ہے“۔
رکشے والا ہکا بکا اُسے روتا ہوا دیکھ رہا تھا۔اورپھرپتا نہیں کیا ہوا۔۔
”مجھے بھی اپنی سات مہینے،ڈیڑھ سال اور تین سال کی بیٹیوں کیلئے برقعہ لینا ہے بھائی“،رکشے والا بھی پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگا۔

ختم شُد