اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور

محمد یاسر کا ریویو
“اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور، بجاطور قابل ستائش فلم”۔
پاکستان میں جدید سینما کی بُنیاد پڑ چُکی ہے (ایسا دعویٰ بہرحال کیا جارہا ہے،کتنی حقیقت کتنا فسانہ یہ الگ بحث ہے) اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جس کا جیسا بس چل رہا ہے وہ اپنا حصہ ڈال رہا ہے یہ اور بات ہے کہ یہ کوششیں چلے ہوئے ٹُھس کارتوسوں پر انحصار کرتے ہوئے کی جا رہی ہیں، مزاح کے نام پر پھکڑپن،ذومعنی جملے بازی،گانوں میں فحش گوئی،ہیروئینز کے وہی Seductress انداز و اطوار،ہیروز کا وہی وقت پڑے پر جُگتیں لگانا اور وقت پڑے تو پھینٹی لگانا، سرقہ کہانیاں غرض وہی لوازمات جن کی بناء پر گزرے کل کے Lolly wood کو منہ بھر بھر کے گالیاں دی جاتی تھیں اور میکرز کو جاہل گردانا جاتا تھا،باگ دوڑ سنبھالنے پر انگریزی زدہ لوگ خود بھی اُسی نقش پا پر گامزن ہیں مگر خوش آئند بات البتہ یہ ضرور ہے کہ فلم انڈسٹری کو نہ سہی بعض شخصیات و ادارے تو فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن مسلسل فلمسازی ہو تو رہی ہے اور ان “میں”،”میں ہی میں” اور “میں نہ مانوں” والے حالات میں ریلیز ہوئی “اللہ یار دی لیجنڈ آف مارخور” ایک گھنٹہ چالیس منٹ دورانئے کی یہ اینیمیٹڈ فلم ناظر کو صرف ایک ہی احساس سے دوچار رکھتی ہے اور وہ ہے فخر کا۔
کہانی و مُکالمے :دُنیا بھر میں اینی میٹڈ فلم ز تیزی سے اپنی دھاگ بٹھارہی ہیں, اس طرح کی فلمسازی سے ایک فائدہ بہرطور ہے کہ اُن کہانیوں کو پیش کرنا نسبتا آسان ہوگیا ہے جو animation دور سے پہلے مُمکن نہیں تھا،اس فلم کی کہانی Substantial ہے،”نیکی و بدی” کی گرد بُنی یہ کہانی بہت سارا food for thought رکھتی ہے،جذبہ قومیت،جذبہ انسانیت،جانوروں اور گُل بوٹوں کے ساتھ شفقت یہ سب “حقیقی” اسلامی شعائر اس معصوم سی کہانی کا حصہ ہیں۔
ہمت،حوصلہ،غلط کے خلاف آواز اٹھانا،ڈر کے بھاگنے کے بجائے جان بچاتے ہوئے حق پر ڈٹ جانا،Political correct ہونے کی کوشش کرنا کہ اگر ظالم کو ظالم کہا تو وہ رزق چھین لے گا،راستے مسدود کردے گا،مشکلات کھڑی کرے گا جیسی بڑی باتیں جو آج ہماری تیزی سے بدلتی ہوئی دُنیا اور دُنیا میں survive کرنے کیلئے بہت بڑے چیلنجز بن گئے ہیں اور ہم بچوں کو Practical بنانے کی آڑ میں کمزور،بزدل،مٹیریل اسٹک اور منافق بنا رہے ہیں “اللہ یار” کی کہانی بہت بڑے بڑے لیکچرز نہیں دیتی نہ ہی اخلاقیات سُدھارنے کے بھاشن جھاڑتی ہے۔
ایک معصوم سے بچے (اللہ یار) کی ایک مارخور (مہرو)  اور اُس کے خاندان کو ایک وحشی درندے(مانی)  سے بچانے کی کوشش کہ جس میں چند اور ساتھی “میں چلتا گیا،کارواں بنتا گیا” کے مصداق شامل سفر ہوجاتے ہیں،ایک سادہ اور دلچسپ کہانی میں استعاروں اور تشبیہات سے کام لیا گیا ہے جو دیکھنے میں بھلے اور سمجھنے میں بہت پیارے لگتے ہیں۔
مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے،اُس کی نسل کو ختم کرنے کیلئے ایک شخص پاکستان کے نادرن ایریاز میں حملہ آور ہوا ہے،اللہ یار اپنے باپ کے سکھائے صحیح و غلط کے درس کی روشنی میں اُس مارخور اور اُس کے خاندان کو اپنے دوستوں کی مدد سے بچاتا ہے۔
اس بظاہر سادہ سی کہانی پر ہی صرف غور کیا جائے تو بڑے معنی اخذ ہوتے ہیں کُچھ سیاسی،کُچھ بین الاقوامی،کُچھ” اپنے “گراتے ہوئے نشیمن پر بجلیاں،بڑا کُچھ سمجھ آتا ہے۔
یہی نہیں شلوار قمیض پر پاکستانی جھنڈے کا badge بھی دل محبت سے بھر دیتا ہے۔
مکالمے بہت جاندار،مزے دار اور لچھے دار ہیں،عزیر ظہیر خان نے مکالمہ نگاری اور کرداروں کی بُنت کے وقت ایک چیز بہت دانش مندی کے ساتھ کی انہوں نے بچوں کو Lollypops نہیں تھمائیں،انہوں نے انٹرنیٹ،سمارٹ فونز دور کے بچوں کو Miss-judged نہیں کیا،نہ ہی اُن کی ذہنی پچ کو کسی طور ہلکا گردانا ہے،2018 کے بچوں کی ذہانت،قابلیت اور سوال کرنے اور logic سے قائل ہونے کی صلاحیت کو قبول کیا ہے اور اُسی لحاظ سے مُکالمے لکھے ہیں،مساوات،رنگ و نسل کا فرق کئے بغیر باہمی انسانی تعلقات جو دین اسلام کی بُنیادوں میں شامل ہیں اور جن پر لیکچرز بچے سکول کالج میں حاصل کرتے ہیں  اور جن پر تضاد گھر،محلے اور معاشرے میں دیکھتے ہیں اور آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر جینے پر مجبور ہیں،آج کی نسل کو بڑوں نے “آخر پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟” جیسا سوال تحفے میں دے دیا ہے کہ جس کا جواب کسی کے پاس نہیں،آج کے پاکستانیوں کے چھوٹے چھوٹے ناسوروں کو اس کہانی میں بہت خوبصورتی و پیارے اور چابکدستی سے اٹھائے گئے ہیں لیکن ساتھ ہی “حل” بھی پیش کیا ہے۔ownership لینا،بقاء کیلئے آواز حق بُلند کرنا مگر جذباتیت سے نہیں سوجھ بوجھ سے،دانش مندی سے اور عقلی پیمانے سے یہ سب وہ نگینے ہیں جو کہانی میں مکالموں کی صورت جڑے گئے ہیں۔
اینی میشن ، پس پردہ آوازیں اور موسیقی : یہ بجا طور قابل فخر بات ہے کہ جس مُلک میں فلم میکنگ اور پوسٹ پروڈکشن کی جدید سہولیات موئثر انداز میں موجود نہ ہوں وہاں animated فلم وہ بھی بین الاقوامی معیار کے عین مطابق تکمیل پائے،sketches بہت شاندار ہیں،کرداروں کی شکلیں،اُن کا mannerism,اُن کی حرکات و سکنات بہت واضح،شارپ اور عمدہ ہیں۔
للہ یار،مہرو،مانی،رانی،ہیرو(چکور) اور تینوں لومڑیوں کی وضع قطع اور شکلیں کمال کی ہیں،اُن کے character portrayal بہت مزےدار ہے خاص طور پر ہیرو،اُس کے kung fu moves,اُس کی تیز طراری اور اُس کی بےساختگی سے بھرپور شوخ و شنگ زبان لُطف دوبالا کردیتی ہے۔
نادرن ایریاز کی خوبصورتی کو بھی دو چند بنا کر پیش کیا گیا ہے،درختوں،بہتے جھرنے،ندیاں حقیقی معلوم ہوتی ہیں البتہ بیک گرائونڈ میں موجود دیگر جانوروں کی movements دکھانے کے بجائے انہیں بالکل ساکت رکھا گیا یہ کُچھ معیوب لگتا ہے دوسرا پس پردہ آوازوں کا کُچھ مناظر میں کرداروں کے ساتھ lip sync نہ ہونا بھی کُچھ کُچھ گراں گزرتا ہے۔
بیک گرائونڈ میوزک اور گانے بھی لاجواب ہیں،جن فنکاروں نے پس پردہ آوازیں دی ہیں ہدایتکار عذیر ظہیر خان نے انہی فنکاروں سے گانے بھی گوائے جو اُن کی ذہانت کا اظہار ہے،گانے مزے دار ہیں کم از کم اس لحاظ سے کہ بچوں کی “چکنی چمیلی”،”پانی پانی ثانی ثانی” اور “اوہ لگدی لاہور دی” سے تو جان چھوٹے گی اور اُن میں شریف،مہذب الفاظ کی شاعری اور اچھی دھنوں سے رغبت تو پیدا ہونے کا امکان ظاہر ہوگا۔
ہدایت کاری : عذیر ظہیر خان اس سے قبل بُرقع ایوینجرز بنا کر کُچھ داد اور زیادہ ملامت حاصل کرچکے ہیں اس بار کہیں زیادہ متاثر کرتے ہیں،بہت کم پاکستان میں ایسی فلمیں بنائی گئی ہیں جو مکمل۔سوُجھ بوُجھ،دانش مندی کا مظاہرہ کرتی ہوں اور جو دُور اندیشی کی مظہر ہوں،اس سے بھی بڑھ کر جو کسی دائیں یا بائیں دھڑ کی انتہاپسندانہ سوچ اور ایجنڈے کا پرچار سختی سے “نا” کرتی ہوں،عذیر ظہیر خان کی محنت،حکمت ہر فریم سے ظاہر ہوتی ہے،بہترین کہانی،مزے دار مُکالمے،کمال animation اس فلم کو لاجواب بنادیتی ہیں اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف بچوں کی فلم نہیں ہے اسے بڑے بچوں سے کہیں زیادہ انجوائے کرسکتے ہیں۔
“اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور” پچھلے چند سالوں میں ایسی واحد فلم ہے جو بحیثیت پاکستانی ناظر کے دل میں اُس بُجھتی ہوئی امید کو سہارا دیتی ہے کہ اچھا وقت ضرور آئے گا اور اُسے ہم نہ سہی ہمارے بچے،ہماری اگلی نسل ضرور لے کر آئے گی۔
4.0 Out of 5.
Highly recommended .