ان کے ہمراہ بھی چلتے رہے تھے

…..غزل……….
ان کے ہمراہ بھی چلتے رہے تھے
عشق کی راہ میں جلتے رہے تھے
وفا تو ان سے یہ ممکن نہیں تھی
پر ہم ان سے وفا کرتے رہے تھے
روز کا سلسلہ تھا یہ، ہم روز
مرنے کی آس پہ مرتے رہے تھے
وہ تکبر کہاں؟ کس کے لئے آج ؟
دنیا کے آگے ہی جھکتے رہے تھے
اپنا کیا جرم تھا تنہائی میں اب
ہم تو دیواروں سے لڑتے رہے تھے
………بلال احمد فاروقی………….