ایدھی کا جنازہ

“عمار مسعود”

ایدھی صاحب کے جنازے کے مناظر کڑوڑوں لوگوں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ ساری دنیا میں دیکھے۔ تمام ہی ناظرین کے دل غم سے بھرے ہوئے اور آنکھیں وقت رخصت پر نم تھیں۔ ایدھی صاحب کو پورے قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔صدر مملکت ، چیف آف آرمی سٹاف ، صوبائی وزراء اعلی، گورنرز اور وزراء کرام اور مشیران نے نماز جنازہ ادا کی ۔ تابوت کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا، گاررڈ آف آنرپیش کیا گیااور سلامی دی گئی۔پھولوں کی چادریں تابوت پر رکھی گئیں حفاظتی اداروں کے سیکیورٹی حصار میں تابوت ایدھی ایمبولینس میں اید ھی ویلج لے جایا گیا اور اور پورے احترام سے بابائے خدمت کو دفنا دیا گیا۔نیکی ، سادگی، معصومیت اور خدمت کا ایک باب ختم ہوا۔ ایک نیک روح کی عمر کا حساب ختم ہوا

5780f08396cab

Abdul-Sattar-Edhi-Dead-Body-pictures

c66cf86bccadd39af9250fccaaf87f0f

ایدھی صاحب کے جنازے میں اتنے لوگ نہیں تھے کہ جتنے متوقع تھے ۔ کراچی کا نیشل سٹیڈیم بھی نہ بھر سکا۔ چند صفیں ہی سیدھی ہوئی تھیں کہ موذن نے تکبیر کی صدا بلند کر دی۔لوگوں نے جلدی جلدی ہاتھ باندھے ، امام کے پیچھے تکبیر کہی اور پھر دعا کے لیئے ہاتھ آٹھا دیئے۔نماز جنازہ کا منظر فاسٹ فاروڈ میں چلا اور پھر وی آئی پیز کے رخصت کے ساتھ تھم گیا۔ جنازے میں لوگوں کی کم تعداد کی وجہ نہ سخت موسم تھااور نہ ہی عید کی چھٹیاں مانع تھیں۔ نہ کراچی کے لوگ ایدھی صاحب کی خدمات کو بھولے تھے نہ ہی انکے دلوں میں ایدھی صاحب سے محبت کا جذبہ کم ہوا تھا۔ اصل وجہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی وجہ سے عوام کی جلسہ گاہ تک رسائی کا تھا۔وی آئی پی مومنٹ کے سبب سارے شہر میں ٹریفک روک دی گئی تھی۔ نیشنل سٹیڈیم کے باہر ٰایک سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا تھا۔ ہر آنے والے کی کئی بار چیکنگ کی جاتی تھی۔شکل سے مشکوک افراد کو باہر ہی روک لیا گیا تھا۔ جو افراد سیکیورٹی اداروں سے متعلق تھے انکے بھی کارڈ دیکھ کر نیشنل سٹیڈیم میں جانے کے اجازت دی گئی تھی۔ جو لوگ اند رپہنچنے میں کامیاب ہوئے انکو بھی اگلی صفوں سے دور رکھنے کے لیئے خصوصی انتظامات کیئے گئے تھے۔ پہلی تین صفیں افسران اور وی وی آئی پیزکے لیئے مخصوص تھیں۔اسکے بعد سیکیورٹی کا حصار تھا اور پھر عام عوام کو جنازہ پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی۔یہ وہ جنازہ نہیں تھا جس سے ایدھی صاحب کے اس قوم پر احسانات کا اندازہ ہو سکے۔ یہ وہ جنازہ نہیں تھا جو ساری دنیا کے چاہنے والوں کی چاہت کا ترجمان ہو۔

Army-Chief-Raheel-Sharif-and-DG-ISPR-Asim-bajwa-pays-salute-to-Abdul-Sattar-Edhi-at-National-Stadium

یہ وہ جنازہ نہیں تھا جس سے ایدھی صاحب کے احسانات کا حق ادا ہو۔ یہ تو کوئی سرکاری تقریب تھی، پروٹوکول سے لدی ہوئی، عہدے اور حیثیت کے مارے لوگوں سے بھری ہوئی۔

5780e22e3c258

5780f07dc0b71

5780f0831d506

ایک لمحے کو سوچیں تو سہی کہ اگر ایدھی صاحب خود اس جنازے کا انتظام کرتے تو کیا منظر ہوتا۔ کون، کون ، کہاں ، کہاں ہوتا۔ اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ نہ تو وی آئی پیز کے لیئے پہلی صف مخصوص ہوتی، نہ جنازے میں شرکت پرکوئی پابندی ہوتی، نہ سیکیورٹی کے حصار ہوتے نہ ہر آنے والے کی چیکنگ ہو رہی ہتی۔ نہ شہر کی ٹریفک بند ہوتی اور نہ ہی امام کو یہ بتانے کی ضرورت پڑتی کہ کس ادارے کی طرف سے اس نماز جنازہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ نہ بندوقیں تانے اہلکار صفوں سے آگے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہوتے نہ اس قدر برق رفتاری سے تکبیر سے دعا تک کے مراحل طے ہوتے۔ایدھی صاحب کے اختیار میں ہوتا تو پہلی صفت ان بچوں کی ہوتی کہ جن کو انہوں نے گود لے کرپال پوس کر بڑا کیا ہوتا۔ ایدھی ایمبولینسوں کے پندرہ سو رضاکار اس جنازے میں ضرور شرکت کرتے۔ خواتین کی جنازہ گاہ میں شرکت پر کوئی پابندی نہ ہوتی۔ ہندو، سکھ ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو باہر نہ روک لیا جاتا۔ایدھی ڈ سپنسریوں سے شفاء پانے والوں کو آگے آنے کا موقع دیا جاتا۔ نرسنگ سکول میں کام کرنے والے بھی جنازے میں ہوتے۔کھالیں جمع کرنے والے رضاکار بھی جنازے میں شامل ہوتے۔ایدھی سنٹرز میں مفت کام کرنے والے کارکن بھی صفوں جگہ پاتے۔جھولوں میں پائے گئے بچوں کے لئے بھی کوئی جگہ مخصوص ہوتی۔ کوڑھ کے وہ مریض بھی اس جنازے میں شریک ہوتے جنکو ایدھی صاحب خود غسل دیا کرتے تھے۔ لاوارث لاشوں کے ورثاء بھی نیشنل سٹیڈیم میں موجود ہوتے۔کسی شخص کے آنے پر پابندی نہ ہوتی۔ ایدھی صاحب کے اختیار میں ہوتا تو اس جنازہ گاہ میںآنے والے بچوں کے کھیلنے کے لیئے کوئی جگہ مخصوص کر دیتے۔جنازے میں شریک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہو جاتی۔نیشنل سٹیڈیم تو کیا چیز ہے ارد گرد کی تمام سڑکیں عقیدت مندوں کے ہجوم سے بھر جاتیں۔ایدھی صاحب کے اختیار میں ہوتا تو پیاسے غم کے ماروں کے لیئے پانی کی سبیل کا انتظام کرتے، بھوکوں کو دال روٹی نصیب ہوتی،عورتوں کے سر پر کڑی دھوپ میں سائے کا انتظام ہوتا۔ غیر مسلم لوگوں کے لیے نماز جنازہ پڑھنا فرض نہ کی جاتی۔ کوئی مشیر ، وزیر یا جرنیل عہدے کے وجہ سے اگلی صفوں میں جگہ نہ پاتا۔غریب لوگوں کا ایدھی غریب لوگوں سے محبت وصول پاتااور ہمیشہ کی طرح اپنی ملیح مسکراہٹ کے ساتھ سفر آخرت پر نکل جاتا۔ لوگ احسان مندہوتے اس عظیم زندگی کے کہ جس نے انسانوں سے محبت کا اس دور میں سبق دیا ۔ جس نے مذہب کی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر زخموں پر مرہم رکھی۔جس نے عورتوں کے احترام کا درس دیا۔ جس نے پھول جیسے بچوں کی زندگیوں سے ناجائز کی گالی مٹادی۔ جس نے لاوارث لاشوں کو اپنے ہاتھ سے غسل دیکر موت کی تکریم سکھا دی۔
اگر سرکاری پروٹوکول کے بغیر ایدھی صاحب کاجنازہ ہوتا تو یقین مانیئے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ اشکبار آنکھوں سے اس میں شریک ہوتے تو سب رو رہے ہوتے اور خداکی قسم میری طرح دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہوتے”