بے خبر اس حکومت کو کون سمجھائے

Ammar Masood
کون سمجھائے اس حکومت کو کون سمجھائے۔۔۔۔

جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کاکول ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آو ٹ تقریب سے خطاب کے دوران کہتے ہیں کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کشمیری بٹ کو حکومتی عہدوں پر فائز کر دیا جائے۔
ابن الوقت قسم کے لوگ اس دور میں حکومت کا مزاج دیکھ کر اپنے خاندان کی کوئی نہ کوئی کڑی کشمیروں سے ملا دیتے ہیں۔ ٹی وی شوز میں ، ڈرائنگ روم کی بحثوں میں، کابینہ کی میٹنگز میں، ایوان وزیراعظم کے پر تعیش کھانوں میں، سیاسی ملاقاتوں میں، آپس کی باتوں میں، ہر شخص اپنی ذات ، برادری، خاندان کو کشمیری ہونے سے اس طرح جوڑتا ہے جیسے کلید کامیابی اسی ایک رابطے میں پوشیدہ ہواورترقی کا یہ واحد زینہ ہو ۔ پائے کھانے سے، نوکریاں لگانے سے ، خوبصورت مناظر کی تصویریں بنوانے کے سوا کشمیر ایک بہت سنجیدہ عالمی مسئلہ بھی ہے۔ جسکے حل کی طرف حکومت وقت کا کوئی دھیان جاتا ہے نہ کوئی درست سمت میں اقدام نظر آتا ہے۔
کون سمجھائے اس حکومت کو۔ کون سمجھائے۔۔۔۔
اس خطے کے جغرافیائی مسائل اب نوے کی دھائی سے بہت مختلف ہوگئے ہیں ۔ معاملات زیادہ دقیق اورگنجلک ہو گئے ہیں۔ حالات، واقعات اور تجربات نیا موڑ لے چکے ہیں ۔ بین الاقوامی منظر نامہ اب بدل چکا ہے۔ سپر پاورز کے کھیل میں مفادات کے نئے اصول بن چکے ہیں ۔ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے رنگ، ڈھنگ تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے حالات اور سیاسیات میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ دوسرے ممالک سے تعلقات اب فن نہیں رہا ، یہ سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ سنجیدہ مسائل سنجیدگی کا تقاضا کر رہے ہیں۔اداروں کے درمیان ربط اب لازم وملزوم ہو چکا ہے۔ قومی یکجہتی اب خواہش سے زیادہ ضرورت بن چکی ہے۔ مل بیٹھ کر قومی سلامتی کے امور پر غور کرنا، مسائل کا حل دریافت کرنا ، پاکستان کو درپیش چیلنجز پر سنجیدگی سے کوئی مربوط پالیسی بنانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہو گیا ہے۔ حکومت وقت ان سارے مسائل سے بے خبر ہو کر سر ریت میں دھنسائے عجب حماقت، سستی اور بے خبری کا مسلسل مظاہرہ کر رہی ہے۔
کون سمجھائے اس حکومت کو۔ کون سمجھائے۔۔۔۔
کون سمجھائے کہ جب ایران کے ڈپٹی کمانڈربرگیڈئر حسین سلامی تنبہیہ آمیز بیان میں کہتے ہیں کہ اگر حکومت پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف درست سمت میں کاروائی نہیں کی اور ان کو ہمسایہ ممالک میں گھسنے سے نہ روکا تو مملکت ایران اس کا سدباب کرنے کے لئے خود میدان میں کودنے پر مجبور ہو جائے گی۔تو یہ بیان صرف ایک دھمکی نہیں ہماری اپنی ناکامی، نااہلی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس دھمکی پر عمل درامد بھی ہو چکا ہے اور سرحد پار فائرنگ سے ایف سی کے ایک جوان نے جام شہادت بھی نوش کر لیا ہے۔
کون سمجھائے کہ جب سیالکوٹ کے بارڈر پر در اندازی کے واقعات بڑھتے جائیں، بے جا فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہونے لگے،سرحد کے قریب باسیوں کے مال مویشیوں کو نقصان ہونے لگے، فوج کے جوانوں کے زخمی یا شہید ہونے کی اطلاعات آنے لگیں تو یہ مسائل آموں کی پیٹیوں سے حل نہیں ہوتے۔ کشمیری شالوں کے تحائف بین الاقوامی سیاست کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ امن کی آشا کا گیت جغرافیائی حقیقتوں اور ضرورتوں کو نہیں بدل سکتا۔
کون سمجھائے کہ وزیر خارجہ کا کام مشیروں سے نہیں چلایا جا سکتا۔ مینڈیٹ ملنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وزیر اعظم ہر کام کے ماہر ہو چکے ہیں اور بغیر کسی باقاعدہ وزیر خارجہ کی عدم موجودگی میں سب مسائل کا ادراک رکھتے ہیں۔معاملات طارق فاطمی اور سرتاج عزیز کے بس سے باہر ہو چکے ہیں۔سرتاج عزیز کی عمر اور ان کے بھارتی این جی اوز سے تعلقات اب طعنہ بنتے جا رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی پر بیانات سے آگے بات نہیں بڑھ رہی۔مربوط خارجہ پالیسی کا عدم وجود لمحہ فکریہ ہے ملکی سلامتی کے لئے۔
کون سمجھائے کہ جب وزیردفاع پر کرپشن کے الزامات ہوں ،انکی شبینہ مصروفیات کے ہر محفل میںچرچے ہوں۔ جب نام نہاد وزیر دفاع دن میں کئی بار بیان بدلتے ہوں۔ جب اپنی فوج کے خلاف رقابت کا بارہا ڈھکے چھپے اظہار ہو چکا ہو تو ملکی سلامتی سے متعلق امور کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔
کون سمجھائے ۔ کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کے انخلاءکے بعد اس خطے میں بھارت جو اپنے تسلط کے خواب دیکھ رہا ہے وہ ملکی سلامتی کے لئے کیا معنی رکھتے ہیں ؟ بحیرہ عرب میں موجود امریکی بیڑے کیا کیا صلاحیت رکھتے ہیں؟اس بدلتی صورت حال میں امریکی مفادات کیسے بدل رہے ہیں؟
کون سمجھائے کہ چین کے صدر کے کامیاب دورہ بھارت کے مضمرات کیا کیا ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی کے الزامات کب تک دھرنوں پر دھر سکتے ہیں۔ چین بھارت تعلقات ، پاکستان کے لئے کسطرح خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایشیاءکے اس حصے میں تنہائی ہمارا مقدر کیسے ہو سکتی ہے۔
کون سمجھائے کہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آف ڈیفنس کی کوئی پالیسی گائیڈ لائن ابھی تک اختراع نہیں ہو سکی۔ سوچ بچار کا مرحلہ بھی ابھی تک نہیں گزرا۔ منزل کیا ،ابھی تو راستے تک کا تعین نہیں ہوا۔ صرف بیان دینے سے جغرافیائی سیاست میں تبدیلی نہیں آتی۔
کون سمجھائے کہ نیشنل کاونٹر ٹیرزام پالیسی صرف ایک مسودے کا نام نہیں ہے۔ دہشت گردی کے عفریت سے لڑنے کے لئے عملی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ اٹل فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ صورت حال کا بہادروں کی طرح مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔
کون سمجھائے کہ انٹرل سیکورٹی پالیسی دینا صرف کام نہیں اسکے لیے بجٹ بھی تفویض کرنا پڑتا ہے۔ بیانات کو عملی جامہ بھی پہنانا ہوتا ہے۔ مسائل پر دوررس سوچ بچار کرنا پڑتی ہے۔ مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔قربانی دینے پڑتی ہے۔
کون سمجھائے کہ بین الاقوامی امور میں حال کے واقعات سے مستقبل کے نتائج اخذ کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ موسم سرما میں ہونے والی بھارتی جنگی مشقوں کے امکانات اور اثرات پر ابھی سے غور کرنا ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ طویل مدتی منصوبوں پر سوچنا ہو گا۔
کون سمجھائے کہ دہشت گردی کے خلاف جس عزم وصمیم کا اعادہ فوج کی جانب سے کیا گیا اس کی تائید کے سوا بھی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ ضرب عضب کو جب ایک آپریشن نہیں ایک نظریہ کہا جاتا ہے تو اس بیان میں آنے والے وقت کے چیلنجز بھی پوشیدہ ہوتے ہیں جو پکا ر پکار کر حکومت وقت کی غفلت، لاپروائی اور لاعلمی کی نشاندہی کرتے ہیں ۔
کون سمجھائے کہ کرپشن، دھاندلی اور دھرنوں کے مسائل میں دھنسی حکومت ، دہشت گردی کے عفریت کا نہ مقابلہ کرنے کی خواہش رکھتی ہی نہ اسکی استعداد اتنی ہے کہ ان مسائل کا کوئی سنجیدہ حل دریافت کر سکے
کون سمجھائے ملکی سلامتی سے بے خبر اس حکومت کو کون سمجھائے۔۔۔۔

عمار مسعود