تم اک گورکھ دھندہ ہو..

شاعر : ناز خیالوی.
پہلی کرن آسماں میں مدہم ۔۔
گا رہی ہے تیرا ہی فسانہ ۔۔
مجھ سے چھپا ہے میرا ہی کفن۔۔
بخت میرا ہے کہاں ۔
تو نے ہے جانا ۔۔
تو ہے یہاں کہ تو ہے جہاں ۔
یا میں ہوں تیرے ہونے کا نشاں ۔۔
منزل میری یا رستہ ہو ۔۔
ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
جو الفت میں تمہاری کھو گیا ہے ۔۔
اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے ۔۔
نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے ۔۔
مگر  اک ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے ۔۔
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے ۔۔
کہیں تو ہست بن کر آگیاہے ۔۔
نہیں ہے ہو تُو تو پھر انکار کیسا۔۔
نفی بھی تیرے ہونے کا پتا ہے ۔۔
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی ۔۔
اگر وہ تُو نہیں تو اور کیا ہے ۔۔
نہیں آیا خیالوں میں اگر تُو ۔۔
تو پھر میں  کیسے سمجھوں تُو خدا ہے ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
آپ ہی اپنا پردہ ہو ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
چھپتے نہیں ہو سامنے آتے نہیں ہو تم ۔۔
جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم ۔۔
دہر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم ۔۔
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم ۔
حیران ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح ۔۔
حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم ۔۔
یہ معبد و حرم یہ کلیسا و دہر کیوں ۔۔
ہرجائی ہو جب ہی تو بتاتے نہیں ہو تم ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
نت نئے نقش بناتے ہو مٹادیتے ہو ۔۔
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو ۔۔
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی ۔۔
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو ۔۔
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے ۔۔
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو ۔۔
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی ۔۔
طور ہی پر تجلی سے جلا دیتے ہو ۔۔
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل۔۔
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو ۔۔
چاہے کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعان ۔۔
 نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو ۔
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں ۔۔
آخرکار شاہ مصر بنا دیتے ہو ۔۔
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی ۔۔
بیٹھ کر دل میں ان الحق کی صدا دیتے ہو ۔۔
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اُس پر ۔
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھادیتے ہو ۔۔
اپنی ہستی ہی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے ۔۔
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو ۔۔
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تن کر ۔۔
تم اسے جھنگ کے بیلے میں رُلادیتے ہو ۔۔
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی ۔۔
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنادیتے ہو ۔۔
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے ۔۔
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو ۔۔
سوہنی اگر تم کو مہیوال تصور کر لے ۔
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہادیتے ہو ۔۔
خُد جو چاہو تو سر عرش بُلا کر محبوب ۔۔
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو ۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔
تم اک گورکھ دھندہ ہو ۔۔
ناز خیالوی ۔