افسانہ : “تھوک”..

تحریر : محمد انس حنیف.

“ماشااللہ شفیق بھائی آج تو بڑے خوش نظر آرہے ہو کیا بات ہے؟”
میں واقعی بہت خوش تھا اتنا خوش کہ خوشی میری آنکھوں سے چھلک رہی تھی اسی لئیے تو آپا عظمیٰ نے فورا بھانپ لیا تھا،برسوں کا ساتھ تھا آپا عظمیٰ کا اور میرا،سالوں سے میں اُن کے کپڑے سی رہا تھا،دُکھ سُکھ ہر چیز کی خبر تھی انہیں،میری بیوی کو انہوں نے چھوٹی بہن بنایا ہوا تھا اور پھر میری بیوی کی موت کے بعد بھی وہ اس رشتے کو نبھا رہی تھیں،اس وقت وہ میری دوکان پہ اپنے سلے ہوئے کپڑے لینے آئی تھیں-
“بس آپا آج مجھے میرے خوابوں کی تعبیر ملنی شروع ہوگئی ہے،میٹرک کا رزلٹ آیا ہے نا،اور جنت بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی ہے جی”
جنت میری پندرہ سالہ بیٹی کا نام ہے جومجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہے،میری بیوی جنت کی پیدائش کے دو سال بعد ہی وفات پاگئی تھی اور ٹھیک تب سے جنت کو میں نے ہی ماں اور باپ بن کر پالا ہے،میں چاہتا تو دوسری شادی کرسکتا تھا لیکن میں نے اپنے بہن بھائیوں کجے سمجھانے کے اور اپنے دل کی خواہش ہونے کے باوجود دوسری شادی نہیں کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ مجھے دوسری بیوی تو مل جائے گی لیکن جنت کو ماں نہیں مل سکے گی.ہم دونوں ہی ایک دوسرے کیلئے سب کچھ تھے،وہ میری کُل کائنات تھی .
“ماشاللّہ بہت محنتی بچی ہے،جب کبھی تمہارے گھر جاوْں کتاب لیکر بیٹھی ہوتی ہے،اُسے تو پڑھائی سے عشق ہے بھئی”
آپاعظمٰی کی بات پہ میرا دل اندر تک خوش ہو گیا تھا-
“بس باجی دعا کریں Fsc میں بھی میری جنت ایسے ہی کامیاب ہو”،میں نے سلائی شدہ کپڑے شاپر میں ڈالتے ہوئے کہا-
“ہاں ہاں کیوں نہیں،انشا اللّٰہ تمہارے خواب ضرور پورے ہوں گے’تم نے محنت بھی تو بہت کی ہے اپنی بیٹی کیلئے ،بہت کم مرد اپنی اولاد کیلئےایسی قربانی دیتے ہیں”وہ اپنے کپڑوں والا شاپر پکڑ کر کہتے ہوئے چلےگئیں.
انکے جاتے ہی میں جلدی جلدی دوکان میں بکھرے ہوئے کپڑے سمیٹنے لگاتھا،آج میرا ارادہ جلدی گھر پہنچنے کا تھا،آج میں اپنی بیٹی کی کامیابی کی پہلی سیڑھی عبور کرنے کی خوشی میں جنت کو شاپنگ کروانا چاہتا تھا اور پھررات کھانا بھی ہم نے باہر ہی کھانا تھا،جنت کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں تھیں جو میرے لئے زندگی کا مقصد تھیں. میری اپنے محلے میں گھر کے پاس ہی ایک ٹیلر شاپ تھی،میں صبح سے شام تک شاپ پہ رہتا ، بعض دفعہ ٹائم ملنے پر گھر چگر لگ جاتااورمغرب کے بعد میری کوشش ہوتی کے میں جلد از جلد گھر پہنچ جاوْں لیکن پھر بھی دیر سویر ہو ہی جاتی تھی مگر آج تو بات دوسری تھی نا لہذاٰمیں جلدی سے دوکان بند کرکے گھر کی طرف چل پڑا-
میں جانتا تھا جنت میرا انتظار کر رہی ہو گی-جنت اور میں صبح ایک ساتھ ہی گھر سے نکلتے تھے۔ میں دوکان پہ آ جاتا اور وہ سکول اور پھر گھر آ کر وہ میرا انتظار کرتی رہتی.
جس وقت میں گھر کے دروازے پہ پہنچا شام کے سائے پھیلنے لگے تھے،مجھے حیرت ہوئی کہ آج دروازے پہ لگا بلب روشن نہیں تھا،جنت تو ہمیشہ مغرب کی اذان سے پہلے ہی بلب روشن کر دیتی ہے پھر آج،،،،،،،،،؟؟
میں نے آگے بڑھ کر دروازے پہ دستک دی،جنت ہمیشہ میری پہلی ہی دستک پہ دروازہ کھول دیتی ہے جیسے وہ میری ہی دستک کی منتظر ہو…
اور آج …
پہلی دستک ..
دوسری دستک..
اور پھر کئی بار دستک..
مگر دروازہ نہیں کھلا تھا’میرے ذہن میں مختلف وسوسے جنم لینا شروع ہو گئےمیں بے چینی اور بے قراری سے کتنی ہی دیر دروازہ پیٹتا رہا اور جب میں تھک ہار کر زمین پہ گِرنے ہی والا تھا تب جنت نے دروازہ کھول دیا تھا۔
جنت کی طرف دیکھتے ہی جیسے میری پیروں تلے سے زمین کھسک گئی، اُسکی آنکھیں بُری طرح سوجی ہوئیں تھیں جیسے وہ کافی دیر سے روتی رہی ہو-
“کیا ہوا جنت؟” میں نے گھر داخل ہوتے ہی بے تابی سے کہا-
جنت کوئی جواب دیے بغیر چلتے ہوئے صحن میں آگئی-میں بھی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا ہوااُسکےپیچھے آ گیا تھا-
“جنت میری جان کیا ہوا کیوں رو رہی ہو” میں نے اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
جنت یکدم بلکنا شروح ہو گئی
“ابو ۰۰۰۰ابو” جنت نے روتے ہوئے کہا’ میں نے اُسے اپنے سینے سے لگا لیا وہ کتنی ہی دیر یونہی روتی رہی-اور پھر دھیرے دھیرے وہ اپنے رونے کی وجہ بتانا شروع ہو گئی-
جیسے جیسے وہ بتا رہی ویسے میرے پاوں زمین کے اندر دھنسنے لگے تھے،میرا جسم کانپنا شروع ہو گیا-بات ہی کچھ ایسی تھی
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے سب میری وجہ سے ہوا ہو، جنت جو بتا رہی تھی اُس میں میرا کوئی ذکر نہیں تھا مگر پھر بھی مجھے لگ رہا تھا کہ جنت کے آنسووْں کی وجہ میں ہی ہوں۔
جیسے یہ آنسو میرے ہی اعمال کا عکس ہوں…
جنت کے الفاظ نے مجھے میرا وہ عمل یاد دلادیا تھا جو گناہ کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور جو مجھے کبھی گناہ لگا ہی نہیں تھا-
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میں اُن دنوں بیس سال کا نوجوان تھا،والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے میں مکمل طور پر بگڑ چکا تھا- تاش کھیلنا، فضول گھومنا اور آتی جاتی لڑکیوں کو دیکھنا میرے پسندیدہ مشاغل تھے اور میرے دوستوں کو مجھ پہ کافی فخر تھا کہ میں جس لڑکی کو مرضی راستے میں کھڑا کر کے اُس سے بات کر سکتا تھا-
اُنہی دنوں یوں ہی گلیوں میں گھومتے ہوئے میرے نظر ایک لڑکی پہ پڑی، اپنے سر کو چادر سے اچھی طرح ڈھانپے، نظریں جھکائے وہ سامنے سے آ رہی تھی۔اُسکے کندھے پہ سکول بیگ تھا،جب وہ میرے قریب سے گزرنے لگی تو میں نے اُسکا راستہ روک لیا.
“ہیلو کہاں جا رہی ہو بات تو سنتی جاوْ”..مگر وہ میری بات کا جواب دیے بغیر چپ چاپ گزر گئی-
اِس سے پہلے میں نے جتنی لڑکیوں کا راستہ روکا تھا وہ شروع میں اسی طرح چپ چاپ گزر جاتیں، مگر میری تھوڑی سی کوششش کے بعد وہ مجھ سے بات کرنا شروع ہو جاتیں،پھر آہستہ آہستہ انہیں مجھ سے محبت بھی ہوجاتی اورمیں اُن کی اس محبت کی وجہ سے اپنے دوستوں میں راجہ اندر بن کر اتراتا تھا.
مگر..
اِس دفعہ معاملہ الگ تھا..
میری لاکھ کوششش کے باوجود بھی وہ لڑکی ہر روز میری کسی بات کا جواب دیے بغیر بغیر گزر جاتی،ایسا پہلی دفعہ ہو رہا تھا اور یہ میرے لئیے کافی ہتک آمیز بات تھی..
میں نے اُس سے دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر لیا،اور ایک دن جب وہ حسب معمول وہاں سے گزر رہی تھی تو میں نے اُسکا راستہ روک لیاتھا.
“میں تم سے روزانہ بات کرتا ہوں مگر تم کوئی جواب ہی نہیں دیتی” میں نے رعب دار آواز میں کہا مگر میری بات کا کوئی جواب دیے بغیر اُس نے وہاں سے جانا چاہا، میں نے غصے سے اُسکا بازو پکڑ لیا،میری اِس حرکت سے وہ یک دم گھبرا گئی اور مجھ سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی،اور اسی چکر میں اسکی چادر سر سے پھسل گئی،میرے کچھ دوست دلچسپی سے سارا منظر دیکھ رہے تھے-
“تم نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے جو روزانہ کوئی جواب دیے بغیر یہاں سے چلے جاتی ہو”.اپنی اس بے عزتی سے سے اُسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر وہ ابھی بھی خاموش تھی.
میں نے غصے سے اُسکے چہرے پہ تھوکتے ہوئے اُسکا بازو چھوڑ دیا’وہ تقریباً بھاگتے ہوئے وہاں سے چلے گئی،
“شاباش شفیق بھائی شاباش” میری اِس حرکت پہ مجھے دوستوں سے داد ملی، مجھے کافی دلی سکون محسوس ہوا تھا-
اگلے دن میں اُسی جگہ ُاسکا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہیں آئی تھی
اور پھر کئی دن گزر نے کے بعد بھی میں نے اُسے دوبارہ نہیں دیکھا تھا،میرے ایک دوست کے ذریعے مجھے پتا چلا تھا کہ وہ پڑھنا چھوڑ گئی ہے
اگلے کئی دن میں اُسکے بارے میں سوچتا رہا،مگر پھر آہستہ آہستہ میں اِس بات کو مکمل طور پر بھول گیا تھا
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اور آج جنت نے روتے ہوئے جو کہا اُس نے میرے پیروں تلے زمیں کھینچ لی تھی..
” ابوسکول سے واپسی پر ایک لڑکا روزانہ مجھے تنگ کرتا تھا،مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتا، اور میں روزانہ خاموشی سے گزر جاتی،مگر آج اُس نے میرا راستہ روک لیا اتنے لوگوں کے سامنے میرے سر سے چادر کھینچی اور۰۰۰۰۰۰اور میرے چہرے پہ تھوک دیا” میرا سانس جیسے رُک گیا تھا.
جنت میرے سینے سے چپکی کچھ اور بھی کہہ رہی تھی ،مگر مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا،مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اُسے کوئی دلاسا دے سکو
میری بیٹی کا چہرہ میرے لئیے کتنا معتبر تھا’اور میں کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ کوئی اس معتبر وجود پہ تھوکے
مگر
میں نے بھی تو
کسی کی بیٹی کے چہرے پہ تھوکا تھا
کسی کی بیٹی کو اسطرح رسوا کیا تھا
کسی کی بیٹی کا یوں تماشہ بنایا تھا-
“ابو میں نے نہیں پڑھنا ‘میں نہ سکول جاوْں گی نہ ہی ٹیوشن” جنت نے روتے ہوئے کہا
میں جواب میں کچھ نہیں کہ سکا تھا،ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی حساب تھا جو برابر ہوا تھا۔میں نے جنت کے مستقبل کے حوالے سے کتنے خواب دیکھے تھے مگر اب میں جانتا تھا کہ وہ کبھی سکول نہیں جائے گی.
وہ اس قدر ہی حساس ہے،ایک دفعہ جو خوف اُسکے ذہن میں بیٹھ جاتا وہ پھر کبھی نہ نکلتا-
جنت کی تعلیم کے حوالے سے دیکھے گئے خواب ٹھیک اُسی طرح چکنا چور ہوئے تھے’جیسے میں نے کسی کے خواب چکنا چور کئے تھے-
انسان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی سامنےضرور آتی ہے اور میری یہ غلطی بہت برے طریقے سے سامنے آئی تھی-
اُس وقت وہ سب کرتے میں نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ سب میرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے
میری بہن یا میری بیٹی کے ساتھ
کسی کی بہن یا بیٹی کا تماشہ بناتے وقت کبھی کوئی اپنی بہن یا بیٹی کے بارے میں نہیں سوچتا کہ اُسکا بھی تماشہ بن سکتا ہے
آج نہیں تو کل۰۰۰۰۰۰۰۰
آخر کوئی کتنی دیر تک بچ سکتا ہے؟؟؟
جو کبھی میں نے کیا تھا وہ آج میری ساتھ ہوا تھا
ایک غلطی جسے میں نے کبھی غلطی سمجھا ہی نہیں تھا اور اب جب میں نے اپنی بیٹی کو دیکھنا تھا تب ہی مجھے اپنی غلطی یاد آنا تھی۔
کیسی سزا کا انتخاب ہوا تھا،قدرت نے واقعی ہی انصاف کر دیا تھا،میرا ہی “تھوک” واپس میرے منہ پر ہی آ پڑا تھا..