افسانچہ “حقیقت اور روشن خیالی”۔

چار دوست اکھٹے سفر کر رہے تھے۔ ابھی تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ کھیتوں سے تیتر کے بولنے کی آواز آئی۔ تو ایک دوست نے کہا۔ بہت خوب کس قدر صاف لہجے مین “سبحان تیری قدرت” الاپ رہا ہے۔ دوسرے دوست نے کہا کہ جانور عربی دان تھوڑی ہے۔یہ تو اصل میں اپنے ملک کے بزرگوں کے نام پکارتا ہے یعنی “رام، لچھن ، سرت” ان سفری دوستوں میں تیسرا ساتھی پہلوان تھا وہ بولا یہ جانور تو در حقیقت طاقت کا راز بتا رہا ہے ۔ یعنی “کھا گھی کر کسرت” چوتھا دوست دوکاندار تھا ۔ اس نے کہا ۔ تم سب غلطی پر ہو اصل میں یہ جانور تو یوں کہہ رہا ہے۔ “لون تیل ادرک” یعنی جن چیزوں سے دنیا میں انسان کا واسطہ رہتا ہے ۔

نتیجہ یہ کہ دنیا میں ہر ایک شخص اپنے آپ کو روشن خیال تصور کرتا ہے لیکن حقیقت کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں۔