افسانچہ : “داغ زندگی”.

تحریر : عالیہ چودھری

حقیقت اپنے آئینے کو اٹھائے انسانوں کی خواہشوں کے سامنے پھرتی رہے تب بھی ہر شخص اس میں اپنے عکس کو دیکھنے سے کتراتا ہے۔ فریب کی لذت ہی چاہ کو تسکین دیتی ہے۔ جوگی کا جوگ زندگی کی کئی آزمائشوں سے مبرا بھی ہوتا۔ وقت انسان اور حقیقت کا تعین کرتا ہے،انسانی خوابوں میں چھپے سراب کا نہیں۔
اور وہ اس سراب سے نکل آئی تھی اس لیے نہیں کہ محبت میں وہ رونا نہیں تھی چاہتی بلکہ اس لیے کہ وہ اس سے آگے کے سفر سے آشنا ہو چکی تھی۔دریا کنارے بیٹھی وہ پانی کی چمک کے دھوکے میں نہیں تھی آئی،اس کی نظر پانی کے سفر پہ تھی جو اسے ختم ہوتے ہوئے ،کہیں رکتے ہوئے نظر نہیں آیا۔ خواہشوں کا سفر بھی ایسے ہی چلتا ہےجس میں جو ایک دفعہ غوطہ زن ہو جائے وہ پھر باہر تبھی نکل سکتا ہے جسے ڈوب جانے کے بعد اپنے جسم کی پامالی کا ڈر ہو۔ راستہ جو اصل ہو قیام وہیں رکھنا چاہیے۔ ورنہ بھٹکے ہوؤں کے وجود ہمیشہ سطح آب پہ تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

زندگی میں ساتھ بڑی راحت دیتا ہے۔کتنا طمانیت بخش یہ احساس ہے کہ کوئی آپ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پرندہ اکیلے اڑان بھرے پھرمنظر خوبصورت نہیں لگتا،نظریں سب پرندے پہ ہی ٹکی رہتی ہیں۔مگر جب پرندے اکھٹے اڑان بھرتے نظر آئیں تو نظریں ساکت ہو کر رہ جاتی ہیں۔ منظر نظر کی قید میں آجاتا ہے۔ ایک مقناطیسیت ہوتی ہے جو اپنی طرف کھینچے چلی جاتی ہے۔ کائنات ایسے میں اس ساتھ کو اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔ آسمان کی نیلاہٹ سے،درختوں کے سائباں سے،آوازوں کے ساز سے۔۔۔اس جڑے رہنے میں بڑی کشش ہوتی ہے۔یہ راستے میں موجود دکھوں کی چٹانوں کو توڑ سکتا،یہ دکھ کو خوشی کی چادر اڑھا سکتا ہے۔
مگر جہاں کھوٹ آ جائے وہاں رشتے جڑے رہ سکتے ہیں کیا? … جہاں محبتیں لٹا دی جائیں اور حصّے میں اذیتیں آ جائیں ….وہاں?.
پانی میں اپنے عکس کو دیکھتی وہ یہی سوچ رہی تھی۔” اپنے وجود میں ہم دوسروں کی جھلک کو کیوں ڈھونڈتے ہیں”۔اس نے اپنے ہاتھوں سے پانی میں نظر آتے اپنے عکس کو مٹانا چاہا۔ جہاں چہرہ پرتوں میں دھندلا گیا تھا۔ مگر اصل کو بھی کبھی کوئی مٹا سکا ہے۔

ہم ایسے ہی تو محبت کا پانی خود پہ چڑھا دیتے ہیں کہ دیکھنے پر بھی خود کو دیکھ نہیں سکتے،چھو نہیں سکتے۔ اور پھر پانی کا رنگ اتر جاتا ہے…. دربدرہونا لکھ دیا جاتا ہے… مریضِ عشق کی شفا ڈھونڈنے ہم نکل پڑتے ہیں۔ دعا میں ، دوا میں ، چہروں کے آگے سوالی بن کر، درودیوار میں ، درگاہوں میں۔ محبت کی کسک کو بھی کھرچتے ہیں کہ خود کو زخمی کر دیتے۔

بھلا جو جنون زنگ آلود کر دے اس کو اتارنا آسان ہوتا ہے.. . یہ کسک ایسے نہیں ختم ہوتی،اس کے لیے وضو شرط ہے…عشقِ حقیقی کا وضو ہی اس داغ کو دھو سکتا ہے۔ یہاں داخلے سے پہلے اپنی ذات کے بنائے گئے بتوں کو پاش کرنا پڑتا ہے۔ ان کی نفی کر کے ہی وحدانیت کی گواہی دی جا سکتی۔ یہ وضو محبت کے احساس میں ایک سجدہ ہی کروا کے آپ کو معتبر کروا دیتا ہے۔ آپ کے دل کو آزاد کر دیتا ، اس داغ کو دھو دیتا ہے جس کو اپنے وجود پہ لگا محسوس کرتے ہوئے آپ اپنے قدموں میں خود ہی جھک جاتے ہیں۔
یہ سفر اس نے بھی طے کیا تھا… آسمان کی طرف اٹھی اس کی نگاہ میں عشقِ حقیقی کی رمز موجود تھی۔ آج بھی محبت کا پانی اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔مگر اب دل اس راہ پہ چلنے سے گریزاں تھا جو خوبصورت تو ہو پر اذیت اور ذلت جس کی تہہ میں چھپی ہو۔