“دھند”۔۔a treat to watch.

تحریر و تبصرہ : محمد یاسر۔
پاکستان میں ڈرامے کی حد تک (خیر فلموں میں بھی) مسٹری اور تھرلر پر مبنی کہانیوں کو رچانے کی کوششیں خال خال ہی ہوئی ہیں،پی ٹی وی کے دور عروج میں یہ خلاء انگریزی سیریز سے پُر کیا جاتا تھا پھر نوے کے عشرے میں پاکستان کے سب سے پہلے نجی چینل NTM نے جہاں تفریحی پروگرامز کے حوالے سے نت نئے تجربات کئے وہیں “مسٹری تھیٹر” کے نام سے ایک سیریز بھی شروع کی،اُس دور کے بچے (آج کے جوان و بوڑھے) یقینا “مسٹری تھیٹر” کو بھولے نہ ہوں گے،نت نئی اچھوتی کہانیاں جو نامساعد حالات اور technical سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود Hollywood کے طرز پر بنا کر پیش کی گئیں اور جنہیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی،پھر پاکستان میں نجی چینل ز کا سیلاب در آیا مگر دس بارہ سالوں میں مسٹری،ہارر اور تھرلر کہانیوں پر مبنی کھیلوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہی رہی، ایسے میں “دُھند” سامنے آیا اور دلچسپ اتفاق کہیئے کہ”دُھند” کے تخلیق کار بھی وہی سید محمد احمد ہیں جنہوں “مسٹری تھیٹر” کیا تھا،”دھُند” تقریبا چھے ماہ سکرین کی زینت بنا رہا۔

اس سیریل/سیریز نے Ratings کے اعتبار سے تو شائد کوئی معرکہ نہیں مارا (جس کا سارا دوش اُس Taste کو جاتا ہے جو اس قوم کا خاصا بگڑ چُکا ہے اور کُچھ چینل نے بھی خاص تشہیر سے اجتناب برتا) لیکن اس سیرل کے اختتام سے قبل ہی دو مزید ہارر و تھرلر سیریلز “دلنواز” اور “بیلا پُور کی ڈائن” ٹی وی اسکرین ز کی زینت بن چکے ہیں،مزید پر کام جاری ہے جو آنے والے چند مہینوں میں نشر ہوں گے،اس طرح واضح طور پر “دُھند” موجود دور کا Game changer ثابت ہوتا ہے۔
“دُھند” کئی حوالوں سے ایک مختلف کہانی ثابت ہوئی نہ صرف کہانی کہنے کے ڈھنگ اور تکنیک کے اعتبار سے بلکہ کرداروں کی بُنت، واقعات کے تسلسل کے لحاظ سے بھی،کہانی کے مرکزی track کے ساتھ آ کر جڑنے والی کئی دوسری چھوٹی چھوٹی کہانیاں کہ وہ زبردستی کی dosage نہ لگیں اور مرکزی کہانی کے ساتھ باہم مل جائیں،مبہم مگر واضح بات، پہیلی در پہیلی الجھنیں،پرت در پرت characters “دھند” کو مختلف ثابت کرتے ہیں،منطق جسے پاکستانی ڈرامے میں  زبردستی “موت” دینے کی کوشش گزرتے سالوں میں کُچھ ڈائجسٹ رائٹرز نے بڑی محنت و محبت سے کی تھی اور جس نے ڈرامے سے زیادہ دیکھنے والوں کے Taste کو نقصان پہنچایا،”دُھند” اس مدفن ڈرامے کے پیراہن کو واپس لے کر آتا دکھائی دیتا ہے۔

روحیں،روحوں کا اس طبعی و فانی دُنیا سے تعلق ہمیشہ سے انسانی تجسس و کھوج کا پسندیدہ موضوع رہا ہے،نت نئی سائنسی تحقیقات و ماہر عملیات و تجلیات سر توڑ کوششوں کے باوجود اس سربستہ راز کا سراغ پانے میں ناکام رہے ہیں، “دُھند” خصوصیت سے اس موضوع پر روشنی ڈالتا ہے،ہر انسان ہی کبھی نہ کبھی زندگی میں اُس مقام سے ضرور گزرتا ہے جب کسی خواب میں،کبھی جیتے جاگتے وہ اپنے کسی پیارے کی روح کو مجسم حالت میں اگر نہ بھی دیکھ سکے مگر وہ اُن کی موجودگی محسوس ضرور کرتا ہے،وہ اُن اشاروں کو سمجھنے میں ہلکان ضرور ہوتا ہے جو “اُس” دُنیا میں جاکر بھی اُسے دئیے جارہے ہوتے ہیں،کُچھ ادھوری باتیں، کُچھ ان کہی جو اُن روحوں کو زمین والوں سے بار بار رابطہ کرنے اور رکھنے پر مجبور کرتی ہیں،”دھند” اس کے ساتھ ہی انسان کی گجلنگ نفسیاتی پرتوں کا بھی بہت خوبصورتی سے احاطہ کرتا ہے۔

“دُھند” میں بھٹکتی رُوحوں کے سفر،اُن کی زندگیوں اور اُن کی فانی زندگیوں کے Previous circumstances کو بہت وضاحت کے ساتھ مثبت انداز میں پیش کیا گیا۔
بھٹکتی روحوں کو عموما ہمیشہ ہی بحیثیت بھوت پریت کے  کہانیوں کا حصہ بنا کر ہارر پیدا کیا جاتا ہے،بے ہنگم  ہیئت و صورتوں والی خوفناک آوازوں والی روحیں جو عالم ارواح کا حصہ بننے کے بجائے زمین پر انسانوں کی زندگیاں حرام کرتی ہیں،انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہیں،عقل کی کسوٹی پر پرکھے انسان اس حرکت کو تو عقل پر ماتم کرنے کو ہی دل چاہے کہ ایک بھٹکتی روح اپنی نیلی لال بتیوں جیسی جگمگاتی آنکھوں کے زور سے ایک اچھے بھلے انسان کو عجیب و غریب مار کُٹائی کے بعد اپنے “قبیلے” میں شامل کرکے circle of destruction کو تسلسل سے قائم رکھتی ہیں،یہ کام بدروحوں کا ہے،عام انسانی روحیں ایسی نہیں ہوا کرتیں لیکن “دُھند” میں ایسا کوئی بعید از عقل اور مافوق الفطرت فعل نہیں ہے۔

“دُھند” ایک عقلمندی سے سوچا ہوا،دلیل و منطق کے تال میل سے لکھا ہوا سکرپٹ ہے،سنسنی خیزی اور مسٹری دروازوں کے خود بہ خود بند ہوجانے،کھڑکیوں کے بجنے،پانی کے قطروں کے آپ ہی آپ ٹپ ٹپ کرنے اور اسی قسم کی “اثرات” سے پیدا کرنے کی کوئی بے تُکی حرکت “دُھند” میں نہیں ملتی،گو تقریبا یہ سارے ہی لوازمات “دُھند” میں بھی ہیں مگر وہی جُزو کہ جسے “منطق” کہتے ہیں کوملحوظ رکھا گیا،یہی نہیں مذہبی نقطہ نظر کو کسی طور نظر انداز کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جس نے “دھُند” میں پیش کئے جانے والے واقعات کو مزید قابل قبول بنادیا،” دُھند” زندہ انسانوں کی مشکلات و مسائل کو گزرجانے والوں کی پچھلی زندگی کے مصائب و حالات کے ساتھ ہم آہنگ کرکے پیش کرتا ہے اور یہ آسان کام نہیں ہے۔

“دُھند” کی کہانی ماریہ (ماریہ واسطی) سے شروع ہوتی ہے جو اپنے دو ملازموں نسرین (بتول زہرہ) اور ستار (ذیشان لیاقت) کے ساتھ اپنے نانا نانی کے گھر میں رہتی ہے،اُسے visions آتے ہیں،اُسے روحیں دکھائی دیتی ہیں اور وہ اُن سے ہمکلام بھی ہوسکتی ہے،ماریہ کے نانا سید (سید محمد احمد) وفات پا چُکے ہیں مگر ماریہ جس جذباتی trauma سے گزر رہی ہے اُس phase میں اُس کی مدد کے خیال سے وہ اُس کے ساتھ کھڑے ہیں،تسلی کیلئے، ہمدردی کیلئے،مشوروں اور حفاظت کیلئے،ماریہ کا بیٹا (فواد) لاپتا ہے جسے اُس کا شوہرعمران (اعجاز اسلم) کہیں لے کر روپوش ہے،ماریہ اپنی طاقت کا استعمال کرنا نہیں چاہتی مگر وہ اپنا بیٹا بھی حاصل کرنا چاہتی ہے،اُسے یقین ہے کہ عمران اور فواد زندہ ہیں کیونکہ اگر وہ مر چُکے ہوتے تو وہ اُسے دکھائی دیتے، انسپیکٹر عذیر (حسان احمد) ماریہ کی خصوصیات کے باعث اُس کی خدمات کُچھ Cases کو حل کرنے کیلئے حاصل کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرواتا ہے کہ وہ فواد کو اُس کی زندگی میں واپس لانے کیلئے ہر ممکنہ مدد کرے گا،انسپیکٹر عذیر ماریہ سے متاثر ہے اور اُسے شریک سفر بنانا چاہتا ہے۔

“دُھند” کی سب سے مزے دار بات یہی رہی کہ کہانی کے مذکورہ بالا track کے ساتھ دوسری کہانیاں ہر قسط میں جُڑتی گئیں،بُنیادی کہانی کو بگاڑے اور توڑے مروڑے بغیر اس کہانی کے ساتھ ہی کئی دوسری کہانیاں کہنے،پیش کرنے کا ڈھنگ پاکستانی ڈرامے کی حد تک نیا ضرور کہا جاسکتا ہے اور شائد مشکل بھی اور ہر کہانی “درد سے زنجیر” کے تعلق کو بیان کرتی ہے،ہر بھٹکتی روح “بدروح” نہیں ہے،ہر روح کی اپنی ایک کہانی ہے،ایک آپ بیتی ہے،previous circumstances کا ایک بوجھ ہے جس نے اُسے بوجھل و بے آرام کررکھا ہے اور ایسی ہر روح کے ذریعے Social comment دیا گیا ہے،جیسے کہ،
جنگ و جدل میں اپنی عزتیں بچانے کی غرض سے موت کو لگے لگانے والی عورت،اپنے باپ کو کھودینے والی بیٹی جو باپ کی ناگہانی موت کیلئے اپنی ماں کو قصور وار ٹھہراتی ہے اور جس کی تڑپ باپ کی روح کو بے قرار رکھتی ہے،ہندو و مسلم کا وہ دُکھ جو محبت کے جُرم پر موت کے سزاوار قرار دئیے گئے اوف جو حیران ہیں اس بات پر غیر مذہب تو چھوڑو یہاں تو ایک مذہب کے دو مختلف فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کی جان لے رہے ہیں،ایک بے حد محبت کرنے والے شوہر کی روح جو مرنے کے بعد اس بات پر غمزدہ ہے کہ اُس کی موت نے اُس کی بیوی کو تنہا کردیا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی اُس کی بیوی کو دھوکہ نہ دے،ایک ایسی لڑکی جو identity crisis کا شکار ہے اور جو جاننا چاہتی ہے کہ اُس کے ماں باپ کہاں ہیں اور اُس لڑکی کی ماں مرنے کے بعد اس بات پر شرمندہ ہے کہ اُس نے روٹی کے پیچھے اپنی پیاری بیٹی کا چند روپوں کے عیوض اُس کے بچپن میں ہی سودا کردیتی ہے،ایک مرد جو اپنی زندگی میں اپنے خونی رشتوں کے باوجود تنہائی کا شکار تھا اور مرجانے کے بعد بھی اُس کرسی سے منسلک رہا جس پر اُس کی موت واقع ہوئی تھی،

ایک رقاصہ جسے غیرت کے نام پر قتل کرنے والے باپ اور بھائی اُس کے نام کی دولت کو ہتھیانا چاہتے ہیں،ایک سپاہی کے خط کا انتظار کرنے والی ماں جس کی موت مکان کو گرانے سے بچانے کی کوششوں میں ہوجاتی ہے اور جس کی روح ابھی تک اپنے بیٹے کی چٹھی کا انتظار کررہی ہے،ایک بچے کی روح جو اپنی ماں کو اس گلٹ سے نکالنا چاہتا ہے کہ اُس کی جان اُس کی ماں کی بے پروائی کے ہاتھوں ہوئی،ایک بے حد محبت کرنے والی عورت جس نے اپنے شوہر کو اُس کی بدکرداری کے باعث زہریلی کافی پلا کر مار ڈالا،ایک اداکار کی پرستار لڑکی جس نے اپنے محبوب اداکار کی محبت میں ناکامی پر خودکشی کرلی اور جس کی روح اب بھی سمندر کے اُسی کنارے پر بھٹک رہی ہے جہاں وہ ڈوبی تھی جیسی سلگھتے سوال اٹھاتی کہانیوں کو عمدگی سے پیش کیا گیا۔

ماضی کی غلطیوں،ماضی میں ہونے والی غلط فہمیوں کے بھینٹ چڑھ جانے والے حال،کرپشن،لالچ،ہوس،ضد،Social media harassment  “دھند” کے اجزائے خاص رہے،حالانکہ تقریبا ہر کہانی میں ہی یہ تمام مسالے شامل ہوتے ہیں لیکن “دُھند” میں احمد صاحب نے کسی بھی مخصوص طبقہ فکر کی نمائندگی کرنے سے اجتناب برتا،کسی بھی مقام پر کہانی کسی تعصب کا شکار نہیں ہوتی،”دُھند” بس اتنا کرتا ہے کہ ہر کہانی کو مختلف پہلوئوں سے سوالیہ انداز میں بیان کرتا ہے،پھیلاتا ہے اور پھر اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے ان سوالوں کا جواب دیتا جاتا ہے،کہیں کوئی گرہ ہے جو کھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے،food for thought کا process فعال انداز میں چلتا جاتا ہے۔

سید محمد احمد کے انداز تحریر کے بارے میں بات کرنا خاصا مشکل کام ہے،وہ جب جب لکھتے ہیں کمال لکھتے ہیں،برجستہ و ٹھک کرکے دل کو لگنے والا،”دھُند” جیسا کہ عرض کیاگیا کہ کئی حوالوں سے مشکل کہانی ہے لیکن اسے دیکھنے والوں کیلئے حلوہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی وگرنہ اس کا پُورا مزاج بدل سکتا تھا،ہر قسط میں مُکالمے بہت اعلی درجے کے ہیں،جو ادبی بھی ہیں اورعام فہم بھی،چونکاتے ہوئے بھی اور تیکھے بھی،مزاح کی چاشنی لئے ہوئے دل و دماغ پر مزے دار اثر بھی ڈالتے ہیں۔
“موت دکھائی دیتی ہے نہ خوشبو،صرف محسوس ہوتی ہے جیسے تمہیں ہوئی”.
“ایک قیامت سے دوسری قیامت کے درمیان وقفے کو شائد زندگی کہتے ہیں”۔
“یہ ہوں میں اندر سے,بکھرا اپنے کمرے کی طرح,ٹوٹا,گندا,Neglected “۔
یہ وہ چند مکالمے ہیں جنہوں نے کئی ہفتوں تک مجھے اپنے سحر میں رکھا۔
البتہ البتہ البتہ۔۔۔
ارجمند کا عمران کی زندگی میں کیا کردار تھا،ارجمند کی بیٹی کے ساتھ عمران نے جو کُچھ کیا کیوں کیا؟،عمران یکدم اچانک کیوں غائب ہوگیا جیسے بڑے اور اہم سوال ادھورے ہی رہ گئے۔

ماریہ واسطی اُن گنی چُنی فنکاروں میں سے ایک ہیں جن کو کردار کی ادائیگی،مکالموں کی ادائیگی پر عبور حاصل ہے لیکن “دُھند” سے قبل انہیں مسلسل کمزور اور بے تُکے کرداروں میں لے کر انہیں ضائع کیا جارہا تھا،ماریہ نے “دُھند” میں خود کو جس طرح پیش کیا،ایک مشکل و پیچیدہ کردار کو جس ease کے ساتھ ادا کیا کہ بیک وقت وہ ایک مضبوط اعصاب کی عورت بھی دکھائی دی اور ساتھ ہی اُس کی آنکھوں کا کرب بھی واضح دکھائی دیا،مکالموں کی ادائیگی میں ماریہ نے اپنی برجستگی کا دامن نہیں چھوڑا،حسان احمد کسی طور بھی متاثر نہ کرسکے حالانکہ پولیس آفیسر کے کردار میں وہ جچے ضرور لیکن کردار نگاری۔۔۔؟۔۔زاہدہ بتول اس سیریل کی real queen ثابت ہوتی ہیں،کمال کمال کمال۔۔۔ہر لحاظ سے بہترین کردار نگاری،عمدہ comic timing,لاجواب انداز میں مکالموں کی ادائیگی کہیں کسی بھی منظر میں وہ loud نہیں ہوئی،ستار کے کردار میں ذیشان لیاقت بھی اچھے لگے رہ گئے نانا سید۔۔تو وہ تو بس love ہیں۔
نک چڑھے،غصہ ور مگر دل کے شہد۔
مرینہ خان،نعمان مسعود،ثانیہ سعید،شمعون عباسی،نمرہ بُچا،اسد قریشی،ثناء عسکری،سویرا ندیم،سلمیٰ حسن، کرسٹینا ڈیوڈ،الماس فدائی،ژالے سرحدی،انجلین ملک،سعد قریشی اور باقی چھوٹے بڑے کردار ادا کرنے والے فنکار اپنے اپنے کھیلوں میں اچھا۔۔۔بہت اچھا تاثر چھوڑ گئے خاص طور پر مرینہ خان،نمرہ بُچا،سلمیٰ حسن اور سویرا ندیم۔

تکنیک کے اعتبار سے “دُھند” حیران کرتا ہے،Vfx کے اس دور میں مسٹری اور تھرلر کو organic طریقے سے پیش کرنا آج کے دور حقیقی آرٹ ہے،کیمرہ ورک “دُھند” کا نہایت شاندار رہا،تمام تر جزئیات و حساسیت کے ساتھ مناظر کو فلم بند کرنا اور کمال ایڈیٹنگ کے ذریعے اُسے eye’s delight بنا دینا “دُھند” پر ختم ہے،اس کے علاوہ آرٹ کے ہی شعبے میں aesthetics کا بھرپور خیال رکھنا،اینگلز،شاٹس،props,لائٹنگ ہر چیز کے پیچھے لگن و محنت کے ساتھ ساتھ director اور آرٹ ڈائریکٹر کا اعلیٰ aesthetic sense بھی جھلکتا ہے۔

ہدایتکاری کیلئے فیض یقینا یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے چند مشکل اور متنازعہ چیزوں کو بھی اس کمال طریقے سے execute کیا کہ وہ بہت گراں اور بھدی نہیں لگیں،تلخ حقائق پر اُن کی کتنی گہری نظر ہے یہ بھی ظاہر کردیا،پہلی کھیل سے آخری کھیل تک پورے سیزن میں انہوں نے تھیم اور treatment کو تسلسل میں رکھا،فنکاروں کے facial expressions کے ساتھ ساتھ body language اور مکالموں کی ادائیگی پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے حساسیت سے انہیں فوکس کیا۔
آخر میں صرف اتنا کہ ڈرامے میں ہر آن روتی ہوئی عورت،ہر لمحہ بے حیائی پر اترا ہوا مرد ہی اس معاشرے کا “چہرہ” نہیں ہیں جن کی قید میں پچھلے دس بارہ برسوں سے پاکستانی ڈرامہ ہے اور یقین کرلینا چاہیئے کہ ایسی کہانیاں و ڈرامے اب لوگوں کو صرف ہنسا رہے ہیں وہاں “دُھند” جیسا ڈرامہ “جی داری” کی ایک مثال ہے جو معاشرے کی روایات کو مرکز بناتے ہوئے ڈرامہ میکنگ کی “فرسودہ روایات” کو دھڑلے سے للکارتا ہے۔
نہیں دیکھا تو ضرور دیکھیں کہ یہ واقعی دیکھنے اور سمجھنے کی چیز ہے۔