رمضان کہانی “اوور ٹائم”

تحریر : محمد یاسر.

“آج؟”, اُس نے کسی قدر اچھنبے سے پوچھتے ہوئے کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا,شام کے سارھے پانچ بج رہے تھے.
“کیوں ممکن نہیں ہے؟”،اُس نے بے حد عجیب لہجے میں پوچھا تھا .
“کیسی باتیں کررہی ہو کیسے ممکن نہیں ہے ؟،ٹھیک ہے تم پہنچ جانا میں ساڑھے آٹھ تک آجائوں گا”, وہ فوری طور پر فیصلے پر پہنچتے ہوئے بولا تھا.
وہ جواباکچھ نہ بولی,وہ آج بھی اُسے مسلسل حیران کررہی تھی.
“کیا ہوا ؟،کوئی اور بات بھی ہے ؟”,اُسے محسوس ہوا تھا کہ جیسے وہ کچھ کہتے ہوئے جھجھک رہی ہے حالانکہ اُن دونوں کے تعلق میں جھجھک, ہچکچاہٹ,لحاظ اور شرم جیسی چیزوں کی تو گنجائش ہی نہیں تھی.
“کیا آپ مجھے سٹاپ سے پک کرلیں گے؟”،چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولی تھی,اُس کا لہجہ اس بار بھی عجیب ہی تھا۔
“ٹھیک ہے میں کرلوں گا یہ ایسی بات تو نہیں جس پر تمہیں اتنا سوچنا پڑے”, اس نے مُسکراتے ہوئےکہا اور پھر جگہ اور وقت طے کرکے کال منقطع کرنے کے بعد وہ اسی کے بارے میں سوچنے لگا.
آج سے قبل وہی اُس سے رابطہ کرتا تھا جب بھی اُسے ضرورت محسوس ہوتی اور وہ ہمیشہ اُس کی طلب پر بناء کسی سوال کے آجایا کرتی تھی,وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے اُسے جانتا تھا اور اُسے یہ یاد کرنے کیلئے ڈیڑھ سیکنڈز بھی نہ لگے تھے کہ ان ڈیڑھ سالوں میں آج پہلی بار اُس نے خود اُس سے رابطہ کیا تھا,ایک جانب اُسے حیرانی ہورہی تھی تو دوسری جانب وہ عجیب سی سرور بھری خوشی بھی محسوس کررہاتھا.
وہ اول درجے کا عورت باز تھا,عورتوں کا رسیا,اُن پر جان دینے والا,اُن کی سنگت سے لطف حاصل کرنے والا,اُس کیلئے ہر عورت محض “عورت”نہیں ہوتی تھی کہ بس دیکھا,فدا ہوا,اُسے حاصل کرنے کیلئے پاپڑ بیلے اور دلچسپی ختم ہوتے ہی وہ پاپڑ چورا چور ہوئے ,اب وہ عورت جھولی بھر بھر گالیاں دیتی پھرے,پھر سے تجدید کی کوششیں کرتی پھرے, اپنی کوئی غلطی کوئی قصور پوچھ پوچھ ہارے اور وہ مجسم کٹھور بنا رہے,وہ بڑا مختلف سا مرد تھا, اُس کی نظر میں ہر عورت دوسری سے منفرد تھی ایک الگ ڈھنگ رکھتی تھی ایک علیحدہ تشخص کی حامل,ایک مختلف ذائقے کو پیش کرتی ہوئی,چنانچہ نخریلی,سادہ,مغرور ,پُروقار ,شوخ ,سنجیدہ,تیکھی, میٹھی,ماڈرن ہر مزاج کی عورت اُس کے دل کو لبھاتی تھی اور ہر ایک کے ساتھ ڈیل کرنے کا اُس کا طریقہ مختلف تھا,البتہ یہ ضروری تھا کہ جب تک کوئی عورت ازخود اُس میں دلچسپی یا اُس کیلئے پسندیدگی ظاہر نہ کرتی وہ بھی نظر الفت کسی عورت کی جانب نہ کرتا,وہ عورت کو “انسان” سمجھ کر اُس سے رفاقت و قربت کے لمحات سے سرور کشید کرتا تھا,اپنے قریبی دوستوں کی طرح وہ انہیں ٹشو پیپر ردی کاغذ یا پائوں کی جوتی نہیں سمجھتا تھا, حیرت کی بات تھی کہ کوئی کوٹھے کی شینا جان ہوتی یا بنگلے کی ماہین افتخار,کال گرل ہوتی یا گرل فرینڈ,وہ ان دونوں انتہائوں کی نمائندہ عورتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا تھا,دونوں میں سے کوئی کتنی ہی مدت خواہ ایک رات یا کئی مہینوں کیلئے اُس کی زندگی میں آتی وہ اُسے برابری کا درجہ دیتا,وہ اُس کی اوقات یاد دلانے اور اُسی میں رکھنے کی کوشش نہیں کرتا تھا نہ ہی ایسی کسی عورت کو بُری عورت کہتا وہ تو بلکہ اُن سے عزت سے احترام سے پیش آتا تھا,وہ عورت کے معاملے میں تعصب نہیں رکھتا تھا,وہ صاف کہتا تھا کہ یہ عورتیں ہی ہیں جو اُس کی “وحشت” کا بار اٹھا کر اُس کے ساتھ تعاون کرتی ہیں وگرنہ تو وہ اپنی ہی وحشت کے ہاتھوں ہلاک ہوچکا ہوتا, مرد کی وحشت جھیلنے کا ظرف اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے ہی سہی صرف عورت کے پاس ہی ہے, یہی وجہ تھی کہ کوئی بھی عورت اُس کی وقتی ساتھی بن کر خود کو عروج پر محسوس کرتی اور جب زوال کے دن دیکھتی تو بناء کسی دکھ و غم و غصے کا شکار ہوکر دیگر عورتوں کی طرح ہر بُرائی کی جڑ اور گالیوں کا مرکز اُسے نہ بناتی بلکہ کھلے دل سے اُس کے فیصلے کہ”ہمارا ساتھ یہیں تک تھا,مگر ہم اچھے دوست ہمیشہ رہیں گے کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک یاد کرلینا”کو مُسکراتے ہوئے خندہ پیشانی سے قبول کرلیتی ,عورتوں کو اُس سے شکایت اس لیئے بھی نہیں ہوتی تھی کہ وہ دور التفات میں اپنی من چاہی عورت کی ہر خواہش, فرمائش اور خوشی کو اپنی ذمے داری سمجھتا تھا,یہاں بھی کال گرل اور گرل فرینڈ میں کوئی تفریق نہیں تھی,گرل فرینڈز تحائف کے نام پر بہت کچھ اعزاز سمجھ کر تفاخر سے قبول کرلیتیں جو زادراہ کی حیثیت اختیار کر لیتا البتہ بےحد کائیاں اور کاروباری ذہنیت اور سوجھ بوجھ رکھنے والی کال گرل طے شُدہ معاوضے کے علاوہ مراعات,تحائف کے نام پر اتنا کچھ بٹور لیتی کہ اگر کئی مہینے مزید کوئی بزنس ڈیل نہ بھی کرتی تو گزر بسر میں کوئی دشواری نہ آتی,بس ایک روزی تھی جس کے آگے سکندر مقدر کا نہیں رہتا تھا بلکہ رہتا تو وہ خود اپنا بھی نہیں تھا.
وہ اُس سے محبت نہیں کرتا تھا ,نہ ہی اُس کے عشق میں مُبتلا تھا,نہ ہی اُس کا حسن اُس کیلئے بنگال کا جادو ثابت ہوسکا تھا جو سر چڑھ کر بولتا, گنگناتا, لہراتا, ,اپنی ڈگڈگی پر ناچتا اور اُسے نچاتا اور نہ ہی وہ اُس کے جلووں,ادائوں اور ناز و انداز کی بھول بھلیوں میں آوارہ بھٹکنے والا مجنوں بن سکا تھا,وہ خوبصورت تھی کوئی شک نہیں,لیکن اتنی نہیں کہ اُس جیسا شاندار مرد اپنی ہر کمٹمنٹ چھوڑ کر اُس کے ایک بار کہے پر چل پڑتا,لیکن وہ ایسا کررہا تھا.
اُس میں نہ تو ادا تھی,نہ طرح داری کہ جس پر نثار ہونے کیلئے اُس جیسا پُروقار مرد یوں ایک ٹانگ سے کھڑا ہوجاتا,مگر وہ ہورہا تھا.
وہ واجبی سی تعلیم رکھنے والی عورت تھی جو اُس کے ساتھ شہر کے فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھ کر ہزارہا ڈشز پر مبنی مینیو بُک کے صفحے پلٹتے ہوئے اپنی مسکارے سے بوجھل ہوتی پلکیں اٹھاتے گراتے سوچ و بچار نہیں کرسکتی تھی کہ کیا منگوایا جائے اور کیا نہیں,نہ ہی وہ مہنگے ترین شاپنگ مالز میں گھوم گھوم کر لاکھوں اقسام کے نخرے دکھاتے ہوئے اُس کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کا سواستیاناس مار سکتی تھی اور نہ ہی وہ فلسفیانہ الجھائو والی گفتگو کرسکتی تھی اور نہ ہی خواتین کے مخصوص جملے اُس کی زبان سے نکلتے تھے اس کے باوجود اُس میں کچھ تو ایسا تھا اور وہ کچھ کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا.
ڈیڑھ سال قبل ان کی شناسائی اُس کے ایک دوست کے ذریعے ہوئی تھی ,اُن دنوں اُس کی بیوی تیسرے بچے کی ڈلیوری کے سلسلے میں نیویارک میں تھی ,چونکہ جاپان سے ایک اہم بزنس ڈیلیگیشن کراچی آیا ہوا تھا تو سکندر کیلئے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ جا پاتا , ,کچھ مسلسل اُس ڈیلیگیشن کے ساتھ سرکھپائی نے اُسے بیزار کیا ہوا تھا اور کچھ ضرورت اور طلب تھی ,اُسے رات کے کچھ رنگین لمحات گزارنے کیلئے ایک ساتھی کی ضرورت تھی,اُس کی جتنی بھی گرل فرینڈز تھیں اُن کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ آدھی رات کو اُس سے ملاقات کیلئے پہنچ پاتیں اسی لئے سکندر نے انہیں ڈسٹرب ہی نہیں کیا, اُس نے اپنے ایک دوست کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے Private اور Confidential سیل فون میں شہر کی ہر طرح دار اور مشہور کال گرل کا نمبر محفوظ تھا.
“تم روزی کا نمبر لے لو ایک ہی بار ملا ہوں اُس سے کرسچین ہے اور خاصی اچھی لڑکی ہے”,اسد نے ہنستے ہوئے روزی کے بارے میں بتایا تھا.سکندر نے روزی کے نمبر پر اسد کے ریفرنس کے ساتھ پیغام چھوڑا تھا اور چند ہی منٹ کے وقفے سے اُسے مس کال آئی اُس نے کال بیک کی تھی,ہیلو ہائے کے بعد ابتدائی تعارف ہوا تھا, سکندر کو یقین تھا کہ روزی اس کا اصل نام نہیں ہوگا چونکہ اُس نے بھی اپنا نام غلط ہی بتایا تھا, چند منٹوں تک بات کرنے کے بعد سکندر نے اُس کے نمبر پر ہزار روپے کا کریڈٹ شیئر کردیا تھا کیونکہ یہ تعلق تھا ہی کچھ دو اور کچھ لو پر مبنی,روزی کی آواز اُسے بہت مختلف لگی تھی, نہ تو اُس کا لہجہ انگریزی زدہ تھا اور نہ ہی ہیجان انگیز, وہ نہ جانے کیوں اُسے مسٹری سی محسوس ہوئی تھی اور بس,اگلی دو تین راتیں وہ اُس سے فون پر بات کرتا رہا,اس بات چیت میں ہر حد پار کی گئی کہ اخلاقیات کے گھنگھرو ان دونوں کے پیروں میں ہی نہیں بندھے تھے, وہ گفتگو  ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہونے والی گفتگو تھی,سکندر کبھی کسی عورت کے ساتھ یونہی رات نہیں گزارسکتا تھا اس معاملے میں بھی وہ اپنے دوستوں سے مختلف سوچ رکھتا تھا,عورت کی کشش سے زیادہ عورت کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی اُس کیلئے ضروری تھی اور اسی مقصد کے تحت وہ بالخصوص کال گرلز کے ساتھ وقت گزارتا تھا تاکہ اُن کے درمیان دوستی ہو اور وہ خریدار اور دوکاندار کا تعلق نہ رہےاور یہ بات اُس نے روزی کو سمجھا دی تھی,پہلی بار ملنے سے گھنٹہ بھر پہلے سکندر نے اُس سے پوچھا تھا کہ اُسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں جس کا بے حد دوٹوک جواب روزی نے انکار کی صورت میں دیا تھا,اس سارے عرصے میں پہلی بار سکندر چونکا تھا کیونکہ اُس کی زندگی میں جتنی بھی Hookers آئی تھیں وہ سب ہی یہ جان لینے کے بعد کہ سکندر دیگر کلائنٹس جیسی فطرت اور مزاج رکھنے والا مرد نہیں ہے وہ منہ بھر کر رقم کا مطالبہ بھی کرتی رہی تھیں اور مہنگی مہنگی فرمائشیں بھی اور یہی حال اُس کی گرل فرینڈز کا بھی تھا. وہ کوئی بہت نیک اور پارسا انسان نہیں تھا لیکن وہ منافق بھی نہیں تھا وہ علی العلان کہتا تھا کہ ہاں وہ womenizer ہے اسی طرح جیسے اور لوگ بھی ہیں بس وہ دوسروں کی طرح اس لین دین کو بُرا نہیں سمجھتا اور نہ ہی شرمندگی محسوس کرتا ہے وہ اس بےشرمی کی انتہا کو پہنچی ہوئی ڈھٹائی کو سخت ناپسند کرتا تھا کہ لوگ ایک فعل کو جی بھر کے گالیاں بھی دیتے ہوئے خود کو باعزت اور باکردار ثابت کرتے رہیں  اور چوری چھپے اس کھیل تماشے کا بھی حصہ ہوں جس کی گواہ وہ راتیں ہوں جو انہی کے وجود سے سیاہ ہوتی ہیں,سکندر کی بیوی کو اس کی ان تمام سرگرمیوں پر ضرور اعتراض ہوتا جو اگر وہ یہ سب چھپ کرکرتا یا اُن میں سے کسی کو بیوی کے منصب پر فائز کرتا,اُس کی اپنی بیوی کے ساتھ اچھی ازدواجی زندگی کی وجہ یہ تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو لیٹسٹ ماڈل کی وہ گاڑی نہیں سمجھتے تھے جس کا سٹیرنگ وہیل وہ دونوں اپنے اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہوں چنانچہ بیوی کے ساتھ رشتہ میاں بیوی کا تھا نا کہ ملکیت اور مالک کا.
روزی بہرحال دوسری عورتوں کے مقابلے میں کچھ مختلف ثابت ہورہی تھی,اُس نے نہ تو رقم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی کوئی اور فرمائش,وہ اُسے کچھ بڑے ریسٹورنٹس میں لے کر گیا وہاں نہ تو روزی کے کسی انداز سے بدحواسی جھلکی تھی اور نہ ہی کوئی بازاری پن چھب دکھلا سکا تھا,سکندر کو یہ ماننے میں تامل نہیں ہوا تھا کہ روزی اُس کی زندگی میں آنے والی پہلی کال گرل تھی جو چال ڈھال نشست و برخاست بات چیت ہر لحاظ سے باوقار لگتی تھی,کسی ریسٹورنٹ,کسی ہوٹل,کسی شاپنگ مال میں کہیں بھی لاشعوری طور پر اُس نے کوئی ایسا انداز اختیار نہیں کیا تھا کہ کوئی شاپ کیپر,آس پاس سے گزرتے ہوئے لوگ,بیرے وغیرہ یہ محسوس کرجاتے کہ وہ ایک کال گرل کو لے کر پھررہا ہے,ظاہر ہے ایسی کسی بھی صورت حال میں کوئی بھی مرد سبکی ہی محسوس کرتا,روزی نے اُس سے کوئی فرمائش بھی نہیں کی اور اگر اُس نے کچھ خرید کر دینا چاہا بھی تو روزی ٹال گئی تھی لیکن وہ ایک برانڈڈ نائٹی تھی جس کے ساتھ کچھ اور Accessoriesبھی تھیں اور جو بہت مہنگی اور بہت خوبصورت و دیدہ زیب تھی,وہ اُسے لینے سے انکار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی.
“ویک اینڈ نائٹ پہ میں چاہتا ہوں تم یہ پہنو مجھے یقین ہے یہ تمہارے جسم پر بہت خوبصورت لگے گی”,اُس کے انکار کو پہلی بار سکندر نے کوئی اہمیت نہیں دی تھی اور دوٹوک انداز میں اُسے جتا دیا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے. بعض دفعہ وہ اُسے کال گرل جیسی لگتی تھی گال گرل نہیں اور اُس رات یہ بات سکندر نے اُسے کہہ دی تھی.
“جیسی” ہوتی تو کیا رات کے اس پہر آپ کے ساتھ اس کمرے میں اس حالت میں بیٹھی ہوتی”,اُس نے بڑے میٹھے لہجے میں بڑی کڑوی بات کہی تھی سکندر مزید حیران ہوا تھا,”کیا تم اپنی مرضی سے یہ کام نہیں کرتی ہو”,وہ پوچھے بناء نہ رہ سکا کم از کم سکندر ویسا مرد نہیں تھا جو عورت کو اُس کی مرضی اور خواہش کے بغیر کوئی بھی تعلق جوڑتا وہ اس عمل کو مردانگی نہیں مردانگی کے منافی خیال کرتا تھا.
“نہیں سو فیصدی میری مرضی شامل ہے”,روزی کے جواب میں کوئی کھوٹ نہیں تھا یہ سکندر اُس کے ٹھوس لہجے سے جان گیا تھا,دن چڑھے اُس نے روزی کو طے شدہ معاوضے کے علاوہ بھی کچھ روپے اور ایک سونے کی ہلکی سی چین تحفتا دی تھی,معاوضے کی رقم روزی نے شکریہ کے ساتھ تھام لی تھی,مزید رقم اور چین کو اُس نے چھونا تو درکنار اُن پر نگاہ تک نہ ڈالی تھی.
“آپ میری سروس کا معاوضہ دے چکے ہیں یہی کافی ہے باقی چیزیں میں نہیں لوں گی”, اُس پورے ہفتے میں پہلی بار روزی کے لہجے میں وہ رُکھائی آئی تھی جس کیلئے طوائفیں زیادہ مشہور ہیں اور جو سکندر کیلئے روزی سے قبل کسی عورت نے نہیں دکھائی تھی, لازم تھا کہ سکندر ہکا بکا ہوتا اور وہ ہوگیا تھا.
“کیا مطلب تم دوست ہو میری,میں نے پہلے ہی تمہیں واضح بتادیا کہ میں اجسام کا بیوپاری نہیں ہوں ایک دوست کی حیثیت سے دے رہا ہوں”.
“آپ بہت اچھے مرد ہیں سکندر”,سکندر نے محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ وہ اُسے “مرد”کہہ رہی تھی ,”انسان” نہیں,”اس لئے ایسا سوچتے ہیں لیکن دوستی برابری کی بنیاد پر کی اور رکھی جاتی ہے آپ تحفہ نہ دیں تو میں تسلیم کرلوں گی کہ یہ دوستی ہی ہے ورنہ یہ لین دین دوستی کو کاروبار ہی بناتا ہے اور آپ ایسا ہی کررہے ہیں”, روزی کی گہری سیاہ آنکھیں مسکرائی تھیں وہ ڈوبتے ڈوبتے بچا تھا,جوابا اُس نے کندھے اچکا دیئے تھے,وہ اُس کے انداز پر الجھا کم اور حیران زیادہ ہوا تھا لیکن پھر اُس نے روزی کا خیال ذہن سے جھٹک دیا تھا.
سکندر کیلئے ڈیڑھ سال قبل کا وہ تعلق صرف اُسی ایک رات تک کیلئے تھا,کچھ دنوں بعد اُسے نیویارک چلے جانا تھا, وحشت کے جلتے ہوئے کوئلوں پر روزی کے وجود نے پانی ڈال دیا تھا,جھن جھن جھن ..وحشت اگلے کئی دن اُسے اُتائولا نہیں کرنے والی تھی,چنانچہ سکندر کی تلاش اور کھوج کچھ وقت کیلئے رُک گئی تھی اس دوران روزی نے بھی سکندر سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا تھا اور ظاہر ہے وہ اُس کیلئے قصہ پارینہ بن جانے والی تھی,لیکن نیویارک پہنچتے ہوئے سارا وقت پلین میں وہ روزی کے خیال میں لپٹا رہا تھا,اُس کی آنکھیں عجیب آنکھیں تھیں ,گہری کسی سر بستہ راز کی طرح تجسس بھرے بھید جیسی اور اُس کی باتیں اُس نے بتایا تھا کہ وہ محض ایف اے تھی لیکن بہت معمولی معمولی چھوٹے اور مختصر فقروں اور عام سے لفظوں والی اُس کی باتیں بہت عجیب تھیں کسی شاعر کی جادو بھری غزل جیسی,کسی درویش کی سی پُر اسرار حقیقت تھی کہ بھانت بھانت کی عورتوں کے ساتھ تعلق نے عورت کو اُس کیلئے”مجسم حلوہ”بنادیا تھا گھاٹ گھاٹ کا پانی مرد کو وہ نہیں سکھاتا جو رنگ رنگ کی عورت مرد کو سمجھا,سکھا اور بتا دیتی ہے,وہ جو بڑے بڑے ادیب,فلسفی اور دانش ور کہتے ہیں کہ عورت بڑی عجیب شہ ہے ایسی گھمن پھیریاں ہیں اس کی ذات میں کہ آدھی عمر گزار کر مرد کو احساس ہوتا ہے کہ عمر گزاری نہیں گنوائی ہے, عورت کے دل میں کیا ہے صرف وہی جانتی ہے,عجب مٹی کی تخلیق ہے عورت اُس کا دل دماغ,چاہ و خواہش,عمل اور گفتار قول و فعل کے تضاد کی بڑی مکمل سی تفسیر ہے,سکندر اس نتیجے سے متفق نہیں تھا لیکن روزی نے اُسے یہ احساس دلایا تھا کہ اس کلیے میں کہیں نہ کہیں تھوڑی یا کم صداقت تھی ضرور.
نیویارک پہنچ کر مصروفیات میں الجھ کر بھی کبھی کبھی روزی کا اچٹتا سا خیال اُس کے دماغ کو چھو جاتا اور دل بےچارہ ہمکنے لگتا,مائل ہونے لگتا,خواہش اُسے چھونے کی نہیں جستجو اُسے دیکھنے کی ہونے لگی تھی,وہ اُسے جاننا چاہتا تھا,وہ کھلی کتاب کی ایسی تحریر ثابت ہوئی تھی جو آسان زبان میں لکھی ہوتی ہے اور جسے ایک ہی نشست میں پڑھ لینے کے بعد قاری کافی دیر تک یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ جو اُس نے پڑھا تھا وہ کیا تھا,تحریر مشکل نہیں,نا سمجھ میں آنے والی نہیں ہوتی یہ اُس تحریر کا طلسم ہوتا ہے جو چل جاتا ہے جو بار بار قاری کو اپنی جانب کھینچتا ہے. پاکستان واپس آکر سکندر نے کچھ دنوں بعد اُس سے رابطہ کیا تھا,وہ توقع کررہا تھا کہ وہ ضرور اُس کی کال پر حیران ہوگی لیکن اُس نے بے حد عام سے انداز میں بات چیت کی تھی اور اُس کی فیملی کی خیر خیریت دریافت کی تھی,اک بجلی کی سی کوند کی طرح سکندر کو خیال آیا تھا کہ دوسری عورتوں کی طرح روزی نے اُسے اپنے اور اپنے بیک گرائونڈ کے بارے میں اُسے کچھ نہیں بتایا تھا,اس خیال کے آتے ہی سکندر نے اُس سے ملاقات کے بارے میں پوچھا تھا,وہ ایک ثانیئے کیلئے خاموش رہی تھی پھر بے حد ٹھہرے ہوئے لہجے میں اُس نے کہا,
“سکندر کیا آپ کو احساس ہے کہ یہ کونسا منتھ ہے ؟”.
سکندر فوری طور پر اُس کا سوال نہیں سمجھ سکا تھا,:کیا مطلب؟”.
“سکندر یہ مسلمانوں کا Holy Month ہے میں اس کے احترام میں کسی سے نہیں ملتی”.
سکندر زندگی میں دوسری بار ہکا بکا ہوا تھا اور دوسری بار بھی اس کا سہرا روزی کے سر تھا.
“مجھ سے زیادہ تو آپ کو اس چیز کا خیال ہونا چاہیئے”.
“میں صرف یونہی ملنا چاہتا ہوں روزی”,وہ پہلی بار تھا جب سکندر کو یہ سمجھ آیا تھا کہ انسان کبھی نہ کبھی اُس مقام پر ضرور پہنچتا ہے جب لفظوں کی بیساکھیاں بڑی بے رحمی سے اُس کی سوچ کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور اُس وقت جو لاچاری اور بےچینی انسان محسوس کرتا ہے وہ پُل صراط جتنی نہ سہی اُس کے قریب قریب ضرور ہوتی ہے.
“معذرت خواہ ہوں سکندر مگر میں ابھی نہیں مل سکتی لیکن وعدہ کرتی ہوں کہ اس ماہ کے ختم ہونے پر ضرور ملوں گی”.
سکندر نے خود پر نفرین بھیجی تھی,یعنی کہ حد تھی وہ ایک کال گرل تھی اور نخرے ایسے دکھارہی تھی جیسے کسی راجدھانی کی ملکہ ہو.
“تف ہے تم پر سکندر”. ملامت کا سلسلہ تھا جو باہر سے شروع ہوا تھا.
“ویسے کہہ تو وہ غلط نہیں رہی,وہ تو کرسچین ہے میں تو مسلم ہوں مجھے خیال کرنا چاہیئے تھا, میں تو بس بات چیت کرنا چاہتا تھا اُس نے غلط سمجھا مگر وہ اور کیا سمجھ سکتی تھی ظاہر ہے مرد اُس سے ایک ہی مقصد کیلئے رابطہ کرتے ہیں”.
تاویلوں اور وضاحتوں کا ایک سلسلہ تھا جو اندر سے اُبلا تھا,سکندر نے وقتی طور پر بُرا محسوس کیا تھا مگر پھر مہینے بعد اُس سے مل کر بات چیت کرکے وہ بالکل نارمل ہوگیا تھا,روزی نے نہ تو معذرت کی تھی اور نہ ہی پچھلی بات کا حوالہ دے کر کوئی جملہ کہا تھا,اگلی کئی ملاقاتوں میں وہ صرف اتنا روزی کے بارے میں جان پایا تھا کہ اُس کی ایک بوڑھی ماں تھی اور دو چھوٹے بچے بھی اُس کے گھر میں رہتے تھے وہ اُن کی کون تھی یہ وہ اُس سے نہیں پوچھ سکا تھا.اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں کچھ اور عورتیں بھی اُس کی زندگی میں آئیں اور گئیں,مہینوں ہفتوں اُس کا روزی سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا تھا مگر کچھ ہی دنوں ہفتوں بعد وہ اُسے یاد کرنے لگتا تھا اور ہر بار خود ہی کال کرنے بات کرنے یا ملنے کیلئے پہل کرتا تھا,دو تین بار اُس نے روزی کے ساتھ رات بھی گزاری لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ روزی کی کمپنی کسی بھی دوسری عورت کے مقابلے میں زیادہ پسند کرنے لگا تھا,وہ اچھی سامع تھی,کوئی نخرہ ,ناز,انداز نہیں رکھتی تھی,بے حد دلچسپی سے اُس کی بات سنتی تھی,ایک عجیب طرح کی فرمانبرداری تھی اُس میں اور بس,وہی روزی تھی جس نے آج پہلی بار اُس سے رابطہ کیا تھا اور ملنے کی خواہش کی تھی اور رات گزارنے کے بارے میں اپنا عندیہ دیا تھا اور کیا اتفاق تھا کہ سال پچھلے کی طرح رمضان کا مہینہ تھا,سکندر حیران خوش اور مسرور نہ ہوتا تو اور کیا کرتا.
*******
تقریبا رات ساڑھے گیارہ کا وقت تھا جب وہ اپنی گلی میں داخل ہوئی تھی,حالانکہ سکندر نے کہا بھی تھا کہ وہ اُسے ڈراپ کردیتا ہے جہاں سے اُس نے پک کیا تھا لیکن اُس نے انکار کردیا تھا اور سکندر کی یہی ایک بات اُسے اچھی لگتی تھی کہ وہ انکار کو انکار ہی سمجھتا تھا,ہتک یا توہین نہیں. گلی کے کونے پر چند آوارہ کُتے تھے وہ اُن سے خوفزدہ نہیں ہوئی تھی,گلی میں آگے آنے پر ایک دوکان کے سامنے چند آوارہ مرد کھڑے تھے اور جو اُسے دیکھ کر بےحد اوباش انداز میں اُس پر فقرے کس رہے تھے,اُن کی نگاہوں اور جملوں سے وہ خوفزدہ ہوگئی تھی مگر نظرانداز کرتے ہوئے اُن کے سامنے سے گزر گئی تھی,نہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آنے والے تھے اور نہ ہی وہ انہیں خاموشی کی مار مارنے سے چوکتی تھی,بعض “کتے” بھونکنے کیلئے ہی دنیا میں آتے ہیں اور نہیں جانتے کہ جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان ہی جیسی قماش رکھنے والے دوسرے کُتے اُن کی ماں بہن بیوی بیٹی پر اسی طرح رال ٹپکاتے ہوئے بھونکتے ہیں جس طرح وہ اپنی زندگی میں کسی دوسرے کی ماں بہن بیوی اور بیٹی پر…
مکافات عمل…
انسان کے سوچنے کی شے ہے,حیوانوں کی نہیں.
ایک دوسری پرچون کی دوکان سے اُس نے ضرورت کا راشن لیا اور ادھار سمیت اُس راشن کی قیمت بھی ادا کرکے وہ محلے کے میڈیکل سٹور سے کچھ دوائیں خرید کر جس وقت اپنے دو کمروں کے کواٹر میں داخل ہوئی تو بارہ بچ کر دس منٹ ہورہے تھے.
“بڑی جلدی آگئیں روزینہ میں تو سوچ رہی تھی کہ اگلے دن ہی آئو گی؟”،ماں اُسے دیکھ کر کچھ حیران ہوئی تھی,راشن کے تھیلے تخت کے پس رکھتے ہوئے اُس نے دوائوں کا شاپر ماں کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا.
“اوور ٹائم جلدی ختم ہوگیا”, پھر بات بدلی “وہ دونوں کہاں ہیں؟”.
“اپنے سکول کا کام کررہے ہیں کہہ رہے تھے امی بہت تھک جاتی ہیں فیکٹری میں کام کرکے اس لئے اپنا ہوم ورک خود ہی کرلیں گے”,وہ تکان کے باوجود مُسکرادی. “تنخواہ مل گئی کیا؟”،اماں اُس کے لائے تھیلوں کو ٹٹول رہی تھی.
“نہیں اماں!اوور ٹائم کے پیسے آج ہی مل گئے”.
“بڑا عجیب ہے تیرا فیکٹری کا مالک”, اماں حیران ہوئی. “ہاں اماں بڑا عجیب ہے”,وہ ہولے سے بڑبڑائی تصور میں فیکٹری مالک کی جگہ سکندر کا چہرہ لہرایا تھا دھندلا سا. “عجیب ہی دستور ہے تنخواہ کبھی وقت پر نہیں دیتا اور مہینوں کو تو چھوڑدو کم از کم رمضان میں ہی خیال کر لے لیکن اوور ٹائم کی اجرت فوری دے دی”,اماں کی صلواتیں جاری تھیں.
“ایک تو تم لوگوں کے رونے ہی ختم نہیں ہوتے,بچوں کی فیس دینی ہے,گھر میں راشن نہیں,اماں کی دوا ختم ہوگئی,مل جائے گی تنخواہ بھی نہیں صبر ہوتا تو کوئی اور کام دیکھ لو”, آج ہی تو مینیجر نے اُس سے کہا تھا,اپنے ذہن سے دن کی بے عزتی کو جھٹکتے ہوئے اُس نے کہا”بس اماں یہی دنیا ہے مہینے بھر کی اجرت وقت پر نہیں ملتی تو مجبورا ہم جیسیوں کو اوور ٹائم کیلئے نکلنا پڑ جاتا ہے اس کی ادائیگی بروقت ہوجاتی ہے”, اور کہہ کر اٹھ گئی تھی.
“اور روپوں کی ضرورت تو نہیں؟”.
“نہیں بس اتنے ہی کی ضرورت ہے.
“تم عجیب کال گرل ہو تمہیں روپےکبھی کم نہیں لگتے” ,کمرے کی جانب بڑھتے ہوئے سکندر کی آواز نے اُس کا پیچھا کیا تھا.
“ہاں!میں عجیب کال گرل ہوں جس کا گزارا اوور ٹائم پر ہوجاتا ہے”.
ختم شُد.