رمضان کہانی “بیسن ” از محمد انس حنیف۔

تحریر : محمد انس حنیف.
 وہ آپریشن تھیٹر کے سامنے کاریڈور میں بے حد تھکے تھکے قدموں سے چل رہی تھی,دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں, ہونٹ ورد کرنے میں مصروف تھے اور نظریں مسلسل آپریشن تھیٹر کے دروازے پہ جمی تھیں جہاں اُس شخص کو آپریٹ کی جا رہا تھا جو اُسے بے حد عزیز تھا وہ اس کا چھوٹا بھائی یاسر تھا,دو دن پہلے ہونے والے بائیک ایکسیڈنٹ میں اُس کی ٹانگ کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹی تھی۔۔ وہ ایک نظر آپریشن تھیٹر کی طرف دیکھتی اور دوسری نظر اپنے سے کچھ فاصلے پہ موجود اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتی–اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ وہ دونوں کس قدر اذیت کا شکار تھے–اذیت اُن کی آنکھوں میں واضح دِکھ رہی تھی- اُسے احساس تھا کہ اُس کے ماں باپ کئی گُنا زیادہ تکلیف محسوس کر رہے تھے جتنی اذیت آپریشن تھیٹر میں لیٹا اس کا بھائی محسوس کر رہا تھا–وہ اُن سب کی آنکھوں کا تارہ تھا,اُن تینوں کی زندگیوں کا واحد اثاثہ ,امیدوں,خوابوں اور خواہشوں کا مرکز اور وہ آپریشن تھیٹر میں پڑا تھا اور وہ تینوں خدشوں ,اندیشوں اور واہموں کے ساتھ باہر تھے. وہ امی ابا کو پریشان دیکھ رہی تھی اور اُس کے دل میں اُن کیلئے شکووں کا ڈھیر بڑھتا جارہا تھا, وہ مسلسل اس ناگہانی آفت کا ذمے دار انہیں ہی ٹھہرا رہی تھی جو سزا بن کر اُن سب پر ٹوٹی تھی. اُس کے ماں باپ کتنی ہی دیر سے خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے سے نظریں چُرانے کی کوشش کر رہے تھے,دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کو حوصلہ یا دلاسہ نہیں دے پا رہا تھا–اُس کی ماں وقفے وقفےسے دوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کر رہی تھی مگر اُس کے باپ کی آنکھیں مکمل طور پہ خشک تھیں–آنسو جیسےاُس کے اندر ہی کہیں جم گئے تھے— اُس کے باپ کی نظریں ایک لمحے کیلئے اُس سے ملی تھیں–مگر اُس کا باپ زیادہ دیر تک اُس کی طرف نہیں دیکھ پایا تھا— “زندگی کتنی خوشگوار تھی” اُس نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا تھا،اور اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے.
اُن کی زندگی واقعی ہی خوشگوار تھی,مگر کچھ دن پہلے ہی اس نے زندگی کو تیزی سے بدلتے دیکھا تھا, اُسے یاد تھا وہ رمضان سے دو دن پہلے کی بات تھی,ابا گھر دیر سے آیا تھا اور وہ اُس کیلئے باورچی خانے میں کھانا گرم کررہی تھی،ابا کے چہرے پہ غیر معمولی سنجیدگی تھی “کیا ہوا زینب کے ابا؟” امی نے اُن کا سنجیدہ چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا.
“وہ زینب کے سسر آئے تھے دوکان پر آج” یوسف نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا تھا،کچن میں روٹی توے سے اُتارتے ہوئے وہ چونکی تھی ،اُس کے سُسر کی یہ آمد بے وجہ نہ ہوگی—وہ جانتی تھی —پھر جہیز میں کسی نئی چیز کا مطالبہ — وہ پہلے بھی جہیزمیں کئی چیزوں کا مطالبہ کر چکے تھے — اور عید کے ایک ہفتے بعد اُس کی شادی تھی۔۔ایسے میں پھر کسی نئی چیز کا مطالبہ– پہلے ہی شادی کے انتظامات بمشکل ہو رہے تھے — “اب کیا کہا ہے انہوں نے” امی نے تھکے سے لہجے میں پوچھا تھا “اُن کے بیٹے کو جہیز میں Honda -125 چاہیے”زینب یکدم سانس لینا بھول گئی تھی،کچھ یہی حال اُس کی ماں کا تھا “وہ کتنے کی آئے گی؟” امی نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا “تقریباً سوا لاکھ کی” ابو کی مایوس سی آواز اُس کے کانوں میں پڑی تھی وہ جیسے کسی سوچ میں پڑ گئی ابا کی کریانے کی چھوٹی سی دوکان تھی،اُن کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو لاکھوں میں کھیلتا لیکن وہ بے حد ایماندار انسان تھے،ناپ تول میں ڈنڈی نہ مارنے والے،سودے سلف کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والے،نتیجتا اُن کے گھر میں بےشک آسائشوں کا ڈھیر نہیں تھا مگر زندگی میں سکون تھا،حالانکہ جب سے اُس کی شادی طے ہوئی تھی اماں ابا کو سمجھاتی رہتی تھی کہ اتنی ایمانداری بھی اچھی نہیں ہوتی لیکن ابا ہنس کر ٹال جاتا تھا،دن رات محنت کر کے رزق کمانے والا اور بمشکل اپنی بیٹی کا جہیز جمع کرنے والا اُس کا باپ ایک مہنگی بائیک کیلئے رقم کا بندوبست کیسے کر سکتا تھا؟اُسے اپنے ہونے والے سسرال پہ شدید غصہ آیا تھا اُس کا باپ پہلے ہی اُس کی شادی کیلئے مختلف جگہوں سے قرضہ اُٹھا چکا تھا–اب تو کوئی قرضہ دینے کو بھی تیار نہیں تھا،اُس نے سوچا تھا کہ رمضان میں سودا سلف زیادہ فروخت ہو گا تو وہ کچھ قرض اُتار دے گا مگر اب— ایک بیٹی کا باپ کس حد تک مجبور ہوتا ہے، یہ زینب سے بہتر کون جا سکتا تھا؟ وہ خود کو مجرم تصور کر رہی تھی،اُسے باپ کا سامنا کرنے میں شرمندگی محسوس ہو رہی تھی— یہ سب نہایت تکلیف دہ تھا مگر وہ نہیں جانتی تھی اُسے اِس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا-
رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا تھا اور یہ پہلی بار تھا کہ اُن کے گھر میں رمضان کے حوالے سے کوئی تیاری کوئی جوش نہیں تھا،اماں ابا اسی پریشانی میں تھے کہ بائیک کا انتظام وہ کیسے کریں گے اور جتنی کمینی زینب کی سسرال ثابت ہوئی تھی کوئی خوش فہمی نہ تھی کہ بائیک کے بناء وہ اُسے رخصت کروا کر لے جاتے۔
وہ اُس رات تراویح پڑھ کر کمرے سے باہر نکلی تھی ،گھبراہٹ حد سے زیادہ تھی,ارادہ تھا کچھ دیر چھت پر چہل قدمی کر لے تو شائد طبیعت بہتر ہوجائے لیکن صحن میں اماں ابا کی باتوں نے اُس کے قدم روک لئے تھے۔
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو حلیمہ؟”.
” ٹھیک کہہ رہی ہوں زینب کے ابا مجبوری ہے میں کون سا شوقیہ آپ سے ایسا کرنے کیلئے کہہ رہی ہوں” ۔ “پھر بھی میں یہ بے ایمانی والا کام نہیں کروں گا خدا کو کیا منہ دکھائوں گا میں”۔
“اچھا”,وہ استہزائیہ انداز میں بولی”اور بیٹی کا رشتہ شادی سے کچھ دنوں پہلے ٹوٹے گا تو دنیا کو کونسا منہ دکھا سکیں گے آپ”۔
ابا جیسے لاجواب ہوگئے تھے،”دیکھیں یوسف صاحب! اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے یہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے لیکن قرض حسنہ جیسی سنت پر کوئی عمل نہیں کرسکتا ہمارا تو بال بال سود میں جکڑا ہوا ہے حرام کا روپیہ ہے نا تو حرام کی آمدنی سے ہی چکائیں اسے,زینی کے سسرال والوں کو بھی حرام منہ کو لگا ہے مجال ہے جو زرا سی بھی انسانیت اور خوف خدا ہو انہیں بس اُن کا مطالبہ بھی حرام کی کمائی سے ہی پورا ہوگا۔۔یہ دنیا اسی قابل ہے یوسف صاحب! “, حلیمہ کا لہجہ زہر زہر تھا. “لیکن حلیمہ کسی کو پتا چل گیا تو پولیس کچہری ۔۔”. “کمال باتیں کرتے ہیں زینب کے ابا میں گھر میں رہنے والی عورت یہ سب جانتی ہوں آپ تو باہر اٹھتے بیٹھتے ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم مسلمانوں میں کتنے صادق اور امین ہیں ،پولیس،عدالت والے ،فیکٹریوں والے،ٹی وی والے،دودھ سبزی والے سے لے کر جمعدار تک سارے انسانی روپ میں شیطان ہیں فرشتہ کون سا دیکھا ہے آپ نے،یہ لوگ ایماندار کا گلا پکڑتے ہیں اُس کا نصیب کھاجاتے ہیں چور ہی چوکیدار ہے یہاں کبھی سنا ہے آپ نے کہ ملاوٹ کرنے والے کو سزا ہوگئی سزا بے چارے اُس بے وقوف کو ہوتی ہے جو ملاوٹ کرنے والے کو پکڑتا ہے ۔۔۔”, حلیمہ نے ٹھٹھا لگایا تھا, “کچھ نہیں ہوگا زینب کے ابا اگر کچھ ہوگا بھی تو بیسن کا ایک مفت بورا ان سارے ذلیلوں کا منہ بند کردے گا یہی قیمت ہے ان کی۔۔”. زینب پہ سکتا طاری ہو گیا تھا،اُسے قطعاً اُمید نہیں تھی کہ صورتحال یہاں تک پہنچ جائے گی،اُس نے باپ کے چہرے پر رضامندی دیکھ لی تھی وہ امی ابا کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی.
“امی ابا خدا کا خوف کریں کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ لوگ–رمضان میں آپ لوگ بے ایمانی والا کام کرنے جا رہے ہیں۔اس مہینے تو لوگ نیکیاں–“.
امی نے اُس کی بات کاٹ دی تھ “یہ تمہارے مطلب کی باتیں نہیں ہے زینب جا اندر جا کر سو جا”.
“امی آپ لوگ ایک غلط کام کرنے جا رہیں ہے”, وہ رہانسی ہوئی.
“زینب شادی سر پر کھڑی ہے تیری اپنے سسرال والوں میں تجھے برائی نظر نہیں آرہی غلط کام ہم کررہے ہیں یہ رشتہ ختم ہوگیا اور تو ساری عمر کیلئے بیٹھی رہ گئی نا پھر پوچھوں گی کہ صحیح اور غلط نیکی اور بدی کے کتنے سبق یاد ہیں تجھے “, حلیمہ کو تائو ہی تو آگیا تھا۔
“تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے زینی”, زینب نے بے یقینی سے باپ کو دیکھا تھا, ساری زندگی حرام اور حلال میں تفریق کرنے والا باپ آج ۔۔۔زینب کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔ “ابا پلیز آپ تو سمجھیں–آپ ایسا نہ کریں”, وہ باپ کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی”ابا خدا سے ڈریں ابا —اُس کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے”, اُس کا باپ خاموش رہا تھا”ابا رمضان کا مہینہ خدا کی رحمتیں حاصل کرنے کیلئے آتا ہے اُس کی حدود کو پار کرنے کیلئے نہیں” اُس نے پھر سے کہا تھا مگر نہ ابا پر کوئی اثر ہوا تھا نہ امی پر وہ دونوں خاموش تھے–زینب بڑی دیر تک بولتی رہی تھی مگر وہ جیسے سُن ہی نہیں رہے تھے اور اب آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھے اُس کے ماں باپ کے چہروں پہ واضح ندامت نظر آرہی تھی.
“یہ لو بیٹا روزہ افطار کر لو”, زینب کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا،پاس بیٹھی کسی عورت نے اس کے آگے کجھور کی،اس نے دعا پڑھتے ہوئے کجھور منہ میں رکھ لی پھر اس کی نظر باپ پہ پڑی تھی،وہ چلتا ہوا ہسپتال میں بنی مسجد کی طرف جا رہا تھا.
وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تھا،نماز پڑھنے کے بعد وہ کتنی دیر یونہی بیٹھا رہا،پھر اُس نے دعا کیلئے ہاتھ اُٹھانا چاہے مگر وہ ہاتھ نہیں اُٹھا سکا تھا”ابا حرام کی کمائی جس طرح سے آتی ہے اُسی طرح نکل بھی جاتی ہے”, اُسے زینب کی کہی ہوئی بات یاد آئی تھی.
“ابو ہم ملاوٹ کریں گے ؟؟ آپ جانتے ہیں ہمارے نبی نے کہا تھا ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں”,زینب کی ایک اور آواز اُس کے کانوں میں گونجی تھی،اُس نے بے بسی سے اپنے سر کو پکڑ لیا–
پچھلے کئی گھنٹوں سے اُس کے کانوں میں زینب کی آوازیں گونج رہیں تھی،وہ جیسے ایک عذاب سے گزر رہا تھا،وہ گنہگار تھا اِس بات کا احساس اُسے تھا مگر وہ کیا کرتا؟ وہ ایک جوان بیٹی کا باپ تھا اور جانتا تھا ،مطلوبہ چیز اگر جہیز میں نہ دی گئی تو رشتہ ختم کر دیا جائے گا اسی خوف کے زیر اثر اُس نے بیوی کی بات مان کر بیسن میں ملاوٹ شروع کی تھی,یوسف ہر سال رمضان کے موقع پر اپنے کریانے کی دوکان پر بیسن کی چکی بھی لگا لیتا تھا,اُس کا پیسا ہوا بیسن سستا بھی ہوتا تھا اور کوالٹی میں بھی بہترین,یوسف یہ سوچ کر قیمت کم رکھتا تھا تاکہ غریب طبقہ بھی اپنی استطاعت کے مطابق خرید بھی سکیں اور رمضان کے دنوں میں اُن کے دسترخوان بھی سجتے رہیں,عجیب بات یہ تھی کہ وہ عام مہینوں میں اتنے روپے نہیں کما پاتا تھا جتنے صرف سستا بیسن بیچنے سے اُس کی کمائی میں برکت ہوتی تھی اور اُس کے کئی بڑے کام نکل آتے تھے لیکن کچھ حلیمہ کی باتوں کا اثر تھا اور کچھ اپنی مایوسی کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں شر کمانے بیٹھ گیا تھا،اُس نے سب سے پہلے مکئی کے دانوں کی ملاوٹ کی تھی،ہلکا ذرد رنگ ہونے کی وجہ سے وہ بالکل بیسن کے رنگ کے ساتھ ہی مل گیا تھا–اُس نے آہستہ آہستہ مکئی کے دانوں کے ساتھ ساتھ مونگ کی دال بھی ملا لی اور پھر ساتھ ساتھ ان سب دالوں کو شامل کر لیا جنہیں  ناقابل استعمال ہونے کی وجہ سے الگ کردیا جاتا ہے یہی نہیں وہ کنکر پتھر بھی شامل کرتا جارہا تھا اور حلیمہ نے کہیں سے اُسے پیلے رنگ کا سفوف لادیا تھا یہ سارا مواد اُس نے ایک گاؤں کے ایک کریانہ سٹور سےحاصل کیا تھا۔اس ساری ملاوٹ سے بیسن میں چنے کی دال کا تناسب صرف 10% رہ گیا تھا اُس نے بیسن کا ریٹ باقی ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور رمضان بازار کی نسبت کم رکھا تھا،جس کی وجہ سے اُس کا بیسن خوب بکنا شروع ہو گیا، نہ صرف عام خرید دار بلکہ کچھ دکان والوں نے بھی اُس سے بیسن خریدنا شروع کر دیا تھا، وہ کافی خوش تھا مگر اُس کی ساری خوشی اُڑن چھو ہو گئی جب اُسے اپنے اکلوتے بیٹے یاسر کی ایکسیڈنٹ کی اطلاع ملی تھی،وہ اپنی بیوی کے ساتھ بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچا تھا،سرکاری ہسپتال میں ناقص نظام کی وجہ سے اُسے یاسر کو پرائیویٹ ہسپتال لے جانا پڑا تھا ایکسیڈنٹ میں یاسر کی ٹانگ کی ہڈی دو جگہ سے نہایت پیچیدگی سےٹوٹی تھی جس کی وجہ سے آپریشن کے بعد بھی اِس بات کی گارنٹی نہیں تھی کہ ہڈی صحیح طرح سے جُڑ بھی جائے  گی مگر یاسر ٹھیک سے چل پھر سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کیلئے ایڈوانس نوے ہزار مانگا تھا،رقم ادا کرتے وقت وہ چونک گیا تھا یہ ٹھیک اُتنی ہی رقم تھی جو وہ ملاوٹ شدہ بیسن بیچ کر کما چکا تھا.
“آپ لوگ دُعا کریں ہمارا کام کوشش کرنا ہے باقی جو اللہ کی مرضی”, ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ لہجے میں کہا تھا وہ دونوں ساکت رہ گئے تھے “اللّٰہ سے دعا؟ وہ تو خود اللّٰہ کی حدود پار کر کےآئے تھے— تو کیا اب واپسی ممکن تھی؟”.
وہ دونوں اپنی اپنی جگہ گم صم بیٹھے رہے ،وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی نہیں ملا پا رہے تھے، وہ دوہری اذیت کا شکار تھے— مغرب کی اذان سن کر وہ مسجد تو آیا تھا مگر نماز کے بعد دعا کیلئے ہاتھ نہیں اُٹھا سکا تھا اُس کے کانوں میں زینب کی کہی گئی باتیں گونجنے لگیں،اُس نے بے بسی سے اپنا سر جکا لیا تھا.
“کیا بات ہے جناب؟”, کسی نے اُس کے کندھے پہ ہلکاسا دباؤ ڈالتے ہوئے کہا تھا،اُس نے سر اُٹھایا وہ مسجد کا امام صاحب تھے “آپ مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہیں”, امام صاحب کہتے ہوئے اُس کے پاس ہی بیٹھ گئے “جو دل میں پریشانی ہے کہہ دیجئیے ،شاید آپ کے دل کا بوجھ ہلکا ہو سکے”,اُسے خاموش پا کر امام صاحب نے نرمی سے کہا تھا مگر وہ خاموش ہی رہا, “ہو سکتا ہے میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں”. اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے.
“میری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے اللّٰہ کی نافرمانی کی ہےاُسے ناراض کیا ہے”, کہتے ہوئے اُس کے آنسوؤں کی روانی میں اضافہ ہو گیا تھا،امام صاحب نے اُس کے کندھے پہ ہلکی سی تھپکی دی تھی اور اس کے ساتھ ہی پچاس سالہ محمد یوسف کسی بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا تھا، روتے ہوئے اُس نے امام صاحب کو ساری بات بتائی تھی.
“آپ جانتے ہیں اللّٰہ کی رحمت کتنی بڑی ہے؟”, ساری بات سننے کے بعد امام صاحب نے کہا تھا،وہ بغیر کچھ کہے خالی نظروں سے اُنہیں دیکھتا رہا.
“اللّٰہ کی رحمت اتنی بڑی ہے کہ انسانی عقل اُس کا احاطہ ہی نہیں کر سکتی،اور یہ تو رحمتوں والا مہینہ ہے اِس میں تو اُس کی رحمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے”, امام صاحب اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئیے ہوئے کہہ رہے تھے “وہ تو انسان کی واپسی کا منتظر ہے کہ کب اُس کا بندہ اُس سے معافی مانگے اور وہ اُس سے معاف کر دے”,امام صاحب نے اُس کے آنسو صاف کئیے تھے “وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو سب جانتا ہے”, امام صاحب نے اُسے سورہ شورٰی کی ایک آیت کا ترجمہ سنایا تھا اور پھر کچھ دیر اُسے مزید تسلیاں دینے کے بعد چلے گئے تھے اُن کے جانے کے بعد وہ کتنی دیر مسجد میں بیٹھا ہاتھ اُٹھائے اپنی غلطیوں اعتراف کرتا رہا، وہ مغرب کے وقت آیا تھا اور اب عشاْ اور تراویح بھی ہو چکی تھیں.
“یوسف صاحب”, تراویح کے بعد وہ پھر سے دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے ہوئے تھا جب اسے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی اُس نے منہ پہ ہاتھ پھیڑا اور اپنی بیوی کی طرف دیکھا وہ مسجد کے دروازے میں کھڑی تھی،وہ جلدی سے اُس کے پاس گئے تھے “یاسر کا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے،ہڈی بالکل صحیح جگہ جڑ گئی ہے”, اُس کی بیوی خوشی سے نڈھال ہو رہی تھی.
“کیا؟”, اُس کی آواز میں حیرت تھی.
“ہاں یوسف صاحب اللّٰہ نے ہماری دعائیں قبول کر لی”.
وہ دونوں چلتے ہوئے یاسر کے کمرے میں داخل ہوئے یاسر نیم غنودگی کی حالت میں تھا،زینب اُس کے سرہانے بیٹھی اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی،ابو کی طرف دیکھتے ہی وہ اُن کے گلے لگ گئی بعد ابو اُسے اپنےگلے سے لگائے ہوئےموبائل پہ کوئی نمبرڈائل کرنے لگےتھے. “کس کو فون کر رہے ہیں”, امی نے پوچھا تھا.
“زینب کے سسرال انہیں انکار کر رہا ہوں ہمیں ایسے رشتہ نہیں چاہیے جن کی وجہ سے ہم اپنے ایمان کو ملاوٹ شدہ کرنے پہ مجبور ہو جائیں۔۔۔اللّہ بہتر سبب لگانے والا ہے وہ ہماری بیٹی کا بہتر رشتہ لگائے گا”, ابو نے کہتے ہوئے زینب کا ماتھا چوما،اس بار امی بھی خاموش تھیں. زینب نےخدا کا شکر ادا کیا کہ مجبوری کے سبب اُس کے ماں باپ بھٹکے ضرور تھے مگر اب اللّٰہ کے دربار میں اُن کی واپسی ہو گئی تھی۔۔اُس کے باپ کو مزید بیسن کی صورت انگارے حاصل نہیں کرنے تھے۔
ختم شُد.