رمضان کہانی : ترغیب از محمد یاسر.

اُس نے بے حد حیرانی سے باپ کا چہرہ دیکھا تھا،حیرت اِس بات کی نہیں تھی کہ وہ بیٹھاچکن کی لیگ پیس نوچ نوچ کر کھاتے ہوئے مسلسل اُسے گالیاں دے رہا تھا۔
چپڑ چپڑ چپڑ۔
تیری ایسی کی تیسی۔
غلیظ گالیاں۔
ایک ہی منہ تھا جو بیک وقت دو مختلف سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
غذا اندر جارہی تھی۔
غلاظت باہر آرہی تھی۔
اور ایسے منظر دیکھنے کا وہ ہوش سنبھالنے کے دن سےعادی تھا، سامنے بیٹھے بھاری تن وتوش کے مالک مشفق میاں کے سر پر سفید لشکارے مارتی ہوئی ٹوپی تھی،وہ کُچھ دیر قبل ہی تو جمعہ پڑھ کرآیا تھا، اُس نے گھر سے جاتے ہوئے تو یہی کہا تھا کہ نماز کیلئے جارہا ہوں اب پہنچا تھا یا نہیں یہ صرف خدا جانتا تھا البتہ بیوی نے سجدہ شکر ضرور ادا کیا تھا کہ تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی کم ازکم وہ نماز کے بہانے گھر سے غائب تو ہورہا تھا، سعد نے منمناتے ہوئے کہا بھی تھا ”ابو! دس منٹ رُک جائیں میں نہا کر آتا ہوں،میں آپ کے ساتھ چلوں گا نماز کیلئے“،لیکن والد محترم کو خدا کے آگے سربہ سجود ہونے کی غالبابہت جلدی تھی اس لئے رُکنا ممکن نہیں تھاالبتہ اس جلدی جلدی میں بھی وہ بیوی کو ”خوراک“ دینا نہیں بھولا تھا جس کی کاہلی اور سستی نے اُسے جمعہ کیلئے دیر کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لہذاٰ ضروری تھا کہ اُس بے چاری کی ذات کے بخیئے ادھیڑنے کے ساتھ ہی اُس کے جنت مکانی ماں باپ کو گالیوں کا نذرانہ عقیدت پیش کیا جاتا اور جب تک وہ ”روزے دار“ بیوی کے اگلے پچھلوں کو نواز کر ”فارغ“ ہوا تب تک سعد باتھ روم سے باہر نکل آیا تھا مگر وہ مشفق میاں ہی کیا جو کسی کی خواہش پوری کردیتے،مشفق میاں ”گُنوں کے پورے“ تھے بعض دفعہ تو اس بات پر حیرت ہوتی کہ دُنیا جہاں کی تمام تر بُرائیاں و خامیاں کسی ایک انسان میں کیسے اکھٹی ہوسکتی ہیں،مشفق میاں کے مزاج سے ہر ایک کچھ ایسا ہی عاجز تھا اور گھر کے افراد،خاندان والے،آفس کے ساتھی سمیت محلے والوں تک کوئی ایسا ذی روح نہ تھا جس نے مشفق میاں کو نہ ”بھگتا“ ہو،اب مشفق میاں ایسے بھی جلاد صفت نہ تھے کہ بات بہ بات لوگوں کا گریبان پکڑ لیتے یا ”گچی“ ہی دبادیتے اور نہ ہی دوسرے لوگ اتنے کم ہمت کہ اُن کا ناطقہ بند نہ کرسکتے،مگر بات یہ تھی کہ عزت دار شخص کسی اور چیز سے ڈرے نہ ڈرے اگلے کی زبان سے ضرور ڈرتا ہے اور مارنے والے کا ہاتھ تو روکا جاسکتا ہے،گالیاں دینے والی زبان کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی ہتھیار ابھی تک تو ایجاد نہیں ہوسکتا،ہاں بھئی!اُس کے بارے میں ایک رائے پر ساری دنیا متفق تھی کہ“میاں مشفق موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کب کوئی بات مزاجِ شاہانہ کے خلاف ہو اور وہ اپنی زبانی منجنیق سے دس دس کلو وزنی”گالی” باری کریں“، سو مشفق میاں اپنی انہی خصوصیات پر بدمست ہاتھی کی طرح اکڑ کر چلتے۔۔۔خیر خیر۔
سعد جس قدر تیزی دکھا سکتا تھا اُس نے دکھائی تھی اس کے باوجود مشفق میاں اُسے اپنے پیچھا آتا دیکھ کربھی نہ رُکے اور مسجد کی جانب ہولئے اور سعد بے چارہ باپ کی انگلی تھام کر مسجد جانے کی آرزو دل میں ہی لئے پیچھے ہی رہ گیا،اب اُس بے چارے کا بھی کیا قصور،اپنے ہم عمر دوستوں،کزنز وغیرہ کواپنے اپنے باپوں کے ساتھ ہنستے مُسکراتے مسجد جاتا دیکھ کر اُس کابھی جی چاہتا تھا کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ جمعہ،عیدین کی نماز ادا کرے،باپ اُس کا وضو کروائے،اُسے نماز کے ارکان سمجھائے،اُس کی ٹوپی درست کرے، مسجد سے واپس آتے ہوئے اُسے راستے میں دوکان کے پاس روک کر کوئی چیز دلائے مگر سعد اور اُس دوستوں کے درمیان بڑا ہی فرق تھا،باپ کی کمپنی شائد اُن سب کیلئے ایک عام سی چیز تھی،روزمرہ زندگی کا حصہ۔۔۔جیسے کھانا پینا کھیلنا پڑھنا کمپیوٹر۔۔۔اور اُس کیلئے۔۔۔اُس کیلئے زندگی کی سب سے بڑی حسرت۔
بعض مردوں کو اولادیں پیدا کرنے کا شوق صرف اس لئے ہوتا ہے کہ وہ خاندان، دوستوں،محلے والوں سمیت اپنی ”بیوی“ پر یہ ثابت کرسکیں کہ وہ بھرپور مرد ہیں، اولاد سے اُن کا تعلق محبت،شفقت،دوستی اور ذمے داری کا نہیں ہوتا،بس اولاد اُن کیلئے ”نارمل“ ہونے کی سند ہوتی ہے اور اس سند کے ساتھ وہ جو چاہے سلوک کریں،انہیں سرعام معمولی سی معمولی بات پر گالیاں دیں،اُن پر ہاتھ اٹھائیں یا انہیں نیچا دکھاتے ہوئے اُن کے اندر عزت نفس نامی جراثیم کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مار ڈالیں،ایسے ”قاتل“ باپ کو کم از کم پاکستان میں نافذ کوئی قانون،کوئی شریعت کوئی سزا نہیں سناتی اور مشفق بھی ایک ایسا ہی مرد تھا۔۔اللہ نے اُسے دو پیارے پیارے بچے کیا دے دیئے تھے کہ وہ تو آپے سے باہر ہی ہوگیا تھا۔
جامع مسجد میں نماز کی ادائی کے بعد اُس نے باپ کو مسجد کے گیٹ پرکھڑے رہ کر ڈھونڈابھی تھا اور انتظار بھی کیا تھا۔۔۔کافی دیر کیا تھا۔۔۔لیکن پھر حالت خراب ہونے لگی تھی۔۔۔وہ محض دس سال کا بچہ ہی تو تھا۔۔۔ایک تو جون کی شدید گرمی۔۔۔چلچلاتی دھوپ اور اس پر وہ دس سال کا بچہ اور روزے دار۔۔۔ماشاء اللہ۔۔۔
تیز دھوپ میں کھڑا باپ کا انتظار کرتا رہاکہ وہ باپ کے ساتھ مسجد آ نہیں سکا تھا تو کیا ہوا،باپ کی سنگت میں اپنے دوسرے دوستوں کی طرح گھر واپس جا تو سکتا تھا مگر باپ تھا کہ گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب،پسینہ سر کے مساموں سے پھوٹا اور دھاریں ایڑھیوں تک جا رہیں،پیاس سے گلے میں کانٹے پڑنے لگے تھے۔۔۔صبح چار بج کر سولہا منٹ پر آخری قطرہ پانی کا اُس کے حلق میں گیا تھا اور اُس وقت دن کے اڑھائی بج رہے تھے لیکن کیا شوق تھا۔۔۔کیا جذبۂِ ایمانی تھا۔۔۔مجال ہے جو روزہ لگنے کا خیال بھی ذہن کے دریچے سے جھانکا ہو۔۔
دس سال کا بچہ۔۔
2019 کے دور کا بچہ۔۔۔۔
اللہ اللہ۔۔۔
مایوس اور دلگرفتہ گھر لوٹ آیا اور پایا کہ باپ کھانا کھارہا ہے۔۔۔۔کوئی حیرت نہ ہوئی۔۔۔کوئی ہوک نہ اٹھی۔۔۔باپ کو روزہ نہ رکھنے کی برسوں سے عادت تھی البتہ روز صبح سحری کے وقت وہ تمام اہلِ خانہ کے ساتھ دستر خوان پر شائد اپنے حصے کا رزق کھاتا تھا یا شائد اللہ کی آزمائش پر کھوٹا ثابت ہوتا تھا۔۔۔ہاں وہ روزے سے پرہیز اس لئے کرلیتا تھا کہ اُسے ڈی ہائڈریشن ہوجاتی ہے۔۔۔اور اُسے مریض باپ کے اس عُذر پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔کیسے ہوسکتا تھا؟۔۔وہ کم عمر بھی تھا کم حوصلہ بھی۔۔۔۔باپ اگر کہتا تھاتو ہوسکتا ہے ویساہوبھی۔۔۔۔حالانکہ اُس نے اپنی ماں اور دادی کو اس بات کا شُکر ادا کرتے دیکھا تھا کہ مشفق میاں روزہ نہیں رکھتے۔۔۔۔کہ بیشک شیطان کو اللہ قید کردیتا ہے اس ماہِ مُبارک میں لیکن بعض انسانوں کے مزاج،زبان اور ہاتھوں کے ذریعے وہ شیطان ”آزاد“ ہی گھوم رہا ہوتا ہے۔اور ایسے باپ کاوہ دس سال کا بچہ شکوہ کرنا چاہتا تھا اور درگزر کرنا سیکھ رہا تھا۔۔دل میں فطری خواہشیں سر اٹھاتی تھیں اور وہ انہیں صبر کی تھپکیاں دے کر ابدی نیند سُلانے کا آغاز کرچکا تھا۔۔۔حیرت کسی بات کی نہ تھی۔۔۔نہ باپ کی سرپرستی سے محرومی کی۔۔۔۔سرپرستی صرف ”کفالت“تو نہیں ہوتی ہے نا۔؟
ہاں!تو اُسے حیرت نہ گالیوں کے اُس سلسلے پر ہورہی تھی جو وہ ”روزے“ کی حالت میں کسی ایرے غیرے سے نہیں بلکہ سگے باپ سے کھا رہا تھا اور نہ ہی ایک ”روزہ خور”کودس سال کے معصوم روزے دار کے سامنے اس طرح ڈھٹائی سے کھانا کھاتے دیکھنے پر۔
اُسے حیرت اُس ”ترغیب“پر تھی جو اُس کے باپ نے گالیوں کی بے شمار تراکیب کو سابقے اور لاحقے کے بطور استعمال کرتے ہوئے اُسے دی تھی،جسے سُن کر وہ سُن ہوگیا تھا۔
”روزے کی حالت میں!!“اُس نے سوچنا چاہا تھا اور ہمیشہ کی طرح اپنی دُرست سوچ کو ادھورا چھوڑ کراپنی غلطی تلاش کرنے لگا تھا۔
”مگر غلطی میری ہی تو ہے نہ میں دستک سُن کر دروازے پر جاتا اور نہ ہی ظہیر انکل کو کہتا کہ ابو کھانا کھارہے ہیں ابھی آجاتے ہیں“،اُس نے جھکے سر کے ساتھ نتیجہ اخذ کیا تھا ”کم ازکم ابو کی بے عزتی تو نہ ہوتی،ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں ابو“۔
حالانکہ کیا ہوا تھا۔۔۔کچھ بھی تو نہیں۔.
دادی آرام کررہی تھیں،امی جمعے کی نماز کے بعد ابو کو کھانا دے کر اذکار میں مصروف تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی، وہی دروازے پر گیا تھا،ابو کے دوست ظہیر انکل تھے اور گپ شپ کرکے وقت گزاری کی نیت سے آئے تھے اور ایک وہ تھا۔۔بدذات۔۔۔کم عقل۔۔۔اُس نے کیسا سنگین جرم تھا جو کردیا تھا۔
”ابو کھانا کھارہے ہیں آپ تھوڑا انتظار کرلیں“،اس دس سال کے بچے نے روزے کی حالت میں سچ کہہ دیا تھا بناء کچھ سوچے سمجھے اور سچ کی قیمت وہ مشفق صاحب کی زبان سے ”گالیوں“ کی صورت وصول کررہا تھا۔
”تیری عقل کام نہیں کرتی ہے کیا؟،یہ بھونکنے کی کیا ضرورت تھی تجھے۔۔۔کُتے کے بچے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا کہ ابو سورہے ہیں؟،تجھ جیسی کنجر اولادیں ہی ذلیل کراتی ہیں ساری دُنیا کے سامنے۔۔اب وہ خبیث ظہیر سارے شہر کو بتادے گاکہ میں روزہ نہیں رکھتا۔۔خیر۔۔دیکھ لوں گا میں محلے کے ان مادر۔۔“آگے محلے والوں کی مٹی پلید کی گئی تھی۔۔
”لیکن ابو کو دنیا سے یہ بات چھپانے کاخیال ہے“ذہنی رو بھٹکی تھی۔۔۔ویسے حد ہے یہ بھی۔۔ذہنی رو بھی بڑی ہی آوارہ ہوتی ہے غلط وقت پر اچانک ہی بھٹک جاتی ہے ”دنیا بنانے والے سے کیا وہ کُچھ چھپاسکتے ہیں؟،وہ تو سب جانتا ہے“۔۔بڑا ہی خوفناک سوال تھا۔۔اور جواب۔
اِدھر مشفق نے آخری لقمہ منہ میں لیا۔
اُدھر منہ سے آخری گالی نکلی۔
ہاتھ پونچھتا،ٹیبل کو ٹھڈا لگاتا وہ اٹھ کر باہر گیا۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے نہ جانے کیا سوچ کر وہ باپ کے پیچھے ہولیا۔
”نہیں یار وہ تو بچے نے یونہی کہہ دیا ہوگا ورنہ میں تو سورہا تھا۔۔آج کے بچے تو تجھے پتا ہی ہے صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں“،دروازے کی اوٹ میں اُس نے اپنے باپ کی آواز سُنی تھی۔
دس سال کا وہ بچہ ”فانی دنیا“کا ”فریب“ باپ کی صورت دیکھتا رہ گیا تھا۔

ختم شُد.