رمضان کہانی : “رزق” از محمد انس حنیف.

13530262_10205749291002849_1692883483_n

رزق

لکھاری ـ محمّد انس حنیف

رمضان کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان متقی ہوجائے اور تمہیں پتا ہے متقی کون ہوتا ہے ؟ کچن میں اماں سکینہ کے ساتھ برتن دھلواتے ہوئے اس نے لائونج سے آنے والی نرم سی آواز سنی تھی،اس کے ہاتھ یکدم ساکت ہوئے تھے جیسے وہ اس سوال کا جواب خود بھی جاننا چاہتی ہو ۔
متقی انسان اللہ کی خوشی کیلئے،اللہ کی محبت میں ہر برا کام چھوڑ دیتا ہے،دوسرے انسانوں کی مدد کرتاہے، اللہ پر توکل کرتا ہے نرم سی وہ آواز اب بھی آرہی تھی،ریشماں نے قدرے بے چینی سے پاس کھڑی اماں سکینہ کا چہرہ دیکھا تھا،جو کسی بھی تاثر سے عاری تھا،وہ بے حد عام سے انداز میں جلدی جلدی اپنا کام نبٹانا چاہتی تھی،گویا اسے آس پاس سے آنے والی کسی بھی آواز سے کوئی غرض نہیں تھی۔
توکل جانتے ہو کیا ہوتا ہے ؟،ریشماں ایک بار پھر لائونج کی جانب متوجہ ہوئی ۔
اللّه پر توکل کہ جو کچھ بھی انسان کو ملتاہے کھانا پینا،کپڑے،گھر ہر چیز کم یا زیادہ وہ سب اللہ کی طرف سے ہی ملتا ہے کبھی دیر سے ملتا ہے مگر مل جاتا ہے انسان پھر جلد بازی میں ان چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے غلط کام کیوں کرے ۔
دائود صاحب کہہ رہے تھے کچن میں ریشماں کے بدن میں جھرجھری دوڑی تھی ۔۔یہ خوف تھا ۔دائود صاحب کی باتوں پر وہ اکثر خوفزدہ ہوجاتی تھی ۔دائود صاحب بڑے صاحب کے سب سے چھوٹے بھائی تھے جو ملازمت کے سلسلے میں کئی سالوں سے دبئی میں ہوتے تھے اور اس بار عید پاکستان منانے کیلئے دو ہفتے قبل ہی واپس آئے تھے ۔وہ اکثر رات کے وقت اپنے دونوں بھتیجوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہوئے کچھ اچھی باتیں انہیں سکھاتے تھے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ان کے بھائی اور بھابھی اپنے بچوں کی تعلیم پر لاکھوں روپے تو خرچ کررہے ہیں لیکن تربیت کیلئے انہیں مناسب وقت نہیں دیتے ۔ انہیں یہ خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ ایسے ہی کسی وقت آس پاس کسی کام میں مصروف ریشماں ان کی باتوں کو بہت غور سے سنتی ہے ۔
اللّه کہتا ہے کہ اپنے پاس موجود چیزوں سے less privilege لوگوں کو دیا کرو تاکہ تمہارا مال بابرکت ہوجائے تو بیٹا یہ سب توکل ہے اور اسی سے انسان متقی بنتا ہے نماز روزہ کے ساتھ اس کی بھی بڑی اہمیت ہے دائود صاحب اپنے بھتیجے کے کسی سوال کا جواب دے رہے تھے ۔
کیا سوچ رہی ہو جلدی جلدی ہاتھ چلائو ڈھیر پڑا ہے برتنوں کا اسے ساکت دیکھ کر بالاخر اماں سکینہ نے اسے ٹوک ہی دیا تھا وہ جیسے نیند سے جاگی تھی،بے دلی سے برتن دھونے لگی،اماں سکینہ کی بڑبڑاہٹیں شروع ہوچکی تھیں ۔
ایک تو یہ بڑے لوگ افطار پر اتنا کچھ بنوالیتے ہیں کہ غریب اپنی اولاد کا ولیمہ ہی کرلے اتنے ڈھیر کھانے سے ۔
ریشماں اپنی ماں کے ساتھ اس بنگلے میں پچھلے پانچ سال سے کل وقتی ملازمہ کے طور پر کام کررہی تھی جبکہ خود اس کی عمر اس وقت چودہ سال تھی، صبح سویرے وہ اماں کے ساتھ یہاں آتی اور رات گیارہ بارہ بجے رخصت ہوتی،گھر کے تمام امور وہ اپنی ماں کے ساتھ مل کر نبٹاتی تھی،اماں سکینہ نے بہت کم عمری میں ہی اسے ہر کام میں تاک کردیا تھا،صفائی ستھرائی،کچن کے کام،کپڑوں کی دھلائی وہ ہر چیز بڑی مہارت سے کرتی تھی یہی نہیں اماں سکینہ نے اسے ایک اور گر بھی سکھایا تھا ۔
اماں سکینہ گھر کے کام کرنے کے دوران موقع ملنے پر کسی بھی چیز کو پار کرلیا کرتی تھی،روپیہ،کھانے پینے کی اشیاء اس کا خاص ٹارگٹ ہوا کرتے تھے مگر اس معاملے میں وہ اتنی ہوشیار تھی کہ صاحب یا صاحبہ کو ان سالوں میں کبھی بھنک بھی نہ پڑی تھی کہ ان کے گھر آئے دن ڈاکے پڑتے ہیں ۔حالانکہ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے وہ کئی بار ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی لیکن پچھلے پانچ سالوں سے وہ حقیقتاً عیش کررہی تھی اتنے اچھے مالکان اسے کبھی نہیں ملے تھے جن کی توجہ گھر پر سرے سے تھی ہی نہیں صاحب اور صاحبہ دونوں مصروف ہی اتنا رہتے تھے ،تنخواہ کے علاوہ ہر ماہ راشن ڈلواتے، دکھ بیماری میں مدد کرتے لیکن اماں سکینہ کا پیٹ خالی ہی رہتا تھا اور یہی نمک حرامی وہ ریشماں کو بھی سکھارہی تھی ۔
ریشماں کو بعض دفعہ یہ حرکت نادم کرتی تھی لیکن وہ پھر یہ سوچ کر مطمئن ہوجاتی کہ اس گھر میں وہ تمام نعمتیں ہیں جو اس کے دو کمروں کے چھوٹے سے بوسیدہ گھر میں نہیں ہیں اور ان تمام نعمتوں کے حصول کا واحد راستہ یہی چوری تھا ۔چنانچہ وہ اماں سکینہ کے کہنے پر اکثر چھوٹی موٹی اشیاء اپنے شاپر میں چھپا لیتی تھی اس طرح کے گیٹ سے نکلتے ہوئے چوکیدار کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی تھی ۔
ریشماں پتر یہ شاپر یہاں رکھا ہے اسے چھپا لینا اماں ریشماں نے موقع دیکھ کر فریج سے انواع و اقسام کے جوسز،شربت،مایونیز،کیچ اپ اور جنجر بریڈ وغیرہ نکال کراپنے چند پرانے کپڑوں میں لپیٹ کر شاپر بھر دیا تھا ،ریشماں نے دھلے ہوئے برتن خشک کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا
اور رمضان کا مہینہ ہمیں متقی و پرہیزگار بنائے بغیر گزر جائے تو اس سے بڑا نقصان کیا ہوگا دائود صاحب کی آواز اب بھی آرہی تھی ۔
لیکن کیسے ؟ بڑے بھتیجے نے پوچھا تھا ۔
ایسے کہ کوئی ایک اچھی عادت اپنالی جائے اور ایک برائی اپنے اندر سے ختم کرلی جائے دائود کی آواز سنتے ہوئے ریشماں نے سنک کے پاس اس شاپر پر نظر ڈالی جسے اماں سکینہ وہاں رکھ کر مالکن کو بتانے گئی تھی کہ کام ختم ہوگیا ہے اور وہ واپس جارہی ہے ۔
ریشماں نے عجیب سے انداز میں اس شاپر کو اٹھالیا تھا .
راستہ بھر اماں سکینہ اسے نہ جانے کونسی داستان سناتی رہی تھی جبکہ اس کے کانوں میں دائود صاجب کے جملے گردش کرتے رہے تھے اور ہاتھ میں موجود شاپر بے حد بھاری لگنے لگا تھا اسے ۔حالانکہ اس میں گنتی کی چند چیزیں تھیں پھر بھی اسے لگ رہا تھا جیسے وہ پہاڑ کو تھامے چل رہی ہے .
گھر کے کچے صحن میں قدم رکھتے ہی اس کی نظر ٹوٹی ہوئی چارپائی پر پڑے باپ پر گئی تھی جو ان ہی کا انتظار کررہا تھا ۔وہ کافی عرصے سے دمے کا شکار ہوکر گھر میں پڑا تھا اس مرض سے پہلے وہ ایک بھٹے پر مزدوری کرتا تھا اور ریشماں سمیت اپنی دس اولادوں کو جیسے تیسے پال رہا تھا لیکن وہ بھی کوئی بہت ایماندار آدمی نہیں تھا ۔اماں سکینہ اس کے پاس بیٹھی اس سے کوئی بات کرنے لگی تھی، ریشماں نے وہ شاپر باپ کے سامنے رکھا اور کمرے میں چلی آئی ۔ایک بات تو طے تھی آج اسے نیند نہیں آنی تھی ۔
******
ریشماں پتر آج تو اکیلی چلی جا رات سے اب تک تیرے ابا کی طبیعت نہیں سنبھلی میرے پیچھے کہیں ۔۔دہل کر اماں سکینہ اپنی بات مکمل نہ کرسکی تھی ۔ریشماں کے دل میں آیا کہ منع کردے بڑی مشکلوں سے وہ اس روز دائود صاحب کی باتوں کو ذہن سے جھٹکنے میں کامیاب ہوئی تھی اور اتنے دنوں سے کوشش میں تھی کہ دائود صاحب جب اپنے بھتیجوں سے بات کررہے ہوں تو وہ آس پاس نہ ہو مگر اس کا کیا کیا جاتا کہ دن میں کئی بار اس کا دائود صاحب سے سامنا ہوتا تھا اور وہ اتنی شفقت سے اس کا حال چال پوچھتا تھا کہ وہ جیسے حواس کھونے لگتی تھی باپ جیسی شفقت دکھانے والا دائود صاحب اس کا باپ نہیں تھا مگر وہ اس عمر میں اسے یوں رزق کماتا دیکھ کر باپ کی طرح ہی دکھی ضرور ہوتا تھا اور آج اماں کے بغیر جانے کا مطلب تھا کہ ۔۔وہ چودہ برس کی تھی مگر اس کے احساسات اور ذہن جیسے اسے قبل از وقت بوڑھا کر گئے تھے ۔
اور ہاں افطاری بنتے ہی واپس آجانا ساتھ کچھ لے بھی آنا اماں سکینہ کی آواز نے اس کی سوچوں کو توڑا تھا اس نے ٹھس سے انداز میں سر ہلایا اور پھر منہ ہاتھ دھو کر وہ کام پر جانے کیلئے نکل ہی رہی تھی کہ اماں سکینہ کی آواز پر رکنا پڑا ۔
یہ شاپر تو لیتی جا معنی خیز لہجے میں اماں سکینہ نے کہا تھا ایک بار پھر وہ انکار نہ کرسکی۔
دن بھر محنت مشقت کرکے کاٹ لیا تھا ۔
محنت کرکے کمائے جانے والے رزق کو انسان کیوں حرام میں بدل لے زرا سی بے ایمانی کر کے ۔۔
افطار سے زرا دیر پہلے وہ شاپر میں تیزی سے چیزیں بھر رہی تھی جب اس نے دائود کی آواز سنی تھی جو شائد رمضان ٹرانسمیشن دیکھتے ہوئے کسی بات پر کہہ رہا تھا، یکدم شاپ پر اس کے ہاتھوں کی گرفت ہلکی ہوئی تھی ۔۔وہ روزے کی حالت میں حلال رزق کماتے کماتے یہ کیا کررہی تھی ۔
*****
نی شاپر کدھر ہے اماں سکینہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی اس نے کلی کی اور دوپٹہ نمازوالے انداز میں سر پر اوڑھتے ہوئے کہا ۔
وہ میں نہیں لائی اماں ؟.
پر کیوں ؟ کوئی دیکھ رہا تھا کیا ؟ .
ہاں .
کون صاحب .؟ اماں سکینہ کو یکدم ہی نوکری ہاتھ سے جاتی محسوس ہوئی تھی ۔
نہیں …اللّه ریشماں نے اطمینان سے کہا اور جائے نماز بچھانے کیلئے صحن میں آگئی ۔
کیا مطلب تیرا تو پاگل تو نہیں ہوگئی کدرے ۔۔تجھے پتا نہیں خوبانیاں تیرے ابے کو کتنی پسند ہیں ؟
ہاں مگر اللّه کو چوری نہیں پسند ۔
بوہتیاں گلاں نہ کر ودھ ودھ کے ۔اماں سکینہ کو جلال ہی تو آگیا تھا ۔
اماں اللہ نے مقدر میں جو لکھا ہے وہ ہمیں مل جاتا ہے ۔
مقدر بنانا پڑتا ہے ہم جیسوں کو ۔
حرام رزق سے نہ مقدر بنتا ہے نہ آخرت اماں بس آج کے بعد اس گھر میں چوری کا رزق نہیں آئے گا ۔اس نے فیصلہ سنادیا تھا ۔
ہاں اور ہم بھوکوں مریں گے ائے سنتے ہو ریشماں کے ابا ۔
نہیں اماں ہمارے مقدر کا رزق خود ہمیں مل جائے گا اس نے کہا تھا اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔
کون ہے کہتے ہوئے اماں نے دروازہ کھولا تھا اور پھر پتھر ہوگئی تھی سامنے صاحب کا بڑا لڑکا ہاتھ شاپر لئے کھڑا تھا۔یعنی چوری کا سامان یعنی نوکری گئی اماں سکینہ کو سکتہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا ۔
یہ میں آپ کیلئے لایا ہوں ؟ .
پر پتر یہ ہے کیا ؟ اماں نے تھوک نگلتے ہوئے کہا
یہ افطار کیلئے کھانا ہے اور دوا کے پیسے اب آپ کو شاپر لانے کی ضرورت نہیں میں خود آپ کے حصے کا کھانا بانٹنے آیا کروں گا وہ کہتے ہوئے چلا گیا تھا ۔اماں سکینہ حیران کھڑی رہ گئی تھی ۔
دائود صاحب کی ایک اچھی عادت اپنانا اور ایک برائی چھوڑدینا والی بات یقیناً اس بچے نے سمجھ لی تھی اور اس نے بھی ۔مسکراتے ہوئے مطمئن انداز میں ریشماں نے نماز کی نیت باندھی تھی ۔