حشر نشر : “ہجرت” نے تھیٹر سے آدھے گھنٹے کے بعد ہی ہجرت کروادی۔۔۔از عروج بنت ارسلان۔

download

جا چکے ہو مگر نہیں جاتے
تم تو “ہجرت ” کمال کرتے ہو

مجھے لگتا تھا کہ بنا کہانی کے میڈیم شمیم آرا ہی بے حد خوبصورت فلمز بنا سکتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔۔۔ فاروق بھائی نے میرے اِس اندازے کو غلط کر دیا۔۔۔۔

The Most Awaited Big Budget Film of FM Production has Released Now in Cinemas Near You.

 فاروق مینگل کہتے ہیں کہ اُنہوں نے 35 ایم ایم پر کام کیا ہے جس پر ڈیجیٹل کی دوڑ میں اب کم ہی کام ہو رہا ہے

 اور میں کہتی ہوں کہ اُنہوں نے وہ کام کیا ہے جو پہلے”ہی” ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ سوچنا یہ ہے کہ “ نیا کیا ہےرائیول آف سینما کہا ں اور کس کا ہو رہا ہے ؟  ۔۔۔۔۔۔۔

پرویز رانا کریں تو ” چہ” یہ کریں تو “واؤ”۔ ”                                  

 گجر گردی سینما سے پڑھا لکھا سینماتک کا سفر۔۔۔۔۔ انگلش کا ہی سفر لگا۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ فلم کے پہلے دس منٹ میں کہانی سمجھ میں آنے لگتی ہے اگر نہ آئے تو سمجھو کہ اُس میں سب ہو گا مگر ”  کہانی” نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔ “ہجرت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔۔۔۔ کہانی، سکرین پلے، ڈائرایکشن اور پروڈکشن ۔۔۔۔ بھائی کوئی ایک کام تو آپ خود نہ کرتے جیسے جیسے کہ کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی آپ کے پاس سب کچھ تھا  تھوڑا سا حوصلہ کر کے اپنی کہانی کسی سے لکھوا ہی لیتے۔۔۔۔۔

ہجرت” میں پاکستانی ناظرین کے لئے سب مصالحہ ہے نہیں ہے تو بس ایک کہانی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ میڈیا میں جو فلمز کے سینوپسز گردش میں تھے وہ یہ تھے

Hijrat

1

اگر “ہجرت” اسی سینوپسسز پر ہوتی تو کمال ہوتی ۔۔۔۔ کہانی اگر رفیوجیز پر اور افغان وار پر تھی تو صرف ایک ایوب کھوسہ کے ڈائیلاگ پہ ہی کیوں ختم ہو گئی؟ ایک عام ناظر کی حثییت سے اگر” مراد “جس “رپورٹ “کو بنانے کے لئے بارڈر پر پہنچا تھا وہ ” ویڈیو رپورٹ “کہانی کے اینڈ میں کسی بڑے پلیٹ فارم  (یو۔ این۔ او)میں پریزنٹ کرتا تو شاید “ہجرت” کا مقصد پورا ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

سکرین پلے
تھا  Abrupt سکرین پلے بہت ہی

 کردار ،مکالمے
(کمال کی اداکاری تھی ۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ اپنی  ( ہال میں بیٹھے رہنے کی

کون سا کردار کیا ہے کیوں ہے کس لئے آ رہا ہے کچھ جسٹی فائی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ ڈرامہ ہوتا تو شاید 4 اقساط کے بعد کھل جاتا

ہوتی ہے۔۔۔۔۔ LARGER THAN LIFE مگر یہ تو فلم تھی جو
“فاروق بھائی۔۔۔۔۔ سچ میں ٹوٹی ہوئی ہیل پھر سے جڑ سکتی ہے مگر فلم کا خریدا ٹکٹ واپس نہیں ہو سکتا”

اسد زمان ایک اچھا اضافہ ہے ۔۔۔۔ گڈ لکنگ، ہینڈسم اسد سے مزید بہتر کام لیا جا سکتا تھا۔۔۔۔ وہ جو کنٹینیوٹی کے طور پر مراد کے چہرے پرتھپڑ کھا کر بھی رومانس رہا ہے وہ  کمال تھا۔۔۔۔۔
رابعہ بٹ۔۔۔۔بس سو سو ۔۔۔۔ اُس کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا اور میرا جا نہیں رہا تھا
رباب علی بھی اچھا اضافہ ہے
ماہ جبین بھی اچھی رہیں
زیب رحمن اور جمال شاہ۔۔۔۔۔ سمجھ میں نہیں آئے۔۔۔۔
عذرا آفتاب، ایوب کھوسہ کم الفاظ جاندار اداکاری
ایک این جی او والے صاحب تھے جو مراد کو کیمپ کے بارے میں بتاتے ہیں اُن کا ذرا سا کام بھی اچھا تھا۔۔۔۔
فہد نور بہت اچھا اضافہ ہو سکتا ہے
اور رہے ندیم بیگ صاحب ۔۔۔۔۔  میرے خیال میں وہ کبھی بڑے نہیں ہوں گے۔۔۔۔ ایک سی اداکاری، ایک سے تاثرات۔۔۔۔۔۔ مگررہیں گے وہ ہمارے لیجنڈ ۔۔۔۔

ایڈیٹنگ
وہ کہتے ہیں نہ کہ ” کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا” ۔۔۔۔۔۔۔جب کہانی میں ہی جھول ہو تو ایڈیٹنگ کیا کر سکتی ہے؟

 سینماٹوگرافی
کچھ چیزیں کمال تھیں جیسے سینما ٹوگرافی۔۔۔۔۔۔ تعریف کرنا بنتی ہے ۔۔۔

لوکیشنز
   ترکی جانے کا کیا مقصد تھا یہ تو نہیں معلوم مگر چلے ہی گئے تھے تو ترکی میں استنبول جہاں بھی گئے تھے وہ اچھے سے دیکھا بھی دیتے تو اچھا رہتا۔۔۔۔ ورنہ میٹرو تو یہاں بھی تھی۔اور پورٹ گرینڈ پر بھی شوٹ بہترین ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔  فارم ہاوسسز بھی ہمارے ہاں کسی سے کم نہیں ہیں۔۔۔۔ بار والا گانا تو ویسے بھی لوکل ہی شوٹ ہوا تھا ۔۔۔۔ کوئٹہ کی لوکیشن کمال تھی 

کاسٹیومز
 بیگ صاحب کا تو ویسا ہی کاسٹیوم تھا جیسے 2005 میں “انکل رومیو” کا ” کوئی تجھ سا کہاں” میں تھا ۔۔۔۔۔
 جب انجیلنا جولی پاکستان آ کر قمیض شلوار پہن سکتی ہے تو “ڈاکڑ جیا” اور “سارہ” کوکوئی مسئلہ تھا کیا؟
 

کوریوگرافی
اچھے تھے۔۔۔۔اور ہاں یہی ثنا کی انٹری اسی لباس میں اگر پرویز رانا یا کسی پنجاب کے ان پڑھ ڈائرایکٹر کی فلم میں ہوتی اور  اور  وہاب شاہ یا حیدر کی جگہ جبار سمراٹ ڈانس ڈائرایکٹر ہوتا اور آواز نصیبو کی ہوتی تو یہ ولگرٹی کی  انتہا میں آتا ۔۔۔۔ مگر پڑھے لکھے سینما میں یہ آئٹم نمبر کہلاتا ہے ۔۔۔۔۔

میوزک
میوزک بلا شبہ کمال تھا۔۔۔
اجاڑ بستی فگار راہیں
برانڈ چورسالا
دلی سے لاہور چلی رے
خوش آمدید
ہے سن رہا خدا
مولا

اگر کہا جائے کہ فلم کا پلس پوائینٹ میوزک ہے تو غلط نہ ہو گا۔۔۔۔ ساحر علی بگاکی کمال کمپوزیشن ۔عاصم رضا کے لکھے گیت  لاجواب۔۔۔۔ کوک سٹوڈیو کے بعد راحت علی اور علی عظمت کا سنگم ۔۔۔۔ جاوید بشیر۔ سارہ رضا، عمر۔  انڈین سنگر شرلی سب ہی لاجواب تھے۔۔۔ سارہ رضا نے ثابت کر دیا کہ وہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کی بہترین پلے بیک سنگر ہوگی۔۔۔۔۔

سب سے آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ ٹی وی والے فلم والوں کی نہ لیں ورنہ  26 اقساط کو ڈھائی گھنٹے کی پرزنٹیشن بنا کر عوام کی لینا کیا
Rape Attempt in the name of ” Revival of Cinema
نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟ 

” بنتِ ارسلان کا قلم، کاری “