سلسلے وار ناول : “شہرزاد” از صائمہ اکرم چوہدری.. قسط نمبر 6.

تحریر : صائمہ اکرم چوہدری.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
’’اوہ مائی گاڈ ۔۔!!! ‘‘
رومی کی دھڑکنوں میں بپا قیامت تھم سی گئی ،اس کی رنگت خطرناک حد تک سپیدپڑ چکی تھی،اور لب تیزی سے ہل رہے تھے،شاید وہ دل ہی میں کوئی دعا مانگ رہی تھی جو اسے اس قسم کی خطرناک سچوئشن سے نکال سکتی۔
’’اب کیوں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی ہیں تم نے۔۔۔‘‘اس کے بلند وبانگ قہقہے پر اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
رومیصہ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں ،وہ ایک تلخ حقیقت کی مانند اس کے سامنے کھڑا تھا۔اس نے بوکھلا کر دائیں طرف دیکھا، کھڑکی کا شیشہ چکنا چور ہو چکا تھا اور اس کے ذرات فرش پر پھیلے ہوئے تھے۔
’’تمہارا کیا خیال ہے، اتنی آسان موت ماروں گا تمہیں۔۔۔‘‘اس کا سرد لہجہ رومی کے حواس معطل کر گیا۔اس نے تھوک نگل کر اپنے خشک ہوتے حلق کو تر کیا،یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی پل صراط پر آن کھڑی ہو۔جہا ں ذرا سی لغزش پر ایک گہری دلدل اسے نگلنے کو تیار ہو۔
’’اتنا بے وقوف لگتا ہوں تمہیں۔۔۔‘‘ اسکے متنفر انداز پر رومیصہ کی پیشانی پر تفکر کی لکیریں رینگنے لگیں۔وہ ہونٹوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کیے
بالکل خاموش تھی،جیسے کسی نے اس پر منتر پڑھ کر پتھر کا بنا دیا ہو۔
’’بے فکر رہو، ایسی موت ماروں گا تمہیں کہ قبر میں بھی قیامت تک تڑپتی رہو گی۔۔۔۔‘‘ وہ اپنے خطرناک ارادوں سے باخبر کر تے ہوئے اسکے اعصاب
کو مذید کمزور بنا رہا تھا۔ کھڑکی سے باہر اب گہرے سناٹے کے ساتھ اندھیرے کا راج تھا۔
’’کیا کہا تھا تم نے ،تھوڑی دیر پہلے مجھے ۔۔۔۔‘‘اس نے ریوالور سے اسکی ٹھوڑی کو تھوڑا سا اونچا کیا۔
’’کک کچھ نہیں۔۔۔۔‘‘ خوف سے اسکی آواز حلق میں ہی دب گئی۔
’’یہی کہا تھا ناں ،مجھ سے شادی کرنے سے بہتر تم مر جانا پسند کرو گی ،ہے ناں۔۔۔‘‘ وہ بڑے معنی خیز انداز میں اسکا جملہ اسی پر لٹا رہا تھا۔
’’آئی ایم سوری ۔۔۔۔‘ ‘ رومیصہ نے اسکی آنکھوں کی سرخی سے نظریں چرا کر فورا ہتھیار ڈالے۔
’’اب تو شادی کر کے ہی زند ہ درگور کروں گا تمہیں۔۔‘‘ رومی کو لگا جیسے وہ مذاق کر رہا ہو ۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا۔۔؟‘‘اسکے حلق سے ایک پھٹی ہوئی آواز برآمد ہوئی ۔
’’سارے مطلب آج ہی سمجھ لیے تو باقی زندگی کیا کرو گی جان من۔۔۔‘‘ وہ عجیب انداز میں ہنسا۔رومیصہ کو لگا جیسے کسی نے اسکے وجود کو شکنجے میں کس دیا ہو
اس کا دل انہونی کا راگ الاپنے لگا۔۔۔
’’آپ پلیز جانے دیں مجھے۔۔۔‘‘ اس کی سانس اٹکنے لگی۔۔۔
’’اتنی آسانی سے۔۔۔‘‘ وہ ریوالور سے اس کے بالوں میں چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔رومی کو اپنا تنفس تیز ہوتا ہوا محسوس ہوا۔وہ اپنے ہی جال میں بُری طرح پھنس چکی تھی۔
’’میں مر جاؤں گی ۔۔۔‘‘ اس کے حلق سے سسکی نکلی۔
’’اب تو اپنی مسز بنا کر ہی بجھواؤں گا تمہیں، دیکھوں تو سہی کیسے مرتی ہو تم۔۔۔؟‘‘ اس کے سرد لہجہ نے رومی کے بد ن سے اسکی روح کھینچ لی۔
’’آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ۔۔۔‘‘ اس کے خوفزدہ ہونے پر وہ ہنسا ،جیسے اسکی حالت سے خط اٹھا رہا ہو۔
’’میں دیکھتا ہوں،دنیا کی کون سی طاقت روکتی ہے مجھے۔۔۔۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز سے بولتا ہوا اسے سخت گھبراہٹ میں مبتلا کر گیا۔
’’اب کیا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگوں آپ سے۔۔۔‘‘ وہ ایکدم رو دی۔
’’ناک سے لکیریں بھی نکالو گی تو تب بھی نہیں مانوں گا۔۔۔‘‘ وہ اسے جلتی ہوئی آنکھوں سے گھورنے لگا۔
’’میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا ،کیوں پیچھے پڑ گئے ہیں میرے۔۔۔‘‘
’’روحیل محمود نے کیا بگاڑا تھا تمہارا۔؟کیوں تم نے اسے اپنی گاڑی کے نیچے کچلا۔۔۔‘‘
’’میں نے ایسا نہیں کیا، بائے گاڈ گاڑی میں نہیں کنزہ چلا رہی تھی۔۔۔۔‘‘وہ بلند آواز میں رونے لگی۔
’’خوبصورت لڑکی ،جب جھوٹ بولتی ہے ناں ،اسکا چہرہ یقین مانو کسی مکڑی کی طرح بدصورت لگنے لگتا ہے۔‘‘ وہ سانسیں روکے،بنا پلکیں جھپکے اسکا چہرہ دیکھنے لگی جس پراس کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔
’’شادی تو کرنی پڑے گی تمہیں مجھ سے۔۔۔‘‘ اس نے سرد آواز سے کہا۔
’’میں مر جاؤں گی ،لیکن ایسا نہیں کروں گی۔۔۔‘‘وہ بے بسی کی انتہاء پر پہنچ کر ایک دم چیخی۔
’’میں بھی یہی دیکھنا چاہتا ہوں ،قطرہ قطرہ زہر کیسے انسان کے وجود میں سرایت کرتا ہے۔‘‘اسکی ٹھوڑی تلے انگلی رکھ کر اس نے رومیصہ کا چہرہ اپنی جانب
گھمایا تو اسے ایک دم سو واٹ کا کرنٹ لگا۔۔
’’ہاتھ مت لگاؤ مجھے ۔۔۔‘‘ وہ گیلی لکڑی کی طرح چٹخی تو وہ قہقہ لگا کر ہنسا ۔جیسے اس کے زچ ہونے پر لطف حاصل کر رہا ہو۔
’’چلو پھر سارے حق لے لیتے ہیں ،کیا کہا تھا تم نے مجھ سے شادی کرنے سے بہتر مر جانا پسند کرو گی ناں۔دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس،جو کرنا چاہتی ہو کر لو
مجھے کوئی اعتراض نہیں ،اسکے بعد تمہیں وہی کرنا ہوگا جو میں چاہوں گا۔‘‘وہ اسکی روح فنا کر کے کمرے سے نکل گیا۔
ان دو گھنٹوں میں رومیصہ نے وہاں سے نکلنے کا ہر طریقہ سوچ لیا، لیکن وہ اس کے پر کاٹ کر پنجرے میں بند کر کے گیا تھا،کوئی روشندان ،کوئی کھڑکی ایسی
نہیں تھی جس سے وہ مدد لے سکتی، چھت کا پنکھا بھی خاصے فاصلے پر تھا اور کوئی راہ فرار نہ پا کر وہ مایوسی سے بیٹھ گئی اور دل ہی دل میں اس کے ایکسیڈنٹ کی
دعائیں مانگنے لگی۔
وہ واقعی ہی اپنی زبان کا پکا نکلا تھا۔دو گھنٹوں میں ہی ایک نکاح خواں کے ساتھ کچھ گواہان کے ساتھ اسکی واپسی ہوئی تو رومی کو اپنی موت سامنے نظر آنے لگی
وہ ایک عجیب سی رات تھی، رومی کسی سنگی مجسمے کی مانند ساری کاروائی دیکھ رہی تھی ۔
اسے پتا ہی نہیں چلا، کب اس اجنبی شخص کانام اسکی سماعتوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی مانند انڈیلا گیا، اس نے ایک دفعہ پھر ہمت کرنا چاہی لیکن اس کی سرخ
گھورتی آنکھیں اور پینٹ کی جیب سے جھلکتی ریوالوار کی نوک نے اس سے وہ فیصلہ کروا لیا ،جو وہ عام حالات میں کرنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں
سکتی تھی۔ اذیت سے بے حال ہوتے وجود کے ساتھ کب اس نے اپنا سر ہلایا اور وہ ساکن پلکوں کے ساتھ سامنے رکھے پیپرز پر سائن کردئیے۔وہ اب کسی
فاتح کی طرح اسکے سامنے کھڑا تھا۔
’’یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔۔؟‘‘ رومی کو لگا وہ کوئی خوفناک خواب دیکھ رہی ہے۔
’’ٹوپی ڈرامہ ۔۔۔۔۔‘‘ وہ قہقہ لگا کر اسکی حالت پر ہنسا اور رومیصہ صدمے کی کیفیت سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
اس شخص کا نام انتہائی عجیب انداز میں اسکے نام کے ساتھ جڑ چکا تھا اور اسے یہ سوچنے پر مجبور کر گیا کہ اگر جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں تو کیا اسکا ملاپ اسی طور
ہی کاتب تدیر نے لکھا گیا تھا۔کتنی عجیب تھی اسکی قسمت اور اس سے بھی عجیب تھا اس کا ہمسفر،جو نکاح جیسے مقدس کام کو کھیل بنا کر خود ایک دفعہ پھر غائب ہو
گیا تھا۔وہ ابھی تک اسے سمجھ نہیں پائی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شہر زاد کو لگا جیسے وہ کسی بند گلی میں آن کھڑی ہو۔۔۔!!!
اس نے پورے چوبیس گھنٹے کے بعد انتہائی مایوسی کے عالم میں ہم زاد کا نمبر ڈائل کیا تھا،اسے ابھی ابھی پتا چلا تھا وقار درانی اپنی بیٹی کنزہ کو ملک سے باہر بجھوا چکا ہے اور یہ خبر اس کے اعصاب پر چابک کی طرح برسی تھی۔مسز قریشی نے اور اس کے تمام تر سورسز بے کار گئے تھے کیونکہ جس وقت وقار درانی کا وکیل ان دونوں سے ملاقات کے لیے آفس آیا ہوا تھا،ٹھیک اسی وقت کنزہ ائیرپورٹ پر تھی۔اس خبر نے مسز قریشی کے بھی حوصلے پست کیے تھے اور و ہ اس امید کے ساتھ گھر واپس آئی تھی کہ شاید ہم زاد اسکی کوئی ہیلپ کر سکے لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ آج اس کے سبھی ستارے گردش میں تھے۔
’’شہرزاد بات کرر ہی ہوں۔۔۔۔‘‘ہم زاد کی خاموشی سے گھبرا کر اس نے فورا تعارف کروایا۔
’’ہاں بولیں۔۔۔‘‘ دوسری طرف اسکا سپاٹ لہجہ سن کر اسے دھچکا لگا لیکن اس نے بہت جلد خود کو سنبھال لیا
’’کچھ پتا چلا رومی کا۔۔۔۔؟؟؟ ‘‘ وہ ہلکا سا جھجک کر گویا ہوئی۔
’’نہیں ۔۔۔‘‘ وہ ہنوز سابقہ انداز میں اس سے گفتگو کر رہا تھا۔
’’کیوں۔۔۔؟؟؟‘‘ شہر زاد پریشان ہوئی ،اس مرحلے پر وہ ہم زاد کی ناراضگی قطعا افورڈ نہیں کر سکتی تھی اور یہ بات تو اس کی گمان کی آخری سرحدوں پر بھی
نہیں تھی کہ وہ معمولی سی بات کو جواز بنا کر اس سے خفا ہو سکتا ہے۔
’’اس لیے کہ میں بزی تھا۔۔۔‘‘
’’اوہ سوری ۔۔۔۔!!!‘‘ وہ سچ مچ شرمندہ ہوئی۔
’’دیکھو شہرزاد۔۔۔‘‘وہ متحمل انداز میں گویا ہوا ۔’’تمہاری جتنی ہیلپ میں کر سکتا تھا ، وہ میں نے کر دی لیکن اب باقی چیزوں کے لیے تمہیں میرا سہارا ڈھونڈنے کی بجائے خود میدان میں نکلنا ہوگا۔‘‘اس کے جملے اتنے تلخ نہیں تھے جتنا اس کا لہجہ رکھائی سے بھرپورتھا، شہر زاد کو لگا جیسے کسی نے اسے کھائی میں
دھکا دے کر اوپر منوں مٹی پھینک دی ہو۔۔۔
’’لیکن میں ابھی یہاں زیا دہ لوگوں کو نہیں جانتی۔۔؟؟؟‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔
’’وہ شخص اس کی لاٹھی تھا جسے پکڑ کر وہ زندگی کے نشیب و فراز طے کرتی تھی،وہ اس کی آنکھوں کی بینائی تھا ،جس سے وہ دنیا کو دیکھتی تھی، وہ اس کی سماعت تھاجس سے وہ اپنی من پسند دھنیں سنتی تھی،اور جب اس نے بے رخی سے اپنا ہاتھ چھڑایا تواسے لگا وہ اندھی ،گونگی اور بہری ہو گئی ہے۔ محبت نے اسے وہاں لا کر زمین کی پستیوں میں پٹخا تھا جہاں اسے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھنے کے لیے صدیاں درکار تھیں۔۔۔۔‘‘
’’آپ جو کہنا چاہتے ہیں کھل کر کہیں۔۔۔‘‘ اس کے دماغ میں آندھیوں کے بہت سے جھکڑ ایک ساتھ چلے۔
’’آپ کے پاس ہے ارتضی حیدر ہے ناں، مجھ سے زیادہ ذہین، ہینڈسم اور سب سے بڑی بات سامنے آ کر بات کرنے کی ہمت رکھنے والا ۔‘‘وہ اسی کے الفاظ
بہت بے رحمی سے اس پر لٹا رہا تھا۔
’’آپ کو ان کی موجودگی میں کسی اور کی ہیلپ کی ضرورت تو نہیں ہو نی چاہیے۔۔‘‘ہم زاد کی بات نے اسے سن کر دیا ،کئی لمحوں تک اسے کوئی لفظ نہیں
مل سکا۔دونوں کے درمیان ایک بوجھل سی خاموشی کا مختصر سا وقفہ آیا ۔
’’ ٹھیک کہتے ہیں آپ۔۔۔‘‘ شہرزاد نے لمبا سانس خار ج کر کے مسکرانے کی ناکام کوشش کی لیکن اس کی آنکھیں نمکین کھارے پانیوں سے بھر گئیں لیکن اس
نے بھی آج ساری کسر نکالنے کی قسم کھا رکھی تھی۔
’’شہر زاد ۔۔۔میں کبھی غلط نہیں کہتا ۔۔۔‘‘
’’ہاں ،آپ غلط کہتے نہیں ،بس چیزوں کو غلط سمجھتے ہیں۔اینی ہاؤ، آپ نے واقعی بہت ہیلپ کی میری، باقی چیزوں کو اب میں خود دیکھ لوں گی ۔‘‘اس دفعہ
شہرزاد نے نہ صرف اس کی کال کاٹی تھی بلکہ ایک لمحے کو اپنادل بھی کاٹ کر سینے سے دُور پھینک دیا تھا۔
ہم زاد کا لہجہ اور تلخ الفاظ اسکی انا پر ایک چابک کی مانند برسے تھے،وہ کبھی بھی دوسروں سے مدد لینے کی قائل نہیں رہی تھی،لیکن پاکستان آنے کے بعد یکے بعد
دیگر ہونے والے واقعات نے اسے بوکھلا دیا تھااور وہ لاشعوری طور پر اپنی ہر چیز کے لیے ہم زاد کی طرف دیکھنے لگی ،آج وہ قصّہ بھی تمام ہو گیا تھا۔اس نے
بہت بیدردی سے اپنی گال سے ٹپکنے والے اس واحد آنسو کو پونچھا جو اسکی ضبط کی انتہا کو عبور کر کے باہر نکلا تھا۔
اس نے دیوار میں نصب گھڑیال میں وقت دیکھاسوئی بارہ بج کر ایک منٹ پر تھی، ایک نئے دن کا آغاز ہو چکا تھا،فیصلہ کن انداز میں اس نے سائید میز پر رکھا
ٹائم پیس اٹھایا اور وقت کو وہیں مقید کر دیااسکی سوئیاں اس کے دھڑکتے ہوئے دل کی طرح ساکن ہو گئیں تھیں ۔۔
بارہ بج کر ایک منٹ کا وقت اس گھڑی میں اور اس کی زندگی میں تھم گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے اپنے سیل فون کی لسٹ میں ہم زاد کا نمبر نکالا اور غور سے دیکھا، ایک لمبا سانس لے کر اندر کی کثافت کو باہر نکالنے کی بھرپور کوشش کی اور پھر اس نی
دل پر پتھر رکھ کر وہ نمبر اپنی کونٹیکٹ لسٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کر دیا۔
’’شہر زاد کو لگا ایک دفعہ پھر اس کی روح آزاد ہو گئی ہے۔آج سے آٹھ سال پہلے بھی وہ اس کی زندگی سے دبے پاؤں نکل آئی تھی اور اس نے اپنے سارے جذبے،ایک تابوت میں ڈال کر اس پر’’ انا‘‘کا قفل لگا دیا تھا،ہر رات وہ اس قفل پر ہاتھ پھیر کر اپنا ضبط آزماتی اور اس محبت پر فاتحہ پڑھتی،جس سے وہ خود انگلی چھڑاکر چلی آئی تھی۔ اس شخص کی ناراضگی نے پہلی دفعہ اسے باور کروایا تھا کہ محبت انسان کو بزدل بنا دیتی ہے اور پھر وہ ساری زندگی بہادر ہونے کا ڈھونگ رچاتاہے اور وہ ڈھونگی بننے کی بجائے اپنی زندگی خود جینا چاہتی تھی،تبھی اس رات اس نے ایک دفعہ پھر دل کو ٹھوکر لگا کر کسی گہری کھائی میں جا گرایا ،ہاتھ جھاڑ کرکھڑی ہوئی ، ایک دفعہ پھر وہ ز مانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا فن سیکھ چکی تھی۔‘‘
فریش ہو کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو لاؤنج میں ٹہلتی ٹینا بیگم اسکی طرف دیکھ کر تیر کی طرح لپکیں۔غصّے اور بے بسی کے گہرے احساس نے ان کے چہرے
کے اچھے خاصے جاذب نظر نقوش کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔
’’تمہیں پتا ہے شیری، وہ کنزہ کا باپ خبیث انسان ،اپنی بیٹی کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر لے گیا ہے۔‘‘
’’بے فکر رہیں ،انٹر پول کے ذریعے بھی بلوانا پڑا تو لے آؤں گی۔۔‘‘ وہ تیزی سے اپنی ای میلز کو چیک کرتی ہوئی کاؤچ پر آن بیٹھی۔
’’اوہ مائی گاڈ ،تم جانتی تھیں،اس نے لندن بجھوا دیا ہے کنزہ کو۔۔‘‘ ٹینا بیگم کی آنکھیں حیرت کے اظہار کے طور پر مکمل کھل گئیں۔
’’ہاں،اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ لندن کے کس علاقے میں ہے،ایڈریس کل شام تک مل جائے گا۔۔‘‘اس نے ٹینا بیگم پر ایک اور بم گرایا۔
’’گڈ،جیسے ہی ملے، فورا ٹیکسٹ کرنا ،میں سیفی کو فارورڈ کر دوں گی۔۔۔‘‘ان کا بے ساختہ انداز شہرزاد کو کوفت میں مبتلا کر گیا۔
’’لیو اٹ مام،اس سے پہلے انہوں نے کیا ،کیا ہے ،جو اب کوئی اور پہاڑ توڑیں گے۔۔‘‘ وہ بیزاری سے سر جھٹک کر کھڑی ہوئی۔
رومی کی ضمانت انہوں نے کروائی تھی۔۔۔‘‘ انہوں نے فورا یاد دلایا۔
’’وہ تو ایک عام سا وکیل بھی کروا سکتا تھا ۔۔‘‘ شہرزاد نے چٹکیوں میں ان کی بات کو اڑایا اور جلدی سے اپنی فرینڈ رودابہ کو کال ملائی،وہ اس سے اگلے دن
کے لنچ کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی،جو اس کے گھر میں خاصے ہائی پیمانے پر تھا۔وہ ساری رات اس نے رومی کے کیس پر ورکنگ کرتے ہوئے گذاری
تھی،اس کے دماغ کی کئی گرہیں ایک ساتھ کھلی تھیں،ساری رات کام کرنے کے بعد بھی وہ اگلے دن لنچ پر جانے کے لیے بالکل فریش تھی۔
آف وائٹ کلر کے نیٹ کے سوٹ میں اس کے بال فرنچ ٹیل کی صورت میں بندھے ہوئے تھے،وہ ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر نیچے اتری تو سامنے ٹینا بیگم کو چائے کی ٹرالی اندر لانے کا حکم د ے رہیں تھیں۔
’’کون آیا ہے۔۔۔؟‘‘ اس نے سرسری انداز میں پوچھا۔
’’آئی جی پنجاب ۔۔۔۔‘‘ ٹینا بیگم کی ساری توجہ اس ٹرالی کی طرف تھی،جو ملازمہ کچن سے لا رہیں تھی۔
’’کس کے ساتھ ۔۔۔؟‘‘ اپنی آئی فون پر تیزی سے چلتی اسکی انگلی ایک لمحے کو ساکت ہوئی۔
’’آف کورس سیفی کے ساتھ آئے ہیں وہ ۔۔۔کلاس فیلوز رہے ہیں وہ دونوں ایچی سن کالج میں۔۔۔‘‘
شہرزاد نے اب چونک کر ٹینا بیگم کی خصوصی تیاری کو دیکھا، پیچ کلر کی سلک کی شارٹ شرٹ کے ساتھ وہ ٹراؤزر پہنے ہوئی بڑا نفیس سا میک اپ کیے ہوئے تھیں
انہوں نے شہرزاد کی محویت کو نوٹ کر کے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا اور پھر اسکی تیاری دیکھ کر بھی وہ ہلکا سا ٹھٹکیں۔
’’کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟‘‘
’’رودابہ کے ہاں ایک ڈنر ہے ،کافی کلاس فیلوز انوائیٹڈ ہیں وہاں کونوونیٹ دور کے۔۔۔۔‘‘
’’یہ تمہاری وہی فرینڈ ہے ناں ،جس کا باپ فارن منسٹری میں ہے۔۔‘‘ ٹینا بیگم کی یاداشت غضب کی تھی۔شہرزاد نے اثبات میں سر ہلا کر سائیڈ میز پر رکھی گاڑی کی چابی اٹھائی۔
’’ان سے بات کرنا رومی کے سلسلے میں۔۔۔‘‘ شہرزاد کو ان کے فریش چہر ے پر موجود آنکھیں اس سمے خاصی اداس لگیں۔
’’اوکے ، میں ڈرائیور کو لے کر جا رہی ہوں ساتھ،شاید واپسی پر دیر ہو جائے۔۔۔۔‘‘ اپنی با ت مکمل کر کے وہ رکی نہیں اور فورا نکل آئی۔
رودابہ کے ہاں لنچ پر شہر کی کریم اکھٹی تھی ، یہ گید رنگ اس حوالے سے بھی شہر زاد کے لیے مفید رہی ،اسے اپنے بہت سے کلاس فیلو ز سے اچھی ہیلو ہائے کرنے
کا موقع مل گیا تھا اور ان میں سے اکثریت ایسی ہائی فائی پوسٹس پر کام کررہے تھے جو شہرزاد کے لیے مستقبل میں کافی کام آ سکتی تھیں،چنانچہ اس نے پہلی دفعہ
اس چیز کا بھرپور موقع اٹھایا اور رودابہ نے اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا تھا،وہ اسے فردا فرداً سب سے ملوا رہی تھی۔اسی شام ،وہ رودابہ اور اپنے ایک کلاس فیلو کے ریفرنس سے ایک بھرپور قسم کی پریس کانفرنس کا انعقادکروا چکی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
’’وہ شخص اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت دھن تھی،جو کسی اور کے ساز پر بج رہی تھی۔۔۔‘‘
انابیہ اس وقت یونیورسٹی کے کیمپس میں تھی اور اس نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر بوگن ویلیا کے گلابی پھولوں کے نیچے کھڑے برہا ن اور مناہل کو اذیت بھری نگاہوں سے دیکھا ۔اس وقت اس سے کوئی پوچھتا ،کہ دنیا کا سب سے مشکل کا م کیا ہے تو وہ بغیر سوچے سمجھے کہہ دیتی ۔
’’اپنے محبوب کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا۔۔۔۔‘‘
بینچ پر بیٹھے بیٹھے اُس نے ٹیک لگا کرکرب کے احساس کو کم کرنے کے لیے آنکھیں بند کر لیں،وہ اس کبوتر کی مانند لگ رہی تھی، جو بلی کو سامنے دیکھ کر آنکھیں
بند کر لیتا ہے۔کسی گہرے صدمے کے زیراثر وہ وقفے وقفے سے آنکھیں کھول کر سامنے کا تلخ منظر دیکھتی اور ہر دفعہ اسے لگتا جیسے کسی نے مٹھی بھر کر مرچیں
اسکی آنکھوں میں جھونک دی ہوں۔
مناہل نے شرارت سے بوگن ویلیا کی بیل کو ہلکا سا جھٹکا دیا، بے شمار گلابی پھول ایک ساتھ دونو ں پر آن گرے، وہ دونوں کھلکھلا کر ہنسے اور انابیہ کو ان کی ہنسی ککا رنگ بھی گلابی ہی محسوس ہوا۔
’’مجھے برہان سے اس ٹاپک پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔۔‘‘ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہی سوچا تھا۔
’’اسے لگا وہ اپنی طلب کا کشکول لیے اس شخص کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی،جو اپنی آنکھیں کسی اور کو دان کر چکا تھا، اسے دینے کے لیے اس کے پاس محض بانجھ لفظ، گونگی نظریں اور باسی دلاسے تھے۔ وہ دنیا کی سب سے لمبی سیڑھی کے ذریعے بھی اس کے دل کی رسائی حاصل نہیں کر سکتی تھی۔بے وقعتی اور نارسائی
کی گرم ریت میں اس کا سارا وجود دھنس چکا تھا۔رقابت کی گرم ہواؤں نے اسے جھلسا کر رکھ دیا تھا۔ کیمپس کے سارے درخت اسے اپنے اوپرہنستے ہوئے محسوس ہوئے،تب اس نے جانا ،محبت کے سفر میں سب سے اذیت ناک اور قیامت خیز منظر اپنے محبوب کی آنکھوں کو کسی اور کے چہرے کا طواف کرتے دیکھنا ہوتا ہے۔۔۔‘‘
وہ دونوں ڈیپارٹمنٹ کے اس کونے میں کھڑے تھے جہاں آتے جاتے لوگوں کی نظریں کم ہی پڑتی تھیں اور اس نے برہان کو اکثر اسی جگہ پر مناہل قریشی کی ساتھ دیکھا تھا۔وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے دنیاو مافیا سے بے نیاز ہو جاتے ۔
’’لو برڈز کا معائینہ کر رہی ہو ۔۔؟اسکی کالج کے زمانے کی فرینڈ کرن ایک دم ہی پیچھے سے آکر شرارت سے بولی۔اس نے انابیہ کی نظروں کا محور ایک لمحے
میں بھانپ لیا تھا ، وہ اسی کے ڈیپارٹمنٹ میں اسکی کلاس فیلو اور بہت اچھی دوست بھی تھی۔
’’یار ویسے تو سر برہان کی پرسنالٹی ہی ایسی ہے،کہ کوئی بھی لڑکی آسانی سے ان کے عشق میں گرفتار ہو سکتی ہے لیکن انہیں کم ازکم کیمپس میں محتاط رہنا چاہیے۔‘‘
کرن دھپ کر کے اس کے ساتھ ہی سنگ مرمر کے بینچ پر بیٹھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے لگی۔
’’کون ہے یہ لڑکی ۔۔۔؟؟؟ انابیہ نے انجان بن کر پوچھا۔
’’ جا کر پوچھ لو ناں ،آخر کو فرسٹ کزن ہیں تمہارے۔۔‘‘کرن نے شرارت سے کہا،وہ ان دونوں کے نکاح سے لاعلم تھی۔
’’ اتنی بے تکلفی نہیں ہے میری ان کے ساتھ۔۔‘‘ انابیہ کی آواز کسی ٹوٹے ہوئے ساز کی مانند کرب سے لبریز تھی۔’’ویسے بھی کیمپس تمہاری کزنز سے بھرا
پڑا ہے،سبھی خبریں ہوتی ہیں ان کے پاس۔۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے ۔۔۔‘‘ وہ ہنس کر مذید گویا ہوئی ،یہ محترمہ مناہل قریشی صاحبہ ہیں ایم ایس کاتھیسس کر ہی ہیں اورسنا ہے خاصی لائق اور اکثر پروفیسرز کی چہیتی
ہیں لیکن اب صرف پروفیسر برہان کے ساتھ ہی نظر آتی ہے۔۔‘‘کرن کی معلومات خاصی اپ ٹو ڈیٹ تھیں۔
’’ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو،صرف اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہو۔۔۔۔؟‘‘ انابیہ نے اپنے دل کو جلتے ہوئے تندور سے نکالنے کی کوشش کی۔
’’یار کون سی دنیا میں رہتی ہو تم، کیمپس کا ایک ایک بندہ جانتا ہے مناہل قریشی نے بی ایس میں ٹاپ کرنے کے بعد صر ف سر برہان کے لیے ایم ایس میں
ایڈمیشن لیا ہے۔‘‘کرن انجانے میں اس کی بہت ہی دکھتی رگ کو چھیڑ گئی ۔
’’یہ تمہاری شکل کو کیا ہوا ہے۔۔۔‘‘کرن نے چونک کر اسکا تاریک ہوتا چہرہ دیکھا۔
’’کچھ نہیں۔۔۔‘‘
وہ چاہ کر بھی اسے نہیں بتا سکی کہ میرا حوصلہ دیکھو ،ظرف دیکھو اور برداشت دیکھو،اس شخص کا نام کاتب تقدیر نے اس کے نام کے ساتھ لکھا تھا مگر وہ اس سے
رخ موڑے محبت کی نئی داستا ن لکھ رہا تھا اور بدقسمتی سے وہ اس داستان کا صرف ایک ثانوی کردار تھی ،جسے شروع کے صفحات میں مر جانا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام چار بجے بجے شہرزاد پریس کلب پہنچ چکی تھی ۔
اس کی پریس کانفرنس کی کوریج کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے بہت سے صحافی موجود تھے۔اس نے اپنی تقریر کا آغاز بڑے دھواں دھار انداز میں
کیا تھا،وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے بولتی ہوئی یقینا بہت سے لوگوں کے چھکے اڑانے والی تھی اور میڈیا کو اگلے کئی دنوں کے لیے بہت ہی چٹ پٹا مصالحہ مل گیا تھا۔
ٹینا بیگم کو ہارون نے فون کر کے یہ اطلاع دی تو ایک دفعہ تو ان کا دماغ بھی بھک کر کے اڑ گیا کیونکہ شہرز اد نے انہیں اپنے ارادوں سے باخبر نہیں کیا تھا اور
یہ بات انہیں سخت بُری لگی تھی۔
’’تمہاری بیٹی کا دماغ خراب ہو گیا ہے ،بھلا کوئی اتنا بھی آؤٹ اسپوکن ہوتا ہے،اسے اندازہ نہیں ہے ،یہ چیز اس کے گلے بھی پڑ سکتی ہے۔‘‘ہارون نے ٹینا
بیگم کو اچھی خاصی تشویش میں مبتلا کر دیا ،انہوں نے جلدی سے ٹی وی آن کیا جہا ں پر شہر زاد کی پریس کانفرنس لائیو دیکھائی جا رہی تھی،چونکہ اس میں عدلیہ
اور فوج سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ذکر تھا اس لیے اکثر لوگ دلچپسی سے وہ تمام حقائق سن رہے تھے ،جو شہر زاد صرف اور صرف رومیصہ کی بازیابی کے لیے
عوام الناس کو بتا رہی تھی،وہ اپنے ازلی پرسکون انداز کی بجائے بڑے جارحانہ موڈ میں تھی ،ٹینا بیگم کی خوبصورت پیشانی پر ایک ساتھ کئی بل پڑے ،انہوں نے
ریموٹ کنڑول سے ٹی وی کی آواز بلند کی۔۔
درشہوار کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔’’پاکستان میں لاقانونیت اور جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا چرچا تو بہت سنا تھا لیکن اسکا عملی مظاہر ہ بھی میں نے اپنی
آنکھوں سے دیکھ لیا ہے،میری سگی بہن رومیصہ سہگل کو ایک سازش کے تحت بریگیڈئیر وقار درانی کی بیٹی کنزہ درانی نے پھنسایا اور اور پھر چند لوگوں کے ساتھ
مل کر صرف اس وجہ سے اسے ’’کڈنیپ ‘‘کروایا تاکہ رومیصہ کورٹ کو اصل حقائق نہ بیان کر دے۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔!!!‘‘ ٹینا بیگم پریشان ہوئیں۔
’’میری بہن کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے جسٹس محمود علی کے کرپٹ بیٹے روحیل کے ناپاک عزائم کو ماننے سے انکار کر دیا،وہ جان بچا کر وہاں سے بھاگی
اور روحیل نے قتل کر نے کی نیت سے اسکا تعاقب کیا۔۔۔‘‘ شہر زاد کی اس بات پر ٹینا بیگم نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’اس کے باوجود وہ اپنی غلطی سے بائیک سے گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا،یہ بات پیٹرولنگ پولیس اچھی طرح جانتی ہے کہ روحیل جس گاڑی سے ٹکرایا
وہ میری بہن کی ضرور تھی لیکن اسے اس وقت بریگیڈئیر وقار درانی کی بیٹی چلا رہی تھی۔‘‘ شہرزاد نے اس پریس کانفرنس میں کنزہ اور روحیل دونوں کے خاندانوں کو اچھی طرح سے دھو ڈالا تھا۔
’’لیکن میں اس پریس کانفرنس کے ذریعے ان تمام لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ جب تک رومیصہ سہگل کوانصاف نہیں ملے گا اور اسے بازیاب نہیں
کروایا جائے گا، تب تک نہ میں خود سکون سے بیٹھوں گی اور نہ کسی اور کو بیٹھنے دوں گی ،اگر کسی کے ذہن میں ایسی کوئی خوش فہمی ہے تو وہ دُور کرلے۔‘‘شہر زاد
اپنا موقف بیان کر چکی تھی۔
’’میم، رومیصہ سہگل ،اگرآپکی بہن نہ ہوتیں تو کیا آپ تب بھی اس کیس کو اتنا ہی ہائی لائیٹ کرتیں۔‘‘ ایک صحافی کے منہ سے نکلنے والے اس بے تکے سوال
نے اسکا دماغ گھماکر رکھ دیا،لیکن وہ ضبط کا کڑوا گھونٹ پی کر بڑے تحمل سے گویا ہوئی ۔
’’ایک لمحے کو بھول جائیے،کہ رومیصہ سہگل سے میرا کیا رشتہ ہے،وہ کس کی بیٹی یا کس کی بہن ہے،صرف یہ ذہن میں رکھیے،وہ ایک انسان ہے اور جس کا
یہ آفاقی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے۔۔
’’آپ کو ان کے اغوا والے معاملے میں کس پر شک ہے بریگیڈئر وقار درانی پر یا جسٹس محمود احمد پر۔۔؟‘‘ ایک اورسوال آیا۔
’’ ویسے تو وقار درانی پر لیکن یہ ان دونوں خاندانوں کی ملی بھگت بھی ہو سکتی ہے۔۔۔‘‘
’’لیکن کنزہ تو ملک سے باہر جا چکی ہیں ،ایسی صورت میں آپ کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔۔۔؟‘‘
’’ا ن کا پورا خاندان تو یہیں ہے اور نہیں ہر حال میں اور ہر قیمت پر اپنی بیٹی کو واپس لانا ہوگا۔۔۔‘‘ وہ بڑے تحمل سے سوال و جوا ب کا سیشن پورا کر کے پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی اس نے اپنے بیگ سے اپنا سیل فون نکال کر جیسے ہی آ ن کیا ،حس توقع اس پر آنے والی پہلی کال ٹینا بیگم کی تھی ،جو اس وقت سخت غصّے میں تھیں۔
’’یہ پریس کانفرنس کرنے کا مشورہ تمہیں کس پاگل نے دیا تھا۔۔۔‘‘ٹینا بیگم ایک دم ہی اس پر برس پڑیں۔
’’مسز عالیہ قریشی نے ۔۔۔‘‘شہرزاد کے جواب نے انہیں تھوڑا دھیما کیا۔
’’لیکن اس موقعے پر یہ کوئی مناسب مشورہ نہیں تھا، اب کنزہ اور روحیل کے خاندان ایک ہو جائیں گے۔ تم نے دونوں کو ایک ساتھ چھیڑ کر اپنے پیچھے ڈال لیا ہے ،پتا نہیں کہاں سے لے کر آئی ہو تم بیرسٹری کی ڈگری۔۔۔‘‘
’’آئی ایم سوری مام، میں اب مذید خاموش نہیں بیٹھ سکتی ،ہمیں اپنی جنگ اب کھل کر لڑنی ہے۔‘‘ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی۔
’’لیکن وہ لوگ رومیصہ کے بعد تمہیں بھی کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔‘‘ وہ خوفزدہ تھیں۔
’’یہ پیش گوئی یقینا مولا نا ہارون رضا کی ہوگی۔۔‘‘ اس کے طنزیہ انداز پر ٹینا بیگم پر گھڑوں پانی پھر گیا۔
’’ڈارلنگ ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ، معاملہ کورٹ میں ہے۔۔۔‘‘ وہ ہلکاسا جھنجھلائیں۔
’’اور میری بہن ان کے قبضے میں ہے،آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہیں،وہ زندہ ہے یا نہیں، کسی کو اس کی خبر نہیں،اور آپ کہتی ہیں ،میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھاؤں ،نو نیور مام ،اٹس اینف ناؤ۔۔۔‘‘ اس نے غصّے سے گاڑی کا دروازہ بند کیا ۔
’’تمہاری ان دھمکیوں کے بعد اگر رومی کو کوئی اور نقصان پہنچا تو۔۔۔‘‘ وہ جھنجھلا سی گئیں۔
’’اب اس سے زیادہ کیانقصان پہنچائیں گے وہ۔؟ اتنے دن سے وہ غائب ہے،یہ کالک جو اس کے وجود پر مل دی گئی ہے، دنیا کا کوئی بہترین سوپ بھی
اسے نہیں اتار سکتا۔۔۔‘‘شہرزاد کی بات نے انہیں لاجواب کیا۔ڈرائیور گاڑی چلا چکا تھا اور وہ اب پریس کلب کی حدود سے نکل چکی تھی۔
’’پلیز مام ،تھوڑا ریلکس رہیں،اب مذید بُرا کچھ نہیں ہو سکتا۔اپنے نروز کو کنٹرول مین رکھیں اور فار گاڈ سیک فضول لوگوں کی بے تکی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘شہرزاد نے انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
’’اب جا کر کوئی اینٹی ڈئپریسنگ لیں اور سو جائیں،میں آکر بات کرتی ہوں، مسز قریشی کی کال آرہی ہے بیچ میں۔‘‘ اس نے فورا ہی فون بند کر کے جیسے ہی اگلی کال اٹینڈ کی ۔دوسری طرف مسز قریشی خاصی خوش تھیں۔
’’دیٹس گریٹ ،شیری، تم نے تو چھکے چھڑا دئیے،وقار درانی اور جسٹس محمود کے ۔۔۔‘‘ عالیہ قریشی نے اسے کھلے دل سے سرایا تو وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا
دی،یہ تو صر ف وہی جانتی تھی کہ اس وقت اسے کتنے محاذوں پر لڑنا پڑ رہا تھا۔
’’تھینک یو میم۔۔۔۔‘‘ وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’فورا آفس پہنچو، ارتضی ویٹ کر رہا ہے تمہارا۔۔۔۔‘‘ انہوں نے تھوڑی سی رسمی گفتگو کے بعد فون بند کر دیا ۔
’’سنا ہے بڑے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں آپ نے۔۔‘‘وہ جیسے ہی اپنے آفس پہنچی، ارتضی بے تکلفی سے کوئی فائل کھولے وہیں موجود تھا۔
’’کاش نیندیں حرام ہونے کی بجائے کچھ لوگوں کے ضمیر جاگ جائیں تو بہت سوں کی زندگی آسان ہو جائے ۔۔‘‘ وہ مسکرائی اور اپنا لیدر کا بیگ میز پر رکھ
کر اس نے لمبا سانس لیا۔
’’کوئی اپ ڈیٹ ۔۔۔۔؟‘‘ اس نے میز پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا۔
’’ ہاں ہے تو سہی ۔۔‘‘ وہ مسکرایا۔’’ رومیصہ کو جس گاڑی میں کڈ نیپ کیا گیا تھا ،وہ ٹریس ہو گئی ہے۔۔۔‘‘ ارتضی کی اگلی اطلاع پر ہلکا سا چونکیں۔۔
’’یقینا چوری شدہ ہو گی یا نمبر پلیٹ غلط ہوگی۔۔۔‘‘ اس کے پرسکون انداز پر وہ اتنا حیران ہوا کہ مسکرانا ہی بھول گیا۔
’’آپ کو کس نے بتایا۔۔۔؟‘‘
’’دوست ہوں یا دشمن، عقلمند ہی اچھے لگتے ہیں،بے وقوف تو خود بھی ذلیل ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرواتے ہیں۔ ۔‘‘ اس نے لاپرواہ انداز میں کہہ کر انٹر کام پر آنے والی کال لی،جو اس آفس کی ریسپیشن سے آئی تھی۔
‘‘جی فرمائیے۔۔۔۔‘‘
’’میم شیری، آپ کے لیے کال ہے بریگیڈئیر وقار درانی کے اسسٹنٹ کی، وہ بات کرنا چاہتے ہیں آپ سے۔۔‘‘ ریسپشن پر موجود لڑکی کی اطلا ع پر وہ طنزیہ
انداز میں مسکرائی۔
’’آپ وقار درانی کے اسسٹنٹ سے کہیں،میں میٹنگ میں بزی ہوں ،ابھی بات نہیں کر سکتی۔‘‘ اس نے انٹر کام بند کر دیا۔
’’اوہ نو۔۔۔وقار صاحب کی کال تھی، آپ کو اٹینڈ کرنی چاہیے تھی۔‘‘ وہ ہلکا سا بے چین ہوا۔
’’جلدی کیا ہے،تھوڑا ان کو بھی پریشان ہونے دیں، آپ یہ بتائیں کافی لیں گے۔۔؟‘ ‘ اس نے مسکراتے ہوئے سائیڈ میز پر رکھا کافی میکر آن کیا۔
’’کیا چل رہا ہے آپ کے دماغ میں ۔۔۔؟‘‘ وہ ہلکا سا پریشان ہوا۔
’’کچھ نہیں، بس آجکل کونووینٹ دور کی ٹیچر مس ماریانا کی ایک بات بہت یاد آتی ہے مجھے۔۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔؟‘‘ وہ محتاط اندا ز میں گویا ہوا۔
’’کوئی بھی جنگ ہو یا زندگی کے معاملات، ہمیشہ وہی شخص جیتتا ہے جو صبر کی کنجی تھام کر اپنے اعصاب کو قابو میں رکھے اور یہ سوچ کر خود کو ریلکس رکھے کہ زیادہ سے زیادہ کیاہو جائے گا۔یہ سوچ انسان کو بہت مثبت انرجی دیتی ہے۔۔۔‘‘ شہر زاد متانت سے مسکرائی۔
’’ہاں یہ واقعی اعصاب کی جنگ ہوتی ہے۔۔‘‘ ارتضی حیدر فورا متفق ہوا۔’’کنزہ درانی کا ایڈریس مل گیا آپ کو۔۔؟‘‘
’’جی بالکل۔۔۔۔‘‘ اس نے کافی کا کپ اسکی طرف بڑھایا۔
’’ماشا ء اللہ بہت تیز سروس ہے آپکی ۔۔۔‘‘ وہ متاثر ہوا۔
’’مانا کہ ارتضی حیدر،میرے ہاتھ ابھی بندھے ہوئے ہیں پاکستان میں ،لیکن لندن میں تو آٹھ سال گذارے ہیں میں نے،الحمداللہ بہت مہربان دوست ہیں
وہاں ،جو ایک کال پر بڑے بڑ ے کا م کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔‘‘شہرزاد کے جتاتے ہوئے انداز پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔
’’آپ نے ان چند دنوں میں بیورو کریسی اور وکلاء برادری کو جس طرح ہلایا ہے، آنے والے دنوں میں آپکی رفتار کا بخوبی اندازہ کر سکتا ہوں میں۔‘‘اس نے
کھلے دل سے اسے سراہا۔
’’تھینکس۔۔۔‘‘ اس نے کافی کا پہلا گھونٹ بھر کر کپ میز پر رکھا۔’’رومیصہ کیس کی فائل لائے ہیں آپ۔۔؟‘‘
’’جی بالکل، کچھ نئے پوائنٹس ایڈ کیے ہیں میں نے،وہ آپ بھی دیکھ لیں،پھر میم عالیہ سے بھی مشور ہ کرلیتے ہیں۔۔‘‘دونوں ایک دفعہ پھر اس کیس میں
الجھ گئے جس نے بہت سے لوگوں کو ایک ساتھ مشکل میں ڈال رکھا تھا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
درشہوار نے پردہ سرکا کر کھڑکی کے پٹ وا کیے۔۔۔
مری کی فضاوں میں خوشگوار سی خنکی تھی،ماحول میں کچی کیریوں کی مہک پھیلی ہوئی تھی،شاید ارجمند بیگم نے اچار کی پھانکیں دھوپ میں رکھی چارپائی پر پھیلا
رکھی تھیں۔
درشہوار نے بے چین نظروں سے ہادی کے کمرے کی بند کھڑکیوں کی طرف دیکھا اور ایک لمبی آہ بھری ،جس میں بے شمار حسرتیں پنہاں تھیں۔اسے پتا ہی
نہیں چلا کب طوبیٰ اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی ۔
’’کمرے کی بند کھڑکیاں ہوں یا دل کے دروازے،ایک دفعہ بند کر دئیے جائیں تو کبھی نہیں کھلتے ۔۔۔‘‘طوبیٰ نے اپنی طرف سے اس پر جلتے ہوئی
انگارے اچھالے تھے۔دوسری طرف درشہوار کے چہرے پر ایک تلخ سی مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
’’محبت میں سچائی اور لگن ہو تو اس کے آگے دیوار چین بھی نہیں ٹہر سکتی۔۔۔‘‘ اس کے پر اعتماد انداز پر طوبیٰ ایک لمحے کو گڑ بڑا گئی۔
’’ہر چیز کی کوئی نہ کوئی حد ہو سکتی ہے لیکن تمہاری خوش فہمیاں لامحدود ہیں سمندر کی گہرائیوں کی طرح ۔۔۔‘‘اس نے سلگ کر کہا۔
’’یہ طنز کے تیر پھر برسا لینا،میرے ساتھ ذرا چلو مال روڈ تک۔۔۔‘‘ درشہوار کی بات پر وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہٹی ۔
’’آئی ایم سوری ،میرا آج پھر بے عزت ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔‘‘ اس نے صاف انکار کیا۔
’’سوچ لو، کل کو تمہیں بھی کوئی کام پڑ سکتا ہے۔۔۔۔‘‘درشہوار نے صاف صاف الفاظ میں اسے دھمکایا۔۔۔
’’کل کی کل دیکھی جائے گی،فی الحال میں کوئی نئی شرارت افورڈ نہیں کر سکتی، آجکل تو بابا بھی یہیں ہیں،اور خیر سے مزاج بھی ان کا سوانیزے پر ہے۔‘‘طوبی نے خاقان علی کے خرا ب موڈ کی طرف اشارہ کیا،وہ جب سے مری آئے تھے خوب تپے ہوئے تھے۔
’’صرف پانچ منٹ کا کام ہے ٹی سی ایس آفس تک،پلیز چلی چلو۔۔‘‘ درشہوار نے اس بار التجائیہ انداز اپنایا تو وہ چونک گئی۔
’’وہاں کیا کرنے جانا ہے۔۔۔؟‘‘
’’ہادی کا برتھ ڈے ہے کل، کیک اور پھول بجھواؤں گی اسے۔۔۔‘‘ اسکی اگلی با ت پر طوبیٰ کا دماغ بھک کر کے اڑا۔اس نے ایسی نظروں سے اس کی طرف
دیکھا․جیسے واقعی اسکی خرابی دماغ کا یقین آ گیا ہو۔
’’کوئی وحی نازل ہوئی تھی جنا ب پر یا سچا خواب آیا تھا اس کے برتھ ڈے کا۔۔‘‘ ؟
’’سوشل میڈیا سے پتا چلا ہے یار، ارسل کے فیس بک اکاونٹ کی فرینڈ لسٹ میں دیکھا تھا میں نے۔‘‘درشہوار نے مسکرا کر اپنا کارنامہ بتایا۔
’’ویسے کبھی کبھی میں سوچتی ہوں ،تمہیں اپنا کوئی انسٹیوٹ کھول کر ڈھٹائی اور چچھور پن کے اسپیشل ڈپلومے آفر کرنے چاہیے۔‘‘ طوبیٰ نے اسے جی بھر کر شرمندہ کرنا چاہا۔۔
’’محبت میں انسان کو سب سے پہلے اپنی عزت نفس کو ہی کچلنا پڑتا ہے میری جان ۔۔‘درشہوار نے اسکی بے عزتی بھرے الفاظ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے فورا ہی نکا ل دئیے ۔
’’یہ تمہارا پوائنٹ آف ویو ہو سکتا ہے میرا نہیں، میں تو کبھی اس چیز پر کمپرو مائز نہ کروں،محبت جائے بھاڑ میں،عزت نفس ہی نہ رہے تو کیا فائدہ ایسی زندگی کا‘‘
طوبیٰ نے صاف گوئی سے کہا۔
’’یہ لیکچر گھر واپس آ کر دے لینا، جلدی اٹھو، واپسی پر کے ایف سی سے بر گر کھلاؤں گی۔۔۔‘‘درشہوار نے اسے لالچ دیا۔
’’اس کے بدلے میں تھوڑی سی غیرت خرید کر کھا لینا کہیں سے۔۔‘‘ اس نے بُرا سا منہ بنایا۔
’’بکو مت، ایویں ڈپٹی نذیر احمد کے ناول کی اصغری نہ بنا کرو۔۔‘‘ درشہوار نے تازہ تازہ پڑھے ہوئے ناول مراتہ العروس کا حوالہ دیا۔
’’ یاد رکھنا،تمہارا کیک اور پھول اٹھا کر منہ پر مارے گا وہ تمہارے۔۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے بادل نخواستہ اٹھتے ہوئے اسے ڈرایا۔
’’کوئی بات نہیں ، ذرا سستے والا کیک بجھوا دوں گی،تاکہ معاشی دکھ تھوڑا کم ہو۔۔۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے اسے پھر چڑا گئی۔طوبی ایک دفعہ پھر غصّے
سے کاؤچ پر بیٹھ گئی، درشہوار نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔ ’’اب کیا موت پڑ گئی ہے تمہیں۔۔؟‘‘
’’ایسا کرو،نمیرہ کو لے جاؤ اپنے ساتھ ۔۔۔‘‘ اس نے مفت مشورہ دیا۔
’’اس بی بی سی مری کو اپنے لے جانے کا مطلب سمجھتی ہوتم۔۔۔؟ درشہوار نے طنزیہ انداز میں مذید اضافہ کیا۔
’’ایک گھنٹے میں اس شہرکی ہر سڑک پر اشتہار لگ جائیں گے میرے،ویسے تو میں اس سے بھی نہیں ڈرتی لیکن یک طرفہ محبت میں بندہ آخر کتنی ذلت اکیلے
اٹھائے۔۔‘‘درشہوار کی بات پر اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی آگئی جسے دیکھ کر وہ پھیل گئی۔
’’چل میری بہن ،جلدی سے اٹھ،اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرئے۔۔‘‘ درشہوار نے جلدی سے اسکا بازو پکڑ کر اسے اٹھایا۔
’’یہ آخری دفعہ ہے۔۔۔۔‘‘ طوبی نے ہمیشہ کی طرح اسے دھمکی دی۔
’’ہاں ہاں بے فکر رہو۔۔۔‘‘ درشہوار نے بھی ہمیشہ کی طرح اسے بہلایا اور اپنا بیگ اٹھا کر کمرے سے نکل آئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک انتہائی مصروف ترین دن گذار کر شہرزاد گھر پہنچی تو ایک نیا ہنگامہ اس کا منتظر تھا۔
سامنے آسٹریلوی گھاس کے باغیچے میں مصنوعی آبشار کے پاس ہارون رضا بے چینی سے ٹہل رہے تھے اور اس کی گاڑی دیکھ کر وہ تیر کی سی تیزی سے اسکی طرف آئے ان کے چہرے اور آنکھوں سے برہمی چھلک رہی تھی۔شہرزاد نے سوالیہ نگاہوں سے انکی طرف دیکھا۔
’’اپنی مام کو سمجھا لو ،اچھا نہیں کر رہیں وہ میرے ساتھ ۔۔۔۔‘‘ہارون رضا کی شکایت پر اسکی سنہری آنکھوں میں ناگواری در آئی ۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا۔۔؟‘‘
’’فار گاڈ سیک اس کو سمجھاؤ،وہ مسلسل اگنور کر رہی ہے مجھے ۔۔۔‘‘ وہ بیزاری سے گویا ہوئے
’’آپ نے یہ شادی کیا مجھ سے پوچھ کر کی تھی۔‘ شہرزاد کے سپاٹ انداز پر ہارون رضا ایکدم خفت کا شکار ہوئے۔
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔۔‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑی۔
’’یہ آپ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے ،بہتر ہوگا کہ آپ لوگ ہی بیٹھ کر نبٹا لیں اسے۔میرے پاس آل ریڈی مسائل کا انبار ہے۔۔‘‘ وہ بے تاثر نگاہوں سے
ان کی طرف دیکھتی ہوئی ان کو اچھا خاصا پزل کر گئی ۔
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن ٹینا میری ایک بھی سننے کو تیار نہیں۔۔۔‘‘ انہوں نے منہ بنا کر کہا۔
’’اب کیا ہواہے۔۔۔۔‘‘شہر زاد کو ان پر ترس آیا۔
’’وہ خبیث سیف الرحمن میٹنگ کر رہا ہے اس کے ساتھ ا ور اس نے ویٹنگ لائن میں بیٹھا رکھا ہے مجھے یہاں لا ن میں۔۔‘‘ ہارون رضا کے جھنجھلائے ہوئے
انداز پر ایک مبہم سی مسکراہٹ شہر زاد کے لبوں پربکھر گئی۔
وہ ان کی ذہنی حالت کا بخوبی اندازہ کر سکتی تھی۔ٹینا بیگم بھی ہارون کو ٹف ٹائم دینے سے باز نہیں آتیں تھیں لیکن اس کے باوجود ان کی ڈھٹائی کو پھر بھی سات
سلام تھے،ہر دفعہ انسلٹ کروانے کے بعد بھی وہ پھر کچھ دن بعد وہیں موجود ہوتے۔
’’پلیز ،تم بات کرو ان سے ،تمہاری تو وہ پھر بھی سن لیتی ہے۔۔‘‘اس دفعہ انہوں نے التجائیہ انداز اپنا یا۔
’’اوکے۔۔۔۔‘‘ شہر زاد نے گویا ہتھیار ڈال دئیے۔
’’آپ ویٹ کریں یہیں بیٹھ کر۔۔۔‘‘
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی گلاس وال کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی اور سامنے لاؤنج میں بیٹھے سیف الرحمن کو دیکھ کر اسے ہلکا سا جھٹکا لگا، ناپسندیدگی اس کے چہرے پر در آئی ، کیونکہ اس سے پہلے ان کی آمد و رفت ڈرائینگ روم تک محدود تھی اور شہرزاد نے آج تک ان کا صرف تذکرہ ہی سنا تھا یہ ان دونوں کی پہلی فیس ٹو فیس ملاقات تھی۔ شہر زاد کو دیکھ کر ٹینا بیگم پرجوش انداز میں کھڑی ہوئیں۔
’’سیفی یہ میری بڑی بیٹی ہے شیری۔۔۔‘‘
’’شہر زاد ۔۔۔!!! یہی نام بتایا تھا ناں آپ نے مجھے۔۔۔‘‘ ان کا لہجہ خاصا نفیس اور آنکھوں میں ایک نرم سا تاثر ابھرا۔
’’السلام علیکم۔۔۔‘‘ شہرزادنے ہلکاسا سر خم کر کے بیزاری سے سلام کیا اور ٹینا بیگم کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’ ایک دو گھنٹے تک مجھے ارتضی کے آفس کے لیے نکلنا ہے، آپ چلیں گی ساتھ۔۔؟‘‘
’’میرا تو تھوڑا مشکل ہو جائے گا۔۔۔‘‘ٹینا بیگم ہلکے سے تذبذب کا شکار ہو ئیں۔
’’پریس کانفرنس بہت زبردست تھی آپ کی۔۔۔سیف الرحمن ایک دم بولے تو شہرزاد نے چونک کر انکی طرف دیکھا۔
وہ پچاس اور پچپن سال کی عمر میں کنپٹیوں پر موجود سرمئی بالوں کے ساتھ ایک متاثر کن شخصیت کے حامل تھے، اور ان کے بیٹھنے اور بات کرنے کا اسٹائل خاصا
باوقار تھا۔
’’تھینک یو ۔۔۔‘‘ شہرزاد نے سرسری انداز میں جواب دیا۔
’’وقار درانی تو خاصی ٹینشن میں آگئے ہیں۔۔۔؟؟؟‘‘ سیف الرحمن کی اس بات پر شہرزاد اب مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہوئی ۔
’’آنا بھی چاہیے ۔۔۔۔‘‘
’’انہوں نے رابطہ کیا ہے مجھ سے ۔۔‘‘انہوں نے مذید کہا۔
’’اصولا تو انہیں مجھ سے یا مام سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔۔۔‘وہ متحمل انداز میں گویا ہوئی۔
’’وہ جانتے ہیں میرے فیملی ٹرمز ہیں آپ لوگوں کے ساتھ ۔۔‘‘وہ خاصے محتاط انداز میں شہرز اد سے مخاطب تھے۔
’’جانتے تو وہ یہ بھی ہیں کہ ان کی بیٹی کتنا کچھ غلط کر کے گئی ہے رومیصہ کے ساتھ۔۔‘‘
’’اپنی اولاد کا قصور کون مانتا ہے ۔۔۔‘‘ ٹینا بیگم نے بھی گفتگو میں حصّہ لیا۔
’’لیکن آپ تو ہمیشہ سے رومیصہ کو ہی قصور وار ٹہراتی آئی ہیں ۔۔۔‘‘اس نے ایک سیکنڈ میں ماں کو لاجواب کیا۔
’’تم اچھی طرح سے جانتی ہو ،وہ ہمیشہ سے زچ کرتی آئی ہے مجھے ۔۔۔‘‘ وہ ہلکا سا جھنجھلا کر بولیں۔
’’لیو اٹ مام،یہ بہت لمبی بحث ہے، باہر انکل ہارون آئے بیٹھے ہیں ،ان کو اٹینڈ کر لیں۔‘‘
وہ خبیث انسان ابھی تک وہیں موجود ہے،میں تو سمجھی تھی چلا گیا ہوگا۔۔۔‘‘ٹینا بیگم کا سیف الرحمن کے سامنے یہ تبصرہ شہرزا د کو خاصا بُرا لگا تھا۔
’’ان کی مستقل مزاجی کو آپ سے زیادہ کون جانتا ہوگا ،اینی ہاؤ یہ کوئی مناسب روئیہ نہیں ہے جو آپ اپنا رہی ہیں۔۔‘‘شہرزاد اپنی بات مکمل کر کے سیڑھیوں
کی طرف بڑھی ۔
کافی کے مگ کو گھماتی سیف الرحمن کی انگلیاں ساکت ہوئیں ۔انہو ں نے پہلی دفعہ اسے گہری نظروں سے جانچا ۔اسکی آنکھوں میں موجود ذہانت کی چمک
، اور باڈی لینگویچ کے ذریعے جھلکتا اعتماد نظر انداز کیے جانے کے قابل نہ تھا۔
’’شیری ٹھیک کہہ رہی ہے ،تمہیں جا کر بات کرنی چاہیے اس سے۔۔۔‘‘وہ محتاط انداز میں گویا ہوئے۔شہرز اد نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ان کا یہ جملہ بغور
سنا تھا لیکن کوئی بھی رسپانس دئیے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
درشہوار اور طوبیٰ جیسے ہی باہر نکلیں، طوبیٰ نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا، جو کالے بادلوں سے اٹا ہوا تھا۔ سامنے لان میں شاہ میر اپنے کسی بیج میٹ کے سا تھ
بیٹھا ہوا چائے پی رہا تھا،ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہی وہ جھنجھلا کر ان کے پاس آیا۔
’’تم دونوں کو سکون نہیں ہے ، اب کہا ں کا دورہ کرنے جا رہی ہو ۔۔۔‘‘اپنے دوست کی موجودگی میں اس کی آواز کا والیوم تھوڑا کم ہی تھا لیکن وہ کھا جانے
والی نظروں سے دونوں کو گھور رہا تھا۔
’’ذرا مارکیٹ تک جانا ہے۔۔۔‘‘درشہوار کی زبان پھسلی ۔
’’موسم کے تیور دیکھے ہیں اور ایسی کون سی قیامت آگئی ہے جو آج ہی جانا ضروری ہے۔۔‘‘وہ طوبی کو مکمل طور پر نظر انداز کیے درشہوار کی طرف متوجہ تھا۔
’’وہ بیا آپی کے لیے گفٹ خریدنا تھا ہمیں۔۔۔‘‘ درشہوار نے گھبرا کر بہانہ بنایا۔
’’ان کا برتھ ڈے جون میں نہیں دسمبر میں ہوتا ہے۔۔’’شاہ میر کی معلومات بھی اپ ٹو ڈیٹ تھیں۔
’’برتھ ڈے کا نہیں،یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کا ۔۔‘‘درشہوار کے پاس کو ن سا بہانوں کی کمی تھی۔اس بات پر اس کے تاثرات میں تھوڑا نرمی آئی تھی، تبھی وہ
کچھ لمحے جانچتی نگاہوں سے پرکھنے کے بعد بولا۔
’’ڈرائیور کہاں ہے۔۔؟‘‘
’’ کسی کام سے گیا ہوا ہے اس لیے پیدل ہی جاؤ مارکیٹ ۔‘‘اسکی اگلی بات نے طوبیٰ کی جان نکال دی،ان کے گھر سے مری کی مال روڈ کا اچھا خاصا فاصلہ
تھا اور طوبیٰ کو ابھی سے اپنی ٹانگوں میں درد محسوس ہونے لگا۔
’’جی جی کوئی بات نہیں۔۔۔‘‘درشہوار اسکا بازو پکڑ کر زبردستی گیٹ تک لے آئی۔
’’دماغ تو نہیں خراب ہو گیا، اتنا پیدل کیسے چلیں گے ۔۔؟‘‘
’’فکر مت کرو ،کسی سے لفٹ لے لیں گے۔۔۔‘‘درشہوار نے جیسے ہی اُسے اپنے نیک عزائم سے اسے باخبر کیا۔وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔
’’میں نے اپنی ٹانگوں کی انشورنس نہیں کروا ئی ہوئی۔۔‘‘ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا اور تیز تیز چلنے لگی۔تھوڑی ہی دیر کے بعد ہی اس کا سانس پھولنے لگا،ویسی
مری کی سڑکیں بالکل غیر ہموار تھیں ،کہیں ایک دم اونچائی تو کہیں ڈھلوان۔
’’مجھے لگ رہا ہے تمہارا وزن بڑھ گیا ہے اس موٹی نمیرہ کی طرح ۔۔۔‘‘درشہوار نے چلتے چلتے اسے چھیڑا۔
’’بکو مت ۔۔۔‘‘طوبیٰ تلملا کر پلٹی، سامنے درشہوار ایک خوبانی کے درخت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’کوئی بھی چوری کرنے سے پہلے درخت کے نیچے لیٹے ہوئے کتے کو ضرور دیکھ لینا، پچھلی دفعہ تو چودہ ٹیکے لگنے سے بچا لیا تھا ہادی نے۔‘‘ طوبی کی بات پر وہ
کھلکھلا کر ہنسی ۔۔۔
’’وہی ایک بات تو بھولتی نہیں ہے میرے ظالم دل کو۔۔۔‘‘ درشہوار نے مسکرا کر کہا ،دور کہیں بادلوں کے پیچھے بجلی چمکی ۔
گہرے سبز رنگ کے قد آوراور گھنے درختوں میں گھرے مری شہر کا حسن آجکل جوبن پر تھا،گرمی کے ستائے ہوئے سیاحوں کی بھرمار نے سڑکوں پر چلنا محال
کر دیا تھا۔جا بجا شاہ بلوط، صنوبر اورسلور اوک کے قدیم درختوں کا حسن اب مری میں رہنے والوں کو متاثر نہیں کرتا تھا لیکن باہر سے آنے والے لوگ بہت
ذوق و شوق سے ان کے نظارے کرتے تھے۔
وہ دونوں لوگوں کے بے تحاشا ہجوم سے بچتی ہوئی ٹی سی ایس آفس پہنچیں اور درشہوار نے ہادی کے دفتر کے ایڈریس پر پھول اور بکے کا آرڈر لکھوا کر طوبی کا منہ
بند کرنے کے لیے زنگر برگر خرید کر دیا۔وہ دونوں مزے سے برگر کھاتی ہوئی واپس آ رہیں تھیں ،تبھی ہلکی ہلکی سی کن من نے ایک دم ہی موسم سہانا کر دیا ۔درشہوار کا موڈ آج پھر عروج پر تھا
’’توبہ ہے یار اس بارہ من کی دھوبن کو دیکھو۔۔۔‘‘درشہوار فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے ایک خاتون کو دیکھ کر بلند آواز میں ہنسی۔
’’آہستہ بولو،اس نے سن لیاتو منہ توڑ دے گی تمہارا۔۔۔‘‘طوبیٰ کو اس کا فل والیوم میں بولنا ہمیشہ کوفت میں مبتلا کرتا تھا۔
’’دیکھو تو سہی یار،بندہ پوچھے بیٹھنے سے پہلے اپنا وزن تو دیکھ لیا ہوتا۔۔‘‘ وہ شرارتی لہجے میں گویا ہوئی ۔
وہ خاتون کرائے پر لی گئی چھوٹی سی ٹرالی میں بیٹھی ہوئی تھی ،جسے ایک دبلا پتلا سا لڑکا زور لگا کر چلا رہا تھا،اسی چھوٹی چھوٹی ٹرالیاں مری کی سڑکوں پر عام نظر آتی ہیں اور عموما لوگ بچوں کو بیٹھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ،اس میں دو بندے آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں۔
’’ایک منٹ رکو رکو۔۔۔‘‘درشہوار نے بھی ایک ٹرالی والے کو روکا،اور جھٹ سے بیٹھ گئی ۔طوبیٰ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے درشہوار،فورا اترو۔۔۔‘‘ وہ خفت زدہ انداز میں گویا ہوئی۔
’’نہیں یار،میری تو ٹانگیں جواب دے گئی ہیں،تم بھی آجاؤ۔۔‘اسکی آفر پر طوبی کا دماغ کھول اٹھا۔وہ دل ہی دل میں اسے بلند آواز کوسنے لگی، ٹرالی کو کھینچنے
والا نوجوان لڑکا بھی شوخی میں آ گیا تھا۔
’’یہ لڑکی ہمیشہ شرمندہ کروتی ہے،میں ہی پاگل ہوں جو ہر دفعہ بے عزت ہونے کو اس کے ساتھ چلی آتی ہوں۔‘‘وہ تیز تیز چلتے ہوئے اپنے منہ ہی میں اپنی
بھڑاس نکال رہی تھی۔طوبیٰ کے نہ بیٹھنے پر اس پورٹر نے شرارت سے ٹرالی کو بھگانا شروع کر دیا اور طوبیٰ کے لیے انکا ساتھ دینا محال ہو گیا۔ درشہوار اس پر
ایسے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی جیسے داجی کی لینڈ کروزر میں ہو۔۔۔
یہ محمدہادی اور سعد کی بھی آفس سے واپسی کا ٹائم تھا،سعد نے گاڑی چلاتے ہوئے یہ منظر بڑی دلچسپ نگاہوں سے دیکھا اور آنکھ کے اشارے سے ہادی کو بھی
اس طرف متوجہ کیا۔
’’اس لڑکی کو کبھی عقل نہیں آ سکتی، آدھی دنیا کے فتنے اسی کے دماغ سے نکلتے ہیں۔۔‘‘ہادی بھی سامنے کا منظر دیکھ کر بدمزا ہو ا۔ایک دم ہی ہلکی کن من تیز بارش
کا روپ دھار گئی ،اور مری کے پہاڑوں پر موجود بدلیاں گویا وجد میں آ گئیں تھیں۔
اسی وقت مزے سے برگر کھاتی درشہوار کی نظر سعد کی گاڑی پر پڑی اور اسکا چہرہ متغیر ہوا وہ اچھل کر اس ریڑھی نما ٹرالی سے اتری،اور گیلی سڑک پر گرتے گرتے بچی۔اس نے فورا اپنے پرس سے پیسے نکال کر پورٹر کو پکڑائے ،اتنے میں سعد اسکے بالکل پاس گاڑی روک چکا تھا۔
’’سعد یہ کیا حرکت ہے،گاڑی چلاؤ۔۔‘ ہادی ہلکا سا جھنجھلایا۔جب کہ سعد اسے نظر انداز کیے گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے ان دونوں سے مخاطب ہوا۔
’’آجائیں لیڈیز۔۔۔بارش بہت تیز ہے۔۔‘‘ سعد کی آفر پر درشہوار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ،جھٹ سے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور دھپ کر کے بیٹھ گئی۔ہادی نے مڑ کر اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔
’’آ جائیں ،آپ بھی۔۔۔‘‘سعد نے مسکرا کر طوبی کی طرف دیکھا جو ہادی کے ماتھے کی شکنیں گننے میں مصروف تھی،اپنے پاؤں گھسیٹتی ہوئی وہ بمشکل پچھلی پر
بیٹھی لیکن تب تک اچھی خاصی بھیگ چکی تھی۔طوبی نے اندر بیٹھتے ہی مرے مرے انداز میں سلام کیا،جسکا جواب صرف سعد کی طرف سے آیا تھا۔
’’گھر ہی جا رہے ہیں ناں آپ لوگ۔۔۔‘‘ سعد نے گاڑی کا گئیر تبدیل کرتے ہوئے تصدیق چاہی۔
’’آپ کی طرف بھی جا سکتے ہیں ،اگر اچھی سی کافی آفر کریں تو۔۔۔‘‘ درشہوار کی شوخی پر ہادی نے بیزاری سے پہلو بدلا اور اپنے سیل فون پر آنے والی مناہل
کی کال کی طرف متوجہ ہو گیا۔طوبی نے ہلکی سی کہنی مار کر درشہوار کواپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،جبکہ اس کی تمام حسیں اس وقت ہادی کی طرف متوجہ تھیں۔
’’شیور ۔۔۔۔وائے ناٹ۔۔‘‘سعد نے بیک مرر میں درشہوار کا شرارتی سا چہرہ فوکس کیا۔
’’ہاں منو ،بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔؟‘‘ ہادی نے کال اٹینڈ کرتے ہی فکرمندی سے پوچھا،اور کچھ لمحے کے توقف کے بعد بولا۔’
’کل دن میں آنا تو تھوڑا مشکل ہے یار، ڈنر پر آجاؤں گا اور تم پلیز ممی پاپا کو بھی تسلی دے دینا۔۔اوکے ٹیک کئیر بائے گاڈ۔‘‘ہادی نے جیسے ہی فون بند کیا ،درشہوار کے چہرے سے پھوٹتی مسرت گویا ہوامیں تحلیل ہو گئی ۔ہادی کے منہ سے کسی لڑکی کا نام سننا اس کے لیے کوئی خوشگوار تجربہ نہیں تھا۔
’’کیا ہوا ۔۔مناہل تھی۔؟اسلام آباد بلا رہی ہے کیا۔۔؟‘‘ سعد نے گاڑی چلاتے ہوئے دانستہ بلند آواز میں پوچھا، درشہوار کے کان کھڑے ہو گئے۔
’’ہاں ، پھر کوئی سرپرائز رکھا ہوگا اس نے ،تبھی تو ضد کر رہی ہے۔۔۔۔۔‘‘
’’ویسے کل تو جانا بنتا ہے تمہارا، بہت اسپیشل ڈے ہے ،ورنہ جان نکال دے گی وہ تمہاری،اپنے ماموں ممانی سے کہہ کر۔۔‘‘ سعد نے دانستہ بلند آواز میں ایک
دفعہ پھر درشہوا ر کو سنایا ،جس کا چہرہ ایک دم تاریک ہو ا تھا۔
اپنی اس حرکت پر سعد دل ہی دل میں کافی شرمندہ بھی ہوا ،لیکن وہ جانتا تھا کہ درشہوار ایسے راستے کی مسافر بننے کی کوشش کر رہی ہے جس کی کوئی منزل نہیں تھی اور راستے میں مڑ جانا اتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنا بہت دور جا کر واپس آنا۔اس بات کے بعد درشہوار کو ایک دم چپ لگ گئی تھی اور باقی کا راستہ اس نے خاموش
بیٹھ کر ہی گذارا تھا۔
سعد اپنی گاڑی میر ہاؤس کے گیٹ پر روک چکا تھا،درشہوار جلدی سے باہر نکل آئی اور کچھ بھی کہے بغیر تیز تیز اندر کی طرف چل دی، اسکی اس بدتمیزی پر طوبی
ایک دم خفت کا شکا ر ہو ئی،تبھی اس نے زبردستی مسکرا کر سعد کی طرف دیکھا۔
’’تھینک یو سعد بھائی ۔۔۔تھینکس آ لاٹ ۔۔۔۔‘‘
’’اٹس اوکے سسٹر ۔۔۔۔ٹیک کئیر۔۔۔‘‘سعد نے گاڑی آگے بڑ ھا دی۔
’’ویسے کبھی کبھی تو تم بھی ایسی چھچھوری حرکتیں کرتے ہو ،کہ دماغ کھول جاتا ہے میرا۔۔۔‘‘ہادی نے اسکی لفٹ دینے والی حرکت پر طنزکیا۔
’’یار انسانیت اور بھائی چارہ بھی کسی چڑیا کا نام ہے ،اور پھر ارسل کی کزنز ہیں،اتنے خراب موسم میں کیسے جاتیں وہ۔‘‘
’’یہ ا ن کو گھر سے نکلنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، مجھے تو حیرت ہوتی ہے اس گھر کے مردوں پر ،جنہوں نے شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑا ہوا ہے انہیں۔‘‘
ہادی کا موڈ اچھا خاصا خراب ہو چکا تھا۔
’’ پچھلے دو دن سے تم ضرورت سے زیادہ ہی جذباتی اور چڑ چڑے نہیں ہو رہے ہو،خیر تو ہے ناں۔۔‘‘سعد نے بات کو ہلکا پھلکا سا رنگ دیا۔جب کہ ہادی
اس کی بات پر خاموش رہا تھا ،اس کی تمام تر توجہ گیٹ کے سامنے کھڑی کسی سیاح کی گاڑی کی طرف تھی، جو وہاں پر پارک کر کے خود مزے سے چلا گیا تھا
اور ہادی کو اب اگلے کئی گھنٹے تک اس بات پر کڑھنا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
’’ اب بتاؤ ،میری مسز بن کر تم کیسا محسوس کر رہی ہو ۔۔۔؟‘‘
اس کے الفاظ ہتھوڑے کی مانند رومیصہ کے اعصاب پر برسے ،پچھلے کئی گھنٹے رونے کے بعد اسکی نیلگوں آنکھیں بالکل خشک ہو چکی تھیں۔ایسا گمان ہوتاتھا
جیسے نیلا سمندر اب ساکن ہو گیا ہو۔۔
نکاح کے ہنگامے کے بعد وہ پورے چوبیس گھنٹے گذار کر اس فارم ہاؤس میں واپس آیا تھا،البتہ جاتے جاتے وہ اسے پرانے کمرے سے گیسٹ روم میں منتقل
کرنے کا احسان ضرور کر گیا تھا جس میں ایک چھوٹا ساامریکن کچن بھی تھا۔ورنہ وہ خوف سے تو بے شک نہ مرتی لیکن بھوک اور پیاس سے ضرور اسکی جان نکل
جاتی،کمرے کے روم فریج میں کھانے پینے کا بے تحاشا سامان تھا۔
جب سے وہ فارم ہاؤس میں آیا تھا اس پرمسلسل طنز کے تیر برسانے میں مصروف تھا۔ جبکہ دکھ، اور صدمے کی زیادتی سے رومیصہ بالکل گنگ تھی اور اسکی یہی خاموشی اسے مذید سلگا رہی تھی۔
’’اس وقت تو بڑی فلمی ہیروئنوں کی طرح آہیں بھر بھر کر دعوے کر رہی تھیں مرنے کے۔۔۔‘‘اس کے طنزیہ انداز پر رومیصہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
’’تم ایک انتہائی چیپ انسان ہو ۔۔۔‘‘ رومیصہ کے شکست خوردہ انداز پر اس نے فاتحانہ قہقہ لگایا۔
’’ اور تم توبہت ڈھیٹ ہو ،میں نے تو نکاح تک کر لیا تاکہ دیکھ سکوں ،تم اپنے ہاتھوں سے کیسے اپنا گلا گھونٹتی ہو،لیکن تم تو بہت بزدل نکلیں،میرے ایک دفعہ
گھورنے پر ہی فورا دستخط کر دئیے ،اس کا مطلب ہے تم لڑکی نہیں کوئی کٹھ پتلی ہو۔ ۔۔‘‘رومیصہ نے بیزاری سے اسے پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھا۔
اسے لگا جیسے ہنستے ہنستے اس کا دم نکل جائے گا اور اس نے شدت سے دل ہی دل میں اس کے مرنے کی دعامانگی تھی کیونکہ اتنا تو اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ اسی صورت میں ہی اس سے چھٹکارہ ممکن ہے۔
وہ انتہائی عجیب و غریب شخصیت کا حامل تھا،پل میں تولہ ،پل میں ماشہ،اس نے انتقاماً اسے اغوا کروایا اور پھر اسکے ایک طعنے نے اسکی مردانگی کو للکارا تو وہ بغیر سوچے سمجھے اس سے نکاح کرنے پر راضی ہو گیا اور اب بیٹھ کر اس کی بے بسی کا نظارہ کر رہا تھا۔
’’میرے گھر والے چھوڑیں گے نہیں تمہیں۔۔۔‘‘ رومیصہ نے انگلی اٹھا کر اسے جذباتی لہجے میں دھمکی دی۔
’’اچھا،کیا کریں گے،بتاؤ۔۔۔‘‘وہ تھوڑا اس کے قریب آیا، رومی کو اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا ،اور وہ بے ساختہ کچھ قدم پیچھے ہٹ گئی۔
’’دھمکی مت دینا،بہت الٹے دماغ کا بندہ ہوں ، جس کام سے روکا جائے ،وہی کرتا ہوں۔۔۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے ،پھر رکھو ،ساری زندگی مجھے اپنے پاس،میری مدر کہتی ہیں کہ میں تو خود چلتی پھرتی ایک سزا ہوں اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے۔‘‘ رومی
نے فورا ہی پینترا بدلا۔
’’اتنا بے وقوف نہیں ہوں میں،جو تمہاری اس بات کی ضد میں آ کر چھوڑ دوں تمہیں۔۔‘‘اس نے رومیصہ کی چال کو چٹکیوں میں اڑا یا تو وہ ایک دم جھنجھلا سی
گئی۔’’تم جیسے کئی آئے اور کئی گئے ۔۔‘‘
’’جانتا ہوں میں،ٹینا سہگل کی بیٹی ہو تم ، جن کے پاس مردوں کو انگلیوں پر نچانے کا وسیع تجربہ ہے۔۔۔‘‘ اس نے رومیصہ کی طرف تلخ لفظوں کے انگارے
اچھالے ۔
’’شٹ اپ ،جسٹ شٹ اپ۔۔۔‘‘ رومی ایک دم حلق پھاڑ کر چیخی ۔اس کی آنکھوں سے گویا شرارت پھوٹ پڑے ۔
’’تم خود کس گھٹیا شخص کی اولاد ہو،کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لو،ایک کمزور اور بے بس لڑکی کو یہاں قید کر کے سمجھتے ہو ،بڑی مردانگی ہے تم میں۔‘‘
وہ پہلی بار اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
’’میرے باپ کو گالی مت دینا۔۔۔‘‘غصّے کی زیادتی سے اسکا بھی چہرہ مسخ ہوا۔
’’ہاں تم خود دوسروں کی ماؤں کو جتنے مرضی بُرے الفاظ میں یا د کرو،تمہیں تو سو گناہ بھی معاف ہیں۔۔۔‘‘رومیصہ کے تنے ہو ئے نقوش اسکی بیزاری کے گواہ تھے،اس زبردستی کے نکاح نے اسے مذید نفع و نقصان سے بے نیاز کر دیا تھا۔وہ کچھ لمحے اسکی نیلگوں آنکھوں میں جھانکتا ہو ا ایک دم ہنس پڑا۔
’’ٹرسٹ می ،اس وقت بالکل بیویوں کی طرح دو بدو لڑ رہی ہو۔۔‘‘
’’شٹ اپ ۔۔۔‘‘وہ قدرے رخ موڑ کر ناراضگی سے بیٹھ گئی۔
’’شکر کرو، بچا کر نکال لایا ہوں تمہیں یہاں،ورنہ اب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہی ہوتی۔‘‘وہ روم فریج سے جوس کا ٹن نکال کر اس کے سامنے بیٹھ
گیا اور گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
’’تمہارے اس قید خانے سے تو جیل کی سلاخیں ہی اچھی۔۔‘‘وہ ایک دم جل کر بولی۔
’’کیا اتنا بُرا ہوں میں۔۔۔‘‘ وہ دونوں بازو سینے پر باندھ کر اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔اس کے چہر ے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
رومیصہ نے پہلی دفعہ اس دراز قامت شخص کو غور سے دیکھا ،جو اس وقت سفید ٹی شرٹ کے ساتھ گھٹنوں سے تھوڑی نیچے آتی سیاہ شارٹس میں بالکل گھریلو
حلیے میں تھا۔اس کی شیو بڑھی ہوئی اور آنکھیں رتجگوں کی غماضی کررہی تھیں۔وہ اپنی شکل وصورت اور اسٹائل سے کسی ویل اسٹیبلش فیملی کا فرد لگتا تھااور
ٹھیک ٹھاک ہینڈسم تھا۔
’’میری برداشت کو اتنا مت آزماؤ ۔۔۔۔‘‘رومیصہ کی آواز میں تلخی رچی ہوئی تھی۔
’’تو کیا روحیل محمود کی طرح مجھے بھی اپنی گاڑی کے نیچے کچل دو گی۔۔۔؟‘‘ اسکا لہجہ رومیصہ کو خاصا تضحیک آمیز لگا۔
’’اسے تو نہیں کچلا تھا لیکن تم انشا ء اللہ ضرور مارے جاؤ گے میرے ہاتھوں۔۔‘‘اس کے مضبوط لہجے پر وہ قہقہ لگا کر بلند آواز میں ہنسا۔
’’لڑکی جی دار ہو تم ،تبھی تو زندہ کھڑی ہو میرے سامنے۔۔‘‘ وہ اب فریج سے ایک اور کوک کا یخ ٹن نکال چکا تھا۔ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں کا پیاسا ہو۔
’’ویسے ایک بات تو بتاؤ۔۔۔‘‘رومیصہ گھوم کر اسکے پاس آن کھڑی ہوئی۔
’’جو ایف آئی آر میرے خلاف کٹوائی گئی تھی،اس کی رو سے تو مجھے ویسے ہی سزا ہو جانی ہے،تم نے کیوں مجھے کڈ نیپ کرنے کی زحمت کی۔۔‘‘
’’اس لیے کہ مجھے یقین تھا تمہاری مدر کے’’ چاہنے‘‘ والے تمہیں اس کیس سے کسی نہ کسی طرح بچا کر لے جائیں گے اور میں روحیل کی قاتلہ کو یوں سڑکوں
پر دندناتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔‘‘
’’مارنا ہی تھا تو نکاح کیوں کیا ہے میرے ساتھ۔۔۔؟‘‘ رومیصہ تلخی سے بولی۔
’’تمہارے ضد دلانے پر، ورنہ میں اور تم جیسی لڑکی سے شادی کروں۔اتنا گرا ہوا اسٹینڈرڈ نہیں ہے میرا۔۔‘‘اس کے تضحیک آمیز انداز پررومی کی آنکھوں کی جوت مدھم ہوئی ، اور کچھ لمحوں کو اس کی قوت گویائی سلب ہو کر رہ گئی ۔ہونٹوں پر پھسلتی نمکینی سے اسے محسوس ہوا وہ رو رہی ہے۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا خالی ٹن ڈسٹ بن میں اچھال کر رومیصہ کی طرف پلٹ کر دیکھا،ایک کرسی گھسیٹ کر اسکے بیڈ کے پاس لے آیا،وہ کرسی کی بیک سائیڈ رومی کے بیڈ کی طرف رکھ کر الٹے انداز میں اس پر بیٹھ گیا ،اس نے کرسی کی پشت پر اپنا چہر ہ ٹکا ،کر اپنے بازو اس کے اردگرد پھیلا لیے اور بغور اسے دیکھنے لگا
رومیصہ کو اپنا دل کھائی میں گرتا ہوا محسوس ہوا۔
’’یقین مانو،تم دنیا کی واحد لڑکی ہو ،جو روتے ہوئے بہت دلکش لگتی ہو۔۔‘‘
’’اللہ کرئے مر جاؤ تم ۔۔۔‘‘اس کے بلند آواز میں رونے پر وہ اس سے بھی اونچی آواز میں ہنسنے لگا،جیسے اس نے اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ سنا دیا ہو۔
رومیصہ کو یقین آ گیا تھا کہ اس کے دماغ کا ایک پیچ نہیں بلکہ وہ پورا ہی کھسکا ہوا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شہرزاد مری کے لیے نکلی تو اس وقت موسم خاصا ابر آلود تھا۔۔۔
ٹمبر مافیا کیس کے سلسلے میں آج اسے ہر قیمت پر ہادی کے آفس میں شجاع غنی سے ملنا تھا،جو اپنے پیر کے فریکچر کی وجہ سے اسلام آباد آنے سے معذرت کرچکا
تھا،شہر زاد ،رومی کے کیس کے ساتھ ساتھ شجاع غنی کے کیس پر بھی پوری توجہ دے رہی تھی،وہ بیرسٹر عالیہ قریشی کی امیدوں پرپورا اترنا چاہتی تھی۔
موسلا دھار مینہ کی بوندیں اسکی گاڑی کی چھت پر جلترنگ بجا رہی تھیں اورہوا میں پیڑوں کی سبز خوشبو رچی ہوئی تھی۔ سنگلاخ سڑک سانپ کی طرح بل کھاتی
ہوئی دور تک چلی جا رہی تھی۔
مری کے جانے پہچاننے راستے اسے ہمیشہ نوسٹلجیا میں مبتلا کرتے تھے۔مری کانونیٹ کی سامنے والی سڑک پر وہ رومی کی انگلی پکڑ کر اکثر باہر نکل آتی۔لوئر ٹوپہ، پتریاٹہ،چھانگلہ گلی، ایوبیہ، جھینگا گلی،خانصپور،کالا باغ ،لارنس کالج، اورگولف کورس کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں وہ بچپن میں رومی اور ٹینا بیگم کے ساتھ نہ گئی
ہو۔یہاں کے چپے چپے سے اسکی یادیں وابستہ تھیں۔
’’کہاں ہو گی رومی اورکس حالت میں ہوگی۔۔۔‘‘ایک بے نام اضطراب اس کے جسم میں چٹکیاں بھرنے لگا۔
’’کیا میں اسے دوبارہ کبھی زندگی میں دیکھ پاؤں گی ۔۔۔؟‘‘ اس کی آنکھوں میں رقم کرب کی تحریر صاف پڑھی جا رہی تھی۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں وہ اسے ڈھونڈ نکالے،دو دن میں ارتضی حیدر کئی جگہوں پر ریڈ کروا چکا تھا جہاں رومی کے ملنے کا
ایک پرسنٹ بھی چانس تھا لیکن ناکامی ہر جگہ سے اس کا مقدر بن رہی تھی۔
دوسری طرف وقار درانی مسلسل اس سے رابطہ کرنے کی کوششوں میں تھا اور وہ جان بوجھ کر اسے نظر انداز کر رہی تھی۔وہ اسے مکمل طور پر زچ کرکے اس پوائنٹ پر لانا چاہتی تھی جہاں اس کے پاس سمجھوتہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو۔
چیڑ اور دیودار کے سدا بہار درختوں کے درمیان میں اسکی گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف گامزن تھی۔تیز بارش میں اس کاڈرائیور بڑی مہارت سے ڈرائیونگ کر رہاتھا۔اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ ہادی کے آفس میں پہنچی۔
بارش ابھی تک ہو رہی تھی اور اسکی خنکی دھیرے دھیرے بدن کو چھو رہی تھی۔شجاع غنی، ہادی کے آفس میں پہلے سے موجود تھا ،اسے دیکھ کر وہ بے ساختہ مسکرایااور اس نے بڑے پرجوش انداز میں اسے سلام کیا تھا۔
سیاہ رنگ کے شلوار قمیض سوٹ میں مسٹرڈ کلر کا اسکارف گلے میں ڈالے وہ بالکل سادہ سے حلیے میں اندر داخل ہوئی تو ہیوگو باس پرفیوم کی مہک چاروں
طرف پھیل گئی ۔ہادی اور سعد دونوں ایک ہی کمپیوٹر پر کام کرنے میں مگن تھے۔
’’السلام علیکم ۔۔۔۔!!!‘‘ اسکا پراعتما دلہجہ دونوں کو چونکا گیا،ہادی نے فورا رسٹ واچ پرٹائم دیکھا، وہ اپنے مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ چکی تھی۔
’’ویلکم بیرسٹر شیری۔۔۔‘‘
ہادی نے ایک خیر مقدمی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی، اور اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ انتہائی پرسکون نظر آرہی تھی ،اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل میز
پر رکھی اور اپنے سنہری مائل بھورے سلکی بالوں کو لاشعوری طور پر جوڑے کی شکل میں باند ھ کر اندر بال پوائنٹ پھنسا لی تھی۔
’’یہ میرے کولیگ اور بیسٹ فرینڈ ہیں سعد رحمانی ۔۔۔‘‘ ہادی نے سنجیدگی سے تعارف کی رسم نبھائی ۔سعد نے ہلکا سا سر خم کر کے اسے سلام کیا۔
’’کیا مجھے شجاع صاحب سے بات یہیں کرنا ہوگی۔۔۔‘‘وہ ہلکے سے تذبذب کاشکار ہوئی۔۔۔
’’اگر آپ ایزی فیل نہیں کر رہیں تو ہم لوگ چلے جاتے ہیں۔۔۔‘‘ہادی اپنے دونوں بازوسینے پر باندھ کر مونچھوں تلے مسکرایا۔
’’ناٹ ایٹ آل،بات میرے ایزی ہونے کی نہیں بلکہ میرے کلائنٹ کی پرائیویسی کی ہے۔‘‘اس کا لہجہ بڑا ہموار اور متوازن تھا۔ہادی کے ساتھ ساتھ سعد
نے بھی اسے گہری نظروں سے جانچا ۔
’’اوکے،آپ میٹنگ کریں ،ہم لوگ ایک چکر فیلڈ کا لگا کر آتے ہیں۔۔۔‘‘ہادی نے فورا میز سے اپنا سیل فون اور گاڑی کی چابی اٹھائی اورسعد کے ساتھ
باہرنکل پڑا۔باہربارش رک چکی تھی۔اس لیے دونوں نے پیدل ہی چلنے کا فیصلہ کر لیا۔
’’بڑی ـ’’دبنگ‘‘ خاتون ہیں یہ۔۔۔‘‘ سعد نے باہر نکلتے ہی شہرزاد پر تبصرہ کیا۔
’’ہاں اور بہت جینئیس بھی۔۔۔۔‘‘ہادی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا،جو خوب برسنے کے بعد شفاف ہو چکا تھا۔
’’اس کا مطلب ہے میر خاندان کی شامت آنے والی ہے ۔۔۔‘‘سعد نے چلتے ہوئے سڑک پر پڑے پتھر کو ٹھوکر لگائی۔
’’یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ،ویسے مام بہت تعریف کر رہی تھیں کہ اس نے کیس بہت اچھا تیار کیا ہے۔‘‘ہادی نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
’’ہاں وہ تو اسکا بات کرنے کا اسٹائل اور باڈی لینگویچ ہی بتا رہی ہے۔‘‘سعد کی بات پر ہادی نے مذید کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ہ لوگ اپنے قریبی آفس کا وزٹ کر کے ایک گھنٹے کے بعدواپس آئے تو وہ شجاع غنی کو کل صبح ہونے والی پیشی کے بارے میں اچھی خاصی بریفنگ دے کر
جانے کے لیے تیارتھی ۔ہادی کی میز پر تازہ پھولوں کا گلدستہ اور کیک پڑا ہوا ۔
’’ یہ کون لے کر آیا ۔۔۔؟‘‘ ہادی خوشگوار حیرت کا شکار ہوا ،آج اسکا برتھ ڈے تھا اور یہ بات صرف قریبی لوگ جانتے تھے۔
’’کورئیر والا۔۔۔‘‘شہرزاد نے اپنی چیزیں سمیٹتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو وہ ہلکا سا شرمندہ ہوا۔
ہادی نے جلدی سے بکے کے ساتھ رکھا چھوٹا سا گریٹنگ کارڈ کھول کر دیکھا، سامنے درشہوار کا نام دیکھ کر اس کا دماغ بھک کر کے اڑا۔اس نے بیزاری سے
وہ میز کی سائیڈ پر پھینک دیا۔سعد نے اس کے چہرے کے بگڑتے زاویوں سے اندازہ لگانے کی کوشش کی۔
’’میرا خیال ہے مجھے نکلنا چاہیے۔۔۔‘‘ وہ اپنی فائل اٹھا کر کھڑی ہوئی۔
’’کل پہلی ہیرنگ ہے آپکی وش یو بیسٹ آف لک۔۔۔‘‘ہادی کی بات پر وہ ہلکاسا مسکرائی اور آفس سے نکل گئی۔
’’یہ کیا سین ہے۔۔‘‘شہر زاد کے باہر نکلتے ہی سعد نے میز پر رکھی چیزوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’بے ہودگی ۔۔۔اسی گینگ کی لیڈر کی ۔۔۔‘‘ہادی کی بات پر سعد کا چہرہ ہلکا سا تاریک ہوا۔اس نے زبردستی مسکرا کر کیک کی طرف دیکھا جس پر ہیپی برتھ
ڈے ٹو ہادی کے الفاظ تحریر تھے،اس کے اندر چھن کر کے کچھ ٹوٹا تھا۔
جب کہ ہادی کا موڈ ٹھیک ٹھاک خراب ہو چکا تھا ،اس نے سیل فون پر در شہوار کا نمبر ملایا،جو کہ میسجز میں موجود تھا او ر باہر نکل آیا ،دوسری طرف پہلی ہی بیل پر کال اٹینڈ کر لی گئی تھی۔
’’زہے نصیب۔۔۔‘‘ وہ چہک کر بولی ۔۔
’’ یہ پھول اور کیک واپس میر حاکم علی کو بجھواؤں یا میر محتشم علی کو۔۔۔‘‘ہادی کے طنزیہ انداز پر وہ ہلکا سا سسپٹائی ۔
’’آپ کو وش کرنے کے لیے بجھوائے تھے میں نے۔۔۔‘‘وہ ہلکا سا جھجک کر بولی۔
’’ اس قسم کی فضول حرکتیں کر کے ثابت کیا کرنا چاہتی ہیں آپ،ہزار دفعہ بتا چکا ہوں کہ مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں نہ آپ میں، نہ آپکے خاندان میں اور نہ کسی اور چیز میں،اپنا دماغ جتنی جلدی درست کر لیں گی،بہتر ہوگا ۔‘‘وہ سلگ کر مذید گویا ہوا۔
’’میں محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔‘‘درشہوار نے ایک ہی سانس میں اسے بتانے کی کوشش کی۔
’’ آپکوذرا بھی اپنی عزت نفس کا خیال نہیں ، آج تک میر حاکم کے خاندان کی مالی کرپشن کے ہی قصّے سنے تھے لیکن اب پتا چلا کہ ان کی خواتین بھی ماشاء اللہ
اخلاقی پستیوں میں گرنے کے ریکارڈ بنا رہی ہیں۔بھاڑ میں جائیں آپ اور آپکی محبت، سمجھیں۔۔۔‘‘وہ اسکی سماعتوں میں زہرگھول کر کال بند کر چکا تھا
، درشہوار کو لگا جیسے کسی نے اسے ایفل ٹاور سے دھکادے دیا ہو۔اس کی شرارتیں ،شوخیاں اور زندہ دلی کو وہ اخلاقی گراوٹ قرار دے چکا تھا، اس کی محبت
ہادی کے نذدیک کسی تنکے سے بھی ہلکی تھی۔ درشہوار کو لگاجیسے وہ اب کبھی سر اٹھا کر نہیں چل پائے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ایک بھید بھری شام تھی۔۔۔
بارش کی طوفانی بوچھاڑ،ٹین کی چھتوں اور درختوں پر بڑی بے رحمی سے برس رہی تھی۔تیز ہواؤں کا شور اس سمے بڑا ہولناک لگ رہا تھا۔آسمان سیاہ بادلوں
سے اٹا ہوابڑے غضب ناک موڈ میں تھا۔جون کا مہینہ تھا لیکن مری کی ہوائیں خاصی سرد تھیں۔بارش کے تھمنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
درشہوار پچھلے لان میں زمین پر اکڑو ں بیٹھی پچھلے ایک گھنٹے سے دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔جب کہ میر ہاؤس میں اس کے نام کی ڈھنڈیا مچی ہوئی تھی۔
’’بڑی امی وہ، اسٹور،ڈائننگ، کچن ، لاؤنج کہیں پر بھی نہیں ہے۔۔۔‘‘انابیہ نے باہر چمکتی بجلی سے گھبرا کر ہا ل کمرے کی کھڑکیاں بند کرتے ہوئی
تاجداربیگم کو جواب دیا جو درشہوار کی گمشدگی پر خاصی پریشان تھیں۔
’’ذرا بھاگ کر پچھلے لان میں دیکھ کر آؤ۔۔۔‘‘
’’اور پڑوسیوں کے ہاں بھی جھانک لینا، آجکل وہاں بڑے چکر لگتے ہیں اس کے۔۔‘‘ ہال کے تخت پر چھالیہ کترتی ندرت بیگم نے اپنی جیٹھانی کی طرف
طنزیہ انداز میں دیکھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔؟‘‘تاجدار بیگم سینہ ٹھونک کر میدا ن میں اتر آئیں ،وہ تو ویسے بھی اپنے سسر میر حاکم علی کی چہیتی بہو تھیں۔
’’وہ اس دن پڑوسیوں کا لڑکا شکایت لے کر نہیں آیا تھا بھلا۔۔۔؟‘‘ ندرت بیگم نے ماتھے پر انگلی مار کر یاد کرنے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔
’’اس قصّے میں درشہوار ہی نہیں طوبیٰ اور نمیرہ بھی شامل تھیں،لگتا ہے خاقان کے آنے کے بعد تمہاری یاداشت کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔۔۔‘‘انہوں نے فورا
ہی ان کی طبعیت سیٹ کی،وہ تو ویسے ہی بڑے دھڑلے والی خاتون تھیں۔درشہوار مزاجاً کافی زیادہ انہی پر تھی۔
’’میں تو ویسے ہی بات کر رہی تھی بھابھی،آپ تو بُرا ہی مان گئیں۔۔۔‘‘انہوں نے فورا پینترا بدلا۔
’’میں نے تمہیں کہا ہے کہ پچھلے لان میں دیکھ کر آؤ،تم ابھی تک ادھر ہی کھڑی ہو۔۔‘‘تاجدار بیگم کی نظر انابیہ پر پڑی جو منہ کھولے دیورانی جیٹھانی کی نوک
جھونک سننے میں مگن تھی۔
’’بڑی امی، اتنے خراب موسم میں وہ با ہر کیا کرنے جائے گی ۔۔۔‘‘انابیہ نے خفت زدہ انداز میں فورا صفائی دی۔
’’پاگلوں کے سر پر سینگ تھوڑا ہوتے ہیں اور ہر الٹا کام کرنا تو فرض ہے اس لڑکی پر، جاؤ ذرا دیکھو،اس کے داجی بلا رہے ہیں اسے،ابا جی کو بھی بس ہر وقت
درشہوار ہی اپنے اردگر د نظر آنی چاہیے۔۔۔‘‘آخری فقرہ انہوں نے بڑے جتاتے ہوئے انداز میں کہا تو ندرت بیگم پہلو بدل کر رہ گئیں۔
’’اچھا دیکھ کر آتی ہوں۔۔۔‘‘ انابیہ فورا پچھلے لان کی طرف لپکی ۔
اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا، تیز ہوا کے ساتھ یخ بستہ بوندیں اس کے چہرے سے ٹکرائیں۔بد مست ہوا اس کے کپڑوں کو اڑانے لگی اس نے بمشکل اپنے دوپٹے کو کس کر اپنے اردگرد لپیٹا، جیسے ہی اسکی آنکھیں مسلسل برستے مینہ میں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں تو اسے ایک دم دھچکا سا لگا۔
تیز بارش میں درشہوارخوبانی کے پیڑ کے نیچے بیٹھی مسلسل زمین کھرچ رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے حواسوں میں نہ ہو۔اس کا لباس بھیگ کراس کے
جسم سے چپک گیا تھا،اور وہ مسلسل زمین کھودے جا رہی تھی۔
’’درشہوار پاگل تو نہیں ہو گئی ہو کیا۔۔۔؟‘‘انابیہ برآمد ے میں کھڑی ہو کر چیخی تو اس نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا، انابیہ سمجھ نہیں پائی کہ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا ہے یا بارش کے پانی سے۔۔۔
’’بے وقوف لڑکی،اندر آؤ ۔۔۔‘‘ وہ ایک دم پریشان ہوئی لیکن دوسری طرف در شہوار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔
’’تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ۔۔۔؟‘‘ اس کے بلند آواز میں چیخنے کی آوازبرہان نے کافی ناگواری سے سنی تھی۔وہ ابھی ابھی داجی کے کمرے سے ہو کر
آئے تھے جہاں ان کا اور انابیہ کی رخصتی کا معاملہ زیر بحث تھا اور اس موضوع نے ان کا موڈ اچھا خاصا خراب کر دیا تھا۔
’’کیا پرابلم ہے انابیہ،ایسے کیوں چیخ رہی ہو۔۔۔‘‘ برہان دروازہ کھول کر باہر نکلے تو بارش کی تیز بوچھاڑ نے ان کا استقبال کیا، انابیہ ہلکاسا بوکھلا گئی اس کی اپنے دوپٹے پر گرفت تھوڑی ہلکی ہوگئی،تبھی وہ تیز ہوا کے سنگ اڑتا ہوا برہان کے چہرے سے جا ٹکرایا اور وہ ایکدم کوفت کا شکار ہوئے۔
’’اپنا آنچل تو سنبھالا نہیں جاتا،گھر کیا خاک سنبھالو گی۔۔۔‘‘
وہ جو تازہ تازہ اپنی اور انابیہ کی رخصتی کی خبر سن کر آئے تھے ، جھنجھلا کر اس پر برس پڑے۔ انابیہ پر گھڑوں پانی پھر گیا۔انہوں نے ناراضگی سے انابیہ کا دوپٹہ
اسکی طرف اچھالا ،تبھی ان کی نظر درشہوار پر پڑی۔وہ بے اختیار اس کی طرف دوڑے ۔
’’پاگل تو نہیں ہو گئی ہو، اتنی تیزبارش میں بھیگ کر بیمار ہونا ہے کیا۔۔۔‘‘
برہان زبردستی اسکا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر برآمدے میں لائے،درشہوار کے جسم میں ہلکی کپکپاہٹ تھی ،ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں باقاعدہ سن ہو چکی تھیں۔
’’تم ٹھیک تو ہو ناں ۔۔۔‘‘انابیہ تھوڑی دیر پہلے کی بے عزتی بھلا کر درشہوار کی طرف متوجہ ہوئی،اس کے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے۔ آنسوؤں کے پر حدت
قطرے اس کے گلابی گالوں پر مسلسل پھسل رہے تھے۔
’’یہ کیا حرکت کی ہے تم نے۔۔؟‘‘برہان اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گئے۔
ان کے تشویش بھرے انداز پر وہ اور بھی شدت سے رونے گی،برہان نے بے ساختہ اس کا کانپتا ہوا بازو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگایا۔
’’گڑیا،کیا ہوا میری جان۔۔۔؟‘‘ برہان کو اپنی اکلوتی بہن کے آنسو تکلیف دے رہے تھے۔درشہوار نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا اور پھر لب بھینچ لیے،وہ
چند گہری سانسیں لے کر اب خود کو پرسکو ن کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
رات گئے تک اسے تیز بخار ہو گیا تھا، بخارکی حدت سے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔طوبیٰ پچھلے ایک گھنٹے سے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں اس کے ماتھے پر رکھ رہی تھی
جب کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی،پورے میر ہاؤس میں کھلبلی سی مچ گئی تھی، میر حاکم اسکی طبعیت کا پوچھنے کے لیے اس کے بیڈ روم میں اچانک ہی
چلے آئے،وہاں موجود تما م خواتین بوکھلا سی گئیں۔
ندرت بیگم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی سوتن شارقہ بیگم کو ایک معنی خیز سا اشارہ کیا۔وہ لوگ ایک ایک کر کے کمرے سے کھسک گیں ،کچھ بھی تھا داجی کی
اپنی اس پوتی میں جان تھی۔
’’بھئی قسمت والی ہے درشہوار ،آج تک سسر جی نے ہمارے کمرے میں کبھی جھانک کر نہیں دیکھا۔۔‘‘اوپر والے سیٹنگ روم میں داخل ہوتے ہی ندرت بیگم
نے اپنی سوتن سے گلہ کیا، طوبی بھی ان کے ہمراہ تھیں جبکہ انابیہ وہیں رک گئی تھی۔
’’ہاں تین بھائیوں کی بہن جو ہوئی ۔۔۔‘‘شارقہ بیگم آجکل خاصی دکھی تھیں کیونکہ خاقان علی مری میں آ کر بھی آجکل انہیں لفٹ نہیں کروا رہے تھے۔طوبیٰ ان کی گفتگو سے بیزار ہو کر پچھلے لان کی طرف چلی آئی ،سامنے کا منظر دیکھ کر اسے دھچکا لگا۔
برآمدے کی سیڑھیوں میں شاہ میر اور نمیرہ دونوں چائے کے مگ پکڑے بیٹھے ہوئے تھے،نمیرہ اللہ جانے شاہ میر کو کون سا دلچسپ قصّہ سنا رہی تھی، اسکے چہرے
پر مسلسل ایک مسکراہٹ تھی، جو طوبیٰ کو سخت ناگوار گذری تھی۔
’’درشہوار کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہے ،شاید اسے سی ایم ایچ لے کر جانا پڑے۔۔‘‘ طوبیٰ نے جان بوجھ کر رنگ میں بھنگ ڈالا، شاہ میر بوکھلا کر کھڑا ہوا
اس نے چائے کا مگ وہیں سیڑھیوں پر رکھ دیا اور مڑ کر طوبیٰ کی طرف دیکھا جو ناراض نظروں سے اسے گھو رہی تھی۔۔
’’کیا ہوا اسے۔۔۔؟‘‘ وہ سچ مچ پریشان ہوا۔
’’تمہیں خود معلوم ہونا چاہیے،بہن ہے وہ تمہاری۔۔۔‘‘طوبیٰ کو نہ جانے کیوں اس پر غصّہ آرہا تھا،شاہ میر نے اسکا اسٹابری کی طرح سرخ ہوتا چہرہ غور سے
دیکھا ،وہ کھا جانے والی نظروں سے نمیرہ کو دیکھ رہی تھی ، جس کے ہاتھ میں فرنچ فرائز کی بڑی ساری پلیٹ پکڑی ہوئی تھی۔اسے سارا معاملہ سمجھ آگیا تھا اور
اس دفعہ اس کے چہرے پر بڑی معنی خیز سی مسکرا ہٹ ابھری،طوبیٰ جھنجھلاکر نمیرہ کے برابر میں بیٹھ گئی اور اسکا رکھا ہوا چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح کی سروس میں شرکت کرنے کے لیے مونیکا چرچ کے مرکزی دروازے سے اپنی ما ں کے ساتھ اندر داخل ہوئی تو اس کے چہرے پر کوفت اور بیزاری
کا تاثر خاصاگہرا تھا،وہ پچھلے کچھ دنوں سے چھٹیوں پر گھر آئی ہوئی تھی اور آج اپنی ماں کے بے تحاشا اصرار پر ان کے ساتھ چلی آئی تھی۔اس کی ماں نی
اندر داخل ہوتے ہی پیالے میں انگلیاں ڈبو کر اپنے سامنے صلیب کا نشان بنایا۔
مونیکا کے دماغ میں مفتی عبد الرشید کی کہی ہو ئی باتیں گونجیں۔
’’انسان کو چاہیے وہ اللہ تعالی کے سوا کسی کی بھی عبادت نہ کریں،نہ کسی مقرب فرشتے کی ،نہ کسی نبی مرسل کی اور نہ کسی ولی صالح کی اور نہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کی ،کیونکہ عبادت کی مستحق صرف اللہ کی ذات ہے،جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرئے ،اسکا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔۔‘‘
مونیکا کا دماغ کہیں اور پہنچا ہوا تھا اس کی ماں نے کہنی مار کر متوجہ کیا،وہ ہڑبڑا کر چاروں طرف دیکھنے لگی ،اس وقت سب چرچ میں مل کر گا رہے تھے۔اس نے بھی ہڑ بڑا کر ان کا ساتھ دینا شروع کیا۔

’’خداوند رحم کر۔۔۔۔
یسوع رحم کر۔۔۔۔
یسوع رحم کر۔۔۔۔
اس کے ہونٹ تو ہل رہے تھے لیکن وہ عبادت کے سبھی مراحل میں غائب دماغ تھی، اس نے جلتی ہوئی مقدس شمع کو بیزاری سے دیکھا کیونکہ اس کا سینہ ہدایت
کے نور کی روشنی سے بھر چکاتھا۔
وہ اپنی ماں کے ساتھ چوبی نشستوں پر بیٹھ چکی تھی لیکن اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ منتر پڑھ کر اس گرجے سے غائب ہو جائے۔کسی عجیب سے احسا س نے اس کے دل کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔
سامنے اجتماعی توبہ کا عمل شروع ہوتے ہی اس پر ایک دم وحشت کا بھرپور حملہ ہوا لیکن اس نے اپنی ماں کی خاطر صبر کا کڑوا گھونٹ پی لیا،وہ خالی نظروں کے
ساتھ عبادت کے باقی مراحل دیکھنے لگی لیکن اس کے دل کو پنکھے لگے ہوئے تھے اور جیسے ہی سب لوگ قطاریں بنا کر مقدس کمیونن لینے کو کھڑے ہوئے ،اس
کے ضبط کی طنابیں چھوٹ گئیں ،اوروہ لائن توڑ کر بھاگتی ہوئی چرچ سے باہر نکلی،بہت سے لوگوں نے سخت ناگواری سے اسے دیکھا۔
’’یااللہ مجھے معاف کر دے، میں تیرے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں ٹہرا سکتی۔۔‘‘ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کرزاوقطار رونے لگی۔
اردگرد سے گذرتے ہوئے لوگوں نے اسے تاسف بھری نگاہوں سے دیکھا،وہ اس وقت اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی، اس کی والدہ آدھے گھنٹے کے بعد
چرچ سے باہر نکلیں تو ان کا چہرہ غصّے کی زیادتی سے سرخ ہو رہا تھا۔
انہوں نے مونیکا کی تلاش میں دائیں بائیں نظریں دوڑائیں ،وہ انہیں تپتی ہوئی دھوپ میں سنگلاخ روش کی سیڑھی پربیٹھی ہوئی نظر آگئی ۔
سیاہ رنگ کے عبایہ میں سفید اسکارف اوڑھے مارتھا تیز تیز چلتیں ہوئیں ا س کے پاس پہنچیں اور ناراضگی سے اسے گھورنے لگیں۔مونیکا نے اپنے اوپر کسی کی
نگاہوں کا ارتکاز محسو س کیا تو گردن اٹھا کر مڑ کر دیکھا،اور سامنے اپنی ماں کو دیکھ کراس نے جلدی سے بازو کی پشت سے اپنی آنکھیں بیدردی سے رگڑیں اس
کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس وقت ماں کی ناراض نظروں کا سامنا کرسکے اس لیے ڈھیٹ بن کر بیٹھی رہی۔
’’تم نے آج بہت بدتمیزی کی ہے مونیکا، خداوند تم سے خفا ہو گا ۔۔‘‘ اس کی بوڑھی ماں نے بیزاری سے اسکی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اپنی طرف کیا ،جو
آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔؟تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے ناں۔۔‘‘ ان کی برہمی تھوڑا کم ہوئی تو لہجے میں تشویش در آئی۔
’’پتا نہیں کیا ہوگیا ہے،میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔‘‘ اس کا لہجہ ابھی تک آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
’’مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ،جب سے گھر آئی ہو،الجھی الجھی سی ہو۔۔‘‘ اس کی ماں نے فکرمند نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔دل میں ایک ساتھ بہت سے
اندیشوں نے جگہ بنا لی تھی وہ ان کے تینوں بچوں میں سب سے زیادہ فرمانبردار، شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والی ایک حسا س لڑکی تھی اور اس کی ہر ممکن
کوشش ہوتی کہ وہ اپنی وجہ سے کسی اور کو تکلیف نہ پہنچائے۔
’’بتاؤ ناں مونیکا کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟‘‘
’’میرا دل نہیں کرتا چرچ میں آنے کو۔۔‘‘ مونیکا کے انداز میں کچھ تھا اسکی ماں ایکدم خوف کا شکار ہوئی۔’’لیکن کیوں۔۔؟‘‘
’’پتا نہیں،آج بھی آپکو ضد کر کے مجھے نہیں لانا چاہیے تھا۔۔۔‘‘اس نے ماں سے گلہ کیا۔
’’خداوند ،تم پر رحم کرئے اور تمہارے بے چین دل کی مسیحائی کرئے۔تم اپنے اور یسوع کے بیچ میں کسی کو آنے مت دینا بیٹا،ورنہ گمراہ ہو جاؤ گی۔۔‘‘ اسکی
ماں نے اپنے جھریوں سے بھرا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر نرمی سے نصیحت کی ۔
وہ چاہتے ہوئے بھی انہیں نہیں بتا سکی ،کہ اللہ جب کسی شخص کو ہدایت کی روشنی بخش دیتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی چیز اسے گمراہ نہیں کر سکتی۔اس نے ماں کو مطمعن
کرنے کے لیے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی اور فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’گھر چلیں۔۔۔‘‘ وہ اب خود کو سنبھال چکی تھی لیکن اسکی ماں کا دل اندیشوں کی اماجگاہ بن چکا تھا،تبھی انہوں نے گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے اپنے شوہر جارج
سے یہ پریشانی شئیر کی ۔مونیکا کا باپ بھی یہ سب سن کر اچھا خاصا پریشان ہو گیا ۔
’’ہو سکتا ہے اس کی طبعیت ٹھیک نہ ہو،تمہیں اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔‘‘
’’وہ پندرہ دن سے یہاں ہے،پچھلی دفعہ بھی ضد کر کے گھر رک گئی تھی،آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن بیچ میں کوئی اور مسئلہ ہے۔‘‘ماں کا دل غلط نہیں کہہ رہا تھااور
وہی ہوا رات مارتھا، جب اس کے کمرے کی صفائی کر رہی تھی اس کے ہاتھ میں قرآن پاک کی انگلش تفسیر لگی،مارتھا کادماغ گھوم گیا، وہ انتہائی مشتعل انداز
میں وہ تفسیر اٹھائے ٹی وی والے کمرے میں چلی آئی ۔
مونیکا کا گھرانہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا اور اور مونیکا این سی اے میں اسکالر شپ پر تعلیم حاصل کر رہی تھی اوراسکا باپ سینٹ میری سکول میں میوزک
ٹیچر تھا اور اسکی والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔
’’مونیکا ،یہ کیا ہے۔۔۔‘‘ اسکی والدہ نے غصّے سے تفسیر اس کے سامنے لہرائی، مونیکا کا رنگ اڑ گیا۔
’’تمہارا دماغ ٹھیک ہے،ہم نے تمہیں یہ پڑھنے کے لیے بھیجا ہے ہوسٹل ۔۔‘‘ان کی آنکھوں میں غصّے کی چنگاڑیاں پھوٹ رہی تھیں۔اس کے والد نے
ٹی وی کا والیو م کم کیا اور اٹھ کر اپنی بیوی کے ہاتھ سے تفسیر پکڑی اور اس کے ٹائٹیل پر نظر پڑتے ہی ان کے بھی چہرے کے زاوئیے بدلے۔
’’یہ کیا ہے ۔۔۔؟‘‘ اس کے باپ کے لہجے میں بھی سختی در آئی۔
’’یہ میری نہیں ،میری فرینڈ عائشہ کی ہے ،جو میری بکس کے سا تھ آگئی۔۔‘‘ مونیکا نے فورا بات بتائی۔
’’تم سچ کہہ رہی ہو۔۔۔؟‘‘ انہوں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
’’آف کورس پاپا۔۔۔‘‘ مونیکا نے دھڑلے سے جھوٹ بول کر اپنے والدین کو مطمعن کرنے کی کوشش کی۔
اس کا جھوٹ جارج اور مارتھا کو دل سے مطمعن نہیں کر سکا،ان دونوں کی رات کی نیند حرام ہو چکی تھی، مونیکا ان کی سب سے بڑی اولاد تھی اور ان کی ساری ا
امیدیں اسی سے وابستہ تھیں۔رات کو مونیکا انہیں دودھ کا گلاس دینے آئی تو اندر سے آنے والی آوازیں سن کر جھجک کر رک گئی۔
’’میں آج ہی داؤد سے بات کر کے پوچھتا ہوں میکائیل کب آئے گا پاکستان،ہمیں جلد از جلد مونیکا کا فرض ادا کر دینا چاہیے۔۔۔‘‘ جارج نے بچپن میں
ہی اسکی منگنی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر رکھی تھی اور میکائیل گذشتہ تین سال سے جا ب کے سلسلے میں اسپین گیا ہوا تھا۔
’’ان سے صاف کہیے گا کہ ہم زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتے۔۔۔‘‘مونیکا کی ماں مارتھا کو کسی انہونی کا احساس شدت سے ستا رہا تھا۔
’’پھر بھی کم سے کم تین یا چار مہینے تو لگیں گے ۔۔‘‘ جارج نے انگلیوں پر گن کر اندازہ لگایا۔
’’لیکن اس سے زیادہ نہیں ہونے چاہیے۔۔۔‘‘وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بمشکل اٹھیں، کیلشم کی کمی نے ان کی ہڈیوں کو وقت سے پہلے خاصا کمزور اور بھربھرا کر
دیا تھا اور وہ گذشتہ کافی سالوں سے آسٹیو پروسس(Osteoporosis) مرض کا شکار تھیں۔
’’تم ماں ہو اس کی ،اسے دوبارہ ٹٹولنے کی کوشش کرو۔۔‘‘جارج نے اپنی بیوی کو قدرے دھیمی آواز میں مشورہ دیا ،جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا،دوسری طرف مونیکا فورا ہی کچن کی طرف پلٹ آئی۔
اس نے جلدی سے دروازہ بند کر کے ذوالکفل کا نمبر ملایا جو اس نے تیسری بیل پر اٹھا لیا تھا۔
’’میں بہت زیادہ ٹینس ہوں ذوالکفل ۔۔۔۔‘‘ وہ اسکی بات سن کر گھبرا گیا۔’’کیا ہوا ہے مونیکا۔۔؟
’’ماں مجھے زبردستی چرچ لے کر جا رہی ہے اور انہوں نے میرے پاس قرآن پا ک کی تفسیر بھی دیکھ لی ہے۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ، تم نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی بے وقوفی کیوں کی۔۔۔۔‘‘
’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسے میرے پاس دیکھ لیں گی ،میرا دل چاہتا ہے کہ میں صاف صاف بتا دوں انہیں۔‘‘مونیکا کی بات نے اسے پریشان کیا۔
’’یہ بے وقوفی مت کرنا،ورنہ تمہاری کمیونٹی کے لوگ جینا حرام کر دیں گے تمہارا بھی اور تمہاری فیملی کا بھی۔‘‘ اس سے کئی سو کلو میٹر دور ذوالکفل اس کے لیے
پریشان ہو رہا تھا ،مونیکا ان دنوں چھٹیوں گذارنے اپنے آبائی شہر ملتان گئی ہوئی تھی جبکہ ذوالکفل اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر و تفریح کے
لیے نکل آیا تھا۔
’’لیکن میرے پیرنٹس کولگتا ہے مجھ پر شک ہو گیا ہے۔وہ میرے فیانسی میکائل کے گھر والوں کو جلد شادی کرنے کے لیے پریشرائز کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘
اس نے اصل مسئلہ بتایا۔
’’تو ا ب تم کیا کرو گی۔۔۔؟‘‘وہ بھی فکرمند ہوا۔
’’میں کسی کریسچن لڑکے سے شادی کیسے کرسکتی ہوں۔۔‘‘ وہ ہلکاسا جھنجھلا کر بولی۔
’’تو ۔۔۔۔۔؟؟؟‘‘ ذوالکفل کی سانسیں رکیں۔۔۔
’’ذوالکفل کیا تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتے۔؟‘‘وہ تھکن گذیدہ لہجے میں بولی اور دوسری طرف ذوالکفل ایک دم ہکا بکا رہ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
چھتیس گھنٹوں میں رومیصہ کی ساری زندگی ہی بدل گئی تھی۔
اس کا ذہن مختلف قسم کی زہریلی سوچوں کی آماہ جگا بنا ہوا تھا ،سوچ سوچ کر ذہن پھوڑے کی طرح دکھنے لگتا ،اتنا تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس مصیبت سے
جان چھڑانا کوئی آسان کا م نہیں تھا۔
سارا دن وہ اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے فارم ہاؤس کے وسیع و عریض لان دیکھتی رہتی، ایسا لگتا تھا جیسے اس جگہ پر اس کے علاوہ کوئی چرندپرند نہ ہو۔یہ سوچ
اسے اور زیادہ خوفزدہ کر دیتی۔
اس دن وہ کھڑکی کی سلاخوں پر نظریں ٹکائے انتہائی دل گرفتگی کے عالم میں سامنے درخت پر بیٹھی نیلی چڑیا کو دیکھ رہی تھی ،جب اس کی لینڈ کروزر فارم ہاؤس کی
طویل سڑک پر آتی نظر آئی ،گیسٹ روم کے بالکل ساتھ ہی بڑا سا پورچ تھا جہاں ایک وقت میں چار پانچ گاڑیاں آرام سے کھڑی ہو سکتی تھیں، وہ گاڑی سے
اترا تو اس کے ساتھ اس کا ہی ہم عمر ایک دوست تھا،دونوں نے ہاتھ میں بڑے بڑے شاپر ز اٹھا رکھے تھے،جس میں یقینا وہ رومیصہ کے لیے کچھ سامان لایا
تھا،وہ کھڑکی سے تھوڑا ہٹ کر پردے کے پیچھے ہو گئی۔
دونوں چلتے چلتے عین اسی کھڑکی کے نیچے آن کھڑے ہوئے، چونکہ شیشہ ہٹا ہوا تھا اس لیے آواز صاف آ رہی تھی۔رومیصہ کے کان کھڑے ہو گئے وہ دونوں
پریشانی کے عالم میں اسی کے متعلق ہی بات کر رہے تھے۔
’’ تم نے کیا مصیبت ڈال لی ہے اپنے گلے میں،جیکی اور شانی سخت خفا ہیں۔انہیں پتا چل گیا ناں ،کہ تم نے یہاں رکھا ہے اسے،تو چھوڑیں گے نہیں ،نہ ہم
دونوں کواور نہ اس لڑکی کو۔۔۔۔‘‘ اس نے دھمکی آمیز انداز میں کہا۔
’’ا تنے بھی پاٹے خان نہیں ہیں وہ۔۔۔۔اس نے بیزاری سے سر جھٹکا۔
’’تجھے ضرورت کیا تھی ان سے پنگا لینے کی ۔۔۔۔‘‘ اس کے دوست کو غصّہ آیا۔
’’جب یہ طے یہی ہوا تھا ،کہ اس لڑکی کو مار کر پھینکنا ہے کسی ویرانے میں،پھر راستے میں ان کی نیت کیوں بدلی ۔۔۔۔‘‘ وہ ایک دم بھڑک کر بولا۔
’’سالے ،تیری بہن لگتی ہے کیا۔۔۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا۔
’’شٹ اپ ، مارنا ہے مار دو لیکن ،اس کے ساتھ حرام کاری کیوں کریں وہ۔انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے،ٹھیک ہے اس نے روحیل کو مارا لیکن جان کا بدلہ جان ہونی چاہیے ،کسی کی عزت سے کھیلنا نہیں۔۔۔‘‘وہ بھی ایک دم غصّے میں آگیا۔
اس کی بات سن کر رومیصہ کا دل دھک کر کے رہ گیا۔اسے پہلی دفعہ پتا چلا کہ اس کو اغوا کرنے والوں کے درمیان ہی پھوٹ پڑ چکی ہے،اور جو وجہ اس کے سامنے آئی تھی اسے سن کر تو اس کے رونگھٹے ہی کھڑے ہو گئے ،وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ روحیل کے فرینڈز اس حد تک گر سکتے ہیں۔
اس کا ذہن چکرانے لگا اور وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’اور یہ جو درمیان میں تم نے نکاح والا ڈرامہ کیا ہے ،یہ پتا چل گیا ناں ان سالوں کو،تیری بوٹی بوٹی کر دیں گے۔‘‘ اسکا دوست استہزائیہ انداز میں گویا ہوا۔
’’یہ بات تمہارے اور میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اور اگر باہر نکلی تو چھوڑوں گا نہیں ۔۔‘‘ اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔
’’اتنا کمینہ سمجھ رکھا ہے، تمہاری وجہ سے پچھلے تین دن سے مسلسل خوار ہو رہا ہوں میں ، یونیورسٹی کی ایک کلاس نہیں لی ،گھر نہیں گیا اور تو مجھے ہی ایسی باتیں سنا
رہا ہے۔۔‘‘وہ سچ مچ خفا ہوا ۔
’’ابے یار بس کر دے، پہلے ہی بہت اپ سیٹ ہو ں، اس رومیصہ کی بہن نے ہر ایک کو آگے لگا رکھا ہے، سالی ،اتنا اچھل رہی ہے، اوپر سے وہ خبیث اے ایس پی ،کتووں کی طرح بو سونگھتا پھر رہا ہے ہماری۔۔‘
‘ اسکی بات سن کر رومیصہ کے حلق سے ایک پرسکون سانس خارج ہوئی، اسکی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں ،اسے پہلی دفعہ کچھ اطمینان ہوا کہ شیری اس
کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے۔
’’لیکن یہ بتا اب کرنا کیاہے اس مصیبت کا۔۔۔‘‘ اس کا دوست بیزاری سے گویا ہوا۔
’’میں تو خود عذاب میں پھنس گیا ہوں، جیکی اور شانی تو مزے میں رہ گئے اور یہ جیتی جاگتی لاش گلے پڑ گئی ہمارے،میں تو اسکی عزت بچانے کے چکر میں اتنے سالوں کی دوستی سے بھی ہاتھ گنوا بیٹھا۔۔۔۔۔‘‘ وہ اچھا خاصا پریشان تھا۔
’’ایک تو تیری یہ مدر ٹریسا والی روح مرواتی ہے ہر دفعہ ہمیں۔۔۔‘‘ اسکا دوست منہ بنا کر بولا۔
’’اچھا یہ سیل فون رکھ اس کا، اور پھینک دینا کسی اور علاقے میں،میری گاڑی میں کسی کے ہاتھ ہی نہ لگ جائے۔۔۔‘‘اس نے اپنی جیب سے رومیصہ کا فون
نکال کر پکڑایا تو اس نے جھٹ سے آن کر لیا۔۔۔۔
’’اسٹوپڈ انسان ،بند کر اسے،مروائے گا کیا۔۔۔۔‘‘ وہ ہلکا سا جھنجھلا یا۔
’’اچھا بابا کر رہا ہوں۔۔۔۔۔‘‘ اس کے دوست نے سیل فون بند کر کے اسے غور سے جانچتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔
’’خیر ہے یہ میرا پورسٹ ماڑٹم کس خوشی میں ہو رہا ہے۔۔۔؟‘‘
ؔؔ’’دیکھ جگنو ، سچ سچ بتا دے ، کس چکر میں نکاح کیا ہے تو نے اس کے ساتھ۔؟مجھے یہ غصّے میں آ کر کرنے والی بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی ، تمہاری رگ رگ
سے واقف ہوں میں اور کوئی مرد اتنا بڑا قدم ایسے ہی نہیں اٹھا سکتا۔۔۔۔‘‘
’’سچ بتاؤں ۔۔۔۔‘‘ وہ بلند آواز میں ہنسا۔
’’جلدی سے پھوٹ، کچھ نہ کچھ تو اندازہ ہے مجھے بھی ،ورنہ کون پنگا لیتا ہے اپنے ہی یاروں سے۔۔‘‘ اسکا لہجہ طنز میں ڈوبا ہوا تھا۔
’’اچھا تو پھر کا ن کھول کر سن لے۔۔۔‘‘ اس نے اپنے لہجے کر پراسرار بنایا۔

’’دل آگیا تھا میرا اس کے اوپر۔تبھی تو نکال لایا اسے جیکی اور شانی کے ہاتھوں سے ۔تھوڑا حالات بہتر ہو جائیں تو پھر سوچتے ہیں کیا کرنا ہے اس کا۔‘‘
اس کی بات سن کر رومی کا دل کسی گہری کھائی میں جا گرا اور دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں ، اب تو رہائی کی جو تھوڑی بہت امید تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آسمان کی کوکھ سے اجالے کا ظہور ہو چکا تھا اور یہ روشن دن میر فیملی کے سیاسی مستقبل کے لیے خاصا تاریک ثابت ہونے والا تھا۔ ٹمبر مافیا کیس کو میر حاکم علی
کی وجہ سے میڈیا میں وقت سے پہلے ہی کافی کوریج مل رہی تھی۔
ان کے سیاسی مخالفین نے اس کیس کو پہلی ہی پیشی سے ان کے خلاف استعمال کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔یہی وجہ تھی جب شہرزاد اپنے موکل کے ساتھ کورٹ پہنچی
تو وہاں مختلف چینلز کے نمائندے پہلے سے موجود تھے ،جو اس کیس میں لگائے جانے والے الزامات کو بریکینگ نیوز بنانے کے لیے بے تاب تھے۔بہت
سے نمائندوں نے شجاع غنی کو گھیر لیا تھا،شہرزاد بڑی مشکل سے اسے نکال کر کورٹ تک لائی ۔
پہلی ہی پیشی میں شہر زاد کی اٹھان غضب کی تھی، اس نے آغاز ہی تابڑ توڑ حملوں سے کیا اور سب سے اہم بات وہ ثبوت تھے جن کو غلط ثابت کرنا میر فیملی کے لیے اچھا خاصا درد سر ثابت ہونے والا تھا ۔
’’بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے حکمران ہی وطن کو دونوں ہاتھو ں سے لوٹ کر کھا رہے ہیں،کڑوڑوں روپے کی مالیت
کے درختوں کو بیدردی سے کٹوا کر اپنے اکاونٹس میں اضافہ کیا جا رہا ہے،اور دوسری طرف گلوبل وارمنگ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ہمیں
اس ٹمبر مافیا کے پیچھے چھپے اصل ہاتھوں کو کاٹنا ہوگا۔۔۔‘‘ وہ بڑے پراعتما د انداز میں میڈیا کا سامنا کر رہی تھی۔
دوسری طرف نور محل میں اس وقت سخت کھلبلی مچی ہوئی تھی، میرحاکم ،اپنے دونوں بیٹوں محتشم اور خاقان کے ساتھ سیٹنگ روم میں موجود تھے، سامنے بیالیس
انچ کی ایل ای ڈی میں کمرہ عدالت کے باہر کے مناظر دیکھائے جا رہے تھے جہا ں شہر زاد شجاع غنی کے کیس کا دفا ع کرتے ہوئے اپنا موقف بڑے پرسکون انداز میں بیان کر رہی تھی ۔
’’کو ن ہے یہ لڑکی ۔۔۔؟؟؟ میر حاکم نے ہاتھ میں پکڑا ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول بیدردی سے صوفے پر پھینکا، ان کے مزاج سے برہمی ٹپک رہی تھی۔
’’کوئی بیرسٹر شیری ہے،مسز قریشی کے چیمبر میں بیٹھتی ہے۔۔‘‘ جواب خاقان علی کی طرف سے انتہائی بیزارلہجے میں آیا۔
’’ابھی زمین سے پوری طرح اگی نہیں ،تو یہ حال ہے اس کا۔۔۔‘‘ میرحاکم کو اس کا پراعتما د انداز آگ لگا گیا تھا۔
’’بابا جان چھوڑیں اسے، بات تو ساری شجاع غنی کی ہے،کیس تو اسی نے کیا ہے ناں۔‘‘محتشم علی نے اپنے باپ کو تصویر کا اصل رخ دیکھایا۔
’’فورا بلواؤ اس شجاع غنی کو ، میں بات کرتا ہوں اس سے اپنی زبان میں ۔ ۔۔۔‘‘ وہ ناراضگی سے کہہ کر ٹہلنے لگے۔
’’وہ نہیں آئے گا بابا جان ، بہت اونچی ہواؤں میں اڑ رہا ہے وہ آجکل ۔۔۔‘‘محتشم علی بیزاری سے گویا ہوئے۔
’’ایسے ہی قیمت بڑھوا رہا ہوگا اپنی، پیغام بجھوا و اسے اور کہو میں میر حاکم علی نے بلوایا ہے۔اگر انکار کرئے تو پھر زمین پر بھی چلنے پھرنے کا بھی کوئی حق نہیں
ہے اسے۔۔۔‘‘ان کے انداز میں تکبر اور رعونت ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔
خاقان علی اور محتشم علی اپنے باپ کی بات سن کر پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب شجاع غنی کسی قیمت پر بھی نہیں آئے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس دن شہرزاد بڑے عجلت بھرے انداز میں قریشی ایسوسی ایٹ سے نکلی تو سیل فون پر ارتضی کی کال آگئی۔
شام کے چھے بج رہے تھے اور اسے فورا گھر پہنچناتھا کیونکہ گھرمیں ٹینا بیگم کی طبعیت کچھ خراب تھی․ان کا ہارون رضا کے ساتھ ایک زور دار جھگڑا ہو گیا تھا۔جس
کے نتیجے میں شہر زاد کو سب کچھ چھوڑ کر آفس سے نکلنا پڑا۔
’’محترمہ کہاں ہیں آپ ،اب تو صرف میڈیا پر ہی دیکھائی دیتی ہیں۔۔۔‘‘ارتضی نے ہلکے پھلکے لہجے میں گلہ کیا ۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے، آجکل بہت بزی شیڈول چل رہا ہے میرا۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا اوراپنے ڈرائیو ر کو لیپ ٹاپ بیگ اور فائلز ڈگی میں
رکھنے کا اشارہ کیا۔
’’میرے پاس ایک اچھی نیوز ہے آپ کے لیے ۔۔۔‘‘ارتضی زیادہ دیر تک صبر نہ کر پایا۔
’’رئیلی ۔۔۔۔؟؟؟‘‘ شہرزاد جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھی۔
’’مجھے لگتا ہے ، ہم رومیصہ تک پہنچنے والے ہیں۔۔۔‘‘ اس اطلاع نے شہرزاد کو ایک دم پرجوش کیا۔
اس کی گاڑی پارکنگ سے نکال کر مین روڈ پر آ گئی تھی اور اس کی تمام تر توجہ سیل فون کی گفتگو کی طرف تھی، اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ایک موٹر بائیک پر موجود
دو لڑکے اس کے تعاقب میں تھے۔
’’ کوئی کلیو ملا ہے آپ کو ۔۔۔۔؟‘‘
’’ہاں رومیصہ کا سیل فون آن کیا گیا تھا آج ۔۔‘‘ارتضی کی اطلاع نے اسے بے چین کیا ْ۔
’’تو پتا چلا کچھ ۔۔۔؟؟؟‘‘ وہ بے تاب انداز میں اسکی بات کاٹ کر بولی۔
’’ لوکیشن کچھ ٹریس تو ہوئی ہے لیکن ابھی حتمی نہیں ہے ، البتہ علاقہ لوکیٹ ہو گیا ہے ۔‘‘ ارتضی حیدر کی با ت پر شہرزاد ابھی دل کھول کر خوش بھی نہیں ہو پائی تھی
جب ڈرائیور کی فکرمند آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
’’میم ہماری گاڑی کو فالو کیا جا رہا ہے۔۔۔‘‘
’’اوہ نو،کون لوگ ہیں یہ ۔کیوں آ رہے ہیں ہمارے پیچھے۔‘‘شہرزاد نے خوفزدہ انداز میں مڑ کر دیکھا۔دوسری طرف ارتضی ایک سیکنڈ میں ساری سچویشن
سمجھا تھا۔۔
’’شہرزاد کیا ہوا۔؟کہاں پر ہو تم ۔؟اپنی لوکیشن بتاؤ پلیز۔۔؟‘‘اس نے عجلت بھرے انداز میں پوچھا۔
’’اسلام آبا د ایکسپریس وے پر ۔ایف ایٹ کے نذدیک۔۔‘‘اس نے ہلکاسا بوکھلا کر جواب دیا۔
سیل فون ابھی شہرزا د کے کان کے ساتھ ہی لگا ہوا تھا اور وہ دونوں موٹر بائیک سوار ایک دم ہی گاڑی کے برابر میں آئے، اس کے ساتھ ہی فضا گولیوں کی تڑ
تڑ اہٹ سے گونج اٹھی، اور ان میں سب سے نمایاں آواز شہرزاد کی چیخ کی تھی۔ارتضی حیدر کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل کاٹ کر جلتی بھٹی میں پھینک دیا ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باقی آئندہ