سلسلے وار ناول : “شہرِزاد” از صائمہ اکرم چوہدری…پہلی قسط.

’’ مجھے کچھ کہنا ہے ‘‘

شہرِ زاد ۔۔۔۔۔میرا پہلا طویل سلسلے وار ناول ۔۔ ۔ !!!
جسے میں نے پورا ایک سال سردیوں کی طویل راتوں اور گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں بیٹھ کر سوچا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پہلا سین میں نے دو سال پہلے لکھا اور پھر فائل طویل عرصے کے لیے بند کر دی۔میں نے آج تک جتنے ناول لکھے ان کا محرک کوئی نہ کوئی دل دکھاتا جملہ،سانس روکتا لہجہ، اپنی طرف متوجہ کرتا چہرہ یا کوئی تلخ منظر ہی بنا تھا۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔!!!
شہر زاد میرا ایک ایسا ناول ہے جسے لکھنے کی تحریک مجھے ملکہ کوہسار’’ مری‘‘ شہر کے ایک خوبصورت گھر کو دیکھ کر ملی۔ مال روڈ سے واک کرتے ہوئے کشمیر پوائنٹ کی طرف بڑھتے ہوئے اس گھر نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔مری کی بعض سڑکیں کافی بلندی پر اور اکثر گھر ڈھلوانی سڑک سے گذر کر نیچے ہموار میدانوں میں بنے ہوئے ہوئے ہیں جس وجہ سے سڑک سے گذرنے والے لوگوں کو کم ازکم صحن یا لان کے مناظر دیکھنے کے لیے کسی دقت کا سامنا کرنا نہیں پڑتا۔۔میں بھی چلتے چلتے ایک دم رک کر اس کی چار دیواری پراپنی کہنیاں جما ئے اسے غور سے دیکھنے لگی۔
اچانک دل میں ایک سودا سمایا اور میں اپنی ہی دھن میں کھلے گیٹ سے اس خالی گھر کے اندرداخل ہوگئی اور اس کے سر سبز لان کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر میں نے ایک کہانی بُنی اورپھر اسے لفظوں کی مالا میں پرونے کا عہد بھی وہیں کیا اوراسکے بعد اس گھر کی تصویر کو محض اپنی یاداشت کے لیے سیل فون کے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔
قارئین ۔۔۔!!! میں نہیں جانتی،اس گھر کے مکین کون تھے ؟ان کا ماضی،حال یا مستقبل کیا تھا لیکن اینٹوں کی اس بنی عمارت میں بہت سی کہانیاں مجھے اپنے کانوں میں سرگوشیاں کرتی محسوس ہوئیں۔یہ وہ کہانیاں تھیں جنہیں میرے ذہن نے خود تخلیق کیا۔ان کا اس کے مکینوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ کچی پکی مٹی کی بنی اینٹوں ، گارے اور سیمنٹ سے بنی عمارتیں بھی بولتی ہیں ۔وہاں رہنے والوں کے دکھ اورغم ان پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور جب مکینوں کے دکھ بولتے ہیں تو یہ گھروں کے دوروبام کو وقت سے پہلے بوسیدہ کر دیتے ہیں اور وہاں رہنے والے لوگوں کی خوشیاں درودیوارکو بھی ہمیشہ جوان اور تروتازہ رکھتی ہیں۔
اس ناول میں ماضی کے ایک ٹریک کو چھوڑ کر باقی سارے ٹریک فرضی اور میرے اپنے ذہن کی پیداور ہیں،ان کی کسی بھی واقعے،منظر یا مشاہدے سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کے لیے میں یا ادارہ قطعاً ذمے دار نہیں ۔
میں اس ناول کے ذریعے نہ تو اپنی قابلیت یا گوگل سے لی گئی معلومات کے ذریعے اپنے معصوم قارئین پر کوئی دھاک جمانا چاہوں گی اور نہ ہی میرا مقصد اپنے کرداروں کاشاہانہ قسم کا لائف اسٹائل دیکھا کر کسی کے خود ساختہ احسا س کمتری کو پروان چڑھاناہے۔کہانیوں کے کردار ،کسی بھی معاشی طبقے سے ہو سکتے ہیں۔آپ ان کے رہن سہن پر غور و فکر کرنے کی بجائے،اس تحریر میں چھپے اصل مقصد کو کھوجنے کی کوشش کیجئے گا۔
آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ شہر زاد میرا پسندیدہ کردار ہے اور مجھے یقین ہے اس ناول کے اینڈ تک یہ سب کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لے گا اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو میں
پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ ۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گاکیونکہ میرا دعاؤں پر یقین ہے۔
والسلام
صائمہ اکرم چوہدری۔اسلام آباد

پہلی قسط  
”شہر زاد”                                                                                               
****************                                                                                            

وہ شہر زاد تھی ۔۔۔۔!!!
شہر ستمگر میں پلنے والی۔۔۔۔
زمستان کی سنہری دھوپ جیسی لڑکی۔۔۔!!!
جس کی دلکش آنکھوں پر جھیل سیف الملوک کا گماں ہوتا ۔۔
وہ اس اداسے چلتی کہ زمانے کی سانس رک جاتی ۔۔۔۔
وہ نگاہ اٹھا کر دیکھتی تو قافلے راستہ بھول جاتے ۔۔۔۔۔
وہ الف لیلہ کی کہانیوں کا طلسماتی کردار نہیں تھی۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔ !!!!
وہ بولتی تو ،وقت کی گردشیں تھم سی جاتیں۔۔
وہ حقیقتوں کی تلخ دھوپ میں پل کر اپنی شناخت کے موسموں کی تلاش میں تھی۔۔۔
اس کے ارادے آ ہنی، نگاہیں پختہ ۔۔۔
وہ اک آتش کم رو تھی۔۔۔۔
جس کی اسرار میں ڈوبی ہوئی خاموشی میں۔۔۔کئی لمحے سلگتے تھے۔۔۔
اُس کے سینے میں کئی راز پلتے تھے۔۔۔۔!!!
وہ شہر زاد جس نے داستان ہزار میں کئی کرداروں کو زندگی بخشی اپنے لفظوں سے۔۔
وہ اپنی کہانی میں ،خود کو ڈھونڈنے نکلی تو اجنبی راستوں کی مسافر بن گئی۔
وہ شہر زاد،اپنے ہی گھر کا رستہ بھول گئی ۔۔۔۔!!!
*********************
اوائل دسمبر کی وہ خنک رات تھی،چاند بھی کہر میں ڈوبا ہوا اونگھ رہا تھا۔ جاڑے کی سردیوں میں ہر چیز اپنے اپنے ٹھکانوں میں دبکی بیٹھی تھی۔ ایسی گھور سمے کی تاریکی میں خیبر میل ٹرین پوری رفتار سے ریل کی پٹریوں پر ایسے بھاگ رہی تھی،جیسے کوئی آسیب اسکے تعاقب میں ہو۔
اسی ٹرین کی بزنس کلاس کے ایک کیبن میں موجود دو مکینوں کو تھکن،پریشانی اور خوف نے کسی اژدہے کی مانند اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا۔دونوں میاں بیوی
کی سوجن زدہ سرخ آنکھیں بے خوابی کی غماز تھیں۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا ئے یوں بیٹھے تھے،جیسے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گناہ کبیرہ ہو ۔
چھے لوگوں کے اس کیبن میں اس وقت صرف دولوگ تھے۔ تین مسافروں کی منزل پچھلا اسٹیشن تھی،ان کے گاڑی سے اترنے کے بعد مرد نے سانس کھینچ کر افسردگی کے اس سحر سے نکلنے کی شعوری کوشش کی اور بوگی کادروازہ اندر سے بند کر لیا۔
کیبن میں موجود واحد کھڑکی کے پاس اسٹینڈ والا میز تھا جس پر ان کا تھرماس،پانی کی بوتل اور بچے کے دودھ کا سامان رکھا ہوا تھا۔پاس ہی کھانے کا ٹفن تھا جسے ان دونوں میں سے کسی نے بھی کھول کر نہیں دیکھا تھا حالانکہ انہیں سفر کرتے ہوئے کئی گھنٹے گذر چکے تھے۔
انہیں معلوم تھا رات کے اس پہر اب شاید ہی کوئی نیا مسافر اس ڈبے میں داخل ہو۔لڑکی نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہی آنکھیں بندکیں اور ایک سلگتا ہوا منظر اسکے دماغ کی سلیٹ پر ابھرا۔
’’مار دو ،ختم کرو، اللہ کا عذاب نازل ہو ان مردود لوگوں پر،قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے انہوں نے۔۔۔‘‘مسجد کے مائیک سے پورے گاؤں میں گونجنے
والی مولوی صاحب کی اشتعال انگیزآواز نے معصوم لوگوں کے جسموں میں گویا کوئی بارود بھر دیا ۔
’’خداوند یسوع ،رحم کر، رحم ۔۔۔‘‘بوڑھی عورت خوفزدہ آنکھوں سے بدلے کی آگ کے شعلوں میں جلتا ہوا اپنا گھر دیکھ کر بین کرنے لگی۔اسکی آوازدل چیر
دینے والی تھی لیکن وہاں موجود زمینی خدا اسکی ایک سننے کو تیار نہ تھے۔
’’سب کو مار دیا ،ختم کر دیا ظالمو نے ۔۔‘‘ دل دہلا دینے والی آواز میں صدیوں کا کرب شامل ہوا۔اسے لگا جیسے اس کے ذہن کی طنابیں چٹخنے لگیں ہوں۔وہ
لب بھینچ کر اپنے دل کو بکھرتا ہوا محسو س کرنے لگی۔۔
’’خدیجہ ۔۔۔!!!‘‘ اس کے شوہر کی آواز اسے حقیقت کی دنیا میں لے آئی۔
’’ہوں ۔۔۔‘‘ وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھی۔اس نے بے اختیار اپنی نم آلود آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے صاف کیا۔وہ شخص نظریں چرا کر اس کے سامنے والی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا،ایسا لگتا تھا جیسے لڑکی کے آنسوؤں نے اسکی قوت گویائی سلب کر کے رکھ دی ہو۔
اس دراز قد مرد نے براؤن کلر کی جینز پر چاکلیٹ کلر کی شرٹ کے ساتھ لیدر کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔جب کہ اس کی جوان بیوی سیاہ رنگ کے عبایہ میں تھی۔
اس کا چہرہ غم کی جاگیر بنا ہوا تھا اورآنکھیں شدت گریہ کی وجہ سے سوج چکی تھیں ۔
مرد کا دل تاسف کے گہرے احساس سے بھر گیا۔اُس نے افسردہ نگاہوں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جو نیلے رنگ کے کمبل میں لپٹا ہوا ماں کی گود میں گہری
اورپرسکون نیندسو رہا تھا۔
’’محمد احمد سو گیا کیا ۔۔۔۔؟؟؟‘‘ مرد نے اپنی بیوی کو مخاطب کیا جو ہونٹ کچلتے ہوئے آنکھوں میں تنی دھند کی چادر کو ہٹانے میں کوشاں تھی۔
’’ہاں ۔۔۔۔‘‘ وہ بمشکل زور لگا کر بولی،لفظ اسکے تالو سے چمٹ گئے ۔
’’تم بھی سو جاؤ ۔۔۔‘‘ بے خوابی کے عطا کردہ بوجھل پن نے مرد کو نڈھال کر رکھا تھا لیکن اسے پھر بھی اپنی شریک سفر کی فکر تھی۔
’’میں جاگ رہی ہوں ،آپ برتھ پر جا کر تھوڑا ریسٹ کرلیں۔‘‘وہ ہاتھ میں پکڑے فیڈر کی سطح کو ناخنوں سے کھرچتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولی۔اُسے
معلوم تھا آج کی رات رت جگا اسکا مقدر ہے۔
’’ ٹھیک ہے ۔۔۔۔‘‘وہ فورا ہی اسکی بات سے متفق ہوا اور کمبل اٹھا کر برتھ پرجا کر لیٹ گیا۔ایک گھنٹہ کروٹیں بدلنے کے بعد کیبن میں اسکے خراٹے گونجنے
لگے تو اسکی بیوی کا دل ایک دفعہ پھر کرب کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے لگا۔۔
وہ کھڑکی کے شیشے سے پار تاریکی میں باہر کے مناظر کو کھوجنے لگی۔ایسی ہی تیرگی نے اسکے مقدر کو بھی اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔۔۔اُسے پتا ہی نہ چلا آنسوؤں کے پرحدت قطرے مسلسل اسکے گالوں پر لڑھک رہے تھے،آج ا ن پر اسکا کوئی زور نہیں چل رہا تھا۔
دل و دماغ میں ایک حشر برپا تھا، ہر طرف دل کو چیر دینے والی آہیں اور سسکیاں تھیں۔۔۔
وہ رات بھی اسکا دکھ سمجھ چکی تھی۔۔۔۔۔تبھی تو ایک محسوس کی جانے والی اداسی نم آلود ہواؤں کے ساتھ فضا میں بین کرنے لگی ۔بے ہنگم سوچوں نے اُس کے وجود کا حصار کر رکھا تھا۔ایسا لگتا تھا جیسے وہ لامتناہی گردش کے کسی بھنور میں پھنس چکی ہو۔۔۔۔
اس وقت ٹرین کے اس کیبن میں بچے سمیت تین مسافر تھے اور چوتھامسافر جسے صرف وہ لڑکی ہی دیکھ سکتی تھی اسکا نام تھا اجل ۔۔۔۔
ہاں اجل یعنی موت ۔۔۔۔۔
جو پر پھیلائے ان تینوں میں سے کسی ایک کو اپنی بانہوں میں سمیٹنے کو بے تاب تھی۔
ٹرین کی رفتار میں ایک دم ہی کمی آ گئی ،ایسا لگتا تھا جیسے کوئی ماہر رقاصہ تھک کر آہستہ آہستہ زمین پر گرنے کی تیاری کر رہی ہو۔اُس لڑکی نے اپنی گود میں موجود ننھے فرشتے کو دیکھا،جسے کچھ دیر پہلے ہی اس نے اپنے شوہر سے نظر بچا کر کھانسی کا شربت پلایا تھا جس کے زیر اثر وہ گہری نیند مذید کئی گھنٹے تک سو سکتا تھا۔
’’آئی ایم سوری بیٹا ۔۔‘‘ وہ اسکی پیشانی، آنکھوں ،ہونٹوں اور رخساروں کو دیوانہ وار چوم کر آہستگی سے بولی۔وہ نیند میں ہلکا سا کسمسایا۔
’’تمہاری ماں کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔۔۔‘‘ بے بسی کے احساس کے زیر اثر اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
گاڑی چلتے چلتے ایک جھٹکے سے رکی،اُس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا، اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی پھیل گئی۔اسکے دماغ نے سیکنڈوں میں ایک
فیصلہ کیا اور اس سوچ نے اس کے اندر توانائی کا ایک جہان بھر دیا۔
ریلوے اسٹیشن پر لگے زرد رنگ کے بلب کی روشنی میں اُس نے دیکھا،وہ کوئی بیوہ کی مانگ کی طرح اجڑا ہوا اسٹیشن تھا،جس پر اکا دکا گاڑیاں ہی رکتی ہونگیں لیکن شاید اس وقت دوسری طرف سے آنے والی گاڑی کا کوئی کراس تھا،جبھی ڈرائیور نے ٹرین یہاں روک دی تھی ،اسی وجہ سے یہاں نہ تو کوئی مسافر موجود
تھا اور نہ ہی کوئی نیچے اترا تھا۔
ریلوے اسٹیشن کی چھوٹی سی عمارت خاصی خستہ حال تھی اور اس کا فرش بھی جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔کمروں کو زنگ آلود تالے لگے ہوئے تھے۔ جیسے انہیں کھولے ہوئے صدیاں گذر چکی ہوں۔
اُس لڑکی کادل ایسے ڈوب کر دھڑکا جیسے آخری بار دھڑکا ہو ،اس نے کنکھیوں سے اپنے شوہر کو دیکھا جو برتھ پر لیٹا ہوا تھا اور کمبل میں اسکے خراٹے بلند آواز
میں گونج رہے تھے۔اُس نے بچے کو ایک ہاتھ سے نرمی سے اٹھایا اور دوسرے ہاتھ میں باسکٹ پکڑی جس میں بچے کی ضرورت کا سارا سامان تھا۔
اس کے ہاتھوں کی لرزش اس کے اندرونی خلفشار کی عکاسی کر رہی تھی۔۔۔جیسے ہی وہ ٹرین کے کمپارٹمنٹ کی گیلری میں آئی اُسے لگا جیسے وہ ایک پل میں صدیوں کا سفر طے کر آئی ہو۔
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا،سب مسافر خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے،اُس نے باسکٹ نیچے رکھ کر ٹرین کا بھاری بھر کم دروازہ زور لگا کر کھولا۔
بزنس کلاس کی وجہ سے اس بوگی میں مسافروں کی تعداد خاصی کم تھی،اکثر کیبن خالی ہی تھے۔ ۔سخت سردی میں پوری ٹرین کی کھڑکیاں بند تھیں۔
وہ خوفزدہ انداز میں ٹرین سے نیچے اتری،یخ بستہ ٹھنڈی ہوانے بدن کو چھوا تو اسے جھرجھری سی آگئی۔اس نے ہراساں چہرے کے ساتھ دائیں بائیں دیکھا
اور پھر اسکی نظر شیشم کے درخت کے نیچے رکھے سنگ مرمر کے بینچ پر پڑی۔ وہ سرعت سے اس جانب بڑھی اور چلتے چلتے رکی اور خوفزدہ نگاہوں سے چاروں طرف دیکھنے لگی۔
دور کہیں کوئی آوارہ کتا بھونکا تھا۔اس کا دل کانپ اٹھا لیکن جلد ہی اس نے خود کو حوصلہ دیا ۔ اُسے ہر قیمت پر اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرنا تھا۔
اُس لڑکی کی عقابی نظریں کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں تھیں ، اچانک ہی اسکی نظر سنگ مرمر کے بینچ کے نیچے بنی ایک محفوظ جگہ پر پڑی،جہاں وہ اپنے جگر گوشے کواس کہر جماتی سردی کی ٹھنڈک سے بچا سکتی تھی۔
اُس نے جلدی سے بینچ کے نیچے جھانکا اور تھوڑا ساجھک کر ٹوکری کو بینچ کے نیچے گھسایا اور سلیپنگ بیگ میں لیٹے بچے کو احتیاط سے لٹاتے ہوئے اسکا دل ایک لمحے کو ڈگمگایا۔
’’مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔‘‘ وہ کسی جذباتی رو میں بہنے ہی لگی تھی کہ دماغ نے دل کو دھکا دے کرا وندھے منہ گرا دیا۔
’’اپنے ہاتھوں سے مارنے سے بہتر ہے،اسے زندہ چھوڑ دو۔‘‘ دماغ نے اُسے ایک نئی راہ دیکھائی۔
اسی لمحے رات کے ہیبت ناک سناٹے میں ٹرین کی سیٹی کی آواز گونجی۔۔۔۔ اس کے اندر کرنٹ سا دوڑا۔
اُس نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا چھوٹا کمبل بھی اس سلیپنگ بیگ کے اوپر ڈال دیا تھا۔۔۔ پہلی نظر میں اب کسی کو بھی یہ احساس نہیں ہو سکتا تھا کہ اس بینچ
کے نیچے کوئی جیتا جاگتا وجود سو رہا ہے۔
چند ہی سیکنڈ بعد گاڑی ہلکی سی رینگی،وہ لڑکی بھاگ کر دوبارہ ٹرین میں سوار ہوئی وہ اب دروازے میں کھڑی انتہائی صدمے بھرے انداز سے اپنے دل کے ٹکڑے کو خود سے دُورہوتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اسکی رنگت خطرناک حد تک سپید پڑ گئی اور اسکا سارا وجود کانپنے لگا اور اسے لگا جیسے اسکی سانسیں حلق میں اٹک کر رہ گئیں ہوں ۔گاڑی پوری قوت سے ریل
کی پٹریوں پر دوڑرہی تھی۔وہ ٹرین کے دروازے میں ایسے کھڑی تھی جیسے کسی نے وہاں کوئی سنگی مجسمہ نصب کر دیا ہو۔
جیسے جیسے ٹرین آگے بڑھ رہی تھی اُسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اسکا دل کسی اندھی کھائی میں ڈوب رہا ہو۔۔۔۔
سرد ہوا کے ٹھنڈے یخ جھونکے اسکے وجود سے ٹکرا رہے تھے لیکن وہ اس وقت موسم کی سختیوں سے بے نیاز ہو چکی تھی۔
اُسے دروازے میں کھڑے تقریباً بیس منٹ ہو چکے تھے اور اسکے شوہر کو ابھی تک اسکی غیر موجودگی کا احساس نہیں ہوا تھا۔ اس وقت وہ اذیت کی انتہا پر تھی۔ بیس منٹ کے اندر ہی پچھتاوں کے چالیس ناگ اسکے وجود کے گرد لپٹ چکے تھے ۔
’’یہ میں نے کیا،کیا ۔۔۔؟ ‘‘ اس کا سر چکرانے لگا۔
’’ اسکے باپ کو میں کیا جواب دوں گی کہ اسکی اولاد کو میں کس ویرانے میں پھینک آئی ۔‘‘ اندر سے اٹھنے والی اس خوف کی لہر نے اسے چکرا کر رکھ دیا، وہ جذبات کی رو میں بہہ کر ایک غلط فیصلہ تو کر آئی تھی اور اب اسکے مضر اثرات اسے ساری زندگی بھگتنے تھے۔
اس گاڑی کی مخالف سمت سے دوسری پٹری پر ایک ٹرین کا انجن دُور سے کسی عفریت کی مانند آ رہا تھا۔وہ اس وقت ہوش و حواس سے بیگانہ بس ایک ہی سوچ مین مگن تھی کہ اسے اپنے بچے کو اس ویران اسٹیشن سے اٹھا کر واپس لانا ہے۔
’’مجھے زنجیر کھینچ کر گاڑی روکنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سوچ نے اسکے اندر توانائی کا ایک جہان بھر دیا،وہ جو دروازے کا ہینڈل مضبوطی سے پکڑے کھڑی تھی،اسکے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑی ، دماغ چکرایا ، اس نے خو د کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن مخالف سمت سے آتی طاقتور ہواوں کے سامنے اس کی ایک نہ
چلی اور اسکا پاؤں پھسلا اور وہ چلتی گاڑی سے بہت بے رحم انداز میں گری۔
’’محمد احمد ۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کے حلق سے چیخ نکلی ، وہ مرنا نہیں چاہتی تھی لیکن مخالف سمت سے آتی ٹرین اس کے وجود کو روندتی چلی گئی ۔
دُور کہیں ویرانے میں اجل نے حلق پھاڑ کر قہقہ لگایا اور اس لڑکی کا وجود سینکڑوں پرخچوں کی صورت فضا میں بکھر گیا۔موت اس معصوم لڑکی کو بہت ظالمانہ انداز میں اپنے پنجوں میں دبوچ کر لے جا چکی تھی۔
*****************

’’میرہاؤس‘‘ کے ہال کمرے میں لگے گھڑیال کا گجر بلند آواز میں بجا۔۔۔
ٹن کی آواز نے سناٹے کے تالاب میں لمحے بھر کو گرداب پیدا کیا اور پھرایک بھید بھری خاموشی نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔طوفانی بارش رک
چکی تھی لیکن درختوں کی ٹہنیوں سے الجھتی شائیں شائیں کی آواز عجیب سا تاثر دے رہی تھیں۔
رات کا پچھلا پہر تھا اور ماحول میں پرہول سناٹا چھایا ہوا تھا۔درشہوار نے زبردستی اپنی چچا زاد بہن طوبیٰ کا یخ ٹھنڈا ہاتھ پکڑا اوربالائی منزل سے گولائی کے
رخ میں آتی سیڑھیاں اترنے لگی۔اس وقت مری کی فضاؤں میں سرد رات تاریکی کا کمبل اوڑھے گہری نیند سو رہی تھی۔
’’درشہوار۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے اسکا ہاتھ دبا کر التجا کی ۔وہ بادل نخواستہ اسکے ساتھ چل رہی تھی۔
’’ہر گز نہیں ۔۔۔‘‘درشہوار کے انداز میں عجیب سی سرکشی اور بلا کا اعتماد تھا ۔
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔‘‘ طوبی کی آواز ہلکی سی کانپی۔
’’کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔‘‘ درشہوار نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ویسے بھی وہ کچھ ٹھان لیتی تو اس پر عمل درآمد کرنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا تھا ۔وہ
میر ہاوس کی سب سے ضدی لڑکی مشہور تھی ۔
طوبی دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے اس کے ساتھ گھر کے پچھلی سائیڈ پر بنے کوریڈور کی طرف نکل آئی جہاں پچھلے لان کا دروازہ تھا ۔
درشہوار نے چنیوٹی لکڑی کے بنے دروازے کے سنہری ہینڈل میں ہاتھ میں پکڑی چابی گھمائی اور تھوڑا سا زور لگانے سے زنگ آلود تالا ٹھک کر کے کھل گیا
دونوں نے گھبرا کر اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیے لیکن خیریت رہی ، اس وقت میر ہاؤس کے مکین اپنے اپنے کمروں میں گہری نیند سوئے تھے۔
دروازہ کھول کر وہ جیسے ہی باہر نکلیں ،مری کی یخ ہوا کا ایک نم آلود جھونکا انہیں کپکپی میں مبتلا کر گیا۔رات کا آسمان بارش کے بعد اب ستاروں سے مزین تھا اور اجلی ہوئی چاندنی کی روشنی میں ہر چیز بہت پراسرار اورکسی حد تک ہیبت ناک لگ رہی تھی۔
’’درشہوار ۔۔۔۔۔۔‘‘ طوبی کے حلق سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔
’’خبردار،واپسی کی بات مت کرنا۔‘‘ درشہوار کی آنکھوں میں محسوس کی جانے والی ناراضی در آئی۔
’’لیکن۔۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے خوفزدہ نگاہوں سے میر ہاؤس کے لان سے پار کچھ فاصلے پر گہرائی میں موجود گھنے جنگل کو دیکھا۔اگرچہ لان کی دیوار پر ایک اور
باڑ لگا کر اسے جنگلی جانوروں سے محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تھی ،لیکن طوبی اور درشہوار نے اس کا بھی حل ڈھونڈ رکھا تھا۔
پائن ، شاہ بلوط ،شیشم ، صنوبراور چیڑ کے گھنے درختوں والا یہ جنگل دن کی روشنی میں ہی خاصا خوفناک لگتا تھا اور چاندنی رات میں تو اس پر عجیب دل دہلا دینے والا رنگ چھایا ہوا تھا۔
’’طوبیٰ جلدی چلو ۔۔۔۔‘‘درشہوار نے ٹارچ کی روشنی میں اپنی چچا زاد کزن کو اشارہ کیا۔
’’یار دفع کرو،واپس چلتے ہیں،میرا دل سخت گھبرا رہا ہے ۔‘‘ طوبیٰ نے خوفزدہ نگاہوں سے سامنے لگے شیشم کے درخت کو دیکھا،جسکی ٹہنیوں کا سایہ زمین پر خوفناک قسم کے نقش و نگار بنا رہاتھا ۔
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔‘‘ درشہوار نے مڑ کر کھاجانے والی نگاہوں سے اُسے دیکھا۔پھر ایک دم وہ ہو گیا ،جس کی ان دونوں کو ہی توقع نہیں تھی ۔مری
کی خاموش فضا میں گویا کسی نے صور پھونک دیا تھا۔
’’دماغ ٹھیک ہے تم دونوں کا۔۔۔‘‘
میر ہاؤس کا پچھلا دروازہ کھلا اور شاہ میر کا غصّے سے بھرپور چہرہ نمودار ہوا۔آدھی رات کی خاموشی میں شاہ میرکی جھنجھلائی ہوئی آواز نے ان دونوں کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ۔
طوبی کو مری کے سارے پہاڑ اپنے اوپر گرتے ہوئے محسوس ہوئے،رنگ فق تودرشہوار کا بھی ہو گیا تھا لیکن اس نے بڑی مہارت سے خود پر قابو پا لیا ،ویسے
بھی شاہ میر تو اس کاسگا بھائی تھا۔اصل شامت تو طوبیٰ کی آنے والی تھی،جو اسکی چچا زاد کزن ہونے کے علاوہ پکی حریف بھی تھی۔دونوں ایک دوسرے کو
بے عزت کروانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔
’’اب کیا سکتہ ہو گیا ہے تم دونوں کو۔۔؟‘‘ ان دونوں کی خاموشی پر وہ ہلکا سا چڑ کر گویا ہوا۔
’’درشہوار۔۔۔۔۔میرو۔۔۔۔’’ طوبیٰ کے حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
’’خبردار ،کچھ بھی مت بتانا۔۔۔‘‘ در شہوار نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تنبہیہ کی ۔
’’کیا بھنگ پی رکھی ہے تم دونوں نے ۔؟عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے۔؟ چلو اندر،جا کر بتاتا ہوں میں سب کو۔‘‘ شاہ میر کی دھمکی پر طوبیٰ اور در شہوار کا دل
دھک کر کے رہ گیا۔وہ دونوں ہراساں نگاہوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں۔
’’اب کیا داجی کی مرسڈیز منگواؤں تم دونوں شہزادیوں کے لیے ۔‘‘ شاہ میر انہیں اپنی جگہ کھڑے دیکھ کر سخت کوفت کا شکار ہوا۔
’’آ رہے ہیں بھائی ۔۔۔‘‘ درشہوار نے تھوک نگل کر اپنے خشک حلق کو تر کیا۔
’’آئے دن ایڈونیچر سوجھتے ہیں مہارانیوں کو۔۔۔‘ ‘ وہ بالکل خواتین کی طرح طعنے دیتا ہوا ان کے آگے چل رہا تھا اور طوبی اس لمحے کو کوس رہی تھی جب اس
نے درشہوار کی باتوں میں آکر’’ مشن امپاسیبل‘‘ پر کام کرنے کی حامی بھری تھی۔
میر ہاؤس ،کشمیرپوائنٹ سے کچھ فاصلے پر ایک خوبصورت بنگلہ تھا۔اس کی زمین میر حاکم علی کے اباو اجداد کو انگریز حکومت نے اپنی خاص وفاداری کے انعام کے طور پر تحفتاً دی تھی ،جس پر حاکم علی کے والدمیر مراد علی نے گھر کی تعمیر کروائی تھی ۔
بہت سال بعد جب مراد علی کا انتقال ہو ا تو ان کے چالیسویں والے دن اس بنگلے میں اچانک ہی آگ بھڑک اٹھی اور کئی ملازم زندہ جل مرے۔ اُس کے بعد ان کے بیٹے میر حاکم علی نے اسے گرا کر دوبارا سے تعمیر کروایا اور اب وہاں میر حاکم کے دو بیٹوں محتشم علی اور خاقان علی کا خاندان آباد تھا۔جب کہ میر حاکم کی
دو بیٹیاں بھی تھیں جن میں سے فوزیہ کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کے دو بچے نمیرہ اور ارسل اسی گھر میں پل کے جوان ہوئے تھے،جبکہ دوسری بیٹی فائزہ اپنی فیملی
کے ساتھ ملک سے باہر مقیم تھیں۔
حاکم علی کے بڑے بیٹے محتشم علی کے آگے تین بیٹے وہاج ،برہان ،شاہ میر اور ایک بیٹی درشہوار تھی اور ان کی بیوی تاجدار بیگم ان کی فرسٹ کزن اور حاکم علی
کی سگی بھتیجی بھی تھیں۔
جب کہ محتشم سے چھوٹے خاقان علی کی دو شادیاں تھیں ۔ پہلی بیوی شارقہ بیگم سے دو بیٹیاں انابیہ اور طوبیٰ تھیں ،طوبی کی پیدائش پر کوئی پیچیدگی ہونے کی وجہ
سے مزیداولاد نہیں ہو سکتی تھی اس لیے انہوں نے بیٹے کے لیے دوسری شادی ندرت بیگم سے کی۔خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ان کی دوسری بیوی ندرت بیگم سے بھی ان کی کوئی بھی اولاد نہ ہو سکی ۔
میر حاکم علی کی بڑی بیٹی فوزیہ اور اس کے شوہر کی اچانک فضائی حادثے میں موت کے بعد ان کے دونوں بچوں نمیرہ اور ارسل کو’’ میر ہاؤس ‘‘ میں ندرت بیگم
کی گود میں ڈال دیا گیا،ان کی پرورش انہوں نے کی تھی۔
اس طرح اس گھر میں چار لڑکیاں اور چار لڑکے تھے جن میں سے وہاج بھائی اپنے داجی اور والد محتشم علی کے ساتھ سیاست میں اور برہان ڈاکٹریٹ کر کے
قائد اعظم یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور شاہ میر پاک آرمی میں کیپٹن رینک پر آجکل اپنی یونٹ کے ساتھ کھاریاں کینٹ میں پوسٹڈتھا،جبکہ ارسل یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔برہان کا نکاح اس وقت اپنی چچا زاد کزن انابیہ سے کر دیا گیا تھا جب وہ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے ملک سے باہر جا رہے تھے۔
********************
’’میر ہاؤس‘‘ کے ہال کمرے میں اس وقت ایک عدالت سجی ہوئی تھی ۔۔
عدالت میں جج کے فرائض درشہوار اور شاہ میر کی والدہ تاجدار بیگم سرانجام دے رہی تھیں۔جنہیں سب تائی امی کہتے تھے،وہ میر حاکم کی چہیتی بہو اورمیر محتشم
صاحب کی بیگم تھیں،میر ہاؤس میں زیادہ تر انہی کی حکمرانی چلتی تھی۔
ہال کمرے میں بہت قدیم اور قیمتی شاہ بلوط کی لکڑی کا بنا فرنیچر رکھا ہوا تھا،دیواروں پر بیش قیمت فریموں میں جڑی میر حاکم علی کے خاندان کے اباؤ اجداد کی شاہانہ تصویروں سے جھلکتا غرور،اس گھرکے اکثر مکینوں کی آنکھوں میں بھی نظر آتا تھا۔برٹش انڈیا کے دور کے فوجی یونیفارم میں حاکم علی کے بزرگوں کی
کچھ تصاویر بھی موجود تھیں۔
ہال کمرے کے سینٹر میں ایرانی قالین بچھا ہوا تھا اور ایک سائیڈ پر شیشے کی بڑی سی ڈائننگ میز کے ارد گرد بارہ کرسیاں ترتیب سے رکھی ہوئیں تھیں،یہ کمرہ
لاونج اور ڈائننگ روم دونوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھا۔
ہال کے ایک سائیڈ پر چنیوٹی لکڑی کا بنا ایک بڑا شاندار سا تخت رکھا ہوا تھا جس پر ویلوٹ کی پوشنگ کی گئی تھی۔اسی تخت پر اس وقت تاجدار بیگم اپنی دونوں دیورانیوں شارقہ بیگم اور ندرت بیگم کے ساتھ موجود تھیں،شارقہ بیگم کا انداز برہم اور ندرت بیگم کے انگ انگ سے بے چینی اور تجسس ٹپک رہا تھا۔
ایرانی قالین پر دو مجرم ،درشہوار اور طوبی کی شکل میں موجود تھے اور عینی گواہ کیپٹن شاہ میر اس وقت ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پرآلتی پالتی مارے مزے سے ٹھنڈا
ٹھار تربوز کھاتے ہوئے طوبی کا سرخ چہرہ اپنی شوخ نظروں کے حصار میں لیے ہوا تھا۔
’’سچ سچ بتاؤ،کیا کرنے کیا گئیں تھیں وہاں آدھی رات کو ۔۔؟‘‘ تاجدار بیگم نے سلگ کر اپنی صاحبزادی درشہوار کو دیکھا۔
’’ذرا سوچیں امی، اگر میری آنکھ نہ کھلتی تو صبح ان کی لاشیں ہی ملتیں اس جنگل سے۔۔۔‘‘ شاہ میر کی شرارتی آنکھوں میں چمکتے جگنو اگر اس سمے طوبیٰ کے
ہاتھ آلگتے تو وہ ان کی گردن مڑوڑ کر کسی گہری کھائی میں پھینک آتی۔
’’اچھا ہے آپ لوگوں کا جہیز کا خرچہ بچ جاتا ۔۔۔۔‘‘ ایسی سچوئشن میں اتنا جذباتی اور بے باک جملہ اس گھر کی ایک ہی لڑکی کی طرف سے آسکتا تھا اور وہ تھی وہاج، برہان اور شاہ میر کی اکلوتی بہن در شہوار ۔۔۔
اسکی بھوری آنکھوں سے جھلکتی ذہانت اورشوخی کے ساتھ ساتھ بغاوت کے رنگ تاجدار بیگم کی راتوں کی نیند حرام کرنے کے لیے کافی تھے،وہ جانتی تھیں کہ
اس کا ہر معاملے میں بے دھڑک روئیہ کسی دن گھر کے مردوں کو بُری طرح کھٹکنے لگے گا۔ابھی تک تووہ اپنے تین بھائیوں،باپ،چچا اور داجی سب کی ہی
لاڈلی تھی،اور اس چیز کا ناجائز فائدہ بھی اکثر اٹھا تی رہتی۔
’’اچھا تو ہمارا جہیز کا خرچہ بچانے کے لیے خود کشی کرنے جا رہیں تھیں آپ،وہ بھی اپنی مشیر خاص طوبیٰ محتشم علی کے ساتھ۔‘‘ شاہ میر نے اپناقہقہہ حلق میں
دبایا کیونکہ نقص امن کا اندیشہ تھا۔۔
’’آپ تو چپ رہیں،سارا فسا د ہی آپکا پھیلایا ہو ا ہے،ایسے ہوتے ہیں بھلا بڑے بھائی،اونہہ۔۔۔‘‘درشہوار نے اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کی طبیعت صاف کی،اس کی اس بدتمیزی پر تاجداربیگم نے بے چینی سے پہلو بدلا اور ان کی دیورانی ندرت بیگم نے طنزیہ نگاہوں سے اپنی سوتن شارقہ بیگم کو دیکھا،جو اس وقت کھا جانے والی نگاہوں سے اپنی بیٹی طوبیٰ کو دیکھ رہیں تھیں جو ہر معاملے میں درشہوار کی ’’کرائم پارٹنر ‘‘ کہلاتی تھی۔
درشہوار اور طوبیٰ ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہی کالج میں پڑھتی تھیں ، دونوں میں ہی بلا کی دوستی اور انڈراسٹینڈنگ تھی۔ میر ہاؤس کی خواتین کو ان کی آئے دن کی شرارتوں نے سخت بیزار کر رکھا تھا۔
’’ہائے ہائے بھابھی ،دیکھیں ذرا درشہوار کو، اسے تو چھوٹے بڑے کسی کا بھی لحاظ نہیں۔‘‘ خاقان علی کی دوسری بیگم ندرت چچی نے فورا ہی لبوں پر ہاتھ رکھ کر مصنوعی حیرانگی کا اظہار کیا ۔ان کی اوور ایکٹنگ درشہوار کو سخت ناگوار گزری لیکن یہ موقع اپنی زبان کے جوہر دکھانے کا نہیں تھا۔
’’بہت زبان چلتی ہے تمہاری ۔۔۔‘‘تاجدار بیگم نے جھنجھلا کر اپنے سامنے رکھا پاندان زور سے بند کیا۔
’’اب بندہ اپنے حق کے لیے بولے بھی ناں۔۔۔‘‘ اس دفعہ صاحبزادی کی آواز میں ذرا دم کم تھا۔
’’یہ تقریر اپنے داجی اور باپ کے سامنے کرنا، مال روڈ پر پھانسی کے پھندے سے لٹکا دیں گے ۔‘‘ وہ تڑخ کر بولیں۔
’’نہیں اس کے لیے ایوبیہ ،بہتر جگہ ہے، مال روڈ پر رش بہت ہوتا ہے۔‘‘ در شہوار کی زبان پھر پھسلی اور اپنی دونوں دیورانیوں کے سامنے اکلوتی بیٹی کی زبان درازی نے تاجدار بیگم کو سخت خفت میں مبتلا کیا۔
’’دیکھو شاہ میر،کیسے پٹر پٹر جواب دے رہی ہے ماں کو،یہ طوبی بھی تو ہے مجال ہے بچی نے پلٹ کر ایک لفظ بھی کہا ہو۔‘‘ تاجدار بیگم کا پارہ ہائی ہوا ۔شاہ میر مسکراتا ہواجھٹ سے طوبیٰ کے بالکل سامنے آن کھڑا ہوا۔طوبی کا بے اختیار دل چاہا کہ وہ اس فسادی کو مکھی بنا کر دیوار پر چپکا دے۔
’’خیر یہ بچی بھی کسی سے کم نہیں،یاد نہیں وہاج بھائی کے پالتو کتے کی ٹانگ زخمی کر دی تھی اس نے پتھر مار کر ۔۔۔‘‘ شاہ میر نے کچھ عرصے پہلے کا واقعہ ہنستے
ہوئے یاد دلایا تو طوبیٰ نے بے اختیار اسے دل میں تین چار ناقابل اشاعت گالیوں سے نوازا۔
’’ہاں تو پیٹ پر چودہ ٹیکے لگوانے سے اچھا ہے ،بندہ اس کتے کے ساتھ ہی کتے والی کر دے۔‘‘ درشہوار نے اپنی کزن کی بیسٹ فرینڈ ہونے کا حق ادا کیا۔
’’درشہوار،زبان بند کرو اپنی ۔۔۔۔!!!‘‘ تاجدار بیگم کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا۔
’’توبہ توبہ بھابھی، میں تو اس وقت سے سوچے جا رہی ہوں،اس جنگل میں توکوئی دن کی روشنی میں بھی جانے کی ہمت نہیں کرتا،ان لڑکیوں کو بھلا سوجھی
کیا،جو وہاں چل دیں منہ اٹھا کر۔۔۔؟ ‘‘،ندرت چچی نے اسٹار پلس کی کسی کٹنی ساس کی طرح ہاتھ مل کر سب کی توجہ ایک دفعہ پھر اسی جانب مبذول کروا
دی جہاں سے در شہوار اپنی ذہانت سے انہیں ہٹا چکی تھی۔
’’اب منہ میں زبان نہیں ہے تم لوگوں کے، آخر ایسی کون سی موت پڑ گئی تھی۔؟‘‘ پان کے پتے پر چونا لگاتیں شارقہ بیگم بھی کارخیر میں اپنا حصّہ ڈالنے کو بول
پڑیں، ویسے بھی جہاں ان کی سوکن ندرت بیگم اظہار خیال فرما دیتیں،وہاں ان کا بولنا بھی واجب ہو جاتا تھا۔
’’آپ لوگ تو پیچھے ہی پڑ گئے ہیں چچی جان۔۔۔‘‘ درشہوار نے بُرا سا منہ بنایا۔
’’دیکھیں لیں بھابھی۔۔۔‘‘ ندرت چچی کا انداز سراسر آگ لگانے والا تھا۔
’’اپنی اولاد توہے نہیں اور دوسروں کے بچوں کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔‘‘در شہوار نے دل ہی دل میں ندرت چچی کو خراج تحسین پیش کیا،جبکہ طوبیٰ تو ہراساں نگاہوں سے اپنی والدہ شارقہ بیگم کے ماتھے پر پڑے بل گننے میں مصروف تھی۔
’’آ لینے دو ذرا تمہارے داجی کو، تمہاری تو اچھی ٹیونگ کرواؤں گی۔‘‘تاجدار بیگم نے اپنے سسر کا نام لے کر ڈراوا دیا۔
’’ بس فیصلہ ہو گیا،ایک دفعہ انہی کے ہاتھوں بے عزت کروا لیجئے گا،ابھی تو سکون سے ناشتہ کرنے دیں۔‘‘درشہوار بے تکلفی سے شاہ میر کا ہاتھ پکڑ کر ڈائننگ
ٹیبل پر لے آئی اور مزے سے بھائی کے ساتھ مل کر تربوز کھانے لگی۔
درشہوار کی اس حرکت پر تاجدار بیگم کھسیا کر رہ گئیں ،لیکن دل ہی دل میں وہ صاحبزادی کی علیحدگی میں جھاڑ پٹی کرنے کا عہد کر چکیں تھیں،اس موقعے پر اپنی
دونوں دیورانیوں کے سامنے مذید تفتیش کرنا خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کا مترادف تھا،اس لیے وہ کڑوا گھونٹ بھر کرر ہ گئیں۔
’’بھئی میرا تو دماغ چٹ کر دیا ہے اس لڑکی نے، اسکا باپ ہی پوچھے گا اسے۔۔‘‘ انہوں نے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف سے معاملے پر مٹی ڈالی اور بیزاری سے ملازمہ کو آوازیں دیتیں ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئیں،ندرت بیگم سخت بے مزا ہوئیں۔
’’درشہوار تو ہے ہی ازل سے لاپرواہ ،کم ازکم طوبیٰ تمہیں ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔‘‘ندرت بیگم نے اپنی سوتن کو تپانے کے لیے سارا ملبہ طوبیٰ پر ڈالا،جو
کینہ طوز نگاہوں سے درشہوار اور شاہ میر کی طرف دیکھ رہی تھی،اس حملے پر بوکھلا گئی۔
’’خاقان صاحب کو پتا چلا تو بہت خفا ہونگے۔۔‘‘ان کی اگلی بات پر طوبی سے زیادہ اسکی والدہ شارقہ بیگم کا رنگ فق ہوا۔
’’آپکے علاوہ اور کون بتائے گا انہیں، بارہ مسالے کی چٹ پٹی چاٹ بنا کر۔‘‘ در شہوار تربوز کھاتے ہوئے منہ میں بڑ بڑائی تو شاہ میر کو ہنسی آگئی۔طوبیٰ کو
لگا جیسے دونوں بہن بھائی اس پر ہنس رہے ہوں،وہ دل ہی دل میں در شہوار سے سخت خفا ہوگئی۔
’’تم چلوذرا کمرے میں ۔۔‘‘ شارقہ بیگم کا لہجہ سخت اور آنکھوں سے ناراضی چھلک رہی تھی۔وہ مرے مرے قدموں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی اور دل ہی دل میں آل تو جلال تو کا ورد کرنے لگی۔
اسے معلوم تھا درشہوار ہمیشہ کی طرح دودھ سے مکھی کی طرح نکل جائے گی اور حسب سابق پھندہ طوبیٰ کی پتلی گردن میں ہی پھنسے گا کیونکہ شارقہ بیگم،اپنی
بیٹیوں کو کسی قسم کی رعایت دینے کے حق میں نہیں تھیں اور خاقان صاحب کی دوسری شادی کے بعد ان کا مزاج تو ویسے ہی عجیب سا ہو گیا تھا۔ذرا ذرا سی
بات پر بھڑک اٹھتیں اور پھربلند آواز میں رونے لگتیں۔وہی ہوا،کمرے میں پہنچتے ہی ان کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔
’’کون سا خزانہ چھپا ہوا تھا اس جنگل میں،جسکی تلاش میں آدھی رات کو نکلیں تھیں باہر۔‘‘انہوں نے اسکا بازو جھنجھوڑ کر ناراضی سے پوچھا۔وہ شرمندگی سے
سر جھکا کر دبک کر بیٹھ گئی،کمرے میں موجود انابیہ نے اپنی واڈروب سیٹ کرتے ہوئے گھبرا کر ماں کا مشتعل انداز دیکھا۔
’’دیکھنا وہ شاطر عورت کیسے بھڑکائے گی تمہارے باپ کو،وہ تو پہلے ہی چار چار دن حال نہیں پوچھتے ہمارا۔‘‘ شارقہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گھما کر دو چار
تھپڑ رسید کر دیتیں اسے۔
’’پتا نہیں کس دن عقل آئے گی تمہیں،اللہ نے بھی بیٹیوں کی کھیپ اٹھا کر ڈال دی میری جھولی میں،کیا تھا ایک بیٹا ہی دے دیتا۔‘‘ہمیشہ کی طرح وہ گرجتی
برستی اسی تلخ موضوع کی طرف آگئیں جو بہت سالوں سے ان کی دکھتی رگ بنا ہوا تھا۔
’’ہزار دفعہ بتایا ہے،جیٹھانی صاحبہ تو سسر کی ناک کا بال بنی رہتیں ہیں اور درشہوار دادا کی چہیتی، ہمیں کون گھاس ڈالتا ہے اس گھر میں،جس دن غصّہ آیا ناں
انہیں،ہاتھ پکڑ کر نکال باہر کریں گے ہم تینوں ماں بیٹیوں کو۔‘‘ شارقہ بیگم اتنی جذباتی ہوئیں کہ آنسوؤں سے انکا گلا رندھ گیا ، طوبیٰ کو یوں لگا جیسے کسی نے اسکے منہ پر طمانچہ دے مارا ہو۔انابیہ نے ایک ملامتی نگاہ چھوٹی بہن پر ڈالی اور واڈروب کا پٹ بند کر کے پریشانی سے ماں کی طرف بڑھی۔
’’آپ کیوں ہلکا ن کر رہیں ہیں خود کو،سمجھا دوں گی میں اسے۔‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح انہیں دلاسا دینے کی کوشش کی۔
’’کچھ عقل دے دو اسے،ورنہ کہہ دوں گی میں تمہارے باپ کو،کہیں رشتہ دیکھ کر رخصت کریں اسے،میری جان کی تو خلاصی ہو۔‘‘وہ ٹھیک ٹھاک گرج برس
کر کمرے سے نکلیں تو طوبیٰ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
’’سچ سچ بتا ؤ،وہاں جانے کا مشورہ درشہوار نے دیا تھا ناں۔۔؟۔‘‘ انابیہ کے درست اندازے پر طوبی رونا بھول گئی ،ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے ناک کو رگڑا دیا ۔اس وقت دنیا جہاں کی معصومیت اسکے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔
’’ہاں ۔۔۔۔‘‘ اس کے حلق سے پھنسی ہوئی آواز نکلی۔
’’اسکی بے وقوفیوں کے قصّے تو پورے مری میں مشہور ہیں ،تم کیوں آنکھیں بند کر کے چل پڑتی ہو اسکے پیچھے۔‘‘ انابیہ کو اس پر غصّہ آیا۔’’اب شرافت سے
بتاؤ،کیا کرنے گئیں تھیں وہاں۔؟؟؟‘‘
’’ برگد کے درخت پر منت کا دھاگہ باندھنے۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے ہلکا سا جھجک کر بتایا۔ویسے بھی سگی بہن سے کیا پردہ تھا اس کا۔
’’اوہ میرے خدایا۔۔۔وہ سو سالہ پراناآسیب زدہ درخت ۔۔۔؟‘‘ انابیہ کی آنکھیں خوف سے پھٹنے کے قریب آگئیں۔
’’تم لوگ آدھی رات کو وہاں جا رہیں تھیں۔۔؟‘‘ اُسے ابھی تک یقین نہیں آیا۔
’’ہاں ناں،درشہوار کہتی ہے،چاند کی چودہویں کو وہاں دھاگہ باندھنے سے دل کی ہر مراد پوری ہو جاتی ہے۔‘‘ طوبی کا معصومانہ اندازاسے سلگا کر رکھ گیا۔
’’شرم کرو،ایک مسلمان لڑکی ہو کر ایسا غلط عقیدہ ،بھلا درختوں پر دھاگے ٹانکنے سے بھی دل کی مرادیں پوری ہوتی ہیں ،ان کو پورا کرنے والی ذات تو انسان
کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔بہت افسوس ہوا،تم ایسی فضول چیزوں پر یقین کرتی ہو۔۔‘‘انابیہ نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
’’مجھے تو درشہوار نے کہا تھا۔۔۔‘‘ اس نے گھبراکر اپنی صفائی دی۔
’’ بائی دا وے،کون سی دل کی مراد تھی وہ ،جس نے تمہیں جان ہتھیلی پر رکھنے پر مجبور کر دیا،اور تم اس بے وقوف کا ہاتھ پکڑ کر چل دیں۔’’انابیہ نے محض اپنی معلومات میں اضافے کے لیے پوچھا۔
’’پتا تو ہے ،ایف ایس سی کارزلٹ آنے والا ہے۔۔۔‘‘اس نے نظریں چر ا کر مذید کہا۔’’ کیمسٹری کا پرچہ بھی توبہت بُرا ہوا تھا ۔‘‘ اسکے رنجیدہ لہجے پر انابیہ
کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی آگئی ۔
’’ تم نے اور درشہوار نے پڑھا بھی کب تھا۔‘‘ انابیہ نے یاد دلایا۔’’یاد نہیں کیمسٹری کے پرچے سے ایک دن پہلے تو تم دونوں بندر پکڑنے کی مہم پر نکلیں ہوئیں تھیں پنڈی پوائنٹ پر ۔‘‘ انابیہ کی یاداشت بہترین تھی اور اس دن کا قصہ تو اسے ازبر تھا،کیونکہ ڈرائیور نے گھر آکر ان کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔
’’وہ تو شاہ میرکے ساتھ شرط لگی تھی ہماری۔۔۔‘‘اس نے جھٹ سے صفائی پیش کی۔
’’ وہ کون سا کسی سے کم ہے،اُس بندر والی بات کا جب تائی اماں کو پتا چلا تھا تو صاف مکر گیا کہ اس نے ایسی کوئی شرط لگائی ہی نہیں۔‘‘انابیہ نے اس کے
پرانے زخم تازہ کیے ۔
’’وہ تو ہے ہی خبیث روح۔۔۔‘‘ طوبیٰ کو ایک دم ہی غصّہ آگیا۔
’’دونوں بہن بھائی ہی ایک نمبر کے فسادی ،اور سازشی ہیں،اب آج کا ہی واقعہ دیکھ لو،در شہوار کو کوئی کچھ نہیں کہے گا اور سارا نزلہ گرے گا تم پر،اس لیے بار
بار سمجھاتی ہوں،ان دونو ں بہن بھائیوں کی باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں۔ انابیہ نے ایک دفعہ پھر اسے لمبا لیکچر دیا۔
’’برہان بھائی تو ایسے نہیں ہیں۔۔‘‘ طوبی کے منہ سے نکلنے والے اس بے ساختہ جملے پر وہ ایک دم بلش ہوئی۔طوبی نے دلچسپی سے بہن کے چہرے پر اترتی
دھنک دیکھ کر شوخی سے آنکھیں مٹکائیں۔’’وہ بھی تو شاہ میر اور درشہوار کے ہی بھائی ہیں ،لیکن کوئی فالتوبات نہیں کرتے ۔‘‘
’’وہ تو خیر’’ فالتو ‘‘کیا’’ ضروری‘‘ بات بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اس گھر میں کوئی اپنے لیول کا لگتا ہی نہیں۔۔‘‘ انابیہ کو نکاح کے بعد برہا ن کا سرد روئیہ بہت
دکھی کرتا تھا۔اسکا اظہار وہ اکثر ہی اٹھتے بیٹھتے نادانستگی میں بھی کر جاتی ۔
’’تو پھر کیا خیال ہے،ایک دھاگہ ان کے لیے بھی باندھ آئیں،برگد کے درخت پر۔‘‘طوبیٰ نے شرارتی انداز سے انابیہ کو چھیڑا۔
’’فضول باتیں مت کرو طوبیٰ، میرے عقائد الحمد اللہ بالکل ٹھیک ہیں ،تم اپنا قبلہ درست کرو،،ورنہ ندرت امّی،بابا کو بھڑکاتی رہیں گی اور ہماری امّی بیچاری کی
شامت آتی رہے گی۔انابیہ کی حساس طبعیت کو اپنی ماں کادکھی ہونا گوارہ نہیں تھا۔
’’ہاں بابا کو بھی تو پوری دنیا میں نیک،شریف اور ستی ساوتری قسم کی مخلوق بس ندرت امّی اور ان کی لے پالک اولاد،نمیرہ ہی لگتی ہے۔‘‘طوبیٰ اپنے مخصوص منہ پھٹ انداز میں ناک چڑھا کربولی۔
’’بہت بُری بات ہے طوبیٰ، نمیرہ ہماری بھی تو سگی پھپھو کی بیٹی ہے ۔۔۔‘‘ انابیہ نے اسے یاد دلایا۔
’’کاش جس حادثے میں فوزیہ پھپھو اور ان کے شوہر کا انتقال ہوا ،اس جہاز میں یہ کم بخت نمیرہ بھی ساتھ ہوتی۔‘‘ اس کے حسرت بھرے انداز پر انابیہ کو ہنسی آگئی۔ وہ جانتی تھی کہ درشہوار اور طوبیٰ ،دونوں کی نمیرہ سے بالکل نہیں بنتی تھی، اسکی بڑی وجہ اس کی لگائی بجھائی کی عادت تھی،اوپر سے وہ اپنے دونوں ماموں
اور نانا کی بھی چہیتی تھی ،یہ اور بات کہ درشہوار کے سامنے اکثر اسکا پتا بھی کٹ جاتاتھا۔
’’ ابھی تک پہنچی نہیں وہ ’’بی بی سی مری’’ چسکے لینے ۔۔۔۔‘‘انابیہ نے حیرانگی کا اظہار کیا ہی تھا کہ اسی لمحے ان کے کمرے کا دروازہ دھڑ کر کے کھلا اور نمیرہ کا پرجوش چہرہ سامنے دیکھ کر دونوں بہنوں کے ارمانوں پر اوس گرگئی۔
’’سنا ہے ،بہت بے عزتی خراب ہوئی ہے آج’’ کچھ ‘‘لوگوں کی۔‘‘ نمیرہ نے چیونگم چباتے ہوئے طنزیہ انداز میں طوبیٰ کا خفت زدہ چہرہ دیکھا۔
’’تمہیں کس نے کہا۔۔؟‘‘ وہ صاف مکر گئی اور فورا وظیفوں کی کتاب کھول کر خود کو مصروف ظاہر کرنے لگی۔
’’شاہ میر بتا رہا تھا۔۔۔‘‘نمیرہ نے کنکھیوں سے اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر چٹخارہ لیا۔
’’ایک نمبر کا جھوٹا اور فسادی ہے وہ،اسے تو انڈیا کی سرحدوں پر چھوڑ آنا چاہیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘‘وہ حسب عادت بھڑک اٹھی۔
’’اوں ہوں۔۔۔۔‘‘انابیہ نے ہلکا سا ہنکارہ بھر کر اسے زبان بندی کا اشارہ کیا۔
’’ویسے کرنے کیا گئیں تھیں تم دونوں وہاں۔۔؟‘‘ اس نے دائیں بائیں دیکھ کر رازداری سے پوچھا۔
’’تمہارے لیے رنگ گورا کرنے والی جڑی بوٹیاں لینے۔۔۔۔۔‘‘طوبی کے بے ساختہ انداز پر نمیرہ اچھی خاصی جھینپ گئی،اسے گھر کی باقی لڑکیوں کے
مقابلے میں اپنی گندمی رنگت کا کمپلیکس بہت رہتا تھا۔
’’اچھا بکو مت ۔۔۔‘‘وہ ایک دم جھینپ گئی ۔
’’تمہارے سر کی قسم ۔۔۔۔‘‘طوبیٰ نے فورا ہی جھوٹی قسم کھا لی۔ ’’خیر چھوڑو امتحان میں کامیابی کا وظیفہ ملا ہے مجھے،کرو گی۔؟اس نے فورا ہی نمیرہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور وہی ہوا،اسے اپنے آنے کا مقصد بھول کر رزلٹ کی فکر پڑ گئی۔
’’قسم سے جلدی بتاؤ،میرا تو کیمسٹری کے ساتھ ساتھ پاک اسٹڈیز کا پرچہ بھی سخت بُرا ہوا تھا۔‘‘وہ بے چینی سے اسکے بالکل پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’ میں تو ابھی تک حیران ہوں ،تم قائداعظم کے چودہ نکات کی بجائے اٹھارہ کیسے لکھ آئیں ۔‘‘طوبیٰ نے ہنس کر اسکا مذاق اڑایا،وہ درشہوار اور نمیرہ تینوں کلاس فیلوز تھیں،جبکہ انابیہ ان سے دو سال سنئیر تھی۔
’’مسئلہ چودہ نکات کا نہیں ان زائد چار نکات کا تھا،جو مجھے پتا ہی نہیں چل رہے تھے کہ میرے کون سے ہیں اور قائداعظم کے کون سے۔؟‘‘ نمیرہ کے خجالت بھرے انداز پر دونوں بہنوں کے حلق سے نکلنے والا قہقہ بڑا بے ساختہ تھا۔
’’اچھا ،اچھا،اب تم دونوں مذاق مت اڑاؤ،اور وظیفہ بتاؤ جلدی سے،آج ہی شروع کر تی ہوں۔‘‘ وہ منہ بنا کر گویا ہوئی۔
’’رہنے دو، مشکل ہے ، تم نہیں کر سکو گی۔‘‘ طوبیٰ کے چیلنج دلاتے انداز پر نمیرہ پرجوش ہوئی ۔’’کیوں نہیں کر سکوں گی،تم بتاؤ تو سہی۔‘‘
’’درود شریف کی روزانہ پانچ سو دفعہ تسبیح ،کر لوگی ایک ہی جگہ بیٹھ کر۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے لاپرواہی سے بتاتے ہوئے کتاب بند کی۔
’’پانچ سو تسبیح ۔۔۔۔روزانہ ۔۔۔؟؟؟ نمیرہ کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور اس نے بوکھلا کر اپنی کزن کی شکل دیکھی۔
’’میں نے کہا تھا ناں،تم نہیں کر سکو گی۔۔۔۔‘‘ ایک کمینگی سے بھرپور مسکراہٹ طوبیٰ کے چہرے پر ابھری،اس نے بھی نمیرہ کی نفسیات پر پی ایچ ڈی کر رکھی
تھی،اور وہی ہوا جس کا اسے یقین تھا۔۔
’’ایسی بھی کوئی بات نہیں، ابھی جا کر شروع کرتی ہوں میں۔‘‘وہ پرعزم انداز کے ساتھ اٹھی اور سرعت سے کمرے سے نکل گئی،اسکے نکلتے ہی طوبیٰ نے ایک آنکھ دبا کر انابیہ کی طرف شوخی سے اشارہ کیا ،جو اسکی شرارت سمجھ چکی تھی۔
’’اب تم بھی یہیں وظیفہ کرو گی کیا۔۔۔؟انابیہ پریس کیا ہوا سوٹ واڈروب میں ہینگ کرتے ہوئے شرارت سے بولی۔
’’جی نہیں،اپنے لیے تو کوئی آسان سا ڈھونڈو ں گی ۔۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے ایک دفعہ پھر کتاب پر جھک گئی اور انابیہ کو اسکی بات پر نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی آگئی۔
*******************
رومیصہ ٹی وی لاؤنج میں رکھے کاؤچ پر افسردہ انداز میں لیٹی ایکوریم میں گولڈ فش کو تیرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
اس کی نظر یں ایکوریم کی لال پیلی روشنیوں پر اور دماغ کہیں اور پہنچاہوا تھا ۔گولڈن فش پرسکون ماحول میں قلابازیاں کھا رہی تھی ،اور کچھ ایسی ہی اچھاڑ پچھاڑ رومی کے دماغ میں جاری تھی۔اس کے ماتھے کی ابھری ہوئی رگ اس کی اندرونی خلفشار کی عکاسی کر رہی تھی۔ ایک بے چارگی آمیز کرب اسکی نیلگوں آنکھوں سے صاف چھلک رہا تھا۔
یہ اسلام آباد کے ایف سیون سیکٹر میں واقع ایک اسٹائلش سے بنگلے کا اندرونی منظر تھا۔اسکا انٹرئیر منفرد، دلکش اور دوسروں کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کروانے تھا۔لاؤنج کی ایک دیوار شیشے کی تھی،جس سے لان میں بنائی گئی مصنوعی آبشار ، سوئمنگ پول اور بے تکلفی سے گھومتا ہوا مور ہر وقت نظر آتا تھا۔اس بنگلے کے
سیکنڈ فلور پر رومیصہ کی مام ٹینا بیگم کا مشہور معروف بیوٹی سیلون،سپااورجم تھا،جسکا راستہ پچھلے لان کی جانب تھا،ساری آمد و رفت وہیں سے ہوتی تھی۔فیشن انڈسٹری میں ٹینا بیگم کا نام کسی تعارف کی محتاج نہیں تھا ،ان کے بیوٹی سیلونزکی ایک چین’’ٹینا ز‘‘ کے نام سے مختلف شہروں میں موجود تھی اور حال میں انہوں نے ایک ڈئیزائنر لان بھی مارکیٹ میں متعارف کرواکر دھوم مچا دی تھی۔
رومیصہ نے سائیڈ میز پر رکھے فیشن میگزین کو اٹھا ایک دفعہ پھر مجروح نگاہوں سے دیکھا،اس کے ایک سیگمنٹ شوبز مصالحہ میں ٹینا بیگم اور مشہور و معروف بیوروکریٹ سیف الرحمن کے تازہ ترین اسکینڈل کو بڑا ہائی لائٹ کیا گیا تھا اور تجزیہ نگار کا کہنا تھا ٹینا بیگم عنقریب اپنے تیسرے شوہر ہارون رضا سے جان
چھڑا کرسیف الرحمن سے چوتھی شادی کرنے کے چکر میں ہیں۔۔
اس خبر نے رومیصہ کی روح تک کو زخمی کر دیا تھا،پانچ فٹ سات انچ ہائیٹ کے ساتھ ٹینا بیگم ماڈلز والا فگر رکھتیں تھیں،چھیالیس سال کی عمر میں بھی ایک چلتی
پھرتی قیامت تھیں۔فیشن میگزین میں ان کی کچھ تصاویر کو بڑے نمایاں انداز میں شائع کیا تھا جس میں ٹینا بیگم کے سلیو لیس بلاؤز اور شیفون کی ساڑھی میں جسم کے دلکش پیچ وخم بالکل نمایاں تھے۔
پہلے شوہر سے ٹینا بیگم کی دو بیٹیاں ،شیری اور رومی تھیں اور اسکے بعد انہوں نے اولاد کے نام پر کوئی اور بچہ پیدا کرنے کی غلطی نہیں کی ۔ان کی بڑی بیٹی شیری
او لیولزکے بعد لاء کی ڈگری لینے ملک سے باہر چلی گئی تھی اورچھوٹی رومیصہ عرف رومی ان کے ساتھ تھی۔جس کے ساتھ ان کے تعلقات سخت کشیدہ رہتے
تھے۔ ا سکا اندازہ شیری کو پاکستان سے آنے والی فون کالز سے ہوتا رہتا ۔
ٹینا بیگم،رومیصہ کو بھی ہائر اسٹڈیز کے لیے باہر بجھوانا چاہتیں تھیں اور رومی پاکستان چھوڑنے کے لیے کسی قیمت پر بھی تیار نہیں تھی۔رات اسی بات پر پھر ماں
بیٹی کے درمیان سخت جھگڑا ہوا ،جس کے نتیجے میں رومی نے ان کا فرانس سے لایا گیا قیمتی ڈنر سیٹ توڑ دیا اور انہوں نے غصّے میں رومی کی گاڑی کی چابی چھین
لی ۔اس کے بعد جو ہنگامہ ہوا ،وہ بنگلے میں موجود نوکروں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا اور توبہ تو بہ کی ۔
اس وقت رومی انتہائی مضطرب انداز میں کاؤچ پر لیٹی مختلف زہریلی سوچوں سے نبرد آزما تھی۔اس کے اندر گویا غصّے کی آگ دہک رہی تھی۔ ٹینا بیگم کے آئے
دن کے اسکینڈلز اور منفی شہرت نے اس کے مزاج پر عجیب سا اثر ڈالا تھا۔ ایک دن پہلے بھی اس کا اپنی کالج فرینڈز کے ساتھ اسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا جو اس
کی مدرکے نئے اسیکنڈل کو مزے سے سرعام ڈسکس کر رہیں تھیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے اس خبر نے اس کا سارا سکون درہم برہم کر رکھا تھا اور اسی وجہ سے وہ ٹینا بیگم سے لڑنے کے بہانے ڈھونڈتی، آئے روز کی اس خانہ جنگی سے گھر کے ملازم تک بیزار ہو چکے تھے۔
رومی نے کچھ سوچ کر اپنی بڑی بہن سے صاف صاف بات کر لینے کا ارادہ کر ہی لیا۔۔ اسکائپ پر کی جانے والی یہ کال شیری نے تیسری گھنٹی پر ریسیو کر لی۔
وہ اس وقت نیلگوں پانیوں کے شہر وینس میں اپنی کچھ فرینڈز کے ساتھ لند ن سے چھٹیاں گذارنے آئی ہوئی تھی اور اس وقت سان مارکو چوک میں چہل قدمی کر رہی تھی۔۔
’’ کہاں ہو تم ۔۔۔؟‘‘ رومی کا لہجہ سپاٹ اور قدرے بے رخی لیے ہوئے تھا۔
وہ اپنے سے چار سال بڑی بہن کو یوں مخاطب کرتی جیسے وہ اس سے آ ٹھ سال چھوٹی ہو۔دونوں میں بے تکلفی نہ ہونے کے برابر تھی۔شاید اسکی وجہ دونوں
کے درمیان موجود ہزاروں میل کا فاصلہ تھا یا پھر شیری کی محتاط طبعیت اورکچھ خود ساختہ اصول تھے۔
وہ شروع ہی سے کم گو ،ریزرو، اور مضبوط اعصاب کی حامل اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی ،جب کہ رومی اسکے بالکل برعکس سوشل، آؤٹ اسپوکن اور شارٹ ٹیمپرڈ تھی۔
’’وینس میں ہوں میں آجکل۔۔۔‘‘ شیری نے مختصرا جواب دیا۔
’’ کیا تم پاکستان آ سکتی ہو۔؟‘‘ رومی کی اس غیر متوقع بات پر وہ ایک دم گھبرا گئی۔
’’کیوں ،کیا ہوا ۔؟تم ٹھیک ہو ناں۔‘‘؟ شیری فکرمند ہوئی۔اس کے لہجے میں چھپی محبت اور پریشانی کو محسوس کر کے رومی کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں،کچھ بھی تھا وہ اسکی سگی بہن تھی۔دونوں کا خون کا رشتہ تھا۔
’’رومی،کچھ تو بولو، سب کچھ ٹھیک ہے ناں۔؟‘‘ وہ اپنی فرینڈز کے گروپ سے تھوڑا علیحدہ ہوئی۔
’’میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔‘‘ رومی کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوااور وہ بلک بلک کر رونے لگی۔
’’ کیا ہوا۔؟مام تو ٹھیک ہیں ناں۔۔ ۔؟‘‘ وہ بوکھلا گئی۔
’’ان کو کیا ہونا ہے،دوسروں کی زندگیاں حرام کرکے زیادہ خوش رہتی ہیں۔‘‘ رومیصہ کالہجہ بھیگا ہوا،لیکن شکایتوں سے لبریز تھا۔ شیری کو کچھ نہ کچھ معاملے
کی سمجھ آگئی تھی۔
’’تمہارا مام کے ساتھ کوئی جھگڑا ہوا ہے۔؟؟؟‘‘ اس نے ہزاروں میل کے فاصلے پر اندازہ لگانے کی کوشش کی۔
’’تم اس بات کو چھوڑو، واپس آسکتی ہو تو آجاؤ ،ورنہ ۔۔۔‘‘ اس نے ایک افسردہ سانس کھینچتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
’’ورنہ کیا ۔۔۔۔؟‘‘ شیری کو اسکا انداز غیر معمولی محسوس ہوا۔
’’میں ’’سو سائیڈ‘‘ (خود کشی ) کر لوں گی ۔ ۔۔‘‘ رومی کے دو ٹوک انداز پر وہ دم بخود رہ گئی ، اسکا دماغ ماؤف ہو گیا ۔
دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی تھی لیکن شیری کا سارا سکون درہم برہم ہو گیا۔ وہ ایک دم ہی شہر رومان’’ وینس‘‘ کے حسن سے بیزار ہو گئی اور اسے اب ہر حال میں اپنا ٹرپ کینسل کر کے پہلی فلائیٹ سے پاکستان پہنچنا تھا۔وہ فیصلہ جو وہ کافی عرصے سے نہیں کر پا رہی تھی،رومی کی ایک کال نے کروا دیا تھا۔
*******************
بلیو جینز پر سفید رنگ کا ٹاپ پہنے کندھے پر اپنا لیپ ٹاپ بیگ لٹکائے ،دوسرے ہاتھ سے بریف کیس کو گھسیٹتی ہوئی وہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے باہر نکلی ہی تھی کہ گھنگھور گھٹائیں موتی نما بارش کے قطروں کے ساتھ چھم چھم برسنے لگیں ۔
اس نے ایک لمبا سانس لے کر اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو کو اپنے اندر سمیٹا،اور دل کے آخری کونے تک سکون اور اطمینان پھیلتا چلا گیا۔۔وہ پورے آٹھ سال بعد لند ن سے بار ایٹ لاء کی ڈگری کے ساتھ واپس لوٹی تھی۔
’’کیسے ہو احمد بخش ۔۔۔؟‘‘ پارکنگ میں کھڑی سیاہ ہنڈا سوک کی طرف بڑھتی ہوئی وہ اپنائیت سے بولی ۔
’’بالکل ٹھیک ہو ں بی بی جی ۔۔۔‘‘ احمد بخش کو یقین نہیں آرہا تھا کہ شیری بی بی کو ابھی تک اسکا نام یاد تھا۔
پنڈی ائیر پورٹ سے اسلام آباد ایف سیون سیکٹر تک کے درمیانی فاصلے میں وہ ٹینا بیگم کے متوقع شدید ردعمل کے بارے میں سوچتی رہی،اور وہی ہوا جس کا ڈرتھا۔ گاڑی جیسے ہی’’ ٹینا ہاؤس‘‘ کے پورچ میں داخل ہوئی مام کی غصّے سے چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اس کا استقبال کیا، ان کا حسب معمول رومی کے ساتھ بلند آواز میں کوئی جھگڑا چل رہا تھا۔وہ دونوں ہی غصّے میں اردگرد کے ماحول سے بے نیاز ہو جاتیں اور ان کی یہ عادت شیری کو سخت ناپسند تھی ۔
اس نے خفت زدہ انداز سے ڈرائیور کی طرف دیکھا،جو لاپرواہی سے کان لپیٹے اسکا سامان اتار رہا تھا۔اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔شاید ایسی آوازیں اس کی روٹین کا حصہ بن چکی تھیں۔وہ مرے مرے قدموں سے اندر کی جانب بڑھی۔
’’تمہیں کچھ احساس ہے، ماں کس طرح اپنی ہڈیاں گھسا گھسا کر تم دونوں بہنوں کی پرورش کر رہی ہے۔‘‘ ٹینا بیگم کی مشتعل آواز لاؤنج کے کھلے دروازے سے ہوتی ہوئی شیری کی سماعتوں سے ٹکرائی اور اس کے قدم زمین نے جکڑ لیے۔
’’بیٹیاں ہیں آپ کی، فرض بنتا ہے آپ کا ۔۔۔‘‘ رومی نے انتہائی بدتمیزی سے جواب دیا۔
’’یہ فرض تو تمہارے باپ کا تھا،جو تمہاری پیدائش پر تین حرف طلاق کے بھیج کر چلتا بنا ۔۔‘‘ وہ تڑخ کر بولیں۔
’’تو بتا دیں ان کا نام و پتا،جا کر گریبان سے پکڑ لیتی ہوں انہیں بھی۔‘‘ رومی کا لب و لہجہ شیری کے لیے اچھنبے کا باعث بنا۔وہ تو بچپن میں انتہائی شرمیلی اور سوفٹ اسپوکن تھی۔
’’ہاں ،وہ خبیث تو جیسے پکڑنے دے ہی دے گا اپنا گریبان۔۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’ توآپکو ایسے خبیث انسان سے شادی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔‘‘ رومی کے بدلحاظ لہجے نے انہیں مذید اشتعال دلایا۔
’’اب تم مجھے بتاؤ گی،مجھے کس سے شادی کرنی چاہیے تھی اور کس سے نہیں۔۔‘‘ وہ پھر سے بھڑک اٹھیں۔
’’نہیں یہ فرض تونانو کا بنتا تھا ،جو انہوں نے بالکل بھی اچھے طریقے سے سر انجام نہیں دیا۔‘‘ رومی کے تلخ جملے پر باہر کھڑی شیری کا جو حال ہوا تھا ،اس سے
دگنی بُری حالت ٹینا بیگم کی ہوئی ۔
’’شرم آنی چاہیے تمہیں اپنی ماں سے ایسی باتیں کرتے ہوئے۔‘‘ انہوں نے صدمے بھرے انداز سے اپنی سب سے چھوٹی اولاد کو دیکھا جو اس وقت
لاؤنج کی گلاس وال کے پاس رکھے کاؤچ پر بے تکلفی سے نیم دراز چیونگم چبا رہی تھی۔
شیری نے ہلکا سا جھجک کر دروازہ کھولا ۔ ٹینا بیگم پنک کلر کی نائٹی میں بالوں کو رول لگائے انتہائی غیر مناسب حلیے میں لاؤنج میں کھڑی تھیں۔ ایک تو وہ انتہاء کی حسین تھیں اور اوپر سے باقاعدگی سے جم اور ایکسراسائز نے ان کے جسم کو انتہائی متناسب شیپ میں رکھا ہوا تھا۔ وہ کہیں سے بھی دو جوان بیٹیوں کی ماں
نہیں لگتیں تھیں۔
’’السلام علیکم ۔۔۔‘‘ شیری کی خفت زدہ آواز پر ٹینا بیگم پلٹیں اور ان کے ہاتھ میں پکڑا کارڈلیس چھوٹ کر کارپٹ پر جا گرا۔
وہ منہ کھولے شاکڈ نظروں سے اپنی بڑی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جو بغیر بتائے پاکستان آچکی تھی جبکہ رومی کا چہرہ سپاٹ تھا،وہ بڑے سکون سے چیونگم چبا رہی تھی جیسے یہی کام سب سے زیادہ اہم ہو۔
’’مبارک ہو ،کورم پورا ہو گیا ۔ آپکی بڑی صاحبزادی بھی پہنچ گئیں ۔ویلکم شیری ۔۔۔‘‘ رومی نے ماں کو چڑانے کے لیے زور دار تالی بجائی اور اٹھ کر بیٹھ
گئی اور مسکرا کر اپنی ماں کا ہراساں چہرہ دیکھنے لگی۔ جیسے سرکس کا کوئی دلچسپ شو شروع ہونے والا ہو۔
’’شیری تم ،یہاں ،کیسے ۔۔۔؟‘‘ ٹینابیگم ایک دم بوکھلا گئیں۔
’’آئی ایم سوری مام، آپکو اور رومی کو بہت مس کر رہی تھی میں ۔۔۔۔‘‘ شیری نے خفت زدہ انداز میں ایسے کہا جیسے وہ لندن سے نہیں راولپنڈی سے اٹھ کر
اسلام آباد آ گئی ہو۔
’’تو بے وقوف لڑکی بتایا کیوں نہیں ۔۔۔؟‘‘ ان کے لہجے میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوئی ایسا لگ رہا تھا جیسے انہیں اسکی آمد پر قطعا کوئی خوشی نہ ہوئی ہو،الٹا وہ اسے
دیکھ کر پریشان ہو گئیں تھیں۔
’’میں نے رومی کو بتایا تھا رات۔۔۔‘‘ اُس نے سر جھکا کر شرمندگی سے اپنی صفائی دی۔
رومی کا نام سنتے ہی ٹینا بیگم جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں۔انہوں نے دانستہ اس بات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا،ورنہ ایک اور عالمی جنگ کا آغاز ہو جاتا اور
ان کے اعصاب توآج ویسے ہی تھکے ہوئے تھے۔
’’اٹس ،اوکے ۔۔۔۔کتنے دن کے لیے آئی ہو۔۔‘‘ ان کے اگلے سوال پر وہ سٹپٹا گئی اور گھبرا کر رومی کی طرف دیکھا۔
’’یہ انوسٹی گیشن بعد میں بھی ہو سکتی ہے،اپنے ہی گھر میں آئی ہے وہ،آپ کا تو بس نہیں چل رہا ،ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ واپس بجھوا دیں۔‘‘ وہ اپنے مخصوص
منہ پھٹ انداز میں گویا ہوئی،ٹینا بیگم نے جھنجھلا کر اسے دیکھا ،جس نے انتہائی بدتمیزی سے ببل کا ایک اور غبارہ بنا کر فضاؤں میں پھوڑا تھا۔
’’بی ہیو یور سیلف۔۔۔۔‘‘ وہ ایک دم چڑ گئیں،جبکہ رومی نے استہزائیہ انداز سے انکی جانب دیکھا۔
’’اب پتا چل گیاناں ،ڈرائیور کہاں گیا تھا،خوامخواہ سے لیکچر جھاڑ رہیں تھیں پچھلے ایک گھنٹے سے۔‘‘ وہ ایک ہوش ربا انگڑائی لے کر کاؤچ سے اٹھی اور شیری
سے ملے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔شیری کو ایک دم دھچکا سا پہنچا ۔
’’اُس وقت سے فضول بحث کیے جا رہی تھی اسٹوپڈ اور یہ نہیں بتایا کہ ڈرائیور تمہیں لینے گیا ہے۔‘‘انہوں نے بھی شکایتوں کی پوٹلی کھولی۔
’’اٹس اوکے مام، پلیز بی ریلکس ۔۔۔‘‘ وہ زبردستی ان کے گلے لگی،جبکہ دوسری طرف ہنوز سرد مہری تھی۔
’’اب آ ہی گئی ہو تو تھوڑا ریسٹ کرو،آئی ایم گیٹنگ لیٹ ،مجھے ریڈی ہونا ہے۔‘‘انہوں نے کھڑے کھڑے اپنے بالوں سے رول اتارے۔
’’کہاں جا رہیں آپ۔۔۔؟‘‘
’’اپنے آفس۔۔۔‘‘ انہوں نے عجلت بھرے انداز سے وال کلاک کی طرف دیکھ کر شیری کو شرمندہ کر دیا۔
’’ جانا ضروری ہے کیا۔۔۔؟‘‘ اس نے ہلکا سا جھجک کر پوچھا اس کی امید بھری نگاہیں ماں کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔جو اس وقت خاصی بے چینی کا شکار لگ رہیں تھیں۔
’’یس ،آف کورس بیٹا،بحریہ والی برانچ میں ورکرز کا کوئی ایشو چل رہا ہے۔تم سے رات ڈنر میں تفصیلی بات ہو گی۔‘‘ وہ رسمی سے انداز میں اس کا دایاں گال
ہلکا سا سہلا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
ان کے لاؤنج سے نکلتے ہی شیری، کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا ۔۔ بہت سالوں بعد بھی وہ اپنی ضرورت سے زیادہ حساسیت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی
تھی ،اس نے بھیگی پلکوں کے ساتھ کھڑکیوں کے سلائیڈز کھولے اور ٹینا ہاؤس کا آسٹریلین گھاس والا باغیچہ اس کے سامنے تھا۔ رومی کو گارڈننگ کا بے تحاشا شوق تھا اور وہ اکثر مالی کے سر پر سوار رہتی تھی۔
شیری تھکے تھکے انداز میں کاؤچ پر آ کر لیٹ گئی۔ پاس رکھی سائیڈ میز پر ایک فریم میں رومی اور شیری کی اپنی ماں کے ساتھ ایک تصویر تھی،جو پچھلے سال ان
دونوں کی لندن آمد کے موقعے پر بنائی گئی تھی۔وہ فریم اٹھا کر غور سے دیکھنے لگی۔
رومیصہ ،شکلا اور عادتاً بالکل اپنی ماں ٹینا بیگم کاپرتو تھی۔انہی کی طرح دراز قد، شہابی رنگت اور براؤن سلکی بالوں کے ساتھ نیلگوں آنکھیں ۔جو بھی ایک
دفعہ دیکھ لیتا تو ضرور پلٹ کر دیکھتا۔
ان دونوں کے برعکس شیری کی آنکھوں کا رنگ ہلکا سنہری تھا جن پر کسی ٹہری ہوئی جھیل کاگماں ہوتا ۔وہ اپنی ماں اور بہن کی طرح بہت خوبصورت نہیں لیکن
جاذب نظر خدوخال کی حامل تھی۔رنگت سپید ،اور بال سنہری مائل بھورے تھے،جو اکثر اسٹیپ کٹنگ کی صورت میں اسکے کندھوں پر بکھرے رہتے ۔اسکی سحر انگیز شخصیت میں ایک محسوس کی جانے والی بے نیازی اور وقار تھا ۔
شیری میں اپنی نانی ماہ پارہ بیگم کی طرح ایک گریس تھی اور اسکا نام بھی انہوں نے رکھا تھا ۔وہ علی گڑھ کی پڑھی ہوئیں ایک مہذب اور نفیس خاتون تھیں۔جبکہ رومیصہ کا نام ٹینا بیگم نے خود لڑجھگڑ کر رکھا تھا لیکن دونوں کی پرورش بچپن میں نانی کی گود میں ہی ہوئی تھی اور ان کے مرنے کے بعد ٹینا بیگم کواحساس ہوا کہ دونوں بیٹیوں کے مزاج میں زمین و آسمان کا فرق تھااور یہ ماہ پارہ بیگم کا ہی حوصلہ تھا جو رومی جیسی ضدی لڑکی کو سنبھالے رکھتیں تھیں۔
وہ کاؤچ پر لیٹی قدرے فاصلے پر رکھے ایکوریم میں گولڈ فش کو تیرتے ہوئے دیکھنے لگی ۔اچانک اسکے بالکل پاس رکھے کارڈلیس فون کی گھنٹی بجی اور اس نے بادل نخواستہ کال اٹینڈ کی،اسکا دل اس وقت اس قدر بوجھل تھا کہ وہ کسی سے بھی بات کرنیکی ہمت نہیں پا رہی تھی ۔
’’ہیلو ۔۔۔۔‘‘ انتہائی بیزار لہجے میں وہ گویا ہوئی۔
’’شہر زاد۔۔۔۔۔۔‘‘ ریسیور کے اندر سے نکلنے والی سرگوشی سن کر وہ یکدم نرم گداز کاؤچ سے ایسے اچھلی ،جیسے زور دار کرنٹ لگا ہو۔اسے پورے بنگلے کی چھت اپنے سر پر گرتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’ویلکم بیک ۔۔۔‘‘ مردانہ وجاہت سے بھرپوراس آواز نے اسکا سارا سکون تہس نہس کر دیا۔
’’آپ کون ۔۔۔؟‘‘ اُس کی آواز ہلکی سی لڑکھڑائی۔
’’پوری دنیا میں صرف ایک میں ہی تو ہوں ،جو تمہیں شیری نہیں ،تمہارے اصل نام ’’شہر زاد‘‘سے پکارتا تھا،بھول گئیں کیا۔‘‘اس کی سحر پھونکتی آواز سن کر شیری
کا ریسیور پر جما ہاتھ ہلکا سا کانپ اٹھا۔
’’آپ ہیں کون ۔۔۔؟‘‘ اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے دانستہ بے نیاز لہجے میں پوچھا۔جیسے اسے بالکل نہ جانتی ہو۔
’’تمہارا ہم زاد ۔۔۔‘‘ اسکا لہجہ دل چرانے والوں جیسا تھا ،شہر زاد سن ہوگئی۔
’’اچھا کیا ،تم واپس آگئیں،انسان کب تک اپنی بنیادوں سے دور بھاگ سکتا ہے ۔‘‘اس نے بے تکلفی سے ایسے تبصرہ کیا جیسے دونوں کے درمیان خاصے گہرے مراسم رہے ہوں۔
’’کون ہیں آپ۔؟؟؟‘‘ اس نے اس دفعہ اپنا لہجہ دانستہ سخت کیا۔
’’بتایا ناں ،تمہارا ہم زاد۔۔۔‘‘ وہ ابھی بھی غیر سنجیدہ تھا۔وہ اسکو دیکھے بغیر بھی سمجھ سکتی تھی کہ اسکے لبوں پر کوئی شرارتی مسکراہٹ ہوگی۔
’’کس نے بتایا،آپکو میرے آنے کا ۔۔۔‘‘ وہ ہلکی سی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی۔
’’میرے دل نے ۔۔۔‘‘ وہ شرارت سے قہقہ لگا کر ہنسا اور شہرزاد کو خوفزدہ کر گیا۔اسی آواز سے ڈر کر تو وہ یہاں سے بھاگی تھی۔
شہر زاد نے گھبرا کر کال کاٹ دی اور بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھ دیا۔اسے لگ رہا تھا جیسے دل پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا،اس نے پورے آٹھ سال
کے بعد یہ آواز سنی تھی، وہ آج بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کون تھا۔جو اس سے محبت نہیں عشق کا دعویٰ کرتا تھا۔
جس کے معنی خیز جملے، چین چراتا لہجہ اور وقت بے وقت رانگ نمبرز سے آنے والی کالز نے اسے پریشان کر رکھا تھا۔تبھی ٹینا بیگم کے ایک دفعہ کہنے پر ہی وہ لندن آنے کے لیے تیار ہو گئی تھی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس سحر انگیز آواز کا جادو اس پر نہ چل جائے۔
لیکن لندن آنے کے صرف آٹھ دن بعد ہی شہر زاد کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ بھی اس ان دیکھے،انجان شخص کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے،جو اس کا ہم زاد ہونے کا دعوی کرتا تھا،مگر اسکے پاس اس سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
آنے والے دنوں میں وہ اپنی اسٹڈیز میں مگن ہوگئی تھی لیکن ٹین ایج کی اس محبت کی کسک کبھی نہ کبھی اسے بے چین ضرور کرتی تھی اور وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ پاکستان آنے کے بعد وہ سب سے پہلی کال اسی شخص کی اٹینڈ کرئے گی ،جس سے خوفزدہ ہو کر وہ یہاں سے بھاگی تھی۔
*********************
گہرے سبز رنگ کے قد آور،گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی ملکہ کوہسار ’’مری ‘‘ کا جوبن آجکل عروج پر تھا۔
جی پی او چوک کی بیک سائیڈ پر اوپر کی طرف جاتی روڈ جو کشمیر پوائنٹ سے جا ملتی تھی، اسی روڈ پردو ڈھائی کینال پر بنا ’’میر ہاؤس ‘‘آنے جانے والوں کی
توجہ کا مرکز بنے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
سڑک پر لگے سیاہ رنگ کے گیٹ سے گھر کی طرف جاتی سڑک ڈھلوان کی صورت میں خاصی نیچے جاتی تھی ،لان چونکہ سڑک سے چند فٹ نیچے اور گھر کی عمارت اس سے بھی کافی زیادہ نیچے تھی ۔
اس لیے سڑ ک سے گذرنے والے گھر کی چھوٹی چھوٹی دیوارروں کے اوپر لگی گرل سے ٹکڑیوں کی صورت میں بنے تین چار وسیع و عریض لان،صحن اور گھر کا پورچ بڑے آرام سے دیکھ سکتے تھے۔
گھر کے باہر کے صحن میں سرخ رنگ کی ٹائلیں لگی ہوئیں تھیں اور دوتین سیڑھیوں کے اسٹیپ کے بعد برآمدہ تھا جس میں دو دروازے کھلتے تھے،ایک دروازہ اندر کی طرف جانے والے کوریڈور میں اور دوسرا ڈرائینگ روم کی طرف جاتا تھا۔ سڑک پر بہت زیادہ آمدو رفت ہونے کی وجہ سے اس گھر کی خواتین سامنے کا حصّہ کم اور گھر کی بیک سائیڈ پر موجود لان زیادہ استعمال کرتی تھیں،جہاں درشہوار نے ایک درخت پر جھولا بھی ڈال رکھا تھا۔۔
میر ہاؤس کے دائیں جانب چھوٹے چھوٹے دو سرونٹ کوارٹرز بھی بنے ہوئے تھے۔جن میں سے ایک چوکیدار اور اس کے خاندان کے لیے تھا۔وہ لوگ
میر فیملی کے خاندانی ملازم تھے۔
’’ آج مابدولت اپنی تین عدد کنیزوں کے ہمراہ سامنے والے لان میں شام کی چائے پئیں گے۔‘ ‘درشہوار نے کچن سے چائے کی ٹرے لاتے ہوئے شاہانہ انداز میں اعلان کیا تو کنیزوں کا تازہ تازہ خطاب ملنے والی تینوں لڑکیاں تڑپ کر اٹھ بیٹھیں۔وہ سب اس وقت نچلے پورشن کے لاؤنج میں موجود تھیں اوراور ان کی مائیں دوپہر کی نیند پوری کر کے ابھی بیدار نہیں ہوئیں تھیں۔
’’کیا کہا تم نے ۔۔۔۔؟‘‘ انابیہ کو اپنی سماعتوں پر شک ہوا۔
’’ مابدولت آج چائے سامنے والے لان میں بیٹھ کر پئیں گے ۔‘‘ اُس نے ایک دفعہ پھر شاہانہ انداز میں اپنے فرضی کالر اٹھائے۔
’’وجہ ۔۔۔۔؟‘‘ نمیرہ نے شیشے کے بھاری بھر کم ایش ٹرے سے اخروٹ توڑ کر منہ میں ڈالا اور بھنوئیں اچکا کر پوچھا۔
’’ بہت دن ہو گئے ، نئے شادی شدہ جوڑوں کی چھچوری حرکتیں نہیں دیکھیں مال روٖ ڈ پر ،آج مابدولت کا فل ٹائم ’’بھونڈی ‘‘ پروگرام ہے اور عوام الناس کو
دعوت عام ہے ۔۔۔‘‘ درشہوارنے کمال بے نیازی سے جواب دیا۔
’’تمہیں پتا ہے ناں ،سڑک سے ہمارے گھر کا پورا لان نظر آتا ہے ۔۔۔‘‘ انابیہ نے اسے یاد دلایا۔
’’اسی لیے تو ہم وہاں تشریف آوری کا ٹوکرا رکھیں گے،تاکہ ہر ’’رنگین‘‘ اور’’ سنگین‘‘ منظر اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔‘‘ در شہوار نے شرارتی انداز میںآنکھیں مٹکائیں۔
’’مجھے تو معاف ہی رکھو، ہر دفعہ مجھے پھنسوا کر خود نکل جاتی ہو ۔‘‘ طوبیٰ نے کشن سر کے نیچے رکھا اور بے تکلفی سے کارپٹ پر لیٹ گئی۔
’’جو ڈر گیا ،وہ مر گیا ۔۔۔۔‘‘ درشہوار نے اس کو غیرت دلانے کی کوشش کی ۔
’’سمجھو میں تو مر ہی گئی ۔۔۔‘‘ طوبی نے اپنی ٹانگیں پھیلا کر ایک کشن آنکھوں پر بھی رکھ لیا۔
’’طوبی ٹھیک کہہ رہی ہے،داجی اور تایا ابا کا کچھ پتا نہیں ،اگر آگئے تو بھری جوانی میں مرحوم کر دیں گے ہمیں۔‘‘انابیہ نے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ویسے بھی وہ ان سب کے مقابلے میں تھوڑا سمجھدار اور محتاط طبعیت کی حامل تھی۔
’’وہ ویک اینڈ کے درمیان میں کبھی نہیں آتے ۔۔۔‘‘ درشہوار کی بھی داجی کے شب و روز پر کی گئی ریسرچ مکمل تھی۔
’’وہ تو شاہ میر بھی گھوڑے گدھے بیچ کر سوتا تھا،یاد نہیں کل رات کیسے آنکھ کھل گئی تھی اسکی۔‘‘ طوبیٰ نے فورا کشن منہ سے اٹھا کر درشہوار کو یاد دلایا۔جنگل کے ناکام مشن پر جو عزت افزائی ہوئی تھی،اس کے زخم بھرنے میں ابھی کئی دن اور لگنے تھے۔
’’تو ٹھیک ہے پیاری بہنو ، میں یہ فرنچ فرائز، نگٹس اور پکوڑے اکیلے ہی بیٹھ کر کھالیتی ہوں۔۔۔۔‘‘درشہوار کی بات پر ان تینوں کو ایک دم سکتہ ہوا ،جولان
میں جا کرہی ٹوٹا تھا۔
درشہوار بڑے مزے سے سڑک کے بالکل ساتھ والے لان میں بیٹھی چائے پیتے ہوئے وہاں سے گذرنے والے لوگوں پر دلچسپ کمنٹس پاس کر رہی تھی ،جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی ان تینوں کو بار بار ہنسی آ رہی تھی۔
’’شرط لگا لو،یہ سبز رنگ کے طوطیا سوٹ والی باجی کی شادی،بڑی ہی مشکلوں سے ہوئی ہے۔‘‘ لان کی تین فٹ اونچی دیوار پر لگی گرل سے باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔
’’تم کیسے کہہ سکتی ہو ۔۔۔؟‘‘ طوبیٰ نے ڈھیر سارے نگٹس اپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔وہ تو شکر ہے در شہوار کی نظریں اس کپل پر جمی ہوئیں تھیں
جو اس وقت ان کے گھر کی دیوار کی گرل سے ٹیک لگائے بڑے رومینٹک انداز میں تصویریں بنوا رہا تھا۔
’’جتنے اوچھے انداز سے یہ جڑ جڑ کر اپنے زرافے کی گردن والے میاں کے گلے میں بانہیں ڈال کر فوٹو بنوا رہی ہے،اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے۔‘‘ درشہوار نے بڑے ماہرانہ انداز سے تجزیہ کرکے اپنی کزنز کی طرف دیکھا جو دعوت شیراز اڑانے میں مصروف تھیں۔
’’ہائے اللہ ،میرے نگٹس کہاں گئے ۔۔۔‘‘ درشہوار کو خالی پلیٹ دیکھ کراچھا خاصا دھچکا لگا۔
’’ہمارے پیٹ میں ۔۔۔‘‘ نمیرہ نے انتہائی بدتمیزی سے ڈکار لیا۔
’’اور کچھ میری پلیٹ میں ۔۔۔‘‘طوبیٰ نے شرارت سے اپنی پلیٹ اسکے سامنے لہرائی۔
’’اللہ کرئے مر جاؤ ،تم لوگ ساری کی ساری،تمہارے دانتوں میں کیڑا لگے ۔‘‘ وہ غصّے سے کھڑی ہوئی۔
’’تمہیں کس نے کہا تھا بیٹھ کر مخلوق خدا کا مذاق اڑاؤ۔ انابیہ نے سب سے بڑی کزن ہونے کا فائدہ اٹھا کر اسے ڈانٹنے کی کوشش کی۔
’’شرافت سے میری پلیٹ واپس کرو۔۔۔‘‘ درشہوار خطرناک ارادوں کے ساتھ طوبیٰ کی طرف بڑھی،جو اس کے عزائم بھانپ کر فورا دوسری طرف بھاگی اور
درشہوار نے اس کا تعاقب کیا ۔طوبی کوجلد ہی احساس ہوا کہ وہ عجلت میں غلط ڈاریکشن کی طرف مڑ گئی ہے۔
ان کے لان کی دیوار ساتھ والے گھر کے لان کی دیوار کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اور چھوٹی سی منڈیرکوئی بھی بچہ پھلانگ کر با آسانی دوسرے گھر میں جا سکتا تھا ۔طوبیٰ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،اس خالی گھر کی طرف چھلانگ لگا دی۔
اس گھر کا لان’’ میر ہاؤس‘‘ کے بالکل برابر میں تھا اور جہاں سے سیڑھیاں نیچے گھر کی طرف جاتی تھیں ۔یہ گھر بھی خاصی ڈھلوان پر میرہاؤس کے بالکل برابرمیں بنا ہوا تھا اور پچھلے ایک ماہ سے خالی تھا۔
’’میں تمہیں کہہ رہی ہوں شرافت سے واپس کر دو میرے نگٹس۔۔۔‘‘ درشہوار نے دیوار کودتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکی دی۔
’’نہیں دیتی،جو کرنا ہے ،کر لو۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے جوابا اسے منہ چڑایا اور ایک ساتھ دو نگٹس منہ میں ڈال لیے۔
’’تمہاری تو ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘ درشہوار اسکے پیچھے سیڑھیوں کی طرف بھاگی تو طوبیٰ نے سیڑھیوں سے آگے لمبی ساری روش کی طرف دوڑ لگائی اور جیسے ہی
وہ گھر کے پاس پہنچیں۔اندر کا دروازہ کھلا، بلیک جینز پر گرے رنگ کی ٹی شرٹ پہنے گھریلو سے حلیے میں محمد ہادی باہرنکلا۔ دراز قد، صاف رنگت کے ساتھ
شہد رنگ آنکھو ں والا یہ نوجوان اچھا خاصا ہینڈسم تھا۔
د رشہوار اور طوبیٰ دونوں کو ہی حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب کہ دوسری طرف اوپر گرل سے جھانکتی نمیرہ اور انابیہ گھبرا کر مذید گرل پر جھک کرنیچے دیکھنے گئیں ،وہ درشہوار اورطوبیٰ کی بے عزتی کا منظر لائیو دیکھنا چاہتی تھیں ۔
’’جی فرمائیے ۔۔۔‘‘ ناگواری کا ایک ہلکا ساتاثر محمد ہادی کی آنکھوں میں ابھرا۔
وہ انہیں کوئی ٹورسٹ سمجھا تھا جو اکثر تصویریں بنانے کے چکر میں اکثر ہی کھلے گیٹ سے نیچے جاتی سیڑھیوں کا پرکشش منظر دیکھ کر نیچے آ جاتے تھے۔
’’وہ ۔۔۔۔یہ۔۔۔ہم لوگ پڑوس سے آئے ہیں۔‘‘طوبیٰ نے بوکھلا کر اپنے گھر کی طرف اشارہ کیا۔
’’فرمائیے،کیسے آنا ہوا۔؟ محمد ہادی کے لہجے میں چھلکتی بے رخی پر وہ دونوں ہی سسپٹا گئیں۔
’’یہ نگٹس ،میری امّی نے بجھوائے ہیں ۔۔‘‘ طوبیٰ نے گڑبڑا کر ہاتھ میں پکڑی پلیٹ ہادی کی طرف بڑھائی ۔
’’ یہ ۔۔۔۔‘‘ اُس نے سخت حیرانگی سے پلیٹ میں رکھے چار پانچ چھوٹے چھوٹے نگٹس کو دیکھا۔
’’جی ۔۔۔۔جی ۔۔۔‘‘ طوبیٰ ڈھٹائی سے مسکرا دی۔
’’تھینکس ۔۔۔۔‘‘اس نے سنجیدگی سے پلیٹ پکڑی،درشہوار کا دل بیٹھ گیا۔
’’ٹہرئیے ، ابھی خالی کر کے لا دیتا ہوں ہوں آپکو۔۔۔‘‘وہ سنجیدگی سے پلیٹ اٹھا کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔
ؔ ’’اللہ کرئے مر جاؤ تم ۔۔۔‘‘ درشہوار نے غصّے سے طوبیٰ کو بددعا دی۔
’’ویسے بندہ شاندار ہے ۔۔۔‘‘ طوبیٰ نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر لوفرانہ سا اشارہ کیا۔محمد ہادی دو ہی منٹ کے بعد باہر تھا۔
’’تھینک یو سسٹر۔۔۔۔‘‘ اس نے خالی پلیٹ طوبیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو سسٹر کے الفاظ پر طوبیٰ کے چہرے پر پھیلنے والے تاثرات
دیکھ کر درشہوار نے بمشکل پنی ہنسی کو حلق میں ہی دبایا۔
’’کم بخت رف اینڈ ٹف حلیے میں بھی کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا۔‘‘ درشہوار نے دل ہی دل میں سوچا۔
’’اب میں جاؤں ۔۔۔؟‘‘ اسکی بات پر وہ دونوں گڑ بڑا گئیں۔
’’ایک منٹ پلیز، یہ بتائیے گا کہ یہ گھر تو پچھلے ایک ماہ سے خالی پڑا تھا،آپ کب آئے ۔؟‘‘ در شہوار کی بات پر وہ ہلکا سا الجھا۔
’’تین دن پہلے ۔۔‘‘ اُس نے نپے تلے انداز میں جواب دیا۔
’’تو کیا اب یہیں رہیں گے آپ۔۔۔؟‘‘طوبیٰ نے خاصے احمقانہ انداز میں پوچھا۔
’’ظاہر ہے،میرا گھر ہے تو یہیں رہوں گا۔۔‘‘ محمد ہادی نے بیزاری سے اپنے سامنے کھڑی دونوں لڑکیوں کو دیکھا،جن کی آنکھوں میں شرارت ٹپک رہی تھی اور ہادی کو ایسی شوخ و چنچل لڑکیوں سے بڑی الجھن ہوتی تھی۔
’’میرا یہ مطلب تھا ،کیا آپ یہاں سیرو سیاحت کے لیے آئے ہیں۔‘‘ طوبیٰ نے کسی ٹی وی اینکر کی طرح پوچھا ۔
’’نہیں ،پوسٹنگ ہو ئی ہے میری۔۔‘‘ محمد ہادی نے اس دفعہ ذرا روکھے لہجے میں جواب دیا۔
’’کس ڈیپارٹمنٹ میں ۔۔۔؟‘‘در شہوار کی زبان پھسلی ۔
’’فارسٹ ڈیپارٹمنٹ میں ۔۔۔‘‘ اس نے بادل نخواستہ جواب دیا،جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ اب جان چھوڑو۔
دوسری طرف خلاف توقع میرہاؤس میں داجی کی لینڈ کروز اندر داخل ہوچکی تھی۔جو کسی ضروری میٹنگ کے سلسلے میں اپنے پی اے کے ساتھ اچانک ہی وہاں
پہنچے تھے ۔انہوں نے گھر میں داخل ہوتے ہی خاصی ناگواری کے ساتھ نمیرہ اور انابیہ کو دوسرے گھر میں جھانکتے ہوئے دیکھا ۔ پورچ چونکہ نیچے تھا،اس لیے انہیں سر اٹھا کر اوپر دیکھنے میں ذرا دقت ہو رہی تھی۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے۔۔؟‘‘ وہ پورچ میں کھڑے بلند آواز میں دھاڑے اور انابیہ اور نمیرہ کی روح فنا ہوگئی۔
’’مارے گئے ۔۔۔‘‘ انابیہ کا رنگ فق ہو گیا ۔
جب کہ نمیرہ نے بوکھلاہٹ میں ہاتھ میں پکڑا پکوڑا کھینچ کر درشہوار کے سر کا نشانہ لے کر مارا جو ایک دم ٹھک کرکے درشہوار کی گردن سے ٹکرایا ۔
’’کیا مصیبت ہے۔۔۔؟‘‘ درشہوارایک دم اچھلی اور سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔
جب کہ محمد ہادی نے بھی اس حرکت پر ناگواری سے کھڑے کھڑے پہلو بدلا اور درشہوار کی نظروں کے تعاقب میں اوپر دیکھا،جہاں نمیرہ اور انابیہ دیوار
پر لگی گرل پر جھکی ہوئیں تھیں۔
’’بھاگو ۔۔۔۔۔دا جی آگئے۔۔۔‘‘ نمیرہ کی آواز نے گویا مری کی فضاؤں میں صور پھونک دیا ۔
’’اوہ نو ۔۔۔‘‘ درشہوار اور طوبیٰ دونوں کو چار سو بیس والٹ کا جھٹکا لگا۔
’’اب کیا کریں ۔۔۔؟‘‘ طوبیٰ نے ہراساں نگاہوں سے اپنی تایا زاد کزن کو دیکھا۔
ایسی سچویشن میں در شہوار کی عقل خاصی تیز ی سے کام کرنے لگتی تھی۔اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور طوبیٰ کا ہاتھ پکڑا اور محمد ہادی کے گھر کے پچھواڑے کی طرف دوڑ لگا دی ۔
’’ارے رے یہ کہا ں جا رہیں ہیں آپ۔۔۔؟‘‘ وہ ایک دم بوکھلا گیا ۔
جب کہ وہ دونوں دیکھتے ہی دیکھتے چیتے کی سی رفتار سے بھاگتی ہوئیں اسکے گھر کے پچھلے لان کی طرف گئیں اور دونوں نے جمپ لگا کر مشترکہ چھوٹی دیوار عبور کی ،اور چھلاوے کی طرح غائب ہو گئیں۔جب کہ وہ اپنی جگہ پر ہکا بکا رہ گیا۔
*****************
مری کے سر سبز پہاڑوں پر رقص کرتے بادلوں کو ایک دم ہی جوش آیا اور بارش کی بوندیں چھتوں پر جلترنگ بچانے لگیں۔محمد ہادی کا ملازم گل خان ٹرے
میں کافی کے دو بڑے کپ اور سینڈوچ رکھے لاؤنج میں داخل ہوا۔جہاں وہ اپنے بیسٹ فرینڈ سعد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
محمد ہادی کا تعلق بہت ویل اسٹیبلش اور ویل ایجوکیٹڈ گھرانے سے تھا۔وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ اس نے ایم ایس سی فارسٹری (Forestry) پاکستان فارسٹ انسٹیوٹ پشاور سے اورایم ایس کی ڈگری یوکے کی ایک مشہور یونیورسٹی سے کرکے کمیشن کاایگزام پاس کیا اور اس کی پہلی پوسٹنگ مری میں تھی جہاں اسکا بیسٹ فرینڈ سعدپہلے سے پوسٹڈ تھا۔
’’بس تم اپنا بوریا بستر اٹھاؤ،اور شفٹ ہو جاؤ یہاں ،میں اتنے بڑے گھر میں اکیلا نہیں رہ سکتا۔ ہادی کی بات پر وہ مسکرایا۔
’’ویسے انکل نے گھر تو زبردست بنا رکھا ہے،اور ہے بھی مین روڈ پر۔‘‘ سعد نے توصیفی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا۔
’’ہاں پچھلے کئی سالوں سے تو رینٹ پر تھا اور اب پاپا نے میرے لیے خالی کروایا ہے اسے۔‘‘ وہ لاپرواہی سے فلور کشن پر بیٹھ گیا۔
’’بہت لکی ہو یار ،ادھر میں ایک گندے سے ایک کمرے کے فلیٹ میں سڑ رہا ہوں۔‘‘
’’اسی لیے تو گدھے کہہ رہا ہوں ،آجاؤ یہاں ،تین بیڈ رومز بالکل خالی ہیں ۔‘‘ محمد ہادی نے اسے کھلے دل سے آفر کی۔
’’شادی کیوں نہیں کر لیتے تم،آنٹی کی بھی خواہش پوری ہو جائے گی۔‘‘ سعد ہلکے سے توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’ڈفر انسان ،میں تمہیں شفٹ ہونے کا کہہ رہا ہوں اور تم الٹے مشورے دے رہے ہو مجھے۔‘‘وہ ہلکا سا چڑ گیا۔
’’یار اس مہینے کا کرایہ پورا دے چکا ہوں فلیٹ کا ۔‘‘ سعد نے اپنی مجبوری بتائی۔
’’تو کیا ہوا،کسی غریب کا بھلا بھی ہو جانے دیا کرو،میں بتا رہاہوں ،آجاؤ،ورنہ میں اپنی پوسٹنگ کے لیے بھاگ دوڑ کرنے لگا ہوں۔‘‘ محمد ہادی نے اس
دفعہ اسے ڈاریکٹ دھمکی دی،جس کا خاطر خواہ اثر ہوا ۔
’’اچھا اچھا ویک اینڈ پر اٹھا کر لاؤں گا اپنا جہیز،ابھی تو آفس سے آنے کے بعد ہمت ہی نہیں ہوتی،اوپر سے ڈی ایف او اتنا اکھڑ مزاج ہے،اسے صبح و شام
آفس وزٹ کرنے اور نئے نئے کا م کرنے کے دورے پڑتے رہتے ہیں۔‘‘سعد نے ابھی اپنی بات مکمل کی ہی تھی کہ بجلی چلی گئی اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا
ویسے بھی پہاڑوں پر سورج جلد غروب ہو جاتا تھا۔
’’لو پھر لائٹ چلی گئی ۔۔۔‘‘ کافی پیتے ہوئے محمد ہادی ایک دم بیزار ہوا۔
’’گل خان پلیز جنریٹر چلاؤ ۔‘‘اسکی آواز پر گل خان بھاگتا ہوا کچن سے نکلا۔
’’جی صاحب جی ۔۔۔‘‘ گل خان ادھیڑ عمر مرد تھا اور بہت سالوں سے اس گھر کی چوکیداری اور دوسرے کاموں پر معمور تھا۔
’’لیکن اس سے پہلے ،یہ کھڑکیاں بند کرو، بارش کی بوچھاڑ ڈاریکٹ اندر آ رہی ہے ۔‘‘ ہادی کو بارش سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔
’’جی صاحب ۔۔۔‘‘ گل خان نے لپک کر حکم کی تعمیل کی۔
’’زہر لگتی ہے مجھے جنریٹر کی آواز،پتا نہیں یہاں کے لوگ کیسے رہ لیتے ہیں ایسے موسم کے ساتھ،جب دیکھو بارش، جب دیکھوسرد ہوائیں ۔‘‘ محمد ہادی کو مری
کا موسم بالکل پسند نہیں تھا۔
’’تو یار یو پی ایس لگوا لو ناں،پرابلم کیا ہے۔‘‘ سعد نے شرارت سے ایک اخروٹ اسکی طرف اچھالا۔
’’ہاں ،کوئی پکا بندوبست ہی کرنا پڑے گا اس فضول جگہ پر رہنے کے لیے۔‘‘ اُس نے بُرا سا منہ بنایا۔
’’ابھی تو میرے جگر کو یہاں آئے صرف تین دن ہوئے ہیں ،کیسے گذارا ہوگا تمہارا۔‘‘ سعد نے اسے شوخ لہجے میں چھیڑا۔
’’سوچ رہا ہوں پاپا سے کہہ کر واقعی پوسٹنگ کروا لوں ادھر سے اپنی ۔‘‘اسکی بات پر سعد کو کرنٹ لگا۔
’’خبردار ایسا سوچا بھی،اٹھا کر پھینک دیں گے تمہیں کسی اور ریجن میں ۔‘‘ سعد نے اسے ڈرایا۔
’’کم ازکم یہاں سے تو اچھا ہوگا ۔۔‘‘ وہ بیزاری سے ایک تسلسل سے برستی مینہ کی بوندوں کو دیکھنے لگا۔
’’تم نے ابھی دیکھے کہاں ہیں یہاں کے دلکش نظارے،میں ایسے ہی تو نہیں ٹکا ہوا یہاں ۔‘‘ سعد ایک آنکھ میچ کر شرارت سے ہنسا۔
’’ سخت الرجک ہوں میں ان چیزوں سے،مجھ پر کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا۔‘‘ ہادی نے کافی کا مگ اٹھا تے ہوئے اسے یاد دلایا۔
’’پتا ہے مجھے اسی لیے تو ڈیپارٹمنٹ میں arrogant man کا ٹائٹیل ملا تھا تمہیں ۔‘‘ سعد قہقہ لگا کر ہنسا ،اُسے وہ منظر یاد آگیا جب فئیر ویل فنکشن پر وہ اپنا ٹائٹیل لینے اسٹیج پر گیا اور بغیر تھینکس کہے واپس لوٹ آیا تھا۔
’’ساری فضول اور بے ہودا باتیں چن چن کر یاد ہیں تمہیں ،یہ بتاؤ،ساتھ والے بنگلے میں کون رہتا ہے۔؟‘‘ ہادی کو ایک دم وہ اول جلول لڑکیاں یاد آئیں تو یونہی پوچھ بیٹھا ۔
’’دائیں یا بائیں ۔۔۔؟‘‘ سعد نے شرارتی لہجے میں پوچھا اور اسی وقت لائٹ آگئی ۔
’’رائٹ سائیڈ پر ۔۔۔؟‘‘ اُس نے دانستہ اپنے لہجے کو انجان بنایا۔
’’ادھر تو کبھی بھول کر بھی نہ دیکھنا،پتھر کے ہو جاؤ گے ۔۔۔‘‘ وہ ایک دم سنجید ہ ہوا۔
’’کیوں ،آسیب بستا ہے وہاں یا جن بھوت رہتے ہیں وہاں ۔‘‘ ہادی نے منہ بنا کر اسکی طرف دیکھا۔
’’ایسا ہی سمجھو، میرحاکم علی کے دو بیٹے اور ان کا خاندان آباد ہے یہاں ۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
’’وہ جو ایم این اے میر محتشم کے والد ہیں اور جنوبی پنجاب کی سیٹ پر الیکشن لڑتے ہیں ۔‘‘ محمدہادی نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’ہاں ہاں وہی۔۔ ۔۔‘‘ سعد نے ریموٹ کنٹرول سے ٹی وی کی آواز کم کی ۔
’’تو یہا ں سے لڑیں نہ الیکشن ،وہاں کی سیٹ پر کیوں قبضہ جما رکھا ہے۔‘‘ ہادی کو ویسے ہی پولیٹکس سے شدید نفرت تھی اور حاکم علی کے خاندان کی کرپشن
کے قصّے بھی آئے دن سننے کو ملتے تھے۔
’’یہاں سے حاکم صاحب اپنے پوتے وہاج کو لڑائیں گے اس دفعہ الیکشن ۔۔۔ ‘‘ سعد نے سنجیدگی سے مذید بتایا۔’’اور تمہیں پتا ہے،بہاولپور اور ملتان
میں بے تحاشا زمینیں ہیں ان کی ۔‘‘
’’جانتا ہوں سب کی سب ان کے اباؤ اجداد کو انگریزوں کی غلامی اور چمچہ گیری کرنے پر ملیں تھیں اور وہی جائداد وراثت میں چلی آرہی ہے ان کے پاس‘‘ ہادی کو بھی اچھی خاصی معلومات تھیں۔
’’لیکن بیٹا جی ،کمیشن کا ایگزام پاس کر کے اور فارسٹ آفیسر بن کر یہ مت سمجھ لینا کہ تم پنگا لے سکتے ہو اس خاندان سے۔‘‘سعد نے ڈھکے چھپے انداز میں اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
’’کیا مطلب ۔۔۔؟‘‘ ہادی نے الجھ کر اپنے بیسٹ فرینڈ کا چہرہ دیکھا۔
’’مری میں بھی ٹمبر مافیا کے پیچھے محتشم صاحب کے چھوٹے بھائی خاقان صاحب کا نام لیا جاتا ہے،لیکن آج تک کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔‘‘ سعد نے
اس دفعہ ذرا کھل کر بتایا کیونکہ بات اب ان کے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی تھی۔
’’اس سے پہلے کوئی میرے جیسا آفیسر بپوسٹڈ بھی نہیں ہوا ہوگا یہاں ۔‘‘ وہ طنزیہ انداز میں مسکرایا۔
’’میری تین سالہ سروس میں کئی آئے اور کئی گئے یہاں سے ۔‘‘ سعد نے بھی اس کی غلط فہمی دور کرنے میں دیر نہیں لگائی۔
’’چلو دیکھتے ہیں ،کس میں ہے کتنا دم ۔۔۔‘‘ محمد ہادی نے اٹھ کر کھڑکیوں کے بھاری پردے آگے کیے تو وہ اسے دیکھتا رہ گیا،اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ
محمد ہادی ایک دفعہ جو ٹھان لیتا تھا اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔۔
*******************
’’ہم چاروں ہی بہت غلط گھرانے میں پیدا ہو ئیں ہیں۔‘‘
درشہوار نے دنیا جہاں کا غم اپنے لہجے میں سموتے ہوئے انتہائی مشکل سے رنجیدہ شکل بناکر اپنی تینوں کزنز کو دیکھا۔اس وقت وہ سب داجی سے جھاڑ کھانے کے بعد اپنا غم غلط کرنے کے لیے ٹی وی لاؤنج میں موجود تھیں ،جو اوپر والے پورشن میں تھا۔
اس تعزیتی اجلاس کا انعقاد درشہوار نے ہنگامی بنیادوں پر کیا تھا اور ویسے بھی ہر شرارت اور الٹے کام میں وہ سب کی لیڈ ر ہوتی تھی اس لیے وقتا فوقتا دلجوئی کا
اہم فریضہ بھی اسے ہی سرانجام دینا پڑتا ۔
اس وقت انابیہ صوفے پر نیم دراز اور نمیرہ نے کرسی سنبھال رکھی تھی جبکہ درشہوار اور طوبی دونوں غم سے نڈھال فلور کشن پر بیٹھیں ہوئیں تھی،اسی کمرے کے
ایک کونے میں خاندانی ملازمہ رشیدہ کی سولہ سالہ بیٹی صندل بھی موجود تھی،جسکا اہم کام ، کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل نچلے پورشن سے اوپر والے پورشن
میں کرنا اور میر ہاؤس کی چاروں باجیوں کی دلچسپ گفتگو سننا تھا۔
’’آئے ہائے بُرے نصیب ہمارے ۔۔۔‘‘ درشہوار نے انگڑائی لیتے ہوئے ملازمہ صندل کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی،اسے ایک دم تپ چڑھ گئی۔
’’تمہارے بڑے دانت نکل رہے ہیں صندل صاحبہ ،خیر تو ہے۔؟‘‘ اس نے طنزیہ نگاہوں سے صندل کو دیکھا،جو اسکا ہی پرانا سوٹ پہنے اسی پر ہنس رہی
تھی اور اس بات نے درشہوار کے تن بدن میں آگ لگا دی ۔
’’ارے نئیں نئیں بی بی جی ، میں تو بس آپکی باتیں غور سے سن رہی تھی۔۔۔‘‘ اُس نے بوکھلا کر اپنے دانت چھپانے کی کوشش کی۔
’’تو ہم کون سا کسی خزانے کا راز بتا رہے ہیں ایک دوسرے کو۔۔۔‘‘ طوبی نے بُرا سا منہ بناکر ناک سے مکھی اڑائی۔
’’جاؤ اپنے ابا سے کہو گیٹ پر جیسے ہی پزا ہٹ سے ڈلیوری آئے تو وہیں سے نقارہ نہیں بجانا،بلکہ صندل شہزادی کو بلوانا ہے۔‘‘ درشہوار کی بات پر سب کزنز
کے کان کھڑے ہو گئے۔صندل کے والد اس گھر کے چوکیدار کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔
’’مجھے کیا کرنا ہوگا ابا کے پاس جا کر۔۔‘‘ صندل کے ہونق انداز پر وہ جھنجھلا گئی۔
’’تمہارا کام ہے کتھک ڈانس کرنا،وہ بھی پزا سر پر رکھ کر۔‘‘ درشہوار کے چڑنے پر وہ تینوں بے ساختہ ہنس پڑیں۔
’’لیکن ،مجھے تو وہ نہیں آتا۔۔۔‘‘ صندل کی سادگی میں پریشانی کا عنصر نمایاں ہوا۔
’’زیادہ اوور ایکٹینگ کرنے کی ضرورت نہیں،جاؤ اور پزا کی پیمنٹ کر کے اوپر لاؤ،سمجھی۔‘‘ درشہوار نے منہ بنا کر اپنا پرس اٹھایا۔
’’آدھے پیسے میں ہر گز نہیں دوں گی ۔۔۔‘‘ انابیہ نے فورا لقمہ دیا۔
’’اور میری طرف سے بھی انکار ہی سمجھو۔۔۔‘‘نمیرہ کا موڈ شام والے واقعے کے بعد خاصابگڑا ہوا تھا ۔
’’اور میرا تو تمہیں پتا ہی ہے آجکل ہاتھ کتنا تنگ ہے ۔‘‘طوبی نے اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا درد سمویا۔
’’عوام تسلی رکھے،اس ڈلیوری کا بوجھ ہم غریب عوام پر نہیں ڈالیں گے،بلکہ شاہی خزانے سے ادا کیا جائے گا۔‘‘ درشہوار نے شاہانہ انداز سے کہتے ہوئے اپنے والٹ کی زپ بڑی ادا سے کھولی اور ہزار کا کڑکتا ہوا نوٹ باہر نکالا اور اپنے سر سے وارنے ہی لگی تھی کہ صندل ایک دفعہ پھر کفن پھاڑ کر حیران لہجے میں
بولتی ہوئی ان سب کے چھکے چھڑا گئی۔
’’لیکن بی بی جی،یہاں کس کی’’ ڈلیوری‘‘ ہو رہی ہے،آپ میں سے تو کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی۔‘‘ان پڑھ ،سیدھی سادھی صندل کی بات پر نمیرہ کے حلق
سے ایک چھت پھاڑ قسم کا قہقہ بر آمد ہوا۔طوبی اور انابیہ بھی ہنس پڑیں جبکہ درشہوار کا منہ سرخ ہو گیا۔
’’کم بخت صندل چار جماعتیں پڑھ لیتی تو کم ازکم ہم چار حسیناؤں کی زندگی تو آسان ہو جاتی ہے۔اب مذید بونگی مارنے سے بہتر ہے،گیٹ پر جاؤ اور سنو
چھاتہ ساتھ لے لینا بارش ہو رہی ہے،تمہاری تو خیر ہے ہمارا پزا نہ بھیگ جائے کہیں۔‘‘ درشہوار نے اسے جھاڑتے ہوئے باہر کی طرف جانے کا اشارہ کیا
جسے سنتے ہوئے اسکا منہ بن گیا۔
’’بی بی جی،بڑے ہال سے چلی جاؤں،جلدی پہنچ جاؤں گی۔‘‘صندل کورات کے وقت پچھلے لان سے لمبا چکر کاٹ کر آگے جاتے ہوئے ہمیشہ ڈر لگتا تھا۔
’’وہاں تمہارے کچھ لگتے برہان لالہ بیٹھے ہیں،پزا دیکھ کر تمہیں جلدی پہنچا دیں گے اور وہ بھی اوپر۔سمجھی۔‘‘ در شہوار نے کھا جانے والی نگاہو ں سے چوکیدار
بہادر علی کی بزدل بیٹی کو دیکھا جس کا سارا خاندان سرونٹ کوارٹر میں مقیم تھا۔
’’اچھا اچھا بی بی جی ،جاتی ہوں۔۔۔‘‘ صندل بادل نخواستہ پچھلے کوریڈور کی طرف جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
’’ہاں تو بہنو،میں کیا کہہ رہی تھی کہ ہم چاروں ہی غلط گھرانے میں پیدا ہو گئیں ہیں۔‘‘ درشہوار نے تعزیتی اجلاس دوبارا شروع کیا۔اوپر والے پورشن کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے شاہ میر نے اپنی بہن کا یہ دکھی جملہ سن کر بمشکل اپنے قہقے کو دبایا۔
’’اگر تم ’’چار‘‘کی بجائے’’دو ‘‘ لڑکیاں کر لو تو بات ذرا زیادہ واضح ہوجائے۔‘‘شاہ میر کی اچانک انٹری پر وہ چاروں ہڑبڑا کر اٹھیں اور اپنے اپنے ڈوپٹے
ڈھونڈنے لگیں جو دائیں بائیں لڑھکتے پھر رہے تھے۔
’’آپ اپنے اس بیان پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے ۔‘‘ درشہوار نے ہاتھ کا مائیک بنا کر شاہ میر کے آگے کیا۔
’’بیاآپی کو تو تم نکال دو اس فہرست سے،وہ بیچاری تم لوگوں کا ساتھ دینے کے چکر میں ماری جاتیں ہیں اور جہاں تک بات نمیرہ کی ہے تو وہ اس گھر میں
پیدا نہیں ہوئی،اور پیچھے رہ گئیں تم اور طوبی،تم دونوں کو تو اصل میں پیدا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔‘‘ شاہ میر کی بات پر وہ دو نوں تڑپ اٹھیں۔
’’بھائی کیا آپ بتا سکتے ہیں ،کہ آپ اس گھر سے کب تشریف لے جا رہے ہیں ۔؟‘‘ در شہوار کا طنز سمجھ کر وہ مسکرا دیا۔
’’خیریت۔؟کھاریاں سے کچھ منگوانا تھا کیا۔؟‘‘ اس نے انجان بن کر پوچھا۔
’’جی ہاں ایلفی ۔۔۔۔۔اور وہ بھی آپ کے ہونٹوں پر لگانے کے لیے۔‘‘ طوبی نے جل کر کہا اور شاہ میر قہقہ لگاکر ہنس پڑا۔
وہ اس گھر کا واحدمرد تھا،جسکا روئیہ سب خواتین سے بڑا دوستانہ اور شرارتی تھا،ورنہ وہاج بھائی کے ماتھے کے بل اور برہان کی سردمہری کبھی کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ اس بات پر تبصرہ کرتا،دروازہ دھڑ کر کے کھلا اور صندل حواس باختہ انداز میں اندر داخل ہوئی۔
’’ہائے ہائے بی بی جی ،غضب ہو گیا۔۔۔‘‘ صندل کی سانسیں پھولی ہوئیں تھیں۔
’’جب بھی آنا،کسی منحوس خبر کے ساتھ ہی آنا۔۔۔‘‘نمیرہ نے بیزاری سے ناک چڑھائی۔
’’فرمائیے ،کون سی نیوز بریک کرنی ہے آپ نے۔‘‘ طوبی نے طنزیہ انداز سے صندل کو دیکھا جو شاہ میرکو سامنے دیکھ کر بُری طرح گڑبڑ ا گئی تھی۔
’’وہ بی بی جی، آپ کا پزا ۔۔۔۔۔‘‘ وہ ہلکا سا ہکلائی۔
’’وہ پزا۔۔۔۔۔۔‘‘ شاہ میر نے ’’وہ ‘‘ کو لمبا کیا۔
’’ہاں ہاں وہی ۔۔۔۔‘‘چاروں یک زبان گویا ہوئیں۔
’’وہ تو برہان بھائی کے کولیگس کھا گئے،کیا تم لوگوں نے منگوایا تھا۔‘‘ شاہ میر کی بات پر ان چاروں کو کرنٹ لگا۔
’’اوہ نو۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ان سب کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔انہوں نے صدمے بھرے انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا،جیسے ان کی کوئی کمپنی تازہ
تازہ ہی دیوالیہ ہوئی ہو۔
’’لیکن صاحب جی ۔۔۔‘‘صندل ہلکی سی تذبذب کا شکار ہوئی۔
’’کہا ناں ،وہ برہان بھائی کے مہمانوں کے آگے رکھ دیا گیا تھا،چلو صندل اب کھسکو یہاں سے۔‘‘شاہ میر نے آنکھوں ہی آنکھوں میں صندل کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش کی جو طوبی کی زیرک نگاہو ں سے چھپی نہ رہ سکی۔
’’صندل جھوٹ بولنے والا سیدھا جہنم میں جاتا ہے۔‘‘ طوبیٰ نے اسے ڈراوا دے کر سچ اگلوانے کی کوشش کی ۔
’’اور بی بی صندل یہ بھی یاد رکھنا ،ایسا سچ جس سے شر پھیلنے کا اندیشہ ہو، اللہ کے ہاں اسکی بھی معافی نہیں، پورے سو سال جہنم کا عذاب بھگتو گی ۔‘‘شاہ میر کی بات پر صندل بیچاری کا رنگ فق ہو گیا۔
’’جی مجھے نہیں پتا،مجھے تو ابا نے یہی کہا تھا۔۔۔‘‘وہ بھی صاف مکر گئی۔
’’ویسے ہیں تو برہا ن بھائی میرے ہی سگے بھائی،لیکن کی انہوں نے گھٹیا حرکت ہے۔۔۔۔‘‘درشہوار جل کر بولی۔
’’اچھا بابا بس کر دو، ذرا سی چیز کے پیچھے اپنے بھائی کو ایسے کہو گی کیا۔‘‘انابیہ کے بے اختیار بولنے پر شاہ میر شرارت سے کھنکھارا ،اور وہ ایک دم جھینپ گئی
جب کہ باقی سب کو بھی ہنسی آگئی،انابیہ، نکاح کے بعد برہان کی طرفداری کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔
’’چلو بھئی صندل گرما گرم چائے بنا کر لاؤ سب باجیوں کے لیے،میں ان کے لیے فرائی فش کا آرڈر کرتا ہوں،آخر کو ان کا غم غلط کرنے میں مجھے بھی کچھ ہاتھ بٹانا چاہیے ۔‘‘ شاہ میر ریموٹ اٹھا کر وہیں جم کر بیٹھ گیا ۔
’’میرے لیے چکن کارن سوپ کا بھی آرڈر دے دیں۔۔‘‘درشہوار نے فورا اپنی فرمائش نوٹ کروائی۔
’’اور میرے لیے فرنچ فرائز کا ۔۔۔‘‘طوبیٰ کی بھی زبان پھسلی۔
’’میرا قیمے والا نان کھانے کو دل کر رہا ہے۔۔۔‘‘نمیرہ نے بھی شرارت سے آنکھیں مٹکائیں۔
’’ایسا کرو،تم سب لوگ آج ’’خیالی پلاؤ‘‘ ہی کھا لو،میں چلتا ہوں۔‘‘شاہ میر منہ بنا کر ایک دم کھڑا ہوا۔
’’اوفوہ بھائی،اتنی بھی کنجوسی اچھی نہیں ، فورا جائیں اور خود لے کر آئیں۔‘‘درشہوار نے لاڈ سے اپنے بھائی کا بازو پکڑاتوشاہ میر کو نہ چاہتے ہوئے بھی بات
ماننا ہی پڑی۔
’’تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو،جا کر چائے کا پانی رکھو۔‘‘ انابیہ نے صندل کو گھورا تو وہ بوکھلا کر باہر نکلی۔
’’صندل،صندل ،کہاں مرگئی ہو۔۔‘‘اپنی اماں کی پاٹ دار آواز سن کر وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی اور سامنے سے آتے وہاج صاحب سے بُری طرح ٹکرائی
جو بڑی تیزی سے اوپر والے پورشن کی طرف آ رہے تھے۔
’’سنبھل کر ۔۔۔‘‘انہوں نے ایک دم ہی اسے بازوں سے پکڑ کر گرنے سے بچایا اور اس طرح نامحسو س انداز سے اپنے ساتھ لگایا کہ صندل نے خوفزدہ
ہو کر سیڑھیوں پر لگی گرل کو تھام لیا۔
صندل کو گھر کے مردوں میں وہاج صاحب کی نظروں سے سخت الجھن ہوتی ۔ان کا دیکھنے کا انداز بہت عجیب تھا،ایسے لگتاجیسے آنکھوں میں کوئی ایکسرے
مشین فٹ کروا رکھی ہو۔وہ ان کی آمد پر چھپتی پھرتی تھی لیکن آج شاید اسکے ستارے گردش میں تھے۔
’’کسی دن کو ئی بچانے والا نہ ہو اتو ہاتھ پیر تڑوا لو گی لڑکی۔۔۔‘‘ ان کا لہجہ معنی خیز اور بے باک نگاہیں محسوس کر کے صندل کا چڑیا جیسا دل ایک دم سہم گیا۔
’’ارے وہاج بیٹا تم ۔؟ فارحہ کوکیوں نہیں لائے ساتھ۔‘‘تاجدار بیگم ہاتھ میں ایک شاپر اٹھائے اسٹور سے نکلیں تو صندل کی جان میں جان آئی،وہ تیزی
سے سیڑھیاں اتر کر کچن کی طرف بھاگی۔
’’آپکی بہوصاحبہ آجکل میکے گئیں ہوئیں ہیں اور ویسے بھی میں تو چند ہی گھنٹوں کے لیے آیا تھا کسی کام سے۔‘‘وہاج کو اس موقعے پر انکی آمد ناگوار لگی تھی
لیکن انہوں نے زبردستی مسکرا کر جواب دیا۔
’’کچھ دن کے لیے چھوڑ جاؤں ناں اسے ،بچیاں بہت یاد کرتی ہیں۔‘‘انہوں نے محبت بھرے لہجے میں فرمائش کی۔وہ تاجدار بیگم کی سگی بھتیجی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی بہو بھی تھی،انتہائی سلجھی ہوئی اور محبت کرنے والی لڑکی،جو شادی کے چار سال بعد بھی اولاد جیسی نعمت سے محروم تھی۔وہ وہاج کے ساتھ
اسلام آباد والے بنگلے ’’نور محل ‘‘میں رہتی تھی جہاں حاکم علی،اور میر محتشم کے ساتھ خاقان صاحب اکثر ہی پائے جاتے۔
’’جی جی بھیجوا دوں گا،لیکن آپکو پتا ہے ناں ،نور محل میں بھی کسی خاتون کا ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘انہوں نے بادل نخواستہ حامی بھری۔
’’ہاں ہاں سب پتا ہے مجھے،اب تو الیکشن کا جھنجھٹ بھی شروع ہونے والا ہے۔‘‘وہ ہلکی سی بیزار ہوئیں۔جب کہ وہاج سر ہلاتے ہوئے اوپر والے پورشن کی طرف بڑھ گئے،لیکن وہ دل ہی دل میں تہیہ کر چکے تھے کہ کس طرح فارحہ کے اکیلے پن کا بہانہ بنا کر صندل کو یہاں سے نور محل منتقل کرنا ہے۔
*******************
آج پھراسلام آباد کے ایف سیون سیکٹر میں واقع ’’ٹینا ہاؤس ‘‘میں ناشتے کی ٹیبل پر ایک طوفان آیا ہوا تھا۔
ٹینا بیگم ابھی ابھی جوگنگ کر کے واپس لوٹیں تھیں۔ تنگ سے ٹراؤز میں سلیو لیس شرٹ کے ساتھ انہوں نے اپنے اسٹیپ کٹنگ بالوں کی اونچی سے پونی بنا
رکھی تھی،یوگا،جم اور ایکسر سائز کی وجہ سے ان کی فٹ نس قابل رشک تھی۔رومیصہ نے ناک چڑھا کر مام کے حلیے کو دیکھا اور بیزاری سے سر جھٹک کر ہاتھ میں پکڑا سلائس کترنے لگی۔وہ آج کسی گہری سوچ میں مگن تھی۔
’’شیری ،کیا پروگرام ہے تمہارا ۔۔۔؟‘‘ انہیں دو دن بعد شہرزاد سے بات کرنے کا ٹائم مل ہی گیا ۔
’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ اسکے دل کی دھڑکنیں بے ربط ہو ئیں۔
’’واپسی کی ٹکٹ کب کی کنفرم کرواؤں تمہاری ۔۔۔؟‘‘ انہوں نے تھرما س سے شوگر فری چائے اپنے کپ میں انڈیلی۔رومی نے چونک کر بہن کی طرف
دیکھا ،جو تذبذ ب کا شکار لگ رہی تھی۔
’’سوچ رہی ہوں ،یہیں پریکٹس اسٹارٹ کر دوں ،میرا توواپس جانے کا کوئی پروگرام نہیں۔‘‘ شہر زاد کی اطلاع پرٹینا بیگم کا دماغ بھک کر کے اڑا۔
’’تمہارا دماغ خراب ہے،تم بار ایٹ لاء کی ڈگری لے کر یہاں پریکٹس کرو گی۔۔۔۔؟پاکستان میں۔۔ ؟‘‘ ٹینا بیگم کی آنکھوں میں ناگواری در آئی اورانکی خوبصورت پیشانی پر ایک شکن ابھری ۔
’’ مام،ہرج ہی کیا ہے۔؟‘‘ اُس نے سلائس پرجیم لگاتے ہوئے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔وہ لمحہ آ چکا تھا ،جس کا اسے خوف تھا۔
اسے معلوم تھا ٹینا بیگم کو اپنی بیٹیوں کا پاکستان میں رہنا سخت ناپسند تھا۔اس بات کے پیچھے کیا لاجک تھی،یہ بات ان کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا،انہوں نے
آنکھ کھولنے کے بعد دو ہی رشتے دیکھے تھے،ایک نانو کا اور دوسرا ماں کا۔ان کے باپ کے متعلق بات کرنا ٹینا بیگم کو سخت ناپسند تھا اور شہرزاد نے اس معاملے میں کبھی کھوج لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی لیکن رومیصہ اکثر و بیشتر ماں کی اس دکھتی رگ پر ضرور ہاتھ رکھتی۔
’’تمہیں اندازہ ہے ،تمہاری اس مہنگی ایجوکیشن پر کتنا پیسہ خرچ ہوا ہے میرا ؟۔‘‘ ٹینا بیگم کے لہجے میں نخوت در آئی اور وہ کروفر سے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر
بیٹھ گئیں ۔شہر زاد نے اپنا سر شکستگی سے جھکا دیا۔اسکی سنہری آنکھوں میں پانی تیرنے لگا۔
’’تو کیا اب آپ ہم سے حساب کتاب لیں گی اپنی پرورش کرنے کا۔‘‘ رومی کے لبوں پر زہر آلود تبسم ابھرا۔
’’تم چپ رہو،ہزار دفعہ کہا ہے میرے معاملات میں مت بولا کرو۔‘‘ وہ تلملا کر رومی کی طرف متوجہ ہوئیں،جسکا چہرہ ماں کی اس بات پر ایک دم سرخ ہوا اور اس نے ہاتھ میں پکڑا سلائس بدتمیزی سے ٹیبل پر پٹخا ۔
’’ایکسکیوزمی ۔۔۔۔‘‘ وہ بھڑک کر کھڑی ہوئی ۔
’’اگر آپ کو اپنے معاملات میں دخل اندازی پسند نہیں تو فار گاڈ سیک ،ہم دونوں بہنوں کو بھی چھوڑ دیں ہمارے حال پر اور جا کر ایک اور شوہر ڈھونڈیں چوتھی
شادی کے لیے ۔۔۔۔‘‘ رومی بولی نہیں متنفر لہجے میں پھنکاری تھی۔
ٹینا بیگم کا دماغ لمحے بھر کو چکرا سا گیا۔ان کا چہرہ فق ہوا،جب کہ رومی پاؤں پٹختی ہوئی ڈائننگ روم سے نکل گئی ۔شہر زاد نے خوفزدہ نظروں سے ماں کا ہراساں چہرہ دیکھا۔انہوں نے اپنی کرسی کے بازو کو مضبوطی سے پکڑ کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
’’آئی ایم سوری مام۔۔۔‘‘شہر زاد لپک کر ان کے پاس آئی اور نرمی سے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھا۔
’’تم نے دیکھا ،یہ مجھے کیا کہہ کر گئی ہے۔۔‘‘وہ صدمے بھرے انداز میں گویا ہوئیں۔
’’مام،پلیز ڈونٹ ٹیک ٹینشن،میں سمجھاؤں گی اسے۔۔۔‘‘ وہ یوں شرمندہ تھی جیسے بدتمیزی رومی نے نہیں اس نے خود کی ہو۔
’’اتنا تو علم تھا مجھے کہ یہ نفرت کرتی ہے مجھ سے،لیکن اس حد تک کرتی ہوگی یہ اندازہ نہیں تھا۔‘‘ وہ میز کا سہارا لے کر بمشکل اٹھیں،اور مرے مرے قدموں
کے ساتھ کمرے سے نکل گئیں۔جب کہ شہر زاد کو اب گھنٹوں بیٹھ کر اس بات پر کڑھنا تھا ۔ وہ حیران تھی کہ رومی نے اسے پاکستان تو بلوا لیا تھا لیکن ابھی تک
وہ بات نہیں کی جسکی وجہ سے وہ ڈئپریس تھی۔ کالج سے آنے کے بعد وہ اپنی فرینڈز کے ساتھ نکل جاتی اور رات گئے ہی لوٹتی تھی۔
’’مجھے رومیصہ سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔۔۔‘‘ وہ یہ سوچ کر اسکے بیڈ روم میں پہنچ گئی۔اندر داخل ہوتے ہی اسے شاک لگا۔رومی اپنے کمرے میں موجود نہیں تھی لیکن وہاں تو لگتا تھا جیسے بھوت ناچ کر گئے ہوں۔ہر چیز الٹ پلٹ تھی۔
اسکی ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ کرچیوں کی صورت میں براؤن کارپٹ پر بکھرا ہوا تھا اور پاس ہی سنگ مرمر کا گلدان ٹوٹا ہوا تھا۔یقیناًشیشہ توڑنے کے لیے اسے
ہتھیا ر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔بیڈ شیٹ آدھی زمین پر اور اسٹڈی میز کی کرسی اوندھی پڑی تھی۔ دیوار پر لگی پینٹنگ کا بھی حشر نشر کر دیا گیا تھا۔
’’اوہ مائی گاڈ ۔۔۔‘‘ شہر زادکو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
وہ نڈھال قدموں سے چلتی ہوئی اس کی اسٹڈی ٹیبل کے قریب پہنچی تو ایک اور شاک اسکا منتظر تھا۔رومی نے بچپن کی بے شمار تصویروں کا تیا پانچہ کر دیا تھا۔
ان تصویروں میں جہاں جہاں مام ان کے ساتھ کھڑی تھیں انہیں قینچی سے کاٹ کر علیحدہ کر دیا تھا۔ہر طرف تصویروں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ایسا
لگتا تھا جیسے کاٹنے والے نے اپنا سارا غصّہ اور نفرت بیدردی سے ان پر اتارنے کی کوشش کی ہو۔
ایک درمیانی سائز کی تصویر اسے کارپٹ پر گری ہوئی ملی،اس تصویر میں شہر زاد اور رومیصہ کے درمیان میں کھڑیں ٹینا بیگم کے چہرے پر اس نے سیاہ رنگ
کے مارکر سے کالک بھر دی تھی۔
وہ سیاہی ،مایوسی کے رنگ میں ڈھل کر شہر زاد کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی،رومیصہ کی شخصیت کا یہ منفی رخ تو آج اس کے سامنے آیا تھا اور اسے
پہلی ہی دفعہ اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ وہ مام کو ناپسند ہی نہیں کرتی بلکہ ان سے بے تحاشا نفرت کرتی ہے۔اس سوچ نے شہر زاد کی زندگی کا رہا سہا سکون بھی غارت کر دیا ۔مام کی کچھ چیزیں اسے بھی ناگوار گذرتیں تھیں لیکن وہ شخصی آزادی کی قائل تھی۔اس لیے اس نے ان کی پرسنل لائف میں مداخلت کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی،یہی وجہ تھی کہ اسکے ٹینا بیگم کے ساتھ تعلقات نسبتا بہتر تھے۔
’’ہمیں رومی کو کسی سائیکاٹرسٹ کو دیکھانا چاہیے۔‘‘وہ اسکے بیڈ روم سے نکل کر سیدھی لاؤنج میں ٹینا بیگم کے پاس پہنچی ۔جو چہرے پر کھیرے کا ماسک لگائے
کاوچ پر لیٹی ہوئیں تھیں،اسکی بات پر وہ ہلکی سی بے چین ہوئیں اور اپنا چہرہ واش کر کے واپس آئیں تو شہر زاد وہیں کھڑی تھی۔
’’ایک دفعہ لے کر گئی تھی میں اسے ایک سائیکاٹرسٹ کے پاس ۔۔۔‘‘ وہ بڑی نفاست سے ٹاول سے اپنا چہرہ صاف کررہیں تھیں۔
’’پھر ،کیا کہا انہوں نے۔۔۔۔؟‘‘ شہر زاد حیران ہوئی۔
’’ نیکسٹ سیشن پر بلوایا تھا لیکن اس نے جا نے سے صاف انکا ر کر دیا۔۔‘‘ انہوں نے ٹاول لاپرواہی سے صوفے پر اچھالا۔
’’آپ نے زبردستی لے کر جانا تھا۔۔‘‘شہر زاد اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’یہ بھی کیا تھا۔۔۔‘‘ٹینا بیگم طنزیہ انداز میں مسکرائیں۔
’’تو ۔۔؟‘‘ اس نے بھنویں اچکا کر تعجب کا اظہار کیا۔
’’اس نے اپنی کلائی کی رگ کاٹ کر سو سائیڈ (خود کشی ) کرنے کی ناکام کوشش کر ڈالی۔‘‘وہ استہزائیہ لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’واٹ ۔۔۔۔؟؟؟‘‘ شہر زادکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
وہ سخت حیرت اور بے یقینی سے ٹینا بیگم کا افسردہ چہرہ دیکھنے لگی،پہلی دفعہ اسے احساس ہوا کہ وہ اتنی بھی ینگ نہیں لگتیں،بڑھاپا تیزی سے اپنے قدم ان کی جانب بڑھا رہا تھا۔رومیصہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی ٹینشن تھی۔
’’کیوں ،کر رہی ہے وہ ایسا ۔۔۔؟‘‘ شہر زاد نے ان کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کچھ کھوجنے کی کوشش کی۔
’’مجھے لگتا ہے کہ کوئی اسے میرے خلاف بھڑکاتا ہے۔‘‘ وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائیں۔
’’لیکن کون۔۔۔؟‘‘ وہ تشویش میں مبتلا ہوئی۔
’’ایک خوبصورت ،کونفیڈنٹ اور کامیاب ورکنگ وومن کے ایک سو ایک دشمن ہو سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ملازمہ کے ہاتھ سے فریش اورنج جوس پکڑتے ہوئے شہرزاد کی معلومات میں اضافہ کیا۔
’’لیکن اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہونا چاہیے مام،وہ خود کو بُری طرح spoil (تباہ) کر رہی ہے۔‘‘ وہ اچھی خاصی پریشان تھی۔
’’ہاں ،میں سوچ رہی ہوں اسکا کوئی روحانی علاج کرواؤں ،اور تم کل میرے ساتھ چلو گی ۔‘‘ انکی بات پر شہر زاد نے سوالیہ نگاہ سے انکی جانب دیکھا۔
’’پیر مراد علی شاہ کے مزار پر ۔۔۔‘‘ انکی اگلی بات نے شہر زاد کا دماغ بھک سے اڑا دیا،وہ سخت حیرت اور بے یقینی سے مام کی طرف دیکھنے لگی،تنگ جینز کے ساتھ سلیو لیس شرٹ پہنے اپنی بیٹی کے علاج کے لیے کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس جانے کی بجائے مزار پر جانے کی بات کرکے وہ اپنی لندن پلٹ بیٹی کو اپنی بھی ذہنی حالت کے بارے میں مشکوک کر چکیں تھیں۔
******************
صبح آٹھ بجے کا وقت تھا ، طوبی اور درشہوار گھوڑے بیچ کر سوئیں ہوئیں تھیں،ویسے بھی ان دونوں کا ایف ایس سی کا رزلٹ کچھ ہی دنوں میں متوقع تھا اور اسی
وجہ سے تاجدار بیگم بھی آجکل ان پر روک ٹوک نہیں کر رہیں تھیں۔ورنہ تائی امی کو لڑکیو ں کا دیر تک سوئے رہنا سخت ناپسند تھا۔
انابیہ نے سستی سے کمرے کے پردے ہٹائے ،سامنے مری کے پہاڑوں پر ایک چمکتی ہوئی صبح طلوع ہو چکی تھی۔ساری رات بارش برسنے کے بعد موسم اب
تھوڑا کھل چکا تھا۔
انابیہ اور طوبی کے بیڈروم کی کھڑکیاں سامنے والے لان کی طرف کھلتیں تھیں۔اس وقت وہ سب کی نظروں سے چھپ کر برہان کو یونیورسٹی جاتے ہوئے دیکھا کرتی تھی،بی اے کے رزلٹ کے بعد اسکا ارادہ بھی اسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کا تھا۔جہاں برہان اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔
برہا ن نے داجی اور محتشم علی کی سخت مخالفت کے باوجود یہ ملازمت جاری رکھی تھی۔وہ مزاجا اس گھر کے مردوں سے تھوڑا مختلف تھے۔اسی وجہ سے انابیہ بہت سال پہلے ہی خود کو ان کی محبت میں گرفتار ہونے سے نہیں روک پائی،جبکہ اس معاملے میں برہان نے کبھی بھی اسکی پذیرائی نہیں کی۔
اس نے کھڑکی سے دیکھا،وہ اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھائے پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔بلیک جینز پر انہوں نے ایک اسٹائلش اور اسمارٹ سی جیکٹ پہن رکھی تھی اور آنکھوں پر ان کا مخصوص سلور کلر کا چشمہ تھا۔
انہیں پورچ میں بڑھتے دیکھ ایک دم اسکے ذہن میں خیال آیا اور وہ دبے قدموں سیڑھیاں اتر کر ہال کمرے میں پہنچ گئی ۔ چھوٹے سے کوریڈور کے اینڈ میں
انکا بیڈ روم تھا۔وہ دائیں بائیں دیکھتے ہوئے دھڑکتے دل سے ان کے کمرے میں داخل ہوئی،گرے اور سفید رنگ کے کمبنیشن کے ساتھ کمرے کی سیٹنگ میں نفاست کا عنصر غالب تھا۔،جیسمین سپرے کی خوشبو پورے کمرے میں رقص کر رہی تھی۔
اسے اپنے تایا زاد کزن برہان شروع ہی سے اچھے لگتے تھے لیکن نکاح کے بعد تو اسکے دل میں چھپا محبت کا ننھا پودا ایک تنا آور درخت کی صورت اختیار کر چکا تھا جسے برہان نے کبھی اپنی توجہ یا چاہت کا پانی دینے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وہ بے اختیار چلتی ہوئی ان کی اسٹڈی ٹیبل کے پاس آکر رک گئی۔جہاں ان کے سبجیکٹ کی کتابیں ایک ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئیں تھیں ۔دائیں طرف
ایک خوبصورت قلم ہولڈر تھا اس نے پین نکال کر سامنے رکھی نوٹ بک کھولی اور مسکرا کر اپنا اور ان کا نام لکھنے لگی۔
اچانک اس کی نظر سائیڈ میز پر رکھی ان کی کونووکیشن کی تصویر پر پڑی،کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بے ساختہ مسکراہٹ نے ان کی اس تصویر کی دلکشی کو مذید بڑھا
دیا تھا،وہ شیشے کے نفیس سے فریم میں مقید تھی۔ انابیہ نے بڑی محبت سے اپنے دوپٹے کے آنچل سے اس فریم کا شیشہ صاف کیا۔اسے علم نہیں تھا کہ برہان
کسی کام سے اپنے کمرے میں واپس لوٹ آئے تھے اور اب ناگواری سے انابیہ کو دیکھ رہے تھے۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔؟‘‘ان کا ناراض لہجہ انابیہ کی سماعتوں سے ٹکرایا،اور وہ جو اس اچانک چھاپے کے لیے تیار نہیں تھی ، اس آواز پر اچھلی اور اسکے ہاتھ سے فریم پھسلا اور فرش پر کرچیوں کی صورت میں بکھرتا چلا گیا۔
برہان نے ناگواری سے پہلے زمین پر پھیلی کرچیوں کو اور پھر اپنی چچا زاد کزن کو دیکھا جس کا چہرہ فق ہو گیا تھا اوروہ خوفزدہ انداز میں اپنے لبوں پر ہاتھ رکھے
سر جھکائے کھڑی تھی،برہان کی غیر متوقع آمد نے اسکے اوسان خطا کر دئیے تھے۔
’’تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟‘‘ وہ بیزاری سے گویا ہوئے۔
’’وہ میں،انگلش کی ڈکشنری لینے آئی تھی ۔۔۔‘‘ انابیہ نے بوکھلا کر بہانہ بنایا۔
’’نہیں ہے میرے پاس،جاؤ یہا ں سے،اور اس بے وقوف صندل کو بھیجو،یہ کچرا سمیٹے یہاں سے۔۔‘‘انہوں نے سائیڈ میز پر رکھا اپنا فولڈر اٹھایا،جسے
لینے کے لیے ہی وہ آئے تھے۔
انابیہ گھبرا کر ان کے کمرے سے نکلی اور باہر قدم رکھتے ہی اسکا دل دھک کر کے رہ گیا۔سامنے داجی سفید کلف لگے شلوار قمیض میں کشمیری چادر کندھے پر
رکھے اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑے،سخت ناگواری سے اسے برہان کے روم سے نکلتا دیکھ چکے تھے۔آج انابیہ کی قسمت کا ستارہ گردش میں تھا۔
وہی قسمت جس پر اسے کچھ دیر پہلے رشک آرہا تھا۔
’’تم برہان کے کمرے میں کیا کر رہیں تھیں۔؟‘‘ ان کے کرخت لہجے نے انابیہ کی ٹانگوں کی جان نکال دی ۔
داجی کے غصّے سے تو پورا جہان کانپتا تھا اورگھر کی خواتین میں سے سوائے تاجدار بیگم کے کوئی بھی ان سے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتاتھااور ویسے بھی وہ خاندان کی خواتین کو زیادہ لفٹ کروانے کے قائل نہیں تھے۔ان کا زیادہ وقت اسلام آباد اور ملتان میں گذرتا تھا۔
’’میں تم سے پوچھ رہا ہوں،کیا کر رہیں تھیں تم۔۔؟‘‘ بڑھاپے میں بھی ان کی آواز کی گرج اچھے خاصوں کا دل دہلا دیتی تھی،انابیہ دکھ اور صدمے سے رو
دینے کو تھی۔
برہان کے بھی مقدر کی خرابی،وہ بھی اسی لمحے ا پنا فولڈر اٹھائے عجلت بھرے انداز میں کمرے سے نکلے اور سامنے داجی کی شکی نگاہوں سے نکلتے شعلوں نے
انہیں سسپٹا کر رکھ دیا۔
’’میربرہان محتشم ،مانا کہ نکاح ہوچکا ہے تمہارا،لیکن شریف گھرانوں کی بھی کچھ روایات اور طور طریقے بھی ہوتے ہیں۔‘‘ان کا سفاک لہجہ،برہان کو اپنی
ہی نظروں میں گرا گیاضبط کی کوشش میں ان کا چہرہ لال ہوا لیکن انہوں نے اپنے لب سی لیے۔
وہ جانتے تھے داجی اپنے سامنے کسی اور کو صفائی کا موقع ذرا کم ہی دیتے تھے اور برہان سے تو باہر جا کر پڑھنے اور سیاست میں نہ آنے کی وجہ سے پہلے ہی خفا رہتے تھے،ان کے اس سرد روئیے کی بناء پربرہان بھی ان سے دُور دُور ہی رہتا تھا۔
’’جو کچھ فرنگیوں کے ملک سے سیکھ کر آئے ہو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں،سمجھے،جاؤ دونوںیہاں سے۔‘‘ الفاظ کا یہ چابک ان کے اعصاب پر کسی بلڈوزر کی طرح گرا ، داجی کا یہ انداز سراسر تضحیک آمیز تھا۔ذلت کے گہرے احساس کے ساتھ برہان تقریباً اڑتا ہوا کمرے سے نکلا تھا،اسکا دھواں دھواں
چہرہ انابیہ کودائمی خلش میں مبتلا کر گیا۔
وہ کرب سے لب بھینچ کر رہ گئی۔اس کی شہد رنگ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے۔وہ نم آلود آنکھوں سے بمشکل ٹانگیں گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے میں
پہنچی تو طوبیٰ کو وہاں نہ پا کر اس نے سکون کا سانس لیا۔واش روم میں جا کر وہ اب کھل کر روسکتی تھی۔
*****************
’’ماما کیا ہو گیا ہے آپ کو۔؟اتنا ٹچی تو آپ اس وقت نہیں ہوئیں جب میں یوکے گیا تھا۔‘‘ہادی نے بوکھلا کر کمبل ہٹایا اور ذرا محتاط انداز میں ماں کو دلاسا دینے
کی کوشش کی،جو اس وقت اسلام آباد میں موجود اپنے گھر میں رو رو کر ایک چھوٹا سا ڈیم بنا چکیں تھیں۔صبح صبح آنے والی ان کی کال نے ہادی کی نیندبھک کر کے اڑا دی تھی۔
’’ہاں تو اس وقت تو درمیان میں سات سمندر حائل تھے،اب تو ایک گھنٹے سے بھی کم کا سفر ہے،لیکن تمہیں اتنی توفیق نہیں ہوتی ،آکر بوڑھی ماں سے مل جاؤ‘‘
وہ رونا بھول کر اسکی کلاس لینے لگیں تو ہادی کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’بوڑھے ہوں آپکے دشمن،آپ تو اچھی خاصی انرجیٹک اور ینگ وومن ہیں۔‘‘اس نے ماں کو بہلانے کی کوشش کی۔
’’بس بس رہنے دو۔زیادہ مسکا بازی کرنے کی ضرورت نہیں،اپنے باپ کی طرح ۔‘‘ان کی جھاڑ سن کر ہادی کی طبعیت ایک دم فریش ہو گئی۔
’’باپ بیچارے کا تو خوامخواہ سے نام بدنام کر رکھا ہے لوگوں نے۔۔‘‘ عبداللہ صاحب کی بھی کمرے میں انٹری ہو چکی تھی،ان کی آواز ریسور میں سے ہادی کی سماعتوں تک پہنچی تو وہ مسکرا دیا،کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب کون سی جنگ عظیم شروع ہونے والی ہے۔
’’دنیا میں دو ہی تو معصوم اور بھولے بھالے ہیں،ایک آپ اور ایک آپکا بیٹا۔۔‘‘ عالیہ بیگم طنزیہ لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’بھئی اب تم کہیں اور کا غصّہ مجھ پر تو نہ نکالنے کی کوشش کرو۔‘‘عبد اللہ صاحب گھبرا گئے۔
’’سارا کیا دھرا آپکا ہے،اللہ نے تیرہ سال بعد اولاد دی،اسے بھی اٹھا کر پہلے باہر بجھوا دیا پڑھنے کو،اور اب نوکری پر ٹنگا دیا اتنی دور۔آگ لگے اس کڑوڑوں کی جائیداد کو،جس کے ہوتے ہوئے ماں بیٹے کے درمیان اتنی دوری ڈال دی۔‘‘ عالیہ بیگم ایک دم پھٹ پڑیں۔
’’توبہ توبہ،آج تو سرحدوں پر سخت کشیدگی ہے،بیٹا جی پہلی فرصت میں سیز فائر کروانے پہنچیں یہاں۔‘‘عبداللہ صاحب نے بیوی کے ہاتھ سے سیل فون پکڑا اور اسپیکر آن کر کے ہادی کو مخاطب کیا۔
’’جی جی پاپا۔۔۔۔اس ویک اینڈ پر آتا ہوں۔۔‘‘وہ خود بھی ماں کے جذباتی انداز پر بوکھلا گیا،اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ وہ اس طوطے کی طرح تھا ،جس میں
اس کی ماں کی جان قید تھی۔
’’یقین مانو بیٹا صبح و شام ،نیناں بہائے جاتے ہیں،مکیش اور رفیع کے گانے سنے جاتے ہیں،ایسا کوئی دکھی قسم کا ماحول بنا ہوا ہے گھر کا ،کہ سارے ملازم ،چرند پرند ہر کوئی صبح و شام روتا دیکھائی دیتا ہے۔۔۔‘‘ عبداللہ صاحب کا شرارتی لہجہ عالیہ بیگم کو مذید تپا گیا۔
’’سن رہے ہو اپنے باپ کی باتیں ، ایک ماں کی محبت کا ایسا مذاق اڑاتے ہیں۔۔‘‘ عالیہ بیگم بیزاری سے گویا ہوئیں۔
’’کیا ہو گیا ہے ماما،اتنا تو پیار کرتے ہیں پاپا آپ سے، اسی وجہ سے تو ایک منٹ بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل ہونے نہیں دیتے،ورنہ کتنا کہا تھا کہ آپ میرے
ساتھ آکر رہیں یہاں مری میں۔۔‘‘اسے ہمیشہ کی طرح ثالثی کا کردار نبھانا پڑا۔
’’بس بیٹا، تم دنیا کے واحد شخص ہو جو میرے جذبات سمجھ سکتے ہو،کچھ اپنی ماں کو بھی سمجھا دیا کرو۔‘‘عبداللہ صاحب ابھی بھی غیر سنجیدہ تھے۔
’’بابا،آپ بھی ذرا کم تنگ کیا کریں ماما کو۔‘‘ ہادی نے مسکرا کر سعد کو اندر آنے کا اشارہ کیا،جو کافی کے دو بڑے مگ اٹھائے دروازے میں کھڑا تھا۔
وہ کل ہی اسکے گھر میں شفٹ ہوا تھا اور آج تھکن کی وجہ سے دونوں نے ہی آفس سے چھٹی کر لی تھی۔سعد نے ٹرے ایک طرف رکھ کر بیڈ روم کی کھڑکی کا پردہ
ہٹا یا تو سامنے میر ہاؤس کے پچھلے لان کا منظر بالکل صاف تھا۔ ہادی کا بیڈ روم فرسٹ فلو ر پر تھا اور کمرے کے دو اطراف میں کھڑکیاں تھیں جن میں سے
دو پچھلے لان کی سائیڈ پر اور دو میر ہاؤس کی گیلری کی جانب کھلتی تھیں۔
میر ہاؤس کے پچھلے لان میں اس وقت درشہوار اور طوبیٰ نے خوب طوفان برپا کر رکھا تھا۔درخت کے مضبوط تنے سے باندھے گئے جھولے پر بیٹھی درشہوار کی بلند آواز میں کی جانے والی شاعری سعد کو بغیر کسی دقّت کے سنائی دے رہی تھی۔
فصل گل آئی، کھلے باغ میں خوشبو کے علم ۔۔۔
دل کے ساحل پر ترے نام کا تارہ چمکا۔۔۔۔
’’دومنٹ کے اندر نیچے اتر جاؤ جھولے سے ،ورنہ دن میں تارے دیکھا دوں گی تمہیں۔‘‘ طوبیٰ نے منہ پر ہاتھ پھیر کر درشہوار کو دھمکی دی تو سعد کو ہنسی آگئی
اسے ہنستا دیکھ کر ہادی بھی اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا،وہ بابا سے بات کر کے فون بند کر چکا تھا۔
’’یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں ہلکی سی ناگواری جھلکی۔
’’بڑی مزے کی اور زندہ دل لڑکیاں ہیں یار۔۔۔‘‘ سعد سامنے کا منظر دیکھ کر کھل کر مسکرایا،کیونکہ طوبیٰ نے ہاتھ میں پکڑا کشمیری سیب کھینچ کر در شہوار کی کمر
پر دے مارا تھا اور وہ تڑپ کر جھولے سے اتری اور جوابی حملہ کرنے کے لیے دائیں بائیں سے کوئی ہتھیار ڈھونڈنے لگی۔
’’ بُری بات ہے یار، اپنے لان میں وہ جو مرضی کریں۔۔‘‘محمد ہادی کو سعد کی تانک جھانک ایک آنکھ نہیں بھائی،ویسے بھی وہ میچورڈ،سلجھا ہوا اور اپنے کام
سے کام رکھنے والا بندہ تھا۔
’’بے فکر رہو،فوجیں اپنی حدود سے نکل کر ہماری حدود میں داخل ہو چکی ہیں۔‘‘ سعد کے شوخ لہجے پر اس نے بیزاری سے نیچے جھانکا۔
درشہوار بڑی مہارت سے درمیانی باڑ پھلانگ کر اسکے لان میں لگے خوبانی کے درخت پر چھلاوے کی طرح چڑھی اور اب وہاں سے پکی ہوئی خوبانیاں توڑ
توڑ کر طوبیٰ پرحملے کرنے لگی۔
’’بہت ہی ڈفر اور بدتمیز لڑکی ہے ،اسکا تو میں دماغ درست کرتا ہوں۔‘‘ ہادی کا دماغ گھوما ۔وہ میزائل کی طرح اڑتا ہوا اپنے پچھلے لان میں پہنچا ،تب تک درشہوار اس کے آدھے درخت کی تباہی پھیر چکی تھی۔
محمد ہادی کو سامنے دیکھ کر طوبیٰ جو خوبانیاں اپنی جھولی میں ڈال رہی تھی، ہرنی کی طرح فراٹے بھرتی اندر کی جانب دوڑگئی،جبکہ درشہوار درخت پر ٹنگی کھسیانی
مسکراہٹ کے ساتھ اپنا کان کھجانے لگی،یہ اسکا مخصوص اسٹائل تھا جو وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بناتی تھی۔
’’محترمہ ،ذرا نیچے اتریں شرافت سے ۔۔۔‘‘ محمد ہادی کے دھمکی آمیز لہجے پر وہ ڈرتے ڈرتے چھلانگ مار کر نیچے اتری اور اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور
دھڑم کر کے لان میں سجدہ ریز ہو گئی۔
’’ارے رے ،چوٹ تو نہیں لگی آپکو۔۔۔۔‘‘سعد جوہادی کو منع کرنے کے لیے اسکے پیچھے وہاں پہنچا تھا،سامنے کا منظر دیکھ کر بوکھلا گیا۔
درشہوار خجالت بھرے انداز سے بمشکل اٹھی اور اپنے کپڑے جھاڑنے لگی ،جس پر مٹی اور گھاس کے تنکے چپک گئے تھے جبکہ اسکی کمر علیحدہ دہائی دے رہی تھی،جس پر زمین پر پڑے کسی پتھر کی نوک ٹھیک ٹھاک چبھی تھی۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہو رہی تھی یہاں۔۔۔؟‘‘ ہادی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک آدھ تھپڑ جڑ دیتا۔
’’کچھ نہیں،خوبانیاں توڑ رہے تھے۔‘‘ اسکی بے نیازی ہادی کا دل جلا گئی جبکہ سعد کے ہونٹوں پر بڑی بے ساختہ مسکراہٹ دوڑی۔
’’کیوں،یہ میرحاکم علی کے باپ کی جاگیر ہے۔۔؟جہاں جب چاہے منہ اٹھا کر چلی آتیں ہیں آپ۔‘‘ ہادی کا تلخ لہجہ سن کر درشہوار اور سعد کا دماغ بھک کر کے اڑاجبکہ وہ مذید کہہ رہا تھا۔’’آئندہ ایسا کیا تو میں ڈاریکٹ انہی کے پاس جاؤں گاکہ اپنی زبان میں سمجھا لیں اپنے گھر کی خواتین کو۔محمد ہادی کا دھمکی آمیز
انداز درشہوار کے تن بدن میں آگ لگا گیا،وہ کہاں عادی تھی اس قسم کے لہجے کی ۔تذلیل کا گہرا احساس خنجر کی طرح اسکے وجود کوکاٹنے لگا۔
’’اچھا تو یہ کس کی جاگیر ہے،ذرا روشنی ڈالنا پسند کریں گے آپ ۔‘‘آگے بھی درشہوار تھی،آسانی سے ہار نہ ماننے والی۔
’’جس کی بھی ہو،آپکو اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے اور برائے مہربانی اپنی آمدو رفت اپنی سائیڈ پر ہی محدود رکھیں۔‘‘ خوبانیوں کا حشر نشر دیکھ کر ہادی کا
خون کھول اٹھا تھا۔
’’ایسا کریں ،اپنی حدود کے اندر برقی رو دوڑا دیں،کیونکہ اسکے علاوہ تو کوئی اور چیز درشہوار کو یہاں آنے سے روک سکتی نہیں۔‘‘ دو قدم آگے بڑھ کر ہادی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ پاس کھڑے سعد کے تو چھکے چھڑا گئی ،البتہ محمد ہادی ایک دم تلملا اٹھااس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا،درشہوار نے انگلی اٹھا کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
’’اور جہاں تک بات میر حاکم علی کو بتانے کی ہے تو یہ شوق بھی پورا کر لیں،لیکن اس سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجئے گا کہ مری کے کس قبرستان میں ایک قبر کی جگہ
خالی ہے۔۔۔‘‘ درشہوار کی بھوری آنکھوں میں غصّہ اور تراشیدہ ہونٹوں کے خم پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔
’’دھمکی دے رہیں آپ مجھے اس شخص کے نام کی ،جسکی اوقات پورا پاکستان جانتا ہے۔‘‘اس نے ایک دم مشتعل انداز میں بے اختیا ر ہی درشہوا ر کا بازو پکڑا
جو وہاں سے جانے کے لیے پر تول رہی تھی۔اسکی مضبوط انگلیاں ،درشہوار کے نرم بازو پر کسی گرم سلاخ کی مانند گھستی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں۔اس کی آنکھوں میں اس قدر سفاکی تھی کہ ایک لمحے کو درشہوار بھی گڑ بڑا گئی۔
’’کیا ہوگیا ہادی،چھوڑ و ان کا بازو۔۔۔‘‘ سعد نے بوکھلا کر مشتعل ہوتے ہادی کو اپنی طرف کھینچا ۔جسکی آنکھوں سے اس وقت آگ کے گولے نکل رہے تھے
جیسے سامنے والے کو زندہ جلا کر بھسم کرنے کا ارادہ ہو۔
درشہوار نے جھٹکے سے اپنابازو اس سے چھڑایا ،اور متنفر انداز میں اسکی طرف دیکھتے ہوئے بڑے سکون سے اپنے لان کی طرف چل دی،اسکے اندر ایک حشر
برپا تھا لیکن وہ اپنے اندر ہونے والی اچھاڑ پچھاڑ کو باہر کی دنیا کے لوگوں پر ذرا کم ہی ظاہر کرتی تھی،یہ اسے اپنی ذات کی سب سے بڑی توہین محسوس ہو تی تھی،لیکن اس وقت تو داجی کے بارے میں کہے ہوئے جملے نے اسے سلگا کر رکھ دیا تھا۔
’’مسٹر ہادی ۔۔۔آپکو اندازہ نہیں ہے ،کس طوفان کو خود سے دعوت د ے چکے ہیں آپ۔‘‘واش روم میں پورا آدھا گھنٹہ اپنی کلائی ٹھنڈے پانی کے نل کے
نیچے رکھنے کے بھی وہ اپنے اندر بدلے کی آگ کو کم نہیں کر سکی ۔
’’کیا کہہ رہا تھا وہ سڑیل ، کہیں خوبانیوں کے پیسے تو نہیں مانگ لیے۔۔۔‘‘وہ جیسے ہی واش روم سے باہر نکلی،طوبیٰ بڑے مزے سے اسکے بیڈ پر بیٹھی،وہی
خوبانیاں مزے سے کھا رہی تھی۔پاس ہی درشہوار کا لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا۔
’’کچھ نہیں ۔۔۔‘‘ درشہوار نے بیزاری سے ہاتھ میں پکڑا ٹاول اسٹینڈ پر پھینکا اور کمرے میں آتی ہوئی دھوپ کو کم کرنے کے لیے جیسے ہی پردے کی طرف ہاتھ بڑھایا،اسے جھٹکا لگا۔
درشہوار کے کمرے کی بائیں دیوار کے عین سامنے محمد ہادی کے کمرے کی دائیں سائیڈ والی دو کھڑکیاں تھیں اور درمیانی فاصلہ صرف چند فٹ کاتھا۔۔۔ان
دونوں کمروں کے درمیاں میں چھوٹی سی گیلری اور چند فٹ کی مشترکہ دیوار تھی جو خاصی نیچے تھی۔
ہادی کے کمرے کی شیشے کی دونوں کھڑکیاں اس وقت بند تھیں لیکن پردے ہٹے ہونے کی اور لائیٹ جلنے کی وجہ سے اندر کا منظر بالکل صاف دیکھائی دے
رہا تھا۔ اس وقت وہ اپنے سامنے کھڑے ملازم کے اوپر برس رہا تھا،ان دونوں کے چہروں کے تاثرات سے درشہوار کو اندازہ ہوا کہ دونوں کے درمیان گفتگو کوئی خوشگوار نہیں تھی،گرج برس کر وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
درشہوار کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ دوڑی، وہ تیزی سے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر نکلی اور عجلت بھرے انداز میں سیڑھیاں اتر کر ڈرائینگ روم کی میز پر رکھا سنگ مر مر کا بھاری ایش ٹرے اٹھا کر لے آئی۔
’’کیا ہو گیا ہے تمہیں،کیوں شرلاک ہومز کی طرح پورے گھر میں گھوم رہی ہو۔؟یہ ایش ٹرے کیا کرنا ہے کہیں خودنخواستہ اسموکنگ تو نہیں شروع کر دی۔‘‘
لیپ ٹاپ پر اپنافیس بک اکاونٹ کھولے طوبیٰ نے نظریں اٹھا کر حیرت سے درشہوار کا خفا چہرہ دیکھا۔
’’طبعیت سیٹ ہے تمہاری ۔۔؟‘‘ اسکی معنی خیز خاموشی طوبیٰ کے لیے الجھن کا باعث بنی،وہ جانتی تھی درشہوار کے لیے خاموش بیٹھنا دنیا کا مشکل ترین کام
تھا ،جو وہ مشکل ہی سے سر انجام دیتی تھی۔
’’میری طبعیت تو ٹھیک ہے،لیکن کسی اور کی سیٹ کرنے لگی ہوں۔‘‘ در شہوار نے غصّے سے اپنی کھڑکی کا پردہ ہٹاکر اسے کھولا اور پوری قوت سے اپنے ہاتھ میں پکڑا ایش ٹرے گھما کر ہادی کی کھڑکی پر دے مارا۔فضا میں شیشہ ٹوٹنے کی بلند آواز گونجی،اور طوبیٰ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’پاگل ہو گئی ہو گیا۔۔؟‘‘وہ اچھل کر بیڈ سے اتری اور متاسفانہ انداز میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔
سامنے محمد ہادی کا کمرہ اس وقت خالی تھا لیکن شیشہ ٹوٹنے کی آواز یقیناًنیچے موجود مکینوں تک بھی گئی ہوگی۔طوبیٰ نے بوکھلا کر پردے برابر کیے اور درشہوار کا بازو پکڑ کر زبردستی اسے بیڈ پر بیٹھایا۔جسکا چہرہ سرخ اور آنکھوں میں خفگی کا ایک جہان آباد تھا۔
’’یہ کیا بے ہودا حرکت کی ہے تم نے ۔۔۔؟‘‘ طوبی نے غصّے سے اسکا کندھا ہلایا۔
’’ابھی تو آغاز ہے،بڑا دردناک انجام ہوگا۔۔۔‘‘ درشہوار کے ماتھے کی پھڑکتی رگ اسکے اندرونی خلفشار کی بھرپور عکاسی کر رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں رینگتی
انتقامی مسکراہٹ دیکھ کر طوبیٰ الجھ گئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس پر مذید غور و فکر کرتی،کمرے میں اچانک ایک دھماکہ ہوا اور دونوں کا دل بھی دھک کر کے رہ گیا۔درشہوار کی کھڑکی کا شیشہ بھی شہید ہو چکا تھا۔اسٹیل کا ایک بھاری سا گلدان اڑتا ہوا کارپٹ پر آ گرا۔
دونوں خوفزدہ انداز میں اچھل کر پیچھے ہٹیں،اور حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات سے گولڈن کلر کے اس قدیم گلدان کو دیکھنے لگیں، جو حجم میں چھوٹا لیکن وزن میں کسی طور بھی تین چار کلو سے کم نہیں تھا۔
’’یہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟‘‘ طوبیٰ خوفزدہ لہجے میں بولی ۔
’’جوابی حملہ ۔۔۔۔‘‘ درشہوار بڑے مزے سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔جیسے اسے کوئی فرق نہ پڑا ہو۔
’’اس کا کیا مطلب ہے ۔۔۔؟‘‘ طوبیٰ جھنجھلا گئی۔
’’اسکا مطلب ہے حریف ،خاندانی اور ٹکر کا ہے،اور مقابلہ تو ایسے ہی لوگوں کے ساتھ جچتاہے۔‘‘ درشہوار کے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ نے احاطہ کیااور
طوبی یوں تعجب سے اسے دیکھنے لگی جیسے اس کی خرابی دماغ کا یقین آگیا ہو۔
****************
آستانہ مراد علی شریف پر آج آنے والوں کا تانتا باندھا ہوا تھا۔مزار کے احاطے میں لگے کیکر کے درخت پر منت کے رنگ برنگے کپڑوں کی ٹلیاں لٹک رہی تھیں اورایک دو ٹہنیوں پر تو بے اولاد عورتوں نے چھوٹے چھوٹے پنگوڑے لٹکا رکھے تھے۔مری کے اس گاوں میں واقع اس مزار پر موجود خواتین میں تعلیم اور شعور کی کمی اور عقیدت کی فروانی تھی۔
اسی مزار کے صحن میں بنے چبوترے پر شیشم کے درخت کا گھنا سایہ تھا اور میلی سی دری پر بیٹھا سائیں باباکا سر وقفے وقفے سے جھولتا رہتا۔گلے میں رنگ برنگے
موتیوں کی ڈھیروں مالائیں اور سبز رنگ کا چوغہ جو جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا ۔
’’مام کو پتا نہیں کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی۔‘‘شہر زاد نے کوفت بھرے انداز میں ٹینا بیگم کی طرف دیکھ کر سوچا، جو مزار کے احاطے میں رکھے لکڑی کے
باکس میں اچھی خاصی رقم ڈالنے میں مصروف تھیں۔
خواتین کا ایک گروپ سائیں بابا کے ارد گرد گھیرا ڈالے بیٹھا اپنے لیے دعا کرنے کی التجائیں کرنے میں مصروف تھا۔شہر زاد کو یہاں آکر عجیب سا احساس ہوا،وہ ٹینا بیگم کے ایک دفعہ کہنے پر ہی ان کے ساتھ چلی آئی تھی،لیکن اس قسم کی صورتحال کا اندازہ نہیں تھا اسے۔
’’حق مولا۔۔۔‘‘ سائیں بابا کو ایک دم جوش آیا اور وہ بلند آواز میں نعرہ لگا کر مزار کے احاطے میں گول گول چکر کاٹنے لگا۔جب کہ مزار میں موجود مریدنیاں عقیدت بھری نگاہ سے انہیں دیکھنے لگیں۔
’’بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں سائیں بابا۔۔۔‘‘ ایک خاتون کا جملہ شہر زاد کی سماعتوں میں پہنچا اور اس نے ناگواری سے کھڑے کھڑے پہلو بدلا۔
’’مام پلیز چلیں ۔۔۔‘‘ شہر زاد کی برداشت کی حد ختم ہو گئی ۔
’’مسز بخاری بتا رہیں تھیں ،بڑی متبرک جگہ ہے ،یہاں سے کوئی نا مراد نہیں جاتا۔‘‘ٹینا بیگم پسینے سے شرابور مڑ کر بولیں۔اچھے خاصے سرد موسم میں بھی کچھ
دیر دھوپ میں کھڑے رہنے کی وجہ سے دونوں کو پسینہ آگیا تھا۔
’’مرادیں پوری کرنے والی ذات اوپر ہے،آپ لوگ خوامخواہ اسے زمین پر ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘وہ اپنے خیالات کا اظہار ذرا بلند آواز میں
کر گئی ،اتنے سال ملک سے باہررہنے کے باوجود اسکے عقائد خاصے پختہ تھے۔
سائیں بابا جو وجد کے عالم میں گول گول چکر کاٹ رہے تھے،ان کو کرنٹ سا لگا اور ان کے متحرک قدموں کی گردش ایک لمحے میں رکی،اور وہ بڑی سرعت
سے شہر زاد کے عین سامنے جا کر کھڑے ہوگئے۔وہ خوفزدہ ہو کر دو قدم پیچھے ہٹی۔
’’یہ سارا ڈھونگ اوپر والے کا ہی ہے پتر، ہم تو اسکے ہاتھ کی بنائی وہ کٹھ پتلیاں ہیں جنہیں وہ آسمانوں پربیٹھ کر انگلی کے اشارے سے چلاتا ہے۔خود کو اس
کے اشاروں پر چلنا سیکھا،ورنہ دنیا تیری ڈگڈگی بجا دے گی۔‘‘ وہ اسکے پاس آکر پراسرار انداز میں گویا ہوا،بدبو کا ایک بھبھوکا شہرزاد کی ناک سے ٹکرایا
اور وہ بے اختیار پیچھے ہٹی ۔
’’منہ کی بدبو سے نہیں اند ر کی غلاظت سے ڈر، جو قبر میں بچھوؤں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔‘‘ سائیں بابا نے پوری قوت سے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا زمین
پر مارا اور اللہ ہو کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک دفعہ پھر عالم وجد میں رقص کرنے لگا۔
شہر زاد کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا،وہ اڑتی ہوگی اپنی گاڑی تک پہنچی اورجھٹ سے دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔اسکے دل کی دھڑکنیں ابھی بھی
بے ربط تھیں۔
’’اوہ مائی گاڈ،بہت رش تھا آج۔‘‘ٹینا بیگم بھی اسکے پیچھے ہی گاڑی تک پہنچ گئیں ،انہوں نے بڑی مشکل سے لی ہوئی چادر لاپرواہی سے اتار کرسیٹ پر پھینکی اور منرل واٹر کی بوتل کھول کر پانی پینے لگیں۔
’’کون سی دعا کرنے آئیں تھیں آپ۔۔‘‘شہر زاد نے ہلکی سی ناگواری سے اپنا بیگ کھول کر سن گلاسز نکالے ۔
’’رومی کی مینٹل کنڈیشن میں بہتری لانے کی۔۔۔‘‘ انہوں نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا۔
’’واٹ ۔۔۔؟‘‘ شہرزاد کو جھٹکا لگا اور وہ مڑ کر مام کا چہرہ حیرانگی سے دیکھنے لگی۔
’’مجھے یقین ہے،اسکا دل میری طرف پلٹ آئے گا ،ماں ہوں میں اسکی،دل دکھتا ہے میرا اسکی حالت دیکھ کر۔‘‘ ٹینا بیگم کی آواز بھرا گئی۔
’’آپ کو اسے کسی اور اچھے سائیکاٹرسٹ کو دیکھانا چاہیے ۔۔۔‘‘شہر زاد نے محتاط انداز میں مشورہ دیا۔
’’وہ کہیں نہیں جائے گی میرے ساتھ۔‘‘ ان کی صاف گوئی میں دل دکھاتی رنجیدگی شامل تھی۔
’’اوکے،میں کوشش کر کے دیکھتی ہوں۔۔‘‘شہر زاد نے مام کو دلاسا دینے کے لیے نرمی سے ان کا ہاتھ پکڑا،لیکن انہوں نے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وہ دونوں جیسے ہی گھر پہنچیں تو ایک اعصاب شکن مرحلہ ا ن کا منتظر تھا۔گیٹ سے پورچ کی طرف جانے والی روش پر دو بڑے سرخ رنگ کے گملے ٹوٹے
ہوئے پڑے تھے اور مالی منہ بناتے ہوئے سارا کچرا سمیٹ رہا تھا۔
’’یہ کس نے توڑے ہیں۔۔۔؟‘‘ ٹینا بیگم اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے مالی پر برسیں۔
’’ہارون صاحب نے ۔۔۔‘‘ مالی نے ہلکا سا جھجک کر جواب دیا۔
’’اس باسٹرڈ کا دماغ خراب ہے کیا،آج پھر کچھ چڑھا آیا ہوگا احمق انسان۔‘‘ ٹینا بیگم سلگ کر بولیں جبکہ شہر زاد ایک متاسفانہ سانس بھر کر رہ گئی،اسکی مام کے اس شوہر کے ساتھ ایک سرسری سی ملاقات ہوئی تھی لندن میں اور وہ اسے پہلی ہی نظر میں اچھے نہیں لگے تھے۔
’’اللہ نے بھی چن چن کر نمونے لکھ دئیے ہیں میری قسمت میں۔۔۔‘‘ ان کے چہرے کے زاوئیے بگڑ ئے۔بیزار انداز سے پاؤں پٹختی ہوئیں وہ اندر کی
جانب بڑھیں اور شہرزاد کو بھی مجبوراً ان کی پیروی کرنی پڑی۔
ٹینا بیگم نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا، ہارون رضا مشتعل انداز میں ان کی جانب لپکے،وہ شہر زاد کی موجودگی سے بے خبر تھے۔ویسے بھی ٹینا بیگم کی موجودگی میں ان کا سارا دھیان انہی کی طرف رہتا تھا۔
’’بلاؤ اپنی اس گندی اولاد کو ،جس نے پورے شہر میں بے غیرتی اور بے حیائی کی ایک داستان رقم کر دی ہے۔‘‘ہارون رضا نے ہاتھ میں پکڑا پیپسی کا ٹن پیک
بڑے غصّے سے دروازے کی طرف اچھالا جو شہر زاد کے عین قدموں میں آن گرا ۔
’’کس کو رومیصہ کو ۔۔۔؟‘‘ ٹینا بیگم کا دل دھک کر کے رہ گیا۔ابھی تو انہیں مزار پر چڑھاوا چڑھائے ہوئے دو گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے ۔
’’ظاہر ہے ،وہی تو ہے جس نے تمہارا سکون برباد کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔‘‘ وہ بیزاری سے گویا ہوئے۔
’’کیا ،کیا ہے اس نے۔۔۔؟‘‘ ٹینا بیگم کی آوازقدرے مدھم ہوئی ۔
’’ دیکھو ذرا، اپنی ولگر (بے حیا) بیٹی کا کارنامہ۔۔۔‘‘ہارون رضا، شہر زاد کی موجودگی سے بے خبر اپنے ہاتھ میں پکڑی ٹیب پر تیزی سے انگلیاں چلانے
لگے۔شہر زاد کو اپنی بہن کے لیے ہارون کا جملہ اور لہجہ سخت بُرا لگا لیکن وہ مصلحتاً خاموش رہی ۔
’’کچھ پتا بھی تو چلے،کیا دیکھانا چاہ رہے ہیں آپ ۔۔۔؟‘‘ ٹینا بیگم کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا۔
’’وہ دیکھاؤں گا ،جسے دیکھ کر ہوش اڑ جائیں گے تمہارے اور اگلے کئی سال تک تم دنیا والوں سے منہ چھپاتی پھرو گی۔‘‘ہارون رضا کے متنفر لہجے میں کچھ تھا
جو شہر زاد کا دل بھی دہلا گیا۔وہ بھی چند قدم آگے بڑھ آئی ۔ ٹینا بیگم کی نظر ٹیب پر کھلے فیس بک کے پیج پر پڑی اور ان کا دماغ بھک کر کے اڑ گیا،وہ لبوں پر
ہاتھ رکھ کر خوفزدہ انداز میں ایسے پیچھے ہٹیں،جیسے کوئی بہت بڑا عفریت دیکھ لیا ہو۔
*******************
باقی آئیندہ ماہ.