افسانہ : “سودا” از صوفیہ کاشف.

     images

  “آج آپکو دیر تک رکنا پڑے گا میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنا کام ختم کر کے ہی جاییں. ہم کوئی بھی کام ہفتہ کی صبح تک نہیں لٹکا سکتے”
                 میڈم شفق نے سب کو اعلان سناتے ہوے آنکھوں پر چشمہ دوبارہ ٹکایا تھا.ہم سب نے بےبسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا مگر کوی کچھ بول نہیں سکتا تھا کیونکہ آج ہم سب کو انکی مجبوری کا پوری طرح اندازہ تھا. میرے دو بچے گھر جا کر اکیلے ملازم کے سہارے بیٹھے رہیں گے اور شاید کچھ کھاے پیے بغیر جاتے ہی کارٹون دیکھنے یا ٹیب پر گیم کھیلنےلگیں گے. سایرہ کی چھوٹی سی پہلی بیٹی  مدر فیڈ کی منتظر ہو گی   جبکہ وہ خود سکول کا سارا دن اسکی شکل دیکھنے کو ترستی رہتی ہے .نادیہ کو گھر جا کر اپنے ساس سسر کو سمجھانا پڑتا ہے کہ سکول میں کتنا کام تھا .صایمہ کی ایک گھنٹے کی ٹیوشن کے پیسے کٹیں گے.اور تو اور خود میڈم شفق کی اپنی بھی دو بچیاں تھیں اور چھوٹی خاصے عرصے سے مستقل کسی دل کی تکلیف میں مبتلا تھی مگر وہ خود بھی ہمارے ساتھ ایک گھنٹا لیٹ رکنے والی تھیں.کیونکہ ہفتہ کو پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں فاینل رزلٹ دیا جانا تھا اور آج ہر حال میں رپورٹ کارڈ اور رجسٹر ورک مکمل کرنا تھا.
صبح سے رپورٹ کارڈ بنا بنا کر ہم سب ہی تھک گیے تھے.رپورٹ کارڈ اور ساتھ ہی رجسٹرز کا سارا کام ماوں کے ٹینشن زدہ دماغوں کو خاصا دقت طلب لگ رہا تھا.جب دماغ کا ایک حصہ گھر بار اور بچوں کے گرد منڑلا رہا ہو اور دوسرا کاغذوں میں جمع تفریق کر رہا ہو تو کام کی رفتار تو خودبخود ہی گھٹنے لگتی ہے.ایسے میں ندا نے نعرہ لگایا
“چلو جی شکر ہےمیرا کام تو ختم ہوا!”
اکثرنے حسرت بھر ی نگاہوں سے اسکی طرف یکھا.ایک تو وہ کلاس ٹیچر نیہیں تھی جسکی وجہ سے اسکا کام نسبتا  کم تھا دوسرا غیرشادی شدہ تھی تو بےفکرا دماغ خوب تیز چلتا تھا.ویسے بھی غیرشادی شدہ دماغ کا تو کام  ہی بھاگنا ہوتا یے.یہ رک رک کر اور الجھ الجھ کر چلنا تو شادی کے بعد شروع ہوتا ہے.
ہم نے بھی تھوڑی سپیڈ پکڑنے کی کوشش کی.ندا اپنا  سامان سمیٹتے جانے کی تیاری کرنے لگی.ہم سب ون کلاس کے بینچوں پر اپنا اپنا سامان بکھیرے کام مکمل کرنے میں لگے تھے.
“فرح میں آپکی تھوڑی ہیلپ کروا دوں؟ “ندا نے میرے پاس سے گزرتے مجھے آفر کی!
“ارے نیکی اور پوچھ پوچھ”  مجھے تو پہلے ہی اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے خیال نے ستایا ہوا تھا ندا تو مجھے رحمت کا فرشتہ لگی.میں نے  بہت سارا شکرگزار ہوتے ہوے  کچھ کارڈ اسکو پکڑا دییے.
مجھے تو آج پتا چلا کہ ندا اتنی اچھی لڑکی ہے میں خواہ مخواہ اسے نک چڑھی اور مغرور سمجھتی رہی.دیکھو کیسے اپنا کام مکا کر میری مدد کرنے لگ گیی ہے.حالانکہ کہ میں ہوتی تو کام نپٹاتے ہی بھاگنے کی کرتی. میرا دماغ اسکے روییے سے متاثر ہوتا چلا جا رہا تھا.
اس نے تھوڑی ہی دیر میں کام نپٹا کر کارڈ اور رجسٹر میری طرف بڑھا دییے.
“اچھا !آپ  نے فاریہ کو پلیز کسی نہ کسی سبجیکٹ میں پوزیشن دینی ہے.ا”
وہ جاتے جاتے پھر میری طرف پلٹی  تھی.
میں نے اسکی طرف دیکھا! “اچھا ٹھیک ہے”.اور پھر اپنے کام میں الجھ گیی کہ بعد میں  دیکھی جاے گی. تھوڑی دیر بعد پھر آواز آئی.
“فرح میں نے خود ہی اسکی اردو میں پوزیشن لگا دی ہے. ٹھیک ہے؟”
میں نے ایک بار پھر اسکی شکل دیکھی……”اچھا” اب میرے تاثر پر خاصی ٹھنڈی چھینٹیں پڑ چکیں تھیں.
“اوکے..میں دیکھ لیتی ہوں.”
میرے لہجے کا متاثر پنا اب خاصا بیٹھ چکا تھا.
ابھی تو اسکی مدد لی تھی اب انکار تو کرنے کے قابل ہی نہ رہی تھی.نہ دیکھنے کی فرصت تھی کہ کہاں اس نے کیا کیا ہے. اسکی بھتیجی فاریہ ایک بہت ہی لاپرواہ اور مغرورسی بچی تھی شاید اپنی خالا کے ایسے رویوں کی ہی  وجہ سےوہ نہ رویوں میں بہتر تھی نہ پڑھائی میں اور میرے ناپسندیدہ بچوں میں شامل تھیی.کوئی اور وقت ہوتا تو میں کبھی ایسا نہ کرتی کہ ایک حقدار کا حق نکال کر اسکی جھولی میں ڈال دیتی.مگر اب ندا کی تھوڑی سی مدد کے بدلے میں انکار کی گنجایش ہی نہ رہ گئی تھی.سوچا چلو سات آٹھ مضامین میں سے کسی میں سے کر دوں گی. کچھ بچے دو تین مضامین میں پوزیشن لیتے ہیں ان میں کہیں ایڈجسٹ ہو جاتی…..پر اپنی مہارت اور فطانت کی بدولت  اس نے وہ کام بھی اپنے ہاتھوں سے سرانجام دے دیا تھا.
اچھا اوکے!

اب کیا ہو سکتا ہے.اتنی تھکاوٹ اور کام کے بوجھ میں ایک گھنٹی سی تو بجی  اندر  پر اسکی آواز پر سر دھرنے کی نہ ہمت تھی نہ وقت کہ ابھی بھی خاصا کام باقی تھا۔

  “فرح!  عبداللہ کلاس میں  نمبر ون ہے مگر اسکی کسی بھی مضمون میں فرسٹ پوزیشن نہیں ہے.”
بچوں میں اور انکے والدین میں الجھے ہوے بلا کر  میڑم شفق نے عبداللہ کی رپورٹ میرے سامنے رکھی اور سختی سے کھینچے چہرے کے ساتھ میری طرف دیکھا.تو میں ہکا بکا رہ گئی.انکے سامنے عبدللہ کے والد کڑے تیوروں کے ساتھ بیٹھے تھے.
  “میڈم یہ کیسے ہو سکتا ہے.؟”
                عبداللہ بہت پیارا بچہ تھا بہت زہین قابل ایک نہیں بہت سارے مضامین میں پوزیشن لینے والا۔ اُسکی حقیقتا بہت سارے مضامین میں پوزیشن تھی.اور میں نے خاص طور پر اسکو میڈم سے ڈسکس کیا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ آپ ایک مضمون میں اُسکو کر دیں باقیوں میں دوسرے نمبر والے بچوں کو انعام دے دیں.
“یہ دیکھیں” میڈم شفق نے رپورٹ کارڈ میرے ہاتھ میں  تھما دیا.
           رپورٹ دیکھ کر صحیح معانوں میں میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گیے.کلاس کے سب سے اچھے بچے کی جسکی نمبر ون پوزیشن تھی واقعی کسی بھی مضمون میں پوزیشن نہی تھی.
پہلی فرصت میں میرے اوسان خطا ہوئے۔۔۔۔۔۔
           “میڈم ہو سکتا ہے ایسا ہو گیا ہو کہ اسکی کسی مضمون میں پوزیشن ہی نہ ہو!”
    میں نے اپنے دفاع کی بیکار اور بےوقوفانہ سی کوشش کی جس پر میڈم نے چشمے کے اوپر سے مجھے گھورا
“یہ کیسے ہو سکتا ہے”
     یہ تو مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا.یہ ہوا کیسے جبکہ اس بچے کی دو پوزیشنز تو خود مجھے یاد تھیں جن  میں سے میں نے سارے بچوں کو موقع دینے کے لیے ایک کسی دوسرے بچے کو دی تھی اور ایک میں اسکی تھی.
“آپ فورا رزلٹ چیک کریں اور غلطی ٹھیک کریں”.
      “یس میڈم!”
        میں وہاں سے تو سر ہلا کر نکل آی مگر ایک تو عبداللہ کے ساتھ  ہونے والی غلطی کی الجھن، افسوس اور شرمندگی ،ایک ایسے بچے کے ساتھ جسکا باقاعدہ اچھے رویے اور پرفارمنس کی وجہ سے  میرا کیی بار منہ چومنے کو دل کرتا تھا اور جو مجھے بہت عزیز تھا. دوسرا کلاس کی ٹیبل پر لگے رپورٹ کارڈز کے ڈھیر اور رجسٹر، کلاس میں والدین کے آنے جانے سے ایک مسلسل مصروف ترین اوقات….. ہر ماں باپ سے بچے کے بارے میں  تفصیلی بات کرنی تھی اور پوری کلاس میں اکیلی میں. اسطرح کے ہلچل زدہ لمحوں میں ایک  غضب ناک مشکل  یہ کہ اب پھر سے سارے رجسٹرز چیک کروں اور دیکھوں غلطی کہاں ہوی.میرا تو دماغ ماوف ہوتا چلا جا رہا تھا.عبداللہ کے والد صاحب بیٹے کو ساتھ لیے میڈم کے آفس میں ہی بیٹھے رزلٹ کا انتظار کر رہے تھے.والدین سے بات کرتے کرتے دو تین مضامین کے رجسٹرز کھنگالے اور عبداللہ کی پوزیشن کلیر کی.اب کسی دوسرے بچے کی پوزیشن واپس لینے کا تو وقت نہ تھا لیکن ایک مضمون میں دو بچوں کو پوزیشنز دی جا سکتی تھی..رپورٹ کارڈ ٹھیک کیا اور جا کرمیڈم کو دیا.
        “اب گفٹ کہاں سے لاییں سٹاک میں تو کچھ نییں ہے.اس پوزیشن کا گفٹ تو پہلے ہی جا چکا…. “
میڈم نے اگلی تشویش ظاہر کی
         “میڈم آپ گفٹ کی فکر نہ کریں وہ میں لے آتی ہوں”
حقیقتا اگر ایک گفٹ کی بجاے دس گفٹ بھی دے کر اس غکطی کا ازالہ ہو پاتا تو بھی مجھے برا نہ لگتا.مگر شاید عبداللہ کے ساتھ ہو جانے والی یہ غلطی کا ازالہ اتنا آسان نہ تھا میرے لیے….
            میں نے کنٹین جا کر ایک خوبصورت سا لنچ باکس خرید کے پیک کروایا اور لا کر میڈم کے حوالے کیا.میڈم نے ہی عبداللہ کے والد صاحب سے معزرت کی اور اس مسلے  کو نپٹایا. چھٹی کے اوقات تک والدین کی آمدورفت ختم ہو چکی تھی .ایک ایک بچے کی ماں باپ بہن اور بھای کو انکے بچوں کے رزلٹ کارڈ دے دے کر تفصیلی تعاریفی فقرے بول بول کر د ماغ تو چکرا ہی   گیا تھا مگر ایک غلطی نے جیسے سب کچھ الٹ پلٹ کر دیا تھا.
           چھٹی کے وقت گیٹ پر میڈم شفق پھر میرے پاس آیں تھیں اور  اب کی بار مجھے پیار سے تاکید کی تھی کہ میں اگلی بار محتاط رہوں.پرنسپل  صاحب ایسی غلطیاں بھولتے نہیں ہیں آج بھی انہوں نے بڑی مشکل سے سب سنبھالاہے.میں شرمندہ سی انکے سامنے کھڑی سر ہلاتی رہی.میں ابھی تک اس انجانی غلطی کو سمجھ نہ پائی تھی.کیا میں اتنی تھکی ہوی تھی کہ ایسی غلطی کر گئی.یا میں اتنی لاپرواہ تھی کہ اتنی بڑی بات کا مجھے پتا نہ چل سکا تھا.یہ سجھ ہی نہ آتا تھا کہ میں نے کب غلطی سے اسکی دونوں پوزیشنز دوسرے بچوں کو دے دیں.ایک مُعمہ تھا جو حل ہی نہ ہوتا تھا.
میں گیٹ کے اندر کھڑی اپنی گاڑی کا انتظار کرتی ہونٹ چبا تے  اپنی غلطی کے لیے پچھتا رہی تھی کے میرے پاس سے ندا گزری
    “خدا حافظ فرح!”
              ندا  فاریہ کا ہاتھ پکڑے چادر سمیٹتی گیٹ کی طرف جا رہی تھی فاریہ کے ہاتھ میں اُسکی سبجیکٹ پوزیشن کا انعام تھا.
    “خدا حافظ!”
             اسے اور فاریہ کو پیچھے سے غائبانہ دماغ کے ساتھ دیکھتے دیکھتے میرے دماغ میں کچھ سُلجھنے لگا   *تو جس پوزیشن کو کاٹ کرندا نے فاریہ کا نام لکھا وہی عبداللہ کی پوزیشن تھی.*.فاریہ اور ندا اپنی وین میں بیٹھ رہی تھیں اور میں اپنی جگہ پر خاموش کھڑی سوائے ماتم کے کچھ نہ کر سکتی تھی کہ اپنے کیریئر کی یہ بدترین غلطی مجھ سے بھی ہوئی تھی جو میں نے ایک زرا سے احسان اور لاپرواہی کے سودے میں خود خریدی تھی.

ختم شد.

صوفیہ کاشف 
— Sofia kashif
Abudhabi