سو لفظی کہانی : “سوہنی دھرتی” از محمد انس حنیف

اُس کا پوتا لائق ڈاکٹر تھا.
ہائوس جاب کے بعد اسی قابلیت کی بنا پر اس نے انگلینڈ جاب کیلئے اپلائی کیا تھا.
” اس ملک نے تمہیں پہچان دی اور تم اِسے چھوڑ کر انگریزوں کی غلامی کرنا چاہتے ہو”.
” دادا ! مجھے پاکستان سے بہت محبت ہے, یہ تو سوہنی دھرتی ہے مگر وہاں پائونڈز ہیں یہاں روپیہ ہے,کوئی موازنا ہی نہیں بنتا”, اُس کا پوتا کہتے ہوئے چلا گیا اور اُسے سوچ میں ڈال گیا.
“کیا اس “دھرتی” کے نصیب میں وہ جوان خون نہیں جو اسے “سوہنا” بنانے کیلئے بجائے بھاگنے کے محنت کرے صرف ملی نغموں اور جذباتی نعروں کا نذرانہ پیش نہ کرے”.