شمالی پاکستان کی سب سے پرانی مسجد

ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے مغرب کی جانب 6.6 کلومیٹر کی مسافت پر اوڈیگرام کے علاقے میں واقع محمود غزنوی کی ایک ہزار سال پرانی مسجد وقت کے فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ تھی ۔ اس کی چھت زمین سے 30 فٹ اونچی تھی۔

 محمود غزنوی نے  997ء سے اپنے انتقال تک سلطنتِ غزنویہ کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا تھا اور  اِس کے لئے  ‘سلطان’ کا لقب اختیارکرنے والے پہلے مسلمان حکمران سلطان محمود غزنوی نے نے “سونے کی چڑیا” ہندوستان پر 17 بار حملہ کیا۔ انہی حملوں میں سے ایک اس نے  موجودہ شمالی پاکستان کے علاقے سوات کے طاقتور اور دولتمند راجا گیرا کی سلطنت پر کیا۔

مشہور ہے کہ یہاں سلطان محمود غزنوی نے پیر خوشحال کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنا کر ایک بڑی لڑائی لڑی۔ اسی معرکے میں پیر خوشحال بڑی بے جگری سے لڑا اور بالآخر زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ پیر خوشحال اب یہاں سوات میں ہی دفن ہے۔ اس معرکے میں سلطان کے دو بیٹے بھی جنگ میں کم آئے اور وہ بھی سوات ہی میں مدفون ہیں۔ ایک خونریز لڑائی کے بعد راجا گیرا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

راجا کی شکست کے بعد سلطان  نے ضلع سوات سے واپسی کے وقت یہاں  ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔

مسجد کے باہر لگے ایک بورڈ پر مسجد کی مختصر تاریخ لکھی گئی ہے

1-3-600x354

جس کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے مسجد کی بنیاد 49-1048 میں ڈالی تھی۔ یہ شمالی پاکستان کی سب سے پرانی مسجد مانی جاتی ہے۔ اس کے احاطے سے 1984 میں ایک کتبہ دریافت ہوا تھا جس پر درج تھا کہ محمود غزنوی نے اپنے بھتیجے حاکم منصور کو اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حاکم منصور نے اپنے سپہ سالار نوشگین کی نگرانی میں اسے تعمیر کیا تھا۔ مذ کورہ کتبہ ہاتھ آنے کے بعد ہی اٹلی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے 1984 میں ‘سلطان محمود غزنوی مسجد’ کو دریافت کیا تھا۔

14139455_563113200528402_411810328_o

آج سے ایک ہزار سال پہلے بنائی گئی اس مسجد کا طرزِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں پر مسجد میں داخل ہونے سے پہلے سیاحوں کو ایک بات کی تلقین خاص طور پر کی جاتی ہے کہ مسجد کے احاطے میں کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ کیوں کہ اس سے ’’نیچر ڈسٹرب‘‘ ہونے کا احتمال ہے یعنی ایک ہزار سال پہلے جو چیز جہاں رکھی گئی تھی، اگر اسے وہاں سے اٹھایا گیا، تو اس کی فطری کشش میں کمی واقع ہوجائے گی۔

مسجد تعمیر کرتے وقت اس کے صحن کے عین درمیان پانی کا ایک تالاب بنایا گیا تھا جسے آج بھی اسی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اُس دور میں لوگ نماز پڑھنے کی خاطر وضو اسی حوض کے پانی سے کیا کرتے تھے۔ اسی طرح مسجد میں داخل ہوتے وقت اس جگہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو پانی کی سپلائی لائن کہلاتی ہے۔ مسجد سے بارش یا پھر وضو کے استعمال شدہ پانی کو نکالنے کا طریقہ بھی اس دور کی انجینیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔

14163931_563114140528308_2097223618_o

4-2-600x343

تقریباً ایک اسکوائر فٹ نالی باقاعدہ ایک سیڑھی کی شکل میں بنائی گئی ہے، جس کی مدد سے پانی مسجد کے احاطے سے باہر نکال دیا جاتا تھا۔
مسجد کی دیواریں عام پتھروں سے بنائی گئی ہیں۔ قبلہ رو کھڑے ہو کر بائیں جانب کی دیوار تیس فٹ اونچی ہے، یعنی آج کی تعمیرات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی تین منزلہ عمارت جتنی اونچی دیوار ہے۔

14151921_563113830528339_233573467_o

14163775_563113793861676_1171775679_o

مسجد کا محراب

0,,17601178_303,00

محراب سے آگے ایک چھوٹا سا راستہ رہائشی کمروں کی طرف جاتا ہے۔  اس دور میں بھی مسجد مدرسے کے طور پر استعمال ہوا کرتی تھی جس میں کئی طلبہ بیک وقت دینی علوم حاصل کیا کرتے تھے۔ اوراُس وقت مسجد میں زیرِ تعلیم طلبہ اور اساتذہ انہی کمروں میں رہائش پذیر تھے۔

14123618_563114013861654_470214336_o

14114550_563114217194967_1706216802_o

مسجد میں جگہ جگہ چھوٹے کتبے لگے ہوئے ہیں جن سے اچھی خاصی رہنمائی مل جاتی ہے۔ اسی طرح مسجد کے احاطے میں بھی ایک کتبہ لگایا گیا ہے کہ یہاں پر کبھی اسٹوپا ہوا کرتا تھا اور بدھ مت کے پیروکار اپنی مذہبی رسوم یہاں ادا کیا کرتے تھے۔

 آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے دو ہزار کے قریب لوگ ہر ماہ اس تاریخی اثاثے کو دیکھنے آتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر سوات میں آثارِ قدیمہ پر خصوصی توجہ دی جائے تو صرف خیبر پختونخواہ بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تصاویر بشکریہ انٹرنیٹ

14123417_563113407195048_1739835695_o

14124224_563113357195053_1900718229_o

14124058_563113937194995_1285866849_o

14163604_563113873861668_203290538_o

14163604_563114147194974_1892113413_o

14138991_563114203861635_1217802298_o

14124223_563114050528317_737652140_o

14113873_563114077194981_1923233918_o