لاؤ اپنے عشق کی لو ۔

IMG_20160814_004135
1947 ایک تاریخ ساز سال،ایک ایسا سال جس نے دنیا کا منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا، اگست14 August 1947 کی کبھی نہ بھلائے جا سکنے والی تاریخ جب دنیا کے نقشے پر دنیا کی پہلی نظریاتی اور دوسری اسلامی نظریاتی مملکت کا قیام عمل میں آیا،دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی،لاکھوں افراد اپنا لٹا پٹا،بچا کھچا سب کچھ سرحد پار چھوڑ “خدا”سے مانگ کر ملنے والے اس بے جان زمین کے ٹکڑے پر چلے آئے جس کے بارے میں وہ اس “یقین” میں مبتلا تھے کہ چند سال لگیں گے مگر وہ بہرحال اس ٹکڑے پر جنت بنا ہی لیں گے.
عقل حیران دنیا پریشان کہ ایسا ہو کیسے سکتا ہے? یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کا مجمع اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک انجان علاقے میں جا بسے.. سب کچھ? .. بچی کھچی زمین جائیداد,بچے کھچے زخم خوردہ اجسام میں قید چند رشتے اور کٹی پھٹی ادھڑی ہوئی بے گور و کفن لعشیں جن کا نہ جانے کیا انتظام  ہوا ہوگا… آخر یہ سب ہو کیسے گیا وہ کونسی کشش تھی جس نے انسانوں کے ایک مجمعے کو ایک آواز پر لبیک کہنے پر مجبور کردیا اور وہ پیچھے پیچھے چل پڑے.
جوش جذبہ جنون اور ایمان انسان سے وہ سب کروالیتا ہے جو عام حالات میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا.. یہی جوش جنون جذبہ اور ایمان “پاکستان” کی اساس ہیں انہی چاروں پر پاکستان کی بنیادیں ٹکی ہیں..جنہیں پلیٹر میں سجا کر زمین کا ٹکڑا مل گیا ہو وہ یہ جذبات کیسے سمجھ سکتے ہیں.. جنہوں نے لوٹا ہو اور زندگی میں کبھی بقاء کے نام پر کچھ گنوایا نہ ہو ان کے نزدیک یہ سب نری لفاظی ہی ہوسکتی ہے.
69 سال پہلے مسلمان اپنی علیحدہ ریاست بنانے میں کامیاب ہوئے اور گزشتہ 69 سالوں سے ہم اپنے اس فیصلے کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں.. قید کی کوئی قیمت نہیں ہوتی.. آزادی ہمیشہ اپنے ہونے کا خراج مانگتی ہے.
آج 69 برس گزرجانے کے بعد ہر طرف ایک ہی بازکشت سنائی دیتی ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے ایک ایسی ریاست جہاں بھوک و افلاس سے لیکر دہشت گردی تک مسائل کا ایک جم غفیر ہے کوئی ایک ایسی چیز نہیں جسے کہا جائے کہ وہ ٹھیک ہو گویا ایک ایسی مشین جس کا کوئی ایک پرزہ بھی چلتا ہوا ہو.. ہر جانب یہی ایک شور مچا ہے کہ پاکستان میں کچھ نہیں رکھا.. آخر پاکستان دے ہی کیا رہا ہے. اور ایسا کرتے ہوئے کسی کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ان گزرے ہوئے انسٹھ برسوں میں بے حد اچھا وقت بھی آیا فقید المثال کامیابی بھی چشم انسان نے دیکھی ایک ایسا ملک جس کی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے ایشئین ٹائیگر قرار دیا گیا جس کے اداروں کی فعال کارکردگی دنیا کیلئے اس قدر حیران کن تھی کہ وہ پاکستان کے اداروں اور ان افراد کی مثالیں دیا کرتے تھے جو ان اداروں کو اپنی ذمے داری سمجھ کر اپنا کام ایمانداری اور تندہی سے کرتے تھے جب پاکستان میں “پاکستانی” رہتے تھے سندھی پنجابی پٹھان بلوچ ہندکو اور مہاجر نہیں جب پاکستان کا ایک ہی جھنڈا تھا اور جب پاکستان کا ایک ہی لیڈر تھا.. جب روپیہ خدا اور طاقت ایمان نہیں بنی تھی یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب خدا سے مانگے ہوئے اس زمین کے ٹکڑے کو خدا کی نعمت سمجھ کر قدر کی جاتی تھی. اور پھر اچانک پیروں تلے در آنے والی تنزلی .. اور پھر اسکے بعد اس تنزلی کی وجوہات تلاش کرنے اور اسے دور کرتے ہوئے خود کو دوبارہ کامیابی کی شاہراہ پر لانے کے بجائے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کا وطیرہ بنالیا ہم نے ہر تباہی کا ذمے دار کبھی کسی خاص طبقہ فکر کو ٹھہرانے کی عادت ڈال لی یا پھر ہر خرابی کا مورد الزام مذہب کے گلے میں کسی ہار کی طرح لٹکانے کو ہی نسخہ سمجھ لیا.
دنیا کا کوئی بھی ملک کوئی بھی ریاست اپنے وجود پر رہنے بسنے والے لوگوں کو طشتری میں سجا کر کائنات کی نعمتیں نہیں دیا کرتا.. یہ کام انسان کا ہوتا ہے پانی چاہئے ہو یا دودھ کی نہر زمین کبھی خود کو کھود کر اپنے خزانوں سے انسان کو فیضیاب نہیں کرتی یہ قانون قدرت کے خلاف ہے اور بدقسمتی سے آج کا ہر پاکستان اس فطرت حق سے انکاری ہے.. ہر ایک کو ایک بہتیرین پر تعیش زندگی گزارنے کی خواہش ہے مگر اس کیلئے محنت کرنے جان مارنے پر وہ تیار نہیں.. دوسری ریاستوں اور وہاں کے باسیوں سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ ان کے ذہنی سکون کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ “جیئو اور جینے دو” جیسا مشکل کام کرنا جانتے ہیں اور ہم کسی پسندیدہ اداکارہ پر اختلاف کی جرائت کرنے والے کو ہاتھوں اور زبان سے زدوکوب کرنے سے دریغ نہیں کرتے..اختلاف رائے ہمارے نزدیک ناقابل معافی گناہ ہے جس کی سزا شرک سے بھی بڑھ کر ہے.
ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ مسائل ہوتے ہیں تو کہیں ان کا حل بھی ہوتا ہے اور اگر…. اگر کہیں کوئی حل نہیں نظر آرہا ہو تو نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ آیا جن مسائل کی نشاندہی بار بار کرکے انسان کو مسلسل مایوس کیا جارہا ہو کیا واقعی ان مسائل کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں.
کہا جاتا ہے کہ ماضی بھول جانا چاہئے.. ماضی کبھی نہیں بھولنا چاہئے اگر خوفناک اور ہولناک ہو تو یہ ماضی استاد بن جاتا ہے اسے یاد رکھنے والے کے پیروں تلے پاتال پھر کبھی نہیں آتا اور اگر ماضی روشن اور تابناک ہو تو مثال بن جاتا ہے جسے یاد رکھتے ہوئے انسان کے پاس واضح نصب العین ہوتا ہے کہ آیا اسے کس طرح اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے.. انسان ماضی بھول جائے تو مستقبل میں کہیں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا.. مستقبل صرف ان کا ہوتا ہے جو ماضی کی قدر کرنا جانتے ہیں. آسے کوئی آلائشی شے نہیں سمجھتے.
سوچنے والی بات ہے کہ پاکستان کے ایک جانب اتنے دشمن ہیں جو دن رات اس کوشش میں مصروف ہیں ک کسی طرح بھی ہو پاکستان کے وجود کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیں اس ضمن میں ہر چوتھے سال پچیس سال بعد کے دور کا دنیائی نقشہ ایک خاکے کے طور پر وائرل کردیا جاتا ہے جس میں پاکستان کا کوئی وجود نہیں ہوتا تو آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ناکام ریاست یوں دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھ کا کانٹا بنی ہوئی ہے. اس حوالے سے پاکستان کا اپنا میڈیا بھی ایک اہم کردار ادا کررہا ہے کبھی یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے کہ پاکستانی پاکستان میں نہیں بلکہ کسی جہنم میں رہ رہے ہیں یا ان نادید ہ قوتوں کے  بارے میں بات کی جارہی ہوتی ہے کہ کس طرح بعض عناصر پاکستان دشمنی میں کس طر ح کی گھنائونی  سازشوں میں مصروف ہیں..
کوئی یہ سمجھنے پر تیار ہی نہیں ہے کہ آپ کی اپنی صفوں میں جب کوئی خلاء نہیں ہوگا کسی کی ہمت ہی نہ ہوگی کچھ بھی کرسکنے کی.. ہم میں سے کوئی یہ ماننے پر تیار نہیں ہے کہ قوم کو ختم کرنا ہو تو اس کا ذہن مفلوج کردو یہ ایک انگلی ٹیڑھی ہوتے ہی ساری انگلیاں سیدھی ہوجائیں گی.. المیہ یہ نہیں ہے کہ معاشی ترقی کی راہیں دن بہ دن مسدود ہوتی جارہی ہیں ہولناک المیہ یہ ہے کہ پچھلے پندرہ بیس برسوں میںپاکستان میں بڑے سے بڑا ایکٹر سنگر موسیقار ڈرامہ رائٹر ڈاکٹر نیوز چیف یا اینکر یابزنس مین تو پیدا ہوا ہے مگر پاکستان میں کوئی دانشور کوئی تھنک ٹینکر پیدا نہیں ہوا جو طبقاتی علمی, شعوری, اخلاقی اور معاشی طور پر سر اٹھانے والے بحرانوں کا منطق اور دلیل سے سامنا کرے اور عقل سے ان کی دھجیاں بکھیر دے. ایک انٹلیکچوئلی کنگال قوم کے سامنے تو ہر کمزور دشمن بھی شیرکی طرح دھاڑتے ہوئے تن کر کھڑا ہوجاتا ہے.
پکی پکائی کھانے کی جس قوم کو عادت پڑ جائے تو اس قوم کا پیٹ پھر کبھی نہیں بھرتا وہ بھوکی ہی نہیں بن جاتی بلکہ اس میں گدھ جیسی صفات بھی پیدا ہوجاتی ہیں پھر وہ اپنی بھوک مٹانے کیلئے ضمیر ایمان اور آخرت ہی نہیں اللہ کو بھی بیچنا شروع ہوجاتا ہے.. سوال یہ نہ کریں کہ فلاں مولوی فلاں ماڈل فلاں وزیر فلاں وکیل فلاں اینکر ایسا ایسا کیوں کررہا ہے… سوال یہ کریں کہ ذاتی حیثیت میں آپ نے ایسا ویسا ہوتے دیکھا کیسے ہاتھ سے نہیں تو زبان سے ہی اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی بعض دفعہ کھڑکی کا شیشہ گندہ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اپنی آنکھیں ہی دھندلی ہوجاتی ہیں اس وقت شیشے کو نہیں توڑا جاتا اپنی آنکھں صاف کی جاتی ہیں اور یہ کام ایڈ پروگرام کےتحت دنیا کا کوئی اور انسان آکتر نہیں کرے گا… یہ کام انسان نے خود کرنا ہے یہ کام انسان نے خود کرنا ہے. اپنی زندگی کی کمان خود سنبھالنی ہے خود ہی اپنی ڈھال بننا ہے.. کل جس جوش و جذبے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتے ہوئے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہی تھی اب بھی وہی جوش و جذبہ اور خود پر کامل یقین ہی کام آئے گا اور یہ کام اپنے بقاء کیلئے ہم نے ہی کرنا ہے.. چور لٹیرے غاصب کو چور لٹیرا اور غاصب کہنا ہی نہیں ہے بلکہ اب اسے موقع نہیں دینا اشتعال کے ساتھ ہوش و حواس ساتھ آ ملیں تو پھر انسان نہ تو ہارتا ہے نہ ہی ٹوٹتا ہے نہ ہی بکھرتا ہے اشتعال کو عشق دوآتشہ کردیتا ہھ پھر کسی منزل کسی راستے اور کسی رہنما کی ضرورت نہیں رہتی دل و دماغ رہبری کرتے ہیں محنت و محبت راستہ بن جاتی ہے اور مضبوطی و ثابت قدمی منزل بن جاتی ہیں.
پاکستان میں ہے کیا… تو پاکستان مں ہم ہیں اپنی عزت کرنا سیکھیں..
ریما علی سید.