نظم : “مجھے یاد ہے” از بلال اسلم۔

“مجھے یاد ہے”

مجھے یاد ہے وہ ملا کہاں
میرے ساتھ ساتھ وہ چلا کہاں
وہ ہر جگہ میرے پاس تھا
مری آرزو مری آس تھا
مجھے ہر طرح سے وہ راس تھا
پھر یوں ہوا
وہ چلا گیا
بن زندگی میں خلا گیا
میری خواہشوں کو جلا گیا
میری ذات بالکل بدل گئی
سبھی خواب کرچیوں میں بکھر گئے
مری دھڑکنوں سے لہو گِرا
مجھے خوفِ شب نے آ لیا
تری یاد نے
ترے درد نے
میری سانس سانس کو جا لیا
مری ہمتیں، مرے حوصلے
کسی زرد موسم میں کھو گئے
مرے دیکھتے ہی دیکھتے
تم اور کسی کے ہو گئے
مری جستجو میں تھی کوئی خطا
ملی اس قدر جو کڑی سزا
مجبور قسمت نے کر دیا
ہمیں دور قسمت نے کر دیا
امیدِ درد پہ رکی رہی
آنچ آنچ کی تشنگی
کچھ برقرار سی دعائیں تھیں
میرے لب پہ جو نہ آ سکیں
جنہیں دل سے چاہتا تھا میں مانگنا
مرے آنسوؤں میں نہ سما سکیں
مجھے یاد ہے
سب یاد ہے
” بلال اسلم “