“محبت کی کہانی میں، محبت نہیں رہتی”

”بنتِ ارسلان “
محبت کی کہانی میں”
اکثر
محبت نہیں رہتی
کسی کا ساتھ مانگنے سے
کسی کا ہاتھ چھوڑنے سے
اکثر
محبت نہیں رہتی
محبت کی جھیل میں
شک کا تعفن پھیلنے سے
اکثر
محبت نہیں رہتی
پھر چاہے
ہزار ملامتییں
ہزار قسمیں
ہزار وعدے کرو
محبت کے شیشے میں
بال آنے سے
” محبت نہیں رہتی