مضمون خصوصی “اولاد سمجھیں دیوتا نہیں “از بلال حسین

بچوں کےمعاملے میں والدین اور گھر والوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ بچپن میں یاد ہے کہ دادی جان پڑھاتی تھیں کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن آج کورپوریٹ زدہ رمضان کریم میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ دامن ِ داغدار بھی اچھا ہے اور گندے لباس کو دیکھ کر امی جان کے ماتھے پر شکنیں بھی نمودار نہیں ہوتی ہیں ۔ سرمایہ داری نظام گندے انڈوں کا بھی  خوب استعمال کر رہا ہے ۔

ٹی وی نا صرف اینٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہے بلکہ اِس سے علم اور ہنر بھی سیکھا اور سکھایا جاتا ہے ۔ اِسی میڈیا کے مارننگ شوز میں جہاں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے ننھے مرحومین پر زرق برق , تمغہ ءِ متعدد برانڈزمیزبان ہستیاں فرطِ جذبات سے رو پڑتی ہیں تو اِنہیںمارننگ شو زمیں بچوں کی بدتمیز ی و بد تہذیبی پر ریٹنگ حاصل کی جا رہی ہے اور جس کی چھوٹی چھوٹیوڈیوکلپس سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہیں ۔ رمضان کریم میں شیاطین کی قید تو سنی تھی لیکن اطفال ِ شیطان بصورت ِ بشر اب دیکھنے میں آرہے ہیں ۔ بچوں کو ادب اور تہذیب سکھانا تو کجا اُن کی غلط عادات اور نا سمجھی کو پرائیوٹ ٹی وی چینلز والے کیش کر وارہے ہیں اور بیٹھے ہوئے حاضرین تالیاں بجا کر اپنی آل سے زیادتی کر رہے ہیں ۔ بچے شاید ہی کسی سخت گیر اور پتھر دل انسان کو پسند نہ ہوں اور اُس کے پیچھے بھی کوئی یقینا معقول وجہ ہی ہوگی ، لہذا بچوں کی شرارتیں دیکھ کر ہمیں نہ صرف ہنسی آتی ہے بلکہ ہمیں اُن پر پیار بھی آجاتا ہے ۔ میرے قریبی عزیز کو میں نے ایک پانچ روپے والاچپس کا پیکٹ دیا اور کہا کہ اپنے بچے کو دے دیجئے گا ، اُن صاحب کا رد عمل یہ تھا کہ جیسے میں نے اُن کے والد کی جیب کاٹنے کا کہہ دیا ہو ۔ اُنہوں نے مجھے ایک خاص معنویت بھری نظروں سے نیم طنزیہ انداز میں دیکھا اور پھر اپنی تیئں میں وڈیرے یا چوہدریبن کر عرض کرنے لگے ” ارے بھائی اگر میرے بیٹے نے یہ پانچ روپے والا ، معمولی چپس کا پیکٹ دیکھ بھی لیا تو مجھے اُٹھا کر گھر کے باہر پھینک دے گا ” میں نے پھر تشویش کےساتھ سوال کیا کہ کیا آپ کے صاحبزادے آپ کو ابو نہیں سمجھتے ؟ میری اِس بزلہ سنجی سے وہ ناراض سے ہوگئے اور پھر میں نے نیم متبسم ہو کر معافی مانگی تب اُنہوں نے نہایت ہی متکبر انہ انداز میں عرض کی کہ میرے صاحبزادے صرف بڑے برانڈز کے چپس اور بسکٹس کھاتے ہیں ۔ چند لمحوں بعد میں سوچتا رہا کہ چار سال کا بچہ یہ فیصلہ کیسے کرسکتا ہے کہ کون سا برانڈ بڑا ہے یا معیار میں کم تر یا بر تر ہے ۔ چند لمحوں کی گہری کشمکش کے بعد اُن صاحب نے کھسیانہروی اختیار کی اور مجھ سے پانچ سو روپے اُدھار کا تقاضہ کیا کیونکہ اُن کے پاس دفتر تک آنے جانے کے پیسے نہ تھے ، سو میں نے جیب سے نکال کر پانچ سوروپے دیتے ہوئے ، نہایت ہی عجز و انکساری سے کلام کیا  کہ   “بھائی آپ دیکھ لیں ، اگر اِن پانچ سو روپوں میں آپ کے بیٹے کے لئے چپس بھی آجائیں تو مجھے خوشی ہوگی ۔” اِس کے بعد اُنہوں نے فرمایا کہ کافی رات ہوگئی ہے ، میرا بیٹا سو گیا ہوگا ۔ صاحب چلے گئے اور میں اِسی شش و پنج میں مبتلا رہا کہ مستقبل میں اگر ہمارے بچوں کے ہاتھ ہماری گردنوں ،جیبوں اور اے ٹی ایم کارڈز تک بڑھتے ہیں تو اُس میں ہم ہی قصوروار ہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو معصوم نہیں بلکہ ویمپائیرز بنا رہے ہیں جو پہلے ہماراخون پسینہ چوسیں گے اور پھر دوسروں کا خون خشک کریں گے ۔ بچوں کے منہ سے نکلی ہوئی ہر ایک خواہش ایسے پوری کی جارہی ہے جیسے حکم دیوتا ہو ۔ بچے کی ضد کو پورا ہونے کے بعد بچے کو نہایت ضدی ، بد تمیز ، اکھڑ اور بد اخلاق پیش کر نا ہماری قومی اور خاندانی ذمے داری بن چکی ہے ۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ بچے پر کسی بھی قسم کی سختی اور پابندی اُن کے تخلیقی اور ارتقائی عمل کو روک دے گی لہذا ہم نے بچے کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ جانور بنتا ہے یا درندہ  ۔ بچوں کی ذہانت بچوں کی سرگرمیوں سے مشروط کی جانی چاہیےاگر ہم بچوں کو آئن اسٹائن یا سقراط دیکھنا چاہتے ہیں تو اُنہیں وہ ماحول بھی فراہم کریں جس میں وہ رشتوں کا تقدس بھی پامال نہ کریں اور اپنی ذہنی نشو نما سے سوال کرنے کا فن بھی سیکھ لیں ۔ میں نے بہت سے ایسے والدین دیکھیں ہیں جو پہلے بچوں کی بدتمیزی اور غیر مناسب زبان پر سینہ تو پھُلا لیتے ہیں لیکن عمر گریزاں کے آخیرمیں خود ہی سینہ فگار نظر آتے ہیں ۔ وہی پرانا اور روایتی شکوہ اور گلہ اولاد فرمانبردار نہیں ہے ۔کیا کہیں جب ماؤں کے ممتا بھرے ہاتھوں میں کھیر کے پیالوں کی جگہ انٹر نیٹ شاپنگ سیل اور خلوت نشینی میں جلوتوں والا سوشل میڈیا کا کھلونا آگیا ہو اور اب  اِس سوشل میڈیا تہذیب کی غلاظتوں میں نصف ایمان بھی ڈانواڈول ہو ا چاہتا ہے ۔ خود       بڑھاتے ہو   مشکلات       کو
دیوتا            نہ    بناؤ اولاد            کو