مقالہ خصوصی : “آدھی گواہی حقوق کی جنگ کیلئے پوری گواہی کا کردار ادا کرے گا”.

تحریر : ریما علی سید.
“عورت کی گواہی کو مستند تصور نہیں کیا جاتا یہ دستور پاکستانی معاشرے میں دہائیوں سے رائج ہے جبکہ اس ایک روائت کا سرا حکم خداوندی سے جوڑ کر اپنے مضموم عزائم اور مکروہ افعال پر پردہ ڈالنے کی رسم اس سے بھی پُرانی ہے,یوں بھی اللہ کے احکامات کو توڑنا مروڑنا اور اپنی اپنی مرضی کے معنی پہنا کر ذاتی مفادات کے حصول کیلئے اُن کا اطلاق کرنا تو پاکستانیوں پر ختم ہے,خیر..

اسی فعل یعنی Harassment کو بنیاد بنا کر صائمہ اکرم چوہدری نے تحریر کیا ہے” آدھی گواہی”.
پچھلے چند سالوں میں صائمہ اکرم چوہدری نے کئی سیریلز ناظرین اور ڈرامہ انڈسٹری کو دیئے ہیں جو اپنے موضوعات,برجستہ مکالموں اور عمدہ پروڈکشن کے باعث خاصے مقبول ہوئے,سیریل “آدھی گواہی” کے بارے میں صائمہ کا کہنا ہے کہ “پاکستان میں ہر دوسری عورت اس ایک مسئلہ Harassment کا شکار ہوتی ہے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ وہ اول تو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر آواز نہیں اٹھاتی کہ اُسے مختلف حوالوں سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے دوسرا اگر ایسا کرنے کی ہمت کر بھی لیتی ہے تو پاکستان کے وہ ادارے جو قوانین کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں, وہ عورت کی بات کو رتی بھر اہمیت نہیں دیتے کیونکہ عورت کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں,چونکہ عورت جذباتی ہے اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ عورت کو جب طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے ڈرایا دھمکایا جائے گا تو وہ کیا کرے گی”.

یہ بات ذہن میں رہے کہ پاکستان پینل کوڈ Harassment کے حوالے سے قانون سازی کر چکا ہے اور عورت کو بحیثیت ایک فرد,ایک انسان اور معاشرے کی بنیادی اکائی وہ تمام انسانی حقوق دینے اور اُن کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بات کی جاتی ہے جو معاشرے کی دوسری اکائی یعنی مرد کو حاصل ہیں اس حوالے سے صائمہ کہتی ہیں “میں نے سیریل میں یہی دکھانے کی کوشش کی ہے کہ بے شک قوانین موجود ہیں پاکستان میں لیکن قابل مذمت ہے یہ بات کہ اداروں کو چلانے والا, قانون کی بالادستی کرنے والا کسی نہ کسی مامے, چاچے ,تائے ,پھپھڑ کے ہاتھوں کٹھ پُتلی بنا ہوا ہے, دوستیاں اور رشتے داریاں نبھانے کے چکر میں ہمیشہ ہی مظلوم اور متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوتی آئی ہے,ہمارا سیاسی سٹرکچر کچھ اس قسم کا بن چکا ہے کہ بدفطرت اور عیاش ذہنیت کے لوگ اپنے اپنے تعلقات کے زور بازو پر اچھلتے ہوئے  قوانین اور انسانیت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتے ہیں”.

“آدھی گواہی”سلوی کی کہانی ہے ایک مضبوط,اپنے حقوق سے مکمل آگاہی رکھنے والی لڑکی جسے مجبورا اُس راستے پر آنا پڑا جہاں اُسے اپنے ہی وجود کی گواہی دینی تھی اور تب اُس پر منکشف ہوا کہ اس معاشرے میں عورت کی گواہی کا تسلیم کیئے جانا تب ہی ممکن ہے جو اگر وہ ہمت اور حوصلے سے کام لے اور ڈر کر اپنے ہاتھ پیر نہ لپیٹ لے,اس ضمن میں صائمہ کہتی ہیں “وہ ناظرین جو آئے دن اس بات کی شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ڈراموں میں عورت صرف اور صرف ماریں کھا کھا کر روتی ہے اپنے لئے آواز نہیں اٹھاتی مجھے امید ہے کہ اُن کی شکایت کا ازالہ” آدھی گواہی” سے ہوجائے گا کیونکہ ایک تو اس میں مارپیٹ کی Over Dosage نہیں ہے دوسرا Protagonist مظلومیت کی ماری لڑکی نہیں ہے,میری سلوی ایک مضبوط,با ہمت اور حوصلہ مند لڑکی ہے البتہ وہ روتی ضرور ہے ہم عورتیں ہیں یار اور مان لو کہ ہمیں رونا جلدی آجاتا ہے”.
“آدھی گواہی “ایم ڈی (مومنہ دُرید) اور برنی پروڈکشنز کا سیریل ہے جس کی ہدایتکاری فہیم برنی نے دی ہیں اور ایک بات تو طے ہے کہ فہیم اپنے سیریلز کی پروڈکشن ویلیو پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں اور “آدھی گواہی” کے ٹیزرز اس بات کی پوری گواہی دیتے ہیں,کاسٹ میں سوہائے علی,اظفر رحمن,منزہ عارف,ماریہ ملک,سلیم شیخ اور عائشہ ثناء شامل ہیں اور امید ہے کہ بہت شاندار سے اس سکرپٹ کے کرداروں میں انہوں نے نگینے والا کام کیا ہوگا.
یہ سریل 5 جولائی سے ہر بدھ اور جمعرات کی شب 9 بجے ہم ٹی وی پر نشر کیا جارہا ہے اور اگر آپ پاکستانی ڈرامے کو اصل شناخت میں واپس لانے کے خواہاں ہیں تو یہ سیریل اس کی ابتداء ہے.