مقالہ خصوصی : “میرا اسمعٰیل تم ہو” از عروج بنت ارسلان.

“ایک کہتا ہے کہ عید کے دن معصوم جانوروں کی قربانی کی بجائے نفس کی قربانی کرو.
دوسرا کہتا ہے کہ اپنے پیارے کی قربانی کرو؟.
تیسرا مزاح میں کہہ دیتا ہے کہ اسلام میں قربانی کے نام پرسب سے زیادہ جانور قربان ہوئے.
میں کہتی ہوں کہ سارا سال بونگ پائے,مغز,نہاری, چکن, مچھلی,کریبس اوراسٹیکس کھانے والی عوام میں سے “کچھ خاص “دردِ دل رکھنے والوں کو مروڑ کی صورت دورہ ضرور اُٹھتا ہے ہر بار عید الاضحی ہی پر ……
پر کیوں؟ کیوں وہ سارا سال گوشت کھا کراپنے “سالے” نفس کو کچھ کیوں نہیں بولتے.
کیوں وہ اسلام کےآخری رکن کا مذاق اُڑاتے ہیں کیوں وہ اپنے خاص انداز میں یہ “نقطہ خاص” خاص موقعے پر ہی اُٹھاتے ہیں.
خود کرتے نہیں اوردوسروں کو کرنے نہیں دیتے
موقع پرست ابِن الوقت کہیں کے سالے….

وہ کہتا ہے کہ قربانی عمل کا نام ہے شخصیت کو بدل لینے کا نام ہے . وہ درست کہتا ہے مگر اُس کے اِس کہنے کو عیدِ قربان سے کیوں ملا دیتے ہو؟ سنتِ انبیاء پر ہی کیوں یاد آ جاتا ہے؟.گوشت کی چند بوٹیوں کی تقسیم پر ہی واہ ویلا کیوں؟

عید الضحی کی قربانی محبت کی اُس انتہا کی کہانی ہے جس میں ایک محبوب کے سامنے اپنی قیمتی متاعِ جان پیش کرنی ہو.
جب ابراہیم علیہ اسلام کو خواب میں اشارہ ہوا تو وہ جان سے پیارے بیٹے کو قربانی کے لئے پیش کرنے سے قبل بیٹے کو خواب سناتے ہیں تو بیٹے کی رضا باپ کے محبوبِ ربی کے لئے شامل ہوجاتی ہے.
کیا آج کے اِس نفسا نفسی کے دور میں ہمارے پیارے “بیٹے” اپنی رضا دے سکیں گے یا ایسے موقعوں پر قربانی کے لئےبھی ” بیٹی” ہی پیش کی جائے گی? .
وہ معاشرہ جو جانور پر ظلم کے لئے احتجاج کرتے ہوئےفیس بک پر لائیو آ جائے,سڑکوں پر ریلی نکال لے,رو رو کر ہاتھ جوڑ کر اُن پر ظلم ڈھانے سے باز آنے کی تلقین کرے وہاں اُس معاشرے میں اکثر بیٹا نا ہونے کی سزا عورت کو دی جاتی ہے ویسے بھی “کاری ہو یا بد کاری” ماں بہن بیٹی ہی آگے کی جاتی ہے.
جس معاشرے میں وارث کو بچانے کے لئے عورت کو ڈھال بنا کر اُسے ونی کے طور پر قربان کیا جاتا ہو وہاں وہ بیٹوں کو کیسے قربان کریں گے؟.
کون باپ کی نسل آگے بڑھانے والا بیٹا اپنے گلے پر اسماعیل کی طرح چھری پھروانے کے لئے باپ کو کہے گا کہ ” ابا جان! آپ مجھے گردن پلٹ کر جلدی سے گلے پر چھری پھیر دیں کیونکہ جب آپ میرے چہرے کو دیکھتے ہیں تو شفقتِ پدری سے چھری نہیں چلا پاتے” اور کون باپ چھری پھیرتے وقت ابراہیم کی طرح آنکھ بند کر لے اور چھری پھیر دے گا؟وہ تو دوسروں کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں.وہ اپنی نسل کی افزائش جو ویسے ہی کم ہے اور کم کیسے کر دیں؟ …..
“اِسی لئے جانور کی قربانی پیش کی گئی تھی کیونکہ اسقدر قربانی کے باوجود جانوروں کی افزائش میں کمی نہیں آ رہی مگر بیٹوں کی تعداد میں متواتر کمی آ رہی ہے”
ملائک دعا کرتے ہیں “اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَر ”
ابراہیم علیہ اسلام کہتے ہیں ” لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ ”
ننھے اسماعیل کہتے ہیں. ” اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ
اور اِن تینوں کا کہا ایک ہو کر تکبیرِ تشریق بن جاتا ہے
اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ
کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ تو حکمِ ربی سے بند کر دی جاتی ہے چھری چل جاتی ہے آنکھ کو کھلنے کا اشارہ ملتا ہے تو ابراہیم کا اسماعیل ایک طرف مسکرا رہا ہے اور اللہ کا پاک فرشتہ جبرائیل جنت کا جانور دنبہ کی صورت لئے حاضر ہیں.
اللہ اللہ..
اور آپ اللہ کے انعام, اللہ کی خوشی, اللہ کے امتحان کو سوالیہ نشان بناتے ہیں. وہ بھی آپ کو عید الضحی کے ہی موقعے پر کیوں یاد آتا ہے؟
ابراہیم علیہ اسلام اپنے امتحان میں کامیاب قرار پائے اور اُس روز سے قربانی فرض ہو جاتی ہے.ابراہیم علیہ اسلام کی آل میں مُحمدِ عربی کا نزول اور اسلام کا ظہور ہوتا ہے اور قربانیِ ابراہیم کو اسلام کا حصہ قرار دے دیا جاتا ہے. اور جمرات کے مقام پر باپ کو بیٹے کی قربانی سے روکنے پر ابلیس کو تین بار گمراہ کرنے کے لئے21 کنکریاں مارنا فریضہ حج میں شامل کر دیا جاتا ہے….
پس ثاپت ہوا کہ ابلیس جہاں بھی رہائش پذیر ہو اُس کے چیلے لبرلز کی صورت میں ہم ہی میں یہیں ہیں….کاش کنکر حج کے علاوہ بھی مارا جا سکتا😈
اوہ! مجھے خیال کرنا چاہیے کہ الفاظ سے بڑے کنکر بلکے نشتر تو کوئی بھی کہیں بھی استعمال کر سکتا ہے نا 😂
میں کہتی ہوں کہ ہمارا اسماعیل کوئی بھی ہو عید الضحی پر قربانی اپنے نفس کے ساتھ ایسے جانور کی جائز ہے جو حلال رزق سے حاصل ہو جس میں دکھاوا ناہوجس سے کسی کو پریشانی نا ہو.
آپ چاہیں سارا گوشت تقسیم کر دیں یا خود اپنے لئے جمع کر کے خود سارا سال کھائیں یا نا کھائیں.
آپ گوشت خور ہوں یاسبزی خورمگر قربانی کا مذاق نا اُڑایں . اگر جانور جاندار ہیں تو سبزیاں بھی تو بے جان نہیں نا؟
جس نے لاکھوں کی قربانی دے کر دکھاوا کیا اُس کا حساب وہ خود دے گا ہم کسی کا حساب کتاب تو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں مگر اُس کا کھاتہ کہاں کھلتا ہے وہ حساب رکھنے والا سب سے بڑی ذات جو ہمیشہ رہنے والی ہے اُسے ہمارے سے جو لینا ہوتا ہے لے لیتا ہے عقل ہو، عمل ہو یا ہم خود…. ہم نا نہیں کر سکتے.
جس نے نفس قربان کرنا ہے وہ اپنے نفس کو قربان کرلے اور اپنے عمل سے دوسروں کو تلقین کرے نا کہ” گمراہ ” کریں.
ورنہ کنکر برسانے کے لئے کچھ لوگ حج کا انتظار نہیں کرتے”.
ختم شُد.