مقالہ خصوصی : “پیاری بٹو; پاکستانی ڈرامے کو نئی شناخت دینےکی ایک بہترین کوشش”.

تحریر : محمد یاسر.
ایک سنہرا دور تھا جب پاکستانی ڈرامہ متنوع موضوعات,کہانی کو پیش کرنے کی تیکنیک اور حقیقت سے قریب تر کرداروں,حالات کی عکاسی کے باعث دنیا بھر میں شہرہ رکھتا تھا,  کہانیوں میں مسائل سے نبردآزما کرداروں کا نفسیاتی اتارچڑھائو اُن ڈراماز کا نمایاں ترین پہلو تھا جس کیلئے پاکستانی ڈرامہ منفرد تسلیم کیا جاتا تھا,پھر خزاں رُت چلی اور دیگر شعباجات کی طرح ڈرامے کی خوشنما اور ہری بھری رنگین فصل بھی کچھ اس طرح ٹنڈ منڈ ہوئی کہ یہ ڈرامے کے کھیت پھر اگلے کئی برس ساس-بہو ,ایکسٹرا میریٹل افئیرز, معاشرے میں بُرائی کی جڑ مرد ذات جیسے موضوعات پر مبنی کھمبیاں ہی پیدا کرتے رہے.
خوش آئند بات یہ ہے کہ بدلتے ہوئے منظر نامے میں کچھ پروڈکشن ہائوسز اور چینلز اب ان برساتی کھمبیوں سے جان چھڑاتے ہوئے ڈرامے کو اُس آہنگ میں واپس لارہے ہیں جو کبھی ہماری میراث تھا.
دنیا بھر میں مصنفین نت نئے موضوعات پر لکھ رہے ہیں,آئے دن نئی سے نئی تحقیقات و بیماریاں سامنے آرہی ہیں کچھ تو برسہا برس پُرانی ہیں لیکن تیسری دنیا کے معاشرے اُن سے بے خبر ہی ہیں کُجا کہ اُن کے علاج معالجے کی جانب متوجہ ہونے کے,اُن کے بارے میں آگہی دینے کے.
ساجی گُل اُن گنے چُنے ڈرامہ رائٹرز میں سے ہیں جو Visionary script-wrighting کے مشن کو آگے لائے ہیں,حالیہ دنوں میں ایک اہم اور نازک موضوع کو انہوں نے “التجا” کے ذریعے اٹھایا ہے تو دوسری جانب انسانی نفسیات کی آستینوں میں چُھپے منافقت کے سانپ بچھوئوں کو “او! رنگریزہ”میں بے حد خوبصورتی سے بے نقاب کیا ہے.
” پیاری بٹو اُن کا اسی سال کیلئے تیسرا اہم سیریل ہے جس کی کہانی کی بُنت بنیادی طور پر Alzheimer کے گرد کی گئی ہے, اس حوالے ساجی گُل نے بتایا کہ “Alzheimer کے بارے میں آج دور جدید میں بھی بہت سے ابہام پائے جاتے ہیں,اسے پاگل پن گردانا جاتا ہے جبکہ یہ ایک بیماری ہے اور اس کا شکار فرد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ پاگل قرار دے کر سوشلی بائیکاٹ کرنے کی ,پاکستان میں ہر چوتھا شخص اس بیماری کی کسی نہ کسی سٹیج کا شکار ہے مگر علم کی کمی اور شکوک و شبہات کے باعث متاثرہ شخص تک کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ نفسیاتی و طبعی اعتبار سے انسان میں آنے والی تبدیلیوں اُس کے عمومی رویئے سے جھلکنے والا غیر معمولی پن اس بیماری کا ہی شاخسانہ ہے.
یہ واقعی ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں جبکہ آج تقریبا ہر شخص کی رسائی انٹرنیٹ کے ذریعے نت نئی تحقیقات تک ہے اس کے باوجود انسانی نفسیات کو انسان کی انفرادیت قائم رکھنے والے جزو کی بجائے لفظ نفسیات کو بذات خود ایک بیماری کی علامت یا پاگل پن سمجھاجاتاہے اور صرف کم فہمی اور غلط روایات و روئیوں کی وجہ سے ایک انسان طرح طرح کی پیچیدگیوں میں مُبتلا ہوکر زندگی تباہ کر بیٹھتا ہے اس حوالے سے مصنف ساجی گُل کہتے ہیں “بحیثیت مصنف میں اسے اپنی ذمے داری سمجھتا ہوں کہ لوگوں کی غلط فہمیاں اور شکوک دور کرسکوں اور  Alzheimer سے متاثرہ افراد کے ساتھ عمومی سلوک میں بہتری بھی آسکے اور اس حوالے سے بات چیت کا آغاز بھی ہوسکے تاکہ اس کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو پہلو تہی یا نظرانداز کرنے کے بجائے فوری طور پر سپیشلسٹ ز سے رابطہ کیا جائے”.
لیکن اس قدرے خشک موضوع کو ایک کہانی کی صورت پیش کرنے کا خیال کیسے آیا؟،اس بارے میں ساجی گُل کہتے ہیں کہ “دراصل یہ ایک حقیقی واقعہ ہے اور اسی کے گرد ڈرامے کی کہانی بُنی ہے،جس میں حسب ضرورت رد و بدل کی گئی ہے اور میں نے حتی الحد تک کوشش کی ہے کہ ڈرامہ ہرگز خشک نہ ہونے پائے،ہمارا ڈرامہ خاندان اور فرد کا ترجمان ہے اس کے ذریعے ہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو مخاطب و متوجہ کرسکتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ ایک فیملی انٹرٹینمنٹ بھی ہے لہذا کمرشل تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور کہانی کی بُنت ایسے کی ہے کہ ناظر کو اُکتاہٹ محسوس نہ ہونے دے”۔
پاکستان کا معاشرتی نظام فرد سے وابستہ رشتے اور خاندان پر ٹکا ہے چنانچہ Alzheimer کے علاوہ بھی کئی مسائل جن میں Narcissism شامل ہے پیاری بٹو کا حصہ ہے.
یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جو Alzeimer Patient  ہے اور اُس نے اپنی بھتیجی کو Adopt کیا ہے,جبکہ بھتیجی کی حقیقی ماں اپنی ہی زندگی کے خودساختہ گرداب میں پھنسی ہوئی ہے, بقول ساجی گُل کہ” پیاری بٹو میں روائتی ظالم پھپھو نہیں دکھائی گئی بلکہ ایک ایسی عورت پیش کی ہے جو ماں نہ ہوتے بھی ایک ماں کی طرح بلکہ ماں سے بھی بڑھ کر اپنی بھتیجی کیلئے ایثار و قربانی کا پیکر ہے,رشتوں اور اُن کی محبت کو For Granted سمجھنے کی روائت پر بھی پیاری بٹو میں سوالیہ نشان لگایا گیا ہے”.
“پیاری بٹو” کی کاسٹ میں ثانیہ شمشاد,فواد خان (جیون ہاتھی فیم), فرح شاہ,راشد فاروقی,کیف غزنوی ,ٹیپو شریف,شمیم ہلالی اور نیئر اعجاز کے علاوہ عتیقہ اوڈھو اور ثانیہ سعید شامل ہیں.
ثانیہ اور عتیقہ تقریبا بیس برس کے بعد اکھٹی کسی پروجیکٹ کا حصہ بنی ہیں اُن کا مشترکہ پہلا اور اب تک کا واحد منی سیریل ستارہ اور مہرانساء آج بھی ناظرین کے ذہنوں پر نقش ہے.
” پیاری بٹو” کی ہدایات کا فریضہ سرانجام دیا ہے مظہرمعین نے,مظہر کے یہاں ذہانت بھی ہے اور سچائی کی آخری حد کو چھوتی ہوئی حساسیت بھی اور “پیاری بٹو” جس قدر حساس موضوع پر مبنی کہانی ہے یقین ہے کہ مظہر نے اسے بخوبی برتا ہوگا.
“پیاری بٹو” 9 ستمبر سے ہر ہفتے کی شب آٹھ بجے نشر کیا جائےگا اور اگر پاکستانی ناظرین بار بار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارا ڈرامہ آخر کب تک چلے ہوئے کارتوسوں جیسے موضوعات کو ہی نئے خول میں بند کرکے پیش کیا جاتا رہے گا تو اب یہ ذمے داری اُن ہی پر آن گری ہے کہ اب وہ “پیاری بٹو”  کو لازمی دیکھیں تاکہ ڈرامے کا موجودہ بدلتا ہوا منظر نامہ صرف ہوا کا جھونکا ہی بن کر نہ رہ جائے اور ملنے والی کامیابی چینلز اور پروڈکشن ہائوسز کو یہ تقویت بھری امید دے سکے کہ وہ لکیر کی فقیری کرنا چھوڑ دیں کہ یہ بقاء اب ناظر کے ہاتھ میں ہے.
پیاری بٹو…Highly Recommended