مکمل ناول : “تکون”۔۔قسط نمبر 04۔۔از محمد انس حنیف

پچھلے پندرہ منٹ کے دوران انہوں نے کم از کم دس مرتبہ آزر کے کمرے میں جھانکا تھاوہ مسلسل فون پہ کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا،وہ اتنی لمبی کالز صرف تب ہی کرتا جب سیمیناز یا کرسچین کمیونٹی کی بہبود و فلاح کا کوئی ایونٹ نزدیک ہوتا،اپنے کسی دوست سے لمبی گپیں ہانکنے کی تو اُسے کبھی عادت نہیں رہی تھی پھر اب۔۔اس طرح بلاوجہ کی گفتگو اور وہ بھی رات کے بارہ بجے۔۔ یہ تعجب کی بات تھی۔
آخر بیس منٹ بعد اُس نے موبائل کان سے جس لمحے ہٹایاتھا،اُسی لمحے سنیل اس کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
”ارے پاپا۔۔”
”کس کا فون تھا؟”،سنیل نے بے حد روکھے لہجے میں پوچھا تھا،اس لہجے نے آزر کو چونکایا تھا۔
”وہ ایک دوست کا فون تھا ”،سنیل اُس کے برابر آن کھڑے ہوئے،آزرکو اندر ہی اندرکچھ کھٹکا تھا۔
”کس دوست کا تھا؟”،انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
”وہ یونیورسٹی سے“،اُس کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا،’’لڑکا یا لڑکی؟ ”،آزر اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
”لڑکی ”، اُس نے یک لفظی جواب دیا اور نظریں چراتے ہوئے میز پر پڑی کتابیں یونہی اٹھانے لگا۔
”انعم؟ ”،ایک کتاب بے ساختہ آزر کے ہاتھ سے چھوٹی تھی،وہ جیسے کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔
”یعنی وہی تھی“،سنیل نے نتیجہ نکالا تھا۔
”What are you doing man?” انہوں نے غصے میں نہیں کہا تھا لیکن ان کی آواز میں کچھ سختی ضرور آئی تھی۔
“What am i doing?” آزر نے جواب دینے کی بجائے باپ سے پوچھا،اُنہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اُسے لے کر بیڈ پر بیٹھ گئے۔
”تمہیں نہیں پتا کہ تم کیا کر رہے ہو؟”اُنہوں نے اپنا لہجہ نرم کیا تھا،وہ ان کی جوان اولاد تھی،اس وقت سختی سے بات خراب بھی ہوسکتی تھی۔
”تم تانیہ کے ساتھ منسوب ہو اور تم کسی لڑکی سے انوالو ہو رہے ہو اور وہ بھی ایک غیر مذہب کی لڑکی سے،یہ جانتے ہوئے بھی اُن لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا ”،سنیل کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اُسے کیا کہیں اور کیا نہ کہیں۔
”پاپا جو کچھ ہوا تھا اُس میں انعم کا کوئی قصور نہیں تھا اور آپ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ مجھے بچانے والی بھی انعم ہی تھی ”،آزر نے انعم کا دفاع کیا تھا اور یہ بات سنیل کو بُری طرح چھبی تھی۔
”اچھا!اور اُس کے بدلے میں تم اس کے ساتھ افیئر چلاؤ گے ‘‘نہ چاہتے ہوئے بھی سنیل کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا۔
”افئیر؟ سیرئیسلی پاپا۔۔آپ کو لگ رہا ہے میں کسی لڑکی سے افئیر چلاؤں گا۔۔آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں؟”، اُس نے بے یقینی سے باپ کی طرف دیکھا۔
”یہی تو مسئلہ ہے آزر تم ایسے نہیں ہو،یہی شے تو تکلیف دے رہی ہے کہ تم سب سے الگ ہو اور تم کیا کر رہے ہو؟’،’اُنہوں نے عجیب بے بسی سے کہا تھا۔
”میں کچھ نہیں کر رہا ہوں پاپا۔۔وہ بس میری دوست۔۔’‘،نیل نے اُسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔
”بس کرو آزر۔۔مجھ سے یہ مت کہو کہ وہ بس دوست ہے۔۔ایک لڑکی تمہارے گھر تک آجاتی ہے وہ بھی تب جب گھر پہ کوئی موجود نہیں۔ایسی دوستیاں تم نے کب سے پالنا شروع کر دیں؟ اُس لڑکی کے ساتھ تم بازاروں میں گھوم رہے ہو بے فکری کے ساتھ۔اُسے تم چرچ لے جاتے ہو پاسٹر سے ملواتے ہو۔۔اور پھر اس وقت آدھی رات کو اُس سے کال پہ بات کرتے ہو۔۔اور کہہ رہے ہو کہ وہ تمہاری صرف دوست ہے ”، اس بار آزر کا سانس رُکا تھا،یعنی سنیل اُس پر نظر رکھ رہے تھے۔
”تم عام انسان نہیں ہو آزر!، یہ سب کوئی دوسرا کرتا تو اتنی تکلیف نہ ہوتی مجھے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تم کسی بھی دوسرے جیسے نہیں ہو سکتے،ایک بات یاد رکھنا پاک کپڑے پہ ناپاک دھبے بہت جلد نمایاں ہوتے ہیں ”، وہ کہہ کر جانے لگے تھے اب وہ وہا ں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے،لیکن آزر نے ان کا بازو پکڑ لیا۔
”پاپا آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں، مجھے یاد ہے کہ یسوع نے مجھے کسی اور کام کیلئے چنا ہے۔۔ایک خاص کام کے لئے ”،اُس نے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ایک لفظ نہایت تحمل سے کہا تھا،سنیل خاموش اُسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
”وہ لڑکی خود میری طرف آئی تھی،مجھ میں دلچسپی لینے لگی،یونیورسٹی میں میرے ساتھ وقت گزارنے لگی،میرے گھر تک آگئی،میں نے اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن پاپا پھر بھلا کیا۔۔۔۔”،اُس نے توقف کیا،سنیل الجھن بھرے انداز میں اُسے دیکھ رہے تھے۔
”پھر میں نے سوچا ایک مسلم لڑکی خود ہی۔۔۔۔ توپاپا میں اُسے کیوں روکوں ”، آزر کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
”ایک مسلم لڑکی۔۔غیر مسلم مرد کے عشق میں گرفتار۔۔اتنا احساس ہی کافی ہے میرے لئے۔۔میری انا کی تسکین کیلئے۔۔۔وہ جو اُس کا منگیتر ہے نا“،آزر کے لہجے میں تضحیک تھی،”وہ ارسل۔۔ جو کسی عیسائی سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا۔۔عیسائیوں کو انسان تک نہیں سمجھتااور جب اُسے پتا چلے گا کہ اس کی کزن کسی عیسائی کے ساتھ۔۔۔تو سوچیں پاپا”،آزر مسکرارہا تھا اور سنیل شاکڈ حالت میں اُسے دیکھ رہے تھے
”آزر۔۔یہ۔۔۔یہ تم کہہ رہے ہو یہ سب؟”،سنیل اُسے اس طرح دیکھ رہے تھے کہ جیسے وہ کوئی اور ہو،اس آزر کو وہ بالکل نہ جانتے ہوں۔
”تم اپنی انا کی تسکین کے لئے ایک لڑکی کے جذبات سے کھیلوں گے؟ ”،سنیل نے جیسے اُسے ہوش دلانے کی کوشش کی تھی۔
”نہیں پاپا۔۔میں کسی کے جذبات سے نہیں کھیل رہا،وہ لڑکی مجھ میں دلچسپی لے رہی ہے،کل کو میرے مذہب میں دلچسپی بھی لینے لگے گی، یسوع کے ماننے والوں میں اضافہ ہو گا،یسوع کی اس سے بڑی خدمت اور کیا ہوگی”،آزر نے چہکتے ہوئے باپ کو بتایا یعنی یقین دلایا کہ اُس نے کوئی ہوش نہیں کھوئے۔
”اورتمہیں لگتا ہے ایک پیدائشی مسلم اتنی جلدی تمہارے مذہب میں دلچسپی لینے لگے گی؟ ”اُنہوں نے اگلا سوال کیا تھا۔
”ایک پیدائشی مسلم اگر غیر مسلم لڑکے میں دلچسپی لے سکتی ہے تو۔۔اس کے مذہب میں دلچسپی لینا ناممکن تو نہیں ہے۔۔۔اور پاپا اُسے تو خود اپنی مذہب میں دلچسپی نہیں ہے۔۔تو۔۔”اُس نے باپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی۔
”اور اگر وہ کرسچن ہو جاتی ہے تو۔۔؟”،سنیل کے انداز میں خوف تھا۔
”تو میں اُس سے شادی کر لوں گا“،اُس نے بہت اطمینان سے باپ کے سر پہ بم گرایا تھا۔
”آزر تم تانیہ سے منسوب ہو ”،سنیل نے اپنے ماتھے پہ آنے والے پسینے کوصاف کیا تھا۔
”پاپا مجھے تانیہ کے حوالے سے ایسی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”اُس نے دو ٹوک کہا۔اور سنیل چپ چاپ وہاں سے اُٹھ آئے۔وہ ان کی زندگی کی پہلی رات تھی جو انہوں نے ایک لمحہ بھی سوئے بغیر گزاری تھی۔پتا نہیں کونسی چیز تھی جو اُنہیں بے سکون کر رہی تھی۔مائیک کے ساتھ پرانہ تعلق اور دوستی ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھی۔آزر نے اُنہیں کبھی پریشان نہیں کیا تھا اب کیا تھا تو ان کا سکون ہی چھین لیا تھا۔وہ کیا جال بُن رہا تھا۔۔کیا چال چلنے کی کوشش کر رہاتھا۔۔کونسی تدبیر سوچ رہا تھا۔۔یہ سب اُس نے کہا سے سیکھا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭ *
اپنے کمرے میں بیٹھی وہ ونڈو سے باہر چاند اور ستاروں سے سجاآسمان دیکھنے میں مگن تھی۔ساتھ ساتھ سامنے رکھی چاکلیٹس کھانے میں مصروف تھی جو ابھی ابھی ارسل نے اُسے دی تھیں۔اچانک میسج ٹون سے اس کی توجہ آسمان سے ہٹی،اُس نے ونڈو میں رکھا سیل فون اُٹھایا۔ miss you.” ” آزر کا میسج اسکرین پہ چمک رہا تھا۔اُس نے بغیر کوئی تاثر دیے ٹائپنگ کی۔
Oh really? میسج سینڈ کرنے کے بعد اُس نے چاکلیٹ کا ایک چھوٹا سا بائیٹ لیا۔
yes.” ” دو سیکنڈ بعد ہی اس کا اگلا میسج آیا۔

”But why?” انعم نے ایک شرارتی سمائلی کے ساتھ پوچھا۔
i dont know. i really dont know.” ”آزر کی طرف سے ایک بے بسی ظاہر کرتے ہوئے سمائلی کے ساتھ جواب آیا تھا۔
Hmm.” ”اُسے کچھ نہیں سوجا تھا۔اُس نے بس اتنا ہی لکھا۔
Do you miss me?” ” اُسے ہنسی آئی،چاکلیٹ ختم ہو گئی تھی،اُس نے اُٹھ کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا اور ساتھ ساتھ ٹائپ کرنے لگی۔
”yes i miss you..everytime.” اُس نے تھوڑا سا سوچنے کے بعد لکھا تھا۔
its mean i am so lucky.” ”اُس نے ایک لمبی سی سانس لی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
yes you are!” ”اُس نے سپیڈ سے ٹائپ کر کے سینڈ کیااور ساتھ ہی کسی نے ڈور نہک کیا۔اُس نے ارسل کو اندر آتے دیکھا،اس کا چہرہ یکدم چمکا تھا۔
`********

”But why?” انعم نے ایک شرارتی سمائلی کے ساتھ پوچھا۔
i dont know. i really dont know.” ”آزر کی طرف سے ایک بے بسی ظاہر کرتے ہوئے سمائلی کے ساتھ جواب آیا تھا۔
Hmm.” ”اُسے کچھ نہیں سوجا تھا۔اُس نے بس اتنا ہی لکھا۔
Do you miss me?” ” اُسے ہنسی آئی،چاکلیٹ ختم ہو گئی تھی،اُس نے اُٹھ کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا اور ساتھ ساتھ ٹائپ کرنے لگی۔
”yes i miss you..everytime.” اُس نے تھوڑا سا سوچنے کے بعد لکھا تھا۔
its mean i am so lucky.” ”اُس نے ایک لمبی سی سانس لی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
yes you are!” ”اُس نے سپیڈ سے ٹائپ کر کے سینڈ کیااور ساتھ ہی کسی نے ڈور نہک کیا۔اُس نے ارسل کو اندر آتے دیکھا،اس کا چہرہ یکدم چمکا تھا۔
`٭٭٭٭٭٭٭***

باغ جناح میں موجود رش بڑھتا ہی جارہا تھا اوروہ اس کے ساتھ اُسی طرح چمٹے بیٹھی تھی، وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پتا نہیں کس سوچ میں گم تھا،زندگی میں کچھ چیزیں واقعی ہی کتنی اچانک ہوجاتی ہیں اور اچانک رونما ہونے والی چیزیں اکثر حیران کُن ہوتی ہیں،اتنی حیران کُن کہ انسان ہل کر رہ جاتا ہے اور محبت سے حیران کُن شے کوئی ہو ہی نہیں سکتی،جو اس بات کو نہیں مانتا شاید وہ محبت کو نہیں سمجھتا اور محبت کو سمجھنا بھی تو ہر کسی کے بس کی بات نہیں،سیدھا سا فارمولا ہے ڈوبو گے نہیں تو جان نہیں پاؤ گے۔ اور آزر سے بہتر بھلا محبت کو کون جان سکتا تھا،وہ جو مکمل طور پہ اس سمندر میں ڈوب گیا تھا اور جان لیا تھا کہ محبت ہی دنیا کی سب سے حیران کُن شے ہے،سارے اصول بھُلا دیتی ہے،عقل سے اندھا کرنے کا فن محبت کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس ہے ہی نہیں۔اُسے ایک ایسی لڑکی سے محبت ہوئی تھی جس سے اُسے چڑ تھی،وہ اس کے ٹائپ کی تھی ہی نہیں اور نہ ہی اس کے مذہب کی،وہ خود آگے بڑھی تھی، دوستی کرنا چاہ رہی تھی،وہ اٹریکٹو نہیں تھا لیکن اس کی شخصیت میں کچھ تو ایسا تھا جو ہمیشہ صنف نازک اس کی جانب کھینچی چلی آتیں،وہ یہ بات جانتا تھا،وہ اگر اس کی طرف آرہی تھی تو معمول کی بات تھی،لیکن جو بعد میں ہوا یہ سب معمولی نہیں تھا اور پھر بجائے مزاحمت کے اس کے ذہن میں پلان آیا تھا،وہ اُس لڑکی کو بدلے گا،اُسے یسوع کا پیروکار بنایائے گا،اسی سوچ کی بنایا پہ اُس نے محبت کا ڈرامہ کیا اُسے غلط فہمی کا شکار کیا اور اُس وقت تک آزر کو اُس بے قووف لڑکی سے محبت نہیں ہوئی تھی اور محبت اتنی اچانک کہاں سے آگئی نہ اُسے سوچنے کا موقع ملا اور نہ ہی سمجھنے کا،محبت کیا آئی اُس پلان کا ستیاناس ہی ماردیا،اس کاچین چھینا،قرار لوٹا،وہ نئے زمانے کا دیوداس بن گیا،ایسا سورج مکھی جس کا سورج وہ لڑکی۔۔انعم بن گئی تھی۔۔انعم جو مسلمان تھی اور وہ حیران سا۔۔پریشان سا۔۔محبت کا یہ تماشہ دیکھتا رہا،وہ اُٹھتے بیٹھتے اُسے سوچنے لگاتھا،اُس کا ٹیکسٹ آتا تو چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی،اُس سے بات کرتا تو دل تیز تیز دھڑکنے لگتا،آنکھیں ہر وقت اس کی تلاش میں رہتیں،سارے اصول قانون دھرے کے دھرے رہ گئے اورآزر سنیل مسیح ایک مسلم لڑکی انعم سعید کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ ”بات سنو؟ ”انعم نے پُکارا تو وہ چونکا۔ ”کیا؟” اُس نے اس کی چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھااور ساتھ ہی آنکھوں میں نمی سی آگئی،محبت کر بیٹھا تھا لیکن یہ احساس ہی خوف زدہ کر دیتا تھا کہ وہ اس کی نہیں ہو سکتی تھی۔۔بہت سی دیواریں تھیں اُن کے درمیان۔۔۔ ”پرسوں میری برتھ ڈے ہے۔فارم ہاؤس پہ سلیبریٹ کر رہے ہیں سب تم ضرور آؤ گے۔۔میں انکار کسی قیمت پر قبول نہیں کروں گی“، دھونس بھرے انوٹیشن پہ وہ ہنسا۔ ”لو بھلا میں کیا کروں گا؟وہاں تو ارسل بھی ہو گا ‘۔” ”تو کیا ہوا؟ مجھے نہیں پتا۔۔تمہیں بس آنا ہے۔ ” اس کے ساتھ چپکی انعم نے ایک الگ سی نزاکت سے کہا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔
”Happy birthday to the most beautiful girl of the world” ارسل نے مائیک پر کہا تو انعم کے چہرے پہ موجود مسکراہٹ میں اضافہ ہوا تھا،سبھی دوستوں نے زوردار تالیاں بجانے لگے،آزر جو ابھی فارم ہاؤ س میں داخل ہی ہوا تھا،اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر وہ نروس ہوگیا تھا، اسے اپنا آپ وہاں پہ غیر ضروری محسوس ہوا،وہ وہیں سے واپس مڑنا چاہتا تھا لیکن انعم کی آواز نے اس کے روک لیا تھا۔
”ہیلو آزر“، انعم نے اُسے دیکھ لیا تھا،دوستوں کو ایکسکیوزمی کہتے ہوئے وہ اس کی جانب آرہی تھی،آزر کے چہرے پہ مسکراہٹ اُبھری تھی،چند سیکنڈ لگے وہ اس کے بالکل قریب آگئی تھی۔
”Happy birthday to you ”ہاتھ میں پکڑا ہوا گفٹ پیک اُسے تھماتے ہوئے اُس نے کہا،انعم نے مسکراتے ہوئے وہ پیکٹ پکڑ لیا تھا۔
”آنے کا بے حد شکریہ ”،وہ اُسے اپنے دوستوں پاس لے آئی تھی۔
”ہیلو فرینڈز!اِن سے ملئے یہ ہیں میرے دوست آزر”، انعم نے اس کا تعارف کروایا تو سب اُس سے ہیلو ہائے کرنے لگے،سوائے ارسل،رومیصہ اور علی کے،اُن تینوں کے چہرے پہ ناگواری تھی اور آزر نے یہ ناگواری پہلی نظر میں ہی محسوس کر لی تھی،وہ یہاں آنا نہیں چاہتا تھا لیکن آگیا تھا،انعم نے اُسے جس طرح اسے انوئٹ کیا تھا وہ آئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا تھا۔
انعم اُن تینوں سے کس قدر مختلف تھی،ان تینوں ہی کیا،سب سے مختلف۔۔ساری دنیا میں سب سے منفرد۔۔اُس نے کیک کاٹتی انعم کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا تھا،کیک کاٹنے کے بعد وہ سب ہلے گلے میں مصروف تھے،وہ انعم کے چہرے پہ کیک لگانے کی کوشش میں تھے اور انعم اُن سے بچنے کی کوشش میں،کچھ ہی دیر میں میوزک شروع ہو گیا تھا۔کچھ لڑکے لڑکیاں انگریزی پارٹی سونگس پر لب ہلاتے ہوئے تھرکنے لگے تھے۔
”فرینڈز میں آپ سب کو ایک مزے کی بات بتانا چاہتی ہوں ”،انعم نے اپنے چہرے پہ لگے کیک کو ٹشو کی مدد سے صاف کرتے ہوئے مائیک پر آکر کہا سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
”اس وقت ہمارے درمیان اس پارٹی میں ایک بہت ہی اچھے سنگر موجود ہیں ”، آزر کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا،وہ جانتا تھا اس کا اشارہ اُسی کی طرف ہے۔وہ اُسے اپنے میوزک میں ہونے والی دلچسپی کے بارے میں بتا چکا تھا۔
”Mr.Aazar please come here, and make my birthday special”
اُس نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے اپنی طرف بُلایا تھا،لڑکے لڑکیوں کی تالیاں ایک مرتبہ پھر گونجیں،وہ کنفیوژڈ انعم کے پاس پہنچا،انعم نے مائیک اُس کو تھمایا وہ نروس سا انعم کی طرف دیکھنے لگا۔
”کیا تم نے قسم کھائی ہے مجھ سے ہر وہ کام کرواؤ گی جو میں چھوڑ چکا ہوں ”، اُس نے کہا۔انعم ہنسنے لگی۔
”زر پلیز میرا اتنا سپیشل ڈے ہے۔”، وہ ارد گرد اس طرح بے بسی سے دیکھ رہا تھا جیسے کچھ سمجھ نہ آرہاکہ وہ کہا کرے

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اُس نے ایک گہراسانس لیتے ہوئے گانہ شروع کیا تھا۔ ۔۔
اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا
اب اگر اور دعا دو گے تو مرجاؤں گا۔
وہ کئی سال بعد گا رہا تھا لیکن اس کے باوجود ماحول میں یکدم سکوت سا چھا گیا،انگریزی گانوں کا وہ نشہ جو چندلمحے پہلے پورے ماحول پہ چھایا تھا۔یکدم غائب سا ہو گیا۔
پوچھ کر میرا پتہ،وقت رائیگاں نہ کرو
میں تو بنجارہ ہوں،کیا جانے کدھر جاؤں گا۔

انعم اس کے بالکل سامنے سوئمنگ پل کی سیڑھیوں پہ بیٹھ گئی تھی۔پانی میں تیرتے چاند ستاروں کے عکس میں خود کو دیکھنے لگی تھی۔ ہر طرف دھند ہے،جگنو ہے نہ چراغ کوئی کون پہچانے گا،بستی میں اگر جاؤنگا۔ انعم نے مسکراتے ہوئے چہرہ اس کی جانب موڑا تھا۔دونوں کی نظریں ملیں۔ زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا تو جہاں مجھ سے کہے گی اُتر جاؤں گا۔

وہ اُسی کی طرف دیکھ رہا تھا،انعم کے دل کی دھڑکن عجیب سی ہوئی تھی۔اُس نے اردگرد دیکھا،ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔سب جیسے اس کی
آواز میں ڈوب رہے تھے،۔۔
پھول رہ جائیں گے گلدانوں میں یادوں کی نظر
میں تو خوشبو ہوں فضاؤں میں بکھر جاؤں گا۔
انعم نے اس کی آنکھوں میں آتی ہوئی ہلکی سی نمی کو محسوس کیا تھا۔
اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا
اب اگر اور دعا دو گے تو مرجاؤں گا۔
وہ خاموش ہوا تھا،فارم ہاؤس پہ چھایا سکوت ٹوٹا،تالیاں سیٹیاں واہ واہ،ستائش،ہر کوئی اُسے سراہ رہاتھا، وہ وہیں کھڑے سامنے بیٹھی انعم کو ایک مرتبہ پھر سے دیکھنے لگا،سوئمنگ پول کے کنارے پہ بیٹھی مسکراتی ہوئی ایک لڑکی۔۔۔اُسے وہ منظر دھندلا سا لگا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ چھت پر لیٹا آسمان کو گھُورتے ہوئے انعم کو سوچ رہاتھا،وہ کیسی لڑکی تھی؟۔

سب سے الگ۔۔سب سے منفرد۔۔ یا پھر وہ ایک عام سی لڑکی تھی اورصرف اُسے ہی سب سے خاص محسوس ہوتی تھی،وہ اسے ہی سوچ رہا تھا اور اُسی کی کال آگئی۔ ”کیا کر رہے تھے؟ ”حال احوال کے بعد اُس نے پوچھا۔

‘ ‘کچھ نہیں چھت پہ ہوں۔۔ستارے دیکھ رہا ہوں مگر تم نظر آرہی ہو ”،آزر نے کہاتھا، اُس نے جواباً کچھ کہنا چاہا لیکن آز ر نے اچانک اُسے ٹوکا۔
”اچھا سنو۔”
”ہاں کہو۔”
”تم کیا چیز ہو یار۔”
”کیوں کیسے میرے ہوش ہو حواس پہ قابض ہو گئی ہو۔ ”آواز میں بے بسی ظاہر ہوئی تھی۔
”سچ میں۔”انعم کی آواز میں حیرت تھی۔
”ہاں تمہیں اب بھی کوئی شک ہے؟”اُس نے پوچھا تو وہ خاموش ہو گئی۔
”ہیلو۔۔”آزر کو لگا کہ کال کٹ گئی۔اُس نے زور سے ہیلو کہا تھا۔
”نن نہیں۔۔مجھے کیا شک ہو گا بھلا۔”
”سنو منزلیں چاہے کتنی بھی دشوار ہو جائیں میرا ساتھ مت چھوڑنا”،انعم کو اس کی بے بسی نے بے چین کیا مگروہ پھر بھی خاموش رہی۔
”تم ٹھیک ہو۔۔؟”آزر کے لہجے میں تشویش ظاہر ہوئی۔
”ہاں تم ٹھیک ہو؟”
”پتا نہیں آج دل گھبرا سا رہا ہے۔” آزر نے بتایا۔
”وہ کیوں؟”
”یہی تو پتا نہیں۔”آزر نے کہا اور پھر اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
”اچھا میں نے کل رات ایک خواب دیکھا۔۔تم مجھے ایک خوفناک جنگل میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی ہو۔۔اُس جنگل میں عجیب سی ویرانی ہے۔۔عجیب سا خوف ہے۔میں وہاں اکیلا ہوں۔۔بہت اکیلا۔”وہ اُسے بتا رہا تھا۔
”کیسی باتیں کر رہے ہو۔”
”پتا نہیں یار۔”آزر نے گہری سانس لی۔
”اچھا کل ملو گے یونیورسٹی؟”انعم نے پوچھا۔
”کل تو کوئی کلاس نہیں ہے۔”
”ہاں تو ویسے ہی آجانا میں بھی آؤں گی۔”
”ٹھیک ہے۔کس روم میں۔”
”روم نمبر گیارہ دوپہر ایک بجے اس وقت وہاں کوئی کلاس نہیں ہوتی خاموشی کو انجوائے کریں گے“،آزر کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔
”اوکے اللہ حافظ میں رکھتی ہوں کل بات ہو گی۔”
”خدا حافظ۔”
فون رکھنے کے بعد وہ کل والی ملاقات کے بارے میں سوچنے لگا۔

وہ پورے ایک بجے گیارہ نمبر کمرے میں موجود تھا، وہاں کوئی بھی کلاس نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پہ خاموشی تھی،بعض خاموشیاں خوف سے بھرپور ہوتی ہیں، وہاں بھی ایک ایسی ہی خاموشی تھی۔
”آ جاؤ۔ ”اُس نے انعم کو ٹیکسٹ کیا تھا،رپلائی دو منٹ بعد آیا تھا۔
”کہاں۔ ”انعم کے رپلائی پہ وہ حیران ہوا۔
”کمرہ نمبر گیارہ میں اور کہاں؟”اُس نے الجھے ہوئے انداز میں ٹیکسٹ کیا۔
”اوکے آتی ہوں۔”ساتویں منٹ میں جواب آیا تھا،اُسے آج کیا ہوا تھا وہ حیران ہی ہورہا تھا،لیکن مزیددس منٹ گزرنے کے بعد بھی وہ نہیں آئی تھی،آزر نے اُسے کال کی لیکن وہ اٹینڈ نہیں کر رہی تھی،گیارہ نمبر کمرے میں خاموشی مزید گہری ہوتی جارہی تھی۔
”جلدی آؤ پلیز“،آزر کے انداز میں ٹیکسٹ لکھتے ہوئے واضح گھبراہٹ تھی۔۔
”اوکے“،انعم نے ٹیکسٹ کیا اور ساتھ ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی۔
سفید شفون کی فراک پہنے وہ کسی پری کی مانند دکھ رہی تھی،آزر کے دل کی دھڑکن تھم گئی،وہ دروازے کو ہلکا سا بند کرتے ہوئے اس کے قریب آگئی۔
”کتنی خوبصورت ہوتم۔”آزر نے کہا تھا۔وہ ہنسی۔۔اور ہنستے ہوئے اور بھی حسین لگنے لگی۔
”کیسا ڈریس ہے ”، اپنے دوپٹے کا ایک پلو پکڑ کر اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے انعم نے اُس سے پوچھا۔
آزر نے لاشعوری طور پہ پلو کو پکڑاتھا،اس کی تعریف کیلئے منہ کھولا ہی تھاکہ۔وہ یکدم آگے کی طرف بھاگی،دوپٹہ اس کے گلے سے نکلتے ہوئے آزر کے ہاتھ میں آگیا۔۔اور ساتھ ہی آزر نے اس کی بلند چیخ سنی۔۔ایک۔۔دو۔۔تین۔۔اور پھر مسلسل چیخیں۔۔وہ نہ سمجھی کے عالم میں اس کا دوپٹہ ہاتھ میں لئے اس کی طرف دیکھ ہی رہا تھا۔۔اور اُس کے کچھ کہنے یا سمجھنے کی نوبت ہی نہ آئی اس سے پہلے ہی دھڑام سے دروازہ کُھلا۔۔ارسل اور اس کے ساتھ کلاس کے چند دوسرے لڑکے کمرے میں دندناتے ہوئے داخل ہوئے تھے۔۔وہ ہکا بکا ان سب کو دیکھ رہا تھا جن میں سے کچھ لڑکے موبائل سے ویڈیو اور تصویریں بنانے لگے تھے۔۔ارسل اور اُس کے ساتھ تین چار لڑکے اُس کی جانب بڑھ رہے تھے مگر وہ یہ سب نہیں دیکھ رہاتھا۔۔وہ انعم کو دیکھ رہا تھا۔۔پھٹی پھٹی آنکھوں سے۔
انعم بلند آواز میں روتے ہوئے ارسل کے پیچھے جا چھپی تھی۔وہ اُسی طرح اس کا دوپٹہ ہاتھ میں لئے خوف اور بے یقینی کے عالم میں وہاں کھڑا رہا۔۔۔اُس کے ساتھ کیا ہوا تھا؟اُسے جاننے میں بس چند سیکنڈ ہی لگے تھے۔آسمان سر پہ کیسے آن گِرتا ہے یہ آزر نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔

(جاری ہے)