مکمل ناول ” تکون” از محمد انس حنیف۔۔قسط نمبر 06

امیلا اُس لڑکے کی وجہ سے پریشان ہو رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کون تھا،وہ محسوس کر رہی تھی کہ وہ جیسے اُس سے کوئی بات کرنا چاہتا تھا،سٹور میں کئی مرتبہ امیلا نے اُسے خود کو گھورتے دیکھا تھا، کئی مرتبہ وہ سوچتی تھی وہ ایک مرتبہ اُس لڑکے سے بات کرے، اُس سے پوچھے کہ وہ کیا چاہتا ہے؟, کیوں اُس کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے لیکن وہ پھر خود ہی ڈر جاتی، وہ پہلے ہی بُرے ترین حالات سے گزر رہی تھی اور ایسے میں مزید کوئی مصیبت مول لینا ٹھیک نہیں تھا۔
وہ بس ایک کام کر سکتی تھی کہ وہ اُس لڑکے کو زیادہ سے زیادہ اگنور کرے اور وہ ایسا ہی کر رہی تھی،لیکن اُس کی مستقل مزاجی اُسے ڈرا رہی تھی،یہ سب سُپر سٹور تک رہتا تو ٹھیک تھا لیکن اُس نے ایک دو مرتبہ چھُٹی کے وقت اُسے اپنا پیچھا کرتے بھی دیکھا تھا، وہ ہر مرتبہ تیزی سے چلتے ہوئے اپنی بس پہ چڑھ جاتی۔ اُسے اُس لڑکے سے عجیب سا خوف آنا شروع ہو گیا تھا۔
اُس نے اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک دوسری لڑکی سے اُس کے بارے میں پوچھا تھا،وہ یہاں سکالرشپ پہ پڑھنے آیا تھا، وہ پاکستان سے تھا،امیلا کا دل پاکستان پہ لرز اُٹھا تھا۔ اُسے لگا شاید کسی نے اُس کی جان لینے کی خاطر اُسے یہاں بھیجا تھا۔یہ لندن تھا کوئی اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ واسع علی سے خوفزدہ تھی۔
سنیل نے بڑی مشکل سے اُسے کمرے سے °°°°°°

نکالا تھا۔اُس کی حالت دیکھ دیکھ کر اُن کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔اُسے کوئی مسئلہ تو ضرور تھاا ور اُسی مسئلے کو وہ جاننا چاہتے تھے۔

”ہاں میاں اب بتاؤ کیا چکر ہے ”؟ منہ ہاتھ دھونے کے بعد وہ لاؤنج میں آکر اُن کے پا س بیٹھ گیا تھا۔سنیل نے بے حد دوستانہ لہجے میں اُس سے کہا تھا۔آزر زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ لایا۔۔ ”کچھ بھی نہیں پاپا۔”اُس کی آواز میں روکھا پن تھا۔اداسی تھی۔ایک عجیب سے رنج کا عالم۔۔سنیل نے ایک لمحے میں یہ نوٹ کر لیا تھا۔ ”کچھ تو ہے آزر،میری جان کچھ تو ہے۔ ”سنیل نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔اُن کے لہجے میں عجیب سی بے تابی تھی۔باپ کو یوں دیکھ کر آزر کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔اُس نے آنسو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہا۔ ”جو بات ہے بتا دو آزر۔۔ ”باپ نے جیسے التجا کی۔اُس نے بھی التجائیہ نظروں سے باپ کی طرف دیکھا تھا۔اُسکی نظروں میں فریاد تھی کہ اُس سے کچھ نا پوچھیں۔۔سنیل نے اُسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔باپ کے سینے سے لگ کر ضبط کے جیسے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔اور سنیل اُسے چپ کرواتے ہوئے خود بھی رونے لگے۔’ ”آزر میرے بچے خدا کے لئے چُپ کر جاؤ۔۔ ”وہ اُس کے سر میں ہاتھ پھیر رہے تھے۔اور آزر الفاظ کا وہ ذخیرہ ڈھونڈ رہا تھا جس سے وہ باپ کے سامنے وہ قیامت بیان کرتا جو اُس پہ ٹوٹی تھی۔ ”پاپا میں نے کچھ نہیں کیا۔”وہ اُنہیں کچھ بتانا چاہ رہا تھا۔لیکن کچھ بھی بتانے سے پہلے ڈور بیل ہوئی۔سنیل کمزور وجود کے ساتھ اُٹھے اور دروازے کی طرف بڑھے۔آزر بھی اُن کے پیچھے پیچھے تھا۔ دروازے پہ تانیہ تھی۔اُن کے گھر آتے تانیہ کے چہرے پہ جو خوشی۔۔مسکراہٹ ہوتی آج وہ نہیں تھی۔اُس کے چہرے پہ سنجیدگی کے ساتھ غصہ تھا۔۔و ہ تیزی سے آگے بڑھی اور شدید غصے کے عالم میں آزر کے گریبان کو پکڑتے ہوئے کھینچنے لگی۔سنیل ہکا بکا یہ منظر دیکھتے رہے۔لیکن اگلے منظر نے اُن کے پیروں تلے زمین کھینچی تھی۔تانیہ نے اسی طرح آزر کاگریبان پکڑے پکڑے اُس کے چہرے پہ تھوکا تھا۔۔ یہ پہلی چیز تھی جو آزر کے چہرے پہ گِری تھی۔ابھی اُس کے چہرے اور وجود نے بہت کچھ سہنا تھا۔ *
°°°°°°°°°°°

واسع کا خیال غلط تھا۔وہ اُس کے سامنے پھر سے آئی تھی۔ اُس نے سٹور چھوڑا تھا نا ہی ڈیوٹی چینج کروائی تھی۔حالانکہ واسع کا خیال تھا کہ اپنی چوری پکڑے جانے پہ وہ ایسا کچھ نا کچھ تو کرے گی،لیکن اُس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔وہ ہیں تھی،اور بالکل نارمل انداز میں وہ کسٹمرز کو ڈیل کررہی تھی۔اور وہ اُسے اُسی طرح نظر انداز کر رہی تھی جیسے پہلے کر رہی تھی،یعنی کہیں بھی کچھ بدلا نہیں تھا۔واسع نے بھی اُس بات نا کرنے کا فیصلہ کر لیا،اگر وہ اُس دور رہنا چاہتی تھی،خود کو چھُپانا چاہتی تھی تو بہتر تھا وہ بھی آگے نا بڑھے۔ سب کچھ معمول سے چلنے شروع ہوگیا تھا،وہ پہلے کی طرح اجنبی بنے اپنااپنا کام کرتے رہتے۔اُس دن ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد واسع نے امیلاکے کاؤنٹر کے پاس ایک پنک کلر کا پاؤچ گِرا دیکھا،یہ امیلاکا پاؤچ تھا۔وہ کئی مرتبہ اُس کے ہاتھ میں اُسے دیکھ چکا تھا۔اُس نے شاید وہیں ریک پہ رکھا تھا اور پھر اُٹھانا بھول گئی تھی۔وہ اب زمین پہ گِرا ہو اتھا۔واسع نے جھکتے ہوئے اُسے اٹھا لیا تھا۔
اگلے دن وہ پاؤچ اپنے ساتھ لایا تھا لیکن وہاں آنے پہ اُسے پتا چلا کہ وہ آج چھُٹی پہ تھی۔اُسے واپسی پہ وہ پاؤچ اپنے ساتھ لانا پڑا۔وہ رات کو اپنے اپارٹمنٹ میں بیٹھا اسائنمنٹ بنا رہا تھا،اور تب ہی اسائنمنٹ بناتے بناتے اُس کی نظر اُس پاؤچ پہ پڑی۔وہ اُس سے ایک فٹ کہ فاصلے پہ پڑا تھا۔پہلی دفعہ اُس کا دل اُسے کھولنے کو کیا تھا۔اُسکے دوسرے روم میٹس سو چکے تھے۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُس پاؤچ کو پکڑا۔ یہ اُسے غیر اخلاقی لگ رہا تھا،لیکن وہ تجسس کے ہاتھوں بُری طرح مجبور تھا۔اُس نے نا چاہتے ہوئے بھی اُسے کھول لیا تھا۔اُس میں چند کرنسی نوٹ،اُسکی ایک تصویر۔۔ایک صلیب والا لاکٹ اور ساتھ میں ایک چھوٹاسا آڈیو پلئیر تھا۔جس میں ہینڈز فری لگی ہوئیں تھی۔کسی لاشعوری عمل کے تحت اُس نے ہینڈز فری کانوں میں لگاتے ہوئے پلے کا بٹن دبایا۔۔
وہ حیرا ن نہیں ہوا تھا۔بس اُسکے دل نے دھڑکنا بند کر دیا تھا۔وہ بے یقینی کے عالم میں سورہ الملک کی اُس تلاوت کو سُن رہا تھا جو اُسے ہینڈز فری میں سُنائی دے رہی تھی۔واسع کو اگر کوئی شبہ تھا تو ختم ہو گیا تھا۔۔وہ ایک عیسائی لڑکی تھی۔۔جو قرآن کی تلاوت سن رہی تھی۔۔لیکن کیوں۔۔۔؟
کیا وہ اسلام میں دلچسپی لے رہی تھی؟
°°°°°°°°°°
تم اچھا پرفارم نہیں کر رہی۔”پاپ کارن پھانکتے ہوئے اُس نے کھا جانے والی نظروں نے رومیصہ کی طرف دیکھا۔اُس کا دل کیا تھا کہ رومیصہ کے اس کمنٹ پہ وہ اُس کو دو تین لگا دے۔وہ دونوں اس وقت گالف کلب میں درختوں کی لمبی سی قطار کے نیچے بیٹھیں پاپ کارن کھاتے ہوئے ارسل اور علی کا انتظار کر رہی تھیں۔تب ہی رومیصہ نے انعم کی پرفارمنس پہ تنقید کی تھی،ویسے بھی یہ گول میز کانفرنس سابقہ پلان کو آگے بڑھانے کے لئے ہی تشکیل دی گئی تھی۔
”میں نے اپنے سر پہ تین کلو میدہ گرا لیا ہے اور تمہیں ابھی بھی میری پرفارمنس پہ شک ہے۔”انعم نے اُسے اپنا کارنامہ یاد دلایا۔رومیصہ ہنسی تھی۔اُسے یکدم اُس دن والا واقعہ یاد آیا تھا۔
”ویسے بھی میں اب سارے ڈرامے سے تنگ آچکی ہوں۔ارسل آتا ہے تو کہتی ہوں ختم کرے سب۔” انعم کے لہجے میں اکتاہٹ نمایاں ہوئی۔رومیصہ نے اُس کی بیزاری اور اکتاہٹ کو محسوس کیا تھا۔
”کہیں یہ ڈرامہ کرتے کرتے تمہیں سچ میں اُس سے محبت تو نہیں ہو گی۔” رومیصہ نے مصنوعی پریشانی دکھاتے ہوئے اُس کا موڈ فریش کرنے کی کوشش کی۔
”بکواس نا کرو۔۔ارسل نے سُن لیا تو جان نکال دے گا تمہاری۔” انعم نے اُسے ڈانٹتے ہوئے ارسل کا خوف دلایا۔ارسل اُس کے بارے میں کتنا حساس تھا وہ سب جانتے تھے۔
‘ویسے یہ دونوں کہاں رہ گئے ہیں۔” انعم موبائل پہ ارسل کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ارسل نے کال بزی کردی تھی۔تب ہی انہوں نے ارسل اور علی کو سامنے سے آتے دیکھا۔
”ہیلو گرلز۔” ارسل دور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے اُنکی طرف بڑھا۔علی بھی اپنے موبائل میں گم اس کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔
”زیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا۔ ”ان کے قریب بیٹھتے ہوئے ارسل نے پوچھا،دونوں نے بیک وقت نفی میں سر ہلایا۔۔
”اب اس کو آزاد کرواؤ بیچاری بے زار ہو گئی ہے۔”ابتدائی گفتگو کے بعد رومیصہ نے ارسل سے کہا تھا۔
”ہاں بس اب آزاد کروانے کا ہی وقت ہے۔”ارسل نے کہا اورانعم کی طرف دیکھنے لگا۔
”کرنا کیا ہے اب۔”انعم نے بے زاری سے پوچھا۔
”کچھ بھی نہیں بس اب تک جو کیا ہے۔اس کا رزلٹ دیکھنا ہے۔”وہ جیسے اُسے تسلی دینے والے انداز میں بولا تھا۔
”اب تمہیں اگلا جال بچھانا ہے۔”علی نے گفتگو میں حصہ لیا تھا۔
”اگلا جال۔یعنی اُسے سچ بتا دوں؟”انعم نے علی طرف دیکھا۔
”پاگل ہو؟”علی اور ارسل نے اُسے ایک ساتھ گُھورا۔تو پھر؟ پلان تو یہی تھا۔” انعم نے کہا۔
”اس پہ الزام لگانا ہے۔”علی نے اُسے بتایا۔
”کیا؟”وہ حیران ہوئی۔
”ہراسمنٹ کا۔”ارسل نے کہا تھا۔یہ نیا پلان تھا جسے ارسل نے ترتیب دیا تھا۔ پہلے صرف افئیر چلا نا تھا اب اُس پہ ہراسمنٹ کا الزام لگانا بھی تھا۔
”کیا۔۔۔”وہ چونکی تھی۔
”ہاں نا ہراسمنٹ۔۔یہی کہ وہ تمہیں کئی عرصے سے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہے ”۔ یہ بات علی نے کہی تھی۔ارسل خاموش تھا۔
بس یہ آخری کام ہو گا تمہارا۔”علی نے جیسے اُسے تسلی دی تھی۔
”اس سے کچھ اتنا نقصان ہو گا بھی نہیں اُسکا۔۔”علی نے اُسے چپ چاپ دیکھ کر کہا۔
”ہاں بس اتنی ہی زلت ہو گی جتنی اُسکی وجہ سے مجھے اُٹھانا پڑی۔”اس بار ارسل نے کہا تھا۔ارسل کی ذ لت کا بدلہ لینے کیلئے اُسے کیا کچھ اور کرنا تھا اُس نے تلخی سے سوچا تھا۔۔ویسے بھی ارسل کے حصے میں ذلت آئی بھی تو اُسی کی وجہ سے تھی۔
”اور تمہیں اب کرنا یہ ہے کہ۔۔۔۔”ارسل اُسے اب اگلا پلان بتانے لگا تھا۔
ارسل نے آزر کو پھانسنے کے لئے جو پلان بنایا تھا اُس نے انعم کے ہوش اُڑا دیے تھے۔ وہ یہ سب نہیں چاہتی تھی لیکن اُسے یہ سب کرنا پڑا تھا۔ اور ارسل کے اس پلان کا نتیجہ وہی نکلا تھا جو انہوں نے سوچا تھا۔لیکن ایک بات وہ سوچنا بھول گئے تھے۔
°°°°°°°

* دروازے پہ زور سے دستک ہوئی تھی۔۔ ”نہیں آزر میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔میں جانتا ہوں تم نے کچھ نہیں کیا۔تم میرا مان نہیں توڑ سکتے۔” سنیل نے آزر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تھا۔آزر سہمی آنکھوں سے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔ساتھ ہی دروازہ ایک مرتبہ پھر زور سے بجا تھا۔ان کے دروازے کے باہر ایک ہجوم کھڑا تھا۔بے حد مشتعل ہجوم۔۔جو ہر صورت اُس انسان کوماردینا چاہتے تھے جس نے یسوع کا پیروکار ہوتے ہوئے بھی یہ شیطانی فعل سر انجام دیا تھا۔اس ہجوم میں تانیہ کے باپ کے علاوہ اُنکی تنظیم کے کچھ افراد تھے،وہ وقفے وقفے سے دروازہ پیٹ رہے تھے،آزر اندر کھڑا اپنیے بسی کا تماشہ دیکھ رہا تھا۔وہ سب وہ لوگ تھے جن کے نزدیک آزر یسوع کی طرف سے بھیجا گیا ایک مسیحا تھا اور ایک وہ مسیحا انکے نزدیک صرف ایک شیطان تھا۔۔ہیرو سے ولن بننا کتنا کٹن تھا۔۔کتنی رسوائی تھی۔۔ان سب لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھنا جنکی آنکھوں میں آپ کے لئے عزت ہی عزت ہو۔۔اس سے بڑھ کر ذلت یا ررسوائی کیا ہو سکتی تھی بھلا۔۔۔؟ ”آزر میں دیکھتا ہوں ان لوگوں کو۔۔تم ایسا کرو اوپر چھت پہ چلے جاؤ۔اور ہاں اگر وہ لوگ مشتعل ہو کر اوپر کی طرف آنے لگیں تو تم کسی بھی طرف دیوار پھلانگ کر بھاگ جانا۔” اُسکا باپ اُسے کھینچتا ہوا سیڑھیوں کے پاس لے آیا تھا۔وہ باپ کی ہدایت پہ چپ چاپ اُنکی طرف دیکھنے لگا تھا۔ ”خدا کے لئے آزر اوپر چلے جاؤ،وہ لوگ ابھی دروازہ توڑ دیں گے۔” باپ کے جڑے ہاتھ دیکھ کر وہ مرے قدم اُٹھاتا اوپر چڑھنے لگا۔اوپر بنے اسٹور روم میں کھڑا ہو کر وہ ونڈو سے نیچے دیکھنا شروع ہو گیا تھا۔وہ کافی زیادہ لوگ تھے،اُس کے باپ نے دروازہ کھول دیا تھا،اور دروازہ کھولتے ہی اُسے زور دار دھکا لگا۔وہ نیچے گرتے گرتے بچے تھے۔ونڈو میں کھڑے آزر کو بے حد تکلیف ہوئی تھی۔اُس کے باپ نے زندگی بھر اُس پہ کوئی آنچ نہیں آنے دی تھی۔اور اب بھی وہ اُسکی خاطر۔۔۔ ”میرے بات سنو بھائیو،آزر بے قصور ہے۔کیا آپ میں۔۔ہم سب جانتے نہیں وہ کیسا ہے۔۔وہ تو یسوع کا سچا پیروکار ہے۔” اسکے باپ نے اُس مشتعل ہجوم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ ”یہی تو ہماری غلطی تھی ہم جان ہی نا پائے کہ وہ کیسا ہے۔جانتے ہو وہ کیسا ہے یہ دیکھو ایسا ہے تمہارا آزر۔۔” اُس ہجوم میں سے ایک آدمی نے موبائل نکال کر سنیل کے سامنے کیا تھا۔وہ ایک تصویر تھی۔۔جس میں ایک روتی ہوئی لڑکی اور اس لڑکی کا دوپٹہ ہاتھ میں لئے آزر کھڑا تھا،اُس تصویر میں بہت سی اس سے ملتی جُلتی تصاویر تھیں۔سنیل کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئیں۔ ”ارے ہم نے اُسے کیا سمجھا اور وہ کیا نکلا؟ ”یہ مائیک کی آواز تھی۔مائیک اُسکا ہمسایہ۔۔اُسکا کتنا اچھا دوست۔اُسکے سامنے ہی تو آزر بڑا ہوا تھا وہ تو کم از کم ایسا نا کہتا۔’جاؤ دیکھو سنیل تمہارا بیٹا کیا نکلا ہے۔۔سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے تمہارے لاڈلے کے کارناموں سے۔کئی عینی گواہ ہیں اس کے کرتوت کے۔اور پہلے وہ اُس لڑکی کے ساتھ عشق کی پینگیں چڑھاتا رہا پوری یونیورسٹی کے سامنے۔اور جب کام نہیں بنا تو اُس لڑکی کی عزت پہ حملہ کردیا”۔۔۔ مائیک کی آواز ہانپنے لگی تھی۔اور سنیل کی ٹانگوں میں کپکپاہٹ بڑھتی ہی جارہی تھی۔ ”کیا آپ لوگوں کو پتا ہے ایک دن وہ اس لڑکی کے ساتھ تنہا اس گھر میں موجود تھا۔میری بیٹی نے خود دیکھا ہے ان دونوں کو ایک ساتھ”۔۔۔مائیک اس مشتعل ہجوم کو مزید مشتعل بنا رہے تھے۔ ”کہاں ہے وہ کم بخت نکالو اُسکو باہر۔۔” ایک آدمی نے شدید غصے سے کہا۔ ”وہ۔۔وہ گھر میں نہیں ہے ‘۔”سنیل نے کمزور آوا ز میں کہا۔اُس آدمی کو مزید غصے آیا تھا۔اُس نے سنیل کو کالر سے پکڑ کر کھینچا،سنیل کا توازن بگڑا وہ اُس آدمی کے قدموں میں بُری طرح گِرے تھے۔ اوپر ونڈو میں کھڑے آزر کی برداشت اب ختم ہوگئی تھی۔وہ اپنے باپ کو مزید اپنی وجہ سے ذلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔وہ بھاگتا ہوا سیڑھیاں اُترا اور اسی طرح بھاگتا ہوا اُس ہجوم میں پہنچا۔اُس نے نیچے جُھکتے ہوئے اپنے باپ کو اُٹھایا تھا۔وہ اپنے باپ کو سینے سے لگانا چاہتا تھا لیکن اس مشتعل ہجوم نے موقع نہیں دیا تھا۔آزر اور اُسکے باپ کے درمیان لوگ جمع ہو تے گئے تھے۔۔آزر نے بے بسی سے باپ کو خود سے الگ ہوتے دیکھا۔۔اور پھر اُس کچھ سمجھنے یا کہنے کا موقع نہیں ملا تھا۔زور دار طمانچے۔۔مُکے۔۔تھوک۔۔ایک ساتھ اُسکے چہرے پہ برسائے جانے لگے تھے۔ اُسی ہجوم میں سے ایک آدمی اُس کے قریب آیا اُس کے ہاتھ میں شاپر تھا۔اُس نے شاپر کو آزر کے چہرے پہ اُلٹ دیا تھا۔۔آزر کا چہرہ کالک میں چھُپ گیا تھا۔
اے میرے خدایا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔
اے میرے خدایا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔
اے میرے خدایا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔”
وہ فرش پہ لیٹا بے قراری کے عالم میں خدا کو پُکاررہا تھا۔وہ کتنی اذیت میں تھا؟شاید وہ خود بھی بیان نہیں کر سکتا تھا۔وہ خود کو صلیب پہ لٹکا محسوس کر رہا تھا،اور اُسکے ہاتھ صلیب کے ساتھ جیسے کیل کی مدد سے کسی نے ٹھونک دیے تھے۔۔ہاں وہ اتنا ہی تکلیف میں تھا۔ اتنا ہی بے بس تھا۔۔
”خداواند تو نے مجھے اس لئے چھوڑدیا کہ میں نے اپنا راستہ بدل لیا۔”اُسکی آواز اونچی ہوئی تھی۔
”جس دل میں یسوع تھا اُس میں۔میں نے کسی اور کو جگہ دی۔۔وہ بھی اسکو یسوع جو تیری پیروکار ہی نہیں تھی۔” آنسو تیز ہوئے تھے۔
”اے یسوع کیا میرا گناہ اتنا بڑا تھا۔۔جو میرے ساتھ اتنا بُرا ہوا۔” فرش پہ لیٹے لیٹے اُس نے اپنے بال نوچے۔
”یسوع تو نے مجھے کیوں خود سے الگ کر دیا۔۔”وہ چیخا تھا۔اور ساتھ ہی اُس نے کسی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا۔وہ اُسی کی عمر کا ایک لڑکا تھا۔وہ اُسی طرح چیختا رہا۔
”اے یسوع تو نے کیوں مجھے اپنے بد ن سے الگ کردیا۔” اندر آنے والے لڑکے نے اُسکوقابو میں کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا ہوا انجیکشن اُسکے بازہ میں پیوست کیا۔وہ مزید بلند چیخا۔
”اے یسوع کیا میرا جرم اتنا بڑا تھا کہ تو نے مجھے اپنے آپ سے الگ کر دیا۔۔”لڑکا انجیکشن ختم کرنے کے بعد اُٹھ کھڑا ہوا۔
”اے یسوع۔۔ ”اُسے یکدم غنودگی ہوئی۔اُس کے چیخنے میں کمی آئی تھی۔اُس لڑکے نے اُس کے سرکے نیچے تکیہ دیا اور اُسے نارمل ہوتا دیکھ کر کمرے سے نکل گیا۔
°°°°°°°°°°
وہ اب کچھ ٹھیک ہے۔اللہ کا شکر ہے وہ نارمل تو ہوا۔” ذوالفقار علی کے بیٹے نے اُنہیں بتایا تھا۔اُنہوں نے ایک گہری سی سانس لی۔
”یسوع مسیح سے دھوکہ کرنے والا اسی کالک کا مستحق ہے۔” اُس آدمی نے زورسے چلاتے ہوئے کہا۔ابھی پتا نہیں اور کیا کیا ہونا تھا،لیکن اچانک سے پولیس سائرن نے سب کو چوکنا کیا تھا۔۔پولیس کے کچھ اہلکار تیزی سے اُس ہجوم میں داخل ہوئے۔اُنہوں نے لوگوں کے چُنگل سے آزر کو نکالتے ہوئے اپنی وین میں بٹھایا تھا۔
اُس نے کچھ کہا تم سے؟” ذوالفقار علی نے پوچھا۔
”بائبل مانگی تھی اُس نے۔” اُس نے بتایا تھا۔
”تو تم نے کیا کہا۔”
”میں نے اُسکو بائبل لا کر دے دی ہے۔”اُس نے سنجیدگی سے کہا۔
”ابو۔۔کیا ہمیں اب اُسے اُسکے ابو کے بارے میں بتا دینا چاہیے۔” بات ٹھیک تھی۔کافی وقت گزر گیا تھا،اب تو اسے یہ بات پتا چل جانی چاہیے تھی۔
”ابھی صہیح وقت نہیں ہے۔ابھی تو وہ پہلے صدمے سے نہیں نکلا۔”انہوں نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
”ابو۔۔زندگی کتنی عجیب شے ہے نا۔۔کتنا بڑا صدمہ دیا ہے نا زندگی نے اُسے۔۔اُسکا پاب نہیں رہا،اور وہ اپنے باپ کا آخری وقت میں دیدار بھی نہیں کرسکا۔”
”بس دعا کرو،اللہ تعالی اُسے ہمت دیں۔”اُنہوں نے کہا۔
”اچھا دیکھو وہ کیا کر رہا ہے۔” باپ کے کہنے پہ وہ جلد ی سے اُٹھ کر اُس کمرے کی طرف گیا تھا۔
دروازے کو ناک کرتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا۔وہ بالکل خاموشی سے بیٹھا تھا۔وہ کچھ دیر یونہی ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے
”ہیلو آزر کیسے ہو اب۔” آزر نے کوئی جواب نہیں دیا،بس خالی نظروں سے اُسکی طرف دیکھتا رہا۔اُسے خاموش دیکھ کر اُسنے اپنا تعارف کروانا شروع کیا۔آزر اُسی طرح اُسکی طرف دیکھتا رہا۔
”کسی چیز کی ضرورت ہے ”اُس نے نرمی سے اُسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
”مجھے پاپا سے بات کرنی ہے۔”آزر نے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔ اُسے آزر پہ ترس سا آیا۔وہ اُسے بتانا چاہتا تھا کہ۔۔۔لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکا تھا۔
°°°°°°° *
محمد ذوالفقار علی اور سنیل کا تعلق اتنا گہرا نہیں تھا۔ذوالفقار علی کے دونوں بیٹے میٹرک میں سنیل صاحب کے شاگرد رہ چکے تھے۔سنیل اُن کے گھر میں ہوم ٹیوشن کے لئے جاتے تھے۔جس کی وجہ سے کئی سال گزر جانے کے باوجود بھی جس جگہ سنیل صاحب
ملتے وہ اُنہیں کافی عزت دیتے۔محمد ذوالفقار ڈی سی تھے،اُنکا فیملی بیک گراؤنڈ بھی کافی مضبوط تھا۔وہ اکثر سنیل صاحب سے کہتے کہ زندگی میں کسی بھی کام یا ضرورت کے لئے وہ حاضر ہیں۔
اُس دن جب سنیل نے اپنے بیٹے کے لئے مدد کا ہر دروازہ بند ہوتے دیکھا تو اُن کے ذہن میں پتا نہیں کیسے ذوالفقار علی کا خیال آیا تھا۔اُنہوں نے آزر کو چھت پہ بھیجنے کے بعد فوراً ذوالفقار علی کو فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
ذوالفقار علی نے چند منٹ میں اُنکے قریبی آفس میں فون کر کے اُنہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی ایک مطلوبہ ایڈریس دیتے ہوئے بھاری تعداد میں عملے کو بھیجنے کی تلقین کی۔اور اگلے چند منٹس میں اہلکاروں کی بھار ی تعداد وہاں پہنچ گئی تھی،جنہوں نے اس مشتعل افراد کے ہاتھوں سے آزر کو نکال کر ذوالفقار علی کے پاس پہنچا دیا تھا۔ذوالفقار علی نے فی الحال آزر کو اپنے پاس رکھنے کا سوچا تھا۔اُنکا خیال تھا حالات نارمل ہونے تک آزر یہی پہ رہے گا۔
سنیل نے آزر کا کچھ سامان ذوالفقار علی کے گھر پہنچا دیا تھا۔اور ساتھ میں اپنا گھر بیچنے پہ لگا دیا۔لیکن گھر بیچنے کے چند دن بعد ہی انہیں ہارٹ اٹیک آیا اور ان کی جان چلے گئی۔ آزر اُ ن دنوں بے حد بُری حالت کا شکار تھا۔وہ زیادہ تر بے ہوش ہی رہتا،اگر ہوش میں آتا بھی تو زور زور سے چیخنے لگتا۔۔اپنے آپ کو مارنے لگتا۔۔اس کی حالت اتنی خراب ہو جاتی کہ اُسے پھر سے بے ہو شی کا انجیکشن دینا پڑتا۔
سنیل کی موت کے بعد ذوالفقار علی نے اپنے کندھے پہ ساری ذمہ داری لے لی تھی۔وہ آزر کو بالکل نارمل دیکھنا چاہتے تھے۔اور اُسے نارمل حالت میں لانے کے لئے ذوالفقار علی کی پوری فیملی اُنکا ساتھ دے رہی تھی۔
***
”آپ کا یہ پاؤچ اُس دن یہی رہ گیاتھا۔” اُس کے آتے ہی ہیلو ہائے کرنے کے بعد اُس نے پاؤچ اُس کے حوالے کیا۔اُس کے چہرے پہ یک دم خوشی جھلکی۔
”اوہ شکر ہے۔مجھے تو یاد ہی نہیں تھاکہ یہ گِرا کہاں ہے۔” وہ پہلی دفعہ اُس کے سامنے اس طرح خوش دلی سے مسکرارہی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے واقعی ہی بہت اچھی لگتی تھی۔وہ بغیر
کچھ کہے اپنے کام میں لگ گیا۔کسٹمرز کو ڈیل کرتے ہوئے اُس نے کئی مرتبہ اُس کی طرف دیکھا تھا۔یہ عجیب بات تھی،اُسکی آنکھیں پھر سے اُداس تھیں۔ویسا ہی خالی پن تھا۔
شفٹ ختم ہونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر اُسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔وہ اُس سے کیا کہے گا۔۔ابھی یہی سوچ رہا تھا۔۔تب ہی اچانک ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا۔وہ جو اُس سے چند قدم آگے تھی ہوا سے بچنے کے لئے یک دم اپنا رُخ موڑا۔۔دونوں کی نظریں ملی تھیں۔۔واسع نے اُسے کھڑے ہوتے دیکھا۔وہ اُسکے قریب پہنچ چُکا تھا۔
”کوئی کام ہے کیا؟وہ سوالیہ انداز میں اُسکی جانب دیکھنے لگی۔
”کیا ہم ساتھ میں کافی پی سکتے ہیں۔”اُس نے دائیں جانب ایک کافی شاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اُسے حیرت ہوئی جب وہ مان گئی،شاید وہ پاؤچ مل جانے پہ اُسکی شکر گزار تھی۔اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ کافی شاپ کی جانب چلنے لگی۔
”کونسا فلیور۔”اُس نے کاؤنٹر کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے اُسکی مرضی کا فلیور پوچھ کرآرڈر کیا۔وہ پاس والے ٹیبل پہ چلے گئی تھی۔چند منٹ بعد وہ کافی اُٹھائے وہاں پہنچ گیا تھا۔
”پاکستان کس شہر سے ہیں آپ؟” گفتگو کا آغاز واسع نے کیا تھا۔ فی الحال اُسے یہی سوال سمجھ آیا تھا۔
”لاہور سے۔ ”دو لفظی جواب دے کر وہ کافی پینے لگی۔واسع اُسکو دیکھتے ہوئے اُس بات کے متعلق سوچنے لگا جو وہ اُس سے کرنا چاہتا تھا۔
”آپ کس علاقے سے ہیں۔ ”اُس نے پوچھا۔واسع یکدم کُرسی پہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ کم از کم وہ اُس سے کسی سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
”لاہور کے پاس ہی ہے شیخوپورہ۔”اُس نے بتایا۔اور پھر دونوں کے درمیان خاموشی آگئی۔
”میں یہاں اسٹڈی کے سلسلے میں آیا ہوں۔”وہ خود ہی اُسے اپنے بارے میں بتانے لگا تھا۔وہ چپ چاپ اُسے سُن رہی تھی،کبھی کبھی کسی بات پہ ہلکا سا مسکرا دیتی اور پھر کافی پینے لگتی۔
”اب مجھے چلنا چاہئے۔ ”کافی ختم کرتے ہوئے اُس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
”پہلے ہی کافی کے چکر میں،بس نکل گئی ہے۔اب دوسری نا نکل جائے۔”وہ مسکراتے ہوئے شاپ سے باہر آگئی۔
مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے؟” وہ اُس کے پیچھے ہی نکل آیا تھا۔
”کیا؟” اُس نے چلتے ہوئے لاپروائی سے پوچھا۔
”کیا آپ مسلمان ہیں؟”اُس کا چہر ہ پھیکا پڑا۔
”نہیں۔ ”اُس نے چند سیکنڈ بعد کہا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے ٹرمینل پہ پہنچ گئی۔ وہ بھی اُسکے ساتھ ساتھ ہی تھا۔
”تو پھر آپ نے اپنے آڈیو پلئیر میں قرآن پاک کیوں رکھا ہے؟” واسع نے کہا۔اُس نے یکدم چونک کر واسع کی طرف دیکھا۔

                *********************

‘بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے؟ ”آزر ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔ذوالفقار علی اُس کے پاس آکر بیٹھ گئے ۔
”جی انکل؟ ”اُس نے ناشتے کی ٹرے سائیڈ پہ کرتے ہوئے اُنکی طرف دیکھا۔
”بات یہ ہے کہ۔۔” اُنہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بات کیسے شروع کریں۔ذوالفقار علی کابیٹا بھی وہاں آگیا تھا۔
؎”خدا نے زندگی کا نظام ہی ایسا بنایا ہے میرے بچے،ہر کسی کوجانا ہی ہے۔ ”آزر ساکت ہوگیا تھا۔وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔اُنہوں نے آزر کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔اُن کا بیٹا اُسکے کندھے سہلا نے لگا۔وہ دونوں مل کر جیسے اُسے کسی بُرے وقت کے لئے تیار کر رہے تھے۔وہ اُڑی ہوئی رنگت کے ساتھ اُن کی طرف دیکھنے لگا۔
”سنیل صاحب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ”کسی نے اُسکے سر پہ وزنی پتھر دے مارا تھا۔باپ کی موت کی خبر سے بڑھ کر کوئی خبر درد ناک نہیں ہو سکتی۔۔کوئی درد اس درد کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔تو پھر کیسے اس خبر سے پیروں تلے زمین نا نکلے،کیسے اس خبر سے آسمان سر پہ نا آن گرے۔۔
”تمہاری حالت ایسی تھی آزر کہ تمہیں کسی شے کا ہوش نہیں رہا تھا۔اسلئے ہم نے تمہیں کچھ نہیں بتایا میرے بچے ہمیں معاف کر دینا۔” ذوالفقار علی اُسکے آگے اب ہاتھ جوڑ رہے تھے۔وہ ساکت۔۔چپ چاپ۔۔حواس باختہ اُن کی طرف دیکھتا رہا۔۔پھر وہ اچانک چلایا۔۔بلند آواز
میں رویا تھا۔۔پاگلوں کی طرح چیخا۔۔اُسے چیختے ہوئے وہ سب نصیحتیں یاد آئی تھیں جو کبھی اُسکے باپ نے کی تھیں،باپ کے جانے کے بعد ہی باپ کی کہی ہوئی باتیں یاد آتی ہیں۔۔ آزر کے زخموں میں مزید ایک زخم میں اضافہ ہو اتھا۔۔اور یہ زخم سب سے گہرا تھا۔
***
یہ چند دن بعد کی بات تھی۔زخم بھرا تو نہیں تھا لیکن وہ پہلے کی نسبت سنبھل گیا تھا۔
‘آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟” وہ پھر سے اُسکے کمرے میں آیا تھا۔ وہ اُسی کا ہم عمر تھا۔ لیکن آزر کو پتا نہیں کیوں اُس سے اُلجھن سی ہورہی تھی۔وہ اس فیملی کی اچھائیاں چند سال پہلے اپنے باپ سے سُن چکا تھا لیکن ذوالفقار علی کے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے اُسے ارسل یاد آنے لگتا۔حالانکہ دونوں میں کسی قسم کی مشابہت نہیں تھی۔
”مجھے چرچ جانا ہے۔” آزر نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔وہ جانتا تھا وہ انکار کر دے گا،لیکن پھر بھی اُس نے کہہ دیا۔
”ٹھیک ہے۔آج شام میں میں آپکو ڈراپ کردوں گا۔”جواب خلاف توقع تھا۔ لہجہ بھی نرم تھا۔
اور شام کو واقعی ہی وہ اُسے چرچ لے آیا تھا۔چھ ماہ بعد آزر نے چرچ کو دیکھا تھا،وہ جگہ جہاں جانے میں وہ ایک دن کا وقفہ بھی نا ڈالتا۔۔اب چھ ماہ گزر گئے تھے۔۔۔اپنی عجیب ہوتی ہوئی دھڑکنوں پہ قابو پانے کے بعد وہ چرچ میں داخل ہوا تھا۔۔
وہاں کچھ نہیں بدلا تھا۔سب کچھ پہلے جیسا تھا۔۔ویسے ہی لوگ یسوع سے اپنے لئے رحم مانگ رہے تھے۔۔اُس نے بھی دعا میں شامل ہو کر یسوع سے رحم مانگنا شروع کیا۔۔لیکن اُسکے ہونٹ نہیں ہل رہے تھے۔۔اُسے لگا جیسا اُسکا وجود اب اس قابل ہی نہیں رہا وہ یسوع سے اپنے لئے رحم مانگ سکے۔۔اُس نے سوچا تھا کہ اگر ہونٹ نہیں ہل رہے تو وہ آنسو گرا کر ہی یسوع کے سامنے ندامت کا اظہار کر لے۔۔لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ اُسکی آنکھیں جیسے پتھر کی ہو گئی تھیں۔۔آنکھوں میں موجود سیلاب خشک تھا۔
وہ بے بسی کے عالم میں ایک گھنٹہ وہیں بیٹھا رہا۔پھر چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا باہر آگیا تھا۔۔چرچ سے باہر نکلتے ہی اُسے انعم یاد آئی تھی۔وہ دن جب وہ اُسکے ساتھ چرچ آئی تھی۔۔یہ وہ چر چ نہیں تھا جہاں وہ اُسے لیکر آیا تھا پھر بھی پتا نہیں کیوں اُسے وہاں کھڑے کھڑے وہ یاد آئی تھی۔
تم چرچ جانا کبھی مس نہیں کرتے۔ ”اُس دن چرچ سے نکلنے کے بعد انعم نے اُس سے پوچھا تھا۔وہ اُس کے جواب میں مسکرایا۔
”نہیں خدا سے ملاقات میں کبھی مس نہیں کرتا۔”اُس نے جواب دیا تھا۔
آزر کو یکدم غصہ سا آیا۔وہ اب بھی اُسکو سوچ رہا تھا،وہ جس نے اُسکی زندگی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
”ارے بھائی کہاں رہ گئے تھے آپ میں تو پریشان ہی ہو گیا تھا۔”وہ پارکنگ میں اُسکا انتظار کر رہا تھا اور اُسکے جلد باہر نا آنے کی وجہ سے پریشان ہو گیا تھا۔اب اُسکو دور سے ہی دیکھ کر وہ اُسکی طرف چلا آیا۔
”میں نے تو ابو کو کال کی ابو مجھے غصے ہو رہے تھے کہ تمہیں اسکے ساتھ اندر جانا چاہئے تھا۔” وہ اُسے ہنستے ہوئے بتا رہا تھا۔آزر نے چونک کر اُسکی طرف دیکھا۔وہ اُسکے تاثرات دیکھے بغیر بولتا رہا۔
”میں بس اندر آنے ہی والا تھا۔”
”آپ آجاتے اندر؟” آزر نے اُسکی بات کاٹی۔وہ کچھ سیکنڈز خاموش رہا،پھر اُس نے اپنے کندھے اچکائے۔
”ہاں بالکل مجھے کیا تھا؟” اُس نے اپنی نگاہیں آزر کے چہرے پہ مرکوز کرتے ہوئے پوچھا۔آزر کو اُسی لمحے ارسل یاد آیا تھا۔
”اصل میں آپ مسلمان ہیں۔”آزر نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”ہمارا مذہب ہمیں تنگ نظری نہیں سکھاتا۔” آزر کو یہ بات عجیب سی لگی تھی۔

واسع کا خیال غلط تھا۔وہ اُس کے سامنے پھر سے آئی تھی۔ اُس نے سٹور چھوڑا تھا نا ہی ڈیوٹی چینج کروائی تھی۔حالانکہ واسع کا خیال تھا کہ اپنی چوری پکڑے جانے پہ وہ ایسا کچھ نا کچھ تو کرے گی،لیکن اُس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔وہ ہیں تھی،اور بالکل نارمل انداز میں وہ کسٹمرز کو ڈیل کررہی تھی۔اور وہ اُسے اُسی طرح نظر انداز کر رہی تھی جیسے پہلے کر رہی تھی،یعنی کہیں بھی کچھ بدلا نہیں تھا۔واسع نے بھی اُس بات نا کرنے کا فیصلہ کر لیا،اگر وہ اُس دور رہنا چاہتی تھی،خود کو چھُپانا چاہتی تھی تو بہتر تھا وہ بھی آگے نا بڑھے۔ سب کچھ معمول سے چلنے شروع ہوگیا تھا،وہ پہلے کی طرح اجنبی بنے اپنااپنا کام کرتے رہتے۔اُس دن ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد واسع نے امیلاکے کاؤنٹر کے پاس ایک پنک کلر کا پاؤچ گِرا دیکھا،یہ امیلاکا پاؤچ تھا۔وہ کئی مرتبہ اُس کے ہاتھ میں اُسے دیکھ چکا تھا۔اُس نے شاید وہیں ریک پہ رکھا تھا اور پھر اُٹھانا بھول گئی تھی۔وہ اب زمین پہ گِرا ہو اتھا۔واسع نے جھکتے ہوئے اُسے اٹھا لیا تھا۔
اگلے دن وہ پاؤچ اپنے ساتھ لایا تھا لیکن وہاں آنے پہ اُسے پتا چلا کہ وہ آج چھُٹی پہ تھی۔اُسے واپسی پہ وہ پاؤچ اپنے ساتھ لانا پڑا۔وہ رات کو اپنے اپارٹمنٹ میں بیٹھا اسائنمنٹ بنا رہا تھا،اور تب ہی اسائنمنٹ بناتے بناتے اُس کی نظر اُس پاؤچ پہ پڑی۔وہ اُس سے ایک فٹ کہ فاصلے پہ پڑا تھا۔پہلی دفعہ اُس کا دل اُسے کھولنے کو کیا تھا۔اُسکے دوسرے روم میٹس سو چکے تھے۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُس پاؤچ کو پکڑا۔ یہ اُسے غیر اخلاقی لگ رہا تھا،لیکن وہ تجسس کے ہاتھوں بُری طرح مجبور تھا۔اُس نے نا چاہتے ہوئے بھی اُسے کھول لیا تھا۔اُس میں چند کرنسی نوٹ،اُسکی ایک تصویر۔۔ایک صلیب والا لاکٹ اور ساتھ میں ایک چھوٹاسا آڈیو پلئیر تھا۔جس میں ہینڈز فری لگی ہوئیں تھی۔کسی لاشعوری عمل کے تحت اُس نے ہینڈز فری کانوں میں لگاتے ہوئے پلے کا بٹن دبایا۔۔
وہ حیرا ن نہیں ہوا تھا۔بس اُسکے دل نے دھڑکنا بند کر دیا تھا۔وہ بے یقینی کے عالم میں سورہ الملک کی اُس تلاوت کو سُن رہا تھا جو اُسے ہینڈز فری میں سُنائی دے رہی تھی۔واسع کو اگر کوئی شبہ تھا تو ختم ہو گیا تھا۔۔وہ ایک عیسائی لڑکی تھی۔۔جو قرآن کی تلاوت سن رہی تھی۔۔لیکن کیوں۔۔۔؟
کیا وہ اسلام میں دلچسپی لے رہی تھی؟
°°°°°°°°°°
تم اچھا پرفارم نہیں کر رہی۔”پاپ کارن پھانکتے ہوئے اُس نے کھا جانے والی نظروں نے رومیصہ کی طرف دیکھا۔اُس کا دل کیا تھا کہ رومیصہ کے اس کمنٹ پہ وہ اُس کو دو تین لگا دے۔وہ دونوں اس وقت گالف کلب میں درختوں کی لمبی سی قطار کے نیچے بیٹھیں پاپ کارن کھاتے ہوئے ارسل اور علی کا انتظار کر رہی تھیں۔تب ہی رومیصہ نے انعم کی پرفارمنس پہ تنقید کی تھی،ویسے بھی یہ گول میز کانفرنس سابقہ پلان کو آگے بڑھانے کے لئے ہی تشکیل دی گئی تھی۔
”میں نے اپنے سر پہ تین کلو میدہ گرا لیا ہے اور تمہیں ابھی بھی میری پرفارمنس پہ شک ہے۔”انعم نے اُسے اپنا کارنامہ یاد دلایا۔رومیصہ ہنسی تھی۔اُسے یکدم اُس دن والا واقعہ یاد آیا تھا۔
”ویسے بھی میں اب سارے ڈرامے سے تنگ آچکی ہوں۔ارسل آتا ہے تو کہتی ہوں ختم کرے سب۔” انعم کے لہجے میں اکتاہٹ نمایاں ہوئی۔رومیصہ نے اُس کی بیزاری اور اکتاہٹ کو محسوس کیا تھا۔
”کہیں یہ ڈرامہ کرتے کرتے تمہیں سچ میں اُس سے محبت تو نہیں ہو گی۔” رومیصہ نے مصنوعی پریشانی دکھاتے ہوئے اُس کا موڈ فریش کرنے کی کوشش کی۔
”بکواس نا کرو۔۔ارسل نے سُن لیا تو جان نکال دے گا تمہاری۔” انعم نے اُسے ڈانٹتے ہوئے ارسل کا خوف دلایا۔ارسل اُس کے بارے میں کتنا حساس تھا وہ سب جانتے تھے۔
‘ویسے یہ دونوں کہاں رہ گئے ہیں۔” انعم موبائل پہ ارسل کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ارسل نے کال بزی کردی تھی۔تب ہی انہوں نے ارسل اور علی کو سامنے سے آتے دیکھا۔
”ہیلو گرلز۔” ارسل دور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے اُنکی طرف بڑھا۔علی بھی اپنے موبائل میں گم اس کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔
”زیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا۔ ”ان کے قریب بیٹھتے ہوئے ارسل نے پوچھا،دونوں نے بیک وقت نفی میں سر ہلایا۔۔
”اب اس کو آزاد کرواؤ بیچاری بے زار ہو گئی ہے۔”ابتدائی گفتگو کے بعد رومیصہ نے ارسل سے کہا تھا۔
”ہاں بس اب آزاد کروانے کا ہی وقت ہے۔”ارسل نے کہا اورانعم کی طرف دیکھنے لگا۔
”کرنا کیا ہے اب۔”انعم نے بے زاری سے پوچھا۔
”کچھ بھی نہیں بس اب تک جو کیا ہے۔اس کا رزلٹ دیکھنا ہے۔”وہ جیسے اُسے تسلی دینے والے انداز میں بولا تھا۔
”اب تمہیں اگلا جال بچھانا ہے۔”علی نے گفتگو میں حصہ لیا تھا۔
”اگلا جال۔یعنی اُسے سچ بتا دوں؟”انعم نے علی طرف دیکھا۔
”پاگل ہو؟”علی اور ارسل نے اُسے ایک ساتھ گُھورا۔تو پھر؟ پلان تو یہی تھا۔” انعم نے کہا۔
”اس پہ الزام لگانا ہے۔”علی نے اُسے بتایا۔
”کیا؟”وہ حیران ہوئی۔
”ہراسمنٹ کا۔”ارسل نے کہا تھا۔یہ نیا پلان تھا جسے ارسل نے ترتیب دیا تھا۔ پہلے صرف افئیر چلا نا تھا اب اُس پہ ہراسمنٹ کا الزام لگانا بھی تھا۔
”کیا۔۔۔”وہ چونکی تھی۔
”ہاں نا ہراسمنٹ۔۔یہی کہ وہ تمہیں کئی عرصے سے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہے ”۔ یہ بات علی نے کہی تھی۔ارسل خاموش تھا۔
بس یہ آخری کام ہو گا تمہارا۔”علی نے جیسے اُسے تسلی دی تھی۔
”اس سے کچھ اتنا نقصان ہو گا بھی نہیں اُسکا۔۔”علی نے اُسے چپ چاپ دیکھ کر کہا۔
”ہاں بس اتنی ہی زلت ہو گی جتنی اُسکی وجہ سے مجھے اُٹھانا پڑی۔”اس بار ارسل نے کہا تھا۔ارسل کی ذ لت کا بدلہ لینے کیلئے اُسے کیا کچھ اور کرنا تھا اُس نے تلخی سے سوچا تھا۔۔ویسے بھی ارسل کے حصے میں ذلت آئی بھی تو اُسی کی وجہ سے تھی۔
”اور تمہیں اب کرنا یہ ہے کہ۔۔۔۔”ارسل اُسے اب اگلا پلان بتانے لگا تھا۔
ارسل نے آزر کو پھانسنے کے لئے جو پلان بنایا تھا اُس نے انعم کے ہوش اُڑا دیے تھے۔ وہ یہ سب نہیں چاہتی تھی لیکن اُسے یہ سب کرنا پڑا تھا۔ اور ارسل کے اس پلان کا نتیجہ وہی نکلا تھا جو انہوں نے سوچا تھا۔لیکن ایک بات وہ سوچنا بھول گئے تھے۔
* دروازے پہ زور سے دستک ہوئی تھی۔۔ ”نہیں آزر میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔میں جانتا ہوں تم نے کچھ نہیں کیا۔تم میرا مان نہیں توڑ سکتے۔” سنیل نے آزر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تھا۔آزر سہمی آنکھوں سے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔ساتھ ہی دروازہ ایک مرتبہ پھر زور سے بجا تھا۔ان کے دروازے کے باہر ایک ہجوم کھڑا تھا۔بے حد مشتعل ہجوم۔۔جو ہر صورت اُس انسان کوماردینا چاہتے تھے جس نے یسوع کا پیروکار ہوتے ہوئے بھی یہ شیطانی فعل سر انجام دیا تھا۔اس ہجوم میں تانیہ کے باپ کے علاوہ اُنکی تنظیم کے کچھ افراد تھے،وہ وقفے وقفے سے دروازہ پیٹ رہے تھے،آزر اندر کھڑا اپنیے بسی کا تماشہ دیکھ رہا تھا۔وہ سب وہ لوگ تھے جن کے نزدیک آزر یسوع کی طرف سے بھیجا گیا ایک مسیحا تھا اور ایک وہ مسیحا انکے نزدیک صرف ایک شیطان تھا۔۔ہیرو سے ولن بننا کتنا کٹن تھا۔۔کتنی رسوائی تھی۔۔ان سب لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھنا جنکی آنکھوں میں آپ کے لئے عزت ہی عزت ہو۔۔اس سے بڑھ کر ذلت یا ررسوائی کیا ہو سکتی تھی بھلا۔۔۔؟ ”آزر میں دیکھتا ہوں ان لوگوں کو۔۔تم ایسا کرو اوپر چھت پہ چلے جاؤ۔اور ہاں اگر وہ لوگ مشتعل ہو کر اوپر کی طرف آنے لگیں تو تم کسی بھی طرف دیوار پھلانگ کر بھاگ جانا۔” اُسکا باپ اُسے کھینچتا ہوا سیڑھیوں کے پاس لے آیا تھا۔وہ باپ کی ہدایت پہ چپ چاپ اُنکی طرف دیکھنے لگا تھا۔ ”خدا کے لئے آزر اوپر چلے جاؤ،وہ لوگ ابھی دروازہ توڑ دیں گے۔” باپ کے جڑے ہاتھ دیکھ کر وہ مرے قدم اُٹھاتا اوپر چڑھنے لگا۔اوپر بنے اسٹور روم میں کھڑا ہو کر وہ ونڈو سے نیچے دیکھنا شروع ہو گیا تھا۔وہ کافی زیادہ لوگ تھے،اُس کے باپ نے دروازہ کھول دیا تھا،اور دروازہ کھولتے ہی اُسے زور دار دھکا لگا۔وہ نیچے گرتے گرتے بچے تھے۔ونڈو میں کھڑے آزر کو بے حد تکلیف ہوئی تھی۔اُس کے باپ نے زندگی بھر اُس پہ کوئی آنچ نہیں آنے دی تھی۔اور اب بھی وہ اُسکی خاطر۔۔۔ ”میرے بات سنو بھائیو،آزر بے قصور ہے۔کیا آپ میں۔۔ہم سب جانتے نہیں وہ کیسا ہے۔۔وہ تو یسوع کا سچا پیروکار ہے۔” اسکے باپ نے اُس مشتعل ہجوم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ ”یہی تو ہماری غلطی تھی ہم جان ہی نا پائے کہ وہ کیسا ہے۔جانتے ہو وہ کیسا ہے یہ دیکھو ایسا ہے تمہارا آزر۔۔” اُس ہجوم میں سے ایک آدمی نے موبائل نکال کر سنیل کے سامنے کیا تھا۔وہ ایک تصویر تھی۔۔جس میں ایک روتی ہوئی لڑکی اور اس لڑکی کا دوپٹہ ہاتھ میں لئے آزر کھڑا تھا،اُس تصویر میں بہت سی اس سے ملتی جُلتی تصاویر تھیں۔سنیل کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئیں۔ ”ارے ہم نے اُسے کیا سمجھا اور وہ کیا نکلا؟ ”یہ مائیک کی آواز تھی۔مائیک اُسکا ہمسایہ۔۔اُسکا کتنا اچھا دوست۔اُسکے سامنے ہی تو آزر بڑا ہوا تھا وہ تو کم از کم ایسا نا کہتا۔’جاؤ دیکھو سنیل تمہارا بیٹا کیا نکلا ہے۔۔سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے تمہارے لاڈلے کے کارناموں سے۔کئی عینی گواہ ہیں اس کے کرتوت کے۔اور پہلے وہ اُس لڑکی کے ساتھ عشق کی پینگیں چڑھاتا رہا پوری یونیورسٹی کے سامنے۔اور جب کام نہیں بنا تو اُس لڑکی کی عزت پہ حملہ کردیا”۔۔۔ مائیک کی آواز ہانپنے لگی تھی۔اور سنیل کی ٹانگوں میں کپکپاہٹ بڑھتی ہی جارہی تھی۔ ”کیا آپ لوگوں کو پتا ہے ایک دن وہ اس لڑکی کے ساتھ تنہا اس گھر میں موجود تھا۔میری بیٹی نے خود دیکھا ہے ان دونوں کو ایک ساتھ”۔۔۔مائیک اس مشتعل ہجوم کو مزید مشتعل بنا رہے تھے۔ ”کہاں ہے وہ کم بخت نکالو اُسکو باہر۔۔” ایک آدمی نے شدید غصے سے کہا۔ ”وہ۔۔وہ گھر میں نہیں ہے ‘۔”سنیل نے کمزور آوا ز میں کہا۔اُس آدمی کو مزید غصے آیا تھا۔اُس نے سنیل کو کالر سے پکڑ کر کھینچا،سنیل کا توازن بگڑا وہ اُس آدمی کے قدموں میں بُری طرح گِرے تھے۔ اوپر ونڈو میں کھڑے آزر کی برداشت اب ختم ہوگئی تھی۔وہ اپنے باپ کو مزید اپنی وجہ سے ذلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔وہ بھاگتا ہوا سیڑھیاں اُترا اور اسی طرح بھاگتا ہوا اُس ہجوم میں پہنچا۔اُس نے نیچے جُھکتے ہوئے اپنے باپ کو اُٹھایا تھا۔وہ اپنے باپ کو سینے سے لگانا چاہتا تھا لیکن اس مشتعل ہجوم نے موقع نہیں دیا تھا۔آزر اور اُسکے باپ کے درمیان لوگ جمع ہو تے گئے تھے۔۔آزر نے بے بسی سے باپ کو خود سے الگ ہوتے دیکھا۔۔اور پھر اُس کچھ سمجھنے یا کہنے کا موقع نہیں ملا تھا۔زور دار طمانچے۔۔مُکے۔۔تھوک۔۔ایک ساتھ اُسکے چہرے پہ برسائے جانے لگے تھے۔ اُسی ہجوم میں سے ایک آدمی اُس کے قریب آیا اُس کے ہاتھ میں شاپر تھا۔اُس نے شاپر کو آزر کے چہرے پہ اُلٹ دیا تھا۔۔آزر کا چہرہ کالک میں چھُپ گیا تھا۔
اے میرے خدایا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔
اے میرے خدایا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔
اے میرے خدایا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۔”
وہ فرش پہ لیٹا بے قراری کے عالم میں خدا کو پُکاررہا تھا۔وہ کتنی اذیت میں تھا؟شاید وہ خود بھی بیان نہیں کر سکتا تھا۔وہ خود کو صلیب پہ لٹکا محسوس کر رہا تھا،اور اُسکے ہاتھ صلیب کے ساتھ جیسے کیل کی مدد سے کسی نے ٹھونک دیے تھے۔۔ہاں وہ اتنا ہی تکلیف میں تھا۔ اتنا ہی بے بس تھا۔۔
”خداواند تو نے مجھے اس لئے چھوڑدیا کہ میں نے اپنا راستہ بدل لیا۔”اُسکی آواز اونچی ہوئی تھی۔
”جس دل میں یسوع تھا اُس میں۔میں نے کسی اور کو جگہ دی۔۔وہ بھی اسکو یسوع جو تیری پیروکار ہی نہیں تھی۔” آنسو تیز ہوئے تھے۔
”اے یسوع کیا میرا گناہ اتنا بڑا تھا۔۔جو میرے ساتھ اتنا بُرا ہوا۔” فرش پہ لیٹے لیٹے اُس نے اپنے بال نوچے۔
”یسوع تو نے مجھے کیوں خود سے الگ کر دیا۔۔”وہ چیخا تھا۔اور ساتھ ہی اُس نے کسی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا۔وہ اُسی کی عمر کا ایک لڑکا تھا۔وہ اُسی طرح چیختا رہا۔
”اے یسوع تو نے کیوں مجھے اپنے بد ن سے الگ کردیا۔” اندر آنے والے لڑکے نے اُسکوقابو میں کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا ہوا انجیکشن اُسکے بازہ میں پیوست کیا۔وہ مزید بلند چیخا۔
”اے یسوع کیا میرا جرم اتنا بڑا تھا کہ تو نے مجھے اپنے آپ سے الگ کر دیا۔۔”لڑکا انجیکشن ختم کرنے کے بعد اُٹھ کھڑا ہوا۔
”اے یسوع۔۔ ”اُسے یکدم غنودگی ہوئی۔اُس کے چیخنے میں کمی آئی تھی۔اُس لڑکے نے اُس کے سرکے نیچے تکیہ دیا اور اُسے نارمل ہوتا دیکھ کر کمرے سے نکل گیا۔

وہ اب کچھ ٹھیک ہے۔اللہ کا شکر ہے وہ نارمل تو ہوا۔” ذوالفقار علی کے بیٹے نے اُنہیں بتایا تھا۔اُنہوں نے ایک گہری سی سانس لی۔
”یسوع مسیح سے دھوکہ کرنے والا اسی کالک کا مستحق ہے۔” اُس آدمی نے زورسے چلاتے ہوئے کہا۔ابھی پتا نہیں اور کیا کیا ہونا تھا،لیکن اچانک سے پولیس سائرن نے سب کو چوکنا کیا تھا۔۔پولیس کے کچھ اہلکار تیزی سے اُس ہجوم میں داخل ہوئے۔اُنہوں نے لوگوں کے چُنگل سے آزر کو نکالتے ہوئے اپنی وین میں بٹھایا تھا۔
اُس نے کچھ کہا تم سے؟” ذوالفقار علی نے پوچھا۔
”بائبل مانگی تھی اُس نے۔” اُس نے بتایا تھا۔
”تو تم نے کیا کہا۔”
”میں نے اُسکو بائبل لا کر دے دی ہے۔”اُس نے سنجیدگی سے کہا۔
”ابو۔۔کیا ہمیں اب اُسے اُسکے ابو کے بارے میں بتا دینا چاہیے۔” بات ٹھیک تھی۔کافی وقت گزر گیا تھا،اب تو اسے یہ بات پتا چل جانی چاہیے تھی۔
”ابھی صہیح وقت نہیں ہے۔ابھی تو وہ پہلے صدمے سے نہیں نکلا۔”انہوں نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
”ابو۔۔زندگی کتنی عجیب شے ہے نا۔۔کتنا بڑا صدمہ دیا ہے نا زندگی نے اُسے۔۔اُسکا پاب نہیں رہا،اور وہ اپنے باپ کا آخری وقت میں دیدار بھی نہیں کرسکا۔”
”بس دعا کرو،اللہ تعالی اُسے ہمت دیں۔”اُنہوں نے کہا۔
”اچھا دیکھو وہ کیا کر رہا ہے۔” باپ کے کہنے پہ وہ جلد ی سے اُٹھ کر اُس کمرے کی طرف گیا تھا۔
دروازے کو ناک کرتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا۔وہ بالکل خاموشی سے بیٹھا تھا۔وہ کچھ دیر یونہی ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے
”ہیلو آزر کیسے ہو اب۔” آزر نے کوئی جواب نہیں دیا،بس خالی نظروں سے اُسکی طرف دیکھتا رہا۔اُسے خاموش دیکھ کر اُسنے اپنا تعارف کروانا شروع کیا۔آزر اُسی طرح اُسکی طرف دیکھتا رہا۔
”کسی چیز کی ضرورت ہے ”اُس نے نرمی سے اُسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
”مجھے پاپا سے بات کرنی ہے۔”آزر نے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔ اُسے آزر پہ ترس سا آیا۔وہ اُسے بتانا چاہتا تھا کہ۔۔۔لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکا تھا۔
*
محمد ذوالفقار علی اور سنیل کا تعلق اتنا گہرا نہیں تھا۔ذوالفقار علی کے دونوں بیٹے میٹرک میں سنیل صاحب کے شاگرد رہ چکے تھے۔سنیل اُن کے گھر میں ہوم ٹیوشن کے لئے جاتے تھے۔جس کی وجہ سے کئی سال گزر جانے کے باوجود بھی جس جگہ سنیل صاحب
ملتے وہ اُنہیں کافی عزت دیتے۔محمد ذوالفقار ڈی سی تھے،اُنکا فیملی بیک گراؤنڈ بھی کافی مضبوط تھا۔وہ اکثر سنیل صاحب سے کہتے کہ زندگی میں کسی بھی کام یا ضرورت کے لئے وہ حاضر ہیں۔
اُس دن جب سنیل نے اپنے بیٹے کے لئے مدد کا ہر دروازہ بند ہوتے دیکھا تو اُن کے ذہن میں پتا نہیں کیسے ذوالفقار علی کا خیال آیا تھا۔اُنہوں نے آزر کو چھت پہ بھیجنے کے بعد فوراً ذوالفقار علی کو فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
ذوالفقار علی نے چند منٹ میں اُنکے قریبی آفس میں فون کر کے اُنہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی ایک مطلوبہ ایڈریس دیتے ہوئے بھاری تعداد میں عملے کو بھیجنے کی تلقین کی۔اور اگلے چند منٹس میں اہلکاروں کی بھار ی تعداد وہاں پہنچ گئی تھی،جنہوں نے اس مشتعل افراد کے ہاتھوں سے آزر کو نکال کر ذوالفقار علی کے پاس پہنچا دیا تھا۔ذوالفقار علی نے فی الحال آزر کو اپنے پاس رکھنے کا سوچا تھا۔اُنکا خیال تھا حالات نارمل ہونے تک آزر یہی پہ رہے گا۔
سنیل نے آزر کا کچھ سامان ذوالفقار علی کے گھر پہنچا دیا تھا۔اور ساتھ میں اپنا گھر بیچنے پہ لگا دیا۔لیکن گھر بیچنے کے چند دن بعد ہی انہیں ہارٹ اٹیک آیا اور ان کی جان چلے گئی۔ آزر اُ ن دنوں بے حد بُری حالت کا شکار تھا۔وہ زیادہ تر بے ہوش ہی رہتا،اگر ہوش میں آتا بھی تو زور زور سے چیخنے لگتا۔۔اپنے آپ کو مارنے لگتا۔۔اس کی حالت اتنی خراب ہو جاتی کہ اُسے پھر سے بے ہو شی کا انجیکشن دینا پڑتا۔
سنیل کی موت کے بعد ذوالفقار علی نے اپنے کندھے پہ ساری ذمہ داری لے لی تھی۔وہ آزر کو بالکل نارمل دیکھنا چاہتے تھے۔اور اُسے نارمل حالت میں لانے کے لئے ذوالفقار علی کی پوری فیملی اُنکا ساتھ دے رہی تھی۔
***
”آپ کا یہ پاؤچ اُس دن یہی رہ گیاتھا۔” اُس کے آتے ہی ہیلو ہائے کرنے کے بعد اُس نے پاؤچ اُس کے حوالے کیا۔اُس کے چہرے پہ یک دم خوشی جھلکی۔
”اوہ شکر ہے۔مجھے تو یاد ہی نہیں تھاکہ یہ گِرا کہاں ہے۔” وہ پہلی دفعہ اُس کے سامنے اس طرح خوش دلی سے مسکرارہی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے واقعی ہی بہت اچھی لگتی تھی۔وہ بغیر
کچھ کہے اپنے کام میں لگ گیا۔کسٹمرز کو ڈیل کرتے ہوئے اُس نے کئی مرتبہ اُس کی طرف دیکھا تھا۔یہ عجیب بات تھی،اُسکی آنکھیں پھر سے اُداس تھیں۔ویسا ہی خالی پن تھا۔
شفٹ ختم ہونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر اُسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔وہ اُس سے کیا کہے گا۔۔ابھی یہی سوچ رہا تھا۔۔تب ہی اچانک ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا۔وہ جو اُس سے چند قدم آگے تھی ہوا سے بچنے کے لئے یک دم اپنا رُخ موڑا۔۔دونوں کی نظریں ملی تھیں۔۔واسع نے اُسے کھڑے ہوتے دیکھا۔وہ اُسکے قریب پہنچ چُکا تھا۔
”کوئی کام ہے کیا؟وہ سوالیہ انداز میں اُسکی جانب دیکھنے لگی۔
”کیا ہم ساتھ میں کافی پی سکتے ہیں۔”اُس نے دائیں جانب ایک کافی شاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اُسے حیرت ہوئی جب وہ مان گئی،شاید وہ پاؤچ مل جانے پہ اُسکی شکر گزار تھی۔اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ کافی شاپ کی جانب چلنے لگی۔
”کونسا فلیور۔”اُس نے کاؤنٹر کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے اُسکی مرضی کا فلیور پوچھ کرآرڈر کیا۔وہ پاس والے ٹیبل پہ چلے گئی تھی۔چند منٹ بعد وہ کافی اُٹھائے وہاں پہنچ گیا تھا۔
”پاکستان کس شہر سے ہیں آپ؟” گفتگو کا آغاز واسع نے کیا تھا۔ فی الحال اُسے یہی سوال سمجھ آیا تھا۔
”لاہور سے۔ ”دو لفظی جواب دے کر وہ کافی پینے لگی۔واسع اُسکو دیکھتے ہوئے اُس بات کے متعلق سوچنے لگا جو وہ اُس سے کرنا چاہتا تھا۔
”آپ کس علاقے سے ہیں۔ ”اُس نے پوچھا۔واسع یکدم کُرسی پہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ کم از کم وہ اُس سے کسی سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
”لاہور کے پاس ہی ہے شیخوپورہ۔”اُس نے بتایا۔اور پھر دونوں کے درمیان خاموشی آگئی۔
”میں یہاں اسٹڈی کے سلسلے میں آیا ہوں۔”وہ خود ہی اُسے اپنے بارے میں بتانے لگا تھا۔وہ چپ چاپ اُسے سُن رہی تھی،کبھی کبھی کسی بات پہ ہلکا سا مسکرا دیتی اور پھر کافی پینے لگتی۔
”اب مجھے چلنا چاہئے۔ ”کافی ختم کرتے ہوئے اُس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
”پہلے ہی کافی کے چکر میں،بس نکل گئی ہے۔اب دوسری نا نکل جائے۔”وہ مسکراتے ہوئے شاپ سے باہر آگئی۔
مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے؟” وہ اُس کے پیچھے ہی نکل آیا تھا۔
”کیا؟” اُس نے چلتے ہوئے لاپروائی سے پوچھا۔
”کیا آپ مسلمان ہیں؟”اُس کا چہر ہ پھیکا پڑا۔
”نہیں۔ ”اُس نے چند سیکنڈ بعد کہا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے ٹرمینل پہ پہنچ گئی۔ وہ بھی اُسکے ساتھ ساتھ ہی تھا۔
”تو پھر آپ نے اپنے آڈیو پلئیر میں قرآن پاک کیوں رکھا ہے؟” واسع نے کہا۔اُس نے یکدم چونک کر واسع کی طرف دیکھا۔

باقی آئندہ۔