مکمل ناول ”تکون“ از محمد انس حنیف۔۔قسط نمبر 03

اُس نے نظریں اُٹھائیں اور پھر جیسے وہ ساکت ہو گیا تھا،اس کا سانس رُک سا گیا تھا،رگوں میں خون کی گردش بھی اُسے تھمتی ہوئی محسوس ہوئی تھی،ہر چیز ساکت تھی سوائے اس ایک دل کے،جو تیزی سے دھڑک رہا تھا اور اس قدر زور سے دھڑک رہا تھا کہ۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں کے عین سامنے تھی،اُس سے چند گز کے فاصلے پہ۔۔۔جینز کے اوپر لمبی سفید رنگ کی فراک پہنے۔۔گردن میں آسمانی رنگ کا دوپٹہ لئے۔۔بالوں میں بالکل دوپٹے کے رنگ کاہیئربینڈلگائے،اُس نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کسی پہ سفید اور آسمانی رنگ کے Contrastکو اتناجچتے ہوئے دیکھا تھا،وہ مُسکراتے ہوئے اُسی کی طرف آرہی تھی، وہ اپنی جگہ سے اُٹھا،چند قدم اس کی طرف بڑھائے،دونوں ایک دوسرے کے قریب پہنچے تھے۔

”welcome ma`m” اُس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
”Thankyou sir!” وہ مسکرائی اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا،بلیک ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک کلر کا ہی ٹراؤ زر پہنے وہ اُسے بہت ہینڈسم لگا تھا،وہ چند لمحوں کیلئے اس کی طرف دیکھتی رہی،پھر اپنی نظریں جھکاتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی،وہ دونوں یوں ہی چلتے ہوئے ایک درخت کے نیچے پہنچ کر گھاس پر بیٹھ گئے تھے۔
مغرب سے ذرا پہلے باغ جناح میں رش بڑھ گیا تھا،نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ اور بچے بھی چہل قدمی کر رہے تھے،اُسے شروع سے ہی یہ باغ بہت پسند تھا،ایک عجیب سی کشش محسوس ہوتی تھی اُسے اس باغ میں جسے وہ انجوائے کرتا،درختوں کی چھاؤں،پھولوں کی مہک ہر شے۔۔اُسے سب کچھ اچھا لگتاتھا اور وہ اُس کے ساتھ یہاں آنا چاہتا تھا۔۔اور وہ اُس کی خواہش کو رد نہیں کرسکی تھی۔
اُس کے کندھے سے سر کو ٹکائے وہ ایک ہاتھ سے گھاس نوچنے لگی تھی،دوسرا ہاتھ اس کے بازو پہ رکھا ہوا تھا،دونوں درخت کے تنے سے ٹیک لگائے بناء کچھ کہے ایک دوسرے سے دل کی بات کہہ رہے تھے،ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی تھی اور ساتھ ہی بوندا باندی شروع ہوگئی۔
”i love you”
یونہی اس کے ساتھ لگے،اس کی دھڑکنوں کو محسوس کرتے ہوئے وہ بولی تھی،آزر سانس روکے اُسے دیکھتا رہا،اس کے دل کی حالت ناقابل بیان حد تک عجیب تھی،خوشی کا احسا س تھا،دھڑکنیں بے ترتیب تھیں،تین لفظوں نے اُسے ساتویں آسمان پر جا بٹھایا تھا۔
“I love you too” اُس نے بھاری لہجے میں کہا تو اس کے چہرے پہ جھجھک جھلملانے لگی تھی،اُس نے نظریں چُراتے ہوئے خودپہ قابو پانے کی کوشش کی تھی۔
آزر نے اپنے ساتھ جڑ کر بیٹھی اُس ماہ جبین کو پاکرایک لمحے کیلئے خود پہ رشک کیاتھا،اُس نے گہری سانس لی،یہ سب کہاں سے شروع ہوا تھا اور کہاں تک آن پہنچا تھا،آزر کو یاد تھا۔
************
اُسے شروع سے ہی اُس سے چڑتھی،اتنی ہی چڑ جتنی چڑ وہ باقی تینوں سے کھاتا تھا،وہ سب ہمیشہ ساتھ ہی ہوتے تھے،اور ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ ایک جیسے ہی دکھتے،آزر کو بعض دفعہ وہ مزاج،بدتمیزی اور بگڑے ہوئے ہونے کے لحاظ سے ایک دوسرے کی زیروکس کاپی لگا کرتے تھے،امیر ماں باپ کی بگڑی ہوئی اولاد یں،جن کی زندگی کا مقصد بس کھیل تماشا ہی تھا۔
آزر کی ناپسندیدگی کو نفرت میں ارسل نے بدلا تھا،وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کوئی اس کے مذہب کی توہین کرتا،اس کے مذہب کو باطل یا منسوخ شدہ کہتا،اُسے اپنے مذہب سے عشق تھا،اگرچہ اس کے مذہب کو نشانہ ارسل نے ہی بنایا تھا لیکن وہ اس کے باقی کے تینوں دوستوں سے بھی اُتنی ہی نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ تینوں ہر قدم پہ ارسل کے ساتھ تھے،چاہے ارسل جو بھی کہتا جو بھی کرتا۔
آزر کو بعض دفعہ ان پر ترس بھی آتا تھا اور کبھی اُن چاروں پہ ہنسی،وہ ایسے لبرل تھے جو اپنے مذہب کے بارے میں شدت پسندی تو رکھتے تھے لیکن علم نہیں،مذہب کے بارے میں شدت پسندی آزر بھی رکھتا تھا،لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے مذہب پر عمل بھی کرتاتھا اور اُس کے متعلق بنیادی باتوں سے بھی آگاہ تھا،وہ اپنے مذہب پہ اُٹھنے والے ہر سوال کا جواب نہایت تمیز سے دینا جانتا تھا،اُس کے باوجود وہ سب ہوا تھا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔
مگر وہ حیران انعم پر ہوا تھا جو ارسل کی دوست ہونے کے باوجود اس کی مدد کیلئے کھڑی ہوئی تھی وہ حیران کُن تھا، وہ اُسے بچانے کیلئے ارسل کے خلاف کھڑی ہوگئی،آزر اس کا مشکور تھا اور احسان مند بھی،انعم اُسے جیسے کسی گہری کھائی سے نکال لائی تھی۔
یہی وہ وقت تھا جب انعم اُسے اُن تینوں کی نسبت مختلف لگی تھی، اُسی کی بدولت اُس نے مسلمانوں کا وہ گروہ دیکھا تھا جنہوں نے ایک عیسائی کو بچانے کی خاطر حق اور انصاف کا نعرہ بلند کیا تھا،اس سے پہلے اُس نے مسلمانوں کو صرف شدت پسندوں کے روپ میں ہی دیکھا تھا اور اسی لمحے سے اُس کی سوچ مسلمانوں کے بارے میں بدلنا شروع ہوئی تھی۔
انعم کو مزید جاننے کا موقع اُسے اگلے چند دنوں میں انعم نے خود ہی دیا تھا،کلاس کو گروپ اسائنمنٹ ملی تھی،ہر گروپ میں کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ تین سٹوڈنٹس کو ہونا لازمی تھا،آزر اپنے مذہبی سیمینارز کی وجہ سے ایک ہفتہ یونیورسٹی نہیں جاسکا تھا اور جب پہنچاتھا تو تقریباً سب ہی سٹوڈنٹس گروپ بناچکے تھے،آزر کوشش میں تھا کہ وہ کسی بھی گروپ میں ایڈجسٹ ہو جائے لیکن سب ہی گروپس سیٹل ہوچکی تھے،تب ہی انعم نے اُسے اپنے ساتھ گروپ بنانے کو کہا۔
”آپ نے اپنے دوستوں کے ساتھ گروپ نہیں بنایا کیا؟ ”وہ انعم کی بات پہ تھوڑا حیران ہوا تھا۔
”نہیں انہوں نے خود ہی اپنا گروپ بنایالیا ہے اور مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں کہیں اور ایڈجسٹ ہو جاؤں ”، انعم نے معصوم سی شکل بنائی تھی،دونوں اسائنمنٹ کیلئے ایک ساتھ ڈیٹا اکھٹا کرنے میں مصروف ہو گئے دونوں کا زیادہ ٹائم لائبریری میں ہی گزرتا تھا،لائبریری کے بعد وہ کیفے میں آجاتے اور پھر وہیں سے کلاس میں چلے جاتے۔
اسائنمنٹ جمع کروانے میں صرف ایک دن رہ گیا تھا اور ان کا ابھی کافی کام باقی تھا،یونیورسٹی میں شام تک بیٹھنے کے بعد وہ کافی تھک چکے تھے،لیکن ابھی کچھ ڈیٹا بھی چاہیے تھااور ساتھ میں کمپوز نگ کا اچھا خاصا کام باقی تھا،انعم نے اُسے اپنے ساتھ گھر چلنے کو کہا اس کا خیال تھا کہ باقی کا کام آرام سے گھر بیٹھ کر ہو جائے گا،لیکن آزر اُس کے ساتھ نہیں جانا چاہتا تھا۔
”کم آن آزر گھر آرام سے بیٹھ کر کام کریں گے،آپ ڈیٹا ارینج کرتے جانا میں کمپوزنگ کا کام سنبھال لوں گی،یہاں بیٹھ کر اب کیا کچھ کریں گے ”، انعم نے اس کے انکار پہ دوٹوک کہا تھا،مگر آزر متامل تھا۔
”ارسل کا کوئی مسئلہ نہیں ہے،آپ میرے مہمان ہیں اور میرے مہمان کی عزت میرے گھر کا ہر فرد کرتا ہے ”، انعم نے جیسے اس کے آنکھوں میں چُھپی الجھن کو پڑھ لیا تھا،کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد آزرنے اس کے ساتھ جانے کیلئے تیار تھا۔

*********************

انعم نے سچ کہا تھا،آزر کو انعم کے گھر آکر واقعی کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا، ارسل بھی دانستہ یا نادانستہ طور پہ اُس کے سامنے نہیں آیا تھا،انعم اس کو لے کراپنے پورشن میں آگئی تھی،انعم کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے وہ دونوں پراجیکٹس پہ کام شروع کر چکے تھے،انعم نے اپنی فیملی کے ساتھ ساتھ اپنے ابو سے بھی اُس سے ملوایا تھااور وہ سب نہایت گرمجوشی سے اُس سے ملے تھے،آزر اُن لوگوں سے متاثر ہوا تھا اور دوسری جس چیز نے اُسے متاثر کیا وہ ان کا گھر تھا،پورچ میں کھڑی گاڑیوں سے لے کر کمرے میں سجی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز تک سب کچھ نہایت نفیس تھا والز پینٹ کی کلر اسکیم،کمرے میں کیا جانے والا ووڈ ن ورک ہر چیز قابل ستائش تھی،ہر چیز سے سلیقہ ٹپکتا تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھے اپنا کام کرتے رہے تھے۔آزر میٹریل کی چھانٹ کانٹ کر رہا تھا اور انعم ساتھ ساتھ کمپوزنگ کرتے جارہی تھی۔

”really impressed by you ” انعم نے کی بورڈ پہ انگلیاں چلاتے ہوئے اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر اُس کے کام کی تعریف کی تھی۔اُس نے جس طرح سارا ڈیٹا ترتیب دیا تھا اُس نے انعم کو سچ میں متاثر کیا تھا،وہ اپنی تعریف سُن کر بس مسکرایا لیکن منہ سے کچھ نہ کہا انعم کو یہ بات عجیب سی لگی تھی۔
”آپ کو کیا آپ کی ممی نے سکھایا ہے کہ ہمیشہ کم بولنا بیٹا ” لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹاکر انعم نے بے ساختہ کہا تھا اور جیسے تکلف کی دیوار گرائی تھی،آزر کے چہرے پہ سنجیدگی برقرار رہی تھی۔
”نہیں ممی کو کچھ سکھانے کا موقع ہی نہیں ملا ”،آزر کا انداز عجیب سا تھا،”کیا مطلب؟“،انعم چونکی۔
”میں ساتھ سال کا تھا جب ممی کی ڈیتھ ہو گئی تھی۔”اُس نے افسردگی سے بتایا۔
”اوہ آئی ایم رئیلی سوری ”،انعم نے معذرت کی تووہ مسکراتے ہوئے دوبارہ ڈیٹا سرچ کرنے لگا۔
”اٹس اوکے۔”
”ویسے آپ کا شروع سے ہی رحجان مذہب کی طرف ہی تھا ”۔انعم نے یونہی بے سبب بات آگے بڑھانے کیلئے پوچھا تھا۔
”ہاں کہہ سکتی ہیں آپ،پہلے موسیقی سے بھی بہت دلچسپی تھی۔۔پھر آہستہ آہستہ سب شوق چھوڑ دیے وقت ہی نہیں ملتا اب تو۔”
”ارے واہ موسیقی۔۔”انعم نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
”ہاں کسی دور میں غلام علی کو بہت سنتا تھا اور گاتا بھی تھا۔۔اب تو بس چرچ میں ہی زبور کے گیت وغیرہ پڑھ لیتا ہوں۔”
”کیا بات ہے آپ کی۔”انعم یہی کہہ سکی۔
”یہ پرانی باتیں ہیں بس۔” وہ دوبارہ سے کام میں لگ گیا۔ انعم بھی اپنا کام کرنے لگی تھی۔
کام مکمل کرتے کرتے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن شکر کہ کام مکمل ہو ہی گیا تھا،انعم نے تھکاوٹ بھگانے کے لئے کافی منگوا لی تھی،کافی پینے کے دوران انعم بار بار اُس سے کسی نہ کسی موضوع پہ بات کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ ہر بات کا مختصر سا جواب دے کر بات کو وہیں پہ ختم کر دیتا،وہ شاید زیادہ بات کرنے کا عادی نہیں تھا،کافی ختم کرنے کے بعد انعم اپنے پاپا اور ڈرائیور کے ساتھ اُسے ڈراپ کرنے چلی گئی۔
****************
” ہیلو کیا ہو رہاہے؟ ”وہ لان میں ایک تنہا کونا ڈھونڈ کر بیٹھا اسٹڈی کر رہا تھا تب ہی انعم ہاتھ میں دو جوس کے کین لئے اس کے پاس آن بیٹھی،اُس نے کچھ حیرانی کے ساتھ انعم کی طرف دیکھا۔
”کچھ خاص نہیں،بس تھوڑی اسٹڈی کرنے کے موڈ میں تھا”، اپنی طرف بڑھا جوس کا کین لیتے ہوئے اُس نے چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجائی۔
”میں شکریہ ادا کرنے کیلئے آئی تھی ”،اگرچہ آزر نے چہرے پہ مسکراہٹ تھی لیکن انعم پھر بھی اُس کے چہرے پہ موجود ناگواری کو پڑھ طکی تھی اوراس لئے فوراَ اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
”کس لئے؟”اُس نے کتابیں سمیٹ کر سائیڈ پہ کرتے ہوئے انعم سے پوچھا۔
”ارے آپ نے اتنی مدد کی پراجیکٹ مکمل کرنے میں،میں نکمی تو بس تھوڑی سی کمپوزنگ کرسکی وہ بھی رو رو کر ”،انعم نے دوستانہ لہجے میں کہا،اُس کے انداز پر وہ ہنس پڑا۔
”میں بڑی متاثر ہوئی ہوں،آپ تو اچھے خاصے ذہین انسان ہیں۔”انعم نے خوش دلی سے اس کی تعریف کی تھی۔
”نہیں اتنابھی نہیں۔”اُس نے آہستگی سے کہا۔
”ویسے آپ کا گھر بہت اچھا ہے ”،اس بار آزر کے ذہن میں آیا تھا کہ اُسے بھی مروتاَ ہی سہی لیکن اُس کی کچھ تعریف کر دینی چاہیے اور تعریف کرنے کے لئے اُس کے ذہن میں واحد چیز اس کا گھر ہی آیا تھا۔
”اوہ شکریہ ”،انعم کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی،آزر خاموش ہی رہا،خاموشی کے مختصر سے وقفے کے بعد انعم نے ہی بولنے میں پہل کی تھی۔
”ویسے آ پ کا فیورٹ کلر کونسا ہے؟”آزر نے اس سوال پہ اچھنبے سے انعم کی طرف دیکھا،بھلا اس سوال کی یہاں کیا تُک تھی آزر نے سوچا۔
”بلیک۔” اُس نے یک لفظی جواب دیا۔
”اوہ میرا بھی۔”انعم پرجوش سی نظر آئی، پھر اس نے اگلا سوال پوچھا۔
”فیورٹ ڈش۔”آزر کو یہ اچانک سے شروع ہونے والا انٹرویو عجیب سا لگا تھا۔
”کوئی خاص نہیں،بس میٹھا شوق سے کھاتا ہوں۔”بیزاری سے ہی سہی لیکن وہ انٹرویو کے جواب دے رہا تھا۔
”اوہ اسی لئے آپ کا لہجہ اتنا نرم اور میٹھا ہے۔”انعم کے منہ سے اچانک پھسلا۔آزر یکدم پزل ہوا۔
”نہیں میرا لہجہ نرم اس لئے ہے کہ میں یسوع کی پیروی کرتا ہوں،میری خواہش بس اتنی سی ہے میں ویسی زندگی بسر کروں جیسی یسوع نے گزارنے کا بتایا ہے،میں لوگوں کے کام آؤں،ان کی مسیحائی کروں ”،اُس نے چند سیکنڈ بعد کہا تھا۔
؎”واہ آپ کی خواہش زبردست ہے۔”انعم نے بے ساختہ کہا۔
”خواہش ہی نہیں یہ میرا مقصد حیات ہے،میں اپنی زندگی یسوع کے نام کرنا چاہتا ہوں ”،اُس کے لہجے میں ایک عزم تھا۔ایک مقصد۔۔ایک اُمید۔۔انعم خاموش رہی۔
”آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟میرا مطلب کوئی گول جو آپ اچیو کرنا چاہتی ہوں ”،آزر کی جانب سے پہلا سوال آیا تھا،انعم ایک لمحے کیلئے گڑبڑائی تھی،اُس نے زندگی میں کبھی بیٹھ کر یہ طے ہی نہیں کیا تھا کہ اُسے زندگی کس مقصد کے تحت گزارنی ہے۔
”مم۔۔میرا۔”اُس نے کچھ سوچنا چاہا لیکن ذہن جیسے خالی سا محسوس ہوا تھا۔
”مجھے لگتا ہے آپ نے کبھی اپنی زندگی کا کوئی مقصد بنایایا ہی نہیں ”،اُس نے اُسے شرمندہ نہیں کیا تھا،بس ویسے ہی کہا تھا،لیکن وہ شرمندہ ہوئی تھی یوں جیسے بھرے بازار میں اُس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
”ویسے آپ اچھی لڑکی ہیں،ویسی تو بالکل بھی نہیں جیسا۔۔۔جیسا میرا اندازہ تھا ”اُس نے اس کی شرمندگی دور کرنا چاہی۔
”اچھا آپ نے کیسی لڑکی سمجھا تھا مجھے؟”انعم کااعتماد لمحے بھر میں بحال ہوا تھا اُس نے جوس کا کین خالی کرتے ہوئے دور اُچھالا تھا۔
”خود سر۔بد تمیز۔اصل میں شکل سے آپ ایسی ہی لگتی تھیں ”اُس نے سنجیدگی سے کہا،انعم بھی سنجیدہ ہو گئی اور پھر دونوں اچانک ایک ساتھ ہنسے تھے۔
”ویسے بندے کو اتنا بھی منہ پھٹ نہیں ہونا چاہئے”انعم نے مصنوعی خفگی دکھاتے ہوئے منہ بسورا تھا،آزر یونہی ہنستا رہا۔
*************
آج یونیورسٹی میں کوئی کلاس نہیں تھی،پاپا سکول جا چکے تھے،وہ اپنے لئے ناشتہ بنانے کی غرض سے کچن میں آیا ہی تھا کہ ڈور بیل بجی تھی، اُسے لگا کہ شاید تانیہ ہو،اسی لئے یپرن اتارے بغیر وہ بیرونی دروازے کی طرف آیا تھا۔

”آپ؟ ”دروازہ کھولتے ہی جو صورت اُسے نظر آئی وہ اُس کے لئے غیر متوقع تھی۔وہ انعم تھی۔
”یس سرپرائز ”،ہاتھ میں بکے لئے وہ مسکرارہی تھی،وہ حیران اس کی طرف دیکھتا رہا۔
”اندر آنے کیلئے نہیں کہیں گے؟”اُس نے ڈائریکٹ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”جی پلیز ”،آزر نے جلدی سے راستہ چھوڑا،وہ اندر برآمدے میں آگئے تھے۔
”میں ادھر سے گزر رہی تھی،تو سوچا آپ سے ملتی جاؤں ”،آزر کو اُس کی بات سچ نہیں لگی، اُس رات جب وہ اُسے چھوڑنے آئی تھی تو اس کا کہنا تھا وہ پہلی بار ان راستوں پہ آئی ہے اورآج بھلا وہ یہاں سے کیوں گزر رہی تھی۔
”بہت اچھا کیا آپ نے ”،وہ مروتا یہی کہہ سکا اور اُسے ڈرائنگ روم میں لاکر بٹھایا۔
”یہ میں آپ کیلئے لائی تھی ”صوفے پہ ٹیک لگاتے ہوئے اُس نے ہاتھ میں موجود بکے آزر کے حوالے کئے۔
”بہت شکریہ ”،خوشنما پھولوں کی خوشبو نے یکدم ارد گرد تازگی بکھیر دی تھی۔
”آپ کیا خانہ داری میں مصروف تھے؟“،اشارہ آزر کے ایپرن کی طرف تھا۔
”جی بس ناشتہ بنانے کی تیاری تھی رہا تھا،آپ بیٹھیں میں آپ کیلئے کافی لاتا ہوں ”،وہ خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ کچن کی طرف مُڑنے لگا تھاکہ انعم کے اگلے قفرے نے اُس کے قدم روکے۔
”نہیں میں آپ کے ساتھ کچن میں ہی چلتی ہوں ”،وہ مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے آئی،اس کی بے تکلفی آزر کوپریشان کر رہی تھی۔
”گھر کی کوکنگ آپ کے ذمے ہے؟”،کچن میں داخل ہوتے ہوئے انعم نے اُس سے پوچھا تھا۔
”جی کبھی میں کبھی پاپا،”چہرے پہ مسکراہٹ سجائے وہ انڈا بلینڈ کرنے لگا تھا۔
”واہ آپ تو کافی سگھڑ ہیں ”،انعم نے اُسے انڈا پھینٹتے اور سلائس کو ٹوسٹر میں رکھتے دیکھ کر کہا تھا۔
”جس گھر میں کوئی خاتون نہ ہو،اس گھر کے مردوں کا سگھڑ ہوہی جاتے ہیں ”،اُس نے کافی کیلئے پانی کیتلی میں ڈالا تھا، وہ اپنے ناشتے کے ساتھ ساتھ اُس کے لئے کافی بھی تیار کر رہا تھا۔
”تو لے آئیے نہ کوئی خاتون۔ “انعم نے کچن کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
”ہاں میں سوچ رہا ہوں۔پاپا کی شادی کردوں۔”وہ مسکرایا اور انعم نے قہقہہ لگایا تھا۔
”پاپا سے جب بھی کہتا ہوں آگے سے ڈانٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔”انعم اس کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
”ویسے میرا خیال تھا کہ آپ صرف سنجیدہ ہی رہتے ہیں اور ایسی ہی باتیں کرتے ہیں مگرمجھے اچھا لگ رہا ہے آپ کو ایسی ہلکی پھلکی باتیں کرتا دیکھ کر”،انعم نے کہا۔
”نہیں میں اپنے دوستوں کے ساتھ مزے کی گفتگو ہی کرتا ہوں۔”آزر نے کہا تھا۔
”یعنی آپ نے مجھے اپنا دوست مان لیا ہے ”،کافی کے لئے کریم پھینٹتے ہوئے اس نے اچانک نظریں اُٹھاکر اس کی طرف دیکھاچند سیکنڈ کیلئے وہ دونوں ایسے ہی دیکھتے رہے۔
”میں آپ کی کوئی مدد کروں۔”انعم نے موضوع بدلا۔اور آزر کو ہنسی آگئی بھلا وہ کیا مدد کرے گی۔
”نہیں شکریہ! بس وہ اُس سامنے والے کیبنٹ میں جام ہوگا وہ مجھے دیجئے گا“،آزر نے اشارہ کیا تھا،وہ کیبنٹ اُس کے قد سے ذرا اونچا تھا،ایڑھیوں کے بل اُس نے کیبنٹ کھول لیا تھا مگرجیم کی بوتل اٹھاتے ہوئے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی تھی اور جیم کی بوتل کے ساتھ ہی رکھے فلور کی شیشی سے اُس کا ہاتھ ٹکرایا تھا،اورجو لہراتا ہوا سیدھا اُس کے چہرے پر آکر لگا تھا،آزر پاس کھڑا سارا منظر دیکھ رہا تھا،انعم کے بال،چہرہ اور آنکھیں۔۔۔اس کی یکدم ہنسی نکلی اور پھر وہ ہنستا ہی چلا گیا۔
”آئی ایم ویری سوری ”،کچھ دیرہنسی پہ قابو پانے کے بعد وہ سوری کرتا ہوئے اُسے باہر لگے واش بیسن کے پاس لایا،انعم نے آنکھوں پہ چھینٹے مارنے شروع کئے،وہ ہنسی کو روکے اس کے پاس ٹاول لئے کھڑا تھا۔
”پلیز ہیلپ می ”،اُس نے آنکھیں بند کئے،اپنے بالوں کی طرف اشارہ کیا،آزر تیزی سے ٹاول سے اس کے بال جھاڑنے لگا،وہ بیسن پہ جھکے آنکھیں صاف کرنے کے بعد اپنا چہرہ دھو نے لگی،تب ہی بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی،انعم کے آنے کے بعد وہ لاک کرنا بھول گیا تھا۔
آزر نے دروازے سے تانیہ کو اندر آتے دیکھا،اپنے سے چند فٹ کے فاصلے پہ آزر اور ایک لڑکی یوں دیکھ کر اس کے قدم جیسے وہیں جم گئے،پھر تانیہ نے اُس لڑکی کو آزر سے ٹاول لیتے اور اپنا چہرہ خشک کرتے دیکھا،وہ اپنے قدم بڑھاتے اُن کے قریب پہنچی تھی۔
”آؤ تانیہ! ”،آزر نے عام سے انداز میں کہا تھا،”کیسی ہو؟“۔
”یہ تانیہ ہیں،میرے بچپن کی دوست،اور یہ انعم ہیں میری کلاس فیلو”،اُس نے دونوں کا تعارف کروانے کے بعد کھڑے کھڑے ہی انعم کے ساتھ کچن میں پیش آنے والا واقعہ اُسے سنایا تھا۔
”اچھا انعم!،آپ وہی ہیں ناں جنہوں نے آزر کی مدد کی تھی؟”،تانیہ نے اُس ہاتھ ملاتے ہوئے کہا تھا۔
”ہاں یہ وہی انعم ہیں ”،آزر نے بتایا،وہ تینوں چلتے ہوئے برآمدے میں آکر بیٹھ گئے۔
”بہت شکریہ آپ نے جو کیا وہ حیران کن ہے ورنہ مسلم ایسے کہاں ہوتے ہیں ”،انعم کے برابر صوفے پہ بیٹھتے ہوئے تانیہ نے کہا،انعم خاموش رہی،اُسے در حقیقت تانیہ کا وہاں آنا اچھا نہیں لگا تھا اور ایسا کیوں تھا یہ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔
”تانیہ؟ ”آزر نے خفگی سے اُس کی طرف دیکھا،اُسے کم از کم تانیہ سے یہ اُمید بالکل نہیں تھی،تانیہ خاموشی سے بیٹھ گئی،آزر نے گفتگو کا رُخ کسی اور طرف موڑ لیا تھا،اُس نے تانیہ کی نظروں میں انعم کیلئے ناپسندیدگی دیکھ لی تھی،حالانکہ آزر کا خیال تھا اس کی مدد کرنے کی وجہ سے تانیہ کو انعم کا شکر گزار ہوناچاہئے لیکن وہ نہیں تھی،تانیہ اگلے چالیس منٹ وہاں بیٹھی انعم کے جانے کا انتظار کرتی رہی لیکن جب انعم نے ہلنے تک کا نام نہ لیا تو تانیہ خود ہی وہاں سے جانے کیلئے اٹھنے لگی تھی کہ سنیل انکل گھر میں داخل ہوئے۔
”تانیہ بیٹی آئی ہے ‘‘،نہوں نے مسکراتے ہوئے تانیہ کی طرف دیکھا اور پھر کچھ حیرانی سے اس کے ساتھ بیٹھی انعم کو۔
”پا پا یہ انعم ہیں جنہوں نے میری مدد کی تھی ”،انعم کے تعارف کیلئے آزر کے پاس جیسے یہی ایک فقرہ تھا۔
”کیسی ہیں آپ بیٹا”،انعم کے سر پہ پیار دیتے ہوئے انہوں نے پوچھا تھا۔
”میں بالکل ٹھیک آپ کیسے ہیں؟”،انعم نے دوستانہ لہجے میں کہا،تانیہ جلدی سے جانے کیلئے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

”انکل میں کل آؤ ں گی اب تو آپ بھی لگتا ہے مصروف ہوجائیں گے،” وہ کہتے ہوئے چلی گئی،وہ حیران ہوئے،انہوں نے تانیہ کی آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر دیکھا تھا۔
****************
طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ دو دن یونیورسٹی نہیں جاُسکا تھا،تیسرے دن یونیورسٹی جانے پہ اسے پچھلے دو دن کے لیکچرز چاہیے تھے، کسی اور کے نوٹس لینے کی بجائے اُس نے انعم سے نوٹس لینے کا سوچا،وہ اس وقت کیفے میں ارسل کے ساتھ کھڑی کسی بات پہ قہقہہ لگا رہی تھی جب آزر نے اُسے مخاطب کیا تھا،وہ ارسل سے ایکسکیوزکرتے ہوئے اس کے ساتھ آگئی تھی۔
”مجھے کل اور پرسوں کے نوٹس چاہیے تھے،”اُس نے کیفے سے نکلتے ہی انعم سے کہا۔
”اگرمیں نوٹس نہ دوں تو،،،” انعم نے مسکراتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا،وہ تھوڑا سا نروس ہوایکدم اُسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے۔
”اچھا اچھا آپ تو پریشان ہی ہو گئے،” ہنستے ہوئے اُس نے اُسے تنگ کرنے کا ارادہ بدلتے ہوئے کہا تھا اور بیگ سے نوٹس نکالنے لگی۔
”یہ لیں اور ہینڈ رائٹنگ کے لئے معذرت،اصل میں مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کوئی مجھ سے بھی کبھی نوٹس مانگ سکتا ہے،” اُس نے ایک رنگ بائنڈنگ والا رجسٹرا ُس کے حوالے کیا،اور واپس کیفے کی جانب چلے گئی،آزر لاشعوری طور پہ اُسے واپس جاتے اور ارسل سے باتیں کرتے ہوئے دیکھنے لگا،وہ دونوں ایک مرتبہ پھر کسی بات پہ ہنس رہے تھے،آزر کو وہ منظر عجیب سا لگا تھا،وہ وہاں سے آگیا تھا مگر اُس کے دماغ سے جیسے وہ منظر چپک گیا تھا،بار بار جھٹکنے کے باوجود۔۔وہی۔۔وہی ان دونوں کا ہنسنا۔۔اُسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔
اُس دن گھر آکر بھی اس کی طبیعت عجیب بوجھل ہی رہی،دل کسی بھی چیز کی جانب مائل نہیں ہورہا تھا،ہر چیز بری لگ رہی تھی،دو دن کا کام پینڈنگ تھا لیکن اُس کا نوٹس کاپی کرنے کا بھی دل نہیں چاہ رہا تھا،شام میں پاپا کے دوست اور تانیہ بھی آئے تھے اور زندگی میں پہلی بار وہ اپنے گھر آئے کسی مہمان سے خوش اخلاقی نہ نبھا سکا اور نہ ہی مہمان داری کرسکا،اُس کا موڈ دیکھ کر وہ بے چارے بھی جلد ہی اٹھ گئے،پاپا نے بھی اُس کا چپ چپ رہنا نوٹس کیا تھا مگر کچھ پوچھا نہیں، رات کے وقت دل پر جبر کرتے ہوئے وہ نوٹس بنایانے کی غرض سے بیٹھا اور رجسٹر کھولتے ہی جیسے وہ ہیل ہوا تھا۔۔عجیب سی بات تھی۔۔کیا کسی دوسرے کی ذات سے منسلک چیز انسان کو قرار دے سکتی ہے۔۔اور وہ دوسرا انسان کوں۔۔۔آزر سر جھٹک کر رجسٹر پر لکھی عبارتیں دیکھنے لگا اور اُسے سمجھ آگیا کہ انعم نے ہینڈ رائٹنگ کی وجہ سے معذرت کیوں کی تھی،اس کی ہینڈ رائٹنگ واقعی ہی رف تھی،آزرکے چہرے پہ آنے والی وہ اُس دن کی پہلی مسکراہٹ تھی،وہ مسکراتے ہوئے نوٹس کاپی کرتا رہا،تقریباَ دس بجے وہ فارغ ہوا تب ہی یونہی ایک ورق پلٹتے وہ ٹھٹک سا گیا،اس صفحے پہ انعم نے کئی جگہ اس کا نام لکھا ہوا تھا،”آزر“،”آزر سنیل“،”انعم آزر“۔۔۔۔آزر کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔۔۔وہ کونسی انہونی تھی۔۔
وہ کتنی ہی دیر ہکا بکا اُس صفحے کو دیکھتا رہا تھا۔۔اُس پہیلی کو بوجھنے کی کوشش کرتا رہا جو۔۔جو کہیں اُس کے دل میں بھی چنگاری بن چکی تھی۔
************ **
”ڈیڈی ”۔مائیک اُس وقت لیپ ٹاپ پہ کوئی میل دیکھنے میں مصروف تھے،جب تانیہ چائے کے دو مگ لئے اسٹڈی میں آئی تھی۔
”اوہ میری گڑیا”،انہوں نے لیپ ٹاپ فولڈ کر دیا تھا۔
”ڈیڈی رات کے دس بج رہے ہیں،بس کردیں کام، ”تانیہ ان کے سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئی،وہ مسکرائے تھے۔
”بس آج کام کا کچھ لوڈ زیادہ تھا”، اپنی آنکھوں کو مسلتے ہوئے انہوں نے مگ اٹھا یاتھا۔
”مجھے آ پ سے ایک بات کرنی ہے ڈیڈ ی’‘تانیہ نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”کیسی بات؟”،وہ کچھ حیران ہوئے،تانیہ کو تو کبھی ان سے کوئی بات کرنے کیلئے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی پھراب۔۔
”آزر کے بارے میں ”،باپ اور بیٹی ایک ساتھ مسکرائے تھے،آزر تانیہ کے لئے کیا اہمیت رکھتا تھا یہ مائیک سے بہتر بھلا کون جان سکتاتھا، وہ اُن کے جگر کا ٹکڑاا تھی اور بیٹے کی موت کے بعد وہ اس کے معاملے میں اور بھی زیادہ حساس ہو گئے تھے۔
”آزر کے بارے میں کیا بات کرنی ہے بھئی“،ان کا انداز شفقت بھرا تھا۔
”آپ انکل سنیل سے بات کریں نہ ہماری منگنی کی، ”اُس نے کہا،مائیک حیران ہوئے تھے،۔
”تم جانتی ہو میرے اور سنیل کے درمیان یہ بات بہت پہلے ہی ہو چکی ہے، ”انہوں نے تانیہ کو یاد دلایا،چائے کا گھونٹ لیتی ہوئے تانیہ نے سر ہلایا تھا،”یس ڈیڈی! مجھے معلوم ہے لیکن میں چاہتی ہوں کہ یہ بات زبانی کلامی نہ رہے اور ایک چھوٹی سی تقریب کرکے سب کو یہ بات بتادی جائے کہ میں اور آزر ایک ہیں ”،انہوں نے حیرانی سے تانیہ کی طرف دیکھا۔
”تانیہ!“،وہ کچھ سنجیدہ ہوئے”سب خیریت ہے نا؟“۔
”ہا ہا ہا”، وہ باپ کے تاثرات پہ یکدم ہنس پڑی تھی،اُسے پیار بھی آیا تھا باپ پر”یس پاپا۔۔سب خیریت ہے۔۔بس آفیشلی اناوئنس ہوجانا اچھا ہے نا“۔
”چلو میں بات کروں گا سنیل سے، انہوں نے چائے کا کپ ختم کرلیا تھا،”تانیہ یکدم خوشی سے ڈیڈی دی گریٹ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے لپٹ گئی تھی۔
”ویسے شرم تو نہیں آتی ”،وہ ہنسے تھے۔
”شرم وہ کس بات پہ“،اُس نے یونہی ساتھ چپکے ہوئے منہ بسورا۔
”باپ کے ساتھ ایسی بات کرتے ہوئے،”وہ تھوڑی سی شرمندہ ہوئی تھی لیکن ڈھیٹ بنی رہی۔
”لو شرم والی کونسی بات،سارا آپ ہی کا قصور ہے،آپ نہ کرتے مجھے اتنا فرینک،” مائیک نے قہقہ لگایا،وہ واقعی اس سے بہت زیادہ فرینک تھے یہی وجہ تھی کہ وہ ماں سے زیادہ باپ کے قریب تھی۔
”اچھا مما سو گئیں تمہاری؟ ”
”؎اور کیا ورنہ باپ بیٹی کو یوں بیٹھے دیکھ کر جل نہ جاتیں ”اس بار دونوں کا قہقہہ ایک ساتھ بلند ہوا تھا۔
******* **
کلاس ختم ہو چکی تھی سب سٹوڈنٹس کلاس روم سے باہر نکل رہے تھے،انعم بھی باہر جانے کی تیاری میں تھی جب آزر نے اُسے پُکارا اور اس کی طرف اس کا رجسٹر بڑھایا۔

”نوٹس کاپی ہو گئے؟” اُس نے رجسٹر تھامتے ہوئے پوچھا۔
”جی،” اتنے مختصر سے جواب سے وہ چونک سی گئی،آزر سنجیدہ شخصیت کا مالک تھا یہ اُسے معلوم تھا لیکن پچھلے چند دنوں سے آزر کا رویہ اس کے ساتھ اچھا خاصا دوستانہ ہو گیا تھا۔
”کیا ہوا اینگری ینگ مین؟”،انعم نے اُسے گھُورتے ہوئے کہا،وہ خاموش رہا اور خاموشی سے کلاس روم سے باہر جاتے ہوئے اسٹوڈنٹس کو دیکھنے لگا،انعم کُرسی پہ بیٹھی تھی اور وہ اُس سے تھوڑا دور لیکن بالکل سامنے کھڑا تھا۔
”تم غلط راستے کا انتخاب کررہی ہو انعم، ”اُس نے سنجیدگی سے کہا۔
”مطلب؟”وہ نا سمجھی سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی، آزر کو اس کے اس طرح دیکھنے پہ گھبراہٹ ہونے لگی۔
”مطلب تم جانتی ہو،”وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور ایک کرسی کھینچ کر عین اس کے سامنے بیٹھ گیا،کلاس روم اب خالی ہو چکا تھا۔
”میں کیا جانتی ہو آزر؟ ”اُس کے لہجے میں اُلجھن تھی،آزر کچھ لمحے اس کی جانب دیکھتا رہا اور پھر اس نے انعم کے ہاتھ میں موجود رجسٹر لیتے ہوئے اُسے کھولا اور وہ صفحہ آگے کرتے ہوئے بولا جس پر انعم نے اُس کا نام لکھ رکھا تھا۔
”کیا ہے یہ؟ ”،انعم کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔
**********
”ایک ضروری بات کرنا تھی،”سنیل اُس دن مائیک کے کے گھر آئے تھے، مائیک نے ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے اچانک کہا۔
”ایسی کیا بات ہے مائیک۔۔جو تم اب اجازت لینے لگے“۔
”میں چاہتا ہوں کہ تانیہ اور آزر کی منگنی کر دی جائے ”،سنیل نے مسکراتے ہوئے اپنے دوست کی طرف دیکھا۔
”منگنی؟ ارے بھئی منگنی والی کیا بات ہے،تانیہ تو میری ہی بیٹی ہے اور یہ بات تو میں تمہیں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں،”اُنہوں نے مائیک کو یاد دلایا تھا۔
”وہ سب ٹھیک ہے لیکن زبانی کلامی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس لئے میں چاہ رہا تھا کہ ایک چھوٹا سا فنکشن کر دیا جائے منگنی کا ”، مائیک کا لہجہ اور بات دونوں ہی عجیب تھے۔
”کیسی بات کر رہے ہو مائیک،زبانی کلامی باتوں کی اہمیت کہیں اور نہیں ہوتی ہوگی،ہمارا تو حساب ہی کچھ اور ہے بھائی ہیں ہم۔۔زبان پر جان دینے والے”سنیل نے دوستانہ لہجے میں کہا، مائیک کسی سوچ میں گُم ہوگیا۔
”مجھے سمجھ نہیں آرہا تم ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو ”انہوں نے پوچھا۔
”بیٹی والا ہوں،”مائیک نے گہری سانس لی۔
”ارے یار جتنی تمہاری بیٹی اُتنی میری بھی بیٹی ”،سنیل واقعی ہی حیران ہو رہے تھے،مائیک کے ساتھ ان کا تعلق ایسا کہاں تھا کہ بے اعتباری جگہ بنا سکے۔
”ہاں اس بات میں تو کوئی شک نہیں،”مائیک کو تسلی ہوئی تھی۔
”پھر بھی تمہاری تسلی کی خاطر ہم کر لیتے ہیں فنکشن،میں آزر سے بات کر کے ڈیٹ فکس کرلیتا ہوں،”سنیل نے کہا۔
”ہاں ٹھیک ہے ”،مائیک نے یکدم گرم جوشی سے سنیل کا ہاتھ تھام لیا”تھینک یو سنیل“۔
***********
تھوڑی دیر یونہی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد وہ یکدم قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔
”کم آن آزر،”اُس نے زور سے اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا۔
”اُس دن لیکچر میں بور ہو رہی تھی یونہی بیٹھے بیٹھے تمہارا نام لکھ دیا، ”اُس نے ہنستے ہوئے بتایا تھا،عجیب لڑکی تھی وہ،۔
”ویسے جیسا تم سمجھ رہے ہو ایسا تو کچھ نہیں ہے،” وہ جیسے اس کا مذاق اُڑا رہی تھی،آزر کی تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے یا کرے۔۔وہ ہونقوں کی طرح اُس کا چہرہ دیکھ رہا تھا
”ویسے آزر اگر ایسا کچھ ہو بھی تو تمہیں کیا اعتراض ”،اس سے پہلے کہ وہ سکون کا سانس لیتا انعم نے یکدم ہنسی روک کر ڈرامائی انداز میں کہا تھا
”اعتراض ہے کیونکہ تم جانتی ہو یہ ممکن نہیں ”،اُس نے سنجیدگی سے کہا،وہ جان گیا تھا کہ یہ بات مذاق نہیں ہے۔
”کیوں بھی کیا اعتراض؟اچھی خاصی پیاری ہوں ”، وہ اب موبائل کا فرنٹ کیمرہ کھول کر خود کو دیکھ رہی تھی،آزر کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی آئی، ”کیا چیز ہو ویسے تم؟ ”،آزر نے کہا،وہ ابھی بھی خود کا عکس دیکھ رہی تھی۔
”نہیں بھی بھلامجھ میں کیا کمی ہے ”، مصنوعی خفگی سے کہتے ہوئے اُس نے بُرا سا منہ بنایا۔
”چلو فضول نہ بولو آؤ کیفے چلیں بھوک لگ رہی ہے ”، وہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا،وہ اسی طرح بات ٹال سکتا تھا۔
”ہاں بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے“،انعم بھی اس کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
******** *
”کیا؟ ”آزر اچھنبے سے ان کی طرف دیکھا۔
”وہی جو تم نے سنا ہے اور تم اتنا حیران کیوں ہو رہے ہوبھئی؟”۔

”تانیہ اور میں۔۔؟۔۔ہماری منگنی؟ ”اُس نے بے یقینی سے کہا۔
”ہاں آج نہ سہی کل یہ کام تو ہونا ہی تھا،” پاپا نے عام سے انداز میں کہا تھا،اُسے مزید حیرت ہوئی، اس طرح اچانک۔
”لیکن پاپا،،میں فی الحال یہ نہیں چاہتا،”اُس نے اپنی آواز کو مدھم کرتے ہوئے کہا۔
”کیوں؟ ”انہیں کم از کم آزر کے منہ سے انکار سننے کی اُمید نہیں تھی۔
”پاپا ابھی بہت سے کام ہیں جو میں نے کرنے ہیں،بہت سے ٹاسک ہیں میرے،پاپا پلیز مجھے ابھی یہ منگنی یا شادی کے چکروں میں نہیں پڑنا” اُس نے باپ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”شادی کی بات کون کر رہاہے؟”
”لیکن پاپا منگنی کا مطلب یہی ہے نا،میں یں بندھ جاؤ ں گا،میرا فوکس ہٹ جائے گا زیادہ اہم کاموں سے،” اُس نے کمزور سے لہجے میں دلیل دینے کی کوشش کی تھی۔
”آزر۔۔۔تم ”آزر“ ہو۔۔”آزر سنیل مسیح“، تم ہر کام کو مینج کرنا جانتے ہو،تم جانتے ہو کہ ترجیحات کیسے سیٹ کرنی ہیں اور انہیں کیسے پورا کرنا ہے”، اُنہیں حیرت ہو رہی تھی،آزر تو کبھی اس طرح پینک نہیں ہوتا تھا۔
”پاپا،،” اُس نے پیشانی پہ آنے والے پسینے کو ٹشو سے صاف کیا،
”بولو“۔
”پاپا میں تانیہ کے لئے ایسی کوئی فیلنگ نہیں رکھتا، ”اُس نے بالآخر نظریں چراتے ہوئے باپ کے سر پہ بم پھوڑا،وہ جانتا تھا کہ کافی عرصے سے ان دونوں کی بات طے تھی پھر بھی اتنی آسانی سے وہ یہ سب کہہ رہا تھا۔
”پاپا وہ میری اچھی دوست ہے لیکن تانیہ وہ لڑکی نہیں ہے جس سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں،” سنیل خاموشی سے اپنے بیٹے کی ؎طرف دیکھتے رہے۔
”پاپا میں جانتا ہوں کہ آپ اور انکل مائیک کے درمیان بہت عرصے سے یہ بات طے ہے اور میں نے اس تمام عرصے میں تانیہ کیلئے اپنے دل میں فیلنگز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے میں خاموش رہا تھا۔۔مگر۔۔پاپا آئی سوئیر۔۔میں تانیہ کیلئے اپنے دل میں محبت تو دور لگاؤ بھی محسوس نہیں کرتا۔۔۔”اُس نے بہت ٹھوس لہجے میں کہا تھااور سنیل اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے اور جان گئے تھے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے لیکن۔۔آزر نہیں جانتا تھا کہ وہ اُس کی آنکھوں میں کسی دوسری لڑکی کا عکس بھی دیکھ چکے ہیں۔
”تو پھر کون ہے جس کے بارے میں تم سوچ رہے ہو؟۔۔جس سے تمہارا دل محبت کرتا ہے” انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”کم آن پاپا ایسی کوئی نہیں ہے،” اُس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا تھا۔
”اچھی بات ہے اور اگرکوئی ہے بھی تو سن لو۔۔دل میں ہی رکھو۔۔مگر زندگی میں وہ نہیں آئے گی۔۔ میں تمہاری اور تانیہ کی منگنی کی ڈیٹ فکس کر رہا ہوں اور محبت فیلنگز لگاؤ۔۔یہ سب کتابی باتیں ہیں۔۔پریکٹیکل لائف کے تقاضے کچھ اور ہیں ”،پاپا نے کہا اور ایک لمحہ وہا ں رُکے بغیر کمرے سے باہر نکل چلے گئے،آزر نے پہلی بار اپنے باپ کا ایسا حکمیہ لہجہ دیکھا تھا، وہ اپنی کنپٹی کو مسلتے ہوئے کچھ سوچنے لگا تھا۔
**************
”ہماری منگنی کا فنکشن ہے ”، اُس دن کرسٹینا آئی تھی،کرسٹینا تھی اُس کی سیکنڈ کزن بھی تھی اور سب سے عزیز سہیلی بھی،تانیہ نے کھانے کے دوران باتیں کرتے ہوئے اُسے اپنی اور آزر کی منگنی کے بارے میں بتایا تھا۔
”واؤ یار ”،کرسٹینا کے لئے یہ سرپرائز تھا،”ویسے یہ اچانک کیوں؟”،کرسٹینانے حیرت کا اظہاربھی کیا۔
”ہاں بس ہو تو اچانک رہا ہے لیکن جو ہو رہا ہے اچھا ہو رہا ہے،”وہ مسکرائی تھی۔
’’لیکن ایک بات سوچ رہی تھی کہ آزر کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے تمہیں کافی سمجھوتے کرنا پڑیں گے،،یو نو جیسی لاءٖف وہ گزار رہا ہے”، وہ آزر کو جانتی تھی،اس کی نیچر سے واقف تھی،اور اب وہ کیمسٹری میں ماسٹرز بھی اُسی یونیورسٹی سے کر رہی تھی،کئی مرتبہ اس کا سامنا آزر سے ہوا تھا،ہر مرتبہ آزر کو دیکھنے کے بعدوہ تانیہ کو ضرور بتاتی تھی۔
”ارے اس کی ٹینشن نہ لو تم،،بچپن سے جانتی ہوں اُسے،ویسے بھی خود کو میں نے اس کی پسند کے مطابق ڈھال لیا ہے،”ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھے بیٹھے اس نے دیوار میں لگے شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”ویسے اکثر اُسے دیکھتی رہتی ہوں یونیورسٹی میں،کئی دفعہ ان کے ڈیپارٹمنٹ میں چکر لگ جاتا ہے،ویسے بھی وہ اُس مسلم لڑکی کے ساتھ اکثر گراؤنڈ میں بیٹھا ہوتا ہے،وہی جو ویڈیو کلپ میں تھی،جس نے اس کی مدد کی تھی،ویسے میں تھوڑا حیران ہوں آزر نے لڑکیوں سے دوستی کب سے شروع کر دی“،کرسٹینا اپنی طرف سے یونہی عام سی بات کہی تھی اور یہ عام سی بات تانیہ کے سیدھے دل میں جا کر لگی تھی مگر اُس نے فی الفور خود کو سنبھالتے ہوئے بات بنائی تھی۔
”دوستی؟ نہیں میں نہیں سمجھتی وہ اس کی دوست ہے،بس ساتھ پڑھتی ہے، آزر اور وہ ایک ساتھ ایک پراجیکٹ پہ کام کر رہے تھے نہ تو اسی لئے ڈسکشن کرتے رہتے تھے۔۔مجھے تو آزر خود بتاتا رہتا ہے اُس لڑکی کے بارے میں۔۔بلکہ ملوا بھی چکا ہے،” اپنے چہرے پہ موجود اُلجھن کو تانیہ نے چھپایا،اور مسکراتے ہوئے اُس کو جواب دیا تھا۔
”ہاں ہو سکتا ہے ویسے بھی آزر کا تو ہمیں پتا ہے جو شخص ایک دفعہ اس کی مدد کردے وہ ہمیشہ اس کا مشکور رہتا ہے ”،کرسٹینا کے منہ سے آزر کی تعریف سُن کر اُسے خوشی ہوئی۔
”ہاں یہ کوالٹی تو ہے اُس میں،”اُس کے لہجے میں عجیب سا فخر تھا،لیکن دل میں کہیں ایک عجیب سا خوف بھی پیدا ہوا تھا۔
****************
سنیل اُس دن اپنے کسی دوست سے ملنے اردو بازار آئے تھے،اُن کے دوست کی اردو بازار میں ایک چھوٹی سی بُک شاپ تھی،وہ کئی دفعہ فارغ ٹائم میں اُس کے پاس گپ شپ کیلئے آجاتے تھے،اُس دن بھی شام کے ٹائم وہ اپنے دوست سے ملاقات کے بعد شاپ سے نکل رہے تھے،جب انہوں نے تھوڑے فاصلے پہ ایک شاپ کے سامنے ایک گاڑی رُکتے اور اُس گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے آزر کو نکلتے دیکھا اور اگلے ہی لمحے ڈرائیونگ سیٹ سے نکلتی ایک لڑکی کو،بلیو جینز کے ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہنے اُس لڑکی کو پہچانے میں انہیں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی،وہ انعم تھی۔

وہ دونوں ہنستے ہوئے ایک بک سٹال میں داخل ہوئے تھے،سنیل ساکت وہاں کھڑے رہے، آزر کا کسی لڑکی کے ساتھ اس طرح ہنس کر بات کرنا اتنا شاکنگ نہیں تھا جتنا ایک مسلمان لڑکی اور آزر۔۔۔یہ خیال ہی ان کیلئے ناقابل قبول تھا۔۔آزور کیسا تھا؟یہ اُن سے بہتر کون جانتا تھا،ایک باپ سے بہتر اپنے بیٹے کوکوئی جان ہی نہیں سکتا،آزر نے جیسی زندگی بسر کی تھی وہ ان کے سامنے تھی،اُنہیں اپنے بیٹے پہ فخر تھا، مان تھا، لیکن اب جو سامنے تھا وہ کیا تھا،اپنی پوری زندگی میں اُنہوں نے آزر کو کسی لڑکی سے غیر ضروری گفتگو کرتے نہیں دیکھا تھا،شادی بیاہ یا کسی بھی دوسرے فنکشن میں وہ ہمیشہ سب سے الگ تھلگ رہتا تھا،اس کی کچھ لمٹس تھیں اور وہ اُنہیں لمٹس میں رہتا تھا،سکول یا کالج لائف میں کبھی بھی ایسی کوئی شکایت نہیں ملی تھی اور اب کیا واقعی ہی اُس لڑکی کی وجہ سے وہ اپنی لمٹس بھول رہا تھا۔۔۔کیا یہ وہی لڑکی تھی جس کا عکس انہوں نے آزر مسیح کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔کیا آزر سنیل مسیح اتنا کمزور تھا کہ ایک لڑکی اس کے خیالات،دل اور Believes پہ حاوی ہو رہی تھی،اور وہ بھی ایک مسلم لڑکی۔۔۔اُن کے دل کو بہت تکلیف پہنچی تھی۔۔۔ آزر جس طرح ہنستے ہوئے دوکان میں گیا تھا اُسی طرح ہنستے انعم سے باتیں کرتے دوکان سے نکلا تھا،اُس کے ہاتھ میں کچھ کتابیں تھیں جو ابھی وہ خرید کر نکلے تھے،انعم گاڑی کو ان لاک کرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی،آزر کتابوں کو پچھلی سیٹ پہ رکھتے ہوئے اس کے مقابل آن بیٹھا،آزر کی نظر اپنے باپ پر نہیں پڑی تھی۔ ****************************

”اب چلنا چاہیے کافی دیر ہو گئی ہے،”اُس نے انعم سے کہا تو ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھی انعم نے سر ہلایا،وہ دونوں واقعی ہی کافی دیر سے گھوم رہے تھے،”ہاں میں تمہیں ڈراپ کردوں گی ”، اُس نے گاڑی کو آزر کے گھر کی طرف ٹرن کرنا چاہا۔
”نہیں مجھے گھر نہیں جانا ادھر ہی اتار دو،”وہ چونکی،حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
”ادھر؟”
”ہاں پاس ہی چرچ ہے مجھے پہلے دعا کرنی ہے،”آزر نے بتایا۔
”اوہ،”وہ کچھ سوچنے لگی،”میں بھی چلو ں تمہارے ساتھ؟”کچھ دیر سوچنے کے بعد انعم نے اُس سے کہا۔
”کہاں چرچ؟”وہ حیران ہوا۔
”ہاں،”وہ جواب طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
”تم کیا کرو گی وہاں؟”
”کچھ نہیں بس چرچ دیکھو ں گی،”کندھے اچکاتے ہوئے اُس نے نارمل سے انداز میں کہا۔
”اوکے مجھے کوئی مسئلہ نہیں چلو،” آزر نے رضا مندی ظاہر کی تھی۔
”تو کس طرف موڑوں گاڑی ہے،”انعم نے اُس سے پوچھا۔
؎”یہاں سے سیدھا اور پھر رائٹ،” آزر ہاتھ کے اشارے سے اُسے ایڈرس سمجھانے لگا،اس کی ہدایات پہ عمل کرتے ہوئے اُس نے گاڑی چرچ کے سامنے روک دی تھی،چرچ کا داخلی گیٹ دیکھتے ہی انعم کا دل تیزی سے دھڑکا تھا،اُس نے آزر کو چرچ کے اندر جاتے ہوئے دیکھا وہ گیٹ پہ کھڑا اُسے اندر آنے کیلئے اشارہ کر رہا تھا،تھوڑی سی جھجھک کے بعد وہ اس کی طرف چل دی۔
چرچ کا اندرونی منظر اُس کیلئے ایک نئی دنیا تھی،اخبارات یاٹی وی میں اس دنیا کو دیکھنا ایک الگ چیز تھی اور بذات خود وہاں موجود ہونا بالکل الگ احساس تھا،آزر اس کو ایک ڈیسک پہ بٹھا کر خود آگے جاکر بیٹھ گیا تھا،وہیں ایک کونے میں بیٹھے بیٹھے اُس نے وہاں کا سرسری جائزہ لینا شروع کیا،وہ ایک بڑا سا ہال تھا جس میں ترتیب سے ڈیسک لگے ہوئے تھے،اُن ڈیسک پہ مختلف عمرکے لوگ بیٹھے تھے،سامنے اسٹیج پہ کھڑے فادر بائبل پڑھ رہے تھے۔
” اے عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی محبت رکھتا ہے وہ خُدا سے پَیدا ہوا ہے اور خُدا کو جانتا ہے، جو محبت نہیں رکھتا وہ خُدا کو نہِیں جانتا کِیُونکہ خُدا محبت ہے – گلتیوں (5: 14)
وہ بائبل سنتے سنتے دیوار پہ لگی حضرت عیسی اور حضرت مریم علیہ اسلام کی تصاویر دیکھنے لگی تھی،اور پھر اونچی چھت کے ساتھ لگے ہوئے پنکھے،وہاں سے نظرگھما کر اور ارد گرد کے لوگوں کو دیکھنے لگی جو مکمل طور پہ عبادت میں محو تھے،اُسے سارے ماحول سے عجیب گھٹن ہوئی ایک عجیب ساخوف،وہ تیزی سے اُٹھ کر باہر آگئی،باہر آتے ہی اُسے کچھ سکون ملا تھا،پھر کچھ وقت گزرا اور چرچ سے دوسرے لوگ بھی باہر آنے لگے، دعا شاید ختم ہو گئی تھی،وہ غور سے سب کی طرف دیکھنے لگی۔
”ہیلو تم باہر آگئی؟ ”اُس نے اپنے عقب میں آزر کی آواز سنی۔
ہاں بس ویسے ہی ”،اُس نے آزر کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ اُسی طرح دوسرے لوگوں کی طرف دیکھتی رہی۔
”چلو آؤ تمیں فادر سے ملواتا ہوں، ”وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چل پڑا،انعم بھی اس کے پیچھے چلنے لگی۔
”فادر سے مل کر کیا کروں گی؟” اُس کے پیچھے چلتے ہوئے انعم نے پوچھا۔
”کچھ نہیں بس انٹروڈکشن ”،کندھے اچکاتے وہ اس کے ساتھ چرچ میں داخل ہوئی۔
”Hello Father! She is my friend Anam Saeed.And Anam He is Pastor Ayub a very talented and very good person,infact he is my ideal. ”
آزر کے تعارف کروانے پہ فادر نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ انعم کا استقبال کیا،وہ لڑکی ان کے مذہب کی نہیں تھی یہ انہوں نے تب ہی محسوس کر لیا تھا جب وہ اسٹیج پہ کھڑے دعا کروا رہے تھے،اور اب وہ جان گئے تھے کہ انعم مسلمان ہے،لیکن اس کے باوجود اُس سے خوش دلی سے بات کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے،وہ کچھ دیر انعم سے گفتگو کرتے رہے اور پھر کسی نے اُنہیں مخاطب کیا وہ اس کی طرف چلے گئے تھے۔
آزر اُسے لے کر ایک ڈسیک پر بیٹھ گیا،وہاں پہ رکھی زبور اُٹھا کر وہ اُسے گیت سنانے لگا۔
”آؤ اک نواں گیت رب لئی گاؤ!
سب جو زمین تے اوہ گاون لئی آؤ،،”
وہ مکمل توجہ کے ساتھ اس کی طرف دیکھتے ہوئے گیت سننے لگی تھی،تھوڑی دیر پہلے والی بے چینی گھٹن اور خوف اچانک سے غائب ہو گیا تھا۔
جاری ہے۔