مکمل ناول ”تکون”…قسط نمبر 1.

انتباہ: ”کینوس ڈائجسٹ“ پر شائع ہونے والی تمام تحاریر مصنفین اور کالم نگاروں کی اپنی سوچ اور ریسرچ پر مبنی ہیں،ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں،کینوس ڈائجسٹ تمام مصنفین کو اپنی بات کہنے کی آزادی دیتا ہے مگر اس کے نتیجے میں کسی بھی مسئلے میں ادارہ کسی بھی سوال جواب کا پابند نہیں ہے۔۔شکریہ۔

انتساب:”کاتب تقدیر۔۔۔خالق کائنات کے نام ”

تحریر : محمد انس حنیف۔

ارسل نے اُس کو کالر سے کھینچتے ہوئے زودر ار جھٹکا دیا،وہ لڑکھڑایا،توازن برقرار نہ رکھا اور اوندھے منہ زمین پہ گِر گیا،بات زبان سے ہو رہی تھی،وہ اس حملے کیلئے تیار نہیں تھا،وہ چند سیکنڈز زمین پہ پڑا رہا،بمشکل اس نے خود کو سنبھالا،ابھی کھڑا ہوا ہی تھا کہ دوسری طرف سے زور دار مکا ناک پہ آن لگا، خون کی ایک لکیرناک سے نکلی،صبر انتہا کی سطح کو چھو چکا تھا،ا س کی آنکھوں میں بھی اب خون اُتر آیا تھا،وہ جوابی حملہ کرنا چاہتا تھا لیکن درمیان ایک دو سیکیورٹی اہلکار اور کچھ اسٹوڈنٹس بیچ بچاؤ کے واسطے درمیان میں آگئے۔۔جو فزکس ڈیپارٹمنٹ کے کیفے ٹیریا میں کچھ لمحوں پہلے سے ہونے والے اس جھگڑے کوLiveدیکھتے ہوئے محظوظ ہورہے تھے۔
”ارسل پاگل ہو گئے ہو کیا؟”وہ اُس کی کزن تھی،جو اسے بازو سے کھینچتے ہوئے دور لے آئی،ساتھ ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور بھی تھے،جو اس کا غصہ نارمل کرنے کی کوشش کر نے لگے۔
لیکن اُس نہتے لہولہو شخص کے پاس کوئی نہیں تھا،وہ اکیلا تھا اور جانتا تھا کہ یہا ں اُس کی مددکو کوئی نہیں آئے گا،اُسے اپنی مدد آپ ہی کرنا تھی،وہ خود ہی ہجوم میں سے جگہ بناتا ہوا وہاں سے نکلا،ایک ہاتھ سے ناک میں نکلتے ہوئے خون کوروکنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی اتری۔
کیسے لوگ تھے وہ؟
جب دلیل نہیں رہی تو ہاتھا پائی پہ اتر آئے تھے۔
خوش اخلاق۔۔منافق لوگ۔۔
جو اپنے لئے آزادی چاہتے ہیں اور دوسروں کو دینے کیلئے پابندیاں۔۔آزاد ملک۔۔؟
اُسے ان سب سے نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔ بے حد نفرت۔۔۔
**********

‘تو اتنی سی بات ہے جس پہ تم اپ سیٹ تھے؟ ‘ آزر کے باپ نے بہت ہی مطمئن انداز میں کہا تھا۔
”پاپا آپ اسے اتنی سی بات کہہ رہے ہیں ‘،’وہ تھوڑا حیران ہوا،وہ اس وقت اپنے باپ کے ساتھ اسٹڈی میں بیٹھا کل ہونے والا معاملہ ڈسکس کررہا تھا،لیکن اس کو اُمید نہیں تھی کہ پاپا اسے اتنا لائٹ لیں گے۔
”آزر تم جانتے ہو کہ ہم یہاں اقلیت میں ہیں،اس لئے ہمیں سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا،ان باتوں کو اگر ہم لائٹ نہیں لیں گے تو بہت مصیبت بن جائے گی،ہمارے لئے ہر دن بہت سے نئے مسئلے پیدا ہوجائیں گے”،انہوں نے کہا تھا۔
‘ ‘لیکن پاپا پاکستان آزاد ریاست ہے،آئین ہمیں آزادی دیتا ہے ”،آزر نے ایک عجیب سی کیفیت میں کہا۔
”پاکستان آزاد ریاست نام کی حد تک ضرورہے،لیکن یہاں اقلیتوں کو آزادی حاصل نہیں ہے، کم از کم اپنی رائے دینے کی آزادی تو بالکل بھی نہیں“،انہوں نے اسی کے انداز میں جواب دیا، آزر خاموش ہو گیا،
اُس نے اپنے پاپا کے چہرے پہ مایوسی دیکھی تھی،وہ بھی خاموش ہو گئے تھے،آنکھوں کو مسلتے ہوئے اُس نے سر کو جھکا لیا،چند لمحے یونہی گزرے پھر اس نے پاپا کو کہتے سنا۔
”کیا تم بھول گئے یسوع مسیح کو لوگوں نے کس قدر بے بس کیا تھا،اُن کے لئے کیا کیا آزمائشیں کھڑی نہیں کی گئیں تھیں؟ ”پاپا اُٹھ کر اُس کے پاس آئے تھے،کندھے پہ ہلکی سی تھپکی دیتے ہوئے اس کا حوصلہ بڑھانے لگے تھے،وہ ہمیشہ ایسے ہی اُس کی ہمت بڑھاتے تھے۔
”پاپا میں سب جانتا ہوں لیکن میں تھک جاتا ہوں ” اُس نے یونہی کُرسی پہ بیٹھے بیٹھے پاپا کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
” تھکنا نہیں میرے بیٹے اور نہ ہی مایوس ہونا ہے،صرف اگنور کرنا سیکھو،صرف اپنی تعلیم پہ توجہ دو،یہ لوگ کانٹے بچھائیں گے،تمہیں زخم دیں گے،تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ ہر زخم کو مسکراتے ہوئے برداشت کرتے جاؤ،آگے بڑھتے جاؤ ”پاپا کی بات پہ وہ کسی حدتک ریلیکس ہوا تھا،”جی پاپا میں کوشش کروں گا“، وہ مسکرایا اور اُٹھ کھڑا ہوا،اب دونوں باپ بیٹا آمنے سامنے کھڑے تھے۔
ُ ”آزر تم جانتے ہو نایسوع نے تمہیں خاص مقصد کیلئے چنا ہے،تم عام انسان نہیں ہو،خداوند کے خاص بندے ہو”،وہ اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے ہوئے بڑے فخر سے کہہ رہے تھے۔ اُنکے لہجے میں اپنے بیٹے کے لئے عجیب سا فخر تھا۔
”میں جانتا ہوں پاپا،آپ پریشان نہ ہوں،فی الحال میں چرچ جارہا ہوں مجھے سکون کی ضرورت ہے ”،وہ باپ سے گلے ملا اور پھر اسٹڈی سے نکل گیااور وہ اسے خاموشی سے جاتے ہوئے دیکھتے رہے،آزر ان کی اکلوتی اولاد تھی،ان کا سرمایہ۔۔ان کا غرور۔۔اُن کے گھرانے میں بس دو فرد ہی تھے،آزر اور وہ خود،آزر کی ماں اس کے بچپن میں ہی کینسر کا شکار ہوکر چل بسی تھی،تب سے بس وہ باپ بیٹا ہی ایک دوسرے کی زندگی تھے ہر باپ کی طرح سنیل مسیح بھی اپنی اولاد کو سکون میں دیکھنا چاہتے تھے،اور اولاد کو بے چین دیکھ کر ان کا دل پریشان تھا،وہ اس کے سامنے خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے،لیکن حقیقت میں بات پریشانی والی ہی تھی،ایک ایسے ملک میں جہاں انسانیت کے نام پہ شاید ان سے حسن سلوک ہو سکتا تھا،لیکن جب بات مذہب کی آتی تھی تو یہاں ان مہذب انسانوں کے اندر کا وحشی درندہ ایسے جاگتا کہ وہ پھریہ بھی بھول جاتا کہ جو تباہی وہ مچا رہا ہے اُسے اس لئے زمین پہ نہیں اتارا گیا ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنی اس عمل کیلئے خدا کے جواب دہ ہے، وہ خود ساری عمر پاکستان میں ہی پلے بڑھے تھے اور اپنی جوانی کے دنوں میں انہوں نے ایسی سفاکی اور نفرت کبھی نہ دیکھی تھی جیسی وہ اب دیکھ رہے تھے، وہ ایک گورنمنٹ سکول میں ٹیچر تھے لیکن اب ہر جگہ ان کیلئے سکون صرف اسی میں تھا کہ وہ مذہبی معاملات میں .اپنی کوئی رائے نہ دیں، اور ایسی ہی صورتحال کا سامنا اُن کے بیٹے کو بھی تھا آزر اپنے مذہب سے شدید لگاؤ رکھتا تھااور یہ لگاؤ وراثتی طور پہ اس میں منتقل ہوا تھا،وہ بہت کم عمری میں اپنے دادا کے ساتھ چرچ جانا شروع ہوا تھا،اُس کے داد ا عیسائیوں کی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کے ساتھ منسلک تھے،یہ تنظیم مسیحی برادری کے مسائل کے حل کیلئے کئی سالوں سے کوشش کرتی آرہی تھی،یہ تنظیم مختلف سیمینار منعقد کرواتی جہاں نوجوانوں کے اندر عبادت کا شوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ،اپنی برادری کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی جاتی،آزر بھی شروع سے ہی اپنے دادا کے ساتھ ہر جگہ جاتا،نو سال کی عمر میں اُس نے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات اقدس کے بارے میں جان لیا تھا،کم عمری میں مذہبی دلچسپی نے اس کے اندردوسرے مذاہب کے مطالعہ کا رجحان پیدا کیا تھا،صرف چودہ سال کی عمر میں اس نے تقابل ادیان پہ مبنی کتب پڑھنا شروع کردی تھیں،اس کے مطالعہ نے اس کی سوچ کو وسعت اور گہرائی دی تھی،وہ لوگوں کی مذہبی الجھنیں دور کرنے میں اُن کی مدد کرنے لگا تھا،وہ دلیل سے بات کرتا تھا،اس کے پاس ہر بات کی کوئی نہ کوئی منطق ضرور تھی،اور وہ اپنی منظق سے اپنے مقابل کو منہ کے بل گرانا جانتا تھا،لیکن وہ نہیں جانتا تھاکہ منطق سے دوسرے کو لاجواب کرنے کا یہاں نتیجہ یوں بھی آسکتا ہے۔

**************۔
بڑے داخلی گیٹ کو کراس کرنے کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے چرچ کی جانب بڑھی،لان میں لگے لال گلابوں کی مہک اُس کے نتھنوں سے ٹکرائی،اُسے یک دم عجیب سی تازگی محسوس ہوئی تھی،یونہی گزرتے گزرتے اُس نے ایک دو گلاب کے پھولوں کو چھوا،اپنے اونچی ہیل والے جوتوں کو پاؤ ں سے الگ کرنے کے بعدوہ چرچ میں داخل ہوئی،چرچ میں مکمل خاموشی تھی،یہ رات کا ٹائم تھا اس لئے گنتی کے چند لوگ ہی وہاں موجود تھے اور ان چند لوگوں میں وہ بھی تھا۔
وہی، جسے دیکھنے کیلئے تانیہ وہاں آئی تھی،وہ سب سے اگلی لائن میں،اپنی آنکھیں بند کئے،دل کے قریب ہاتھ رکھے ہوئے مکمل طور پہ عبادت میں مگن تھا،تانیہ اس سے چندفٹ کے فاصلے پہ کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی،وہ اپنے بچپن سے اُسے دیکھتی آرہی تھی،وہ جب عبادت کرتا تو ایسے جیسے کسی اور دنیا میں چلا جاتا،ارد گرد کی ہر شے سے بے خبر۔۔
“Dear Jeasus i dont want anything else. I just want him,,,i just want Aazar ”
اُس نے وہاں کھڑے ہو کر اپنی پہلی دعا مانگی تھی،وہ کب سے یہ دعا مانگتی آ رہی تھی؟اُسے یاد نہیں تھا،صرف یاد تھا تو اتنا کہ یسوع کے سامنے کھڑے ہوکر،اس کے ہونٹوں سے پہلی دعا یہی نکلتی تھی،وہ اُسے ہی مانگتی آرہی تھی،پچھلے کتنے ہی سالوں سے مکمل یکسوئی کے ساتھ۔
دعا مانگتے مانگتے اُس نے آزر کی طرف دیکھا،وہ اپنی عبادت مکمل کرنے کے بعد اب فادر سے باتیں کررہا تھا،تانیہ نے اپنے آپ کو مکمل طور پہ عبادت میں مگن کرلیا تھا،وہ چاہتی تھی کہ فارغ ہونے کے بعد وہ اس کے قریب بیٹھ کر اس کی دعا مکمل ہونے کا انتظار کرے۔

لیکن فادر سے گفتگو ختم کرتے ہی وہ خاموشی سے باہر نکل گیا،تانیہ کو یوں نظر انداز ہونا کافی ناگوار گزرا تھا لیکن وہ سب کچھ بھول کر تیزی سے باہر نکلی تھی،وہ سر کو جھکائے اپنے جاگرز کے تسمے باندھ رہا تھا،یونہی اُس نے نظریں اُٹھائیں تو سامنے تانیہ کو دیکھ حیران رہ گیا۔
”ارے تم۔۔” وہ مسکرایا تھا،تانیہ صرف سر کو ہلا سکی،منہ سے کچھ نہ کہا تھا۔اُس کی دلفریب مسکراہٹ تانیہ کی کمزوری تھی،وہ کم مسکراتاتھا،لیکن جب بھی مسکراتا تھا،تانیہ جیسے کھو سی جاتی تھی۔
”ہاں میں نے تمہیں اندر دیکھا تھا، لیکن تم نے میرا انتظار ہی نہیں کیا”، وہ دونوں اب ایک ساتھ چلتے ہوئے لان میں سے گزر نے لگے۔
”اوہ معاف کرنا،میں نے تمہیں نہیں دیکھا۔” تانیہ جانتی تھی وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا،اگر اُس نے نہیں دیکھا تو مطلب نہیں دیکھا۔
”کوئی بات نہیں،تم سناؤ کہاں مصروف ہو،ایک گلی میں بلکہ ساتھ والے گھر میں رہتے ہوئے تمہاری کوئی خبر ہی نہیں۔مطلب لفٹ ہی نہیں کرواتے تم ” اُس نے گلہ کیا تو آزر کچھ شرمندہ ہوا تھا،وہ جانتا تھا کہ اُس کا گلہ جائز ہے،وہ اس کی بچپن کی دوست تھی،دونوں کے گھر ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے خوب آنا جانابھی تھا لیکن اب کچھ مصروفیات ہی ایسی تھیں کہ وہ مہینوں اُس سے دعا سلام بھی نہیں کرپاتا تھا۔
”بس کچھ یونیورسٹی کی مصروفیات،اور کچھ سیمینار کی تیاریاں ”،وہ خفیف سے لہجے میں بولا،تانیہ کو یاد آیا تھا،اس کے ڈیڈی بھی کچھ دن پہلے سیمینار کا ذکر رہے تھے،جو وہ لاہور سے کچھ دورگاؤ ں میں کرنا چاہ رہے تھے،تانیہ کے ڈیڈی،آزر اور اُن کے محلے کے چند دوسرے آدمی مل کرایسی مذہبی میٹنگ اور سیمینار اکثر کرواتے رہتے تھے،آزر کے دادا کی وفات کے بعدسب مڈل کلاس فیملیز سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنے فنڈز سے یہ خدمات سر انجام دے رہے تھے۔
لان سے گزرتے ہوئے جب وہ باہر نکلے تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی،ساتھ چلنے والی ٹھنڈی ہوا مزید راحت کا سبب بنی تھی،آزر اُس سے ادھر اُدھر کی چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے لگا تھا،وہ مسکراتے ہوئے اس کی ہر بات کا جواب دے رہی تھی،وہ دونوں چلتے ہوئے اپنی گلی میں داخل ہوئے تھے، ان کی گلی اور چرچ میں صرف تھوڑا سا ہی فاصلہ تھا جو کہ پیدل تین سے چار منٹ میں طے ہو جاتا تھا۔
”اوکے خدا حافظ ” اپنے گیٹ پہ پہنچ کر اُس نے بے دلی سے مگر مسکرا کر کہا تھا،وہ اُس شخص کے ساتھ زندگی کا ہرراستہ طویل ترین کردینا چاہتی تھی۔
“Bye God Bless You.” آزر اُسے الوداع کہتے ہوئے اپنی جینز کی پاکٹ سے گیٹ کی چابی نکالنے لگا،وہ ایک نظر آزر کو دیکھتے ہوئے اندر چلے گئی۔
تانیہ اور آزر بچپن کے دوست تھے،آپس میں فیملی ریلیشنز ہونے کی وجہ سے دوستی کچھ زیادہ ہی تھی،پندرہ سال کی عمر میں پہنچنے پر تانیہ کواپنے دل میں اُس کیلئے کچھ اور محسوس ہوا تھا،یہ فیلنگز وہی تھیں جو اس عمر میں صنف نازک اپنے من پسند مرد کیلئے رکھتی ہیں،وہ اُس کیلئے ایسی فیلنگز رکھتا تھا یا نہیں؟ اس سوال کا جواب اُسے کبھی نہیں ملا تھا،جس عمر میں لڑکوں کی اولین ترجیح صنف نازک ہوتی ہیں،اس عمر میں آزر کی دلچسپی مذہب میں تھی۔
تانیہ نے بھی اپنی محبت کو حالات کے سپرد کردیا تھا،آزر کے دل میں اُس کیلئے کیا فیلنگز تھیں یہ اُس کے ساتھ ایک دوست کی طرح چل رہی تھی۔لیکن کئی بار اس کیلئے اُس مرد کے ساتھ صرف دوست بن . کرچلنامشکل ہوجاتا تھا جس سے وہ شدید محبت کرتی تھی۔ے وقت پہ چھوڑ دیا تھ

*************

وہ تینوں مکمل خاموشی سے اپنا اپنا فلور کشن سنبھالے بیٹھے تھے۔
ارسل اپنے موبائل پہ کینڈی کرش کھیلنے میں مصروف تھا۔اُس سے کچھ فاصلے پہ انعم تھی جس کی نظ سامنے دیوار پہ لگی ایل سی ڈی پہ مرکوز تھیں۔جہاں کوئی فٹ بال میچ چل رہا تھا۔اور دونوں کے درمیان میں بیٹھی رومیصہ مسلسل اپنے فائلر سے ناخنوں کی خراش تراش میں مصروف تھی، تینوں بظاہر مصروف دکھنے کی کوشش میں تھے لیکن در حقیقت وہ تینوں ایک ہی مسئلے کے بارے میں سوچ رہے تھے،اور اس مسئلے کو سوچتے ہوئے ان کی ذہنی کیفیت عجیب ہو رہی تھی۔یہ چار دوستوں کا گروپ کالج میں بنا تھا، علی،ارسل،انعم اور رومیصہ،ارسل اور انعم کزن تھے،رومیصہ اور انعم کے ابو آپس میں بزنس پارٹنر تھے،اور علی ارسل کا او لیول سے دوست تھا اور اس وقت وہ سب علی کے گھر اکٹھے ہوئے تھے۔مقصد اُسی مسئلے کو حل کرنا تھاجویونیورسٹی میں اب مزید سنگینی اختیار کرتا جا رہا تھا،اُن چاروں کا خیال یہی تھا کہ بات گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ خود کور کر لیں۔ارسل کے ابا نے اُسے پیسوں کے حوالے سے مکمل آزادی تھی لیکن ڈسپلن کے حوالے سے وہ کوئی اونچ نیچ برداشت نہیں کرتے تھے۔اور ارسل انعم کے ساتھ مل کر گھر سے باہر ایسی کئی اونچ نیچ کرتا ہی رہتا تھا،اُن دونوں کے پورشن الگ تھے۔لیکن وہ زیادہ تر ایک ہی پورشن میں کوئی نہ کوئی پلاننگ کرتے پائے جاتے تھے،اُنکی پلاننگز ایسی تھیں۔

رات کے بارہ بجے بڑی گاڑی کی چابی پہ ہاتھ صاف کرن
سینما کا لیٹ نائٹ شو دیکھنا۔
انعم کا کسی سبجیکٹ میں فیل ہوجانا،اور ارسل کا ٹیچر کو رشوت کھلا کر یا تڑی لگا کر پاس کروانا۔
اپنے فارم ہاؤس میں دوستوں کے ساتھ گھر والوں سے چوری میوزیکل پارٹی ارینج کرنا۔
اور اسی طرح کے چند دوسرے کارنامے،لیکن مجال ہے جو اتنے سالوں میں کسی ایک بات کا بھی گھر والوں کوکبھی پتا چلا ہو،لیکن اس بار
بات گھر تک پہنچناکتنا آسان تھا یہ وہ چاروں جانتے تھے،اُن کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ارسل کے ابا کے جگری دوست تھے اور مسئلہ یہ تھا کہ اس سے پہلے کہ وہ اپنے دوست کا یہ سارا کارنامہ گوش گزار کرتے انہیں کیسے روکنا تھا اور اسی لئے وہ سب اکھٹے ہوئے تھے۔
”کیا کرناہے اب؟“، خاموشی کو ارسل نے توڑا تھا اور جواباوہ چاروں ایک دوسرے کی شکل دیکھناشروع ہو گئے۔
”یہ الو کا پٹھا۔۔آزر مسیح۔۔یہ تو سر پہ ہی چڑھتا جا رہا ہے۔” ارسل کافی کا گونٹ بھرا،اُس کا لہجہ زہریلا تھا۔انعم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
”وہ سر پہ چڑھ رہا ہے؟ تم اُس کو زچ کر رہے ہوکب سے اور اگراُس نے جواب میں کچھ کہہ دیا ہے تو تمہیں برا لگ رہا ہے”،انعم نے کہا تو ارسل کو بُرا لگا تھا،کم از کم وہ اس وقت ایسا کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا،اور انعم کے منہ سے تو بالکل بھی نہیں۔وہ اس کی کزن تھی۔دوست تھی تو اسے ارسل کی ہاں میں ہاں ہی ملانی چاہیے تھی۔
”تم اُس کی صفائی دے رہی ہو،اس کی خاطر مجھ سے لڑ رہی ہو۔ ”ارسل نے بے یقینی سے کہا۔
”میں اس کی صفائی کیوں دوں گی۔۔میں تو۔۔” ارسل نے اس کی بات کاٹ دی۔اُسے مزید غصہ آیا تھا۔
”محترمہ!آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے،آپ اس کی ہی سائیڈ لے رہی ہیں۔” معاملہ بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا،رومیصہ نے آنکھوں سے علی کو اشارہ کیا کہ وہ معاملہ سنبھالے۔کم از کم یہ وقت انعم اور ارسل کی لڑائی کے لئے ٹھیک نہیں تھا۔
”یار تم لوگ آپس میں تولڑنا بند کرو،ہم یہاں آپس میں لڑنے کیلئے نہیں بیٹھے ” علی نے کہا توانعم مزید خاموش ہی رہی اور اُسے خاموش دیکھ کر ارسل بھی خاموش ہو گیا۔
”اب کیا کرناہے آزر کا؟” علی نے اُن دونوں کو خاموش دیکھ کر کہا تھا۔ اور وہ چاروں سر جوڑ کر کوئی نہ کوئی سچ جھوٹ پہ مبنی پلان بنانا شروع ہو گئے تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ ایک عام سا لڑکا’آزر سنیل ” ان کیلئے اس قدر درد سر بن جائے گا۔

وہ چاروں ہی دنیا میں صرف عیش کرنے آئے تھے کم از کم ان کی باتوں اور لائف اسٹائل سے تو یہی لگتا تھا، انعم جو ہر وقت “something new” کی تلاش میں رہتی،کچھ نیا کرنا کچھ الگ کرنا،کچھ ہٹ کر کرنا یہی اُس کا مشغلہ تھا یہی اس کی خوبی تھی،اُس کے اردگرد کیا ہورہا ہے،اُسے کسی کی پروا نہ تھی،بس اُسے غرض تھی اُس ایڈوانچر کی جو و ہ کرنا چاہتی تھی،کئی ایڈوانچر ز تو کافی خطرناک نوعیت کے ہوتے جیسے Bs کے دوران کلاس میں موجود ایک سیاہ رنگت رکھنے والے دبلے پتلے لڑکے سے پورے پندرہ دن کیلئے افئیرز چلانا۔اُن دنوں وہ اور رومیصہ اچھا خاصا بور ہوہی تھیں،ارسل ان دنوں اپنے ابا کے ساتھ عمرے پہ گیا ہواتھا،اور علی ارسل کے بغیر کالج آنااپنی توہین سمجھتا تھا۔وہ دونوں کالج میں سارا دن بور ہوتی رہتیں۔اسی بوریت کو دور کرنے کیلئے،انعم نے رومیصہ سے کہا کہ وہ اُسے کوئی ایسا چیلنج دے جسے کرنا اُس کیلئے ناممکن ہواور رومیصہ نے جواب میں اُسے چیلنج دیا کہ وہ کچھ دن کیلئے آفتاب سے افیئرچلا کر دکھائے۔ آفتاب ان کی کلاس کا سب سے عجیب و غریب لڑکا تھا،اس کی جسامت بالکل ایسی تھی جس پر ہینگر پہ کپڑے لٹکے ہوں اور رنگت سانولی نہیں سیاہ تھی،رہی سہی کسر آنکھوں پہ لگنے والے اُس چشمے نے پوری کی تھی،جس میں کافی موٹے موٹے شیشے استعمال ہوئے تھے۔وہ دونوں اکثر اس کی طرف دیکھ کر ہنسا کرتی تھیں۔ انعم کے لئے اُس سے افئیر چلانا مشکل تھا لیکن اس نے اسے ممکن کردکھایا تھا،آفتاب کی تو گویا لاٹری لگ گئی تھی،کلاس کی ایک حسین لڑکی اُسے سمائل دے رہی تھی،کسی نہ کسی بہانے بات بھی کر رہی تھی،صرف دو تین دن کے بعد ہی فون نمبرز کا تبادلہ اور چار دن کے بعد ہی آفتاب کی طرف سے موصول ہونے والی عشقیہ شاعری۔انعم کو یہ ایڈوینچر کافی دلچسپ لگنے لگا تھالیکن تب ہی ارسل کی واپسی ہو گئی،اور یہ افئیر صرف پندرہ دن ہی چل سکا۔بعد میں ارسل نے انعم سے تو اچھا خاصا جھگڑا کیا تھا،لیکن جن گالیوں سے آفتاب کو نوازا تھاان کی بازگشت کئی ہفتوں تک کیمپس میں گونجتی رہی تھی۔ رومیصہ انعم کی طرح ایڈوینچرس تو نہیں تھی لیکن تھی وہ بھی اپنے نام کی ایک،اُس کاشوق اس کی گاڑی کے گرد گھومتا تھا،مارکیٹ میں آنے والی ہر گاڑی اس کی کمزوری تھی،اپنی کار کو فل اسپیڈ میں دوڑاتے ہوئے جیسے اُسے دلی سکون ملتا تھا،اپنے ڈیش بورڈ کی حفاظت وہ ایسے کرتی جیسے اُسکا بوائے فرینڈ ہو۔یہ انعم کا کہنا تھا اور حقیقت بھی یہی تھی۔ تیسرا نمونہ علی۔ جم اور سوئمنگ اور جم اور پھر سوئمنگ۔۔جم اس کی محبت تھی۔اور سوئمنگ سے اُسے عشق تھا۔دُنیا ادھر کی ادھر ہو جائے مگر علی کے یہ دو معمولات کبھی نہیں بدلا کرتے تھے۔ اور پھر تھا ارسل،اُن سب کا باس،خیر عزت تو باس والی نہیں تھی،البتہ پروٹوکول ویسا ہی ملتا تھا۔کوئی کام کوئی پلان ارسل کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔انعم ایڈوینچر کرنے میں ماہر تھی،رومیصہ گاڑی کو تیز بھگانے میں،علی جمنگ اور سوئمنگ میں اور ارسل ان سب میں ماہر تھا،اور اس کے علاوہ جو چیز اسکو سب میں نمایاں بناتی تھی وہ اس کی ذہانت تھی۔وہ ذہین تھا،BSکے ہر سمسٹرز اور اپنے سیکشن میں اُسکا GPA پوری کلاس سے اچھا تھا۔۔ اور اُن چاروں میں ایک مشترکہ چیز اور بھی تھی اورجو سب سے بڑی خوبی تھی۔۔سب خوبیوں کی ماں۔۔۔اُن کی دولت۔ وہ ایلیٹ کلاس سے تھے،اس لئے ہر مسئلہ پیسے سے حل کرنا جانتے تھے،لیکن اس دفعہ عجیب معاملہ سامنے آیا تھا،جو سلجھنے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا تھا۔

وہ چاروں Puلاہور سے Ms-physicsکررہے تھے اوراُن کی کلاسز شروع ہوئے وہ تیسراہفتہ تھا،جب اُن کے سیکشن میں ایک سانولے رنگت والے لڑکے کی آمد ہوئی،ارسل کو پہلی ہی نظر میں وہ کافی عجیب سا لگا تھا،عجیب سا کیا بلکہ بُرا لگا تھا۔ ارسل لبرل تھا لیکن غیر مسلم لوگوں سے اُسے عجیب سی چڑ تھی،گھر میں اگر کوئی نا ن مسلم ملازم اس کے کپڑوں یا دوسری استعمال کی چیزوں کو ہاتھ بھی لگا لیتا تو وہ ہنگامہ کھڑا کر دیتاتھا اور اُس چیز کو دوبارہ استعمال کرنے کی بجائے پھینک دیتا تھا،وہ ہرگز مذہبی نہیں تھا اس کے باوجود وہ ہر غیر مسلم کو چھوت کی بیماری سے کم نہیں سمجھتا تھا،اُن کے ساتھ میل جول،اُٹھنا بیٹھنا تو دور کی بات تھی۔ آزر سنیل مسیح کو آئے پانچواں دن تھا، ارسل ایک کلاس فیلو کے ساتھ کلاس روم میں بیٹھا تھا،اس وقت کلاس روم میں بس وہ دو لوگ تھے،جب آزر اپنا بیگ کندھے پہ لٹکائے کلاس روم میں داخل ہواتھا،دوسرے لڑکے سے ہاتھ ملانے کے بعد اُس نے ارسل سے بھی مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا،ارسل کو اُس کا ہاتھ دیکھ کر ہی عجیب قسم کی الجھن ہوئی تھی اور وہ چپ چاپ وہاں سے اُٹھا اور کلاس روم سے باہر نکل گیا،اُس نے مڑ کر آزر کے تاثرات نہیں دیکھے تھے،کلاس روم سے باہر آتے ہوئے وہ سوچ چکا تھا کہ اُسے اُس عیسائی لڑکے کو نظر انداز کرنا ہے اور بس۔۔مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کام اُس کیلئے ناممکن ہے۔ اگلے چند دنوں میں ارسل نے یہ جان لیا تھا کہ یہ آزر کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ وہ لڑکا اپنی جگہ بنانا بخوبی جانتا ہے،آزر بہت جلد کلاس میں اپنی ذہانت کی وجہ سے نمایاں ہو گیا تھا،اکثر کلاس کسی نومیریکل یاکسی پرابلم میں پھنس جاتی تو سب سے پہلے آزر ہی وہ پرابلم حل کرتا۔ اپنے سبجیکٹس کے علاوہ بھی اس کے پاس کافی Knowledge تھا۔وہ کم گو تھا لیکن اگر کسی معاملے میں اپنی رائے دیتا تو ٹھوس دلیل کے ساتھ،اس کی ہر بات میں گہرائی ہوتی تھی،ارسل جس چیز سے بُری طرح خائف ہوتاتھا،وہ ذہانت تھی اور وہ لاشعوری طور پہ آزر سے خائف ہونے لگا تھا۔

ذہانت اور گہرائی کے علاوہ اس کے پاس جوچیز تھی وہ اُس کا اخلاق تھا،وہ نرم لہجے میں بات کرنے کا عادی تھا،کوئی اُسے پسند کرتا یا نہ کرتا وہ سب کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھے ہوئے تھا،اس کی ان خوبیوں کی بناء پر بہت سے کلاس فیلوز اس کی طرف اٹریکٹ ہوئے تھے،وہ بے حد عام شکل کا مالک ہوتے ہوئے بھی جیسے کلاس کیلئے سپر ہیرو بن گیا تھا۔
ارسل نے بھی آہستہ آہستہ اُس سے بات کرنا شروع کردی تھی،کئی دفعہ کسی اسائنمنٹ میں مدد لینے کیلئے وہ اُس سے مخاطب ہوجاتا تھا۔
اُس دن کلاس ختم ہونے کے بعد آزر اپنے موبائل میں مصروف تھا،ارسل اس کے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا،کلاس میں اس وقت گنے چُنے سٹوڈنٹس ہی موجود تھے،کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتین ہوئیں،پھر ارسل نے گہری سانس لی۔
”ایک بات کہوں تمہیں؟’،لہجے میں کچھ معمول سے ہٹ کر تھا،یہ بات آزر نے نوٹ کی تھی،اُس نے بس سوالیہ نگاہوں سے ارسل کو دیکھا تھا۔
”تم مسلمان ہو جاؤ”، ارسل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا،آزر کے چہرے کا رنگ تبدیل ہواتھا،وہ حیرت سے دیکھ رہا تھا،وہ خود کیسا مسلمان تھا آزر جانتا تھا اوراُس جیسا ”بُرا مسلمان“ اُسے مسلمان ہونے کی دعوت دے رہا تھا۔۔
”کیوں؟ ”آزر نے خود کو ٹھنڈا رکھا تھا،اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر وہ اب اپنے موبائل کی اسکرین پر انگلیاں پھیر نے لگا تھا۔
”دیکھو نا یار تم کتنے اچھے ہو،تمہاری سوچ کتنی پوزیٹو ہے،بس مجھے افسوس ہوتا ہے کہ اتنی خوبیاں ہونے کے باوجود تم۔۔تم بھٹکے ہوئے ہو“، ارسل نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
”تمہیں کیوں افسوس ہوتا ہے ارسل،تم تو مجھ سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے،پھر میرے عقیدے کی فکر کیوں ہے تمہیں۔۔میرے بھٹکے ہوئے ہونے پر تو تمہیں خوش ہونا چاہئے ”،آزر عجیب سے انداز میں ہنسا تھا،ارسل کو اس کی ہنسی بُری طرح چبھی تھی۔
”دیکھو اسلام ایک ایسا مذہب ہے۔۔۔”’ارسل نے کہنا چاہا تھا،لیکن آزر نے اس کی بات ٹوک دی۔
”اسلام کیسا مذہب ہے یہ مجھے مت بتاؤبلکہ یہ تم خود کو بتاؤ اور سمجھو”،اُس نے اپنے نوٹس کو بیگ کی زپ کھول کر بیگ میں ڈالا اور ارسل پر ایک نظر بھی ڈالے بغیر وہاں سے اٹھ گیا،ارسل کو شدید غصہ آیا تھا،اُس دن کے بعد وہ اُس سے مزید خار کھانے لگا تھا،وہ اب چاہتا تھا اُسے کسی نہ کسی طرح سے ذلیل کرے اور یہ موقع اُسے اگلے دن ہی سر شفیع کی کلاس میں مل گیا تھا۔

***********

سر شفیع اُنہیں Thermodynamics پڑھاتے تھے،ان کی عمر پچاس کے قریب تھی،سفید داڑھی اور سر پر جالی والی ٹوپی ان کی پرسنیلٹی کو مزیدبا رعب دار بنادیتی تھی،اُن کے لیکچر زکی خاص بات یہ تھی وہ کلاس کے اینڈ پہ اسٹوڈنٹس کے ساتھ روز مرہ کے ایشوز ڈسکس کرتے تھے،اُس دن انہوں نے ابھی لیکچر ختم کیا ہی تھا،جب ارسل نے ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے انہیں مخاطب کیا۔

”Sir may i ask a question?”
”yes sure ” انہوں نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
”سر! اگر ایک انسان میں بہت سی خوبیاں ہیں،اچھا اخلاق ہے،خوف خدا بھی ہے،لیکن پھر بھی وہ کلمہ گو نہیں ہے،اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوتا تو کیا اس کی بخشش ممکن ہے،” سب سے پیچھے والی لائن میں بیٹھے آزر کا چہرہ لال ہوگیا۔
”دیکھو بیٹا!کلمہ پہلا جزوہے،یہ لازمی شرط ہے،اس کے بغیر تو کچھ بھی قابل قبول نہیں۔”سر شفیع نے کچھ توقف کیا،وہ ابھی کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے لیکن آخری لائن میں بیٹھے آزر کی بلند آواز نے اُنہیں روک دیا۔
”لیکنسر! اگر انسان صرف کلمہ پڑتا ہے تو کیا اس کی بخشش ممکن ہے؟ حالانکہ اپنے کردار سے وہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں،وہ ہر وہ کام کر رہا ہے،جس سے اُس کا مذہب اُسے روکتا ہے۔” ارسل کو جیسے جوتا آن لگا تھا،وہ غصے سے بھرا اپنی جگہ پہ بیٹھا رہا۔
”تو ایسے انسان کو فکر کرنی چاہیے،پنے آپ کی بھی اور اپنے اعمال کی بھی،اپنے کلمے کا مان رکھنابہت ضروری ہے۔۔۔اچھا مسلمان ہونے سے پہلے اچھا انسان بننا زیادہ ضروری ہے۔” سر شفیع نے بات کو ختم کرتے ہوئے اپنی فائل اُٹھائی اور کلاس روم سے نکل گئے۔ارسل کے چہرے کا رنگ اب آزر کے چہرے سے بھی لال ہو چکا تھا۔انعم اس کا بازو سہلاتے ہوئے اُسے کلاس روم سے باہر لائی تھی۔

***********

پہلے ارسل اُسے نظر انداز کررہا تھا اب وہ ارسل کو،جہاں ارسل ہوتا وہ وہاں جانے سے گریز کرتا اور اگر ارسل کسی ایسی جگہ آجاتا جہاں وہ پہلے سے موجود ہوتا تو وہ خاموشی سے وہاں سے نکل جاتااور یہی بات ارسل کو طیش دلا رہی تھی۔

“تم لوگوں کی تو بائبل ہی تبدیل ہو گئی ہے۔” ارسل نے چند دن بعد اُسے لائبریری میں اکیلا بیٹھا دیکھ کر کہا تھا۔
”اچھا تمہیں کس نے بتایا ہے بائبل کے چینج ہونے کا؟“،آزر کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔اُس نے وہ کتاب بند کرتے ہوئے ارسل سے کہا۔ارسل ناگواری سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
”بائبل تو ہزاروں سالوں سے پڑھی جارہی ہے۔اُس میں تبدیلی کہاں سے آئی؟کون لایا؟میری تو سمجھ سے باہر ہے۔تمہاری سمجھ میں ہے تو بتاؤ نہ۔ ”وہ اُسے جیسے چیلنج کررہا تھا۔
”ہاں تبدیلی آئی ہے لیکن بائبل میں نہیں،بلکہ بائبل کو پڑھنے والوں میں،دیکھ لو آج جہاں بائبل کا ریڈر موجود ہے وہاں غریب بھوکا نہیں مر رہا،نہ کوئی بناء علاج مر رہا ہے،بائبل پڑھنے والے سب سے ایک جیسا پیار کرتے ہیں،لاکھوں بچے مختلف ممالک میں پڑھ رہیں جن کے اخراجات یہ بائبل کو ماننے والے،بائبل کو پڑھنے والے ہی اُٹھا رہے ہیں۔” وہ جانے کیلئے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”اگر بُرا نہ مانو تو ایسی تبدیلی تم لوگ بھی لے آؤ،مجھے تو ایسی تبدیلی پہ فخر ہے۔” ارسل کا دل کیا تھا اس کو پکڑ کر زمین پر پٹخ دے لیکن وہ جا چکا تھا،ارسل چپ چاپ وہی کھڑا ہاتھ ملتا رہا۔
اور یہ اُس سے تین دن کے بعد کی بات تھی،آخری لیکچر لینے کے بعد آزر جب کیفے میں آیا تو وہ چاروں پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔
اس کا دل چاہاکہ وہ خاموشی سے واپس مُڑ جائے لیکن شدید بھوک کی وجہ سے اُسے اپنا ارادہ بدلناپڑا،کاؤنٹر پہ آرڈر دینے کے بعد وہ ایک کونے والی میز پہ آکر بیٹھ گیا،بیگ کی پاکٹ سے منرل واٹر کی بوتل کو نکال کر اُس نے منہ سے لگایا ہی تھا،جب اُس نے اُن چاروں کو اپنی طرف آتے دیکھا۔
”ہاں جی!اب کس لئے آئے ہو،اسلام کی دعوت دینے؟”، وہ چاروں اس کی ٹیبل کے گرد اکٹھے ہو گئے تھے،آزر نے اُن کے کچھ کہنے سے پہلے ہی طنزیہ انداز میں پوچھا تھا،اُن چاروں کے چہرے پہ ہلکی سے مسکراہٹ اُبھری تھی۔
”ہاں یہی کہنے آئے ہیں، ارسل دونوں بازو ٹیبل پہ ٹکا تے ہوئے جھکا تھا،آزر ہنستے ہوئے کُرسی سے کھڑا ہو گیا،اُس نے اپنی ہنسی سے اُنہیں غصہ دلانے کی کوشش کی تھی اور یہ کوشش بار آور رہی،اُن کے چہرے تن چکے تھے۔
”اچھا یہ بتاؤ اسلام میں ایسا کیا ہے جو مسیحیت میں نہیں ہے؟کچھ نیا ہو جس کی وجہ سے میں اسلام قبول کرلوں؟ ” اُس نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے پوچھا، وہ چاروں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، آزر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ارسل کی جانب دیکھا۔
”اسلام میں کاملیت ہے،یہ مکمل اور کامل مذہب ہے،تو پھر اسلام کے علاو ہ کوئی اور دین کیوں؟” ارسل سے تو کوئی جواب نہ بن پڑاتھا چنانچہ انعم مدد کیلئے بڑھی تھی،آزر نے اس کے جواب پہ آنکھیں پھیلائیں جیسے ظاہر کیا ہو کہ وہ اس جواب سے متاثر ہواہے،وہ چند لمحے انعم کی طرف دیکھتا رہا۔
”مگرمیں نے توکوئی پرفیکشن نہیں دیکھی اسلام میں،یہاں تو مسلم ز خودبھی اپنے مذہب کو کامل نہیں سمجھتے،اگر کوئی سمجھتا تو کیا عمل نہیں کرتا؟” اس کا لہجہ وہی تھا،آگ لگانے والا،اس دفعہ جواب انعم کے پاس بھی نہیں تھا،رومیصہ اور علی بھی چپ چاپ کھڑے تھے۔
”یہاں تو ہر کوئی اپنے طریقے سے زندگی گزار رہا ہے،کیونکہ اُن کو لگتا ہے ان کا مذہب پرفیکٹ نہیں ہے،اس لئے تو وہ مذہب کی نہیں مان رہے ”،پاس والی ٹیبلز پہ موجود لڑکے لڑکیاں بھی ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے۔ایک دو اپنے موبائلز پہ ویڈیو بنانا شروع ہو گئے،وہ مسکراتے ہوئے سب کی طرف دیکھنے لگا۔

”بتاؤ کہاں سے پرفیکٹ ہے اسلام؟”، اُس نے انعم کی طرف دیکھا تھا۔
”تم لوگوں کے حلیوں اور چال چلن سے تو بالکل بھی نہیں۔” اِس بار اُس نے رومیصہ کی طرف دیکھا، اس کا اشارہ سیدھا سیدھا رومیصہ اور انعم کے لباس کی طرف تھا ”پرفیکٹ مذہب“،طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے وہ جانے کے لئے مڑا،ارسل کا خون کھول اُٹھا تھا اور پھر وہ سب کچھ ہو گیا تھا جو اُن میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا تھا، ارسل نے آؤ دیکھا نہ تاؤ وہ آزر پر پل پڑا تھا اور ظاہر یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
اور اب انہیں خود کو بچانا تھا،کم ازکم وہ ایک عیسائی کی وجہ سے ذلیل ہونا نہیں چاہتے تھے،کسی بھی طرح سے ذلیل آزر کو ہی کرنا تھا،سچ کام نہیں آنا تھا یہاں جھوٹ کی ضرورت تھی۔
*************** *
جعفر صاحب نے باری باری اُن چاروں کی طرف دیکھا،وہ چپ چاپ سامنے کھڑے تھے،جعفر صاحب ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے اوروہ اس مسئلے کو ڈیپارٹمنٹ سے باہر نہیں نکالنا چاہتے تھے،کیونکہ مسئلہ ارسل کا تھا،ہاتھ اُس نے اُٹھایا تھا،اس کی جگہ کوئی اور سٹوڈنٹ ہوتا تو شاید وہ اتنا سریس نہ لیتے۔
”Arsal i cant’t believe that you have shown this rationality”
اُنہوں نے بغیر کسی تمہید کے نہایت غصے سے کہا تھا،ارسل خاموش رہا،وہ اُن کے سامنے جتنی معصومیت کا مظاہرہ کرسکتا تھا،کررہاتھا۔
”سر قصور ارسل کا نہیں تھا”، رومیصہ نے کہا،پلان کے مطابق اب رومیصہ نے ہی بولنا تھا،انعم اور علی بھی خاموش تھے،اسکرپٹ میں فی الحال ان کے ڈائیلاگز نہیں تھے،سر جعفر نے نظریں ارسل کے چہرے سے ہٹا کر رومیصہ کو دیکھا۔
”ٹھیک ہے سارا قصور ارسل کا نہیں تھا،لیکن یوں ہاتھ ااُٹھانا کہاں کی عقلمندی تھی،اور تم لوگ یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں کوئی فیور دوں گا،میں رشتے داریاں یونیورسٹی کے باہر تک ہی رکھتا ہوں۔” جعفر صاحب کا لہجہ مزید سخت ہو گیا تھا،وہ چاروں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
”جو بھی ہے ارسل،تمہیں اس سے معافی مانگنا ہوگی تاکہ یہ معاملہ یہیں ختم ہوجائے ”،اُن میں سے کسی سے بھی جواب نہ پا کر جعفر صاحب نے فیصلہ سنایاتھا۔
”معافی کس سے؟” ارسل کا حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔
”آزر سے اور کس سے؟”،جعفر صاحب کا انداز فیصلہ کن تھا،ارسل اس وقت ضبط کے آخری مقام پہ تھا،اس سے زیادہ معصوم بننا اُس کے لئے ممکن نہیں تھا۔
”سر جب غلطی دونوں کی ہے،تو معافی صرف ارسل سے کیوں؟” اس بار انعم بولی تھی۔
”کیا میں پھر سے دہراؤں کہ ہاتھ اس نے اٹھایا وغیرہ وغیرہ۔۔آخر اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت کیا تھا“۔
”سر جب بات مذہب کی ہو تو ہر کوئی جذباتی ہو جاتا ہے ”،علی نے مدھم سی آواز میں کہا تھا جس پر وہ تینوں تو بہت خوش ہوئے البتہ جعفرصاحب کا پارہ مزید چڑھا تھا۔
”اچھا تم کب سے اتنے مذہبی ہو گئے؟،آخری بار جمعے کی نماز کب پڑھی تھی تم نے۔۔جو کسی پہ یوں ہاتھ اٹھانے کی نوبت آگئی، ہمارا مذہب ہمیں تحمل کا سبق دیتا ہے،بھائی چارے کا حکم دیتا ہے،یہ مارپیٹ کہاں سے آگئی۔۔کن مولویوں میں اٹھ بیٹھ رہے ہو میاں صاحبزادے“، سر جعفر نے بات کرتے ہوئے ٹیبل سے پانی کا گلاس اُٹھا کر منہ کو لگایا اور تولتی ہوئی نظروں سے ارسل کو دیکھتے رہے،اب یہاں غلطی کی گنجائش نہیں تھی،باقی تینوں دل ہی دل میں دعا کرنے لگے کہ ارسل رٹی ہوئی لائنز ٹھیک سے دہرادے اور ارسل نے تھوک نگلتے ہوئے بولنا شروع کردیا تھا۔
”سر آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن جب بات اپنے نبی ﷺ کی ذات پہ انگلی اٹھانے کی آجائے تو پھر انسان کو کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا”،اُس نے ایک ہی سانس میں کہا۔
”کیا مطلب؟”، جعفر صاحب چونکے۔
”جی سر!اُس نے گستاخی کی تھی،ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی۔۔۔تو میرا ہاتھ اُٹھ گیا“، اس باروہ تینوں بھی چونکے تھے،کیونکہ یہ پلان کا حصہ تھا ہی نہیں،پلان تھا کہ خود کو معصوم اور آزر کو وحشی ثابت کرنے کا تھا، لیکن ارسل کے ذہن میں یہ بات پتا نہیں کہاں سے آن ٹپکی تھی،خود کو فوراً سنبھالتے ہوئے رومیصہ اور علی صورتحال میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے،اب ارسل کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے،جبکہ انعم سکتے کی حالت میں وہاں کھڑی تھی۔
”کیا کہاہے اُس عیسائی نے؟” سرجعفر کے لہجے میں غصہ تھا،ان کی آنکھوں میں اُترتا خون محسوس کیا جا سکتا تھا،ارسل یہ دیکھ کر خوش تھا کیونکہ یہ غصہ اب آزر کیلئے تھا،کیسی منٹوں میں کایا پلٹی تھی۔ارسل سچ میں ماسٹر مائنڈ تھا۔
”سوری سر اُس نے جو کچھ کہا،وہ ہم نہیں دہرا سکتے۔”علی نے بھی اپنے لہجے کو تھوڑا سخت کیا تھا۔
انعم چپ چاپ کھڑی تھی،وہ جانتی تھی وہ یہاں سچ اور جھوٹ کی آمیزش کر کے ارسل کو بچانے آئے تھے لیکن یہ سب۔۔۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی،لیکن کہہ نہ سکی۔
سر جعفر اُن سے مزید پوچھ گچھ کر رہے تھے،اُن سے کچھ عینی گواہ کو لانے کا کہہ رہے تھے،جعفر صاحب چاہتے تھے کہ یہ معاملہ ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر پوری یونیورسٹی میں پھیلے،کیونکہ یہ اب ایک گستاخ رسول کا اشو تھا۔۔کوئی معمولی بات نہیں تھی۔۔یہ ایمان کا امتحان تھا۔
ارسل خوش تھا،عینی گواہ کا انتظام کرنا اس کیلئے بالکل بھی مشکل نہیں تھا،وہ سر جعفر کے ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا تھا۔

(باقی آئندہ)