مکمل ناول ”تکون”…قسط نمبر 2.

انتباہ: ”کینوس ڈائجسٹ“ پر شائع ہونے والی تمام تحاریر مصنفین اور کالم نگاروں کی اپنی سوچ اور ریسرچ پر مبنی ہیں،ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں،کینوس ڈائجسٹ تمام مصنفین کو اپنی بات کہنے کی آزادی دیتا ہے مگر اس کے نتیجے میں کسی بھی مسئلے میں ادارہ کسی بھی سوال جواب کا پابند نہیں ہے۔۔شکریہ۔

تحریر : محمد انس حنیف۔
”انعم کہاں ہے؟”وہ کیفے میں بیٹھے تھے،انعم جعفر صاحب کے آفس سے اُن کے ساتھ ہی نکلی تھی لیکن کیفے میں نہیں تھی آئی،وہ تینوں اپنی ہی دُھن میں آفس سے نکل کر کیفے میں آن بیٹھے تھے،اور انعم کی غیر موجودگی کو انہوں نے وہیں آکر محسوس کیا تھا،ارسل کے کہنے پہ رومیصہ نے کاریڈور کی جانب دیکھا تھا،لیکن وہ وہاں نہیں تھی،رومیصہ نے اپنے پرس سے چاکلیٹ کا پیک نکالا کر اسے تین حصوں میں بانٹاتھا۔
”آ جائے گی،یہیں کہیں ہوگی،تم انعم کے علاوہ بھی کسی کو دیکھ لیا کرو”، چاکلیٹ کا ٹکرا منہ میں رکھتے ہوئے رومیصہ نے اُسے چھیڑا تھا۔
”اچھا اُسے نہ دیکھوں تو کیا دیکھوں۔۔۔دنیا میں اور رکھا کیا ہے دیکھنے کیلئے ”، ارسل کے جواب پہ وہ کھلکھلائی تھی۔
”اوہ ہیلو۔۔مجنوں۔۔اپنی یہ رومیو جیولیٹ بعد میں کرلینا۔۔عینی گواہوں کو اکھٹا کرنے کا سوچو۔” علی نے جیسے یاد دلایا تھا۔
”ہاں کرتے ہیں کچھ یہ انعم تو آجائے۔۔۔میں دیکھ کر آتا ہوں“۔
ارسل کے اٹھنے سے پہلے ہی اُس نے کیفے میں انٹرہونے والی ایک لڑکی کو دیکھا،وہ ایک لمبے قد والی لڑکی تھی جس نے بلیو جینز کے ساتھ سلیو لیس شرٹ پہن رکھی تھی،اس کے کھلے بال کمر کو چھو رہے تھے،ارسل نے جلدی سے علی کو متوجہ کیا تھا،ہر جیتے جاگتے مرد کی طرح حسن اُن دونوں کمزروی تھا۔
”Oh my God,attractive”
علی کے منہ سے یہی نکلا تھا۔وہ دونوں بھول چکے تھے کہ اُن کے پاس رومیصہ بھی بیٹھی تھی۔
”Just attractive?i think she is hot”،ارسل نے جلدی سے تصحیح کی تھی۔
”شرم کرو گے تم دونوں۔ ” رومیصہ نے غصے سے کہا،وہ دونوں شرمندہ ہوئے،”کسی کو تو چھوڑ دیا کرو۔”اگرچہ وہ اور انعم ارسل کی غیر موجودگی میں ہینڈسم لڑکوں کو ایسے ہی ڈسکس کرتی تھیں لیکن اگر وہ کبھی ایسے پکڑے جاتے تو انہیں خوب طعنے دیتیں۔
”ویسے سوچو آزر کے ساتھ اب کیا ہو گا؟” ارسل نے جلدی سے موضوع بدلا تھا۔
”ہاں اب اُس کے ساتھ کچھ اچھا تو بالکل بھی نہیں ہو گا۔”علی نے کے چہرے پہ مسکراہٹ اُبھری،کچھ مسکراہٹ موضوع بدلنے کی خوشی میں اور کچھ آزر کا ذکر آنے کی خوشی میں۔
”آخر اُس نے پنگا کس سے لیا تھا۔” ارسل کو خود کی تعریف کرتے دیکھ علی اور رومیصہ نے ایک ساتھ برا سا منہ بنا یاتھا،تب ہی انعم کیفے میں داخل ہوئی تھی۔ارسل کی اُس جانب پشت تھی۔وہ اُس کی اینٹری سے بے خبرتھا۔رومیصہ اور علی دوسری جانب بیٹھے تھے،انہوں نے انعم کو داخل ہوتے اور اُس کے غصیلے چہرے کو ایک منٹ میں نوٹس کر لیا تھا۔
”یہ اسے کیا ہوا؟” علی نے ابھی اتنا ہی کہا تھا،وہ قریب آچکی تھی،ارسل نے موبائل ٹیبل پہ رکھتے ہوئے مڑ کر دیکھا تھا۔ارسل بھی اس کے تاثرات دیکھ کر حیران ہوا۔
”کیا ضرورت تھی یہ ڈرامہ کرنے کی۔”ٹیبل پر پہنچتے ہی اُس نے اپنا بیگ زور سے پٹخا،ارسل حیرانگی سے کھڑا ہوا۔
”کیا ہوا ہے تمہیں؟”،رومیصہ بولی تھی۔
”تم تو اپنی بکواس بند ہی کرو،جعفر صاحب کے آفس میں کیسی زبان چل رہی تھی تمہاری”اُس نے رومیصہ سے کہا اور پھر علی کی طرف متوجہ ہوئی”اور تم بھی کچھ شرم کر لیتے،وہ تو چلو پاگل ہے،اب تم لوگ بھی اس کے ساتھ پاگل ہو جاؤ گے،ایک انسان کو ایک ایسے جرم کی سزا دو گے جو اس نے کیا ہی نہیں۔” اس کا اشارہ آزر کی طرف تھا،وہ اب سمجھے تھے۔
”میڈم تم بھی برابر کی شریک ہو اس سب میں،سارا پلان تمہارے سامنے بنا تھا۔” رومیصہ نے اُسے یاد دلا یا تھا۔
”لیکن یہ پلان نہیں تھا،تم اُس پہ وہ الزام لگا رہے،جو اُس کو تباہ کردے گا،اس کی تعلیم اس کا کئیریر سب کچھ داؤ پہ لگ جائے گا،تم لوگ کیسے ایک بے گناہ پر اتنا سنگین الزام لگا سکتے ہو“۔
‘ ‘Will you shut up?” ارسل یک دم دھاڑا تھا،آواز اتنی تیز تھی کہ آس پاس لوگ بھی متوجہ ہوئے تھے۔
”تم خود کو کیا سمجھتی ہو؟بہت مہان ہو تم؟انسانی حقوق کا اتناشوق ہے توکوئی NGOکھول لو“آواز بلند تھی، رومیصہ نے فورا معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے صورت حال کو سنبھالنا چاہا تھا، اُس نے دھیرے سے انعم کا کا ہاتھ دبایا۔
”ٹیک اٹ ایزی انعم۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تم ارسل کا ساتھ دینے کی بجائے کسی اور کے حق میں آواز بلند کر رہی ہو،ارسل کو ہماری سپورٹ کی ضرورت ہے یار۔” رومیصہ نے نرم لہجے میں کہا،ارسل لال ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔وہ چاروں ٹیبل کے ارد گرد کھڑے تھے۔
انعم نے ٹیبل سے اپنا بیگ اُٹھایا،اُسے کندھے پہ لٹکاتے ہوئے مڑی۔۔چند قدم آگے جاکر اُس نے اپنی گردن گھمائی تھی۔
”خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ارسل! اگر پوری یونیورسٹی بھی آزر کے خلاف جھوٹی گواہی دینے کو تیار ہو جائے تو بھی کم از کم مجھ سے یہ اُمید مت رکھنا۔” وہ کہہ کر رُکی نہیں تھی،وہ تینوں بے یقینی سے اُسے جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے، ارسل نے غصے سے اپنا موبائل ٹیبل پہ پٹخا، کیفے میں بیٹھے بہت سے لڑے لڑکیوں نے زندگی میں پہلی بار آئی فون کرچی کرچی ہونے کا دلکش منظر لائیو دیکھا تھا۔

**************


وہ صبا تھی، بی ایس کے پانچویں سمسٹرکی اسٹوڈنٹ،چھوٹا ساقد،گول مٹول چہرہ اور چھوٹی چھوٹی بٹنوں جیسی آنکھیں،اس کے منہ میں ہر وقت ایک ببل گم موجود رہتی اور گلے میں ڈوری کی مدد سے لٹکتا ہو ا آئی پیڈ اور اُس آئی پیڈ میں دنیا جہاں کی ویڈیوز او رتصاویر تھیں،یہ اس کا جنون تھا،وہ ہر جگہ کچھ نہ کچھ اُس آئی پیڈ میں capture کرتی رہتی،ارد گرد ہونے والے لڑائی جھگڑے،مزاحیہ واقعات سب کچھ اس کے آئی پیڈ میں محفوظ تھا، وہ اس وقت لیب میں سے نکل رہی تھی،جب اُسے کسی نے پکارا تھا۔

”بات سنو ”اُس نے آواز کے تعاقب میں مڑ کر دیکھا۔اُسے پکارنے والی ایک خوبصورت سی لڑکی تھی۔اُس نے اُسے پہلی نظر میں پہچان لیا تھا۔صبا نے پاؤچ میں سے سن گلاسز نکال کر آنکھوں پہ ٹکا لئے تھے۔”جی؟”
”مجھے تم سے کام تھا،آؤ سامنے لان میں بیٹھتے ہیں۔” اُس لڑکی نے لیب کے سامنے بنے ہوئے لان کی طرف اشارہ کیا۔صبا تھوڑا حیرانی سے اس کے پیچھے چلتی ہوئی لان میں آگئی۔
”مجھ سے کیسا کام؟ ”صبا نے لان میں اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا،اُس لڑکی نے چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
”تم اُس دن وہیں تھی ناں،جب کیفے میں وہ لڑائی ہوئی تھی۔”صبا نے صرف سر ہلایا،”ویل۔۔اور تم اپنے آئی پیڈ پہ کوئی ویڈیو بھی بنا رہی تھی،مجھے وہ ویڈیو چاہیے”۔صبا کی حیرانگی میں اضافہ ہوا۔”لیکن کیوں؟”
”بس ضروری ہے،تمہار اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا،بس سمجھ لو کسی بے قصور کو بچانے کے لئے تمہاری یہ ویڈیو مددگار ہو گی”،اُس نے نرمی سے کہا۔صبا کنفیوژ ن سے اُسے دیکھتی رہی۔
”تم گھبراؤ نہیں اس سب میں تمہارا نام نہیں آئے گا ”، وہ اُسے تسلی دیتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔صبا کچھ دیر کسی سوچ میں گُم رہی پھر جیسے اُس نے خود کو آمادہ کیا،وہ آئی پیڈ سے وہ ویڈیو ڈھونڈنے لگی،اُسے ویڈیو ڈھونڈتا دیکھ کر انعم کو تسلی سی ہوئی۔
”ویسے کافی دیر سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی،اتنا تو مجھے پتا تھا کہ تم بھی فزکس ڈیپارٹمنٹ سے ہو” انعم اب اُس سے دوستانہ انداز میں بات کرنے لگی،صبا نے چیونگم سے ببل بناتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
”بھئی یہ والا کیفے ٹیریا بس ہم فزکس والوں کو ہی پاس پڑتا ہے،صرف فزکسی نمونے ہی یہاں پائے جاتے ہیں،میں بھی کئی دفعہ آپ کو کیفے میں دیکھ چکی ہوں،اُس دن بھی دیکھا تھا جب لڑائی ہوئی،آپ نے اپنے بوائے فرینڈ کا بازو پکڑا ہوا تھا۔ ”’ صبا نے آئی پیڈ کو سکرول کرتے ہوئے کن اکھیوں سے انعم کی طرف دیکھا تھا۔
”بد تمیز وہ میرامنگیتر ہے۔”انعم نے اُسے ڈانٹا تھا۔صبا چپ رہی۔
”یہ لیں مل گئی ”، تین منٹ بعد صبا نے وہ ویڈیو نکال لی تھی،انعم نے ویڈیو ”شیئر اٹ“کے ذریعے اُس سے لے لی تھی۔
”تھینک یو سو مچ“، ویڈیو لینے کے بعد انعم اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
”آپی ایک بات کہوں ”،صبا نے اُسے مخاطب کیا،انعم نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا،اُسے صبا کے چہرے پہ شرارت سی نظر آئی تھی۔
”اگر اپنامنگیترہی بوائے فرینڈ ہواور اتنا ہی ہینڈسم ہو تو بڑی موجیں ہو جاتی ہیں۔”وہ کہہ کر بھاگ گئی،انعم نے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل اس کے پیچھے فضا میں بلند کی تھی،لیکن صبا دور نکل چکی تھی۔

*************


جنگل میں آگ اتنی تیزی سے نہیں پھیلتی ہو گی جتنی تیزی سے آزر مسیح کے گستاخ رسولﷺ ہونے کی خبر یونیورسٹی میں پھیلی تھی۔

یہ ایک ایسا ایشو تھا جس پہ کوئی بھی مسلمان چاہے و ہ اپنے ایمان کے کسی بھی درجے پہ ہواس کا جذباتی ہونا لازم تھا چنانچہ نبی ﷺ کی ذات پہ آنے والی آنچ کے رد عمل کے طور پہ یونیورسٹی میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
بات فزکس ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر پوری یونیورسٹی میں پھیلی تھی اور پھر جمعیت کے لڑکوں نے پورا فزکس ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں بلکہ پوری یونیورسٹی کو بلاک کردیا تھا،مختلف ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔جگہ جگہ پمفلٹ بٹ رہے تھے،نعرے لگ رہے تھے۔
”گستاخ رسول ﷺکی سزا،سر تن سے جدا ”
اس صورتحال میں آزر چھپ کر گھر بیٹھا تھااور یونیورسٹی میں موجود دوسرے اقلیتی اسٹوڈنٹس بھی ڈر وسہم کر اپنے گھروں میں محصور تھے، آزر کویہ خوف ستا رہا تھا کہ کوئی بھی کسی بھی وقت گھر تک آن پہنچے گااور اُسے گولیوں سے بھون دیا جائے گا،دروازے پہ ہونے والی ہر دستک اس کے دل کی دھڑکن میں اضافہ کر دیتی،اس کے ابو اپنے چند دوستوں سے مشورے کرنے میں مصروف تھے کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے،کوئی کورٹ جانے کا مشورہ دے رہا تھا تو کوئی بیرون ملک کہیں پناہ حاصل کرنے کی صلاح دے رہا تھا،ان کی برادری کا ایک بڑا حصہ اس وقت اُن کے ڈرائنگ روم میں موجود تھا،بحث و تکرار جاری تھی،لیکن آزر جانتا تھا کہ اُسے صفائی کا موقع نہیں دیا جائے گا،وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں بات میڈیا تک پہنچ جائے گی اور پھر صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی،اُسے آنے والا وقت مزید خوف زدہ کر رہا تھا۔
تانیہ بھی اس کے گھر میں موجود تھی،اُسے تسلیاں دے رہی تھی،سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی مگر بذات خود وہ اندر سے ڈری ہوئی تھی،اس سے پہلے اُس نے اپنی زندگی میں اتنا بُرا وقت صرف ایک بار ہی دیکھا تھا۔
تانیہ نے اپنا اکلوتا بھائی اسی طرح کھویا تھا،وہ کالج میں کسی مسلم لڑکے سے اُلجھا تھا اور اگلے چند روز میں ہی اُس پہ گستاخ رسول کی مہر لگا کراس کے خلاف کئی ثبوت اکٹھے ہوگئے تھے،تانیہ کے ابو لاکھ کوشش کے باوجود بھی اسے بچا نہ سکے تھے،اگرچہ کورٹ نے اُسے بے گناہ قرار دے دیا تھا اس کے باوجود اگلے روز جب وہ کالج پہنچا تو کسی لڑکے نے اُسے گولی سے اُڑا دیا تھا۔
اور اب پھر سے وہی سب،وہ خداوند سے بار بار آزر کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی۔
آزر کے موبائل پہ رنگ ہوئی تھی، وہ حیران ہوا،کوئی unknown نمبر تھا۔
”ہیلو کون”؟ آزر نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے سہمے لہجے میں پوچھا تھا،اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے
”انعم؟تم“،اُس نے بے یقینی سے کہا تھا،تانیہ نے چونک کر آزر کی طرف دیکھا۔

***********


”کیوں بُلایا ہے مجھے یہاں؟”وہ انعم کی بتائی ہوئی جگہ پہ پہنچ گیا تھا، اس کے ساتھ اس کے اور تانیہ کے ڈیڈی بھی آئے تھے، وہ گاڑی میں ہی تھے۔انعم اور آزر Packagesمال کی پارکنگ میں کھڑے تھے۔
”I want to help you.”،انعم نے نہایت ہمدردی سے کہا تو وہ چونک گیا،وہ انعم کے منہ سے یہ سُننے کی اُمید پہ نہیں آیا تھا۔
But why do you wanna help me?”“اُس نے پوچھا، وہ اُس شخص کی دوست تھی جس نے اُسے تباہی کی دلدل تک پہنچا دیا تھا اور ایسے بدترین دشمن کی دوست ہوکر وہ اُس کی مدد کیوں کرناچاہتی تھی،وہ حیران نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا؟ انعم اگلے چند لمحے خاموش ہی رہی۔
”یہ سوال جواب کا وقت نہیں ہے آزر۔۔میں بس تمہیں اس مصیبت سے بچانا چاہتی ہوں،تمہارے ساتھ جو کچھ ہو ا ہے وہ غلط ہے،لیکن جو آگے ہونے جا رہا ہے وہ اس سے بھی زیادہ غلط ہے”،اُسے یقین نہیں آیا تھا،وہ چاہتا تھا کوئی اس کی مدد کرے لیکن انعم۔۔۔یہ ناقابل یقین تھا۔
”تم میری مدد کرو گی ارسل کے خلاف جا کر؟”اُس نے پوچھا، انعم نے سر ہلایا۔
”ہاں ”،آزر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ اس کی آنکھوں میں سچ کھوجناچاہ رہا تھا،اُسے وہاں سچائی نظر آئی تھی،یا پھر اُس کے پاس اعتبار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔”کیا کرناہے مجھے؟”اُس نے بے حد مدھم لہجے میں کہا۔
”بتاتی ہوں ”انعم نے گہری سی سانس لی۔
*************
یہ اس کے جشن کا دن تھااور اس کے جشن میں پورا پورا ساتھ دینے کیلئے علی بھی موجود تھا، دونوں نے یونیورسٹی سے چھٹی ماری تھی اوردونوں اس وقت ڈن ہل کے ساتھ ریڈ بُل انجوائے کر رہے تھے،تیز چنگھاڑتا میوزک بھی بج رہا تھا۔
وہ اس وقت فارم ہاؤ س میں سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھے تھے اور اپنا اگلا پلان تیار کررہے تھے،ارسل کا ارادہ اب اس سارے معاملے کو میڈیا پر لانے کا تھا۔
”وہ دو کوڑی کا کافرشاید بھول گیا تھا کہ اُس نے پنگا کس کے ساتھ لیا ہے،دی باس، ماسٹر مائنڈ ارسل جاوید’ ‘ارسل نے ریڈ بُل کا کین منہ سے لگاتے ہوئے کہا،علی نے سر ہلاتے ہوئے دوسرا سگریٹ سُلگھایا،تب ہی ارسل کے موبائل پہ کال آئی،رومیصہ کی کال تھی،وہ کچھ حیران ہوا عام طور پہ اس کی کال علی کے موبائل پہ آتی تھی،اُس نے کال ریسیو کی،علی چپ چاپ سگریٹ پیتا رہا۔
”کہاں ہو تم؟“رومیصہ نے چھوٹتے ہی کہا،ارسل کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے۔
”کیا ہوا؟ ”ارسل کے ساتھ بیٹھا علی چونکا،ارسل کے چہرے پہ یکدم سنجیدگی آئی اور پھر چند لمحوں بعد سنجیدگی غصے میں بدل گئی۔
”کیا بکواس کر رہی ہو؟’ ‘وہ اپنے ہاتھ میں پکڑا کین زمین پہ مارتے ہوئے جلدی سے اُٹھا۔علی بھی اس کے ”کیا ہوا ہے؟ ”علی نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔
؎”جلدی چلو۔۔۔ بتاتا ہوں ”وہ جیب سے گاڑی کی چابی نکالتے ہوئے گاڑی کی طرف بھاگا،علی بغیر کچھ سمجھے اس کے پیچھے بھاگا تھا۔ ساتھ اُٹھا تھا۔
************

جو انعم نے کیا تھا اس کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی،ایسی حماقت جو اب ارسل کے گلے کا پھندہ بننے والی تھی اور ارسل کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں،وہ اُسے بتائے بغیر کوئی معمولی کام تک نہیں تھی کرتی اور اب اس کے خلاف۔۔۔۔محبت ہونے کے باوجود۔۔۔اس کی منگیتر ہونے کے باوجود۔۔۔بس یہی بات ارسل کو کھائے جارہی تھی۔۔انعم کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک وہ اُسے شوٹ کرچکا ہوتا۔
انعم نے سب کچھ بے حد صفائی سے کیا تھا،اس کی ایک دوست کے ابا ہیومن رائٹس کے لئے کام کرنے والی ایک این جی او میں تھے،انعم نے اُن کے گھر جا کر اُنہیں ساری بات بتائی تھی،اُنہیں وہ ویڈیو دکھائی تھی جو اُس نے صبا سے لی تھی،جس میں یہ واضح نظر آ رہا تھا کہ آزر سنیل مسیح نے کوئی بھی گستاخانہ جملہ نہیں کہا تھا۔
انکل نے انعم سے پولیس پروٹیکشن کے سلسلے میں درخواست لکھوائی اور اُس سے وعدہ کیا تھاکہ وہ خود ذاتی طور پہ اس معاملے میں انولو ہوں گے،اُس دن گھر واپسی پہ وہ کافی حد تک مطمئن تھی،گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی اُس نے فیس بک پیج ”save Aazar” بنایا تھاور اس پیج کو چلانے کیلئے اُس نے صبا سے مدد لی تھی،صبا جو سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز کی وجہ سے اپنے فالورز کی تعداد کو ہزاروں تک پہنچا چکی تھی،نے ایک رات میں ہی اُس پیج کو اچھا خاصاپرموٹ کرلیاتھا،اُس نے اُس پیج کا لنک یونیورسٹی کے ہر اُس گروپ میں بھیجا تھا جس کا وہ حصہ تھی، اُسی رات انعم نے کال کر کے آزر کوملاقات کا کہاتھا،آزر سے ایک مختصر ویڈیو پیغام ریکاڈ کروایااور پھر اُسے سوشل میڈیا Uploadکردیا تھا اور یہ سب انعم نے اتنی خاموشی سے منظم طریقے سے کیا تھا کہ ارسل کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی تھی۔

”میں ایک خدا پرست انسان ہوں اور خدا وندمجھے اپنے بندوں سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے،میں کسی بھی انسان کی گستاخی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔میں تو کسی عام انسان کے بارے میں ایسے لفظ نہیں کہہ سکتا تو پھر آپ نبیﷺ کی گستاخی کیسے کرسکتا ہوں۔۔ایسا کافر نہیں ہوں میں۔۔۔۔مجھے جان بوجھ کر مذہبی معاملات میں الجھایا گیا ہے۔۔۔ایک معمولی سی بحث ہارنے کے بعد جب ارسل سے کچھ اور نہیں ہوا تو اُس نے مجھ پہ گستاخ رسولﷺ کی تہمت لگادی ہے،خدا را میری مدد کی جائے، میں آزر سنیل مسیح اپنے یسوع کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں گستاخ رسولﷺ نہیں ہوں۔“
دو منٹ کی یہ ویڈیو شاید اتنی بھگدڑ نہ مچاتی،اگر اس ویڈیو کے آخر میں چند سیکنڈ زکیلئے انعم نمودار نہ ہوتی،انعم نے نہ صرف آزر کے دعوے کی سچائی کی گواہی دی تھی بلکہ اُس نے اقرارکیا تھا کہ آزر مسیح بے گناہ ہے اور وہ اس واقعے کی عینی شاہد ہے۔
اگلے ہی دن ہیومن رائٹس این جی او سے ایک ٹیم نے یونیورسٹی کے چانسلر سے میٹنگ کی تھی اور اس میٹنگ میں بہت سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی گئی تھی،اس میٹنگ کے بعد یونیورسٹی میں آزر کے خلاف ہونے والا ہر قسم کا احتجاج روک دیا گیا تھا۔
رومیصہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ چند لمحے کیلئے ساکت ہو گئی تھی،اُسے انعم سے اس حماقت کی بالکل بھی توقع نہیں تھی،اُس نے بے یقینی کے عالم میں کئی بار انعم کی اُس ویڈیو کو دیکھا تھا،مزید جب اُسے ہیومن رائٹس کی ٹیم کی آمد کا پتا چلا تو اُس کا دماغ بھک سے اڑگیا تھا،اُس نے کئی بار انعم کو کال کی مگراُس نے کال پک نہیں کی چنانچہ پھر رومیصہ نے ارسل کو کال کر کے صورتحال سے آگاہ کیا تھا،ارسل اور علی اگلے آدھے گھنٹے میں یونیورسٹی پہنچ گئے تھے،اُن تینوں نے مل کر انعم کو کافی تلاش کیا مگر وہ پتا نہیں کہاں اُڑن چھو ہو گئی تھی۔
اگلے چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پہ چلائے جانے والی مہم نے مزید زور پکڑ لیا تھا،آزر کی ویڈیو مسلسل شئیر ہو رہی تھی،اور اُس کے نیچے ہمدردی بھرے کئی کمنٹس آنے لگے تھے۔
ارسل کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔وہ غصے کی کس انتہا کو پہنچ چکا تھا کوئی بھی نہیں بتا سکتا تھا۔

************

سوشل میڈیا کمپئین اگلے ایک مہینے تک جاری رہی تھی،اور اس کمپئین نے آزر کو ولن سے ہیرو اور ارسل کو ہیرو سے ولن بنا دیا تھا۔ آزر کے حق میں پوسٹس اور کمنٹس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا،اُس سے ہمدرردی کے لئے کئی آرٹیکل لکھے جارہے تھے اور ان آرٹیکل کے نیچے لاکھوں کی تعداد میں کمنٹس آرہے تھے،جس میں ارسل کو لعنت و ملامت کا نشانہ بنایا جا رہا تھا،بہت سارے غیر مسلم سٹوڈنٹس اس کمپئین کو چھپ کرپرموٹ کر رہے تھے،وہ باقاعدہ طور پر آرٹیکل لکھوارہے تھے اور ان آرٹیکلز میں اُن حدیثوں اور واقعات کا حوالہ دیا جارہا تھا جس میں مسلمانوں کوحسن سلوک کا سبق دیا گیا ہے اور وہ مخصوص مذہبی تنظیموں کے اشتعال اور نفرت انگیز روئیوں کو بھی مسلسل ہائی لائٹ کررہے تھے کہ جن کی وجہ سے اقلیتوں کیلئے پاکستان میں زندگی مشکل سے مشکل ترین ہوتی جارہی تھی۔ ارسل لاکھ کوشش کے باوجود بھی اس سوشل میڈیا کمپئین کو روک نہیں پارہا تھا،کسی ایک جگہ سے پوسٹ ڈیلیٹ کرواتا تو وہی پوسٹ چند منٹ بعد کسی دوسری جگہ لگ چکی ہوتی،ارسل سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا، وہ مسائل کو چٹکیوں میں حل کرنے کا عادی تھا لیکن اب صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتی جارہی تھی اور اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اُس کے ساتھ بیٹھے بٹھائے ہوکیا گیا ہے،ایک چیز جو وہ اب اپنی زندگی میں نہیں چاہتا تھا وہ انعم کی شکل دیکھنا تھا،وہ یونیورسٹی آنے سے بھی گریز کرنے لگا تھا۔سارا دن غصے کی حالت میں گھر میں بیٹھ بیٹھ کر وہ صرف اپنا ڈپریشن بڑھا رہا تھا۔ انعم خوفزدہ ہونا شروع ہو گئی تھی وہ اس کا کزن تھا۔۔۔بچپن کا دوست تھا۔دونوں کرائم پارٹنر تھے،دونوں میں محبت تھی۔۔رشتہ طے تھا اور اب اس کی وجہ سے اس کا ”سب کچھ“‘ بُری طرح پھنس گیا تھا۔وہ آزر کی مدد ضرور کرنا چاہتی تھی لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ ارسل کے لئے کوئی محاذ کھڑا ہو،یونیورسٹی جانا اُس نے بھی چھوڑ دیا تھا،اپنے کمرے میں بیٹھی پریشانی کے عالم میں وہ سوشل میڈیا پہ آنے والے اُس طوفان کو دیکھتی رہتی تھی جس کو اٹھانے میں کسی قدر ہاتھ اُسی کا تھا،طوفان اب تھم نہیں سکتا تھا اور اُسے ڈر لگنے لگا تھا کہ کہیں یہ طوفان ارسل کی تعلیم اور کیریئرپہ اثر انداز نہ ہو جائے۔ اور یہی خوف ارسل کو بھی ستا رہا تھاوہ اب ہر صورت میں اس سارے معاملے کو جڑ سے اُکھاڑنا چاہتا تھا، اُسے کسی بھی طرح اس سب تماشے کو ختم کرنا تھامگر کیسے۔۔یہ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہو رہا تھا،ذہن میں کئی پلانز گڈ مڈ ہورہے تھے اور انہی گڈ مڈ ہوئے پلانز پہ سوچ بچار کرتے ہوئے بالآخر اُسے ایک حل مل گیا تھا،اگرچہ یہ اس کی شان کے خلاف تھا مگر اُسے اب کسی بھی طرح اس سب سے جان چھڑواناتھی ارسل نے بھی ایک مختصر سا ویڈیو کلپ بنا کر شئیر کردیا تھایہ ایک اعترافی ویڈیو کلپ تھا جس میں اُس نے اپنی غلطی کو تسلیم کر تے ہوئے آزر سے معافی مانگ لی تھی،ارسل کیلئے یہ کٹ مرنے کا مقام تھا کیونکہ اس ویڈیو کے آنے کے بعد اُس پر ہر طرف سے لعن طعن آنا شروع ہوگئی تھی لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا تھا کہ ایک ہفتے بعدیہ سارا معاملہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔

***********


ایک مہینے کے بعد اُن دونوں کا سامنا ہوا تھا ,ارسل اسائنمنٹ کیلئے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے لائبریری آیا تھا،وہیں اُس نے آزر کو دیکھا،وہ کسی کتاب کی ۔ تلاش میں ریک پہ ادھر اُدھر نظریں گُھما رہا تھا،اُس واقعے کے بعد وہ آج ہی یونیورسٹی آیا تھا،ارسل نے اس کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی کوشش کی تھی،لیکن آزر نے اُسے دیکھ لیا تھا،”ہیلو ڈئیر ارسل ”، ارسل کو اُمید نہیں تھی کہ وہ اس کو مخاطب کرے ‘ گا، ‘کیسے ہو دوست؟”، ناگواری کی شدت کے باعث وہ کچھ کہہ ہی نہ سکا۔
آزراس کے کے قریب آیا تھا،ارسل نے دیکھا اُس کے ہاتھ میں بائبل مقدس تھی،آزرنے مسکراتے ہوئے بائبل مقدس کو چوما،اس کے چہرے پہ طنزیہ سی مسکراہٹ تھی،وہ ارسل کو چڑانے کیلئے یہ سب کر رہا تھااور بھرپور کامیاب ہورہا تھا،ارسل کے ماتھے پہ موجود سلوٹوں میں اضافہ ہوالیکن اُس نے اُسے نظر انداز کرناہی بہتر سمجھا،آزر مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا،ارسل کی نظروں نے لاشعوری طور پہ اس کا باہر نکلنے تک تعاقب کیا تھااورپھر اُسے خود پہ غصہ آیا تھا،اپنی ہتھیلیوں سے کنپٹیوں کو دباتے ہوئے وہ ایک کُرسی پہ بیٹھ گیا اور کتنی ہی دیر نا سمجھی کے عالم میں وہیں بیٹھا رہا،اُسے اسائنمنٹ کیلئے کونسا میٹریل چاہیے تھا،اُس کچھ یاد نہیں تھا،اُسے آزر کو کس طرح مزہ چکھانا ہے اُسے اب یہ یاد تھا،”ہاں ملا کوئی مواد اسائنمنٹ کے لئے۔” علی اُسے ڈھونڈتا ہوا وہاں آیا تھا،اُس نے کرسی پہ یوں اُسے بیٹھا دیکھ کر پوچھا تھا،وہ جواب دینے کی بجائے خاموشی سے نیچے فرش کی طرف دیکھتا رہا۔

”Are you ok?”علی نے تشویش کے عالم میں پوچھا۔
”No i am not well,i want to go back home.Please collect some materials for assignment”
وہ کہہ کر رُکا نہیں تھا بلکہ تیزی سے باہر نکل گیا اور باہر نکلتے ہی اُس نے ایک مرتبہ پھر سے آزر کو دیکھا،ارسل خاموشی سے اُس کے پاس سے گزرنا چاہتا تھا،مگر اُس نے روک لیا تھا،”بات سنو ارسل ”۔
”میں تمہاری کوئی بکواس نہیں سننا چاہتا ”،ارسل نے غصے سے کہا تھا۔
”میں کوئی بکواس نہیں کرنا چاہتا بس یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب کیا پلان ہے تمہارا؟” ارسل نے جواب دیناضروری نہیں سمجھا تھا،اُس نے جانے کیلئے قدم بڑھائے تو آزر نے اس کی کلائی تھام لی تھی
”کیا بد تمیزی ہے یہ؟” اُس نے غصے سے اپنی کلائی چُھڑوائی تھی۔
”میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں ارسل کہ تم لوگوں کا دل نہیں کانپتا کسی بے گناہ پہ گستاخ رسولﷺ کا الزام لگاتے ہوئے،تم لوگ اتنے نڈر ہو کر نبی کے گستاخوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہو؟ کبھی سوچنا کہ اصل گستاخ رسول ﷺ کون ہے؟کیا وہ گستاخ نہیں جو اپنی ذاتی انا کو تسکین پہنچانے کیلئے کسی بے گناہ پہ گستاخی کا الزام لگا دیتے ہیں ”وہ ایک لمحے کیلئے رُکا،”مگرتم امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولادوں کو کیا فکر،تمہارا دین سے کیا لینا دینا۔”
”بکواس بند کرو ”ارسل چلایا تھا۔
”تمہارے نبیؐ تورحمت العالمین ہیں،پوری کائنات کے لئے رحمت تو پھر تم لوگ اُن کے پیروکار ہو کر اس قدر ظالم کیسے ہو سکتے ہو،تم ہر وہ کام کرتے ہو،جس سے تمہارے نبی نے روکا ہے،کیسے کر لیتے ہو اتنی گستاخی؟،اپنا سر تن سے جدا کب کرو گے؟” اُس کی آواز ارسل سے کہیں زیادہ بلند تھی اس باراور پھرکہہ کر وہ رُکا نہیں تھا،اُس نے ایک تضحیک بھری نگاہ ارسل پر ڈالی تھی اور وہاں سے چلاگیا تھا،ارسل نے بے بسی سے اُسے دور جاتے ہوئے دیکھا تھا۔

***********

”تم آستین کا سانپ نکلی ہو انعم ”، وہ اُسے پچھلے آدھے گھنٹے سے ایسے ہی طعنے دے رہی تھی،اُسے بے عزت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور انعم بت بنی اس کی ہر بات سُن رہی تھی، رومیصہ اُس کے گھر آئی تھی اُس سے ملنے،اس کو بے عزت کرنے اورانعم سکون سے بیٹھی بے عزت ہو رہی تھی جیسے ذہنی طور پہ وہ اُن سب کی لعنت و ملامت سننے کو تیار تھی۔

”اب کچھ بولو گی؟ “رومیصہ نے اُکتا کر اُسے جھنجوڑا تھا۔
”کیا بولوں اب؟”اُس نے بیچارگی سے کہا تو رومیصہ کو اور بھی غصہ آیا۔
”کچھ بھی بولو،یہی بکواس کردو کہ تم نے یہ سب کیوں کیا؟” رومیصہ کی بات پہ وہ پھیکا سا مسکرائی،اُس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
”تم جانتی ہو ارسل تم سے ناراض ہے،ارسل کیا اِن فیکٹ ہم سب تم سے ناراض ہیں،تمہاری وجہ سے ارسل مجرم بن کر رہ گیا ہے سب کی نظروں میں، یونیورسٹی میں بھی وہ چُپ چاپ رہتا ہے۔ تمہاری وجہ۔۔۔۔” رومیصہ کو یکدم رُکنا پڑا،انعم کی مما دروازے پردستک دیتے ہوئے اندر آئیں،اُن کے ساتھ ملازمہ تھی جس کے ہاتھ میں چائے اور لوازمات سے سجی ٹرے تھی،اُنہوں نے اُس ٹرے کو ٹیبل پہ لگوایا۔
”گرلز کچھ اور چاہیے ہوا تو بتا دینا”،اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”تھینک یو سو مچ آنٹی آپ پہلے ہی کافی کچھ لے آئی ہیں اور سب مزے کا لگ رہا ہے ”، رومیصہ نے لوازمات سے سجی ٹرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا،آنٹی اُس کی بات پہ مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں،وہ دونوں کارپٹ سے اُٹھ کر ٹیبل کے سامنے صوفے پہ آن بیٹھی تھیں،رومیصہ نے ایک مرتبہ پھر سے اُسے ڈانٹناشروع کیا۔
” تمہیں شرم نہیں آئی اُس شخص کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے جس سے تم محبت کرتی ہو ” رومیصہ نے نمکو کی پلیٹ اُٹھاتے ہوئے اُس سے کہا تھا،چائے کی مگ کی طرف جاتا انعم کا ہاتھ ایک دم رُکا تھا۔
”پتا نہیں۔۔محبت رہی بھی ہے اب یا“،انعم بات مکمل نہ کرسکی تھی۔
رومیصہ چند لمحوں کیلئے جیسے لفظ تلاش کرنے لگی پھر اُس نے انعم کا ہاتھ تھاما”دیکھو۔۔تم دونوں Engagedہو۔۔محبت رہے یا نہ رہے کم از کم اسی ایک چیز کا خیال کرلینا چاہئے تھا تمہیں“۔
”کیا خیال کرتی میں۔۔ظلم ہورہا تھا۔۔اُسے نہ روکتی۔۔۔کیسے نہ روکتی۔۔“انعم کے لہجے میں سنجیدگی تھی،اتنی سنجیدگی کہ اس بار رومیصہ اُسے ڈانٹ نہیں سکی تھی۔
”تم جانتی ہو ناں وہ تم سے محبت کرتا ہے،تم کسی اجنبی پر ہونے والے ظلم کے خلاف ڈٹ سکتی ہو۔۔تم نے سوچا ہے کہ اس طرح تم خود اپنے منگیتر پر کیسا ظلم کررہی ہو۔۔اب بتاؤ۔۔کیسے روکوگی اس ظلم کو”وہ اب اُسے ایموشنل کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور انعم واقعی ہی جذباتی ہوئی تھی،وہ ارسل سے محبت نہیں کرتی تھی،لیکن اُسے اپنے لئے اُس سے بہتر چوائس کبھی کوئی نہیں لگی تھی۔اور وہ ارسل کی فیلنگز سے واقف تھی اور۔۔جو آپ سے محبت کرتا ہو آپ اُس کے ساتھ زیادتی کردیں تو وہ کیسا محسوس کرتا ہے یہ انعم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی،اُسے پہلی بار شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔
”رہ لو گی اُس کے بغیر؟” رومیصہ نے جیسے اُس کے دل میں چھپے خدشے کو بوجھ لیا تھا،انعم کی آنکھوں میں نمی امڈی۔اُسے خوف سا آیا تھا۔
”وہ مجھے اتنی سی بات پہ نہیں چھوڑ سکتا ”، اُس نے کہا رومیصہ کو تھا لیکن یقین خود کو دلایا تھا۔
”اتنی سی بات؟ یہ اتنی سی بات ہے؟ تم صرف آزر کو ڈیفینڈ کرتی ناں تو الگ بات تھی،تم نے اُسے بچانے کیلئے ارسل کو پھنسوادیا ہے،سچ پوچھو بہت بُرا کیا ہے تم نے ارسل کے ساتھ ” رومیصہ نے افسردگی سے کہا۔
”میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔میں تو۔۔میرا مقصد تو۔۔میں ارسل کو چوٹ پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتی”اُس نے گڑبڑاتے ہوئے اپنی صفائی میں بے ربط بولا تجا۔
”لیکن تم اس کا دل دُکھا چکی ہے۔”
”میں اُسے سوری کہہ دو گی ”،اُس نے جیسے حل نکالتے ہوئے کہا،رومیصہ اس کی بات پہ عجیب سے انداز میں ہنسی تھی۔
”سوری؟ تمہیں لگتا ہے یہ سب ایک سوری سے ٹھیک ہو جائے گا۔”
”تو پھر کیسے ٹھیک ہو گا؟”اُس نے پوچھا۔
”ارسل کو خوش کر کے“،رومیصہ کا لہجہ پُر اثرار تھا۔
”ارسل کو؟ میں کیسے خوش کروں ”،وہ حیرا ن ہوئی اُس کی بات پر اور لہجے پر۔
“i have a plan ” رومیصہ نے اُس کے کان کے قریب آتے ہوئے سرگوشی کی تھی۔


**********

”پلان بی؟” ارسل آج کل اپنی پُرانی روٹین پہ واپس آنے کی کوشش کر رہا تھا،اس کا غصہ اب آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہورہا تھا،اس وقت وہ علی کے ساتھ جم میں موجود تھا،ایک ساتھ رننگ مشین پہ بھاگتے ہوئے ”ہاں پلان بی۔اور تم جانتے ہو جب پلان اے ناکام ہو جائے تو پلان بی کس حد تک خطرناک ہو سکتاہے۔” ارسل نے Trademillکی سپیڈ کچھ کم کی اور پھر اُسے روکتے ہوئے نیچے اُترا۔علی نے بھی ویسا ہی کیا،ارسل نے مختصر لفظوں میں اُسے پلان بتایا تھا،جسے سن کر علی کے چہرے پر عجیب سے تاثرات ابھر آئے تھے۔ ارسل نے کسی پلان بی کا ذکر کیا تھا۔ علی نے تھوڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔

”کیسا ہے؟۔” ارسل نے تولیے سے پسینہ خشک کرتے ہوئے معنیٰ خیزی سے پوچھا، علی نے دو سٹول کھینچے دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے تھے۔” یہ ایسا پلان ہے جس سے آزر بچ نہیں پائے گا۔”
”یہ پلان ہے تمہارا؟”اُس نے سارا پلان تحمل سے سننے کے بعد کہا تھا اور ناگواری سے اُٹھتا ہوالاکرز کے پاس آیا،وہ بھی اُس کے پیچھے آن کھڑا ہوا تھا۔
”پلان بُرا نہیں ” وہ لاکرزسے اپنی چابی اور موبائل نکال رہا تھا،چابی کو ٹراؤزرز کی پاکٹ میں رکھتے ہوئے وہ جم کی سیڑھیاں اُترنے لگا۔
”یہ ایسا جال ہے جس سے وہ بچ ہی نہیں سکتا۔” اس کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں اُتر تے ہوئے علی اُسے ہر ممکن طور پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”پلان کامیاب ہو سکتا ہے لیکن جس بندے کا انتخاب تم کر رہے ہو،وہ مناسب نہیں ہے۔”علی نے دو ٹوک کہا،وہ پارکنگ میں آگئے تھے۔
”کیوں مناسب نہیں ہے میں خود رومیصہ سے بات کروں گا؟”علی نے ناگواری سے ارسل کی طرف دیکھا،ارسل نے گاڑی ان لاک کی دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔
”کیوں؟انعم کیوں نہیں؟ ”ارسل یکدم کچھ کہہ نہیں سکا تھا،علی نے ارسل کے کندھے پہ ہاتھ مارا،ارسل کو شاک لگا تھا۔
”یہ کام رومیصہ کے کرنے کا نہیں ہے۔انعم کے علاوہ کوئی اور یہ کام کر ہی نہیں سکتا۔۔تم سوچو گے تو تمہیں سمجھ آجائے گامیں کیا کہہ رہا ہوں ”علی نے معنی خیزی سے کہا تھا،وہ عجیب سی نظروں سے علی کی طرف دیکھنے لگا۔
************
”بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان جسے آزادی کے نام پہ حاصل کیا گیاتھا،اُسی آزاد پاکستان میں ہمیں اپنی رائے دینے کی آزادی نہیں ہے،ہمیں اپنے مذہب کے مطابق جینے کی آزادی نہیں،ہمارے منہ پہ آکرکتنے آرام سے کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ کا جو دین ہے وہ جھوٹا ہے،آپ لوگوں کی جو بائبل ہے وہ بدل چکی ہے اور ہم بے بسی سے سب سنتے ہیں،ہم اپنے عقیدے کی وہاں وضاحت نہیں دے سکتے،کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں پھر موت کے منہ میں جانا پڑے گا ” وہ ایک لمحہ رُکا تھا۔
وہ ایک چھوٹا سا ہال تھا جس کی تمام نشستیں پُر ہوچکی تھیں،ان میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے،وہ سب وہاں آزر مسیح کیلئے آئے تھے،آزر کا شمار ان کی برادری کے ذہین اور محنتی لوگوں میں ہوتا تھا۔
”ہمارے بارے میں سر عام بات کی جاتی ہے،لاؤڈاسپیکرز پر،نیوز پیپرز میں سب دھڑلے سے ہمارے خلاف بولتے ہیں،ہمارے خلاف لکھتے ہیں،لیکن اگر ہم کچھ بولیں تو ہمارے اوپر کیس کر دیا جاتا ہے،توہین رسالت کی مہر لگ جاتی ہے،غریب آدمی پہ کیس کر دیا جاتا ہے اور وہ غریب آدمی اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنی ہر چیز داؤ پہ لگا دیتا ہے،آٹھ دس سال جیل کاٹنے کے بعد اگر فیصلہ اُس کے حق میں بھی آجاتا ہے تو بھی وہ دوبارہ سے کھوئی ہوئی عزت حاصل نہیں کرپاتا جبکہ کوئی بھی اُس شخص کو نہیں پکڑتا جس نے اس کو جھوٹے الزام میں پھنسایا ہوتا ہے۔”
مجمع میں موجود لوگ مختلف فیلڈز سے تھے،چند اسٹوڈنٹس،کچھ ٹیچرز کچھ وکیل اور چند دوسرے شعبہ جات سے منسلک لوگ،آزر بہترین مقرر تھا،اُس کو سننے کیلئے وہ سب ایسے ہی اکٹھے ہوتے تھے،اس کے ساتھ اپنی برادری کو در پیش مسائل ڈسکس کرتے تھے،آج کا سیمینارآزر کے بے قصور ثابت ہونے کے سلسلے میں کروایا گیا تھا،وہ سب اُسے سننے آئے تھے کہ کیسے مسلم کمیونٹی نے اُسے پھنسایا اور پھر خوشی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اُسے بچانے والے بھی چند مسلم لوگ ہی تھے،آزر انہیں اپنے ساتھ پیش آنے والا سارا واقعہ سُنا رہا تھا اور انہیں چند احتیاطی تدابیر بتا رہا تھا جو اس آزاد ملک میں رہتے ہوئے اُنہیں اپنانا تھیں۔
”ہم آواز اُٹھا ہی نہیں سکتے کیونکہ ہماری آواز سننے والا ہی کوئی نہیں ہے،مجھے بچانے چند سٹوڈنٹس ضرور سامنے آئے تھے لیکن ضروری نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ ایسا ہو”آزر کے لہجے میں مایوسی جھلکی تھی۔
”میری آپ سب کو یہی نصیحت ہے۔ہمیں خاموش ہی رہنا ہے کیونکہ خاموشی تکلیف دہ سہی مگر زندگی ہے”آزر نے اپنی بات ختم کی اور ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد وہ نوجوانوں میں صحیفوں کے نسخے بانٹنا شروع ہوگیا۔

(جاری ہے)