مکمل ناول : ” تکون” ۔۔قسط نمبر 05 از محمد انس حنیف۔

لندن ائیر پورٹ پہ قدم رکھتے ہی واسع نے ایک گہری سی سانس لی،قسمت انسان کو کیسے کہاں سے کہاں لے آتی ہے۔اُس کا شمار محب وطن لوگوں میں ہوتا تھا،وہ جنہیں پاکستان سے اس کی ہر خوبی خامی سمیت عشق ہوتا ہے۔ وہ پاکستانیوں کی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کو ناپسند کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
وہ اکثر اپنے کزنز وغیرہ سے ملنے پاکستان سے باہر جاتا تھا لیکن بمشکل چھ یا سات دن ہی وہ آرام سے رہ پاتا تھا اور اُسے اپنے لوگ،اپنی زمین یاد آنے لگتی۔۔
وہ لمز میں ایم بی اے کا سٹوڈنٹ تھا, چند ماہ پہلے اُس نے باقی سٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر امپیریل کالج سے آفر ہونے والا اسکالرشپ فارم بس یونہی بھرا تھا، وہ برائٹ سٹوڈنٹ تھا لیکن اُسے اُمید نہیں تھی کہ اُسے سکالرشپ مل جائے گا، یہ سکالر شپ اُس کے علاوہ چند دوسرے سٹوڈنٹس کو بھی ملا تھا لیکن اُن سب کے بر عکس وہ بالکل بھی خوش نہیں تھا،کیونکہ وہ پاکستان نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
واسع کو اپنی فیملی کی طرف سے ہمیشہ سپورٹ ملا تھا,وہ اپنے فیصلے لینے کے لئے ہمیشہ آزاد تھا،اس کے ابو نے کبھی کسی قسم کی کوئی سختی نہیں کی تھی۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا جب واسع کو کسی بھی فیملی ممبر کا سپورٹ نہیں ملا تھا،واسع نے جیسے ہی لندن جانے سے انکار کیا تو سب گھر والے بھڑ ک اُٹھے تھے،امی، ابو۔۔بہنیں اور یہاں تک کہ دادی بھی،اُسے کم از کم دادی سے یہ امید نہیں تھی، خیر نا چاہتے ہوئے بھی واسع علی کو لندن آنا پڑ ا تھا۔ اپنے گھر والوں سے دور۔۔
وہ اپنی ٹرالی کو کھینچتا ہوا آگے کی طرف بڑھا،محمد واسع علی کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے جا رہا تھا۔
°°°°°°°°°°°°
اُس نے چھوٹے سے سائز کی صلیب کو ہتھیلی پہ رکھا ہوا تھا،اُس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر ہتھیلی پہ رکھی اُس صلیب پہ گِررہے تھے۔
”اے یسوع۔۔”اُس نے مٹھی کو بند کر کے یسوع کو پُکارنا چاہالیکن زبان نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔وہ تڑپا۔۔بُری طرح تڑپا۔۔بالکل ایک ایسی مچھلی کی مانند جسے تالاب سے نکال کر خشکی پہ چھوڑ دیا جائے۔
اُس نے پچھلے تین دن سے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا،کمرے میں تاریکی کئے وہ جیسے خود کو یقین دلاتا رہتا کہ یہ سب ایک ڈراؤنا خواب تھا ابھی آنکھ کھلنے پہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گالیکن وہ خواب نہیں تھا،خواب میں موجود اندھیرے کو چھٹنا ہی ہوتا ہے۔وہ تو حقیقت تھی،جو کسی خوفناک خواب سے کئی گُنا زیادہ دہلا دینے والی تھی۔۔
اُسے ہر چیز سے خوف آرہا تھا۔۔آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر بھی۔۔۔۔ وہ کئی مرتبہ اپنے آپ کو دیکھ کر رویا تھا۔
اور پھر خود ہی چُپ کر جاتا اور چند لمحوں بعد پھر سے سسکیاں بھرنے لگتا،محبت میں اندھا ہونا اُس نے سنا تھااور آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے اُس نے پہلی بار محبت میں اندھا ہونے والا شخص دیکھا تھا۔۔
وہ جس طرف بھی نظر اُٹھاتا اُسے وہی نظر آتی۔۔
و ہ گھبرا کر آنکھیں بند کر لیتا تو اُسے ہر طرف شور ہی شور سنائی دینے لگتا۔۔اُس شور میں کئی آوازیں ہوتیں اور سب سے نمایاں آواز اُسی کی ہوتی اور اُس آواز سے اُس کے کان جیسے جلنے لگتے۔۔وہ سہم کر کانوں پہ ہاتھ رکھتا تو ہاتھ بھی جلنے لگتے اور پھر وہ جلن اُس کے پورے بدن میں پھیل جاتی۔وہ بے تابی سے یسوع کو پکارنا چاہتا لیکن زبان تالو سے چپک جاتی آنکھوں کے سامنے وہ خوفناک منظر پھر سے آجاتا۔۔
وہ اُ س کمرے سے باہر کیسے نکلا تھا۔وہ نہیں جانتا تھا،اُس کے ہوش و حواس کام کرنا چھوڑ گئے تھے،بس اسے اتنا سمجھ آرہا تھا کہ ایک ہجوم اُسے کھینچتا ہوا کسی آفس میں لے آیا تھا۔آفس میں دو تین آدمی بیٹھے تھے۔ایک اُن کے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ،باقی دو میں سے ایک شاید وائس چانسلر۔۔اور ارد گرد کئی لڑکے۔۔وہاں اُس سے کچھ سوال پوچھے جارہے تھے۔کیا پوچھا جا رہا تھا۔۔اور وہ کیا بتا رہا تھا۔۔بد حواسی کا عجیب سا عالم تھا۔پھر وہاں اُس نے انعم کو دیکھا،رو رو کر اُس کی آنکھیں سوج گئی تھیں،اُسی طرح روتے ہوئے وہ اپنا بیان دے رہی تھی۔
”میری اس کے ساتھ دوستی تھی۔ایک پراجیکٹ پہ ایک ساتھ کام کر رہے تھے تو دوستی ہوگئی،ایک دو بار کیفے میں بیٹھ کر اس کے ساتھ چائے وغیرہ بھی پی لی۔لیکن پھر میں نے اس کی نظروں میں کچھ عجیب سا محسوس کیا،مجھے اس کی نیت میں کھوٹ محسوس ہونا شروع ہوامیں نے اسے اگنور کرنا شروع کردیا تھا

،لیکن یہ بار بار میرے سامنے آجاتا مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتا،یونیورسٹی کے بعد بھی میسجز یا کال کرتا رہتا۔اور آج۔۔اس نے میسج کر کے مجھے خالی کلاس روم میں آنے کا کہا۔۔میری عقل پہ پردہ پڑ گیا تھا شاید۔۔مجھے نہیں معلوم تھا یہ وہاں اکیلا ہو گا۔۔میں اس کمرے میں گئی۔۔۔اور۔۔۔”اُس نے روتے ہوئے موبائل ٹیبل پہ رکھا۔اُن تین آدمیوں میں سے ایک نے موبائل اُٹھا کر میسجز پڑھنا شروع کر دیے۔اور کچھ عینی گواہ۔۔۔
”سر جو منظر میں نے دیکھا۔۔انعم ایک کونے میں کھڑی چیخ رہی تھی۔اور اُس کا دوپٹہ آزر کے ہاتھ میں تھا ” یہ انہی کی کلاس کا لڑکا شرجیل تھا۔
”وہ تو شکر ہے سر ہم فوٹو سیشن کرتے وہاں سے گزر رہے تھے ورنہ پتا نہیں آج کیا ہو جاتا ”کلاس کے ایک دوسرے لڑکے نے کہا تھا۔اور پھر وہاں گواہ کے طور پہ موجود سب ہی لڑکے کچھ نا کچھ کہنے لگے تھے،کچھ لڑکے وہ تصاویر اور ویڈیو دکھا رہے تھے جو عین موقع پہ لی گئی تھیں۔
آزر نے بھی کچھ کہنا چاہا تھا لیکن اُسے روک دیا گیا،اُس کے کہنے کو شاید کچھ بچا ہی نہیں تھا،وہ چپ چاپ وہاں کھڑا اُس تماشے کو دیکھتا رہا۔
اس نے بے یقینی کے عالم میں وہاں سے ریسٹیکیشن لیٹر وصول کیا تھا،جو کچھ ثابت ہو چکا تھا اس کے بعد اُس کو کالج سے نکالے جانے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا، زندگی واقعی ہی بے یقینی شے ہے ایک پل میں ادھر سے اُدھر۔۔
وہ بھاری وجود لے کر اُس آفس سے نکلا۔۔ اور باہرنکلتے ہی چند لڑکے اُس پہ حملہ آور ہوئے تھے۔۔مکے۔۔ گھونسے۔۔۔لاتیں۔۔۔تھپڑ۔۔
وہ ایک عیسائی تھا اور اُس نے ایک مسلم لڑکی کی عزت پہ ہاتھ ڈالنے کی کوشش بھی کیسے کی؟ چند سیکیورٹی اہلکار اُسے بروقت بچا کر یونیورسٹی سے باہر نا لاتے تو شاید وہ زندہ نہ بچتا۔
اگلے ہی دن یونیورسٹی کے کونے کونے میں بات پھیل گئی تھی۔ ”ایک عیسائی لڑکے نے مسلم لڑکی کی عزت پہ حملہ کرنے کی کوشش” یہ خبر اُس نے سوشل میڈیا پہ دیکھی تھی اور اس خبر کو پڑھتے ہی جیسے اُسے زوردار طمانچہ آن لگاتھااور یہ طمانچہ وہاں ریکٹر آفس کے باہر لڑکوں سے لگنے والے طمانچوں اور مکوں سے کئی گنا زور دار تھا۔
تین دن گزر گئے تھے اور وہ اپنے کمرے سے نہیں نکل رہا تھا جب پاپا آتے تو وہ بخار کا بہانہ کر کے لیٹا رہتا۔پاپا کے اسکول جانے کے بعد وہ بلند آواز میں رونے لگتا۔۔جب رو کر تھک جاتا تو اپنے بال نوچنے لگتا۔۔کبھی بالکل خاموش جیسے کسی ٹرانس کی کیفیت میں چلا جاتا۔
*°°°°°°°°°°°
امیلا نے اسٹیج پہ قدم رکھا اور ساتھ ہی اُس کے حواس کام کرنا چھوڑ گئے، وہ کس لئے اسٹیج پہ آئی تھی اُسے اچھی طرح علم تھا، اُسے کچھ کہنا تھا،اپنے سامنے بیٹھے نوجوانون لڑکے لڑکیوں سے اُسے خطاب کرنا تھا، وہ اچھی خاصی پریکٹس کر کے آئے تھی۔۔وہ سارے الفاظ اُسے اچھی طرح رٹائے گئے تھے،لیکن اسٹیج پہ قدم رکھتے ہی وہ سارے الفاظ جیسے اُس کے ذہن سے اُڑ گئے،مائیک کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے خود کو نارمل کیا،حواس بحال ہونا شروع ہوئے لیکن جو کچھ اُسے یاد تھا وہ سب کچھ بھول گیا،یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا۔۔اُس کے ساتھ بار بار ایسا ہو رہا تھا مکمل تیاری کے بعد اُسے اسٹیج پر بھیجا جاتا اور وہ وہاں آتے ہی سب کچھ بھول جاتی۔۔
اُس کے سامنے ایک مجمع تھا اور خاموش تھی،اُس کے ماتھے پر نمودار ہونے والا پسینہ واضح دکھ رہا تھا،یہ اسٹیج پہ آنے کا خوف نہیں تھا،وہ پہلی بار اسٹیج پہ نہیں آئی تھی لیکن یہ کس چیز کا خوف تھا اس کا جواب نا امیلا کے پاس تھا اور ناہی وہاں موجود کسی دوسرے انسان کے پاس۔
یہ لندن میں منعقد کی گئی ایک کانفرنس تھی جو خاص کر ان نوجوانوں کے لئے کروائی گئی تھی جو نئے نئے عیسائیت میں داخل ہوئے تھے،اس خاص کانفرنس کا مقصد حضرت عیسٰی علیہ اسلام کی حیات اقدس پہ روشنی ڈال کر نوجوان نسل کی زندگی میں مذہبی جوش و خروش پیدا کرنا تھا۔
امیلا کو اسی کانفرنس کے لئے تیار کیا گیا تھا، اُسے اچھی طرح لیکچرز تیار کروایا گیا تھا،انجیل کا کچھ حصہ۔۔ زبور کے کچھ گیت تھے جو اُس نے اسٹیج پہ چڑھ کر پڑھنا تھا۔ لیکن اُس کے ساتھ وہی ہوا تھا جو اس سے پہلے کی دو کانفرنس میں ہو چکا تھا،وہ اسٹیج پہ قدم رکھتے ہی سب کچھ بھول گئی تھی،امیلا کے کوآرڈینیٹرز کا خیال تھا کہ شاید وہ کسی ڈپریشن کے زیر اثر تھی اسے کئی تھراپی سیشنز سے گزارا گیا تھا لیکن امیلا میں کوئی فرق نہیں دکھا تھا۔
امیلا نے بے بسی سے اپنے ساتھ کھڑی سسٹر جونا کو دیکھا،وہ امیلا کے کندھے پہ ہلکی سی تھپکی دیتے ہوئے اُسے اسٹیج سے نیچے لے آئی تھی۔
”کیا ہو رہا ہے تمہارے ساتھ؟” اُس نے اسے ایک کونے میں لے جاتے ہوئے پوچھا، امیلا کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ کیا جوا ب دے،وہ خاموشی سے جونا کی طرف دیکھنے لگی۔ جونا کو اُس پہ ترس سا آیا۔
”چلو کوئی بات نہیں۔آؤ میرے ساتھ۔ ”امیلا کو خاموش پا کر اُس نے کہا تھا اور اُسے باہر کی طرف لے گئی تھی امیلا نے اپنے ماتھے پہ موجود پسینہ صاف کیا۔ا
***
واسع یہاں پڑھنے کی غر ض سے آیا تھا لیکن یہاں ایک الگ ہی کہانی شروع ہو گئی تھی،اُس نے لندن میں موجود ایک دوست کی مدد سے سُپر سٹور میں کام کرنا شروع کر دیا تھا، اُسے فی الحال ایسی کسی نوکری کی ضرورت نہیں تھی،اُس کا بیک گراؤنڈ ایسا تھا کہ وہ چند دن مزے سے گزار سکتا تھا لیکن اُسنے خود کو مصروف رکھنے میں ہی ترجیح دی تھی۔
ٍ اور یہیں سٹور پہ پہلی بار اُس نے اُس لڑکی کو دیکھا۔ اُس کی ڈیوٹی واسع کے ساتھ فروٹس اور ویجیٹیبل کے ریک پہ تھی، اُس کو پہلی نظر دیکھتے ہی واسع کو احساس ہوا وہ اس لڑکی سے پہلے بھی کہیں مل چکا تھا یا کم از کم کہیں دیکھ چکا تھا،اپنے ذہن پہ زور دینے کے باوجود بھی اُسے ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں آیا تھا,اگلے چند دنوں میں واسع کو اُس لڑکی کے بارے ایک دو باتیں پتا چلیں وہ امیلا تھی۔۔پاکستان سے
تعلق رکھنے والی ایک عیسائی لڑکی، اس کے علاوہ وہ اُس کے بارے میں کچھ نہیں جان پایا تھا۔
اُس لڑکی کے چہرے پہ ہمیشہ سنجیدگی نظر آتی تھی ،سنجیدگی کے علاوہ اگر کچھ ہوتا تو ایک عجیب طرح کی تھکان یا پھر اداسی،اس سُپر سٹور میں موجود باقی سیلز گرلز کی طرح اُس کے چہرے پہ کوئی روائتی مسکراہٹ نہیں تھی،کسی کسٹمر کو ڈیل کرتے وقت بھی جو مسکراہٹ اُس کے چہرے پہ آتی وہ بہت ہی پھیکی ہوتی۔اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خالی پن تھااور اس خالی پن نے واسع کو اُس کے بارے میں مزید متجسس بنا دیا تھا۔
لیکن سوال پھر بھی یہی تھا کہ اُس نے پہلے اُسے کہاں دیکھا تھا۔واسع اچھی خاصی یاداشت کا مالک تھا۔یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی چیز کے بارے میں اتنا سوچنے پہ بھی اُس کے متعلق کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔
**
واسع عصر کی نمازکے بعد اسلامک سینٹر میں بیٹھا تھا۔ اُس سے چند فٹ کے فاصلے پہ بیٹھا ایک انڈین مسلم قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا، اس کی آواز بے حد خوبصورت تھی،اُس کی قرآت سنتے ہی واسع کو اپنی دادی اماں کی قرآت یاد آئی،اُن کی آواز میں بھی ایسا ہی سوز تھا،واسع کتنی دیر خاموشی سے تلاوت سنتا رہا، اُسے یہ عادت اپنے گھر سے ملی تھی،قرآن پڑھنا اور سننا۔۔
دس منٹ بعد وہ اسلامک سینٹر سے نکلا تھا، اُس نے دیوار کی پشت سے ٹیک لگائے اُسی لڑکی کو دیکھا تھا۔واسع وہاں کھڑے اُسے دیکھتا رہا، وہ آنکھیں بند کئے ہوئے اُسی طرح دیوار کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے تھی۔ چندلمحے غور کرنے کے بعد واسع کو احسا س ہوا تھا کہ وہ اسلامک سینٹر سے آنے والی اُس انڈین کی آواز پہ غور کر رہی تھی جیسے ان الفاظ کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہی ہو، واسع کو حیرت ہوئی، اُس کا مذہب اُسے اس شے کی اجازت نہیں دے سکتا لیکن پھر۔۔پھر کیوں وہ اس آواز پہ غور کر رہی تھی۔وہ لڑکی واقعی ہی عجیب تھی۔۔
واسع جلدی سے وہاں سے ہٹ گیا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اُسے یہاں پہ دیکھے۔

°°°°°°°°°°°
تانیہ ممی کے ساتھ کچن میں کھانا

بنوانے میں مصروف تھی،انکل سنیل آئے ہوئے تھے،وہ اورڈیڈی باتیں کرنے میں مصروف تھے،تانیہ جلد از جلد کھانا تیار کرنے کی غرض سے تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی۔ ”یہ آزر کو کیا ہوا کچھ دن سے؟” وہ برآمدے میں پڑی فریج سے کباب نکالنے گئی تھی،جب اُس نے ڈیڈی کو کہتے ہوئے سُنا تھا،وہ یوں ہی کباب نکالتے نکالتے رُک کر انکل سنیل کے جواب کا انتظار کرنے لگی تھی،وہ خود بھی جاننا چاہتی تھی کہ آزر کو کیا ہوا تھا،تین چار دن سے وہ بالکل الگ سا دکھ رہا تھا،شیو بڑھی ہوئی۔۔آنکھوں میں حلقے سے۔۔اور تین چار دن سے وہ یونیورسٹی بھی نہیں جارہا تھا۔۔تانیہ کتنی ہی مرتبہ اس کے گھر گئی تھی اُس سے بات کرنی کی کوشش کی مگر وہ کچھ بتا ہی نہیں رہا تھا۔ ”پتا نہیں یار شاید بُخار کی وجہ سے وہ ایسے نڈھال سا ہو گیاہے۔” اُس نے انکل سنیل کوکہتے ہوئے سُنا۔وہ چُپ چاپ کباب نکالنے لگی تھی۔ ”ہاں بیماری تو اچھے خاصے بندے کو نڈھال کر دیتی ہے۔”ویسے پوچھ لینا تھا کوئی ٹینشن ہے تو ہمیں بتائے۔تمہیں پتا ہے نا ہم اُسے پریشان نہیں دیکھ سکتے۔”ڈیڈی کی آواز میں فکر مندی تھی،وہ سب آزر کے بارے میں ایسے ہی حساس تھے۔اُسے یاد آیا تھا جب گستاخ رسول ﷺ والا معاملہ تھا تو کیسے ڈیڈی کی نیندیں اُڑی تھیں اور اب بھی ڈیڈی اُس کے بارے میں فکر مند ہو رہے تھے۔تانیہ کباب لیکر کچن میں آگئی اور اُنہیں فرائی کرنے لگی تھی۔۔۔چند منٹ بعد وہ کھانے کی ٹرے سجا کر ڈیڈی اور انکل سنیل کے پاس لے آئی تھی۔وہ لوگ ابھی بھی آزر کے بارے میں ہی گفتگو کر رہے تھے۔ ”بھئی میں نے توکئی دفعہ پوچھا کہ کوئی مسئلہ ہے کیا،لیکن وہ یہی کہہ رہا ہے کہ مجھے بُخار ہے۔” تانیہ ٹرے میں چیزیں نکال کر ٹیبل پر لگانے لگی تھی۔ ”تمہاری کوئی بات ہوئی آزر سے؟”انکل سنیل ڈیڈی سے بات کرتے کرتے اچانک اُس سے مخاطب ہوئے۔ ”نہیں اُس نے کوئی بات ہی نہیں کی کتنی کئی دفعہ گئی ہوں آپ کے سامنے۔وہ بات ہی نہیں کرتا ”وہ انہیں بتانے کے بعد خالی ٹرے لیکر کمرے سے نکل آئی۔ناجانے کیوں دل عجیب طریقے سے گھبرایا تھا۔پتا نہیں کیا مسئلہ ہے آزر کو۔اُس نے پریشانی سے سوچا تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعدانکل سنیل کے ساتھ ڈیڈی بھی باہر نکل گئے اور وہ دماغ میں سوچوں کا انبار لئے گھر کے باقی کام کرتی رہی،اُس کے دل و دماغ میں صرف آزر ہی گھوم رہا تھا،وہ ایک مرتبہ پھر آزر کی طرف جانے کا سوچنے لگی،تب ہی اس کے موبائل پر کرسٹینا کی کال آئی،اُس کا نام سکرین پر دیکھتے ہی وہ مسکرائی۔ ”ہیلو۔” ‘کیسی ہو۔” کرسٹینا کی آواز میں سنجیدگی تھی۔ ”ٹھیک ہوں تم سناؤ۔۔” تانیہ نے پوچھا لیکن آگے سے خاموشی رہی،جیسے وہ کچھ کہنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو۔ ”آزر کہاں ہے؟۔” تانیہ کوکچھ عجیب سا لگا۔وہ بھلا یہ کیوں پوچھ رہی تھی، ”اپنے گھر ہو گا،کیا بات ہے تم کچھ عجیب سے لہجے میں بات کیوں کررہی ہو؟۔” تانیہ نے کسی خوف کے زیر اثر پوچھا۔ ”میری بات غور سے سنو۔۔” کرسٹینا کے لہجے میں کچھ تھا،تانیہ کا دل زور سے دھڑکا تھا،وہ پاس پڑی کُرسی پر بیٹھ گئی،”آزر کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔” ،تانیہ کو جیسے کرنٹ سا لگا، ”کیوں؟”،اُس نے مری ہوئی آواز میں پوچھا،اُسے علم نہیں تھا کہ اس کیوں کا جواب اُس کی زندگی میں کتنا بڑا طوفان لانے والا ہے۔ ”اُس نے انعم کی عزت پہ حملہ کرنے کی کوشش کی تھی اور موقع پہ ہی پکڑا گیا ہے،مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی کیا چکر ہے ابھی کچھ دنوں پہلے ہی اس کے اور انعم کے افئیر کی خبر نکلی تھی اور اب۔۔۔۔تم جانتی ہو نا ایسی باتیں چُھپی نہیں رہ سکتیں،خاص کر وہاں جہاں ہم اقلیت میں ہوں اور ہمارے مذہب کا کوئی لڑکا کسی مسلم لڑکی کی عزت پہ حملہ کرے۔۔یہاں پوری یونیورسٹی میں بات پھیل گئی ہے،ہر کسی کے موبائل میں آزر اور انعم کی تصاویر ہیں جو موقع پہ لی گئی تھیں۔۔ہیلو تم سُن رہی ہو نا۔۔۔” تانیہ کا دماغ سُن ہو گیا تھا،ایک ہاتھ سے موبائل کو تھامے اُس نے دوسرا ہاتھ اپنے سر پہ رکھ لیا تھا۔ ”آئی ایم سوری تانیہ میں تمہیں یہ سب بتانا نہیں چاہتی تھی،لیکن یہ سب جاننا تمہارے لئے بہت ضروری تھا۔ویسے بھی آج نہیں تو کل یہ بات تم تک پہنچ ہی جانا تھی۔ ”تانیہ نے کانپتے ہاتھوں سے کال کاٹ دی تھی،مزید سننے کی ہمت اُس میں نہیں رہی تھی،وہ کس چیز کا سوگ منائے فوری طور پہ اُسے سمجھ نہیں آیا تھا،آزر کا انعم سے افئیر چلانے پہ۔۔۔۔یا پھر اپنے دیوتا کی شیطانی حرکت پہ۔۔اگلے منٹ میں کرسٹینا نے اُسے آزر کی موقع پہ بنائی جانے والی تصاویر سینڈ کر دی تھیں۔۔اگر اُس کے ذہن میں ایک پل کے لئے بھی کہیں آزر کے بے قصور یا معصوم ہونے کی سوچ پیدا ہوئی تھی تو اُن تصاویر کو دیکھتے ہی وہ سوچ اُڑن چھو ہو گئی تھی۔

°°°°°°°°°
اُس دن رومیصہ نے انعم کو پلان بتا کرہکا بکا کر دیا تھا،وہ پلان جو ارسل،علی اور رومیصہ نے اُس کی غیر موجودگی میں ترتیب دیا تھا۔’کیا؟”، انعم کے منہ سے چیخ نکلی تھی،وہ کھا جانے والی نظروں نے رومیصہ کو دیکھتی رہی۔یہ کیسا پلان بنایا تھا انہوں نے،اور پلان کی مین لیڈ بھی اُس کے سپرد کی جارہے تھی۔۔
”اب میں نے کوئی ایسی بھی مافوق الفطرت بات نہیں کہہ دی۔” رومیصہ معصوم بنی تھی۔
”تم چاہتی ہو کہ میں۔۔۔۔” اُس نے جیسے صدمے کی حالت میں رومیصہ کی بات کو دُہرانا چاہا لیکن وہ دُہرا نہیں سکی تھی۔
”ہاں تم پہلے بھی تو کر چکی ہو۔”رومیصہ نے اُسے یاد دلایا تھا۔یاد کیا دلایا جیسے طعنہ ماراتھا اور اس طعنے کے بدلے میں اُس کا دل چاہا وہ جوتا اُتارکر اسے دے مارے۔ ۔
”تم کیوں نہیں کر لیتی یہ سب۔”اس نے خفگی سے کہا تو رومیصہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔
”بہن کیونکہ میں تمہاری جتنی حسین نہیں ہو ں۔” اُس نے زندگی میں پہلی بار انعم کو خود سے حسین کہا تھا لیکن انعم کو اس کی ذرا بھی خوشی نہیں ہوئی تھی۔اُس کا ذہن تو اُسی پلان میں اٹکا تھا جو اُن تینوں نے مل کر بنایا تھا۔کیا ارسل بھی؟ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ارسل بھی یہی چاہتا ہے۔
‘ارسل بھی یہی چاہتا ہے کیا؟ ”اُس نے پھر سے تصدیق کرنا چاہی،رومیصہ نے سر ہلایا تو وہ غمگین سی صورت بنا کر رومیصہ کی طرف دیکھنے لگی۔
”یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے انعم! تم تو اس سے بڑے کارنامے کرتی آئی ہو اور پھر ارسل بھی خوش ہو گا،تم اس سب کو بس ایک ایڈوانچر سمجھو ”۔انعم چپ چاپ بیٹھی رہی،اُسے سمجھ نہیں تھی آرہی وہ کہے تو کیا کہے۔
وہ سر پہ ہاتھ رکھے اُس پلان کے بارے میں سوچنے لگی جو اُن تین کمینوں نے اُس کے لئے ترتیب دیا تھا۔وہ ایڈوانچرس گرل۔۔۔یہ ایڈوینچر کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھی۔
وہ ارسل کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی،اُس کی ناراضی ختم کرنے کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی لیکن یہ۔۔۔
یہ خطرناک پلان تھا،آزر مسیح کو ٹریپ کرنے کا پلان اور ٹریپ کرنے کیلئے جس کا انتخاب ہوا تھا وہ انعم تھی۔انعم کو اُس سے دوستی کرنا تھی۔اُسے پھانسنا تھا،اور پھر بعد میں اُن سب نے مل کر آزر کو ذلیل کرنا تھا وہ جانتے تھے کسی مذہبی بات کو ایشو بنا کر اب وہ آزر کو نیچا نہیں دکھا سکتے سوشل میڈیا کی اس کمپئین کے بعدتو ارسل اب آزر سے بات تک نہیں کرتا تھا۔
انعم تھی جس کی بات آزر سُن سکتا تھا,وہ اُس کا مشکور تھا کس طرح اُس نے اپنے دوستوں کے خلاف جا کر اُس کا ساتھ دیا تھا۔ساری کمپئین چلائی تھی،اور اب انعم کیلئے اُس سے دوستی کرنا تو بالکل بھی مشکل نہیں تھااور ویسے بھی وہ تھی ہی ایڈوانچرس گرل۔۔۔۔
شروع میں ارسل انعم کو اس پلان کا حصہ نہیں بنانا چاہتا تھا،ایک لڑکی جو مستقبل میں اس کی بیوی بننے والی تھی،اس سے یہ سب کروانا اُسے کسی طور پہ بھی قبول نہیں تھا،لیکن بدلہ ایک ایسی شے ہے جو انسان سے کچھ بھی کرواسکتا ہے،زخمی شیر کس حد تک اُجا سکتا ہے یہ کوئی نہیں جان سکتا سوائے اُس زخمی شیر کے یا اُس کا شکار ہونے والے کے، ارسل کے اندر موجود غصہ جسے کسی طرح اُس نے سُلادیا تھا،ایک مرتبہ پھر جاگ اُٹھا تھا،وہ اب کی بار آزر کو نیچا دکھانا چاہتا تھا،کسی طرح۔۔کسی بھی طرح۔
ارسل،علی اور رومیصہ مل کر پلان کو مزید نکھارتے رہے تھے،پلان میں کیا کیا شامل ہونا چاہیے اُس پہ بات کرتے رہے تھے اور پھر اُس کے بعد آیا تھا مشکل ترین مرحلہ،انعم سے بات کرنے کا مرحلہ۔۔اُسے پلان سے آگاہ کرنا۔اور اس کام کیلئے انہوں نے رومیصہ کو آگے کیا تھا،رومیصہ نے پہلے اُسے طعنے دے دے کر شرمندہ کیا اور جب وہ شرمندہ ہو گئی تو اُسے پلان کے بارے میں بتایا تھا۔
انعم ویسے ہی بگڑی تھی جیسی اُُن کو توقع تھی لیکن رومیصہ نے اُن سب کو یقین دلایا تھا کہ انعم مان جائے گی اور اس دفعہ آزر کو ذلیل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا،یہ اُن سب کی بنائی ہوئی تدبیر تھی۔۔۔۔اور انعم بھی اسی تدبیر میں شامل ہو گئی تھی یہ جانے بغیر کہ تقدیر تو پہلے سے لکھی جا چکی تھی،وہ جو کہانی لکھنے جا رہے تھے اُس کے انجام سے بے خبر تھے کیونکہ انجام تو صرف اللہ جانتا ہے۔
°°°°°°°°°°°°°
امیلا کی پہیلی سلجھانے میں وہ ناکام ہی رہا تھا، وہ اُسی طرح اُسے کئی بار اسلامک سینٹر کے باہر تلاوت سنتے دیکھتا رہا۔
اُس دن بھی ظہر کی نماز کے بعد اسلامک سیٹر سے نکلا تواُس نے اُسے دیکھا ،وہ بالکل اُسی طرح اسلامک سینٹر کی دیوار کے ساتھ سر ٹکائے بیٹھی تھی،اُس کی آنکھیں بند تھیں،وہ اندر سے آنے والی قرآن پاک کی آواز کو غور سے سُن رہی تھی۔
واسع کو اب یہ نہیں جاننا تھا کہ وہ اُسے پہلے کہاں دیکھ چکا تھا اور ناہی وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اُس کی آنکھوں میں اتنی اداسی اور ویرانی کیوں تھی۔ اُسے بس ایک چیز کا جواب چاہیے تھا۔۔۔یہ سب کیوں؟
واسع کے ذہن میں ایک خوشنما سی سوچ اُبھری۔۔کیا واقعی ہی۔۔وہ آج چوری چُپکے اُسے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔بلکہ سیدھا اُس سے وہ سوال پوچھنا چاہتا تھا،وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا اُس کے بالکل سامنے پہنچ گیا۔
”آپ؟ ”اُسے اپنے قریب دیکھ کر امیلا نے آنکھیں کھول دی تھیں۔اُسے اپنی جان نکلتے ہوئے محسوس ہوئی،جیسے اُس کی چوری پکڑی گئی تھی،وہ اُس سے تھوڑے سے فاصلے پہ بیٹھ گیا،س نے رسمی علیک سلیک کرنا شروع کی۔
”آپ یہاں کیسے؟” واسع نے پوچھا تھا ۔اُس نے جواب نہیں دیا،بلکہ وہ واسع کو اپنے پاس یوں بیٹھتے دیکھ کر نروس ہوئی تھی،وہ چُپ چاپ واسع کی طرف دیکھنے لگی۔
”آپ پاکستان سے ہیں ”؟ پہلے سوال کا جوا ب نا ملنے پہ واسع نے موضوع بدلنے کی کوشش کی تھی،وہ خاموشی سے اُس کی طرف دیکھتی رہی۔
”جی۔ ”اُس نے مختصر کہا اور ایکسکیوز می کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئی۔واسع کو عجیب سی ہتک محسوس ہوئی۔۔جو بھی تھا اُسے امیلا بے حد عجیب سی لگی تھی۔
***
”آپ مجھے اگنور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ”وہ اپنے ڈیوٹی ختم کر کے نکلی تھی،جب وہ آئس کریم کھاتے ہوئے تیز تیز قدم اُٹھاتا اُس کے برابر پہنچا۔۔اُس نے قدرے حیرانی سے اُس چھ فٹ کے مرد کو دیکھا۔
”میں آپ کو جانتی ہوں کیا جو آپ کو اگنور کروں گی ”۔وہ فٹ پاتھ پہ تیز ی سے چلنے لگی ،لند ن کا موسم کافی ٹھنڈا ہو گیا تھا،اوپر سے اُسے ٓآئس کریم کھاتا دیکھ کر اُس کی ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہوا تھا۔اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اوور کوٹ کی پاکٹس میں ڈالتے ہوئے اُسے قدرے رکھائی سے جواب دیا۔
”ہم دونوں ایک ہی سٹور میں کرتے ہیں۔”اُسے غصہ آیا کہ واقعی ہی وہ اُسے نہیں جانتی تھی،لیکن پھر بھی واسع نے نہایت تحمل کا مظاہرہ کیا۔
”تو؟سٹور میں اور کتنے ہی لوگ کام کرتے ہیں۔میں کیا اب سب سے خوش اخلاقی سے بات کروں؟” امیلانے سنجیدگی سے کہا، اور پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے چلنے لگی ۔وہ اُس سے جان بچانا چاہ رہی تھی لیکن وہ بھی اُس کے ساتھ تیز تیز قدم اُٹھانے لگا۔
”کوئی کام ہے آپ کو مجھ سے۔” اپنے پیچھے آتا دیکھ کر وہ رُک گئی۔
”مجھے ایسے لگتا ہے جیسے آپ پریشان ہیں،آپ کی آنکھوں میں ویرانی ہے۔ ”اب وہ کوئی تمہید نہیں باندھنا چاہتا تھا۔اُس نے وہ کہہ دیا جو اُس کے دل میں تھا،اس کی سنجیدگی غصے میں بدل گئی۔
”اکیلی میں ہی ملی ہوں آپ کو پریشان؟بہت سے لوگ ہیں جن کی آنکھوں میں آپ کو ویرانی نظر آئی گی۔آپ کسی کی بھی مدد کر سکتے ہیں۔”اُس نے غصے سے کہا تھا،وہ عجیب انسان تھا،پتا نہیں کیا چاہتا تھا۔
”لیکن آپ پاکستانی ہیں۔میرے ملک کی۔۔ ”وہ اتنا ڈھیٹ تھا،اس بات کا اندازہ اُسے خود کو آج ہی ہوا تھا،اس کے غصے کا جیسے اُس پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
”لندن بھرا ہے پاکستانیوں سے۔ڈھونڈ کر تو دیکھو۔” طنزیہ سی مسکراہٹ اُس کے لبوں پہ پھیلی،وہ ایک ٹرمینل پہ کھڑی ہو کر بس کا انتظار کرنے لگی تھی،وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا،واسع کے پاس ٹائم کم تھا،وہ اُس کی بس آنے سے پہلے اُس سے بات کرنا چاہتا تھا۔
”آپ اسلام میں دلچسپی محسوس کر رہی ہیں کیا؟” اُس نے امیلا کی رنگت کو تبدیل ہوتے دیکھا،وہاں غصہ نہیں تھا،اُس کے چہرے پہ بس ایک خوف سا جھلکا تھا، اُس نے گردن گُھما کر کسی انجانے خوف کے زیر ِاثر ادھر اُدھر دیکھا۔
ُ”آپ اسلامک سینٹر کے باہر آنکھیں بند کر کے قرآن سننے میں کیوں مگن تھیں؟ ”اُس نے پھر سے پوچھا،امیلا کے دل کی دھڑکن بند ہورہی تھی، اچانک اُس کی بس آگئی وہ جلدی سے بس میں سوار ہونے لگی،تب ہی اُس نے اپنے عقب میں پھر سے اُس کی آواز سُنی۔
”اگر آپ کا دل کسی چیز کی گواہی دے رہا ہے اور آپ کی انا اجازت نہیں دے رہی تو دل کی آوازپہ یقین لے آئیں۔”اُس نے بس کو اپنی نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔ایک بات تو کنفرم تھی اب وہ اُس کے سامنے نہیں آنے والی تھی۔

باقی آئندہ