نئے ستارے! “محبت میں جو یقین مانگے”.

شاعرہ : امرینہ سہیل.

محبت جو تم سے یقین مانگے
تو وفا سے اس کے
ہاتھوں میں ہاتھ دینا
لبوں پہ دھیمی مسکان سجا کر
نگاہوں سے اٌس کو مان دینا
کہنا کہ یہ جو رنگ ہیں سارے
بہار ٰ خوشبو ٰ اور پھول سارے
مہکنے لگتے ہیں جب تم مسکراؤ
زندگی حسین لگتی ہے جب پاس آؤ
بانہوں کا حصار دیتا ہے تخفظ مجھ کو
سب سے حسین لگتے ہو مجھ کو
چاہوں کہ تمہاری آنکھیں
ہر دم مجھ ہی کو دیکھیں
کبھی دور ہو کے نہ ستاؤ مجھ کو
دل کی دھڑکن بڑھتی جائے
پیار سے جب بھی بلاؤ مجھ کو
خواہش یہی ہے اب
قید ہو جائیں یہ لمحے سارے
رہوں ہمیشہ ساتھ تمہارے۔