ناولٹ : “اور دُنیا کا عشق “گھائو” بن کر چمٹ جاتا ہے” نعمان محمد.

“گھاؤ”۔

تحریر : نعمان محمد۔

“انسان کا پیدا ہونا اور پھر مرجانا،یہ اُس کے اپنے اختیار میں نہیں لیکن اس پیدائش اور مرنے کے درمیانی وقفے میں جو کچھ بھی ہوتا ہے یا وہ کرتا ہے یہ سب اُس کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے،چوائس ز …..زندگی اپنی طشتری میں مختلف چوائس ز رکھ کر انسان کے سامنے پیش کردیتی ہے،اب جو انسان کا دل چاہے وہ اُس میں سے چُن لے،بڑی ظالم ہے یہ زندگی…صحیح کو صحیح نہیں رہنے دیتی اور غلط ’’غلط‘‘ کے علاوہ سب کُچھ لگتا ہے….یہ زندگی بھی نا…انسان کو’’ انتخاب ‘‘کا حق دئیے جانے کا ایسا امتحان لیتی ہے کہ ….پتہ نہیں اللہ یاد آتا بھی ہے یا نہیں….”
’’اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جیسے خیر کو،بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل)۔
************
اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی حرا مسلسل الجھی ہوئی سوچوں کے گرداب میں تھی،ملگجے لباس میں ملبوس اپنے وجود پر ایک سرسری سی نظر ڈال کر وہ اٹھ کے بیٹھ گئی تھی،شکن آلودہ لباس،الجھے بکھرے بال،سوچوں کی آماجگاہ بنا چہرہ۔وہ بخوبی جانتی تھی کہ اُس کی ظاہری حالت اُس کے ذہنی خلفشار اور Confusion (الجھن) کا بڑا مکمل سا نقشہ کھینچ رہی ہے۔آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اُس نے خود کو سر تاپا دیکھا تھا۔
’’یہ گز بھر کی چادر اور آڈ اپیئرنس کے ساتھ تُم سمجھتی ہو کہ آگے بڑھ سکو گی؟،کون سے Utopia میں رہتی ہو مائی ڈیئر؟ ، تُمہارے سامنے کی آئی وہ Receptionist مسٹر وقار کی پرسنل سیکریٹری بن گئی ہے اور تُم اُس کے ٹھاٹ باٹ دیکھو،جانتی ہو کیوں؟، کیونکہ اُس نے ’’ Personal‘‘ ہونے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائی،ایک تُم ہو….سال بھر ہونے کو آرہا ہے اور ایک انکریمنٹ اپنی تنخواہ میں لگوا کر تُم سمجھتی ہو کہ بہت بڑا تِیر مار لیا ہے تُم نے…اگر ساری عمر اسی طرح ’’انکریمنٹس‘‘ کے آسرے پر ہی بیٹھی رہو گی نا تو ہوگیا کام….جن اخلاقیات کے ڈھیر کو تُم سینے سے لگا کر 2013کے پاکستان میں ترقی کرنے اور اپنی زندگی بدلنے کے خواب دیکھ رہی ہو، وہ صرف اور صرف بے وقوفی ہے‘‘،اُس کے کانوں میں کولیگ گیتی کے الفاظ گونجے تھے۔
آئینے کے سامنے سے ہٹ کر اُس نے اپنی الماری کھولی اور ایک جنون کی کیفیت میں اُس نے الماری میں لٹکے ہوئے اپنے کپڑے نکال نکال کر پھینکنا شروع کردئیے،چند منٹوں میں فرش پر ہینگ شُدہ اور تہہ لگے کپڑوں کا ایک ڈھیر جمع ہوگیا تھا۔وہ پنجوں کے بل فرش پر بیٹھ گئی اور کپڑوں کے اُس ڈھیر کوبغیر ہاتھ لگائے، دیکھنے لگی ۔
سعیدہ بیگم کے ہاتھوں میں جادو تھا،یہ ہر وہ شخص کہتا تھا جس نے اُن کے ہاتھ کے سلے کپڑے پہنے تھے،وہ پیشہ ورانہ درزن نہیں تھیں صرف خاندان کی عورتوں،محلے کی اُن عورتوں جن کے ساتھ اُن کے بہت اچھے مراسم تھے اور اپنی دونوں بیٹیوں کے ہی کپڑے سیا کرتی تھیں وہ بھی شوقیہ ،اس کام کے روپے انہوں نے کبھی نہیں لئے تھے لیکن اُن کے ہاتھ میں ایسی صفائی اور مشاقی تھی کہ کیا اجرت پر کپڑے سینے والی ماہر درزن کے ہوتی ہوگی،خود حرا نے ساری عمر ماں کے ہاتھ کے سلے کپڑے پہنے تھے اور بے حد فخر سے پہنے تھے،سکول کالج میں جب اُسے بھانت بھانت کی ماڈرن اور الٹرا ماڈرن لڑکیوں سے واسطہ پڑا تھا اور جو منہ بگار بگاڑ کر انگریزی زدہ لہجوں میں ڈیزائنرز کے نام گنواتی تھیں اور ایسا کرتے ہوئے بے حد مضحکہ خیز لگا کرتی تھیں اور جن کی ناک کے نیچے کبھی کسی کا کوئی لباس نہیں ٹھہرتاتھا ،وہ تک حرا کے زیب تن کئے ہوئے لباس سے متاثر ہوئے بغیر یا اُس کے کٹ یا سلائی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتی تھیں۔
لمبی آستینوں ،بند گلوں اور جسم کی ’’وضع وقطع‘‘ کو چھپانے والے سعیدہ بیگم کے ہاتھ کے سلے وہی کپڑے حرا کو اپنی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ لگ رہے تھے۔مسئلہ اُن کپڑوں میں نہیں تھا،مسئلہ حرا کے دماغ میں لگ جانے والی وہ گرہیں بن گئی تھیں جن کے تانے بانے ’’دُنیا داروں‘‘ نے بنے تھے۔کپڑوں کے اُس ڈھیر کے پاس بیٹھ کر اُس نے زندگی میں پہلی بار اُن چیزوں کو گننا شروع کیا تھا جو اُس کے پاس ’’اب تک‘‘نہیں آسکی تھیں اور اس کام میں اُس نے محض چند سیکنڈز ہی لئے تھے۔
شہر کے متوسط علاقے میں تین کمروں کے اُس سنگل سٹوری گھر میں پُرتعیش آسائشات کا نام ونشان تک نہیں تھا،نہ LCD ،نہ دیگر ہوم اپلائنس ز،عام سے صوفے کرسیاں،پُرانا سا فریج،ادھڑے ہوئے فرش کو چھپانے کیلئے لنڈا سے لاکر بچھائے ہوئے Rugs اور جو اگر سعیدہ بیگم بلا کی سلیقہ مند اور کفایت شعار نہ ہوتیں تو اُس گھر کی خستہ حالی ادھڑے ہوئے زخم کی طرح کبھی کی کھُل چُکی ہوتی ،نہ مہنگے کپڑے ،نہ چمکتے دمکتے زیورات کا ڈھیر یہ اور بات تھی کہ خالد برس ہا برس سے مختلف کمیٹیاں ڈالتے آئے تھے کہ کل کو انہیں دو بیٹیاں بیاہنی تھیں اور بہت خاموشی سے دونوں میاں بیوی نے دونوں بیٹیوں کیلئے علیحدہ علیحدہ دو ٹرنکس بھرنے شروع کردئیے تھے،نہ ہی مہنگے موبائل فونز،سمارٹ فونز کے اس دور میں بھی حرا عام سا فون استعمال کرتی تھی اور جب آفس کولیگز اُس سے WhatsApp نمبر مانگتے تو وہ شرمساری سے اپنا سادہ سا فون آگے کردیتی اور اُس وقت اُن سب کی نگاہوں میں جو ترحم اُسے اپنے لئے دکھائی دیتا تھا وہ اُسے زندہ زمین میں گاڑدینے کیلئے کافی ہوتا تھا،جبکہ چھوٹی زارا کے پاس تو وہ بھی نہیں تھا،ہاں ابا کے پاس ایک پُرانے ماڈل کی مہران تھی جو سال کے بیشتر مہینوں میں کسی نہ کسی مکینک کے پاس’’حاضری‘‘ کیلئے موجود ہوتی تھی اور جس سے حرا کو اتنی ہی چِڑ تھی جتنی ابا کی خودداری سے۔
کپڑوں کے اُس ڈھیر کے پاس سے اٹھ کر وہ اپنے کمرے میں موجود واحد کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی ،وہ اب اُن سب چیزوں کو شمار کرنے لگی تھی جن کی اُسے چاہ تھی۔
بڑا گھر،تمام تر آسائشوں اور دنیا کی ہر خوبصورت چیز سے مزین ،وال ٹو وال کارپٹ،خوبصورت لان جس کی لش گرین گھاس پر وہ صبح چہل قدمی کرتے ہوئے نمی کو اپنے تلووں سے محسوس کرے،پورچ میں کھڑی لیٹسٹ ماڈل کی گاڑی جس کیلئے باوردی ڈرائیور چوبیس گھنٹے مستعدی سے تیار رہے کہ کسی بھی وقت میڈم اُسے کہیں بھی جانے کا حُکم صادر فرماسکتی ہیں،اُس کی وارڈروب ایشیاء کے بہترین ڈیزائنرز کی مہنگی،دیدہ زیب اور خوبصورت ترین ساڑھیوں سے بھری ہوئی ہو،یاقوت،زرقون اور کندن کے اُس کے پاس لاتعداد سیٹ ہوں ،وہ ملک کی ایک نامی گرامی بزنس وومن ہو،جس کے لیکچرز اور آرٹیکلز The Economist میں شائع ہوں،جس کی بزنس اسٹرٹجیزپاکستان میں بڑے بڑے سرمایہ کاروں اور بزنس ٹائیکون کی نیندیں حرام کردیں،اُس کا نام ہی اُس کامکمل ’’بائیو ڈیٹا‘‘ بن جائے، ایک چھوٹا فوکر طیارہ اُس کے زیر استعمال ہو اور اور اور۔۔۔۔اور اس ’’اور‘‘ کی فہرست اتنی ہی لمبی تھی جتنی اب تک کی زندگی اُس نے سعیدہ اور خالد کے گھر میں گزاری تھی اور جن کے حصول میں ناکامی کی وجہ وہ رہنما اور سنہرے اصول تھے جو اُس کے باپ نے کان میں اذان دینے کے بعد سے ہی آئیتوں کی طرح پھونکنے شروع کردیئے تھے۔
خالد ایک بینک میں معمولی کیشئر تھے اور حد درجہ ایماندار اور فرض شناس کیشئر تھے اور ان دونوں خصوصیات کے ساتھ کوئی بھی انسان صرف ’’صبر‘‘ اور ’’حسرت‘‘ کی زندگی ہی گزارسکتاہے اگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہو تو،لہذاٰ اپنی دونوں بیٹیوں کے حوالے سے بڑے بڑے خواب دیکھنے والا ایک سفید پوش شخص خالد،جس کو خدا نے دو بیٹیوں کے بعد کسی اولاد سے نہیں نوازا تھا اور جس پر خالد نے اولاد نرینہ ہونے کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود صبر اورشکر ادا کیا تھا اور اپنی ساری توقعات بیٹیوں سے وابستہ کرتے ہوئے مقدور بھر بیٹیوں کی خواہش اورشوق پورے کئے اور پھر بہت کم عمری میں ہی اُن کے دماغوں میں ایک بات بٹھا دی تھی کہ انہیں بہت پڑھنا ہے،خوب ترقی کرنی ہے،ہر وہ چیز حاصل کرنی ہے جو اُن کا باپ انہیں چاہ کر بھی نہیں دے سکتا،تعلیم وہ کنجی ہے جس کے ذریعے وہ آسمان فتح کرسکتی ہیں،اپنی دونوں بیٹیوں کو اچھی تعلیم دینے کیلئے اپنے نامساعد حالات کی بھی خالد نے کبھی پرواء نہیں کی اور یہی حال سعیدہ بیگم کا بھی تھا،اُن دونوں میاں بیوی میں ایسی غضب کی ذہنی ہم آہنگی تھی کہ خالد کو اپنی بات سمجھانے کیلئے کبھی لفظوں کا سہارا نہیں لینا پڑا تھا،خالد خود بھی سعیدہ کی آنکھیں پڑھ لیا کرتا تھا،وہ بہت بہتر زندگی گزار سکتے تھے جو اگر وہ اپنی بیٹیوں کو شروع سے ہی مہنگے اور بڑے تعلیمی اداروں میں نہ پڑھارہے ہوتے جہاں ہر ماہ کی فیس آسمان سے تارے توڑ لانے کے مترادف تھی وہ بھی کسی سفید پوش خاندان کیلئے اور اپنی اسی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اور اپنے گھر اور اولادوں کے پیٹ کو رزق حلال سے بھرتے ہوئے دونوں میاں بیوی نے اپنی بیٹیوں کو اخلاقیات کا درس گھول کر پلا دیا تھا،حرا اور زارا دونوں ہی پر ماں باپ کی تربیت کا رنگ خوب چڑھا تھا،دونوں ہی با ادب،تمیز دار اور اتنی ہی صبر کرنے والی نکلی تھیں جس قدر خالد اور سعیدہ اپنی بیٹیوں کو دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ او لیول ز کا دوسرا سیمسٹر تھا جب حرا کے دماغ نے اپنے گھر،ماں باپ اور اُن کے طریقہ تربیت سے Disassociate ہونا شروع کردیا تھا،اُسے اپنے گھر کی روائت پسندی ’’قدامت پرستی‘‘ لگنے لگی تھی،وہ زندگی میں ’’اختلاف‘‘ سے پہلی بار روشناس ہوئی تھی۔
شہر کے بہترین کیمبریج سکول میں وہ دونوں بہنیں پڑھ رہی تھیں اور انہیں پوری طرح اندازہ تھا کہ خالد اُن کے تعلیمی اخراجات کو کس قدر مشکلات کے ساتھ،بندھے ہاتھوں سے ادا کررہا ہے،اپنے گھر کے معاشی حالات بھی اُن دونوں سے مخفی نہیں تھے چنانچہ دونوں بہنوں کی کوشش یہی رہتی تھی کہ وہ بہترین گریڈز کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کریں،زاراکُچھ دوسرے مزاج کی تھی اُس پر بیرونی دُنیا کا بہت زیادہ اثر نہیں ہوتا تھا لیکن حرا پر بیرونی دنُیا کی چکاچوند اثرانداز ہونے لگی تھی،کیمبریج اسکول میں شہر کے متمول گھرانوں کے بچے بچیاں تعلیم حاصل کررہے تھے اور ظاہر ہے اُن کے ایک ایک انداز سے اُن کی خاندانی امارت جھلکتی تھی،اُس دور میں حرا کے اندر اچھا خاصا احساس کمتری پنجے گاڑھ کر بیٹھ گیا تھاجس کی وجہ اگر ایک جانب اُن بچوں کا امتیازی سلوک بھی تھا تو خود اُس کا حد درجہ حساس ہونا بھی ،چنانچہ اکثر اسکول سے واپسی کے دوران وہ اپنے اور دوسرے بچوں کے حالات زندگی کا موازنہ کرتی رہتی تھی،وہ صرف موازنہ ہی کرتی تو بھی غنیمت تھا مگر وہ اُن سب کے جیسی زندگی گزارنے کی خواہش کرنے لگی تھی،یہ خواہش بھی ناجائز نہیں تھی،مسئلہ یہ بن رہا تھا کہ وہ سوال کرنے لگی تھی کہ اُس کے پاس ’’وہ سب‘‘ کیوں نہیں ہے۔؟
’’جو کُچھ اُن دوسرے بچوں کے پاس ہے اس میں اُن کا اپنا کونسا کمال ہے اور جو کُچھ ہمارے پاس نہیں اس میں ہماری کون سی غلطی ہے؟،اصل چیز ہے رزلٹ کارڈ اوررزلٹ کارڈ باپ کی لیٹسٹ گاڑی سے یا ہمارے پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے پر نہیں بدلے گا،ہماری محنت ہی ہمارے حالات بدلے گی،ویسے بھی باپ دادا کی کمائی ہوئی دولت کو یوں بے دردی سے اڑانا کونسی کامیابی ہے ؟،تمہیں بالکل بھی متاثر ہونے کی ضرورت نہیں،زندگی کا امتحان تو ابھی شروع ہوا ہے ابھی ہم پہلے Level پر ہیں،آخری Level پر پہنچیں گے تب فیصلہ ہوگا کہ اُن میں اور ہم میں سے کون زیادہ کامیاب رہا‘‘،زارا نے ایک بار اکُتا کر کہا تھا،وہ حد درجہ پریکٹیکل اور مضبوط اعصاب کی لڑکی تھی اُس سے دو برس چھوٹی ہونے کے باوجود جبکہ حرا کا اُس دور میں یہ حال تھا کہ وہ کسی نہ کسی بات پر اپنے حالات زندگی کے بارے میں بے حد قنوطیت سے سوچا کرتی تھی،بڑا گھر کیوں نہیں،گاڑی کیوں نہیں،ہم اتنے مہنگے کپڑے کیوں نہیں پہنتے وغیرہ وغیرہ،حرا کو اُن سب بچوں کی زندگی ایک Wonderland جیسی لگتی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ کسی روز وہ صبح آنکھیں کھولے اور ایسے ہی کسی Wonderland کی شہزادی بن جائے،او لیول ز میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اُس کے احساس کمتری میں خاطر خواہ کمی آئی تھی جس کی وجہ زارا کے وہ لیکچرز تھے جو گاہے بہ گاہے وہ حرا کے کان اور دماغ میں انڈیلتی رہتی تھی۔
’’تُم شکر ادا کیا کرو حرا کہ بہت سے لوگوں کے مقابلے میں بہت اچھی زندگی گزاررہے ہیں ہم،اپنا پیٹ کاٹ کر ہی سہی لیکن ہمارے ابا ہمیں تعلیم دلا تو رہے ہیں،اپنی حیثیت سے بڑھ کر ہمیں اچھی زندگی دینے کی کوشش تو کررہے ہیں،ٹھیک ہے ہمارے پاس وہ ضروری اور غیر ضروری سہولیات نہیں ہیں جو کئی لوگوں کو حاصل ہیں تو ہم کیا کریں؟،اس بات کا سوگ مناتے رہیں اور وقت ضائع کرتے رہیں؟،کیا اس طرح تُم وہ سب حاصل کرسکو گی جو آج تمہارے پاس نہیں ہے؟،خواب اُسی چیز کے دیکھے جاتے ہیں حرا جو میسر نہ ہو،جان توڑ محنت اُسی چیز کے حصول کیلئے کرنی پڑتی ہے جو ٹرے میں سجا کر نہ دی گئی ہو،ہمیں اپنے اور اپنے ماں باپ کیلئے بہت کُچھ کرنا ہے،تُم ابھی پہلی سیڑھی پر ہو لونگ وے ٹو گو‘‘،زارا نے اُس رات اُس سے کہا تھا اور بات اُس کی سمجھ میں آگئی تھی۔اُسے بھی لگتا تھا کہ بات اُس کی سمجھ آگئی ہے لیکن ابا کے ساتھ ہونے والے ایک واقعے نے سب کُچھ بدل دیا تھا،زندگی میں ’’شکایت‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’مزاحمت‘‘ بڑے عجیب انداز میں داخل ہوئی تھی۔
وہ اُن دنوں A-Level کا فائنل سیمسٹر دینے کے بعد رزلٹ کا بے صبری سے انتظار کررہی تھی جب خالد کو نوکری سے برطرف کردیا گیا،اگر یہ برطرفی یونہی ہوتی تو بات سمجھ میں بھی آتی لیکن خالد پر بہت سنگین قسم کے چارجز لگا کر انہیں بینک سے خاصا بے عزت کرکے نکالا گیا تھا،غلطی کس کی تھی،لاکھوں مالیت کا وہ چیک کیش کرتے ہوئے کس طرح خالد سے چُوک ہوگئی ؟،ان سوالوں کا جواب خالد سمیت کسی کے پاس نہیں تھا بس اتنا ہی ہوا تھا کہ وہ انکوائری کمیٹی کے کسی سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکاتھا اور یوں ساری عمر ایمانداری کی روکھی سوکھی کھانے والا اور پائی کا بھی ہیرپھیر نہ کرنے والا خالد چند ہی دنوں میں فٹ پاتھ پر آگیا تھا،اکیلی جان ہوتا تو اتنی ذلت اٹھا کر خودکشی تو کرہی لیتا جو اگر طبعی موت نہ مرتا لیکن ساتھ بیوی اور دو جوان بچیوں کی بھاری ذمے داری بھی تھی تو زندہ رہنا ہی تھا۔
سعیدہ بیگم اور زارا نے ہر طرح سے خالد کے ساتھ تعاون کیا تھا بس ایک حرا تھی جس کی ذہنی رو ایک بار پھر بھٹکی تھی،باپ کے کردار پر وہ شک کر ہی نہیں سکتی تھی،وہ پنج وقتہ نمازی،کبھی کبھار مسجد میں امام کے نہ ہونے پر امامت کرواتا تھا ،جس نے بیٹیوں کے ’’وجود‘‘ کو کسی قسم کے ناجائز کام کیلئے ’’جائز وجہ‘‘ نہیں گردانا تھا ،جو دو روپے کا قرضہ بھی تنخواہ ملتے ہی پہلی فرصت میں ادا کرتا تھا ،وہ اپنی روزی روٹی کی جگہ پر خیانت کیسے کرسکتا تھا۔سوال باپ پر نہیں اٹھا تھا،سوال اُس ’’اخلاقی ضابطہ حیات‘‘ پر اٹھا تھا جس کی ترغیب اُس کا باپ اُسے ساری عمر سال کے چار جوڑوں،ہفتے میں ایک بار گوشت اور چند چھوٹی بڑی فرمائشیں پوری کرتے ہوئے اُسے اور اُس کی بہن کو دیا کرتا تھا۔
’’ایمانداری،اصول پسندی،جائز ،حلال یہ لفظ انسان کو آخر دیتے ہی کیا ہیں؟،صرف صبر کرنا سکھاتے ہیں،انسان اپنے اُس دل کو مارتا رہے جہاں سے خواہشیں اور آرزوئیں جنم لیتی ہیں آخر ایسی جبر والی زندگی سے ملتا کیا ہے؟،ابا کہتے ہیں ایمانداری کے راستے پر فلاح ہے تو پھر ابا کا سچ،ابا کی ایمانداری،ابا کی نیک نامی اُن پر آنے والی مصیبت کے وقت اُن کی ڈھال کیوں نہیں بنی؟‘‘،اُس کے دماغ میں مسلسل یہی ایک سوال چکرانے لگا تھا جس کا جواب تو اُسے نہیں مل رہا تھا بس وہی گھن چکر بنی جارہی تھی۔اُس نے خالد سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ خالد سے اُس نے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا تھا اور نہ ہی زارا سے اپنی الجھن شیئر کی تھی،وہ جانتی تھی کہ خالد کے پاس کتابی باتیں،قرآنی آیات کے ریفرنسز اور احادیث کے حوالوں کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوگی اور وہ یہ سب باپ کی زبان سے اتنی بار سُن چُکی تھی کہ اُسے وہ درس،قرآنی آیات اور احادیث زبانی یاد ہوچکی تھیں ،رہ گئی زارا تو وہ ہمیشہ کی طرح کسی ماہر نفسیات بن کر اُس کی الجھنوں کا تیاپانچہ کرکے رکھ دیتی اور زندگی کے اُس مقام پر حرا اپنی ’’مرضی‘‘ کا جواب چاہتی تھی،مرضی یعنی ’’بغاوت‘‘۔
گھر کے باقی تینوں نفوس کے وہم وگُمان میں بھی نہیں تھا کہ بالکل خاموش ہوجانی والی حرا کے دماغ میں سوچوں کی کیسی آندھیاں چل رہی ہیں اور ہر جھکڑ اُس کے وجود کو اُن سب سے ذہنی طورپر کتنا دور لے کر جارہا ہے،ظاہر ہے عمر کے اس حصے میں خالد کو کوئی بہتر نوکری نہیں مل سکتی تھی چنانچہ خالد نے سعیدہ کے مشورے پر اُن روپوں سے اپنے ہی علاقے میں ایک چھوٹا جنرل اسٹور کھولنے کا فیصلہ کیا تھا جو اُس نے اپنی بیٹیوں کی شادیوں کیلئے جوڑ کر رکھا تھا،بے عزتی کے طویل سلسلے کو بے حد خاموشی سے جھیلنے کے بعد خالد کا وہ جنرل اسٹور اللہ کی رحمت سے چلنے لگا تھا ،خالد کا خیال تھا کہ حالات جلد ہی بہتر ہوجائیں گے تو وہ دوبارہ روپیہ جوڑنا شروع کردے گا ،لیکن حرا کو وہ ’’رحمت‘‘ نہیں بس وہ ’’ذلت‘‘ ہی دکھائی دے رہی تھی جو خالد کو اٹھانا پڑی تھی،اسی دوران حرا کا رزلٹ آؤٹ ہوگیا تھا اور حسب روایت اُس نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی،اس تمام عرصے میں یہ پہلی خوشی تھی جو خالد کو ملی تھی،اُس شام وہ ڈھیروں مٹھائی لئے گھر میں داخل ہوا تھا،کھل کر بیوی بچیوں کے ساتھ ہنسا تھا،خوب باتیں کی تھیں ،مستقبل کے اندیشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پھر سے بہت سارے خواب بُنے تھے لیکن اُس رات حرا نے خالد کی خوشی پر پانی پھیر دیا تھا۔
’’میں ابھی BBA میں ایڈمیشن نہیں لوں گی،میں پہلے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں پھر ہی کُچھ کروں گی‘‘،حرا نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا،خالد سمیت سعیدہ اور زارا بھی ہکا بکا رہ گئی تھیں۔
’’کیا مطلب؟‘‘،خالد کی سمجھ میں ہی نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔
’’مطلب یہ ابا کہ میں پہلے جاب کروں گی پھر آگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لوں گی‘‘۔
’’لیکن کیوں؟،ضرورت کیا ہے بیٹا؟‘‘۔
’’ضرورت کیسے نہیں ہے ابا؟،میں اپنے تعلیمی اخراجات اب خود اٹھانا چاہتی ہوں،اپنی ذمے داری خود پُوری کرنا چاہتی ہوں ‘‘،خالد نے کُچھ کہنے کی کوشش کی تو اُس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکتے ہوئے بات جاری رکھی تھی’’ایسا نہیں ہے کہ میں آپ کے کندھوں پر سے اپنا بوجھ کم کرنا چاہتی ہوں،بات یہ بھی نہیں ہے کہ میں یہ سب خودداری کی وجہ سے کررہی ہوں،بات صرف اتنی سی ہے کہ ابا تعلیم مکمل کرنے کے بعد تو مجھے کہیں نہ کہیں جاب کرکے اپنا کیرئر شروع کرنا ہی ہے،تو پھر وہ ابھی سے کیوں نہیں؟،چند سالوں کے بعد جب میرے پاس MBA کی ڈگری ہوگی تو ساتھ ہی اتنے ہی سالوں کا ورکنگ ایکسپیرئنس بھی….میں کسی نہ کسی مضبوط پوزیشن سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کروں گی تب کہیں جا کر وہ سب حاصل کرپاؤں گی جو آپ رینگتے ہوئے کبھی نہیں کرسکے‘‘،اُس کے مضبوط اور مدلل لب و لہجے نے کسی کو بھی کُچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔سعیدہ بیگم حیرت ذدہ تھی تو خالد صم بکم کی کیفیت کا شکار ہوچلا تھا،کسی بھی تعصب سے بالاتر ہوکر دیکھا جاتا تو حرا کی بات میں وزن تھا اور وہ ہرگز بے تُکی بات نہیں تھی لیکن جس انداز میں حرا نے وہ بات سب کے سامنے رکھی تھی وہ کسی طور بھی مناسب انداز نہیں تھا،رہ گئی زارا تو اُس نے سو نے سے قبل اُس سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ وہ نوکری کہاں کرے گی؟،تب حرا نے اُسے خوشی خوشی اُس فرم کے بارے میں بتایا تھا جہاں ریسپشنسٹ اور ڈیٹا اینٹری کی بہترین پیکج والی جاب دستیاب تھی۔
’’ہم م م !یعنی کہ تُٔم 9 ٹو 6 کی اتنی معمولی سی جاب کرکے اپنی کمر کے مہروں کا ستیاناس کروگی اور اس محنت کے بدلے تمہیں اٹھارہ ہزار ملیں گے،ویسے یہ اٹھارہ ہزار اس جاب کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں اور عقل میں نہیں بیٹھتی یہ بات کہ یہ رقم ’’محنت‘‘ کے علاوہ اور کس چیز کے لئے ملے گی لیکن ہر ماہ ملنے والے ان اٹھارہ ہزار سے تُم اپنے خوابوں کا وہ تاج محل آرام سے کیسے تعمیر کرلو گی جس کیلئے تُم ابا سے بغاوت کررہی ہو…. اور اُس تعلیم کا کیا ہوگا جس کیلئے تُم اتنی جان ماروگی؟‘‘،زارا نے انتہائی اطمینان سے اُس کے پلان کے بحری جہاز میں سوئی چبھوئی تھی۔
’’اس بارے میں ،میں ابھی کُچھ نہیں کہوں گی،وقت آنے پر تمہیں بھی جواب مل جائے گا‘‘،حرا نے اُس کی بات سے زیادہ اُس کے انداز اور لہجے کا بُرامناتے ہوئے کہا تھا ،اُس کا ارادہ تھا کہ وہ اس جاب سے اتنی رقم آرام سے اکھٹی کرلے گی کہ پھر اگلے چار سال اپنا BBA مکمل کرنے میں اُسے ابا سے کسی قسم کی مالی معاونت کی ضرورت نہیں پڑے گی ،جاب سے پہلے اُس نے بہت سے خوشنما خواب دیکھے تھے کہ وہ بہت دیانت،محنت اور جانفشانی سے کام کرے گی،اپنے کام سے کام رکھے گی،بلا ضرورت کسی سے بے تکلف نہیں ہوگی اور خاموشی اور ذہانت کے بل پر جلد ہی ترقی حاصل کرلے گی اور پھر ایک سال کا عرصہ ہوگیا تھا اُسے وہ جاب کرتے ہوئے جہاں جاب کے تیسرے ہی ہفتے اُس کی خوش گمانیوں کے غبارے سے ہوا نکلنی شروع ہوگئی تھی،کتابوں میں جن مروجہ اصولوں پر کسی بھی انسان کے ہنر ،لیاقت اور ذہانت کو پرکھا جاتا ہے وہ ’’کتابوں‘‘ تک ہی محدود ہیں،پریکٹیکل لائف کے ’’تقاضے‘‘ کُچھ اور ہیں اور جنہیں دیکھ کر، جان کر وہ تھرا کر رہ گئی تھی کیونکہ اعتراضات کُچھ ایسے ہی تھے،یعنی کہ وہ ایک اچھی فرم کے ماحول کیلئے بالکل مس فٹ ہے،کیونکہ وہ بڑی سی چادر میں اپنے پورے وجود کو چھپائے،وہ کسی غیر مرد سے بے تکلفی سے بات کرنا تو درکنار مُسکرا کر حال چال پوچھنے کی بھی روادار نہیں ہے،وہ حد سے زیادہ ال مینرڈ اور Anti-social ہے،وہ نماز بریک میں ضرورت سے زیادہ وقت لیتی ہے جس سے کام کا حرج ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے ورکرز کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ کتنی پرہیز گار اور وہ سارے کتنے گناہ گار ہیں،وہ ہر وقت Touch me notکا اشتہار بنی رہتی ہے،اُس میں ضرورت سے زیادہ خود پر ناز ہے اور یہ بھی کہ وہ بہت Arrogant ہے اوراس Charge sheet میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوا تھا کمی نہیں آئی تھی اور اس ایک سال کے عرصے میں وہ ان سارے اعتراضات کو دور کرنے میں ہلکان ہوتی رہی تھی،ساتھی کولیگز اُس کے کسی بھی اندازاور لباس سے لے کر اُس کے مزاج تک ہر چیز کے بارے میںGossips شروع کرتے تو کرتے ہی چلے جاتے،ظاہر ہے اُس کے بارے میں یہ سُن گُن فرم کے مالک تک بھی پہنچ رہی تھی اور اکثر و بیشتر باس سے سامنا ہونے پر وہ اُسے کسی کام پر شاباشی دینے کے بجائے اُسے ’’بنیادی مینرز‘‘ سیکھنے کا مشورہ دے دیتے یا قصداً اُسے احساس دلاتے کہ اُسے Grooming کی شدید ضرورت ہے،اُسے ابھی تک اس فرم سے اس لئے نہیں نکالا گیا تھا کیونکہ وہ بے حد خوبصورت تھی اور پاکستان میں ’’خوبصورتی‘‘ بعض اداروں اور فرم ز کیلئے کسی بھی عورت کی واحد ’’کوالٹی‘‘ تسلیم کی جاتی ہے اور مسئلہ یہ تھا کہ حرا کو اپنی ’’خوبصورتی‘‘ کو صحیح طرح ’’استعمال‘‘ کرنا نہیں آتا تھا۔
یہ اعتراضات کس حد تک دُرست تھے اور کس حد تک اُس حسد اور جلن کی دین تھے جو حرا کی خوبصورتی اور لئے دیئے انداز کی وجہ سے اکثر لڑکیوں اوراُن لڑکوں کی ڈھٹائی کی بنیاد تھے جن کو وہ اپنی ’’رسائی‘‘ سے دور کی چیز لگتی تھی،یہ سوچنے کی زحمت کئے بغیرحرا نے اپنی ذات کی خوبیوں اور خامیوں کو اپنی نظراور عقل سے جانچنے اور پرکھنے کے بجائے ’’دُنیا‘‘ کیلئے خود کو ’’قابل قبول‘‘ بنانے کی کوششیں شروع کردی تھیں، اُس نے لنچ اور ٹی بریک میں نماز پڑھنی شروع کردی تھی،اُس کی خضوع و خشوع سے مانگی جانے والی دعاؤں کے دورانئے میں بھی کمی آگئی تھی،وہ کسی کولیگ کے سامنے نماز پڑھنے کیلئے اٹھنا ترک کرچُکی تھی چاہے نماز قضاء ہی کیوں نہ ہوجائے،اُس نے چادر چھوڑ کر اسکارف لینا شروع کردیا تھا ہاں دوپٹے وہ لمبے لمبے لینے لگی تھی،میک اپ کے نام پر بھی اُس کے چہرے پر لپ اسٹک کا اضافہ ہوگیا تھا،ہلکی پھلکی جیولری بھی وہ پہننا شروع ہوگئی تھی،کوئی مرد کولیگ اب اُس سے مصافحے کیلئے ہاتھ آگے بڑھاتا تو وہ اپنی جھجک اور ناگواری کو چھپاتے ہوئے اُس سے مصافحہ کرنے لگی تھی،ساتھ کام کرنے والی لڑکیاں جب ’’Girls Talk‘‘ کررہی ہوتیں تو اب اُس کا چہرہ اُن کی اخلاق سے گری ہوئی بیہودہ باتوں پرشرم اور غصے سے سُرخ نہیں ہوتا تھا،اس کے باوجود گیتی تھی کہ اُسے اُس کے لباس پر اعتراض ہونے لگا تھا،وہ اُسے ’’Short cuts‘‘ اختیار کرنے پر اُکسا رہی تھی اور مسئلہ خالد کی وہ آئتیں تھیں جو وہ اپنی بیٹی کے وجود پر پڑھ پڑھ کر پھونکتا رہا تھا،مسئلہ وہ سادہ پاکیزہ رزق تھا جو خالد اپنی بیٹی کو کھلاتا رہا تھا،وہ کیسے ’’Short cuts‘‘ چُن سکتی تھی۔
’’Independent woman‘‘ کی تعریف اُس پر کُچھ اور ہی انداز میں آشکار ہورہی تھی اور اُس کی چمک دمک حرا کی آنکھیں خیرہ بھی کرنے لگی تھی لیکن مسئلہ وہی خالد کی تربیت،وہ سارے اخلاقی قواعد و ضوابط..مسئلہ صراط مستقیم اور اسفل السافلین کا فرق بن رہا تھا۔
پیروں کی بیڑیاں….
گلے کے طوق….
اُس شام جیسی گہری الجھی شام حرا کی زندگی میں پہلے نہ آئی تھی۔
اُس شام اُسے فیصلہ کرنا تھا کہ اُسے زندگی میں کُچھ بننا ہے یا نہیں…؟
اُس شام اُس کے سامنے زندگی نے دو Choices رکھ دی تھیں…
کُچھ بننے کیلئے Compromises کرنے پڑتے ہیں…کیا وہ سارے سمجھوتے کرنے کیلئے تیار ہے…؟
اگر ہاں تو پھر ’’اخلاقیات ‘‘ کا چولا پھینکنا تھا اور بس….
اگر نہیں تو پھر اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے وہ سارے خواب خود نوچ لینے تھے جو اُسے پل بھر آرام سے بیٹھنے نہ دیتے تھے۔
’’صرف چند سالوں کی ہی تو بات ہے،اگر میں تھوڑی مزید اپنے اندر تبدیلیاں لے آؤں تو کسی کا کیا جائے گا میری اپنی زندگی بن جائے گی،ابا نے تو 70کی دہائی کے درس مجھے رٹا دئیے ہیں انہیں کیا پتہ کہ ہر زمانے ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جن کو پورا کئے بغیر انسان زندگی میں کُچھ نہیں کرسکتا‘‘۔
اور حرا خالد نے اُس شام فیصلہ کرلیا تھا۔
***************
اُس کا خیال تھا کہ یہ ساری تگ و دو صرف اُس وقت تک کی ہے جب تک وہ IBA میں ایڈمیشن لینے میں کامیاب نہیں ہوجاتی لیکن یہ اُس کی خام خیالی ہی ثابت ہوئی تھی،اس سارے عرصے میں اُس کے اندر جو تبدیلیاں آئی تھیں اُن تبدیلیوں نے بے شک پیشہ ورانہ طور پر اُسے کسی قدر کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد دی تھی لیکن گھر کے اندر ان تبدیلیوں نے ایک دیوار کھینچ دی تھی،دیوار اینٹ پتھر گارے سے تعمیر کی گئی ہوتی تو دکھائی بھی دیتی اور پھر شائد اُسے ڈھانے کی کوشش دونوں طرف سے ہی کبھی ہوبھی جاتی لیکن یہ دیوار زمین پر نہیں احساس کے بیچوں بیچ قائم ہوئی تھی،اس میں کسی اینٹ پتھر گارے کا کوئی وجود نہیں تھا۔
’’یہ تُم نے اپنی بھنوؤں اور بالوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟‘‘،اُس رات جب عشاء کی نماز پڑھ کر اُس نے دوپٹہ اتارا ہی تھا تو زارا نے پوچھ لیا تھا ،اُس کے لب ولہجے میں حیرت اور آنکھوں میں خفگی تھی۔
اپنے بیڈ کی چادر درست کرتے ہوئے ایک لمحے کیلئے اُس کا ہاتھ لرزا تھا،اُس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ ظاہری طور پر یہ معمولی سی تبدیلی بھی اُس کے گھر والوں کے نوٹس میں ہرگز نہیں آئے گی۔
’’کُچھ نہیں ہوا ہے….بس وہ آفس میں لڑکیاں ایک دوسرے کا اسٹائل چینج کررہی تھیں تو میں نے بھی کروالیا‘‘،اُس نے گھڑاگھڑایا بہانہ دوہرا دیا تھا،چھوٹے موٹے جھوٹوں کیلئے بھی ان دنوں وہ گیتی اور شمائلہ ہی سے ٹریننگ کلاس ز بغیر کسی فی کے لے رہی تھی۔
’’ادھر دیکھو‘‘،زارا کے اندر کی انٹیلی جنس آفیسر پوری طرح بیدار ہوچکی تھی۔
اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کی جانب رُخ کیا تھا۔
’’یہ کسی کولیگ نے نہیں کیا….اتنی صفائی سے تھریڈنگ اور پلکنگ کوئی پروفیشنل بیوٹیشن ہی کرسکتی ہے اور بالوں کی ایسی کٹنگ بھی تمہاری کسی کولیگ کے بس کی بات نہیں ہے‘‘،زارا نے اُس کے وجود کا پورا ایکسرے لیا تھا۔
’’تو وہ کولیگ بیوٹیشن کا کورس کرچُکی ہے،پروفیشنل بیوٹیشن بن سکتی ہے ‘‘،اُس نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا تھا،لہجے میں روانی اور انداز میں اعتماد خود بخود ہی آگیا تھا۔
’’اور پتہ ہے اگر وہ اپنا سیلون کھول لے نا تو لاکھوں کمائے….تُم نے دیکھا کس قدر خوبصورت اسٹائل دیا ہے اُس نے میرے بالوں کو‘‘،وہ نہایت اطمینان سے بول رہی تھی۔
’’ٹھیک ہے یہ سب ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا تُم نے امی سے اس بارے میں اجازت لی تھی‘‘،زارا نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
’’میں نے ایسا کونسا خفیہ کام یا گناہ کرلیا ہے جس کیلئے مجھے باقاعدہ NOC لینے کی ضرورت پڑے گی اور مجھے تُم یہ بتاؤ کہ تمہیں اس طرح مجھ سے تفتیش کرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی ہے،میری جاب کی ریکوائرمنٹ ہے یہ کہ میں اسٹائلش لگوں تو میں بن گئی‘‘۔
’’تمہاری جاب کی ریکوائرمنٹ ریسپیشن دیکھنا اور Data درست طریقے سے Enter کرنا ہے بہتر ہے کہ تُم اُسی پر توجہ دو‘‘،زارا کے انداز میں برہمی در آئی تھی،اُس وقت تو حرا خاموش رہی اور اُس کا خیال تھا کہ بات یہاں اسی طرح ختم ہوگئی ہے تو اُس کا یہ خیال بھی غلط ثابت ہوا تھا،وہ بات ’’ابتداء‘‘ تھی۔
اگلی صبح ہی سعیدہ نے اُس سے کسی قسم کی باز پُرس کرنے کے بجائے اُسے یہ فیصلہ سنادیا تھا کہ جلد ہی IBA میں ایڈمیشن ز شروع ہورہے ہیں اس لئے اُسے جاب چھوڑ کر Aptitude test اور انٹرویو کی تیاری کرنی چاہئے،یہ جیسے حرا کی ناک میں نکیل ڈالنے کے مترادف تھا،اُس نے جواباً بحث کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سعیدہ نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اس بارے میں کوئی بھی بات اب صرف خالد سے ہی ہوگی اور وہ اس سلسلے میں کُچھ نہیں کریں گی۔
حرا کیلئے زارا اور سعیدہ کو ہینڈل کرنا آسان تو خیر نہیں تھا لیکن وہ اتنی مشکل Task بھی نہیں تھیں مگر خالد…..اُن سے بات کرنے،قائل کرنے یا بحث کرنے کا مطلب وہ اچھی طرح جانتی تھی،اُس نے اپنے طور پر جس اعتماد سے بات کرکے نوکری کے بارے میں اپنا فیصلہ خالد کو سنایا تھا اُس وقت حرا کے وہم وگُمان میں بھی نہیں تھا کہ خالد نے اُس کے اس اعتماد کو ’’بغاوت‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’نافرمانی‘‘ کے زمرے میں بھی لیا تھا،وہ اگر اُن سے اجازت لیتی،محبت اور نرمی سے انہیں قائل کرتی تو انہیں دھچکہ نہ لگتا لیکن اُس نے تو باپ کو دوٹوک الفاظ میں اپنا فیصلہ سنایا تھا وہ اُس کے انداز پر خفا نہ ہوتے تو کیا کرتے،یہی وجہ تھی کہ پہلے کی طرح خالد نے اُس سے لمبی ادھر ادھر کی لایعنی بات چیت بند کردی تھی،اب صرف ضرورت کے چند جُملے ہی تھے جو وہ ایک دوسرے سے کہہ لیا کرتے تھے،بغیر نظریں ملائے،کسی جذبے اور حلاوت کے بغیر اور اب سعیدہ نے کہہ دیا تھا کہ اُسے خالد سے بات کرنی ہے تو اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اُن سے کیا کہے۔
’’اُسے یہ نئی ملنے والی آزادی بہت اچھی لگ رہی ہے،Independent woman بننے کا جو خواب وہ کھُلی آنکھوں سے نہ جانے کب سے دیکھ رہی ہے،ابھی تو اُس خواب کی تعبیر پانے کیلئے اُس نے پہلی سیڑھی پر قدم جما کر رکھا ہی ہے اور…..‘‘اور ظاہر ہے وہ خالد سے یہ سب کہہ نہیں سکتی تھی اور اُسے بالکل اندازہ تھا کہ خالد سے ہونے والی بات چیت کارُخ اس طرف ضرور جائے گا اور ایسا ہی ہوا تھا۔
’’میں یہ چاہتا ہوں کہ اب تُم مزید وقت ضائع نہ کرو اور ایڈمیشن لے کر آگے بڑھو‘‘،اُس کے کُچھ کہنے سے قبل ہی خالد نے بے حد سنجیدگی سے کہا تھا۔
’’لیکن ابا!میں جاب کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی مکمل کرسکتی ہوں،میرے آفس کے کئی لوگ ایسا کررہے ہیں‘‘،حرا نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
’’ہوسکتا ہے اُن کیلئے Manage کرنا آسان ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تُم جاب کے ساتھ مشکل پڑھائی نہیں کرسکو گی‘‘۔
’’آپ مجھے موقع دئیے بغیر جج نہیں کرسکتے ابا‘‘۔
’’جج نہیں کررہا ہوں،صرف سمجھا رہا ہوں ‘‘۔
’’آپ مجھے مت سمجھائیں‘‘،وہ زچ ہوئی تھی ’’ابا یہ آپ کا دور نہیں ہے جب ایک کمانے والا ہوتا تھا اور باقی لوگ اپنی زندگیاں ،اپنی آرزوئیں اُس ایک کمانے والے کے ذمے کردیاکرتے تھے،اب دور بدل گیا ہے،اپنی ذمے داری خود ہی اٹھانی چاہئے،مجھ میں ایسی کوئی کمی نہیں ہے کہ میں پڑھائی اور جاب ایک ساتھ Manage نہ کرسکوں‘‘۔
’’اچھا!تو پھر کیسے پڑھو گی،6بجے تک تُم آفس میں ہوتی ہو ،کیا ایوننگ کلاسز لوگی؟اور پھر واپس گھرکب پہنچو گی؟‘‘۔
’’بالکل ابا!ہماری فرم ان Employees کو نہ صرف جلدی آف دیتی ہے جو آگے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ انہیں Education allowanceبھی ملتا ہے ‘‘،اُس نے روانی سے جھوٹ بولتے ہوئے اعتماد سے بات جاری رکھی تھی ’’اور ابا میں سب سوچ چُکی ہوں کہ مجھے زندگی میں کیسے آگے بڑھنا ہے،آپ پلیز اپنی جنریشن کے Code of ethics اور باتیں مجھے سمجھانا بند کردیں ،میں ایک Parasite نہیں بننا چاہتی ،مجھے ایک کامیاب اور طاقتور Independent woman بننا ہے‘‘۔
خالد چونکا تھا۔
’’یہ Independent womanکیا ہوتی ہے؟‘‘۔
’’جو اپنی زندگی کے سارے فیصلے خود کرے،اگر گرے بھی تو اس کا ذمے دار کسی کو نہ ٹھہرائے بلکہ بغیر کسی سہارے کے خود دوبارہ سے کھڑی ہونے کی کوشش کرے،ریس میں جیتنے کیلئے بھاگے اور پھر فاتح بھی قرار پائے‘‘،اُس نے جوش کے عالم میں کہا تھا۔
خالد بالکل اُس طرح ہنساپڑا تھا جب دس ماہ کی عمر میں حرا نے تُتلا کرپہلی بار خالد کا نام لیا تھا،بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ عقل کُل کے مالک بن بیٹھے مگر نادانی کی انتہا ہے یہ کہ وہ اپنے ماں باپ کو ہی خود سے کم عقل سمجھنے لگتے ہیں،حرا بھی ایسا ہی کررہی تھی۔
’’بیٹا!سہارے کے بغیر تو دُنیا کا کوئی انسان،کوئی درخت،کوئی جانور نہیں رہ سکتا،سورج چاند ستارے بھی آسمان کے سہارے کے محتاج ہیں،پھر یہ کیسی Independent woman ہے جسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں اور بیٹا زندگی میں جب سنبھل کر چلنے کا Option موجود ہے تو پھر انسان گرے ہی کیوں؟،بناء گرے انسان اگر پھونک پھونک کر مضبوطی سے قدم آگے اپنی منزل کی جانب بڑھا سکتا ہو تو پھر گرنے اور گر کر اٹھ کھڑے ہونے کی مشقت کیوں جھیلے اور بیٹا یہ کہیں کوئی نہیں لکھتا کہ گرنے کے بعد بعض دفعہ مہلت نہیں ملتی،جس ریس کا تُم حوالہ دے رہی ہو اُس میں کوئی اکیلا نہیں دوڑتا،کئی اور بھی ساتھ دوڑرہے ہوتے ہیں اور جب آپ گرتے ہیں تو وہ آپ کا لحاظ کئے بغیر آپ کو روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں‘‘،خالد کے پاس ’’بھٹی‘‘ کا ’’تجربہ‘‘ تھا ،وہ بھٹی جسے دنیا کہتے ہیں اور وہ ’’دُنیا‘‘ جس کی چکاچوند حرا کی آنکھیں چندھیا رہی تھی،مگر وہ باپ تھے بیٹی کو اس طرح آنکھیں میچ کر دھند میں اترتا نہیں دیکھ سکتے تھے،حرا کی بغاوت محسوس بھی کرگئے تھے اور برداشت بھی لیکن باپ تھے،بغاوت کی سزا اولاد کو بھگتتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔
’’ابا!مجھے اتنی مشکل باتیں نہ تو کبھی پہلے سمجھ آئیں نہ ہی کبھی آئیں گی،آپ نہ جانے کونسی دُنیا میں رہتے ہیں اور نہ جانے بدلتی ہوئی دُنیا کے Trends آپ کو کیوں سمجھ نہیں آرہے ،یہ چیلنجز کا دور ہے ابا اور اس میں Survive کرنے کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے،’’چادر اور چاردیواری‘‘ کا سبق بوسیدہ ہوچکا ہے‘‘،خالد نے حرا کی آدھی آستینوں والی قمیض سے جھانکتے ہوئے دودھیا بازؤں سے نظریں چُرائی تھیں،عجیب زمانہ آن لگا تھا کہ باپ کو اپنی پیدا کی ہوئی بیٹی کے جسم سے نظریں چُرانی پڑرہی تھیں۔
’’تُم یہ سب کیوں کررہی ہو؟،رحم کھاؤ مجھ پر‘‘،وہ اگر خود پر قابو نہ رکھتے تو بلک ہی پڑتے۔
’’ابا کیا ،کیا کرکیا رہی ہوں میں آخر ایسا؟،دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے میں آخر کیا مسئلہ ہے آپ کو؟،آپ اپنی اخلاقیات کو سینے سے لگا کر کتنے برسوں سے دُنیا کے بازار میں اپنے دام کھرے کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟،کیا ملا؟،بے عزتی اور تحقیر….معاف کیجئے گا ابا ….اگر اسی ذلت کے ساتھ آپ بینک سے دھتکار کر نکالے جاتے لیکن آپ کے ہاتھوں میں کروڑوں کے بنڈل زہوتے نا تو میں ایسی ذلت کو سر آنکھوں پر رکھتی…آپ کی اخلاقیات اور صحیح غلط،جائز ناجائز کے پیمانے کو سب سے اونچے پیڈسٹل پر رکھ کر اُس کے گرد گھی کے چراغ جلا تی….لیکن ابا جب آپ یہ تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں کہ آج کی جنریشن کو آگے بڑھنے کیلئے صدیوں پُرانے سڑے ہوئے اصولوں کو دل و دماغ سے جھٹکنا ہی پڑے گا، بہتر یہی ہے کہ آپ خاموشی سے اس جنریشن کو وہ سب حاصل کرتے ہوئے دیکھیں جو آپ لوگ کبھی حاصل نہ کرسکے‘‘،اُس نے دوٹوک انداز میں بات ختم کردی تھی اور پھر وہاں سے اٹھ گئی تھی،خالد نے اُس کے ٹخنوں تک برہنہ گورے خوبصورت پیروں اور پنجوں کے نیل پالش سے رنگے ہوئے ناخنوں کو دیکھا تھا،اُن کی نظر اُس کے فٹنگ کے چُست کُرتے کی چاکوں پر بھی گئی تھی اور پھر انہوں نے نظریں پھیر لی تھیں۔
اُس لمحے انہوں نے قبول کرلیا تھا کہ اُن کی منڈیر پر آکر بیٹھنے والی حرا نامی چڑیا اب چیل بننے کی طرف سفر شروع کرچُکی ہے۔
اور وہ ’’چیل‘‘ سے ’’گِدھ‘‘ کب بنے گی….؟یہ وہ سوال تھا جو اُس شام خالدنے خود سے کیا تھا۔
اور خالد چونکہ گِدھ نہیں تھے ’’باپ‘‘ تھے،عزت اسی میں تھی کہ بہت خاموشی سے وہ اپنا آخری فرض ادا کردیتے اس سے پہلے کہ وہ حرا کے ہاتھوں کوئی بُرا دن دیکھتے،اُس رات سعیدہ بیگم سے انہوں نے اُس کیلئے کوئی مناسب رشتہ تلاش کرنے کا کہہ دیا تھا،سعیدہ بیگم نے بہتے ہوئے آنسوؤں سے شوہر کاچہرہ دیکھا تھا جس پر اچانک جھریوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔
دیوار کی پہلی اینٹ حرا نے اپنی ہٹ دھرمی سے رکھی تھی تو دوسری اینٹ خالد کی چُپ نے۔
اور پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ اینٹ پر اینٹ دھرتی گئی جو بلاآخر سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔
وہ کسی سے بھی کہہ نہیں سکتی تھی کہ ’’Independent woman‘‘ کا جو خاکہ اُسے جواد ظہیر نے دکھایا تھا وہ کتنا Radiant تھا۔
*********
جواد ظہیر اُس کی فرم کے مالک کا بیٹا تھا،ساری زندگی امریکہ میں گزار کر چند دنوں کیلئے پاکستان آیا ہوا تھا،اپنے باپ کی فرم میں وہ اُس روز کسی کام سے آیا تھا تب اُس نے حرا کو دیکھا تھا اور اسکارف میں چھپے اُس کے میک اپ سے پاک چہرے کو دیکھ کر وہ پلکیں جھپکنا بھول گیا تھا،کیا امریکہ اور کیا پاکستان، اُس نے ہر جگہ ’’کھلی‘‘ دعوت دیتا حُسن ہی دیکھا تھا،اب جو بند کلی اُس کی نظروں کے سامنے آئی تھی تو وہ مبہوت ہوئے بغیر نہ رہ سکا،خوبصورتی کی ایسی Raw form اُس نے کہیں نہیں دیکھی تھی ،اُس سے بات کرنے ،اُسے چُھونے کی بڑی بے بس کردینے والی خواہش اُس کے دل میں پیدا ہوئی تھی اور اُسے چونکہ بالکل یقین تھا کہ اُس کے چارم سے کوئی بھی لڑکی موم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی لہذا اُس نے حرا کی جانب پیش قدمی کرنے میں لحظہ کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔
’’کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟‘‘۔
اُس کی آواز اور انداز پر حرا یکدم چونکی تھی اور نظریں اٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا اور پھر دیکھتی ہی رہ گئی تھی،جواد ظہیر مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا،بے شک حرا نے بہت محدود زندگی گزاری تھی لیکن سکول میں ’’جنس مخالف‘‘ کی کشش کے ہاتھوں ’’بے حال‘‘ ہوتے لڑکے لڑکیوں کو وہ دیکھ چُکی تھی خود اُس آفس میں بھی مخلوط ماحول کے باعث اکثر مرد وعورت کے درمیان ’’تعلق‘‘ کی نوعیت بدلتی رہتی تھی ،ایسا نہیں تھا کہ کبھی اُس کی جانب کسی لڑکے نے پیش قدمی نہیں کی تھی یا اُس سے ’’دوستی‘‘ کی خواہش نہیں کی تھی،اُس کے ساتھ دو ایک بار ایساضرور ہواتھا لیکن یہ اُس وقت کی بات تھی جب وہ اپنے باپ کے پڑھائے اصولوں میں نا پسندیدگی کے باوجود جکڑی ہوئی تھی،اب بھی اُس میں اتنی ہمت بہر حال پیدا نہیں ہوئی تھی کہ کسی بھی لڑکے ساتھ خواہش ہونے کے باوجود بے تکلف ہوجاتی،حالانکہ بہت حد تک اُس نے اپنا ذہن بدل لیا تھا لیکن پھر بھی بعض حوالوں سے وہ ابھی بھی اتنی ہی قدامت پسند تھی کہ جس انداز میں اُس کی پرورش ہوئی تھی۔
کسی روبوٹ کی طرح حرا نے جواد کو اپنا نام بتایا تھا اور اس سے قبل کے وہ اپنی بے اختیاری کے ہاتھوں کوئی شرمندگی اٹھاتی اُس نے اپنی نظریں اُس کے چہرے سے ہٹا لی تھیں،اُس کی اس ادا سے جواد اُس کا ’’کردار‘‘ پڑھ چُکا تھا اور فیصلہ کرچُکا تھا کہ جتنے دن تک وہ پاکستان میں رہنے والا تھا اُسے حرا کی صورت ایک بہترین اور ’’مختلف‘‘ کمپنی ملنے والی تھی،حرا کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ آنے والے دنوں میں اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
اُس روز کے بعد سے جواد روز آفس آتا اور ریسپیشن پر آکر اُس سے ادھر ادھر کی بے معنی سی بات چیت ضرور کرتا،یہ گیتی کی پڑھائی پٹیوں کا اثر تھا کہ وہ چہرے پر کسی قسم کی ناگواری کا تاثر لائے بغیر سپاٹ لہجے میں اُس کی باتوں کا مختصر جواب دیتی رہتی،یہ بے ضرر سی بات چیت بہت جلد حرا کی ’’عادت‘‘ بن گئی تھی اُسے بے خیالی میں سوا گیارہ بجنے کا انتظاررہنے لگا تھا کیونکہ وہ ٹھیک اسی وقت آفس میں داخل ہوا کرتا تھا اور بے خیالی کے اس دورانئے میں بہت جلد اضافہ ہوگیا تھا،وہ جواد کے آفس سے چلے جانے کے بعد نہ صرف آفس میں بلکہ آفس سے واپس گھر آنے تک وین میں اور پھر گھر آکر روز مرہ کے کام نبٹانے تک ’’بے خیالی‘‘ میں جواد کے بارے میں سوچتی،اُس کی کہی باتوں کو ذہن میں دہراتے ہوئے مُسکراتی اور پھر اسی بے خیالی میں کب نیند کی وادیوں میں اتر جاتی اُسے پتہ ہی نہیں چلتا تھا،وہ چونکی تب تھی جب ایک شام اُس نے اُسے اپنے ساتھ کسی کیفے میں کافی پینے کی آفر کی تھی۔
’’کافی؟‘‘،وہ چند لمحوں کیلئے سمجھ ہی نہیں سکی تھی کہ اُس کے فرمائش نما اصرار پر اُسے کیا کہنا چاہئے۔
’’ہاں!صرف ایک کپ کافی‘‘،جواد نے اپنی مسکراہٹ کو مزید دلنشیں بناتے ہوئے کہا تھا،اگر وہ اُس کی جادوئی آنکھوں کے طلسم سے خود کو بچانے میں کامیاب رہی تھی تو اُس کی مُسکراہٹ نے اُسے ڈبونے کی بڑی بھرپور اور کامیاب کوشش کی تھی،وہ واقعی ’’ڈوب‘‘ کر ابھری تھی۔
’ ’I`m sorryلیکن میں آپ کے ساتھ کہیں جا کر کافی نہیں پی سکتی‘‘،اُس نے اُس کی مُسکراہٹ کے ہاتھوں بے قابو ہوتے ہوئے دل کو بڑی مشکل سے قابو میں کرتے ہوئے کہا تھا،اُس کے انکار پر جواد کی مُسکراہٹ کا دیا بجھ گیا تھا اور اُس نے بے حد مایوس لہجے میں ’’Its okay‘‘ کہہ کر بات ختم کردی تھی اور پھر وہ مزید اُس کے پاس نہیں ٹھہرا تھا۔
اُس شام زندگی میں پہلی بار اُسے اداسی کا شدید قسم کا دورہ پڑا تھا،ہر چیز اُسے بُری لگی تھی،اپنا انکار اور اس انکار کے پیچھے خالد کے وہ ’’افکارُ‘‘ جو اُس کیلئے کسی آکٹوپس کا شکنجہ بن چُکے تھے،اپنے مڈل کلاس احساسات و حالات اور اپنی زندگی سے اُسے ایسی نفرت پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی،اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے،اُس کے چہرے پر چھانے والی اداسی اُس وقت مزید گہری ہوگئی تھی جب اگلے دو روز جواد آفس آنے کے باوجود اُس کے پاس نہیں آیا تھا،تیسرے روز وہ لنچ بریک میں اپنے آپ پر قابو کھوچُکی تھی اور کیبن میں بیٹھی بے حد اطمینان سے اپنے رونے کا شوق پورا کررہی تھی اور اُسی وقت گیتی نے اُس کے کیبن میں قدم رکھا تھا اور گویا اُس پر ’’چھاپہ‘‘ مارا تھا اور یہ ناممکن تھا کہ اس طرح رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر وہ کم از کم گیتی سے اُس مہارت سے جھوٹ بول پاتی جو گیتی نے اُس اندر پروان چڑھایا تھا۔
’’حد کرتی ہو تُم بھی حرا‘‘،اُس کی پوری رام کہانی سُن کر گیتی ہنس پڑی تھی،اُس نے آنسو بھری نگاہوں سے گیتی کی جانب دیکھا تھا۔
وہ اگر سفاک تھی تو بلا کی،بے رحم تھی تو انتہا کی۔
’’تُم ہنس رہی ہو؟‘‘،حرا بے یقینی سے صرف اتنا ہی کہہ سکی تھی۔
’’ظاہر ہے تمہاری بے وقوفی پر میں کیا کوئی بھی ہنس پڑے گا‘‘۔
حرا خاموش رہی تھی۔
’’دیکھو حرا!‘‘،گیتی بالآخر سنجیدہ ہوئی تھی’’اگر وہ تمہیں اچھا لگتا ہے تو پھر اُس کے ساتھ جا کر ایک کپ کافی پینے میں کوئی ہرج نہیں ہے،اُس نے کونسا تمہیں “Date”پر چلنے کا کہا ہے،لیکن اگر تُم اب بھی اپنے ابا کے وہ انیس سو بیالیس کے بوسیدہ خیالات کی وجہ سے ایک شاندار بندے کی کمپنی کو مس کرنا چاہتی ہو تو اس میں بھی کوئی بُرائی نہیں ہے اگر تو تمہارا ذہن بالکل کلیئر ہے اس معاملے میں‘‘،وہ بے حد صاف گوئی کا مظاہرہ کررہی تھی،حرا رونا بھول گئی تھی۔
’’فعل کوئی بھی اچھا یا بُرا نہیں ہوتا،اُسے ہمارا نظریہ اور ہماری سوچ اچھا اور بُرا بناتی ہے،تُمہارا سارا مسئلہ وہ Confusion ہے جو تمہارے دل اور دماغ کی جنگ نے پیدا کیا ہے،تم نہ اپنے دماغ سے اپنے ابا کے اقوال زریں نکالنے میں کامیاب ہورہی ہو اور نہ تمہارا دل ’’خواہش‘‘ چھوڑنے پر راضی،دُنیا میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کا دل اور دماغ کسی ایک نقطے پر مکمل ہم آہنگ،ہم آواز اور ہم خیال ہوں،تُم اب ایک فیصلہ کرلو،تمہیں اپنے ابا کی باتوں اور اُن کے طے کردہ “Do`s اور don`ts”کے مطابق زندگی گزارنی ہے یا وہ کرنا ہے جو تمہاری عمر کا تقاضہ ہے،جو آج کی دُنیا میں ترقی کرنے اور ایک اچھی اور متوازن زندگی گزارنے کیلئے ضروری Ingredients ہیں اور جو تمہارا دل چاہتا ہے کہ تُم کرو‘‘،گیتی نے ہمیشہ کی طرح اُس کی الجھنوں کو مزید گرہ لگا کر الجھانے کا کام کیا تھا تاکہ وہ Panic ہو اور اُس ’’راستے‘‘ کا انتخاب جلدبازی میں جذباتیت کے ہاتھوں کرلے جس کا اندیشہ خالد کو دن رات ستاتا تھا۔
حرا پر گیتی کی باتوں یا دوسرے لفظوں میں ’’ترغیب‘‘ کا اثر ہوا تھا یا نہیں اس کیلئے حرا کو سوچنا ہی نہیں پڑا تھا اس سے قبل ہی اُس پر دو آفتیں ایک ساتھ ٹوٹی تھیں،کم از کم حرا کو وہ مصیبت ہی لگی تھیں،خالد کی طرف سے نوکری چھوڑ کر تعلیم دوبارہ شروع کرنے کے مطالبے کو حرا نے ’’حکم‘‘ سمجھا تھا اور اُس نے اسی وقت خالد کو اپنے مخصوص دوٹوک انداز میں جواب دے دیا تھا اور پھر تیسرے ہی ہفتے وہ ایڈمیشن کے سلسلے میں تمام ضروری Requirements پوری کرچکی تھی اُس کا خیال تھا کہ آفس سے واپسی کے بعد وہ بہت آرام سے Aptitude test کی تیاری کرسکے گی لیکن یہ اُس کی خام خیالی ہی ثابت ہوئی تھی،جواد اُس روز کے بعد سے اُسے مسلسل اگنور کررہا تھا اوراس طرح نظر انداز کئے جانا حرا کی برداشت سے باہر ہوتا جارہا تھا،وہ اُس کی زندگی کا پہلا ’’کرش‘‘ تھا جو واقعی کرش (چکنا چور) ہوتا دکھائی دے رہا تھا،ایسا نہیں تھا کہ وہ اُس سے کسی قسم کی کوئی دوستی رکھنا چاہتی تھی بس اتنا تھا کہ وہ اتنے ہینڈسم اور شاندار لڑکے کی جانب سے ملنے والی تھوڑی سی اہمیت کی عادی ہوگئی تھی،جبکہ جواد کے نزدیک وہ بالکل ایک عام سی Exercise تھی ،بس وہ اُسے اچھی لگی تھی اور وہ کُچھ عرصہ اُس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا،مگر حرا نے انکار کردیا تھا تو اس بات کو اُس نے اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے کنارہ کرنا بہتر سمجھا تھا ،اس سے زیادہ وہ کُچھ نہ تو سوچ سکتا تھا اور نہ ہی اُس کی Up bringingایسی تھی کہ وہ پہلی نظر کی محبت جیسی کسی احمقانہ اور فضول چیز کا شکار ہوتا۔
اُس نے بہت چاہنے کے باجود جواد سے خود بات میں پہل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی،وہ آتا ،اُس کے سامنے سے گزر کر اپنے پاپا کے کمرے میں چلاجاتا اور پھر کُچھ دیر کے بعد اپنے مخصوص بے نیاز انداز میں کسی انگلش نمبر کی دھن گنگناتے ہوئے گاڑی کی چابی لہراتے ہوئے اُس کے سامنے سے گزر کر چلاتا اور ایسے ہر لمحے میں وہ خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کرتی تھی،اسی Stress میں اُس نے Aptitude Testاور انٹرویو و بڑی کامیابی سے پاس کرلیا تھا اور وہ اس کامیابی پر اتنی خوش بھی نہ ہوسکی تھی جتنا وہ ہونا چاہتی تھی۔
اُس شام جواد اپنے پاپا کے کمرے میں تھا،حرا کا ایڈمیشن ہوچکا تھا اور اُس کی ایوننگ کلاسز کا آغازٹھیک ساڑھے تین بجے سے ہونا تھا اور آفس سے چھٹی شام چھے بجے ہوتی تھی ،اسی سلسلے میں اُسے اپنے باس سے بات کرنی تھی مگر جواد کے سامنے وہ یہ بات کرنا نہیں چاہتی تھی اور آف ہونے میں پندرہ منٹ باقی تھے،بہت سوچ و بچار کے بعد بحالت مجبوری اُسے باس کے آفس میں قدم رکھنا پڑا تھا،جواد نے اُس کے کمرے میں داخل ہونے اور پھر کُرسی کھینچ کر بیٹھنے پر کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں دیا تھا،اس چیز نے حرا کے Stress میں اضافہ ہی کیا تھااُس کا دل چاہا تھا کہ وہ الٹے قدموں آفس سے باہر چلی جائے لیکن اب آہی گئی تھی تو بات کئے بغیر جانا اُسے بے وقوفی لگ رہا تھا۔
بہت خوبصورت اور مناسب ترین لفظوں کو ترتیب دے کر حرا نے باس کے سامنے سارا معاملہ رکھتے ہوئے اُن سے درخواست کی تھی کہ اُسے جلدی آف دیا جائے،اُسے موہوم سی امید نہیں تھی بلکہ کامل یقین تھا کہ باس اُسے خوشی سے نہ بھی سہی لیکن اجازت دے دیں گے،لیکن اُن کے ٹھنڈے اور دوٹوک انکار کی صورت آنے والے ریسپانس نے جیسے حرا سے وہ ساری دلیلیں اور منطقیں چھین لی تھیں جو وہ لاشعوری طور پر انکار میں جواب ملنے پر باس کے سامنے رکھنے کیلئے ذہن میں ترتیب دے چُکی تھی۔
اُس میٹنگ کے دوران پہلی بار جواد اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا کیونکہ وہ حرا کی جانب سے جواب میں اتنی گہری خاموشی کی توقع نہیں کررہا تھا لیکن جب اگلے چھے منٹ وہ ایک لفظ بھی نہ بولی تو جواد نے اُس کی جانب دیکھا تھا اور اُس کے چہرے پر دُکھ اور مایوسی اُسے اتنی واضح طور پر دکھی تھی کہ وہ اس ’’مالک اور ملازم‘‘ کے انتہائی ذاتی معاملے میں مداخلت کئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
’’مس حرا!آپ کی کلاسز کب سے اسٹارٹ ہورہی ہیں؟‘‘۔
اُس نے چونک کر جواد کی جانب دیکھا تھا اور پھر بے حد دھیمے لہجے میں جواب دیا تھا ’’نیکسٹ ویک سے‘‘۔
’’ٹھیک ہے،آپ بے فکر ہوکر اپنی کلاسز جوائن کیجئے،نہ آپ کی تنخواہ کاٹی جائے گی اور نہ ہی کوئی آپ سے سوال جواب کرے گابلکہ آپ کو Education allowanceبھی دیا جائے گا‘‘،جواد نے کہتے ہوئے ایک نظر باپ کی جانب دیکھا تھا اور اُس کی نظر میں ’’جو‘‘ تھا اُس نے باپ کو چُپ کروادیا تھا،حرا ان دونوں کی نظروں ہی نظروں میں ہونے والی ’’گفتگو‘‘ کو نہیں پڑھ سکی تھی وہ تو بس اُس کے لفظوں پر کھل اٹھی تھی،بے حد خوبصورت مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر آئی تھی۔
’’لیکن یہ لبرٹی آپ کو میری وجہ سے مل رہی ہے،اس لئے اب آپ پر بھی فرض ہے کہ اپنے ذمے کا کام مقررہ وقت پر آپ کو ہر حال میں پورا کرنا ہوگا تاکہ مجھے آپ کے باس کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے‘‘،جواد نے نپے تُلے انداز میں اُسے خوشخبری کے ساتھ ساتھ تاکید بھی کردی تھی اور شرط بھی بتادی تھی۔
حرا نے بہت امید بھری نظروں سے باس کی جانب دیکھا تھا،انہوں نے سنجیدہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘ کہہ کر فیصلہ پر تصدیقی مہر ثبت کردی تھی۔
’’تھینک یو سو مچ مگر مجھے کسی الاؤنس کی نہیں صرف تھوڑی سی Moral supportکی ضرورت ہے جو آپ کی وجہ سے مل گئی،انشاء اللہ سر کو کسی بھی قسم کی شکایت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپ کا سر جھکے گا‘‘،وہ بے حد اعتماد سے اپنی بے قابو ہوتی خوشی کو قابو میں رکھتے ہوئے بولی تھی اور پھر وہ اُن دونوں کا شکریہ ادا کرکے آفس سے باہر چلی گئی تھی۔
وہ اُس رات بہت خوش تھی اور اُس کی خوشی گھر والوں سے مخفی نہیں رہ سکی تھی اس کے باوجود کہ اُن تینوں اور حرا کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی تھی،خالد تو بس خاموش رہے تھے،زارا نے اُسے رسمی مبارکباد دی تھی جبکہ سعیدہ بیگم نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اُسے کُچھ تاکیدوں کے ساتھ ساتھ اس پریشانی کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ نازک سی جان تعلیم اور نوکری کیسے اکھٹے Manage کرے گی،خلاف توقع اُس رات حرا نے سعیدہ کی کسی بھی بات پر ناگواری کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ مُسکراتے ہوئے وہ انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی،اُس رات حرا نے پیٹ بھر کا کھانا کھایا،یہ محسوس کئے بغیر کہ خالد،سعیدہ یا زارا میں سے کوئی اُس کی باتوں کا جواب دے بھی رہا ہے یا نہیں اُس نے جی بھر کے باتیں کی تھیں اور پھر وہ اسی خوشی کے ساتھ سونے کیلئے بستر میں لیٹ گئی تھی۔
’’نماز تو پڑھ لو‘‘،زارا نے اُسے ٹوکا بھی تھا،لیکن اُس نے ’’قضاء پڑھ لوں گی‘‘ کہہ کر کروٹ لے لی تھی۔
جواد کی جو بے اعتنائی اور بے رُخی اُسے اتنے دنوں سے اذیت میں مبتلا کئے ہوئے تھی اُس کے یوں ’’مددگار‘‘ بن کر سامنے آنے پر جیسے بھاپ بن کر اڑ گئی تھی،دل ہی دل میں شکائتوں کے جو ڈھیر وہ اُس کے خلاف لے کر بیٹھی ہوئی تھی وہ یوں غائب ہوا تھا کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں،زندگی کا وہ پہلا ’’کرش‘‘ اُس کیلئے زندگی کے پہلے ’’پیار‘‘ میں تبدیل ہوتے ہوئے اُس نے اُسی رات محسوس کیا تھا،وہ کسی کیلئے اتنی اہم تھی کہ وہ اپنے باپ کے خرانٹ اصولوں سے ٹکرا گیا تھا بلکہ ٹکرایا بھی کیا تھا اُس نے باپ کے سامنے اُس کیلئے ،اُس کے بہتر مستقبل کیلئے Stand لیا تھا اور یہ احساس اُسے ساتویں آسمان پر نہ لے جاتا تو کیسے نہ لے جاتا،وہ بادلوں پر نہ اڑتی تو کیسے نہ اڑتی اور پھر وہ اسی کیفیت میں صبح بیدار بھی ہوئی تھی اور اگلے دن گیارہ بج کر چودہ منٹ تک اسی طرح بادلوں پر تیرتی ہی رہی تھی اور ٹھیک سوا گیارہ بجے اُس نے جواد کی پُرجوش آواز بہت دنوں کے بعد سُنی تھی۔
’’Hello Miss.Hira!‘‘،اور حرا یوں ساکت ہوکر اُسے دیکھنے لگی تھی جیسے کوئی پانی کی شفاف سطح پر ابھرنے والے کسی بہت ہی خوبصورت عکس کو مبہوت اور خوف کے ملے جُلے تاثرات کے ساتھ دیکھتا ہے،مبہوت خوبصورتی کی وجہ سے اور خوف اُس عکس کے مٹ نہ جانے کی وجہ۔
وہ اُس کی کیفیات سے بے خبر اُس کا حال چال پوچھ رہا تھا جو کہ ’’حال‘‘ میں رہ کر بھی دماغی طور پر نہ جانے کون سے سیارے پر ڈولتی پھر رہی تھی،جواد نے اُس کی آنکھوں کے عین سامنے اپنا ہاتھ لے جاکر چُٹکی بجائی تو وہ یکدم ’’ہوش‘‘ میں آئی تھی اور ہوش میں آنے کے بعد اُس نے اعتراف کیا تھا کہ سامنے کھڑا شخص اگلے انسان کو ہوش میں ہونے کے باوجود ’’دیوانگی‘‘ کے کسی بھی درجے پر فائز کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے،اُس روز صرف وہی بولتا رہا تھا اور وہ مختصر لفظوں میں اُس کی آنکھوں میں دیکھنے سے کتراتے ہوئے جواب دیتی رہی تھی،لیکن پھر اُس کے اگلے سوال پر وہ ایک بار پھر ساکت ہوکر اُسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
’’اتنی بڑی فیور دی ہے آپ کو….کم ازکم اُس کے جواب میں کوئی فیور ریٹرن بے شک نہ کریں لیکن IBAمیں ایڈمیشن ہونے کی خوشی میں ہی ایک کپ کافی تو آپ پلاہی سکتی ہیں‘‘،وہ بہت معصوم دکھائی دیا تھا اُس لمحے اُسے اور پھر نہ جانے کس ٹرانس میں اُس نے حامی بھرلی تھی۔
دو دن کے بعد وہ ویک اینڈ کی شام تھی جب وہ جواد کے ساتھ ایک مشہور کافی شاپ میں گئی تھی،وہ کسی قدر نروس بھی تھی لیکن اُس نے اپنے کسی انداز سے صرف نروسنس ہی نہیں بلکہ اُس خوف کو بھی ظاہر نہیں ہونے دیا تھا جو خالد سمیت اُس کے کسی جان پہچان والے یا خاندان کے کسی فرد کی نظروں میں نہ آجانے کے خیال سے اُس کے دل میں تھا،وہ ان آفیشل ’’Date‘‘ پر تھی چاہے کوئی زبان سے اقرار کرتا یا نہیں لیکن وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ ایسی بے ضرر سی کافی شاپ میں ہونے والی ملاقاتیں بہر حال ’’بے ضرر‘‘ مقصد کے تحت نہیں ہوتی ہیں،جواد ہرگز ہرگز کوئی بہت ہی مضبوط کردار کا شریف النفس انسان نہیں تھا،وہ ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ بے شک صاف ستھرے انداز میں وقت گزارنا چاہتا تھا ،لیکن ’’وقت ہی گزارنا چاہتا تھا‘‘،حرا نے زندگی میں بے شک کسی لڑکے کے ساتھ اس طرح کبھی ملاقات نہیں کی تھی لیکن وہ کوئی ننھی بچی بھی نہیں تھی کہ ایسی ملاقاتوں کی نوعیت،وجوہات اور پس منظر سے نا واقف ہی ہو،رہ گئے خالد اور سعیدہ بیگم کے اقوال زریں اور سنہرے اصول تو وہ ضرور حرا کے پیروں سے بیڑیوں کی صورت لپٹے ہوئے بین کرتے رہے تھے لیکن اُن کی حیثیت کرکٹ ٹیم میں بارہویں کھلاڑی سے زیادہ کی نہیں رہی تھی۔
اُس شام حرا خاموش ہی رہی تھی زیادہ تر جواد ہی بولتا رہا تھا،ادھر ادھر کی عام سی باتیں،نہ اُس نے حرا سے ایک حد سے زیادہ بے تکلف ہونے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی کوئی چیپ حرکت کی تھی جس سے حرا کی نسوانیت کو ٹھیس پہنچتی یا وہ اُسے ایک برے کردار کا لڑکا سمجھتی،یہ حرا پر اپنے کسی بہت ہی اچھے امپریشن کو جمانے کی شعوری کوشش بھی نہیں تھی لیکن حرا پر جواد کا بہت اچھا امپریشن پڑا تھا ۔اُس شام جواد نے اُسے بتایا تھا کہ اُسے کس طرح کی عورت پسند ہے،وہ کیسی عورت کو ایڈمائر کرتا ہے۔
’’مجھے اپنے لئے خود فیصلہ کرنے والی عورت بہت پسند ہے،عورت خود جب تک اپنی Worthنہیں سمجھے گی تب تک اُسے دُنیا سے وہ نہیں ملے گا جو وہ Deserveکرتی ہے،آج کا دور برابری کا دور ہے،مرد کو اگر اپنی زندگی کا ہر فیصلہ خود کرنے کا اختیار ہے تو پھر یہ حق عورت کو بھی حاصل ہے،مجھے بہت بُری لگتی ہیں وہ عورتیں جو اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ حالات اور ’’اجازت نہیں مل رہی‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیتی ہیں‘‘۔
اُس شام وہاں سے واپس آنے کے بعد وہ رات کے پچھلے پہر تک اُسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی،وہ شام حقیقتاً اُس کی زندگی کی یاد گار اور حسین ترین شام تھی جس کی خوبصورتی مزید دوآتشہ ہوگئی تھی جب ویک اینڈ ختم ہونے کے بعد وہ آفس پہنچی تھی اور گیتی نے بہت معنی خیز مُسکراہٹ کے ساتھ اُس سے ’’پہلی ملاقات کیسی رہی؟‘‘،پوچھا تھا،حرا کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آفس میں یہ اتنی ذاتی بات یوں پھیل جائے گی،اُسے بُرا لگا تھا اور بہت بُرا لگا تھا اور اُس نے اپنی ناگواری ظاہرکرنے میں تامل سے کام بھی نہیں لیا تھا۔
’’Calm downحرا!اتنا طیش میں آنا ٹھیک نہیں ہے‘‘،گیتی نے بھی سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے کہا تھا’’تم پر ہونے والی عنایت کا سب کو ہی علم ہے اور سب ہی جانتے تھے کہ جلد یا بدیر تمہیں وہ فیور ریٹرن کرنی ہی ہوگی‘‘۔
’’فیور ریٹرن….؟….جواد نے مجھ سے کوئی فیور نہیں لی….دوستوں میں فیورز نہیں لی جاتیں‘‘،حرا کو مزید غصہ آیا تھا۔
’’دوست…..؟‘‘،گیتی کی ہنسی میں کوئی بہت عجیب بات تھی….پتہ نہیں عجیب بات تھی اس لئے اُسے اُس کی ہنسی کھلی تھی یا اُس کی ہنسی اُسے چبھی تھی اس لئے وہ ٹھٹکی تھی،وہ سمجھ نہیں سکی۔
’’وہ اس فرم کے مالک کا بیٹا ہے،یعنی مالکان میں سے ایک….اور مالک اور ملازم کے درمیان ’’دوستی‘‘ ،ایسی کوئی روائت کم از کم پاکستان میں نہیں ہے مائی ڈیئر‘‘،گیتی کے الفاظ میں نہیں لہجے میں کاٹ تھی اور نظروں میں….وہ اُس کی آنکھیں دیکھتی رہ گئی تھی۔
’’تُم کس خوش فہمی میں مبتلا ہوگئی ہو حرا….؟،تمہیں یہ لگ رہا ہے کہ ایک انتہائی امیر کبیر خاندان کا ایسا شاندار فرد تمہاری ایک جھلک دیکھتے ہی Love at first sightکا شکار ہوگیا ہے،کم آن یہ فیری ٹیل نہیں ہے حرا….زندگی ہے….تُم نے جواد کی آفر دو ٹوک انداز میں رد کردی تھی اُس نے جواباً تمہیں نظر انداز کرنا شروع کردیا،اگر اُس کے دل میں تمہارے لئے Feelingsتھیں تو وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتا لیکن جب تُم ایک پریشانی کا شکار ہوئیں تو اُس نے تمہاری مدد کی اور پھر سے تمہیں کافی کیلئے آفر کردی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تُم اُس کی اتنی احسان مند ہوچُکی ہوگی کہ اب اُسے انکار نہیں کرسکوگی… Simple‘‘۔
حرا کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگی تھے،گیتی غلط نہیں کہہ رہی تھی ،حرا مانتی تھی لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پارہی تھی کہ اُس کے اندر….بالکل اندر مقید اُس کی جواد کیلئےFeelingsکا اتنا درست اندازہ گیتی کو کیسے ہوگیاتھا،وہ واقعی بہت پہنچی ہوئی چیز تھی،کم از کم حرا کو تو یہی لگ رہا تھا۔
’’حرا!اس طرح ایموشنل فُول بننے کی ضرورت نہیں ہے‘‘،گیتی نے اُس کی آنکھوں میں امڈتی ہوئی نمی دیکھ کر کہا تھا’’Be practical،یہ دُنیا اور اس کا نظام ’’کُچھ دو اور کُچھ لو‘‘ یعنی “Give and take”کے تحت ہی چلتا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا،اُس نے تمہاری مدد کی اور بدلے میں تمہارے ساتھ کُچھ وقت گزارا،بات ختم اس Equation میں جذبات لا کر اپنی زندگی کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش مت کرو،یہ دور لیلیٰ مجنوں کی محبت کادور نہیں ہے اور نہ ہی آج کے دور میں کوئی اتنا بے وقوف ہوتا ہے کہ اس طرح کی محبت میں بناء کسی Calculationکے گرفتار ہوجائے،تمہیں صرف اس لئے یہ سب سمجھا رہی ہوں تاکہ تُم بے وقوف بھی ہو اور خوبصورت بھی اور جس عورت میں یہ دونوں خصوصیات ایک ساتھ ہوں وہ صرف نقصان اٹھاتی ہے،اپنی خوبصورتی کو اپنا Helping handبناؤ اپنے راستے کا کانٹا نہیں‘‘۔
حرا کو وہ ساری باتیں بخوبی سمجھ آگئی تھیں لیکن بس اتنا تھا کہ اُس کی آنکھوں کا وہ پیار کا پہلا پہلا خواب تھا جو بُری طرح مجروح ہوا تھا اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا اُس کیلئے کافی مشکل تھا،گیتی کو غلط نہیں سمجھ سکتی تھی وہ اُس کی ’’محسن‘‘ تھی ،اُس کی ’’شخصیت سازی‘‘ گیتی کی ہی تو مرہون منت تھی وہ اُسے اپنا دشمن نہیں سمجھ سکتی تھی۔
اُس کی کلاسز شروع ہوچکی تھیں اور شروع کے کُچھ ہفتے تو وہ بہت اکسائٹمنٹ میں آفس اور یونیوسٹی Manage کرتی رہی کیونکہ ابتداء تھی اور ابتداء میں انسان کے اندر صرف ’’جوش‘‘ ہی ہوتا ہے لیکن چوتھے ہفتے ہی اُس کا جوش بتدریج کم ہونے لگا تھا،پڑھائی ٹف نہیں تھی اچھی خاصی ٹف تھی پھر ایک سال کے بریک کے بعد اُس نے اپنی تعلیم Resume کی تھی تو بھی ذہنی طور پر اُسے کُچھ بھی قبول کرنے میں تھوڑی سی دقت ہورہی تھی یہ سب تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا بڑا مسئلہ آفس میں اُس کیلئے کھڑا ہوگیا تھا،کام اور ذمے داریوں کے جس ڈھیر کو وہ عام حالات میں 9گھنٹوں کے ڈیوٹی آورز میں نبٹاتی تھی اب اُن فرائض کو اُسے چھے گھنٹوں میں پورا کرنا پڑرہا تھا اور وہ بُری طرح چکرا کر رہ گئی تھی،دو بار اُسے غلطی کرنے پر ایڈمن سے سخت سست سننی پڑی تھیں،اُس کی چُوک کی وجہ سے فرم کو تین بار معمولی نوعیت کا مالی خسارہ بھی دیکھنا پڑا تھا اور اس سب پر وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی کہ کرے تو کیا کرے،جواد سے اُس نے بہت یقین سے کہا تھا کہ وہ شکائت کا کوئی موقع نہیں دے گی لیکن اپنے کہے پر وہ پوری نہیں اتر پارہی تھی،ادھر گھر میں بھی حالات کُچھ مختلف تو نہیں تھے،وہ صبح ساڑھے سات بجے گھر سے نکلتی تھی اور پھر رات کے دس سوا دس بجے گھر میں گھستی تھی اور تھکن کے مارے چوُر چُور ہونے کے باوجود اُسے اگلے دن کیلئے ملنے والے assignment بناتے ہوئے یا ٹیسٹ کی تیاری کے لئے بھی وہ رات گئے تک جاگتی ،اس ساری Drill کے دوران نہ اُسے آرام کرنے کا وقت ملتا تھا اور نہ ہی کُچھ اور سوچنے کی مہلت،حتیٰ کہ اُس کے دل ودماغ سے جواد ظہیر بھی نکل گیا تھا جس سے آفس میں بھی اب اُس کی سلام دعا سے زیادہ بات نہیں ہوتی تھی اور یہ وہ ساری مشکلات تھیں جن کا ادراک خالد کو تھا اور اسی وجہ سے وہ چاہتا تھا کہ حرا صرف اپنی تعلیم پر فوکس کرے لیکن بعض اولادیں ماں باپ کے فرمائے کو ’’پھائے‘‘ کے بجائے بیڑی سمجھ لیتی ہیں ،اُس نے بھی تو یہی کیا تھا۔
اگلے چھے مہینے میں حقیقتاً حرا کی بس ہوگئی تھی، یہ اتفاق ہی تھا کہ جواد اُن دنوں اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا اور اُس روز آفس میں وہ بالکل Lostبیٹھی تھی اُس کے سامنے کام کا ایک انبار پڑا تھا مگر اُس کے دماغ پر Finance management کا وہ ٹیسٹ سوار تھا جس کیلئے وہ اپنی تیاری سے بالکل بھی مطمئن نہیں تھی،اوریہ بھی اتفاق ہی تھا کہ ٹھیک اُسی لمحے جب وہ بے بسی کی انتہا پر پہنچ کر رونے والی ہورہی تھی ،جواد اُس کے سامنے سے گزرا تھا اور اُس نے اُس کے کپکپاتے ہونٹ دیکھ لئے تھے اور پھر وہ تیزی سے اُس کے پاس آیا تھا اور اُس سے اتنے Panic ہونے کی وجہ پوچھی تھی،وہ وجہ تو خیر کیا بتاتی اتنے عرصے بعد اُس کی وہی فکر مندی حرا نے دیکھی تو بس اگلے ہی لمحے وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی،یہ سب اتنا Calculated اور بظاہر اتنا بے ساختہ تھا کہ جواد ظہیر کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوسکی کہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں حرا نے اُس کے ساتھ کون سا کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے۔
وہ اُس سے پوچھتا رہا مگر وہ کوئی جواب دئیے بغیر زوروشور سے روتی رہی،آفس میں کسی قسم کا تماشہ نہ لگے اس خیال سے مجبوراً اور زبردستی وہ حرا کو اپنے ساتھ باہر لے گیا تھا یہ سوچے بغیر کے ورکنگ آورز میں جب وہ حرا کو باہر لے کر جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ اُس کا یہ عمل کسی کی بھی نظر میں نہیں آئے گا،اُن کے وہاں سے جاتے ہی آفس میں چہ مگوئیاں ہونا شروع ہوچُکی تھیں،معنی خیز نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہونے لگے تھے،حرا کی ’’ستی ساوتری‘‘ امیج کا آخری نشان بھی مٹنے لگا تھا۔
**********
بعض تبدیلیاں سمندر کی تہہ میں پلتے ہوئے طوفان کی طرح ہوتی ہیں جوبہت خاموشی سے بالکل اچانک ساحل سے ٹکراتا ہے اور شہر کے شہر کو جل تھل ایک کردیتا ہے،حرا کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا،’’خیر‘‘ کا رزق کھانے کے باوجودحرا کے اندر موجود ’’شر‘‘ کی مقدار میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہی ہوا تھا،اُس پر سونے پہ سہاگہ وہ ’’خیر‘‘ کے راستے پر چلتے ہوئے ذرا سی ڈگمگائی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی چال کی لڑکھڑاہٹ دور کرتی وہ ’’شر‘‘ کے عشق میں گرفتار ہوچُکی تھی اور پھر ’’شر‘‘ ہی مانگنے لگی تھی،’’شر‘‘ اُسے کھینچنے لگا تھا،وہ ایک ایسا اسفنج تھی جو صرف گندگی کو ہی اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،موازنہ کرنے کی اُس کی یہ سرشت اُسے کس ڈگر پر لے آئی تھی اس کا ادراک اُسے نہیں ہورہا تھااور مرے پر سودُرے اُسے گیتی جیسی ’’انسٹرکٹر‘‘ مل گئی تھی جو نہ صرف اُسے ہر الٹے سیدھے کام پر اکساتی بھی تھی بلکہ اُس کی پیٹھ بھی تھپتھپاتی تھی،Give and takeکا وہ فارمولا اُسے جس انداز میں سمجھایا گیا تھا وہ اُسی انداز میں اُس پر عمل کررہی تھی۔
جواد ظہیر اس کا پہلا شکار تھا اور وہ خود جواد ظہیر کا نہ جانے کونسے نمبر کی شکار تھی،یہ ’’شکار بازی‘‘ آج کی ماڈرن دُنیا میں ’’سروائیو‘‘ کرنے کا لازمی جزو بن گئی تھی اور جو شکار ی بننا اور شکار ہوجانے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اُن کا انجام وہ خالد کا بینک سے ذلیل ہوکر نکالے جانے کی صورت دیکھ چُکی تھی،اس واقعے نے حرا کی نفسیات پر بہت گہرا اثر کیا تھا،بہر حال جواد ظہیر کو اُس روز اُس نے روتے ہوئے اپنے مسائل سے آگاہ کیا تھا مگر مدد ’’مانگی‘‘ نہیں تھی،اُس کا بیانیہ ایسے الفاظ پر مبنی تھا کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ وہ صرف اپنا کتھارسس کررہی ہے ۔
’’تُم پریشان مت ہو،میں اس سلسلے میں جو ہوسکا لازمی کروں گا‘‘،اس کی ساری کتھا سُن کر جواد نے وہی کہا تھا جو وہ سننا چاہتی تھی۔
’’نہیں جواد مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے،تُم پہلے ہی مجھ پر ایک فیور کرکے احسان کرچُکے ہو،میں تو اس بات پر اتنی شرمندہ ہوں کہ تمہارے کہے کا پاس بھی نہیں رکھ پارہی میں‘‘،اُس نے ٹشو سے دوبارہ امڈآنے والے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا اور اُس کے اس انداز نے بیٹھے بٹھائے جواد کے کندھے چوڑے کردئیے تھے۔
مرد ،مرد ہی ہوتا ہے،اُسے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر،کسی نہ کسی لمحے میں ایک ایسی عورت لازمی درکار ہوتی ہے جو اُسے یہ احساس دلائے کہ وہ اُس کیلئے آسمان جیسی حیثیت رکھتا ہے،اُسے جو بھی مل رہا ہے اُسی کے طفیل مل رہا ہے،وہ اُس کے احسانوں کے آگے جتنا جھکنے کی ’’اداکاری‘‘ کرتی ہے مرد کی شان اسی قدر اونچی ہوتی جاتی ہے۔جواد بھی مرد تھا اور بے شک ساری عمر امریکہ میں رہا تھا جہاں کی عورت ’’برابری‘‘ کا اظہار کرتی تھی ،’’احسان مندی‘‘ کا نہیں،زندگی میں پہلی بار جواد ایک ایسی لڑکی سے ملا تھا جو اُس کے آگے خود کو کنکر پتھر جیسی حیثیت دے رہی تھی،وہ اُسے بتارہی تھی کہ وہ خود ’’جُزو‘‘ ہے اور وہ اُس کا ’’کُل‘‘پھر کیسے ممکن تھا کہ جواد اُس کے دام میں نہ پھنستا۔
اُس روزوہ آفس نہیں آئی تھی بلکہ جواد اُسے خود کیمپس چھوڑنے گیا تھا اور سارا راستہ اُسے چیئر اپ کرنے کی کوششیں کرتا رہا تھا،حرا کے دل میں کیا تھا اگر جواد جان جاتا تو یقینی طور پر حرا کی جان جاتی۔
مرد کو ’’استعمال‘‘ کرنے کے کیا اور کیسے ثمرات عورت کی زندگی پر پڑتے ہیں یہ حرا کو جواد پر تجربہ کرکے ہی سمجھ آیا تھا اور عورت اس مُلک میں آگے بڑھنے کیلئے مرد کو ’’بیساکھی‘‘ کیوں بناتی ہے یہ بھی اُس روز اُسے سمجھ آیا تھا جب ڈیڑھ سال گدھوں کی طرح کام کرنے کے باوجود اُسے کوئی ترقی نہیں ملی تھی لیکن جواد کے صرف’’ کہنے‘‘ پر اُس کی تنخواہ میں ڈبل انکریمنٹ کے اضافے کے ساتھ ساتھ اُسے گھر سے آفس،آفس سے یونیورسٹی اور پھر یونیورسٹی سے گھر تک کیلئے پک اینڈڈراپ کی سہولت بھی فرم کی جانب سے دی گئی تھی۔
اور اس ساری عنایت کے پیچھے ’’میرٹ‘‘ اور ’’محنت‘‘ نہیں جواد کے ساتھ اُس کی ’’دوستی‘‘ہی criteria تھی۔
’’مجھے حقیقتاً بہت خوشی ہے حرا کہ تُم بالآخر درست سمت میں سفر شروع کرچُکی ہو،اب میں یہ دعویٰ سے کہہ سکتی ہوں کہ تمہیں آگے بڑھنے اور اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘،ہمیشہ کی طرح گیتی نے اُس کی پیٹھ تھپتھپائی تھی۔
جواد کے ہی مشوروں اور فرمائشوں پر حرا خود میں مزید تبدیلیاں لائی تھی،آفس میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ حرا کو کسی بھی غلطی یا بھول کیلئے یا اس کے بغیر بھی کوئی سخت بات کہتا یا مذاق کا نشانہ بناتا،آفس میں پیٹھ پیچھے ان دونوں کی ’’دوستی‘‘ کو دوسرے ورکرز کس ’’نام‘‘ سے پُکارتے تھے اس کی بھی حرا کو کوئی فکر نہیں تھی، جواد جب تک پاکستان میں تھا، تب تک وہ چاہتی تھی کہ اُس سے جتنے فیورز لے سکتی ہے ،لے لے،حرا کا Dress code مکمل طور پر بدل گیا،وہ بند گلوں،لمبی آستینوں کی کھلی کھلی قمیضیں اُس کی الماری سے خارج ہوگئیں اور فٹنگ کے جسم کو نمایاں کرنے والے کپڑے اُس کی الماریوں میں سج گئے،بے شک وہ مشرقی لباس ہی پہنتی تھی مگر ان کپڑوں کی وضع و قطع مغربی ہوا کرتی تھی،اُس کی ڈریسنگ ٹیبل پر نت نئے میک اپ کے سامان کا اضافہ ہوتا گیا،بزنس ایڈ منسٹریشن اور فائناس کی کتابوں کے ساتھ مختلف Self grooming کے میگزینز اُس کی ریڈنگ ٹیبل پر جمع ہوگئے،اس میں آنے والی تبدیلیاں اتنی برق رفتاری سے آئی تھیں کہ زارا کا اُس کمرے میں دم گھٹنے لگا تھا اور اُس نے خالد سے کہہ کر چھت پر ایک چھوٹا کمرہ اپنے لئے ڈلوانے کا کہہ دیا تھا اور خالد نے زارا کے انداز دیکھتے ہوئے فوری طور پر چھت پر کمرے کی تعمیر شروع کردی تھی اور زارا نے پھر اس کمرے میں شفٹ ہوکر ہی طمانیت کا سانس لیا تھا،اس سارے تماشے کا بھی حرا پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
اُس کی اس درجہ ’’بے راہ روی‘‘ پر سعیدہ بیگم نے صرف ایک بار اُسے سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔
’’امی !میں جو پہنتی ہوں یا جس طرح رہتی ہوں وہ میرا مسئلہ ہے،مجھے آپ محلے والوں کی باتیں مت سنایا کریں اور نہ ہی خاندان ،بدنامی اور اللہ کے ڈراوے دیا کریں،میں اپنے ہر عمل کی خود ذمے دار ہوں،میں اپنا کماتی ہوں اپنا کھاتی ہوں،کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہوں اور اگر آئندہ آپ نے مجھ سے یہ سب کہا یا مجھے سمجھانے کی کوشش کی تو میں جواب لفظوں میں نہیں دوں گی،میں عملاً یہ گھر چھوڑ کر اپنا علیحدہ انتظام کرلوں گی‘‘،اُس کے بے لچک انداز اور دوٹوک کڑے لفظوں نے سعیدہ بیگم کو گونگا کردیا تھا،اُس روز انہیں خالد کے سارے تحفظات بالکل ٹھیک لگے تھے لیکن وہ ’’ماں‘‘ تھیں ،باپ کی طرح ناراض ہوکر کنارہ نہیں کرسکتی تھیں۔
اُس رات سعیدہ بیگم نے بہت سوچ وبچار کے بعد ایک فیصلہ کیا تھا اور پھر بہت خاموشی سے ہی انہوں نے اپنے اس فیصلے پر عمل در آمد کیا تھا،اُن کی پلاننگ کی حرا کو اُس وقت ہوا بھی نہیں لگ سکی تھی لیکن چند سالوں کے بعد حرا کو سعیدہ بیگم کی پالیسی سمجھ آگئی تھی اور اس سمجھ آنے نے حرا کو کُچھ کہنے،سوچنے اور کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
اُس دن پہلی بار حرا کے دل پر ڈاکہ پڑا تھا۔
اُس دن حرا زندگی میں پہلی بار سچے دل سے پھوٹ پھوٹ کر،تڑپ تڑپ کر روئی تھی۔
خسارہ بعض دفعہ رُلاتا نہیں ہے۔
حرا کو بھی ’’خسارے‘‘ نے نہیں رُلایا تھا۔
اُسے ’’کسی‘‘ اور چیز نے رُلایا تھا۔
*************
وہ اُس شام اسٹوڈیو سے اپنا پروگرام ریکارڈ کروا کرباہر آئی تو ہلکی پھلکی پھوآر پڑرہی تھی،موسم دوپہر سے ہی ابر آلود تھا اور محکمہ موسمیات کی جانب سے پچھلے چار دن سے یہی پیش گوئی کی جارہی تھی کہ شہر میں بارش کسی بھی وقت متوقع ہے لیکن حسب روائت یہ پیش گوئی ’’حقیقت‘‘ کا روپ نہیں دھار سکی تھی اور ایسے میں ہلکی پھلکی بوندا باندی ہی کراچی کے باسیوں کیلئے رم جھم بارش سے کم کی حیثیت نہیں رکھتی،جس قدر ایگزاسٹڈ اُس کا دن گزرا تھا ،پھوآر نے جیسے وہ ساری کلفت اور تھکن دھوڈالی تھی،اپنی گاڑی میں آکر بیٹھتے ہی اُس نے ہینڈ بیگ سے اپنا آئی فون نکال کر شایان کو کال ملائی تھی،وہ پندرہ دن سے سنگاپور میں تھا اور کل رات ہی پاکستان واپس آیا تھا اور یہ اُس کی مصروفیات تھیں جن کی وجہ سے وہ نہ شایان سے سنگاپور جانے سے پہلے مل سکی تھی اور نہ ہی کل رات اُس کے پاکستان پہنچنے کے اطلاعی Textکا جواب دے سکی تھی جو اُس نے صبح دیکھا تھا،کُچھ اتنے دنوں سے نہ مل سکنے کا گلٹ تھا اور کُچھ موسم کی خوبصورتی کا اثر کہ وہ فوری طور پر اُس سے ملنا چاہتی تھی،لیکن شایان نے کال ریسیو نہیں کی تھی،وہ مُسکرادی،وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اتنے دن سے نظر انداز کئے جانے پر اُس سے خفا تھا اور اُس کی خفگی دور کرنا اُسے آتا تھا،گاڑی سٹارٹ کرکے مین روڈ پر لاتے ہوئے اُس نے ایک بار پھر اُسے کال کی تھی،اس بار بھی کال ریسیو نہیں ہوئی تھی،اُس کی مُسکراہٹ میں اضافہ ہوا تھا۔
اُس نے گاڑی میں ایف ایم ٹیون ان کیا اورمیوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مختلف سروس روڈز پر گاڑی دوڑاتے ہوئے وہ کلفٹن پر واقع اُس کے فلیٹ پر جانے کا فیصلہ کرچُکی تھی،وہ جانتی تھی کہ یقیناًوہ اس وقت اپنے ذاتی فلیٹ پرہوگا،وہ جب بھی کہیں سفر سے واپس آتاتھا یا اُس سے ناراض ہوتا تھا تو اسی طرح خود کو اپنے فلیٹ میں مقید کرلیا کرتا تھا اور تب تک باہر نہیں آتا تھا جب تک اُس کی سفر کی تکان ختم نہ ہوجاتی یا اُس کی ناراضگی دور نہ ہوجاتی،وہ اُس کے مزاج کے ہر بہار وخزاں سے واقف تھی۔
شایان احمد اُس کی زندگی میں کس نیکی کے انعام میں آیا تھا؟،یہ وہ سوال تھا جو اکثر حرا خالد خود سے کیا کرتی تھی اور اُسے کبھی اس سوال کا جواب نہیں ملا تھا،اُس کے جتنے نخرے شایان نے اٹھائے تھے زندگی میں کسی نے نہیں اٹھائے تھے اور جتنی محبت شایان نے اُسے دی تھی اُسے دُنیا میں کسی مرد نے نہیں دی تھی،جواد ظہیر نے بھی نہیں،Unconditional محبت کیا ہوتی ہے اور کیسے نبھائی جاتی ہے ،Give and take کے فارمولے کے بغیر ؟،یہ اُس نے شایان احمد سے مل کر اور اُسے برت کر جانا تھا۔
جواد ظہیر اُس کے ساتھ سنجیدہ نہیں تھا یہ وہ جانتی تھی اور اس ایک چیز نے اُس کے اندر پیدا ہونے والی Feelings بھی ختم کردی تھیں،وہ اُسے ’’وقت گزارنے‘‘ کی چیز سمجھ کرنزدیک آیا تھا اور اُس کی ’’خواہش‘‘ کا احترام کرتے ہوئے حرا نے اُس وقت کی ’’قیمت‘‘ اُس کے علم میں لائے بغیر وصول کرنی شروع کردی تھی،وہ جب تک پاکستان میں رہا تب تک حرا اُس سے جتنی فیورز لے سکتی تھی ،اُس نے لی تھیں،چھے ماہ کے اندر اندر وہ تین مزید انکریمنٹس اپنی تنخواہ میں لگواچُکی تھی اور اس کے بدلے میں اُسے ویک اینڈ پر کُچھ دیر اُس کے ساتھ ’’حدود‘‘ میں رہتے ہوئے وقت گزارنا ہوتا تھا اور بس،لیکن اس اقدام سے حرا کی reputation آفس والوں کی نظروں میں خراب ہوچکی تھی،عجیب بات اس حوالے سے یہ ہوتی ہے کہ اخلاقی طور پر تباہ حال لوگوں کا جھنڈ جسے اس بات کی سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ کوئی ’’باکردار‘‘ کیوں ہے اور جب وہ با کردار نہیں رہتا تب بھی سب سے زیادہ پیٹ میں مروڑ انہی لوگوں کے اٹھتی ہے جو ساری زندگی چھوٹے سے چھوٹے گناہ میں لتھڑے رہتے ہیں۔
حرا کو اپنی تباہ ہوچکی reputation کا ادراک اُس وقت ہوا تھا جب اُس کی فرم کے مالک نے اپنے بیٹے کی جگہ اُسے ’’کمپنی‘‘ دینے کی فرمائش کی تھی اور اُس کے مطالبے پر حرا ہکا بکا رہ گئی تھی،یہ اس معاشرے میں escorting کی سب سے بھیانک شکل تھی،حرا کے انکار پر ظہیر نے اُن تمام مراعات سے ہاتھ کھینچ لینے کے دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ جواد کے حوالے سے اُس کے تعلقات پر انگلی بھی اٹھائی تھی،اپنے کردار کے حوالے اُس کے تضحیک آمیز انداز پر تو اُسے کوئی شرمندگی اور ذلت محسوس نہیں ہوئی تھی البتہ مراعات میں کٹوتی کے خیال نے چند لمحوں کیلئے اُس کی سانسیں روک دی تھیں،چند لمحوں میں اُس نے حساب کتاب کرلیا تھا،روپے کے بغیر جینا صرف تب تک آسان ہوتا ہے جب تک وہ انسان کے پاس نہ ہو مگر جب ڈھیروں کے حساب سے نہ بھی سہی لیکن ’’محنت‘‘ کے مقابلے میں انسان زیادہ کمانے لگے اور وہ روپیہ اچانک ہاتھ سے جاتا دکھائی دے تو انسان کیلئے بڑا مشکل ہوجاتا ہے ’’انکار‘‘ کرنا اور اُس پر قائم رہنا،چنانچہ حرا نے ’’اقرار‘‘ کرنا مناسب سمجھا تھا اور پھر تو جیسے یہ ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا مگر اس سے قبل جواد کا باپ اُس ’’آخری حد‘‘ کو پار کرنے کی کوشش کرتا حرا کو ایک opportunity ملی تھی اور وہ opportunity اُسے ایک نعمت مترقبہ سے کم نہیں لگی تھی۔
وہ BBA کے تیسرے سیمسٹر میں تھی اور اُس کا شمار Batch کی چند برائٹ سٹوڈنٹس میں ہونے لگا تھا،وجہ اُس کی ذہانت ،لیاقت کے ساتھ ساتھ وہ انتھک محنت بھی تھی جو وہ کرتی رہی تھی،تعلیم کے معاملے میں وہ واقعی حد سے زیادہ سنجیدہ تھی اور کیمپس میں بہر حال وہ واقعی خالد کے سکھائے اصولوں پر ہی عمل پیرا تھی یہی وجہ تھی کہ اُس کے کردار اور لباس کے حوالے سے کیمپس میں کسی قسم کی کوئی منفی بات سوچنے کی نہ تو کسی نے جرات کی تھی اور نہ ہی اُسے کسی قسم کی ’’آفر‘‘ کی تھی۔
وہ ایک کراچی کا لوکل بزنس چینل تھا جس سے منسلک پروگرام مینیجر نے حرا کو ایک سیمینار میں financial feasibility کے موضوع پر بولتے ہوئے سُنا تھا اور اُس کے اعتماد اور ذخیرہ الفاظ کے استعمال سے کافی متاثر ہوا تھا،اُس کے بارے میں چند ضروری معلومات اکھٹی کرکے وہ اُس سے کیمپس میں ہی ملا تھا اور اُس سے چند غیر رسمی باتوں کے بعد اُس نے حرا کو ایک پروگرام ہوسٹ کرنے کی آفر کی تھی جو کہ حرا کیلئے بے حد حیرت کا باعث تھی لیکن حرا نے اپنی حیرت کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ چند دن سوچنے کیلئے مانگے تھے،حرا نے گھر والوں کے بجائے اپنی Mentor سے ہی مشورہ کرنا بہتر سمجھا تھا اور گیتی نے دل میں اٹھنے والی حسد کی چنگاریوں کو دباتے ہوئے بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اُس کی ہمت افزائی کی تھی۔
اُس نے سعیدہ اور زارا کو اُس بزنس چینل کو جوائن کرنے کے بارے میں اطلاع دی تھی ،جس پر زارا نے کُچھ اعتراض کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سعیدہ نے اُسے ٹوک دیا تھا اور حرا کو چند مشورے دے کر بات ختم کردی تھی لیکن خالد یہ سب جان کر خاموش نہیں رہ سکے تھے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں حرا کو اس کام سے منع کردیا تھا جواباً حرا نے بے حد اطمینان سے انہیں اپنے گھر چھوڑدینے کی اطلاع دے دی تھی اور ظاہر ہے خالد کیلئے یہ خیال ہی منوں مٹی میں دفن کردینے والا تھا چنانچہ وہ خاموش ہوکر بیٹھ گئے،البتہ سعیدہ بیگم نے شوہر کو تسلی دی تھی کہ وہ فکر نہ کریں وہ اُس پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔
خالد کو اُس کے ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوتے ہی خاندان کی جانب سے اُس سوشل بائیکاٹ کا سب سے زیادہ ڈر تھا،یہی نہیں وہ اگلے کئی ہفتے اپنے اسٹور پر بیٹھنے سے بھی کتراتے رہے تھے جواس عرصے میں ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹور بن گیا تھا ،کہ لوگ ایک ٹی وی پر آنے والی لڑکی کے باپ کی حیثیت میں اُن پر کیسی کیسی باتیں نہ کسیں گے،انہیں کیسی تضحیک آمیز اور تمسخرانہ نظروں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن خالد کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی جب انہوں نے اپنے ملنے جلنے والے لوگوں سے حرا کے بارے میں تعریفیں سنی تھیں اور اُس وقت تو اُن پر سکتہ ہی طاری ہوگیا تھا جب اچانک خاندان میں اُن کی بہت خاص قسم کی ’’آؤ بھگت‘‘ ہونے لگی تھی،اچانک اُن کے پورے خاندان کو تمام رشتے داروں کی جانب سے بہت ہی خاص قسم کا پروٹول ملنے لگا تھا،عزیز واقارب کے حسن اخلاق میں اضافے کے ساتھ ساتھ ’’مرعوبیت‘‘ میں بھی اضافہ ہوگیا تھا اور تقریباً ہر رشتے دار کے گھر سے ’’حرا بیٹی‘‘ کے پاس اپنی اپنی اولادوں کی CV`sکا ڈھیر آنا شروع ہوگیا تھا کہ وہ ان کے بچوں کو بھی ٹی وی انڈسٹری میں نوکریاں دلوادے،اس طرز عمل سے حرا کی گردن کے اکڑاؤ میں مزید اضافہ ہوا تھا اور خالد کی گردن مزید جھک گئی تھی،یہ ہے دُنیا اور اس کا چلن،نہ جانے ’’طوائف‘‘ کو گالی کیوں دی جاتی ہے،شرافت اور کردار کے روشن مینارے بنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر ’’دو اور دو بائیس‘‘ کرنے والے لوگوں کو اپنا ’’خُدا‘‘ سمجھنے والے لوگ،طوائفیت کے کس اونچے درجے پر ہیں انہیں کبھی احساس ہی نہیں ہوتا،بڑی کُتی چیز ہے یہ دُنیا،غلیظ ترین طوائف،واقعی ’’دُنیا‘‘ سمجھ کہاں آتی ہے۔
حرا نے اُس فرم میں نوکری چھوڑ دی تھی،وہ ہفتے میں تین دن پروگرام ریکارڈ کرواتی اور جس کا معاوضہ اُسے لاکھوں میں ملتا تھا،راتوں رات اُس کا Status بدل گیا تھا،وہ اپنے علاقے اور خاندان والوں کیلئے Superstar بن گئی تھی ،کیمپس میں بھی اُس سے ساتھیوں کی مرعوبیت میں اضافہ ہوا تھا،بغیر دوپٹے کے ڈیزائنر ٹو پیس سوٹ زیب تن کئے وہ اپنی مخصوص تمکنت لئے،بے حد اعتماد اور وقار سے ہلکی سی مُسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اپنا پروگرام ہوسٹ کرتی تھی اور کسی کو بھی اُس کے کسی فعل پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا تھا۔
جب تک اُس کا BBA مکمل ہوا وہ اُس لوکل چینل کو چھوڑ کر ایک بڑے نیوز چینل پر چلی گئی تھی اور اُس چینل کوجوائن کرنے سے پہلے اُسے وہ ’’Compromise‘‘ کرنا پڑا تھا جو اس سے قبل اُس نے جواد اور پھر اُس کے باپ کے ساتھ بھی کیا تھا،کیونکہ اُس چینل کے ہیڈ کے بیٹے کو اس کی BBA کی ڈگری میریٹ سے کم لگی تھی،وہ چاہتی تو سخت سست سناتی کہ اگر وہ اُن کے میرٹ پر پوری نہیں اترتی تو پھر انہوں نے اُسے جاب آفر کیوں کی تھی،لیکن حرا کو ایسا کرنا سراسر خسارے کا سودا لگا تھا چنانچہ دل ہی دل میں اُسے مادر ذاد گالیاں دیتے ہوئے وہ اُس کے ساتھ کھانے پر چلی گئی تھی اور اپنے دل میں امڈتی ہوئی اُس کے منہ پر کس کر تھپڑ مارنے کی خواہش کو مشکل سے ہی دباتے ہوئے وہ اپنا ہاتھ تھامے اُس کے منہ سے اپنی خوبصورتی کے قصیدے سنتی رہی تھی اور اظہار محبت کو نظر انداز کرتی رہی تھی،وہ جانتی تھی کہ اس طرح کا اظہار الفت اور رغبت کس ’’مقصد‘‘ کیلئے کیا جاتا ہے اور وہ ’’اُس‘‘ مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی خود کو بہت صفائی سے بچالیا کرتی تھی،اس ’’ملا قات‘‘ کا ہی ثمر تھا کہ وہ اُس پروگرام کی وہ صرف Hostہی نہیں تھی بلکہ Executive producer بھی چُن لی گئی تھی اس ترقی نے اُس کے سُرخاب کے پروں میں مزید اضافہ بھی کیا تھا،اُسی چینل پر اُس کی ملاقات شایان احمد سے ہوئی تھی جو کہ اُس کے پروگرام کا گیسٹ تھا،سُود اور پاکستانی بینکنگ کے حوالے سے اُس پروگرام میں شایان کی منطقی باتوں اور باتوں سے زیادہ بات کرنے کے انداز سے وہ متاثر ہوئی تھی،دوسری جانب یہی حال شایان کا بھی تھا،اُن دونوں کے درمیان پروگرام کے اختتام تک شناسائی اچھی سلام دعا سے بڑھ کر دوستی میں تبدیل ہوچکی تھی۔
حرا MBA کرنا چاہتی تھی لیکن پروگرام کے حوالے سے مسلسل ہونے والی ریسرچ اور Data جمع کرنے اور نت نئے آئیڈیاز کی تلاش اور سوچ وبچار میں الجھ کراُسے وقت ہی نہیں مل رہا تھا کہ وہ اپنی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھ پاتی،اسی دوران اُس کی زندگی میں دو مزید بڑے واقعات ہوئے تھے،اُس نے بہت ضد کرکے گھر والوں کو بالآخر قائل کرلیا تھا کہ اب اپنا رہائشی علاقہ بدل لیں اوراس کام کیلئے خالد کسی طور راضی نہیں تھے مگر یہ کام ہوگیا تھا کیونکہ خالد ایک رات چپ چاپ دُنیا سے کُوچ کرگئے تھے،حرا کو دُکھ ضرور تھا اس بات کا کہ خالد کے ساتھ جو ’’مقابلہ‘‘ وہ شروع کربیٹھی تھی اُس مقابلے میں حرا کو ’’جیتتا‘‘ ہوا دیکھنے کیلئے وہ نہیں رہے تھے،حرا کو اس بات کا ملال ہرگز نہیں تھا کہ خالد اُس سے کس قدر ناراض تھے اور وہی ناراضگی دل میں لئے وہ دُنیا سے چلے گئے تھے۔
خالد کے انتقال پر شایان بھی اُس کے گھر آیا تھا اور زارا سے بھی ملا تھا،سعیدہ چونکہ عدت میں تھیں اس لئے وہ اُن سے ملاقات نہیں کرسکا تھا،زارا کو وہ پہلی نظر میں ہی اچھا نہیں لگا تھا اور اُس نے حرا تک اپنی ناپسندیدگی پہنچانے میں دیر بھی نہیں کی تھی،عرصہ ہوچلا تھا اُن دونوں بہنوں کے درمیان بات چیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی،عجیب بات تھی کہ جن حالات کا سامنا حرا کو کرنا پڑا تھا ویسے حالات زارا کو درپیش نہیں آئے تھے وہ اپنا ایم بی اے کے آخری سیمسٹر میں تھی اور ایک بہت بڑی ملٹائی نیشنل کمپنی سے انٹرن شپ بھی کررہی تھی،اُس کے لباس ،انداز اور رکھ رکھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی،وہ بغیر Compromises کئے آہستہ آہستہ رینگتے رینگتے ہی سہی اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی،خالد کے انتقال نے جیسے اُن دونوں بہنوں کو مل کر بیٹھنے، بات کرنے اور گلے شکوے دور کرنے کا موقع دے دیا تھا،حرا کو شایان پر اُس کا اعتراض بہت عجیب لگا تھا اور اُس نے یہ بات اُس سے چھپائی بھی نہیں تھی۔
’’کیا مطلب تُم اُس کے ساتھ Involve نہیں ہو؟‘‘،زارا حیران ہوئی تھی۔
’’نہیں،تمہیں ایسا کیوں لگا؟‘‘،حرا اُس سے زیادہ حیرت کا شکار ہوئی تھی۔
’’اُس کے انداز سے‘‘۔
’’تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے‘‘۔
’’ہوسکتا ہے لیکن تُم دیکھ لینا چند ہی دنوں میں وہ اس بارے میں تُم سے کوئی بات ضرور کرے گا‘‘،زارا نے بے حد یقین سے کہا تھا ،اُس وقت تو حرا نے بات ٹال دی تھی کیونکہ اُس کے ذہن کے کسی بھی گوشے میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا لیکن واقعی ایک ہفتے بعد زارا کی پیش گوئی درست نکلی تھی۔
اُس شام وہ آفس میں تھی جب شایان کا اُسے فون آیا تھا،عموما وہ Chat appکے ذریعے ہی کبھی کبھار بات چیت کرلیا کرتے تھے ،کالز کا سلسلہ شاذونادر ہی ہوا تھا اس لئے اُس کی بے وقت کال پر وہ حیران رہ گئی تھی اور اُس نے اپنی حیرانی چھپائی بھی نہیں تھی۔
’’کوئی بہت خاص بات نہیں ہے،بس……‘‘شایان جھجکا تھا،وہ خاموش اُس کے بات مکمل کرنے کی منتظر تھی۔
’’اگر آپ کی کوئی مصروفیت نہیں ہے تو Can i just see you?‘‘،اُس کے الفاظ سے زیادہ یہ اُس کے لہجے کی بے بسی تھی جس نے حرا کو گنگ کیا تھا،وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں اُس کا لہجہ پڑھ گئی تھی اور اُس نے اُس سے ملنے کیلئے حامی بھر لی تھی۔
China port کا وہ قدرے سنسان علاقہ شایان کا ہی منتخب کردہ تھا جہاں وہ مقررہ وقت سے پندرہ منٹ دیر سے پہنچی تھی،شایان وہاں پہلے سے ہی موجود تھا،رسمی سلام دعا کے تبادلے کے بعد وہ ایک لفظ نہیں بولا تھا ،حرا کو توقع تھی کہ وہ جلد ہی اُس کی تعریفوں سے بات کا آغاز کرے گا اور’’دوستی‘‘ تک آجائے گا لیکن اُس کی طویل ہوتی خاموشی نے حرا کو الجھایا تھا،وہ جیسے اُسے بلا کر اُس کے وجود اور موجودگی سے ہی غافل ہوگیا تھا اور کسی مرد نے ایسا ’’سلوک‘‘ اُس کے ساتھ پہلی بار کیا تھا۔
’’آپ نے مجھے کس لئے بُلایا تھا شایان؟‘‘،کُچھ دیر مزید انتظار کرنے کے بعد وہ جیسے اکُتا کر بولی تھی۔
’’آپ Love at first sight پر یقین رکھتی ہیں؟‘‘،بہت عجیب لہجے میں اُس نے اُس کی جانب دیکھے بغیر پوچھا تھا۔
وہ ایک لمحے کیلئے ساکت رہ گئی تھی پھر اُس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا تھا ’’نہیں‘‘۔
’’پھر تو آپ کو اس بات پر بھی یقین نہیں آئے گا کہ مجھے پہلی نظر میں ہی آپ سے محبت ہوگئی ہے‘‘۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ 2018کا پاکستان ہے مجھے ہی کیا کسی کو بھی ایسی محبت پر یقین نہیں آئے گا‘‘،اُس نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تھا۔
’’Never mind‘‘،وہ مُسکرایا تھا’’آپ کے فیوچر پلانز کیا ہیں؟‘‘،اُس نے اگلا سوال کیا تھا۔
اُس نے رٹے رٹائے انداز میں اپنے فیوچر پلانز بتادئیے تھے۔
’’آپ کی پلاننگ میں شادی کا کوئی ذکر نہیں ہے‘‘،وہ کُچھ حیران ہوا تھا۔
’’جی،کیونکہ میں نے اس بارے میں ابھی تک نہیں سوچا‘‘۔
’’کیوں؟‘‘۔
’’کوئی خاص وجہ نہیں ہے‘‘۔
’’کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟‘‘،اُسے اس قدر بے ساختہ سوال کی توقع نہیں تھی ،وہ جس مائنڈ سیٹ کے ساتھ اُس سے ملنے گئی تھی اور جن باتوں کی وہ اُس سے توقع کررہی تھی اُس نے کوئی ایک بات ،کوئی ایک حرکت بھی ویسی نہیں کی تھی،وہ حیران نہ ہوتی تو کیسے نہ ہوتی۔
اُس نے شایان کے سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا تھا لیکن بعد میں وہ اُس کے پروپوزل کے بارے میں سوچتی ضرور رہی تھی،اُس نے بہرحال عام لڑکیوں کی طرح یہ نہیں سوچا تھا کہ آخر اتنے شاندار لڑکے کو اُس میں ایسی کونسی خاص بات نظر آئی تھی جو وہ اُسے اپنی ہمراہی کا اعزاز بخشنا چاہ رہا تھا،وہ جانتی تھی کہ اُس میں کوئی خاص بات ضرور ہے جو مردوں کا دماغ الٹانے کا سبب بن جاتی ہے اور یہ بھی کہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے،اُس نے زندگی میں جو کُچھ اچیو کیا تھا وہ اپنے بل بوتے پر کیا تھا،گھاگ شکاریوں کا شکار بن کر بھی وہ اُن میں سے کسی کیلئے ’’تر نوالہ‘‘ نہیں بن سکی تھی اور یہ اُس کی نظر میں اُس کی بہت بڑی کامیابی تھی۔
یہ زعم تھا تو زعم ہی سہی۔
حد درجہ خوداعتمادی تھی ایسا ہی سہی۔
سوچ وہ صرف یہ رہی تھی کہ ایک نہ ایک دن شادی تو اُس نے کرنی ہی ہے لیکن شایان سے شادی اُسے ’’کیا‘‘ اور ’’کتنا‘‘ فائدہ دے سکتی ہے یہ تھا وہ اہم نقطہ جس پر اُس کے ’’اقرار‘‘ یا ’’انکار‘‘ کا انحصار تھا۔
شایان ملک کے چند نامی گرامی انڈرسٹلیئسٹ کا اکلوتا بیٹا تھا،ہارورڈ سے پڑھ کر آیا تھا،شہر کے وی آئی پی فیز میں رہتا ہے،دولت،امارت،خاندان،خوبصورتی کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کی اُس میں کمی تھی،حرا کو وہ اپنے لئے ’’جیک پاٹ‘‘ لگا تھا جو اگر ’’لگ‘‘ جاتا تو اُس کے وارے نیارے ہوسکتے تھے،وہ ایک رات میں وہ سب حاصل کرسکتی تھی جس کے خواب وہ برس ہا برس سے دیکھتی آرہی تھی،محنت اُس نے کی تھی بہت کی تھی ،بے شک وہ کافی کُچھ حاصل کرچُکی تھی لیکن یہ ’’وہ سب‘‘ نہیں تھا ۔
اُس نے سعیدہ اور زارا سے اس معاملے کو ڈسکس کرنے کے بجائے انہیں ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنادیا تھا اور یہ کام اُس نے شایان سے انہیں ملوانے کے بعد کیا تھا،شایان کو اُس نے صرف اتنا کہا تھا کہ پہلے وہ اُس کی فیملی سے مل لے پھر ہی وہ کوئی جواب دے سکے گی،وہ ملاقات بظاہر بہت اچھی رہی تھی مگر سعیدہ نے حرا کو شایان کے متعلق کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے چھان بین کرنے اور پرکھنے کا مشورہ دیا تھا،سعیدہ نے زارا کی طرح دو ٹوک انداز میں اپنی ناپسندیدگی حرا تک پہنچائی تھی،سعیدہ نے خالد والی غلطیاں کرنا عرصہ ہوا چھوڑ دی تھیں،وہ حرا کی فطرت دیر سے ہی سہی مگر جان گئی تھیں،اُسے کسی کام سے روکنے کا مطلب تھا اُسے وہی کام کرنے پر اُکسانا،چنانچہ سعیدہ اُسے ضد دلائے بغیر سیدھے سبھاؤ اُسے نفع و نقصان کے بارے میں بتا کر فیصلہ اُس کی صوابدید پر چھوڑ دیا کرتی تھیں،اس وقت بھی انہوں نے یہی کیا تھا۔
حرا نے شایان کے پروپوزل کو قبول تو کرلیا تھا لیکن ساتھ ہی اُس نے یہ شرط بھی رکھ دی تھی کہ اگلے دو سال تک وہ شادی نہیں چاہتی ہاں منگنی پر اُسے کوئی اعتراض نہیں،یہ حرا کی جانب سے ایک بے حد Smart move تھا،وہ جانتی تھی کہ شایان کی فیملی بہت دھوم دھام سے منگنی کرے گی اور جس کی کوریج نہ صرف میڈیا بلکہ بزنس کلاس تک میں ہوگی اور اس طرح وہ راتوں رات بزنس سرکل میں ان ہوسکے گی اور پھر ایسا ہی ہوا تھا۔
اس منگنی کے ثمرات حرا کو ملنے لگے تھے،چینل پر جاب کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شایان کی اُس فیکٹری کے انتظامات بھی دیکھنے لگی تھی جسے وہ شادی سے قبل Establish کرنا چاہتا تھا،شایان ہر لحاظ سے اُس کیلئے ایک آئیڈیل شوہر ثابت ہونے والا تھا،وہ اُس کا ہر لحاظ سے خیال رکھتا تھا،کسی بھی Event چاہے وہ اُس کی سالگرہ ہوتی یا Valentine`s day،عید بقر عید ہوتی یا نیو ایئر وہ ہر دن کو نہ صرف یاد رکھتا تھا بلکہ اُس کے ساتھ Celebrate بھی کرتا تھا اور اُسے مہنگے مہنگے تحائف دے کر ہر موقع کو مزید یادگار بھی بنادیا کرتا تھا،گزرے ہوئے ان ڈیڑھ سالوں میں حرا نے ترقی کے وہ تمام زینے پھلانگے تھے جو کبھی اُسے ’’پل صراط‘‘ لگا کرتے تھے اور ظاہر ہے جس مرد کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا تھا ایسے مرد سے کس عورت کو ’’محبت‘‘ نہیں ہوجاتی،اُسے بھی ہو ہی گئی تھی۔
پچھلے ڈیڑھ سال کے بارے میں سوچتے ہوئے بلآخر وہ شایان کے فلیٹ پر پہنچ گئی تھی جس کی ایک چابی اتفاق سے اُس کے پاس بھی تھی،گنگناتے ہوئے اُس نے فلیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور اندر داخل ہوئی تھی،سارے میں مکمل سناٹا تھا ،وہ حیران ہوئی اور پھر اُس نے اندازہ لگایا وہ یقیناًبیڈ روم میں تھا۔
بلی کی سی چال چلتے ہوئے وہ بیڈ روم کی جانب بڑھ گئی،دروازے کے پاس پہنچ کر اُسے اندر سے عجیب سے انداز میں ہنسنے کی آواز آئی تھی،’’تو کیا وہ بیڈروم میں اکیلا نہیں تھا‘‘،وہ چونکی اور پھر اُسے بہت عجیب سا احساس ہوا تھا جس کے زیر اثر اُس نے بناء دستک دئیے بیڈروم کا دروازہ کھول دیا تھا اور اُسے اپنی قسمت کے آگے دروازہ بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اندر کا منظر دیکھتی رہ گئی تھی۔
کوئی زمین تھی جو پیروں تلے سے کھسکی تھی۔
کوئی آسمان تھا جو اُس کے سر پر آن کر گرا تھا۔
مان تھا جو کہاں آکر مٹی میں ملا تھا۔
غرور تھا جو اس طرح چکنا چور ہوا تھا کہ وہ لہولہان ہوتی گئی تھی۔
وہ الٹے پیر لوٹی تھی۔
وہ شرٹ پہنتے ہوئے اُس کے پیچھے لپکا تھا ،اُسے آوازیں دیتا پارکنگ لاٹ تک آیا تھا لیکن وہ نہیں رُکی،اُس نے نظر اٹھا کر بھی اُس کی جانب نہیں دیکھا تھا،اُسے اُس شخص کے وجود سے اتنی ہی گھن آرہی تھی۔
وہ اُسے بیڈ روم میں کسی لڑکی کے ساتھ دیکھتی تو شائد وہ اُسے کوئی مارجن دے بھی دیتی لیکن کسی لڑکے کے ساتھ۔۔۔۔
یہ اُس کی برداشت سے باہر کا معاملہ تھا۔
اُس کے وجود پر تھوکتے ہوئے وہ وہاں سے لوٹ گئی تھی۔
*************
’’اسی دن کیلئے سمجھاتے تھے تمہیں،اونچے خواب ضرور دیکھو،لیکن ان خوابوں کو پانے کیلئے Short cutsاختیار نہ کرو،تُم سمجھتی ہو کہ جو کُچھ تُم کرتی رہی ہو اُس کا مجھے علم نہیں‘‘،اُس نے حیرت سے سعیدہ بیگم کی شکل دیکھی تھی جن کے چہرے پر ملاحت تھی،آنکھوں میں نرمی اور ہونٹوں پر بہت عجیب سی مُسکراہٹ۔
’’ماں ہوں بیٹا!بے شک تمہاری جنریشن کے کُچھ بچے ماں کے اولاد کے ساتھ روحانی تعلق کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے لیکن حقیقت یہی ہے کہ تُم نے زندگی میں جو جو غلطیاں جہاں جہاں کیں وہ سب میرے علم میں تھیں،میں اگر کہوں گی کہ مجھے الہام ہوتا تھا تو تُم یقین نہیں کرو گی مگر تُم نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوگا کہ ہر بار تُم کسی کھائی میں اترتے اترتے واپس آجاتی تھیں تو اس کے پیچھے تمہاری ماں کی دعاؤں اور تمہارے باپ کا وہ رزق تھا جو اُس نے ’’حرام‘‘ سے دور رہ کر کمایا تھا‘‘۔
حرا کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے۔
’’تُم شر کے پیچھے اتنا ہلکان ہوتی رہی ہو کہ خیر کو تُم نے اپنے ہاتھ سے جانے دیا،شایان کو میں ایک نظر میں ہی پہچان گئی تھی اور مجھے حیرت تھی کہ تُم کیوں اُسے نہیں جان سکیں اور پھر مجھے سمجھ آگیا تھا کہ تُم شایان کے پیچھے نہیں گئی ہو،تُم اُس کی دولت اور اُس کی طاقت کے پیچھے گئی ہو تاکہ وہ سب حاصل کرسکو جس نے تمہیں ایک عرصے سے ریس میں دوڑنے والا جانور بنا رکھا ہے‘‘۔
سعیدہ بیگم کی زبان سے لفظ نکل رہے تھے اور اُسے چابک بن کر لگ رہے تھے۔
’’تو پھر تو ایسا ہونا ہی تھا نا،اب کیوں روتی ہو،اس کا انتخاب تُم نے خود کیا تھا‘‘۔
اور سعیدہ بیگم نے غلط نہیں کہا تھا،وہ شایان کے فلیٹ سے بے حد غصے میں کبھی اُس کی شکل نہ دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نکلی تھی،اتنا بڑا دھوکہ،ایسا فریب،یہ خیال اُسے چین نہ لینے دے رہا تھا،شایان نے اُس سے بار بار بات کرنے کی کوشش کی تھی،اُس کے آفس بھی آیا،فیکٹری جانا تو خیر وہ اُس دن کے بعد سے چھوڑ ہی چُکی تھی،اُس کی ہر کوشش کو وہ خاک میں ملاتی رہی تھی اُسے صفائی میں کُچھ کہنے کا موقع دیئے بغیر اور تب اُسے احساس ہوا تھا کہ اُسے تکلیف دھوکہ کھانے پر،شایان کے اس فعل پر اور یوں دولت کے ہاتھ سے نکل جانے پر نہیں ہورہی۔ اُسے اذیت اس بات سے ہورہی ہے کیونکہ وہ زندگی میں صحیح معنوں میں پہلی بار محبت کے موذی مرض کا شکار ہوگئی ہے۔
“Give and take”کا فارمولا کہاں آکر ریت بنا تھا۔
’’تُم تو اس طرح ری ایکٹ کررہی ہو جیسے بہت پارسا ہو،کیا میں جانتا نہیں ہوں کہ چینل پر پروگرام حاصل کرنے کیلئے تُم نے کیا کُچھ نہیں کیا‘‘،یہ شایان کا وہ Text تھا جو اُس نے فرسٹریشن کی انتہا پر پہنچ کر کیا تھا۔
حرا آسمان سے منہ کے بل زمین پر گری تھی۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر تڑپ تڑپ کر ر وئی تھی۔
یہ ’’خسارہ‘‘ نہیں تھا جو اُسے رُلا رہا تھا۔
یہ ’’محبت‘‘ تھی جو اُسے تڑپا تڑپا کر رُلارہی تھی۔
چند ہی دنوں میں اُس نے چینل سے استعفیٰ دیا تھا اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کی جاب اختیار کرلی تھی جہاں سے ملنے والا معاوضہ اُس چینل سے ملنے والے پیکج کے مقابلے میں ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ تھا لیکن جو ’’گھاؤ‘‘ اُسے لگ چُکا تھا اب اُس خواب کی چکاچوند اُس کی آنکھیں خیرہ نہیں کرتی تھیں۔

ختم شُد۔