ناولٹ “خواب کیوں نہیں زندگی” از ردا کنول آخری قسط۔

تحریر : ردا کنول.
پین کے پچھلے حصے کو اپنے ماتھے پر رگڑتے ہوئے وہ اُسے ہی دیکھ رہی تھی جو سفیدے کے درخت کے نیچے ایستادا تھا۔تسکین کا چہرہ یکسر تاثرات سے عاری تھا۔وہ یک ٹک اُس کی طرف بس دیکھے ہی چلے جا رہی تھی۔ایک دم ہتف وہاں سے اُلٹے قدموں بھاگا تھا۔وہ اُسے تب تک دیکھتی رہی جب تک کہ وہ نظرو ں سے اُو جھل نا ہو گیا۔
کل کی رات اُس نے کچھ نہیں لکھا تھا وہ پین کے پچھلے حصے سے اپنے ماتھے کو رگڑتی رہی تھی۔اور جب تک کھڑکی کے باہر پھیلے اندھیرےروشنیوں میں تبدیل نا ہو گئے وہ اسی طر ح بیٹھی کچھ سو چتی رہی تھی۔
کچن میں معمول کی طر ح وہ اپنی چائے بنانے میں مصروف تھی جب اُسے دروازہ بجنے کی آ واز سنا ئی دی۔اتنی صبح دروازے کا بجنا بالکل بھی معمول کی بات نہیں تھی لیکن وہ کسی معمول کی طر ح ہی چلتی ہو ئی دروازے تک گئی تھی اور اُسے کھول دیا تھا۔ایسے جیسے وہ پہلے سے یہ جا نتی تھی۔دروازے پہ ہتف تھا۔
ہتف آ ؤ ۔آؤ اندر آ جاؤ۔ دروازہ کھولنے کے بعد تسکین رو کی نہیں تھی وہ تیز تیز چلتے ہوئے پھر سے کچن میں غا ئب ہو گئی تھی۔
نا شتہ لا ؤں تمہارے لیے؟ اُ س نے کچن سے ہی آواز لگا ئی تھی۔
میں یہاں نا شتہ کرنے نہیں آیا۔ ہتف نے بھی اُ سی طر ح بغیر کسی لگی پٹی کے اُس سے کہا تھا۔
اچھا تو پھر کس لیے آ ئے ہو؟ چائے کا بڑا سا مگ ہاتھ میں پکڑے وہ کچن سے نمودار ہو ئی تھی اور آ کر لا ؤنج کے سنگل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا ئے بیٹھ گئی تھی۔ہتف بھی اُس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا ۔وہ ابھی تک شب خوا بی کے لباس میں ملبو س تھا ،بال قدرے بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر اُلجھن بھرے تا ثرات پھیلے تھے۔تسکین کی بات پر ابھی اُس نے اپنا منہ کچھ کہنے کے لیے کھولا ہی تھا کہ تسکین نے اُسے ٹو ک دیا۔
کہیں تم یہ پو چھنے تو نہیں آ ئے کہ اس گھر میں بھو ت پریت یا چڑیل تو نہیں رہتی؟ تسکین آ رام سے صوفے پر براجمان کہہ رہی تھی۔اگر یہی پو چھنے آ ئے ہو تو میں تمہیں خود بتا دیتی ہوں۔ وہ اب صوفے پر آ گے کو جھک آ ئی تھی ،کپ سامنے پڑے میز پر رکھتے ہوئے وہ ہتف کے قدرے قریب ہو کر بیٹھی تھی۔اور کسی سر گو شی کی سی آواز کے ساتھ اُس نے ہتف سے کہا تھا۔
یہاں سو فیصد ایک عدد چڑیل رہتی ہے،مگر اُس کو کھو جنا تمہا را کام ہے ۔۔۔صحا فی۔۔ آخری الفاظ اُس نے قدرے رُک رُک کر ادا کیے تھے۔چائے کا مگ اُس نے دوبارہ پکڑ لیا تھا اور بے نیا زی سے بیٹھے ہوئے پا ؤ ں جھلانے لگی تھی۔اور ہتف کو تو جیسے سانپ ہی سو نگھ گیا تھا۔وہ حیران سا اور کچھ کچھ شا کڈ سا صوفے پر سن سا بیٹھا تھا۔
مسڑہتف جمال میں نے اپنی زندگی کے ستا ئیس سال جھک نہیں ماری ہے۔پچھلے دس سال سے اس گھر میں اکیلے رہ رہی ہوں اور یہ بات تو تم جا نتے ہی ہو گے ایک عورت کے لیے اس معا شرے میں اکیلے رہنا کس قدر دشوار ہے مگر دیکھو میں رہ رہی ہوں ۔ اُس نے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں اُٹھا ئے تھے۔
اور اس سے پچھلے اٹھارہ سال بھی میرے لیے کو ئی آسان نہیں رہے۔صرف اٹھا رہ سال کی عمر میں میرا پنتا لیس سال کے مرد سے نکا ح ہوا تھا۔نور الہی جو بقول تمہارے، تمہارے تایا تھے۔تم کیا سمجھتے ہو نو ر الہی نے مجھے کچھ نہیں بتایا ہو گا ؟؟؟ تو مسڑ ہتف جمال کان کھول کر سن لو نورالہی کے اُٹھنے بیٹھنے حتی کے سونے تک پہ بھی میرا اختیار تھا تو ایسے میں وہ اپنے کسی بھتیجے کا ذکر مجھ سے نہیں کریں گے کیا؟؟؟
تسکین سانس لینے کے لیے رو کی تھی وہ ابھی تک اپنے پیر اسی طر ح جھلا رہی تھی۔لہجہ بے تاثر تھا مگر آ نکھیں اپنے احسا سات چھپانے میں ناکام رہیں تھیں۔اُس کی آنکھوں سے شعلے ٹپک رہے تھے۔ ہتف ابھی تک اُسے دم سادھے سن رہا تھا۔
تمہیں دیکھتے ہی میں جان گئی تھی کہ تم کون ہو۔تم جیسے لوگ اکثر ہی ٹکراتے رہتے ہو مجھ سے۔
اکیلی ہوں،اپنے شوہر کی چھو ڑی ہو ئی جائیداد اُڑا رہی ہوں،کو ئی آگے پیچھے سوال کرنے والا بھی نہیں ہے ،جوان ہوں درحقیقت میں اُن تمام مردوں کے لیے بے حد پر کشش آسامی ہوں جو بے انتہا لالچی اور خود غرض لا حق ہوتے ہیں۔اور تم جانتے ہو ہتف جمال یہاں پر آ کر تم اُن سب مردوں سے محتلف ہو جاتے ہو کیونکہ تم یہاں اُن سب چیزوں کے لیے نہیں آئے تمہیں تو کچھ اور یہاں کھینچ لایا ہے۔
کہتے کہتے وہ ایک بار پھر آگے ہو کر بیٹھی تھی۔اور بے حد مدھم آواز میں اُس نے ہتف کے کانوں میں جیسے سُور پھو نکا تھا۔
میں خطر ناک حد تک پر سرار ہوں۔مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اُس نے جیسے ہتف کا راز فا ش کیا تھا۔’’ اور مجھ میں تمہیں اپنی ڈو بتی ہو ئی صحافت کا چمکتا ہوا سکا نظر آ رہا ہے۔کیوں صحافی میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟ اپنی آنکھوں کومعصو میت سے پٹپٹاتے ہوئے اُس نے براہ راست ہتف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا۔ہتف نے بے اختیار نظریں چرا ئی تھیں۔
اگر آ پ کو سب پتہ تھا تو مجھے یہاں کیوں رہنے دیا ؟ کا فی دیر بعد جب وہ کچھ بو لنے کے قابل ہوا تو بس اتنا ہی کہہ سکا۔
تا کہ تم اپنا کام کر سکو اور میں اپنا۔ ایک بار پھر سے وہ پیچھے ہو کر بیٹھ گئی تھی اور ایک ٹھنڈی سانس خا رج کرتے ہو ئے اُس نے کہا تھا۔ہتف کہ کچھ بو لنے سے پہلے ہی وہ بو لی تھی۔
تم میرے پرسرار رازوں کی گر ہیں کھولواور ایک مشہور صحا فی بن جاؤ ۔تمہیں صر ف اسی لیے میں نے یہاں رکھا تھا ۔اور جب تم ایک ایک کر کہ میرے تمام رازوں سے واقف ہو جا ؤ تو تمہیں میرا ایک کام کرنا ہو گا۔
لیکن آپ نے اپنا کام تو بتایا ہی نہیں۔ہتف اب قدرے سنبھل چکا تھا ۔
تم میرا مو ضو ع تھے،میر ی نئی تحریر کا بہترین مو ضو ع۔تم میر ی وہ قربا نی ہو جو میں پچھلے دس سالوں سے اپنے ضمیر کو دے رہی ہوں۔ آ خر میں ایک بار پھر اُس کی آواز مدھم ہو ئی تھی۔
تمہارے لیے بس اتنا جاننا ہی ضرو ری تھا اس سے آ گے تم خود سو چو ڈھو نڈو کھو ج لگا ؤ۔‘‘ اُسے اسی طر ح چھو ڑ کو اُس نے مگ اُٹھا یا تھا اور اُٹھ کر چلی گئی تھی۔پیچھے ہتف گنگ سا بیٹھا رہ گیا تھا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
۲۰۱۶/۶/۱۵
میں جانتی ہوں لیمپ کی مدھم روشنی جب تم پر پڑتی ہے تو تم مجھے آ نکھیں پھا ڑ پھا ڑ کر دیکھتی ہو۔تمہاری آ نکھوں کا ایک ایک رنگ جا نتی ہوں میں،دس سال گزارے ہیں میں نے تمہارے ساتھ ۔تمہاری آ نکھیں اتنی بے چا رگی لیے ہوئے کیوں ہو تی ہیں۔تم کیوں مجھے وہ سب نہیں کہتی جو میں تم سے سننا چا ہتی ہوں۔تمہیں میرے درد کا ذرہ احساس نہیں ہے۔میں نے کیا کچھ نہیں کیا تمہارے لیے۔کیسا۔۔۔کیسا گھناؤ نا کام کیا میں نے تمہارے لیے،لیکن تم۔۔تم کسی طور بھی اب میرا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔لیکن تم دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں۔اپنی ایک ایک معصو میت کا بدلہ لوں گی میں تم سے۔میں تمہارے ساتھ بھی وہ ہی سب کروں گی جو تم نے مجھ سے زبر دستی کر وایا۔میں یہ مدھم لیکنتمہار ی آ نکھوں کو چیر دینے والی رو شنی ہر وقت تم پر ڈالتی رہوں گی جب تک کہ تم میرے زخموں کا مداوا نہیں کرو گی۔میں تمہیں اپنی سانسوں تک اپنے ساتھ گھیسٹوں گی،اور پھر جب تم تھک جا ؤ گی تو میں تم سے اپنے سوالوں کے جواب لوں گی۔اور پھر تمہیں وہ سب کہنا ہو گا جو میں سننا چا ہتی ہوں۔
میں جا نتی ہوں تم مجھے بالکل ابنارمل سمجھتی ہو۔مگر میں تمہیں بتا ؤں میں ابنارمل نہیں ہوں میں پاگل بھی نہیں ہوں میں تو۔۔میں تو جو گی ہوں۔تمہیں پتہ ہے میں نے جو گ لگا لیا ہے۔جو گ بھی ایسا کہ پچھلے پتہ نہیں کتنے بر سوں سے میں اس میں سے نکلنا چاہ رہی ہوں یہ جانتے ہوئے بھی جو گ جان نہیں چھو ڑا کرتے وہ تو جیسے روح تک کو چپک جاتے ہیں۔اور میں یہ سب جانتے ہوئے بھی اس تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چلتی جا رہی ہوں۔لیکن میرا کو ئی داؤ، کو ئی حر بہ، کا رگر ثا بت نہیں ہو رہا۔
مجھے تمہیں یہ بات تو بتا نے کی ضرورت نہیں کہ یہ جوگ میں نے کس کے لیے لیے۔تم بہت اچھے سے جا نتی ہو۔اب تم مجھے اتنی حیران بھر ی نظروں سے مت دیکھو۔تم جا نتی ہو یہ سب جو میں نے اپنے ساتھ کیا یہ سب تمہا ری دین ہے۔تم ہی تھی وہ جس نے اُس وقت مجھے اُکسایا تھا جب ۔۔۔
خیر میں یہ سب کچھ تمہیں کیوں بتا رہی ہوں۔کب تک بتا تی رہوں گی۔اب تمہیں خود میرے غموں کا حساب دینا پڑے گا میرے جتائے بغیر۔میں اب تم سے نہیں کہوں گی کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔تمہیں خود میرا خیال رکھنا ہو گا۔آخر میں اتنے سال تمہارا خیال کر تی آئی ہوں۔تمہارے لیے قر بانیاں دیتی آ ئیں ہوں۔اب سب کچھ تمہیں کرنا ہوگا۔
تم سوچ رہی ہو گی میں ایک بار پھر تم سے وہی گلے شکوے شکایات کر رہی ہوں۔میں کیا کروں۔جب میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور میرا کون ہے جس سے میں یہ سب کہوں۔صرف تم۔۔۔
پہلے نو رالہی تھے۔اُن سے میں کچھ نہیں بھی کہتی تھی تو بھی دل و دماغ پر اتنا بو جھ نہیں ہوتا تھا۔اُن کا ہونا ہی کا فی تھا۔وہ چل پھر نہیں سکتے تھے،اُن کی دیکھ بھال میں میں اپنا سارا سارا دن نکال دیتی تھی۔وہ تھے تو میں زندہ تھی۔اب صرف سانس لیتی ہوں۔
وہ پچا س سال کے تھے اور میں اٹھا رہ سال کی،جب ہماری شادی ہو ئی۔مگر مجھے کو ئی رنج نہیں تھا اُن سے شادی پر۔مجھے سائبان چاہیے تھااور اُنہیں ساتھ۔میں نے اپنی ساری زندگی سسکتے ہوئے گزاری تھی۔نور الہی سے شا دی کے بعد کم از کم میرے شوق کو تسکین ضرور ملی تھی۔مگر وہ روگ جو میری جان کو چمٹ گیا تھا اُس کا میں کچھ نا کر سکی۔اُس کا وقت بھی کچھ نہیں کر سکا۔وہ آج تک مجھے گرداب میں لیے ہوئے ہے۔اب تو میں ہاتھ پاؤں مارنے سے بھی قا صر ہوں۔
اور یہ ہتف جو نو رالہی کا رشتہ دار بن کرآیا ہے،یہ سمجھتا ہے میں بے وقوف ہوں۔تبھی یہ کتنے آرام سے وہ تصویر نو رالہی کے کمرے سے نکال لے گیا۔مگر وہ یہ نہیں جانتا میں سب کچھ ہوں لیکن بے وقوف بالکل نہیں۔اُسے نو ر الہی کے کمرے تک کا راستہ میں نے خود فرا ہم کیا تھا۔میں دیکھنا چا ہتی تھی آخر وہ کس حد تک جاتا ہے۔اور اُس کی حد میں نے جان لی۔
نو ر الہی نے اپنے خاندان کی مر ضی کے خلاف مجھ سے شادی کی تھی۔بہت سال پہلے وہ اپنے خاندان سے کٹ آف کر گئے تھے۔مگر اُن کا وہ بھا ئی جن کا حوالہ ہتف دیتا ہے،جن کا بیٹا بن کر وہ یہاں آیا ہے۔وہ سب فریب ہے۔نو رالہی کے چھو ٹے بھا ئی بہت سال پہلے نیو یاک ضرور چلے گئے تھے مگر اُن کے ساتھ نو رالہی مسلسل را بطے میں تھے۔اور میں جا نتی تھی کہ اُن کے بھا ئی کے بچوں میں سے صرف ایک بیٹی تھی جو زندہ بچی تھی۔کیونکہ نیو یاک جانے کے کچھ عر صے بعد اُن کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا اور اُن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی جان بحق ہو گئے تھے۔ہتف ہوم ورک کر کے آیا تھا لیکن اتنا نہیں جتنا سب کچھ میں جا نتی تھی۔سب کا خیال تھا نو رالہی اپنی فیملی میں سے کسی کے بھی ساتھ رابطے میں نہیں تھے،اس لیے ہتف نے اس بارے میں زیادہ غورو خوض بھی نہیں کیا ہوگا۔
اور جب وہ جان گیا ہے تو وہ کیا کرے گا۔میں نے اُس کو مکمل آزادی دے دی ہے۔تم سو چ رہی ہوں گی میں کیسے اپنے آپ یہ سب کر سکتی ہوں۔کیسے اپنی زندگی کی کہا نی کا سودا کر لیا میں نے۔۔۔۔
میں تمہیں کیسے بتا ؤں کہ سب میں نے کیسے کیا۔دل پر پتھر رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ کڑے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔جو کھن اُٹھانے پڑتے ہیں۔
میرے لیے یہ کرنا آسان نہیں تھا۔مگر میں اب تھک گئی ہوں۔سانس لینا تک دشوار ہو گیا ہے میرے لیے۔اب تک دل پر بو جھ برداشت کرتی آئی تھی،روح کے بو جھ کا کیا کروں۔روح سیراب ہو کر نہیں دے رہی۔دن بہ دن پیاس کیوں بڑھتی جا رہی ہے۔جیسے میں کسی تپتے صحرا میں کھڑی ہوں۔جس کا نہ تو کو ئی آغاز ہے نہ انجام۔بس تا حد نگاہ ریت ہی ریت ہے۔آنکھوں کو چھلنی کر دینے والی ریت۔میں نے اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا،اور کچھ نہیں کر رہی۔پر یہ پیا س۔۔یہ چھبن۔۔۔یہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔
میں اسی لیے تم سے کہتی ہوں تم چپ مت رہنا۔تم چپ رہو گی تو زندگیاں اُجڑ جا ئیں گی۔تم وہ سب کرنا جو میں چا ہتی ہوں۔تم کرو گی نا؟
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
۲۰۱۶/۸/۵
آج میں ایک بار پھر اُس علاقے میں گئی تھی جہاں کے مکینوں کی آنکھیں میرے آنے سے یوں جگمگانے لگتی ہیں جیسے اُنہوں نے ستارے پاہ لیے ہوں۔اور میری آ نکھیں۔۔۔ اُن آ نکھوں کی دمکتی ہو ئی رو شنی سے جھل مل کر نے لگتی ہیں۔مجھے جیسے سانس آنے لگتا ہے۔جب میں لڑکیوں کو اُن کی مطلو بہ کتا بیں پکڑاتی ہوں۔
پسماندہ علاقے کی وہ لڑکیاں جب کو ئی کتاب مجھ سے منگواتی ہیں تو مجھے لگتا ہے میں نے اُنہیں ایک مسلسل عذاب سے نجات دلائی ہو۔وہ عذاب جو بر سوں سے میں جھیل رہی ہوں۔میں چا ہتی ہوں جب تک میں زندہ ہوں کتا بیں فرا ہم کر تی رہوں تا کہ پھر کو ئی تسکین مراد پیدا نہ ہو۔کبھی کو ئی لڑکی وہ قدم نہ اُٹھا ئے جو میں نے اُٹھایا۔کبھی وہ اپنے اندر پلتے ہوئے بے لگام شوق کی بھینڈ نہ چڑھے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہتف پلیز مجھ سے اپنی سو کالڈ ر یسر چ کے بارے میں کو ئی سوال مت کرنا۔تم جانتے ہو میں تمہیں اس قسم کے کسی سوال کا کو ئی جواب نہیں دو گی۔
لا ؤ نج کا دروازہ کھول کر ایک سرسری نظر ہتف پر ڈالتے ہوئے اُس نے اُونچی آواز میں بیان جا ری کر دیا تھا اور تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے سامنے صوفے پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔اپنے پیچھے اُسے ہتف کے قدموں کی چاپ سنا ئی دی تھی۔
میں آپ سے کو ئی سوال جواب کرنے نہیں آیا ہوں۔ تسکین کو اُس کے لہجے میں بے چار گی سی محسوس ہو ئی تھی۔ہاتھ سے اُسے اپنے سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اُس نے پھر سے اپنے سامنے پھیلے کا غذات پر تیزی سے دستخط کرنا شروع کر دئیے تھے۔
تو پھر ۔
بس یو نہی۔دل چاہا کے کچھ دیر بیٹھ کر آپ سے باتیں کروں۔ ہتف اب کچھ آرام دہ انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
اچھا۔ تسکین نے اپنی بھنوں کو خم دیا تھا اور کچھ استہزائیہ انداز میں اُس نے ہتف سے کہا تھا۔لیکن اپنی نظر اُس نے کا غذات پر ہی جما ئی رکھی تھی۔
ہاں ایک چڑیل سے باتیں کرنے کو۔ ہتف نے ہنس کر اضا فہ کیا تھا۔
تسکین نے ابرو اچکا کر اُس کی طرف نظر کی نظر دیکھا تھا اور ایسی نظرسے دیکھا تھا ،اگر زیادہ فر ی ہونے کی کو شش کی تو دانت تو ڑ دوں گی۔ہتف کی ہنسی کو بریک لگے تھے۔کچھ کھسیانا سا ہو کر وہ صوفے پر آگے کو ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
درا صل تسکین میں آپ سے کچھ کہنا چا ہتا ہوں۔بلا آخر ہتف نے اُس سے کہا تھا۔ہاں کہو۔ تسکین نے فا ئل کا صحفہ پلٹا تھا اور دونوں ہاتھوں سے فا ئل کو اُٹھا کر اپنی گو د میں ٹرا نسفر کرتے ہوئے وہ صوفے پر پاؤں اُوپر کر کے بیٹھ گئی تھی۔ہتف کچھ بے چین ہو ا تھا۔وہ فائل میں یوں گم تھی جیسے ہتف اُس کے سامنے مو جود ہی نا ہو۔
میں آپ سے ضرو ری بات کرنا چا ہتا ہوں۔اس بار اُس نے کچھ جھنجھلا کر تسکین سے کہا تھا۔
ہتف کہو میں سن رہی ہوں۔
ایک گہری سانس لیتے ہوئے ہتف نے کہنا شروع کیا تھا ،وہ جان گیا تھا کہ تسکین اپنے کام چھو ڑ کر تو اُس کی کو ئی بات سننے والی نہیں۔
کچھ لمحے تسکین اُس کے بات شروع کرنے کا انتظار کرتی رہی لیکن جب اُسے ہتف کی طرف سے کو ئی پیش رفت ہو تی ہو ئی نظر نا آ ئی تو وہ بے چین ہو ئی لیکن اپنے تا ثرات وہ اب بھی اُس سے چھپا گئی تھی۔
میں یہ بات کبھی بھی شاید آپ سے نہیں کہہ سکتا۔ ایک گہر ی سانس خارج کرتے ہوئے بلا آخر اُس نے کہا تھا۔ میں اگر آپ سے ایسی کوئی بات کروں گا تو آپ مجھے بھی اُن مردوں میں شمار کر نے لگیں گی جو کسی نا کسی وجہ سے آپ تک رسا ئی حا صل کرنا چا ہتے تھے۔
تسکین کچھ مزید اپنی فا ئل پر جھکی تھی۔وہ اُس کی طر ف دیکھنا نہیں چا ہتی تھی۔لیکن پو ری طر ح اپنی فا ئل پر جھکے ہو نے کے با وجود بھی وہ ہتف کی ایک ایک حر کت کو اپنی نظروں میں رکھے ہوئے تھی۔وہ غیر معمولی حد تک سنجیدہ تھا اور کنفیوژ بھی ،وہ محسوس کر سکتی تھی۔
اس لیے میں آپ سے کچھ نہیں کہوں گا۔ تیزی کے ساتھ کہتے ہوئے وہ صوفے سے اُٹھا تھا اور لمبے لمبے ڈنگ بھر تا ہوا وہ لا ؤنج کے دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
فائل پر جھکے ہوئے ہی تسکین نے محسوس کیا تھا وہ رُکا تھا۔
بلا آخر پین کا ڈھکن کھو لتے ہوئے تسکین نے چند کا غذات میں سے ایک کا غذ با ہر نکالا تھا اور اُس پر دستخظ کرنے لگی تھی۔اُس کے ہاتھوں کی لرزش بڑی واضح تھی۔چند لمحوں پہلے وہ بغیر کسی لرزش کے دستخط کر تی جا رہی تھی۔اب کیا ہوا تھا،وہ خود بھی یہ سمجھنے سے قا صر تھی۔بلا آخر کا غذ پر آخر ی د ستخط اُس نے اپنے ہاتھوں کی شد ید کپکپا ہٹ کے با وجو د کر دئیے تھے۔
کچھ دیر پہلے اُس نے محسوس کیا تھا ہتف رُکا تھا۔لیکن وہ یہ نہیں محسوس کر پا ئی تھی وہ نا صرف رُکا تھا بلکہ پیچھے مڑ کر چند ساعتوں کے لیے پتھر کا مجسمہ بھی بنا تھا۔وہ مجسمہ صدا تھا۔وہ آواز کا پر وانہ تھا جو بنا کہے ہی پلٹ گیا تھا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
۲۰۱۶/۱۰/۲
میں نے تم سے کہا تھا نا میں کمزور نہیں پڑوں گی۔دیکھو۔۔دیکھو مجھے میں کیسی بہا دری دکھا آ ئی ہوں۔تمہیں پتہ ہے مجھے دل تو ڑنے کا ہنر نہیں آتا مگر میں تمہیں ایک بات بتا ؤں مجھے تو دل جو ڑنے کا ہنر بھی نہیں آتا۔میں آرزردہ ہوں۔میں بے مول ہوں۔مگر سیپ میں بند مو تی بننا چا ہتی ہوں۔پر میں تو وہ مو تی بن گئی جسے بند سیپ میں ہی گر ہن لگ گیا۔اب اپنی پسماندہ آب و تاب لے کر میں کہاں جا ؤں۔چمکنے والے ،شفاف مو تی تو سب کو بھاتے ہیں ،میں اپنے داغ دار وجود کا کیا کروں؟؟؟
میں شفا بھی نہیں،میں تشفی بھی نہیں میں آہ کیسے بن جا تی میں تو تسکین ہی رہی۔ساری زندگی تسکین کے پیچھے ہی بھا گتی رہی۔
تمہیں پتہ ہے اس دنیا میں سب کچھ بس پیسے والے لو گوں کے لیے ہے حتی کہ کتا بیں بھی۔کتا بوں پر تو سب کا حق ہونا چا ہیے نا کیا امیر کیا غریب۔غریب اپنے بچوں کو پیلے سکولوں سے لکھنا پڑھنا تو سکھا دیتے ہیں پر اُن کی پیاس نہیں بجھا پاتے۔وہ اُن کے اندر صرف پا نی کی شدید خواہش کو جنم دیتے ہیں اس سے زیادہ نا وہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں نا استطا عت ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟تم نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے؟؟
میں نے سوچا ہے۔۔
تم جا نتی ہوسوچنا اور آگہی کے مراحل طے کرنا کو ئی آسان کام نہیں ہوتا۔یہ چیزیں جینا حرام کر دیتی ہیں۔پھر زندگی مشکل لگنے لگتی ہے۔میں بھی جب آگہی کے دور سے گزرتی ہوں پل پل تڑپی ہوں۔میرا دماغ ما ؤ ف ہو جا تا ہے کہ آخر کیوں۔۔۔
کتا بیں پڑھنا صرف امیروں کا شوق ہی کیوں؟؟
اُن پر حق جتا نا اُنہیں اپنی دسترس میں رکھنا آخر پیسے والوں کا حق ہی کیوں؟؟
کیوں کہ یہ معاشرہ نفسا نفسی کہ چرا غوں تلے پھل پھول رہا ہے۔
کتا بیں پڑھتے ہیں پر عمل نہیں کرتے۔
لو گ صرف بڑی بڑی با تیں کرتے ہیں یا لکھتے ہیں عمل کرنے کے کڑے مرا حل سے نہیں گزرتے۔اگر گزر جا ئیں تو ۔۔۔تو کبھی کسی تسکےن مراد کو آگہی کے در پار نا کرنا پڑیں۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
صبح سے ہی نو ر ولا سے عجیب طر ح کا شور اُٹھ رہا تھا۔تپتی دو پہر میں مزدور عما رت کی دیواریں گرانے میں مصروف تھے۔ماتھے پر آئے پسینے کو ہاتھ سے نیچے زمین پر ٹپکاتے ہوئے وہ اُس عا لی شان اور قیمتی عمارت کو تقریبا زمین بوس کر چکے تھے اور اب اینٹوں کو اُکھا ڑ اُکھا ڑ کر پھینکتے جا رہے تھے۔اُن کے سر پہ کھڑا ٹھیکدار اُنہیں محتلف ہدایات بھی دیتا جا رہا تھا۔غر ض کہ وہاں موجود ہر شخص بے انتہا مصروف تھا۔دفتا گھر کے پچھلے حصے کی طرف سے ایک مزدور کی آواز سنا ئی دی اور اُس کے ساتھ ہی چند اور مزدورں کی بھی،وہ لوگ وہاں پچھلے ایک گھنٹے سے کھدا ئی کرنے میں مصروف تھے تا کہ وہاں نئی بننے والی عمارت کا کچھ حصہ تعمیر ہو سکے۔ٹھیکدار کے وہاں پہنچنے تک وہ آوازیں سر گو شیوں سے اب اُو نچی بے ہنگم آوازوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔
کیا ہوا کھدائی کیوں رو ک دی؟ٹھیکدار کا لہجہ تشویش سے پُر تھا۔
صاحب ہم نے ابھی یہ والے حصے کی صفا ئی شروع کی ہی تھی کہ ہمیں یہ ملا۔ ایک مزدور آگے بڑھ آیا تھا اور ٹھیکدار کو لیتا ہوا مزدورں کو پیچھے کرتا کھددائی والے حصے تک پہنچ گیا۔وہاں تک پہنچنے کی دیر تھی ہتف کو تو جیسے سانپ سو نگھ گیا۔بے اختیار اُس کے قدم اُس تھو ڑے سے کھودے ہوئے حصے کے قریب اُٹھے تھے۔مٹی کے اُکھڑے ہوئے حصے سے سفید سفید کاغذ جھا نک رہے تھے۔وہاں پر ایک گڑھا کھو دا گیا تھا جو تقریبا پا نچ فٹ گہرا تھا۔اُس پا نچ فٹ گہرے گڑھے میں ایک ہی طر ح کے کئی بے شمار مسودے پڑے تھے۔ہتف ابھی تک بے یقین سا اُن مسودوں کو گھو ر رہا تھا۔پل بھر میں وہ ساری کہا نی سمجھ گیا تھا۔اُسے یاد آیا تھا ایک رات وہ تسکین کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے اس حصے کی طر ف آیا تھا تب وہ نا مراد لو ٹا تھا۔
مزدوروں کو پیچھے ہٹاتا ہوا وہ زمین پر پنجوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔چند منٹ بعد وہ وہاں سے ہٹا اور مزدوروں کو اُن مسودوں کو باہر نکالنے کے لیے کہا۔کچھ ہی دیر بعد وہ سب مسودے اُس کی گا ڑی میں منتقل کر دئیے گئے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس وہ اسٹڈی ٹیبل پر تقریبا شل سا بیٹھا تھا۔صبح کے نکالے گئے مسودوں کا ڈھیر اُس کے ارد گرد بکھرا پڑا تھا اور خود وہ ڈائری پر جھکا بنا پلک جھپکائے اُسے پڑھنے میں مصروف تھا۔وہ رات سے تقریبا ایک ہی پو زیشن میں بیٹھا تھا۔ڈائری کا آخر ی صفحہ پلٹنے کہ بعد اُس نے ڈائری کو ایک طرف کھسا دیا اور پیچھے کو ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ذہن میں بس ایک ہی نام کی باز گشت دھکم پیل مچا رہی تھی،آنکھیں بس ایک ہی انسان کی صورت دکھا رہیں تھیں۔اُس کے ارد گرد یادیں بکھریں پڑیں تھیں۔وہ ہر ایک یاد میں بھنور کی طر ح گھوم رہا تھا۔
میں نے یہ گھر ڈونیٹ کر دیا ہے۔جب بھی میں مر جا ؤں گی یہاں پر ایک لا ئبر یر ی بنا دی جا ئے گی۔میں چا ہتی ہوں ہتف جب اس گھر کو گرایا جائے لا ئبر یری بنانے کے لیے تو تم یہاں منتظم کے انتظامات سنبھالو۔اسے میر ی آخر ی خواہش سمجھ کر قبول کر لینا۔
ہتف انیکسی میں اپنا سامان پیک کرنے میں مصروف تھا جب تسکین انیکسی میں چلی آئی تھی۔ہتف اُس کے آنے سے حیران نہیں ہوا تھا۔تسکین اب اُسے حیران نہیں کر تی تھی۔یہ ہتف کی بھول تھی۔
ہتف نے اُس سے بیٹھنے کے لیے نہیں کہا تھا اور نہ ہی وہ خود بیٹھی تھی سٹنگ ایریا کی کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی تھی۔باہر شام کا ہلکا دھند لکا چھا رہا تھا۔اُونچے لمبے سفیدے کے درخت عجیب ہیبت ناک سے دکھا ئی دے رہے تھے۔تسکین بنا کچھ بولے پچھلے با غیچے کو عجیب کھو ئی کھو ئی سی کیفیت میں دیکھ رہی تھی۔ہتف چپ چاپ اپنی چیزیں اکٹھی کر کے اُنہیں ایک بیگ میں بھرنے میں مصروف تھا وہ تسکین کو دیکھنے سے احتراز برت رہا تھا ۔یکدم اُسے تسکین کی آواز سنا ئی دی تھی۔وہ اُس سے جو کہہ رہی تھی وہ اُس کے لیے نا قابل یقین تھا۔لیکن پھر بھی وہ اُس سے کچھ نہیں پایا تھا ،کہہ ہی نہیں سکتا تھا۔تسکین اُس کے لیے کسی جا دو گر نی سے کم نہیں تھی وہ بو لتی تھی تو ہتف اُس کے لفظوں کے ہیجوں میں لپٹ لپٹ جاتا تھا وہ اُس کے لہجے کے اُتار چڑھا ؤ میں چکر کا ٹنے لگتا تھا۔اب بھی تسکین بول رہی تھی تو ہتف کیسے صدا بلند کرتا ۔
اپنی بات کہنے کے بعد تسکین وہاں رُکی نہیں تھی وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔پیچھے ہتف نے اپنا سامان تیزی سے پیک کرنا شروع کردیا تھا وہ مزید وہاں نہیں رُک سکتا تھا ،رُک جاتا تو قیامت بر پا ہو جا تی ۔وہ وہاں تسکین کی کھو ج لگانے آیا تھا وہ خود کھو گیا تھا اور جو وہ کھو یا تھا وہ کبھی نا ملنے والا تھا ۔۔وہ اپنی رُوح کھو آیا تھا جسے اب ساری عمر اسی عمارت میں چکر کا ٹنے تھے بالکل ویسے ہی جیسے تسکین کی رُو ح ۔۔۔
اس سے آگے وہ سوچ نا سکا بیگوں کو گھسیٹتے ہوئے وہ انیکسی سے باہر نکل آیا تھا ،گا ڑی میں بیٹھتے وقت اور سٹیرنگ سنبھالتے ہوئے وہ ہر چیز سے نظریں چرا رہا تھا ۔سامنے پھیلی ہوئی بلند و بانگ عمارت سے۔۔۔ ،لان میں اُگی ہو ئی بے انتہا سبز گھاس سے۔۔۔ ،اونچے لمبے سفیدے کے درختوں سے اور اُوپر ی منزل کے ایک کمرے سے جھا نکتی دو آنکھوں سے جو اب بھی کھڑکی کے ساتھ لگے میز پر بیٹھی تھی اپنے سنہری قلم کو ماتھے سے رگڑتے ہوئے وہ نیچے اُن دو آنکھوں میں کچھ ڈھونڈنے کی کو شش کر رہی تھی ۔اُس کی آنکھیں نہ کامیاب لو ٹی تھیں نہ ناکام ۔مگر اُس کے بت جیسے وجود میں کو ئی حرکت نہیں ہو ئی تھی حالانکہ گا ڑی گیٹ سے نکل کر دور سڑک پر دوڑتی چلی گئی تھی۔تسکین ساکن بیٹھی رہ گئی تھی۔اور انیکسی کے ایک کمرے میں وہ نو ٹ بک دو حصوں میں پڑی تھی جس میں ہتف اپنی روزانہ کی گئی ریسرچ کو بڑی دلجمعی سے لکھتا تھا اور اب وہ کمرے میں ادھر اُدھر بکھر ی پڑی تھی۔جس کے اوراق کھلی کھڑکی سے آتی ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے اور کمرے میں عجیب پرسرار سی سر سرا ہٹ طا ری کر رہے تھے۔
۰۰۰۰۰۰۰
لا ئبر یر ی کی عمارت تیز ی سے اپنی اختتام کی جانب گا مزن تھی۔تپتی دوپہر تلے مزدور پسینے میں شرابور مگن سے اپنے کام کو اُس کے انجام تک پہنچانے میں مصروف تھے۔عمارت کے مرمت والے حصے سے کچھ دور سفیدے کے درخت تلے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ہاتھ میں پکڑی ڈائر ی کو وہ ابھی تک کھول نہیں سکا تھا یوں جیسے شش و پنج میں مبتلا ہو ۔یکدم اُس نے سر اُٹھا یا تھا دور خلا میں دیکھتے ہوئے اُس نے ٹھنڈی سانس خارج کی تھی اور ڈائر ی کو کھول لیا تھا۔چند صفحات پلٹنے کے بعد وہ ایک صفحے پر جھک گیا تھا۔پھر وہ تب تک اُس ڈائر ی پر جھکا رہا جب تک کہ رات گہر ی نا ہو گئی اس دوران مزدوروں نے اُس کے پاس آکر اُس سے چند باتیں پو چھتے رہے تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیںاُٹھا تھا وہ وہیں بیٹھا رہا تھا۔اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے اندھیرے سے اب اُسے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔بلکہ اب وہ اُس اندھیرے کا جیسے کو ئی حصہ تھا۔کو ئی بہت ضروری عضو ۔۔جس کا نہ ہونا تکلیف میں مبتلا کیے رکھتا ہے۔لیکن اب جب وہ وہاں تھا تو سکوت طا ری تھا ہر شے پر ،کو ئی پر سکون سا لمحہ آکر جیسے وہیں کا ہو کر رہ گیا تھا۔اور پھر وہ صبح تک وہیں بیٹھا رہا تھا۔اُسی سکون بھرے لمحے کے ساتھ قطرہ قطرہ پگھلتے ہوئے۔گود میں رکھی ڈائری کو سینے سے لگاتے ہوئے وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا تھا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ عین اُسی جگہ جا کر بیٹھ گیا تھا جہاں ایک عرصہ تک تسکین اپنی لکھی ہوئی کہانیاں دبا تی رہی تھی۔وہ جگہ ابھی تک کچی تھی وہاں ابھی تک تعمیر و مرمت کا کام شروع نہیں ہوا تھا۔نیچے زمین پر دو زانو بیٹھتے ہوئے اُس نے اپنی ہتھیلی میں تھو ڑی سی مٹی لی تھی ۔دوسرے ہاتھ سے سینے کو لگا ئی ہو ئی ڈائری کو اُس نے زمین پر رکھ دیا تھا۔ڈائری کا آخر ی صفحہ کھولتے ہوئے وہ کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا تھا اور پھر دا ئیں مٹھی میں دبی ہوئی مٹی کو اُس نے اُس آخر ی صفحے پر نر می سے گرا دیا تھا۔ڈائری کو آرام سے بند کرتے ہوئے وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔سورج کی کچھ کرنیں اُس کے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہو ئی تھیں۔اُسی رو شنی کی کرنوں کی لپیٹ میں وہ اُس جگہ سے دور ہو گیا تھا۔اُس کے ارد گرد روشنی اپنی لپیٹیں گہر ی کر تی جا رہی تھی۔پھر ایک لمحہ آیا وہ نظر آنا بند ہو گیا صرف روشنی تھی جو دور تلک مجسم چلتی جا رہی تھی۔
وہ معصم ارادہ کر کے اُٹھا تھا تسکین کی کہانیوں کو دنیا کے سامنے لائے گا اور نہ صرف ارادہ آنے والے کچھ عر صے میں وہ یہ کر بھی گزرہ تھا اور اُس کی ڈائری۔۔۔وہ ڈائری سنہر ی غلاف میں لپٹی ہوئی vast radiance library کے اُن تمام افراد کے لیے رو شنی کا منکعس ذریعہ تھی جو کہیں نا کہیں اپنی زندگی میں نور کی چاہ کرتے ہیں۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میں تمہیں صبح وہ کتاب بھجواتی ہوں۔میں نے پڑھ لی ہے بہت ہی عمدہ لکھا ہوا تھا یار را ئٹر نے میں تو اُس کے عشق میں گرفتار ہو گئی ۔
اُس کی نظر بے اختیار اسٹڈی ٹیبل تک گئی تھی جہاں وہ کتاب پڑی تھی جس کے بارے میں وہ اب اپنی مالکن کی بیٹی کے منہ سے سن رہی تھی۔جو کہ یقیناًاُس نے اپنی کسی دوست سے Borrow کی تھی۔یہ بات اُسے تب معلوم ہو ئی تھی جب وہ لڑکی فون پر اُس کتاب کے بارے میں تعریفوں کے پل با ندھ رہی تھی۔
یہ کتاب بہترین ہے ویسے تو اس را ئٹر کی تمام کتا بیں ہی بے مثال ہیں لیکن یہ والی تو اُن سب پہ بھا ری ہے۔
وہ کمرے کی صفا ئی کرنے میں مصروف تھی لیکن اُس کا سارا دھیان اُس لڑکی کی آواز پر تھا۔اور اُس کا اشتیاق بڑھتا ہی جا رہا تھا۔اُس کے دماغ میں عجیب طر ح کے خیال ادھر سے اُدھر کو دتے پھر رہے تھے۔
کل یہ کتاب یہاں سے چلی جائے گی مجھے اسے چھپا کر لے جانا چا ہیے۔بے اختیار اُس کی نظر اپنی مالکن کی بیٹی پر پڑی تھی۔وہ اُسی طر ح بیڈ پر پا ؤ ں پھسارے ایک ہاتھ سے فون کان کو لگا ئے دوسرے سے اپنے بالوں کی لٹ کو انگلی میں لپیٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی دوست کے ساتھ محو گفتگو تھی۔
اگر بیگم صاحبہ کو پتہ چل گیاتو ۔۔۔تسکین سر سے پیر تک لرز اُٹھی۔
اور اس میں فلا سفی سے بھر پور جملے۔۔۔افوہ۔۔
اس جملے نے تسکین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔میز کی شفاف سطح کو کپڑے سے رگڑتے ہوئے وہ اُس کتاب کو اپنے دل و دماغ پر حا وی ہوتا
دیکھنے لگی۔وہ نظر نہیں اُٹھا پا رہی تھی وہ کتاب اُسے ہر جگہ نظر آ رہی تھی۔چور نظروں سے اپنی مالکن کی بیٹی کی طر ف دیکھنے پر اُسے احساس ہوا وہ فون بند کر چکی تھی اور بیڈ سے اُٹھتے ہوئے وہ کمرے کے وسط میں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ڈریسنگ سے ہےئر بر ش اُٹھا کر اُس نے اپنے جدید کٹ بالوں کو سنوارا تھا۔
تسکین ممی آئیں تو اُنہیں بتا دینا میں اپنی فر ینڈ کی طر ف جا رہی ہوں۔
جی اچھا ۔میز کی سطح کو بظاہر دلجمعی سے رگڑتے ہو ئے اُس نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اُس سے کہا تھا۔
ایک بار پھر سے اُس نے چور نظروں سے لڑکی کی طرف دیکھا تھا وہ کمرے سے باہر نکل رہی تھی۔پیچھے تسکین اکیلی رہ گئی تھی۔اُس کا دل بے انتہا زور سے دھڑک رہا تھا۔لیکن ابھی تک وہ کتاب اُس کی نظروں سے اُوجھل نہیں ہو ئی تھی۔بلا آخر وہ اُٹھی تھی۔کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اُس نے وہ کتاب اُٹھا لی تھی۔کپڑے میں کتاب کو چھپا تے ہو ئے وہ ڈرتے ڈرتے سیڑھیاں اُتر رہی تھی۔حلانکہ وہ جا نتی تھی گھر میں اس وقت اُس کے ایک دو اور ملا زموں کے سوا کو ئی نہیں تھا۔وہ چپکے سے کچن میں آ گئی تھی۔اُس نے ایک شاپر میں اُس کتاب کو ڈال لیا تھا جس میں کچھ دیر پہلے اُس کی مالکن اُسے بچے ہوئے کچھ چا ول اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء دے کر گئی تھی۔شاپر کو کچن میں ایک طرف رکھنے کے بعد وہ واپس کام کرنے میں مصروف ہو گئی تھی۔اُس کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔بار ہا اُس کی نظر کچن کی طر ف اُٹھتی تھی۔لیکن وہ بچ گئی تھی اُسے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
پھر اُس دن وہ سارا دن ڈرتی رہی تھی لیکن جیسے ہی شام ہو ئی وہ اپنے گھر کو سر پٹ بھا گی تھی۔وہ ایک بار پھر سے کامیاب رہی تھی ہمیشہ کی طرح۔
بالکل ہمیشہ کی طر ح۔۔۔
۰۰۰۰۰۰۰۰