ناولٹ “ماسٹر جی” از زرق زیب۔

فروری کا مہینہ تھا ٹھنڈی ٹھنڈی متوالی ہوائیں چل رہی تھیں فلک برابر نے سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی رات کو خوب بارش برسی تھی جس کی وجہ سے پورا شہردھل کر صاف ہو گیا تھا ۔ وہ اسٹاف روم میں براجمان اخبار کے مطالعہ میں غرق تھا۔ عمر پچاس سے اونچی تھی قد اگرچہ درمیانہ تھا لیکن توند نکلنے کی وجہ سے ٹھگنا معلوم ہونے لگا تھا۔ آدھے سے زیادہ سر کے بال غائب ہو چکے تھے اور جو رہ چکے تھے ان میں چاندی اتر چکی تھی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو سنہری فریم کی آنکھ میں چھپا لیا تھا۔
ماسٹر جی نے دائیں جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی اور سگریٹ سلگا کر دھواں فضا میں بکھیر دیا۔ سگریٹ نوشی اگرچہ اسکول میں منع تھی مگر انہیں اس کی لت لگ چکی تھی۔ ماسٹر جی کے والد مولوی قمر جو کہ اس شہر میں امام مسجد تھے باوجود اس کے ان کی مالی حالت ناگفتہ با تھی وہ اپنی علمیت کی بنا پر پورے شہر میں مانے جاتے ۔ماسٹر جی کی تعلیم و تربیت مولوی صاحب نے ہی کی تھی۔ ماسٹر جی کی ماں اب وہاں ہیں جہاں ہماری نیک تمنائیں پہنچ سکتی ہیں ۔ادھر ماسٹر جی نے آنکھیں کھولی تھی تو ادھر اس کی ماں نے آنکھیں موند لی تھی۔ صدقے پنجتن کے مولوی صاحب نے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی دینی اور دنیاوی تعلیم سے بہرہ فرمایا ابھی ماسٹر جی بیس کے ہوئے تھے تو مولوی صاحب اپنی بیوی کے پہلو میں جا کر سو گئے۔ ماسٹر جی دنیا میں تنہا رہ گئے تھے جب وہ بیمار پڑتے تو کوئی تیماداری کو نہ ہوتاہوٹل سے کھانا کھاتے اور کبھی کبھی میاں جی جو برابر کے مکان میں رہتے تھے ان کو کھانا بھجوادیتے، میاں جی جن سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی قرابت داری اور بڑھنے لگیں۔ ماسٹر جی کو سگریٹ کی لت انہیں ان کی صحبت سے پڑی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ماسٹر جی قریبی سکول میں بھرتی ہوگئے تب سے لے کر اب تک وہ ماسٹر جی کہلوائے چھوٹا بھرا بوڑھا ہر کوئی ان کو ماسٹر جی ہی کہتا ماسٹر جی کا اصل نام کیا تھا وہ خود بھی بھول چکے تھے۔
ماسٹر جی کا تخیل تب ٹوٹا جب بابا فضلوں نے درخت کے ساتھ لٹکے گھنٹی پر لوہے کا ہتھوڑا دے مارا تھاجس کی آواز بچوں کے شور میں کہیں گم ہو گئی اور دیکھتے دیکھتے بچوں کا سیلاب امڈ آیا ماسٹر جی سائیکل پر سوار ہوگئے اور بچوں کے ساتھ چل پرے ماسٹر جی کو سائیکل اپنی پہلی محبت کی طرح عزیز تھی وہ اسکی وجہ سے تمسخر کا نشانہ بنتے لیکن ماسٹر جی کبھی برا نہ مانتے اور ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ کون کمبخت اپنی پہلی محبت کو بھول سکتا ہے بولنا تو دور کی بات میں تو اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ مولوی صاحب جب نیازی صاحب کے ہاں ان کے بیٹے کو قرآن شریف کی تعلیم دینے جایا کرتے تھے تو تب نیازی صاحب نے انہیں اپنے بیٹے کو قرآن شریف مکمل کروانے پر بطور انعام دی تھی مولوی صاحب کے مرنے کے بعد ماسٹر جی کو یہ سائیکل وراثت میں ملی تھی۔
آج مہینے کی پہلی تاریخ تھی۔ پہلی تاریخ کا سورج چڑھتے ہی ماسٹر جی کے من میں ڈوبی ہوئی امنگیں جاگ اٹھتی اۤسمان جو منہ بسورے تھا اب رونے لگا تھا ماسٹر جی بینک تک پہنچے ہی بھیگ چکے تھے ماسٹر جی نے سائیکل کھڑی کی اور بینک کے داخلی دروازے میں قدم رکھا بینک میں غضب کا ہجوم تھا ماسٹر جی ابھی جیب سے چیک نکالنے ہی والے تھے کہ ماسٹر جی کو آواز سنائی دی ماسٹر جی نے مڑ کر دیکھا تو رشید کی آواز تھی رشید ماسٹر جی کا ہم جماعت تھا بینک میں میں کیشیئر کے عہدے پر فائز تھا۔اُس نے منٹوں میں چیک کیش کروا دیا ۔ ماسٹر جی نے دل ہی دل میں اپنے ماسٹر جی ہونے کا شکر ادا کیا ۔
ماسٹر جی تنخواہ کو قارون کا خزانہ سمجھتے تھے۔ جیب میں ڈالتے رفوچکر ہوگئے بارش تھم چکی تھی لیکن بوندا باندی ابھی جاری تھی ۔ماسٹر جی بازار کے بیچ و بیچ گزر رہے تھے جہاں سے ماسٹر جی گزرے وہاں ہی سلام ماسٹر جی کی صدائیں بلند ہونے لگتیں ۔ ماسٹر جی کبھی سلام کا جواب دیتے اور کبھی چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ۔
ماسٹر جی کی نظر گوشت والی دکان پر پڑی۔ ”ہمارے چولہے پہ چھوٹا گوشت چڑھے کافی عرصہ بیت چکا ہے”
”جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے گذشتہ سال عید قربان مفتی اکمل صاحب نے بھجوایا تھا ”ماسٹر جی نے حسرت بھری ۔ انہوں نے دل ہی میں ٹھانی کہ اۤج گوشت لیکر ہی گھر جائیں گے جیب سے پیسے نکالنے لگے تو یاد آیا کہ لائبہ کی دوا لینی تھی جو کہ ڈاکٹر نے سختی سے تاکید کی تھی کہ ناغہ نا ہو ۔
کیونکہ ان کی جیب ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی اسلئے ارادہ بدلہ ماسٹر جی نے سبزی والے شاپر کو ڈنڈوں سے لٹکایا اور اور پیڈل مارتے بازار میں کہیں گم ہو گئے ۔شام کے اندھیرے جانے لگے تھے پرندے گھروں کو لوٹ رہے تھے شہر کے چراغ روشن ہوچکے تھے مسجدوں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ماسٹر جی سائیکل چلاتے اپنی گلی کے نقطہ تک پہنچے ہی تھے کہ انہیں رونے کی آواز سنائی دی ماسٹر جی تیزی سے گھر کے داخلی دروازے تک گئے۔
صحن میں کھڑے لوگوں کو دیکھ کر اور بھی حیران ہوگئے بھاگ کر اندر داخل ہوئے سائیکل ایک طرف پھینکی دیکھا تو لائبہ بے ہوش تھی جبکہ نسرین آنسوبہاتے ہوئے لائبہ کو تکتی جا رہی تھی۔ ماسٹر جی کو ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جس زمین پر وہ کھڑے ہیں وہ ان کے پاؤں سے نکل چکی ہے
”کیا ہوا لائبہ کو” ماسٹر جی نے پریشانی سے پوچھا
”اچانک سے لائبہ کی طبیعت بگڑ گئی ہے ماسٹر جی جلدی کریں
ہم لائبہ کو ہسپتال لے چلتے ہیں کہ خدانخواستہ دیر نہ ہوجائے” نسرین نے التجائیہ اندازمیں کہا ماسٹر جی نے اثبات سے سر ہلایا اور زمین پر گری سائیکل کو اٹھایا اور اس پر سوار ہوگئے نسرین بھی لائبہ کو گود میں لیے پیچھے بیٹھ گئی آسمان کو کالے بادلوں نے پہلے ہی کالا کیا ہوا تھا اچانک سے شمال کی طرف سے ہوا کا جھونکا آیا جس نے فرق کے آس پاس لگے اشجار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بارش برسنے لگی ماسٹر جی کے پیر بھی پیڈل پر تیزی سے حرکت کرنے لگے ماسٹر جی کی ہر ممکن کوشش تھی کہ لائبہ کو بچا سکے جیسے جیسے ماسٹر جی پاؤں سے پیڈلوں کو تیزی سے گھماتے بارش بھی اتنی تیزی سے برستی ماسٹر جی جب کبھی پیچھے مڑ کر لائبہ کو دیکھنے کی کوشش کرتے تو توازن بگڑنے لگتا اور سائیکل رُک جاتی۔
ماسٹر جی کو بارش کا ایک فائدہ ضرور ہوا چہرے پر پرنے والی بوندوں نے اس کے آنسوؤں کو چھپا لیا تھا ۔
بوچھاڑ سے لڑتے جھگڑتے وہ ہسپتال پہنچ گئے ماسٹر جی نے سائیکل کھڑی کی اور لائبہ کو گود میں لیکر ایمرجنسی کی طرف بھاگے نسرین بھی ماسٹر جی کے قدموں سے قدم ملانے کی کوشش کرتی نظر آئیں ایک گھنٹہ گزر چکا تھا ماسٹر جی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے تھے جبکہ نسرین کبھی خدا کے حضور دعائیں اور کبھی چکرکاٹنے لگتی ڈاکٹر صاحب ایمرجنسی سے باہر تشریف لائے تو ماسٹر جی اور نسرین ڈاکٹر صاحب کی طرف لپکے
”ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر صاحب ہماری بیٹی تو ٹھیک ہے” دونوں نے ایک آواز میں پکارا۔
”مریض کے دل کے دو وال بند ہیں” ڈاکٹر صاحب نے ایک نظر نسرین کی طرف دیکھا۔
”کیا ڈاکٹر صاحب کیا کہہ رہے ہیں” ماسٹر جی نے روتے ہوئے کہا ”یہی سچ ہے ماسٹر جی جو آپ سن رہے ہیں”
” آپ کو فوراً پانچ لاکھ کا بندوبست کرنا ہے” اتنی رقم تو انہوں خواب میں بھی نہ دیکھیں تھیں ماسٹر جی نے ہر اس کا دروازہ کھٹکایا جس سے وہ آشنا تھے۔ بیٹی کی زندگی کی بھیک مانگی لیکن سبھی نے انکار کر دیا۔
ستم ظریفی یہ تھی کہ کل ہی میٹرک امتحان میں سپریڈنٹ کی ڈیوٹی کے لیے دوسری ضلع روانہ ہونا تھا لیکن پیسوں کا انتظام ابھی تک نہ ہوسکا تھا ڈاکٹر صاحب بار بار اصرار کر رہے تھے کہ پیسوں کا بندوبست کیا جائے۔
ماسٹر جی اپنی بیٹی کو اس کے آسرے پر چھوڑ کر چل نکلے جس کے قبضہ میں ہماری جان ہے ۔
امتحانی مرکز طلبہ سے بھرگیا ماسٹر جی اپنے عملے کو پرچے کے متعلق ہدایات جاری کرنے لگے ۔ طلبہ پرچہ حل کر رہے تھے ماسٹر جی اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
” السلام علیکم ماسٹر جی ”
ماسٹر جی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مولاداد نے کہا۔
” وعلیکم السلام سر جی”
گردن موڑ کر دیکھتے ہوئے کہا ۔ اس نے اپنا تعارف کروایا۔ ماسٹر جی اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے
” جی فرمائیں” ماسٹر جی نے سپاٹ انداز میں کہا۔
”ایک درخواست لے کر آیا ہوں ماسٹر جی” چوہدری مولاداد نے بات آگے بڑھانے کی کوشش کی ۔
”میں کچھ سمجھا نہیں” ماسٹر جی نے پھر سوال کیا
”ماسٹر جی تو پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں نا ان کو بات بڑی جلدی سمجھ آجاتی ہے”مولاداد نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
”آپ کھل کر بات کریں ”
”ماسٹر جی باتیں بہت سی ہیں لیکن جگہ مناسب نہیں کیا ہم کسی اور جگہ بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں” چودھری مولاداد کی باتوں نے ماسٹر جی کی تشنگی بڑھا دی۔
” چلیں ہال سے باہر چلتے ہیں ویسے بھی یہاں بات کرنا مناسب نہیں ”
ماسٹر جی نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
” ہاں ماسٹر جی اور چوہدری مولا داد امتحان ہال سے نکل کر باہر برآمدے میں آ گئے۔
” ماسٹرجی میں پہیلیاں بھجوا نے والا بندہ نہیں ہوں بات کھڑی اور صاف کرنے کا عادی ہوں دراصل بات یہ ہے کہ ماسٹر جی میرا پوترا ادھر امتحان دے رہا ہے ۔ وہ پرچہ گھر بیٹھ کر حل کرے گا اور میرے ملازم آپ کو وقت سے پہلے پرچہ بھجوا دیں گے اتنی سی بات ہےاللہ اللہ خیر صلہ ایسا ”
”نہیں یہ نہیں ہوسکتا میں کسی صورت ایسا نہیں کرسکتا” ماسٹر جی نے غصے سے کہا۔
” ہاں کیوں نہیں ہوسکتا مسٹر جی ہم آپ کی خدمت بھی تو کریں گے آپ کو تو پیسے کی بھی ضرورت ہے ہمیں معلوم ہے آپ کی بیٹی بیمار ہے”
” آپ کو کیسے معلوم ہوا ”
”چودھری مولاداد نام ہے میرا میں اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہوں آپ ہمارے پوتے کی فکر کریں ہم آپ کی بیٹی کی فکر کرتے ہیں”
”میری بیٹی کی فکر کرنے والا میرا رب موجود ہے چوہدری مولاداد صاحب اور ہ ہاں میں بکاؤ مال نہیں میں نے ساری زندگی لوگوں کو دیانتداری کا سبق دیا ہے اور آج خود یہ سب۔۔۔۔۔ ” ماسٹر یہ سب کہتے ہوئے چل پڑے زندگی بھی امتحان لیتی ہے ایک طرف اسپتال میں پری بیٹی اور دوسری طرف اس کے علاج کے لئے رشوت کا لالچ پر ماسٹرجی کا ضمیر ایک بار بھی بےایمان نہ ہوا۔
دو دن گزر گئے تھے لائبہ کی طبیعت ناساز ہوتی جارہی تھی ڈاکٹر صاحب نے بول دیا تھا اگر بائی پاس نہ ہوا تو لائبہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو سکتی ہے۔ ہمیشہ ماسٹر جی کی بیوی ان کو ان کی ایمانداری پر ملامت کرتی رہی۔ما سٹرجی کو بار بار ان کی شرافت اور ایمانداری کا طعنہ دیتے ہوئے ان لوگوں کو مثالیں دیتی جنہوں نے اپنے ضمیر کو سودا کرکے ایسے عزت والی زندگی چنی تھی ۔ کسی چیز کی فرمائش کی تو ماسٹر جی پہلی تاریخ کا انتظار کرنے کو کہہ دیتے۔ جس پر نسرین بیزاری کا اظہار کرتی ۔ ماسٹر جی شکر کا دامن نا چھوڑتے اور ہمیشہ نسرین کو یہ کہہ کر چپ کروا دیتے کہ دنیا میں وہ بھی لوگ موجود ہیں جنہوں نے پہلی تاریخ کا منہ بھی نہیں دیکھا۔
اگلے دن ہی ماسٹر جی اپنی بیٹی کا حال جاننے اسپتال پہنچے لائبہ زندگی اور موت کی کشمکش میں جی رہی تھی ڈاکٹر صاحب نے دوا کی پرچی ماسٹر جی کو تھما دی ماسٹر جی کی آنکھوں سے بے بسی دکھ رہی تھی ۔ انہوں نے دکھ کے ساتھ اپنی جیب میں موجود وہ آخری دو سو روپے دیکھے ۔
ماسٹر جی بھیگی آنکھوں کے ساتھ سائیکل پر چل پرے چلتے چلتے بہت دور نکل آئے اتنی تیزی سے سائیکل انہوں نے کبھی نہیں چلائی ،سڑک پر گاڑیوں کا رش تھا ماسٹر جی اس سے بالکل بے خبر نظر آرہے تھے سائیکل کے پہیے تیزی سے چل رہے تھے اچانک ایک جھٹکے سے سائیکل گاڑی کے ساتھ جا لگی۔
ماسٹر جی سڑک پر گرے۔ خون کی ندی بہنے لگی ماسٹر جی کاسر پھٹ گیا تھا جس سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے آس پاس کے لوگوں نے جب حادثہ دیکھا تو ماسٹر جی کے اردگرد جمع ہوگئے ابھی لوگ ماسٹر جی کو ہسپتال لے کر جانے ہی والے تھے کہ موت نے انہیں آغوش میں لے لیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے نسرین سے پیمان لیا کہ ماسٹر جی کو محکمہ سے ملنے والی رقم سے ہسپتال میں ضرور جمع کروا ئے گئی جسے نسرین نے قبول کرلیا۔اور لائبہ کا اۤپریشن ہو گیا ۔
ماسٹر جی کے جسم کو موت اۤ چکی تھی لیکن روح ابھی زندہ ہے جب بھی دنیا میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہونے لگتا ہے تو یہ روح ساتویں آسمان پر چیخنے لگتی ہے اور کوئی اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خوشی سے اۤسمان پر رقص کرنے لگتی ہے۔
المیہ تو یہ ہے کہ ماسٹر جی کی روح جیسی روح اب بہت سے کم لوگوں میں موجود ہے ۔