ناولٹ : ” پُتلی” از محمد یاسر… دوسرا و آخری حصہ.

تحریر : محمد یاسر.
وہ عجیب شادی تھی,نہ شگن کے گیت گائے گئے تھے,نہ ڈھولک بجی تھی,نہ کسی نے چائو پورے کیئے,نہ تیل مہندی ہوئی,نہ ایجاب و قبول,نہ سہیلیوں کی سرگوشیاں اور نہ ہی دعائوں کی چھپر چھایا میں رخصتی,بس رات اندھیرے اپنی طاقت کے رتھ پر سوار سردار آیا,دولت کی تلوار لہرائی ,نانی اقبال نے میر جعفر کا کردار بخوبی ادا کیا اور شمیم آراء فتح.
ہوش میں آنے پر اُس بڑی حویلی میں خود کو سردار رند کے قرب میں پاکر وہ حیران سے زیادہ پریشان ہوئی تھی,سوالوں کا انبار ذہن میں اژدہے کے سو مونہوں کی طرح کلبلاتے ہوئے اٹھا تھا,وہ کیسے کسی ایسے شخص کے پہلو میں ہوسکتی تھی جس کے صرف نام,مرتبے اور اقبال بیگم کے ساتھ قریبی مراسم سے وہ واقف تھی اور وہ اپنا تعارف اُس کا شوہر کہہ کر کروارہا تھا،اُس سے بے تحاشا لگاوٹ سے پیش آرہا تھا.
“مجھے نانی سے بات کرنی ہے”,اُس کے ہاتھ کو اپنے کندھے سے ہٹاتے ہوئے شمیم نے کہا تھا.
“نانی سے کیا بات کرنی ہے ہم ہیں ناں سرکار تمہاری ہر بات سننے,ہر حکم پر سر جھکانے کیلئے”, سردار کے لہجے میں عشق اپنے تمام تر بازاری پن کے ساتھ چھلکا تھا,سردار رند بھی بے چارہ کیا کرتا,اپنی دانست میں بیوی رخصت کرواکر لایا تھا,کہاں سے؟ ، بازار سے،کہنے کو بیاہ کرلایا تھا مگر ایسی بارات سے زیادہ رونق تو جنازوں میں ہوتی ہے۔۔وہ اسی انداز میں مخاطب تھا جو بیویوں سے نہیں لونڈیوں سے مخاطب ہونے کا لہجہ ہوا کرتا ہے،شمیم اُسے دیکھ کر رہ گئی ،فلمی دنیا نے اُسے لہجوں اور نظروں کی پرکھ خوب کروادی تھی.
” آپ کے لئے احکامات تو میں تب جاری کروں گی جب میں اس تعلق کو تسلیم کروں گی کیسی شادی ہے یہ؟، جس میں میری مرضی ہی شامل نہیں”,شمیم نے بے حد سنجیدگی سے کہا تھا.
“تمہارے لئے کیا اتنا کافی نہیں کہ سردار نے تمہیں پسند کیا اور اپنا لیا؟”،سردار نے نرمی سے کچھ اس انداز میں پوچھا جیسے کہہ رہا ہو کہ میرا زبان سے کہنا ہی سند ہے.
“نہیں! جس نکاح کے وقت میں ہوش میں ہی نہیں تھی اُس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں”,شمیم نےکسی بھی چیز سے متاثر ہوئے بغیر کہا تھا,اور سردار نے چند ہی دنوں میں وہ نکاح نامہ اُسے دکھا دیا جس کی حیثیت ردی کے ٹکڑے جتنی بھی نہیں ہوتی جو اگر کسی کا دل اسے تسلیم نہ کرتا ہو,مگر یہ بنیادی نقطہ اس معاشرے میں سمجھتا کون ہے؟،عدالتیں۔۔قانون۔۔۔انسانی حقوق کے علمبردار۔۔۔مولوی۔۔۔کوئی نہیں۔
 “کتنے میں سودا کیا ہے اس نکاح نامے کا آپ نے ؟”، شمیم نے پوچھا تھا.
“محبت کے عیوض جانِ رند”, سردار نثار ہی تو ہوگیا تھا،شمیم کی زبان سے ادا ہونے والا ہر فقرہ سردار کیلئے کسی فلمی مکالمے کی طرح ہوتا تھا، لاشعوری طور پر اُس کی نہ جانے کونسی نفسیاتی حس کی تسکین ہوتی تھی کہ “شمیم- فلم ہیروئین” حقیقی زندگی میں وہی ناز و انداز اسے دکھارہی ہے جو وہ فلم کے پردے پر ہیرو کے ساتھ پیش کرتی تھی.
“محبت خریدی نہیں جاتی سردار صاحب”، شمیم کا لہجہ سرد ہوا تھا،جواب میں سردار رند کی دیوانگی بڑھی تھی.
“چلو!تو ہم نے یہ انہونی بھی کر دکھائی”,سردار کا لہجہ تھا کہ صرف اور صرف تفاخر کی للکار تھا, وہ دیکھتی رہ گئی.
سردار کی وارفتگی،مد ہوشی شمیم کیلئے جھیلنا مشکل تھا مگر کوئی راہ فرار نہیں تھا،حیرت ک بات یہ تھی کہ اقبال بیگم کے ہر کاری وار کو وہ تقدیر کی رضا کہہ کر مارے باندھے قبول کرتی آئی تھی، یہ سردار رند تھا جسے وہ اپنا نصیب مان کر نہیں دے رہی تھی، “مجھے یہاں سے نکلنا ہی ہوگا مگر کیسے ؟”،باہر کی دنیا سے اُس کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔
یہ بھی عجیب تھا کہ وہ نہ روئی تھی اور نہ گڑگڑائی تھی,بس اتناتھا کہ وہ سردار کی نظروں ,اُس کے وجود، اُس کے لمس,اُس کے لہجے کی تپش،ہر اُس چیز سے دور جانا چاہتی تھی جو اُس کے بدن کے روم روم کیلئے کینچوا بن رہی تھی.
“نانی سے ملنے کب جا سکوں گی؟”،کچھ ہی ہفتوں بعد اُس نے سردار سے استفسار کیا تھا،جو اُسے حویلی لاکر دنیا و مافیہا سے خود تو بیگانہ ہو ہی گیا تھا ساتھ ہی اُسے بھی دنیا بھر سے کاٹ رکھا تھا، سینکڑوں خادمائیں تھیں جو سپر سٹار کی حیثیت سے نہیں اپنے مائی باپ کی نئی اور چہیتی بیوی کی حیثیت سے اُس کی ایک جنبش ابرو کی منتظر رہا کرتی تھیں،سونے ہیرے جواہرات کے ڈھیر تھے جو سردار نے اُس کے سامنے کھول کر رکھ دئیے تھے اور ایک وہ تھی کسی بھی چیز کو کوئی اہمیت دیئے بغیر اچٹتی سی نگاہ ڈال کر نانی کا پوچھنے بیٹھ جاتی تھی۔
“اقبال بیگم کو تو تم بھول جائو،تم اب ہماری ہو ، ہمارے دل کی ملکہ ،یہاں راج کرنا ہے اب تمہیں، شادی کیسے ہوئی یہ بھی اہم نہیں رہا،اہم یہ ہے کہ تم اب ہماری ملکیت ہو،ہماری محبت”،سردار اگلے کئی ہفتے شمیم سے محبت کا اظہار کرتا رہا،کب کس لمحے اُس کے دل پر شمیم نے شب خون مارا تھا،یہ بتاتا رہا،کون سی دلنواز ادا تھی جو سردار کو گھائل کر گئی یہ بتاتا رہا،محبت کی چاہ رکھنے کے باوجود شمیم کے “بت” میں وہ جو “پُتلی” کی روح تھی وہ سرشار ہونے کے بجائے بیزار ہونے لگی تھی,کیوں نہ ہوتی.
سردار رند اُسے پہلی نظر میں اچھا نہیں لگا تھا اور اس کے قریب آجانے پر اُس نے جانا تھا کہ وہ صرف برا ہی نہیں بلکہ بدقماش اور اوباش بھی تھا.
شمیم کو اُس کے وجود سے گھن بھی آتی تھی اور کراہیئت بھی،وہ اُس کی موجودگی میں ہی نہیں غیر موجودگی میں بھی گھٹن محسوس کرتی تھی، اُسے حویلی کی کھڑکی سے آسمان پر اڑتے، درختوں کی شاخوں پر جھولتے،معمولی سے دانہ دُنکے کی تلاش میں پھرتے ہوئے پرندوں پر رشک آتا تھا،کیسی عیاشی کی زندگی تھی اُن کی اور ایک وہ تھی، عالیشان حویلی میں سر ٹکرانے اور گھٹن سے مرجانے کیلئے جسے بھیج دیا گیا تھا اُس کی رضا کہ بغیر کس لئے نوٹوں کیلئے۔
روپیہ۔۔۔بے حساب روپیہ جس کیلئے اُس کے انکار کو نانی اقبال نے چٹکیوں میں اڑا دیا تھا،سردار سے دوٹوک بات کرنے سے پہلے ضروری تھا اقبال بیگم سے سچ اُگلوانا کہ آخر یہ شادی نامی سزا اُسے کیونکر دی گئی اور اس عیوض اقبال نے کتنا مال بٹورا،شمیم کو کوئی جلتے توے پر بیٹھ کر بھی یقین دلاتا کہ سردار سے یہ شادی روپے کیلئے نہیں کی گئی،تب بھی وہ یقین نہ کرتی اور اُس کا یہ شک غلط نہیں تھا۔ 
سردار کے ساتھ سودا یکمشت ادائیگی کی صورت نہیں ہوا تھاسردار نے اقبال بیگم کی ماہانہ بھاری رقم کا مطالبہ صرف اس بات پر تسلیم کیا تھا کہ نانی اقبال اور اُس کے خاندان سمیت فلمی دنیا کے کسی شخص سے بھی شمیم کا کوئی تعلق نہیں رہے گا،کب تک؟، جب تک وہ نہ چاہے اور سردار رند نے شمیم کو کب تک چاہنا تھا یہ نانی اقبال کی شاطرانہ نظریں بہت پہلے بھانپ گئی تھیں،اقبال بیگم کا حساب صاف تھا,سردار رند با اثر بھی تھا اور طاقت ور بھی، وہ اپنی وقتی محبت کے ہاتھوں اُس وقت شمیم آراء کو سونے میں بھی تول سکتا تھا اور اس قدر ضد میں آیا ہوا تھا کہ شمیم کے حصول کیلئے کسی بھی حد سے گزر سکتا تھا،وہ موٹی آسامی تھا اُس کا پھنسنا ہی اقبال بیگم کیلئے بہتر تھا رہ گئی اُس کی “پُتلی بائی” تو وہ ایسی موم کی ناک تھی جسے اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنا اقبال بیگم کیلئے کبھی دشوارنہیں رہا تھا، “شمیم”کے پر نانی کے ہاتھ میں تھے بس کترنے کی دیری تھی اور “پُتلی” نے ڈھیر ہوجانا تھا، بیہوشی کے انجیکشن لگا کر نکاح نامے پر شمیم کا انگوٹھا لگوانے کی بات بھی سردار نے شمیم کے دوٹوک شادی سے انکار پر کی تھی اور نانی اقبال نے اسے بھی قبول کرنے سے دریغ نہیں کیا تھا۔
“ارے بٹیا بہتیرا سمجھایا تمہاری بہن کو مگر اُس کے تو کان پر جوں ہی نہیں رینگتی”،روشن نے ساری کتھا جان کر صرف ایک بار اعتراض کیا تھا، “وہ تو مجھے مانو دشمن ہی سمجھ بیٹھی ہے، کمال صرف اپنے مفادات کیلئے پُتلی بائی سے شادی کرنا چاہتا تھا،اُس سے شادی کر کے شمیم کو کچھ بھی نہیں ملنا تھا،سردار صاحب تو اتنے امیر ہیں،اتنے طاقتور ہیں،تمہاری بہن کی قسمت سنور جائے گی، جھولی بھر بھر کے دعائیں دے گی مجھے”،اقبال بیگم نے روشن کے فرشتوں کو بھی بھنک نہ پڑنے دی تھی کہ یہ شادی،شادی نہیں “غرض” اور “خواہش” کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے،اقبال کو بیش بہا روپیہ مل جائے گا اور سردار رند کو جذبات ٹھنڈے کرنے کیلئے کھلونا، باقی رہے نام اللہ کا اور روشن مطمئن ہوگئی تھی۔
نانی اقبال کو تو خیر خوف خدا تک نہیں تھا پھر فلمی صحافیوں اور شمیم آراء کے مداحوں کی کیا حیثیت تھی،اقبال بیگم نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کو قطعا اہمیت نہ دی البتہ فلمسازوں کو وہ دھیرج رکھنے کی تلقین کرتی رہی “شمیم جلد ہی فلمی دنیا میں لوٹ آئے گی آپ سب اطمینان رکھیں” اور فلمساز بے چارے اطمینان سے زیادہ صبر کے گھونٹ پی کر رہ گئے کیونکہ اُن سب کی ہی تقریبا پچاس پچپن فیصد فلمیں مکمل ہوچکی تھیں اور وہ متحمل نہیں تھے کہ اس مقام پر ہیروئین تبدیل کرتے ،البتہ وہ فلمساز فائدے میں رہے جن کی فلموں کا  دس بارہ فیصد ہی کام ہوا تھا۔
بے حسی تھی نا کہ ایک جیتے جاگتے انسان کو یوں بیچ دیا گیا اور لوگوں کو صرف غرض اس بات سے تھی کہ کہیں اُن کا روپیہ نہ ڈوب جائے.
 شمیم کے مداحین بھی بس نانی اقبال پر چار حرف بھیج کر چپ ہوجاتے بعض کے خیال میں یہ ناممکن تھا،بھلا ایک طاقتور ہیروئین،روپے پیسے والی ہیروئین ،ایک نامی گرامی ہستی کی شادی بھی بھلا اس طرح زور زبردستی ہو سکتی تھی، کس کی عقل نے یہ سچ تسلیم کرنا تھا؟،وہ ایک اداکارہ کی ایک رئیس آدمی سے شادی تھی،جس کے عیوض بھاری رقم اینٹھنا ہی مقصد تھا اور بھلا طوائف زادیاں بھی کبھی کسی کُٹیا کا چراغ بننا پسند کرتی ہیں،انسانوں کا یہ ہجوم بھلا کب اس بات پر متفق ہوا ہے کہ طوائف زادی ، اداکارہ، عورت بھی انسان ہوا کرتی ہے،”جسم” ہی نہیں “روح” بھی رکھتی ہے، “خواہش” ہی نہیں “احساس” بھی اُس کے وجود کا جزو ہوا کرتا ہے،ناخن گوشت سمیت اُس کی انگلی سے اکھیڑا جائے تو اسی قدر تکلیف محسوس وہ بھی کرتی ہے جتنی تکلیف تھیٹر میں بیٹھا “تماش بین” اور گھر میں بیٹھ کر لالچی اور بُری عورت کا فتوی دینے والی “شریف زادی”۔
فلمی حلقوں میں نانی اقبال بیگم کو ایک اور لقب دے دیا گیا تھا،”چیل”,کوئی ذی روح ایسا نہیں تھا جو اقبال بیگم کیلئے زبان پر اچھا لفظ اور دل میں ستھرے خیالات رکھتا اور اقبال بیگم کو اس کی بھی چنداں فکر نہیں تھی.
 “یہ دنیا ہے،یہاں عزت نہیں روپیہ پیسہ کی اہمیت ہوتی ہے،یہ نہ ہو تو یہی دنیا جسے اخلاقیات کے دورے پڑتے ہیں غریب کو روٹی دکھا دکھا کر کھاتی ہے،اُس کے تن کے چیتھڑے بھی نوچ لیتی ہے, مجھے جوتی برابر بھی پرواء نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں”،وہ واشگاف الفاظ میں کہتی تھی۔
 دوسری جانب شمیم کی بیزاری اُس کے ہر ہر انداز سے سردار کو باور کروانے لگی تھی کہ اُس نے خسارے کا سودا کرلیا ہے،اپنے تئیں سردار رند پاکستان کی جس The Most Wanted عورت کو اپنے عشرت کدے کی زینت بنا کر لایا تھا کہ سارا پاکستان اُس کی قسمت پر رشک کرے،کئی مرد کرتے بھی ہوں گے وہ جو سردار رند جیسی سوچ رکھتے ہیں،مگر وہ کسی بھی چیز سے خوش ہی نہ ہوتی تھی،محبت کے اظہار پر لب سل جاتے، لگاوٹ و دلداری کا مظاہرہ کرتا وہ برف کی سل بن جاتی،ہاتھ چھڑاتی،سمٹتی سردار یہ سب اُس کی ادائے دلبری پر معمور کرتا مزید ناز برداری کرنے لگتا،آخرکونسی چیز تھی جو اُسے بھا سکتی تھی،سردار نے اتنے نخرے اپنی پوری زندگی میں کسی کو دکھائے نہیں تھے جتنے وہ شمیم کے اٹھارہا تھا،وہ اپنے “وجود”کو منوانے کیلئے اُس کے وجود کو”زیر” کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھا،وہ کیا دنیا کا شائد کوئی بھی انسان اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ وجود کا “کُل” دل ہوتا ہے اور دل اگر کسی کے وجود کو تسلیم نہ کرے تو خواہ کسی مملکت کے شہنشاہ کا وجود ہی کیوں نہ ہو،خاک سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور سردار کیلئے اگر “دل” کچھ معنی رکھتا تو وہ شمیم آراء کا دل جیتنے کی کوشش کرتا مگر سردار رند کا مسئلہ “پُتلی” سے محبت نہیں تھا،سردار رند کا مسئلہ “شمیم آراء” سے عشق تھا اور شمیم آراء دیگر باتوں کے ساتھ اس حقیقت کو بھی جاننے لگی تھی۔
سردار رند نے شادیوں پہ شادیاں کرنی ہی تھیں کیونکہ اُس کی نیت میں “سیری” نہیں تھی، شمیم سے شادی اس لئے کرلی تھی تاکہ وہ اگلے کئی سالوں تک اسی خیال سے شانے چوڑے کر کے اکڑ کر زمین پر چلتا رہے کہ پاکستان جس پر مرتا ہےوہ اُس کے تصرف میں ہے،جس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے مرد اپنی عمر بھر کی پونجی لٹانے کیلئے تیار رہتے ہیں،وہ عورت خلوت میں اُس کے مقابل ہوتی ہے،شمیم سے اگر محبت ہوتی سردار کو تو وہ اُسے “عورت” سمجھتا،”ہیروئین” نہیں، چند ہی ماہ میں وہ خمار ٹھنڈا ہونے لگا تھا کہ جس کی اقبال بیگم کو کامل توقع تھی۔
شمیم اُس کے ساتھ ویسا برتائو کررہی تھی جیسا کوئی بھی عورت ناپسندیدہ مرد کے ساتھ کرتی ہے،سردار رند کی خواہش رہتی کہ وہ ٹھیک اسی طرح سج سنور کر رہے جیسے فلم کے پردے پر جگمگاتی تھی،وہ اُس کے ساتھ اسی طرح رومانوی مکالمے بولے جیسے فلم کے ہیرو کے ساتھ اُس کی آنکھوں میں ڈال کر بولتی تھی اور وہ اسی انداز میں اُس کیلئے گیت بھی گنگنائے،اپنی دانست میں سردار بازار سے بیوی لایا تھا مگر وہ مخصوص مردوں کا دل بہلانے والے بازاری لوازمات سے عاری تھی، سردار کو ہیروئین میں بیوی چاہیئے تھی جبکہ نہ تو شمیم کے پاس کوئی سکرپٹ تھا نہ ہی ہدائیتکار جو ایکشن کی صدا لگاتا اور شمیم کردار میں ڈوب جاتی چنانچہ شمیم کا عام عورت کی طرح پیش آنا سردار کی غیرت،انا اور مردانگی کو گوارا نہیں تھا،وہ اپنے جذبات کی پذیرائی چاہتا تھا اور جواب میں شمیم آراء کی سرد مہری جو گلیشئر کو بھی ٹھٹھرادیتی ، پاتا، نتیجتا جو کام چند سالوں میں ہونا تھا وہ تیسرے ماہ میں ہی ہوگیا،سردار رند کے دل سے شمیم آراء کے نام کا پانی اترنے لگا تھا،سردار رند کے بحث و تکرار پر شمیم آراء خاموش رہتی،وہ یہ بھانپ چکی تھی کہ اُس کی خاموشی سردار کو زچ کرتی ہے اور وہ خاموش رہ کر ہی اُسے کسی انتہائی فیصلے کیلئے اُکسانے لگی تھی لیکن ہوا کچھ الٹ،سردار نے اقبال بیگم کو معاوضہ دینا بند کردیا اور اقبال بیگم کے چھکے چھوٹ گئے،جیسے تیسے وہ اندرون سندھ کے اُس علاقے تک جا پہنچی جہاں سردار کی وہ حویلی تھی جس میں شمیم کو رکھا گیا تھا مگر سردار کے کارندوں اور حفاظتی اہل کاروں نے اقبال بیگم کو شمیم آراء سے ملنا تو دور اُس تک یہ خبر بھی پہنچنے نہ دی کہ وہ اُس سے ملنے آئی ہے اور یوں اقبال بیگم آنسوئوں سے روتی ہوئی,سردار کی رعونیت کو کوستی ہوئی واپس ہولی۔
****
وہ زعم دکھا سکتا تھا، دولت تھی،طاقت تھی اگر وہ اس خیال کے ساتھ زمین پر رعونیت سے اکڑ کر چلتا تھا کہ اُس کے علاقے میں چڑیا پر نہیں مار سکتی تو کچھ عجب اور غلط تو نہیں تھا کیونکہ وہ ایسا کرنے کی قدرت رکھتا تھا،سودے کے کچھ عرصے بعد اگر اُس کی رغبت شمیم سے کم ہونے لگی تھی،عشق کا نشہ اترنے لگا تھا،خواہش دم توڑنے لگی تھی تو بھی کیا عجب تھا،قانون فطرت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ گرم،سرد میں اور سرد،گرم میں بدلنے لگتا ہے اور پتا نہیں یہ اچھا ہوا یا بُرا کہ اس سے پہلے شمیم سردار کے ہاتھوں کوئی “بُرا” وقت دیکھتی ایک روز سڑک پر کھڑے ملک الموت نے سردار رند کو جا لیا جو شمیم کیلئے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوا تھا کہ سردار رند سے بناء کسی تلخی کے ہی خلاصی کروادی۔
 جس حویلی سے ممکنہ طور پر اسے دھتکار کھا کر نکلنا تھا وہ اُس حویلی سے بیوگی کی چادر اوڑھ کر نکلی۔
*******
سن ہے 1967 فلم “لاکھوں میں ایک” ریلیز ہوکر کامیابیوں کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالتی ہے، وہی “لاکھوں میں ایک” جو بھارتی شومین راج کپور کو کچھ یوں بھائی کہ انہوں نے اسی کہانی کو جوں کا توں رکھتے ہوئے اپنا ڈریم پراجیکٹ “حنا” کے نام سے بنایا.
شمیم آراء “شکنتلا” کے روپ میں کچھ ایسے سکرین پر پیش ہوئی کہ اچھے اچھوں کی زبانیں تالو سے جا چپکیں،نور جہاں کے گائے گیتوں نے ملک گیر شہرت پا کر تہلکہ مچا دیا۔
سُن ساجنا دکھی من کی پکار۔
 چلو اچھا ہوا تم بھول گئے اک بھول ہی تھا میرا پیار۔
ساتھی کہاں ہو آواز تو دو پل پل میرا پیار پکارے. حالات بدل نہیں سکتے.
من مندر کے دیوتا.
کہانی،موسیقی اور ہدایئتکاری ایک طرف مگر یہ شمیم آراء تھی جس نے ایک بار پھر شکنتلا کا سوانگ بھر کر میلہ لوٹا تھا وہ بھی دن دہاڑے، تقسیم کے وقت اپنے ہندو خاندان سے بچھڑ کر ایک مسلم خاندان میں پلنے والی شکنتلا جو بچپن کے سنگی سے محبت کر بیٹھتی ہے مگر پھر اُسے اپنے دیش جانا پڑتا ہے،اپنے مسلم باپ کو چھوڑ کر اچانک ہندو پتا کو اپنانا پڑتا ہے، اپنے ہندو منگیتر کی تعصبی سوچ کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور بالآخر انسانیت اور دین دھرم کی کشکمش سے لڑتے ہوئے دونوں ملکوں کی سرحد پر گولیوں کا شکار ہوکے وہ دنیا چھوڑ دیتی ہے،شرارتی و شوخ و شنگ حسینہ اور بعدازاں تلخ حقائق کے آگے مصلوب ہوجانے والی لڑکی کے اس لائف سائز کردار کو شمیم نے جس عمدگی اور خوبصورتی سے برتا وہ اپنی مثال آپ ہی تھا,گزشتہ ڈیڑھ برس کے عرصے میں شمیم کی شادی اور بیوگی کے بعد  شمیم مخالف کیمپ فلم انڈسٹری میں متحرک ہوچکا تھا اور جگہ جگہ یہ بات گردش کررہی تھی کہ شمیم آراء نامی چراغ اب بجھ چکا ہے،انڈو پاک کے فلم بین شادی شدہ ہیروئین کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے کُجا کہ ایک بیوہ ہیروئین۔
شمیم آراء کونے کھدروں میں اپنے مخالف گروہ کی سرگوشیوں سے بخوبی واقف تھی مگر اُس نے چپ سادھی رکھی,اس عرصے میں بہت کچھ ہوا جس پر شمیم آراء نے کسی قسم کا کوئی رد عمل نہیں دکھا یا,کوئی انٹرویو نہیں دیا,صحافیوں سے فلموں کے سیٹ اور اسٹوڈیوز کے آفسوں میں چائے کھانے پر بات چیت رہی لیکن اُس کی درخواست پر کسی صحافی نے شمیم آراء کا کوئی بیان کسی بھی حوالے سے شائع نہ کرکے شمیم آراء کیلئے اپنے دلوں میں موجود عزت و احترام کا ثبوت دیا, ہر ایک کے نزدیک یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی اور پھر اسی فلم کیلئے ایک اور بہترین اداکارہ کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے شمیم آراء نے سٹیج پر وہ ایوارڈ اپنے ناقدین اور مخالفین کے نام کرتے ہوئے اپنے مخصوص میٹھے لہجے اور مختصر الفاظ میں ڈیڑھ سال مسلسل ہونے والی سنگ باری کا منہ توڑ جواب دے کر ایک بار پھر اگلے کئی ہفتوں تک ایک نئی بحث کیلئے موضوع جیسے پلیٹ میں سجا کر پیش کر دیا تھا۔
کئی ایک تھے جو اس بات پر حیران تھے کہ آخر یہ چمتکار ہو کیسے گیا کہ فلم بینوں نے ایک بیوہ اداکارہ کو ہیروئین کی حیثیت سے پھر قبول کرلیا،فلم نے ریکارڈ توڑ بزنس کرلیا،امسال بھی شمیم سارے ایوارڈز لے اُڑی اور اسی پر بس نہیں شمیم کی کردار نگاری اور اُس کے فنی قد پر خصوصی مقالے بھی لکھے گئے،تقریبا ہر ایک اس کایا پلٹ پر حیران تھا, شمیم آراء پلٹ کر جھپٹنے والی فطرت تو نہیں رکھتی تھی پھر..
شمیم کو انگشت بدنداں کرنا آتا تھا اور وہ ایسا کر رہی تھی۔
 اُن ڈیڑھ سالوں میں شمیم آراء کے مداحوں میں اس بیوگی کے باوجود اضافہ ہی ہوا تھا اور یہ چیز اکثریت کے ہاضمے کیلئے گرانی کا سبب بن رہی تھی. دوسری جانب ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جو شمیم آراء کو ویمپ بنا کر پیش کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے دیتے کہ “بجائے بیوہ ہوکر اک کنارے پر ہو بیٹھنے کے کس قدر بے حس عورت ہے کہ لائم لائٹ میں واپس آگئی”, خاص کر اداکارہ زیبا کو شمیم آراء کے اس “ظالمانہ فعل” سے شدید اختلاف تھا اور وہ اکثر انٹرویوز میں ڈھکے چھپے لفظوں میں شمیم آراء پر تنقید کرتی رہی تھی،زیبا چار پانچ سالوں میں ابھرنے والی وہ ہیروئین تھی جسے شمیم آراء کیلئے حقیقتا خطرہ قرار دیا جانے لگا تھا،شمیم آراء کی اچانک شادی کا پیشہ ورانہ طور پر فائدہ زیبا کو ہی ہونا تھا،جو شمیم کے دوبارہ فلمز میں آجانے پر ممکن نہ رہا تھا لیکن یہ پیشہ ورانہ حسد زیبا کی “پُرخاش” کا سبب نہیں تھا،زیبا کے دل میں شمیم کیلئے عناد کا بیج بنا تھا اداکار “محمد علی”۔
محمد علی کی زیبا یا زیبا کا محمد علی.
شمیم آراء کے دل کا ناسور.
******
سردار رند کی حویلی سے وہ لاہور واپس پہنچنے کے بعد بجائے اقبال بیگم کے پاس جانے کے سیدھی اداکارہ بہار کے گھر گئی تھی،فلمی حلقوں اور اخبار نویسوں کو شمیم آراء کی بیوگی کی خبر بہار کے ذریعے ہی ہوئی تھی،جس قدر شاک شمیم آراء کی اچانک شادی سے لوگوں کو لگا تھا اس سے کہیں زیادہ گہرا صدمہ اچانک بیوہ ہوجانے کا پہنچا تھا، روشن نے شمیم سے رابطہ کیا تھا(وہ مستقل بنیادوں پر کراچی میں ہی سکونت پذیر تھی اور محافل کا اہتمام بتدریج کم ہونے لگا تھا) شمیم بہن سے اپنے دل کی بات کہنا،اُسے اپنی روح پر لگنے والے چرکوں کے نشان دکھانا,عرصہ ہوچلا تھا بند کر چکی تھی،مادی دنیا کے مادیت پرست رشتوں نے ایسی خاک چٹائی تھی اُسے کہ زندگی کی ہر ترتیب الٹنے لگی تھی،روشن فون پر روتی رہی، شمیم چُپ چاپ سب کچھ سنتی رہی ،اُس کی تسلیاں،اُس کے دلاسے،اُس کی تعزیت، دُکھ کی اس گھڑی میں وہ خود کو تنہا نہ سمجھے، شمیم کے ہونٹوں پر آنے والی طنزیہ مُسکراہٹ کو بہار نے بے حد تعجب سے دیکھا تھا،وہ اس طرح تو کبھی نہیں مُسکراتی تھی۔
 نانی اقبال بیگم اُسے لینے آئی تو اُس کا خیال تھا کہ شمیم ضرور اُس سے جھگڑے گی،اُسے سخت سست سنائے گی، ساتھ چلنے پر راضی ہونا تو پھر بڑی دور کی بات تھی مگر اُسے شدید حیرانی نے آن گھیرا جب شمیم نے ایسا کچھ نہیں کیا,نہ روئی,نہ کوئی گلہ نہ کوئی شکوہ,وہ بے حد سرد انداز میں نانی سے ملی تھی.
“بس بٹیا سوچا تھا کہ تم راج کروگی اتنی صعوبتیں جھیلیں تم نے,اتنی محنت کی زندگی گزاری,اپنے تئیں تو تمہارا بھلا ہی چاہا تھا کیا خبر تھی کہ یہ پہاڑ جیسا غم بھی آن ٹوٹے گا”, اقبال بیگم نے مقدور بھر آنسو کھینچ کر آنکھوں سے نکال ہی لئے تھے.
شمیم کی طنزیہ مُسکراہٹ نے اقبال بیگم کی حیرت کو دوآتشہ کیا تھا,”تم ضرور دل میں گلہ پالے بیٹھی ہو,بات کرو بٹیا,بات کروگی نہیں تو بات بنے گی کیسے؟”۔
“کیا میں اپنی زندگی پر کوئی اختیار رکھتی ہوں؟” ،شمیم نے اقبال بیگم کے ساتھ گھر پہنچتے ہی پہلا سوال کیا تھا۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں؟”۔
شمیم نے اطمینان سے سر ہلا کر اُس کمرے کو پھر آباد کرلیا تھا جو اُسی کی کمائی سے بننے والے اُس گھر میں اُس کی واحد پناہ گاہ تھا۔
اقبال بیگم کوئی اندازہ کوئی قیافہ جوڑنے میں ناکام رہی تھی کہ شمیم کیا کرنے چلی ہے اور شمیم نے جو کیا تھا اُس نے اقبال بیگم کے پیٹ میں گرہیں ڈال دی تھیں۔
******
“تم ایڈوانس واپس کیوں کررہی ہو؟”،اقبال بیگم نے لہجے کی کھولن کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا تھا۔
“اس لیئے کہ مجھے اب کام نہیں کرنا”, اطمینان سے جواب دیا گیا۔
“کام نہیں کرنا تو پھر کیا کرو گی آرام؟”،طنزیہ ہنکارا بھرتے ہوئے اقبال بیگم اُسے سمجھانے بیٹھ گئی تھی “بٹیا ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہنے سے تو قارون کا خزانہ بھی ایک دن ختم ہوجاتا ہے، تم یوں ایڈوانس واپس کروگی تو اپنے پلے کیا رہ جائے گا”,شمیم بے حد غور سے نانی کا چہرہ دیکھ رہی تھی،ڈھلتی ہوئی عمر نے اقبال کے چہرے پر کچھ نئی جھریاں ڈال دی تھیں،اُس چہرے کے نقوش شمیم کیلئے پُرانے ہوچکے تھے مگر ہر بار اقبال بیگم کا وہ ایک نیا ہی چہرہ دیکھتی تھی,پتا نہیں شمیم کیسی مومن تھی کہ ہر بار دھوکہ کھا کر پھر اسی اقبال بیگم کے دام میں آجایا کرتی تھی۔
“تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو سردار سے اُس کی آدھی جائیداد تو ہتھیا ہی سکتی تھی ساری عمر کام آتی”.
“اور جو ہر ماہ بھاری رقم آپ وصول کرتی رہی ہیں اُس کھاتے کا کیا بنا ہے”, ٹھنڈے لہجے میں شمیم نے کہا تھا اور اقبال کے پیروں سے زمین کھینچی تھی۔
چند لمحوں کے اندر اندر اقبال نے خود کو سنبھالا اور وضاحت دینے ہی لگی تھی کہ شمیم نے ٹوک دیا “میں اس بارے میں اب کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اور آپ بھی مجھے مجبور نہ کریں کسی کام کیلئے”,۔ “شمیم”نے ایک بار پھر دوٹوک فیصلہ سنایا تھا۔
“پُتلی” نے ایک بار پھر اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری تھی۔
*******
محمد علی شاندار و بارعب شخصیت،اونچے قد کاٹھ، مضبوط کاٹھی،آواز و لہجے کے زیر و بم اور آنکھوں میں بچوں کی سی شرارت رکھنے والا پاکستان کا پہلا اور اب تک کا آخری سپر ہیرو تھا،المیہ و طربیہ اداکاری میں یکتا تصور کیئے جانے والا محمد علی شمیم آراء کے ساتھ تب تک کام نہیں کرسکا تھا اور خواہش رکھتا تھا کہ پردہ سیمیں پر شمیم آراء کے مقابل بھرپور کردار میں جلوہ گر ہو جبکہ شمیم آراء اُس سے سینئر تھی.
فلمی وفد محمد علی کی قیادت میں شمیم آراء
سے تعزیت اور اظہار ہمدردی کے لئے ملا تھا لیکن درپردہ شمیم کو اس اقدام سے روکنا تھا اور اُسے قائل کرنا تھا کہ وہ فلموں میں کام نہ کرنے کا فیصلہ واپس لے لے۔
شمیم آراء محمد علی کی بہت عزت کرتی تھی اور یہ فلمی وفد کے کہے سے زیادہ محمد علی کا مان تھا جو شمیم آراء نے رکھا تھا۔
ہمایوں مرزا کی “آگ کا دریا” ہی وہ پہلی فلم تھی جو شمیم آراء نے بیوگی کے بعد سائن کی تھی اور جس میں مقابل محمد علی ہی تھا.
“آگ کا دریا” باکس آفس پر کوئی خاص تہلکہ تو نہ مچاسکی لیکن شمیم کی مسلسل ناکام ہوتی فلموں کا سلسلہ کسی حد تک رُک گیا تھا،آگ کا دریا میں شمیم آراء اور محمد علی کے درمیان یہ غضب کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی تھی جو فلم کے المیہ، رومانوی اور ڈرامائی مناظر میں بخوبی دکھائی دی تھی خاص کر دونوں ہی کو مکالموں کی ادائیگی پر عبور تھا چنانچہ سنجیدہ مزاج رکھنے والے فلم بینوں نے اُن کی مشترکہ پہلی فلم کو خاصا پسند کیا تھا اور کئ فلمسازوں نے اُن دونوں کو اپنی فلمز کیلئے بُک کرلیا تھا,شمیم آراء یہ بات جان گئی تھی محمد علی خود بھی فلمسازوں سے فرمائش کررہا ہے کہ اُس کے مقابل شمیم کو کاسٹ کیا جائے اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ زیبا اور محمد علی کے درمیان کوئی سلسلہ ہے جس کی بازگشت فلمی حلقوں میں گونجتی رہتی ہے.
 زیبا اپنے ہی مزاج کی فنکارہ تھی کسی ساتھی اداکارہ سے اُس کی نہیں بنتی تھی,سب سے الگ تھلگ اور لئے دیئے انداز میں ہی رہا کرتی تھی, محمد علی زیبا کو بے حد پسند کرتا تھا مگر زیبا اُسے زچ کرنے,چھیڑنے اور پریشان کرنے کا کوئی موقع گنوانا گویا اپنی ذات کی نفی گردانا کرتی تھی,چنانچہ محمد علی نے بھی جوابا زیبا کو جلانے کیلئے دیگر ہیروئنز کے ساتھ بےتکلفانہ ہنسی مذاق کرنا شروع کردیا تھا, شمیم آراء کی جانب پیش بندی بھی اسی سلسلے کی اک کڑی تھی مگر نتیجہ الٹ نکلا,زیبا نے اداکار سُدھیر سے شادی کرلی اور جیسے محمد علی پر بجلی بناء کڑکے ہی گرپڑی تھی.
 شمیم آراء کے ساتھ محمد علی کی جوڑی کو سراہا جانے لگا تھا اور فلم بین اُن کی فلموں کے منتظر رہنے لگے تھے,یہ وہ ایام تھے جب شمیم آراء کے روز و شب گھر کے بجائے سٹوڈیوز میں بسر ہوتے تھے ,یوں گُمان ہوتا تھا کہ وہ گھر کے تصور سے بھی فرار چاہتی ہے دوسری جانب محمد علی تھا جس کے ارمانوں پر چھریاں چلی تھیں لہٰذا وہ ایک دوسرے کے قریب آتے گئے, شمیم کی فلمز ناکامی سے دوچار تو ہی رہی تھیں,جذباتی لحاظ سے بھی وہ ایک کڑے دور سے گزر رہی تھی,زندگی میں کسی ایسے انسان کا نام و نشان تک نہیں تھا جو بیٹھ کر اُسے یہ نہ بتاتا کہ ہاں!تمہاری زندگی جہنم بن چکی ہے,مرعوبیت کا اظہار نہ کرتا کہ وہ کتنی کامیاب ہے،کتنی باکمال اداکارہ ہے،ریکارڈ معاوضہ وصول کرنے والی واحد سپرسٹار ہے,اُسے تلاش تھی اُس ایک کی جو اُس سے ہمدردی نہ کرتا،اُس پر ترس نہ کھاتا بلکہ اُسے ایک انسان کی حیثیت سے چاہتا،اُس کی پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انفرادی سطح پر اُس کی خوبیوں کا متعرف ہوتا,وہ اس مقام پر صرف اور صرف ایک ایسا انسان چاہتی تھی جو گزری کسی بات کا حوالہ دئیے بغیر اُس کے ساتھ مل کر مستقبل کے خواب بُنتا,ایک گھر کی بنیاد رکھتا ,محبت اور چاہت کے ساتھ زندگی کی شاہراہ پرہمیشہ ساتھ چلتے رہنے کا خواہاں ہوتا اور محمد علی نے شمیم کے رستے زخموں کو نہ تو کُریدا اور نہ ہی کوئی مرہم رکھا,وہ بس شمیم کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا چاہتا تھا,کراچی میں فلموں کی عکسبندی کے دوران اُن کی ملاقاتیں قائد اعظم کے سابق ڈرائیور اور ثانوی کردار ادا کرنے والے اداکار آزاد کے اُس گھر میں ہونے لگی تھیں جو اکثر اداکاروں,ہدائیتکاروں کی ملاقاتوں کا پسندیدہ مرکز سمجھا تھا۔
 شمیم آراء نے کراچی میں سوسائٹی آفس (موجودہ P.E.C.H.S) کے مقام پر ایک گھر منتخب کرلیا تھا جس کی خریداری کیلئے رقم محمد علی اور شمیم نے مل کر ادا کرنی تھی,طے پایا تھا کہ سن 67 کے شروع میں وہ شادی کرلیں گے.
 بدلتی ہوئی ہوا کے رُخ کو اقبال بیگم نہ بھانپ پاتی تو اقبال بیگم کیسے کہلاتی,مگر سوال یہ تھا کہ اقبال بیگم اپنے ترکش میں موجود کونسا نیا تیر چھوڑتی جو محمد علی اور شمیم آراء کے تعلق کے سینے کو فگار کرتا,جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اقبال بیگم کے ہاتھ صرف چلے ہوئے کارتوس ہی تھے,جو جال اُس نے پُتلی بائی کے گرد تنگ کر رکھا تھا اُس میں جھول آنے لگا تھا,پھندے ڈھیلے ہونے لگے تھے “تو کیا میرا ستارہ گردش میں آیا چاہتا ہے”, اُس کی زمانہ شناس نگاہوں سے شمیم میں آتی ہوئی تبدیلیاں مخفی نہیں رہی تھیں,محمد علی بے شک سپر سٹار کے منصب پر جا بیٹھا تھا,بہت اچھے خاندان سے تھا مگر امارت و حشمت میں کہیں پیچھے تھا اور اقبال بیگم کی کسی فرمائش کو کسی صورت قبول نہ کرتا,پھر یہ بھی تھا کہ کمال اور سردار رند نے اقبال بیگم کے طمع اور خودغرضی کی انتہا کو جیسے کھول کر رکھ دیا تھا,دوسری جانب شمیم کی فلمیں خاطر خواہ بزنس نہیں کررہی تھیں ہر چند کے ہر فلم میں شمیم کا ہی مرکزی کردار تھا,اُس کی اداکاری پر کوئی مائی کا لعل ایک حُرف تنقید میں نہیں لکھ سکا تھا,فلمساز ریکارڈ معاوضے پر ہی اُسے کاسٹ کر رہے تھے مگر کب تک,یہ تسلیم کرنا کہ شمیم آراء کے چل چلائو کا وقت قریب آن لگا ہے خود اقبال بیگم کیلئے معاشی موت کا سندیسہ تھا مگر ایک چیز اور بھی تھی جس سے اقبال پہلو تہی نہیں کرپارہی تھی اور وہ تھی بڑھاپے کی آخری حد کو چھوتی ہوئی زندگی،اقبال بیگم چراغ سحر تھی اب بجھی کہ تب مگر یوں اپنی پُتلی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہوئے،قطعا نہیں،ایسے میں اقبال بیگم کسی معجزے کی دعائیں کررہی تھی اور وہ معجزہ رونماہوااور اقبال بیگم کی بجھتی ٹمٹاتی امید کو پھر سے بھڑکا گیا۔
*******
“تم دھوکہ کھارہی ہو بٹیا”,اقبال بیگم نے ایک رات اُسے سمجھانا چاہا تھا.
“اب تک کی زندگی میں دھوکہ ہی تو کھاتی آئی ہوں اور کیا ملا ہے مجھے؟”، شمیم کے جواب نے اُسے لاجواب کردیا تھا مگر یہ وقت شمیم کو سمجھانے کا تھا۔
” میں جانتی ہوں تمہیں بہت سی شکایات ہیں مجھ سے،صحیح یا غلط ان پر پھر کبھی بات کریں گے ابھی جو مسئلہ درپیش ہے وہ زیادہ پیچیدہ ہے”، اقبال بیگم نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
“کیا پیچیدگی ہے؟،یہی کہ اس بار میری شادی سے آپ کوئی مالی فائدہ نہ اٹھا سکیں گی؟،نانی کیا واقعی آپ کو مجھ پر رحم نہیں آتا؟،لوگ کہتے ہیں میں پردے پر روتی ہوں تو اُن کا بس نہیں چلتا وہ اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیں،اُن پر میری گریہ کا ایسا اثر ہوتا ہے،مگر وہ تو اداکاری ہے،جھوٹ ہے،یہ جانتے ہوئے بھی لوگوں کا دل پسیج جاتا ہے مگر میری حقیقت جانتے ہوئے بھی آپ کا دل نہیں لرزتا،آپ اتنی بے حس کیوں ہیں صرف میرے معاملے میں؟”،شمیم رو پڑی تھی۔
“تم لاکھ مجھے بُرا بھلا کہہ لو بٹو مگر تمہیں اس طرح کنویں میں جانتے بوجھتے گرتا نہیں دیکھ سکتی میں” ،اقبال بیگم کے لہجے سے طنطنہ رخصت ہولیا تھا، گھگھیاہٹ آگئی تھی مگر ایک چیز نہیں بدلی تھی اپنی پُتلی کیلئے اُس کی مطلق العنانیت۔
“بہتر ہوگا کہ آپ صاف صاف کہیں  آپ علی سے میری شادی کے حق میں نہیں ہیں, میں بالغ بھی ہوں اور خود مختار بھی بلکہ خدا کی مہربانی سے بیوہ بھی”، شمیم کا لہجہ طنزیہ تھا،یہ عجیب تبدیلی آئی تھی اُس میں،سلاست سے بات کرنے والی،شگفتہ بیانی سے دل موہ لینے والی اب طنز کے وہ وہ تیر چلاتی تھی کہ ترازو ہوجایا کرتے تھے۔
“محمد علی تم سے شادی نہیں کرے گا شمیم، تمہیں کیوں دکھائی نہیں دے رہی یہ بات؟”،اقبال زچ ہی تو ہوگئی تھی۔
“اور یہ گُمان آپ کو کیونکر ہوا؟”،شمیم نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
“میری بچی ساری دنیا کے علم میں ہے کہ زیبا عدت پوری کرتے ہی محمد علی سے شادی کرے گی تم کیوں نہیں سمجھ رہی ہو یہ بات؟”،اقبال بیگم کے بس میں ہوتا تو پیروں میں گر جاتی،شمیم کے دماغ کی زنگ کھائی ہر وہ کھڑکی کھول دیتی جس سے شعور کی کرنیں اُس کی سوچ کو منور کردیتیں۔
“زیبا چاہتی ہوگی،علی تو نہیں،علی نے مجھ سے ہی شادی کرنی ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ کراچی والے گھر کیلئے بیعانہ دے چکا ہے”،شمیم نہ جانے محبت میں اندھی ہوئی تھی یا ضد میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے یا پھر یہ قسمت تھی جو ایک بار پھر اُس کی زندگی کو بھنور کا شکار کرنے چلی تھی۔
 اور سن 67 کے اُسی مہینے میں جس کا شمیم آراء کو شدت سے انتظار تھا کہ وہ باقاعدہ دلہن بنے گی ایک خبر نے شمیم آراء کی زندگی میں غدر مچا دیا تھا۔
“زیبا اور محمد علی کہ کراچی میں شادی”،
“تفصیلات کے مطابق زیبا اور محمد علی فلم تم ملے پیار ملا کی شوٹنگ کے سلسلے میں کراچی میں مقیم ہیں جہاں دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے ،بتایا جاتا ہے کہ اُن کا نکاح اداکار آزاد کے گھر ہوا ۔۔۔”, اخبار ہاتھ میں لئے شمیم اُس خبر کو پورا پڑھ بھی نہ سکی تھی،وہ ہونی ہوگئی تھی جس کے بارے میں صرف نانی نے ہی نہیں بلکہ علی سفیان آفاقی سمیت ہر ایک نے اُسے خبردار کیا تھا کہ زیبا کی سُدھیر سے طلاق کا معاملہ محمد علی سے شادی پر ہی ختم ہوگا مگر پہلے اُسے اقبال بیگم کا لالچ مار گیا تھا تو اس بار اندھا اعتبار۔
اُس خبر نے “پُتلی”کو ایسا بکھیرا کہ پھر وہ دم آخر سنبھل ہی نہ سکی۔
 *******
شمیم آراء سے محمد علی نے معذرت کرلی تھی، یہ شادی کیسے ہوگئی تھی؟،کیوں ہوگئی تھی؟، اُن وعدوں اور یقین دہانیوں کا کیا ہوا جو محمد علی اس ایک سال کے عرصے میں کرتا رہا تھا؟،یہ سارے سوال اپنا مطلب و مقصد کھو چکے تھے،با ت سیدھی سی تھی محمد علی کو زیبا سے شدید محبت تھی اور محبت ایسی طاقت ہے جو انسان سے کچھ بھی کروالیتی ہے،جی ہاں،کچھ بھی،اس میں انسانوں کا خون بہادینا جیسا چھوٹا اور معمولی کام بھی شامل ہے اور خوابوں کا قتل جیسا گھنائونا اور کافر کام بھی،محمد علی کا قطعا قصور نہیں تھا،محبت کی عدالت میں شمیم نے اُس پر کوئی دفعہ نہ لگائی ہاں اتنا ضرور تھا کہ اپنے دل سے وہ پھر محمد علی کو کبھی نکال ہی نہ سکی حالانکہ آفاقی صاحب شمیم کو دلاسہ دیتے رہے، سمجھاتے رہے مگر شمیم بہلنے پر جیسے آمادہ ہی نہیں تھی،فلمی حلقوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ سہاگن بننا شمیم کے نصیب میں نہیں،لاکھوں فین ز شدت سے منتظر تھے کہ من پسند فنکارہ کو پیا دیس سدھارتے ہوئے دیکھیں۔
اختیار ہوتا تو شمیم اپنے ہاتھ کی الجھی لکیروں میں چھپی قسمت کو کسی طرح باہر نکال لیتی،کسی جوتش سے وہ لکیر کھنچوالیتی جو اُس کا نصیب بدل دیتی۔
شادی سب کچھ نہیں ہوتی مگر شادی کچھ تو ہوتی ہے،کسی نے کالم لکھ ڈالا کہ “کنواری بیوہ سے کریئر شروع کرنے والی شمیم کی قسمت اسی ٹائٹل کے زیر اثر آگئی ہے،وہ کنواری نہ تھی مگر بیوہ بن گئی تھی”،اُس شام شمیم اپنا کمرہ بند کر کے پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی،اخبار کا پیٹ بھرنے والے کو شائد کبھی احساس ہی نہیں ہوتا کہ اُس کے چند لفظ کسی کی ذات کو اون کی بنی شے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
اگلے کئی ماہ شمیم کسی سے نہیں ملی،کمرہ بند کیئے وہ سارا سارا دن ساری ساری رات بیٹھ کر، اوندھے منہ لیٹ کر صرف اور صرف اپنی زندگی کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔
ماضی۔۔۔
حال۔۔۔
ماضی پر اُس کا کوئی اختیار نہیں تھا کیونکہ ماضی میں وہ “پُتلی” تھی۔
حال “بے حال” تھا اس حقیقت کے باوجود کہ وہ پاکستان کی پہلی سپر سٹار ہیروئین تھی۔۔وہ “شمیم آراء” تھی۔۔۔
پُتلی اور شمیم آراء میں فرق کیا تھا؟،کوئی تھا بھی تو کہاں تھا؟۔
اور مستقبل ؟۔۔۔
 وہ مستقبل کے بارے میں پہلی بار بناء روئے،بناء کسی قنوطیت کے،بغیر کسی شکوے و شکایت کے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے بیٹھی تھی۔
وہ خطرناک حد تک ذہین عورت تھی مگر اُسے اپنی طاقت کا احساس ہی نہیں تھا،مگر اُس مقام پر ہوگیا تھا اور پھر ہفتوں بعد جب وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تو سب کچھ اپنے اندر دفن کرکے آئی تھی۔
 ناچ گانے سے نفرت۔
تماش بینی سے پُرخاش۔
سکول میں اپنی بے عزتی۔
 روپے کیلئے بے نیازی۔
فلم لائین سے ناپسندیدگی ۔
 کمال کی محبت۔
سردار رند سے شادی۔
 نانی اقبال بیگم کا خوف
 اور پُتلی۔
ہاں!وہ “پُتلی”کو بھی ہمیشہ کیلئے اپنے وجود میں ہی کہیں مارکر باہر آئی تھی،کیونکہ پُتلی کی موت ہی “شمیم آراء”کی زندگی تھی۔
******
“لاکھوں میں ایک”شروعات تھی،دوسرا قدم شمیم آراء کی جانب سے فلم سازی کا فیصلہ تھا،رضیہ بٹ کے ناول “صاعقہ” کے حقوق حاصل کرکے پاکستان فلم انڈسٹری کے مگرمچھوں میں شمیم نے کھلبلی مچادی تھی کیونکہ اس سے قبل کسی کتاب یا کہانی پر فلم بناتے ہوئے پاکستان میں کسی فلم ساز نے کبھی زحمت ہی نہیں کی تھی کہ وہ باقاعدہ اس کتاب یا کہانی کے حقوق حاصل کرتا علاوہ دو ایک بڑی فلم کمپنیوں کے،”صاعقہ” بنانے کا اعلان ہی ہوا تھا کہ ہر طرف سے یہ شور اٹھنے لگا کہ آخر شمیم کو ایسی کیا ضرورت آن پڑی حتی کہ نانی اقبال بیگم نے بھی استفسار ضروری سمجھا،”کیوں خواہ مخواہ میں اپنی محنت کا روپیہ ٹھکانے لگانے کے جتن کررہی ہو،فلم تو اداکار ہی بناتے آئے ہیں وہ بھی شوقیہ ایک آدھ، کبھی کسی اداکارہ نے آج تک فلم نہیں بنائی”۔
“پھر میں بنائوں گی اور ایک نہیں ہمیشہ بنائوں گی” ،مُسکراتے ہوئے اطمینان سے شمیم نے کہا تھا۔
“مگر کوئی وجہ بھی تو ہو؟”.
” آپ وجہ پوچھ رہی ہیں؟”،طنزیہ لہجے میں شمیم نے کہا تھا اقبال بیگم کچھ کہہ نہیں سکی۔
“فلم ہی اب میرا اوڑھنا بچھونا ہے نانی”،بے حد تھکے ہوئے لہجے میں وہ بولی تھی,”اب یہی کام آتا ہے تو یہی کروں گی,فلمیں بنائوں گی کیونکہ کچھ سال بعد شائد ہیروئین کے طور پر مسترد کردی جائوں،پھر میری کونسی شادی ہونی ہے تومستقبل کیلئے پیش بندی تو کرنی ہی ہوگی”۔
“شادی کیوں نہ ہوگی میری بچی ضرور ہوگی”، کہتے ہی اقبال بیگم نے زبان ہونٹوں تلے دابی تھی ،بڑا ہی غلط جملہ تھا جو بڑے ہی غلط موقع پر اُس کی زبان سے نکلا تھا،قسمت سے بڑا جادوگر کوئی ہے کیا وہ کروادیتی ہے جو انسان نے سوچا ہی نہیں ہوتا،اقبال بیگم کا طنطنہ ختم ہوا چاہتا تھا تو انداز کا فرعون،لہجے کا کروفر سب مٹی میں ملنے لگا تھا، شمیم نہ تو اجازت مانگتی تھی نہ مشورہ،اُسے جو کرنا ہوتا تھا وہ صرف سرسری انداز میں بتادیا کرتی تھی،اس سے بڑھ کر کونسا کرارا جوتا ہوسکتا تھا اقبال بیگم کیلئے۔
“صاعقہ” کے سکرین پلے اور مکالموں کیلئے علی سفیان آفاقی کا انتخاب کیا گیا اور ہدایئتکاری کیلئے لئیق اختر،جو کہ ایک ناکام ترین ہدائتکار تصور کیئے جاتے تھے ،فلمی مبصرین کا کہنا تھا کہ ہدائیتکار کے انتخاب میں شمیم نے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے،بھلا جس ہدایئتکار نے ایک بھی ڈھنگ کی فلم نہ بنائی ہو اُسے اپنی پروڈکشن کی اولین فلم تھما دینا کہاں کی عقل مندی تھی،موسیقی کا شعبہ نثاربزمی کے حوالے کیا گیا اور کاسٹ میں درپن، محمد علی کے ساتھ ڈبل یعنی ماں اور بیٹی اور ٹائٹل کردار میں شمیم آراء خود جلوہ گر تھیں۔
فلمی نقاد اور مخالفین بے چینی سے شمیم کی اس پہلی فلم باالفاظ دیگر پہلی غلطی کے ریلیز ہونے کا انتظار کررہے تھے تاکہ ڈنکے کے چوٹ پر شمیم آراء کا مذاق اڑا سکیں،ہنس سکیں اور باور کروا سکیں کہ فلمسازی بچوں اور عورت کے بس کا کام نہیں،شمیم آراء سے قبل نورجہاں ایک فلم کی ہدایئتکاری کرچکی تھیں اور اُن کے بعد کم ازکم فلم انڈسٹری کی کسی عورت نے ایسی حرکت نہیں کی تھی،کئی لوگوں کو اس بات کی بھی حیرانی تھی کہ شمیم آراء نے محمد علی کو کیونکر فلم میں کاسٹ کرلیا اور کچھ کا قیاس تھا کہ محمد علی تک دوبارہ رسائی کیلئے شمیم نے یہ چال چلی ہے جو اُسے دیوالیہ کر چھوڑے گی، مگر شمیم کی دور اندیشی کسی کی سمجھ نہ آرہی تھی،شمیم نے بہت سوچ و بچار اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ فلمسازی کا بیڑہ اٹھایا تھا،شمیم نے کہانی ایسی منتخب کی تھی جو کہ صرف ایک لڑکی کے گرد گھومتی تھی اور اُس میں وہ سارے لوازمات تھے جو خواتین فلم بینوں کو پسند آتے اور اُس زمانے میں خواتین اگر کسی فلم کو پسندیدگی کی سند بخش دیتی تھیں تو اس کا مطلب یقینی کامیابی تھا اور اسی مقصد کے تحت شمیم نے خواتین کی پسندیدہ مصنفہ کو اپنے ساتھ شامل کیا،ایک کمزور ہدایتکار کا انتخاب بھی اس لیئے کیا گیا تاکہ وہ اپنی مرضی چلانے کے بجائے شمیم آراء کی ایماء اور خواہش کے عین مطابق فلم بنا سکے اور شمیم جب چاہے جس بات پر چاہے اُسے ٹوک سکے،محمد علی کو کاسٹ کرنے کا مقصد فلم میں محمد علی کی سٹار پاور کو کیش کروانے کے ساتھ ساتھ اُن مہربانوں کا منہ بند کرنا بھی تھا جو محمد علی،زیبا اور خود شمیم کو مسلسل محبت کی ایک “تکون” کے طور پر پیش کررہے تھے اور سب سے اہم نقطہ یہ تھا کہ اس سے پہلے شمیم آراء کا فنی کیرئیر حقیقت میں اختتام پذیر ہوتا وہ اپنے ہیروئین شپ میں ہی دھیرے دھیرے فلمسازی کی جانب متحرک ہوجاتی۔
سن 68 میں “صاعقہ” ریلیز ہوئی اور ایک بار پھر شمیم آراء کے مخالفین کو دھول چاٹنی پڑی، کہانی, مکالمے،موسیقی،منظر نگاری،اداکاری اور ہدائیتکاری غرض فلم کا ایک ایک فریم گواہ تھا کہ شمیم نے کمال طریقے سے فلمسازی کا مشکل ترین کام سرانجام دیا،صاعقہ کو اُس سال کی بہترین فلم،بہترین اداکارہ ،بہترین اداکار،بہترین مزاحیہ اداکار، بہترین موسیقار سمیت آٹھ ایوارڈز دیئے گئے جو کسی بھی فلمساز کیلئے اُس کی پہلی کاوش پر دیئے جانے والے سب سے زیادہ ایوارڈز تھے،بزنس کے لحاظ سے “صاعقہ” اس سال کی چند سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں شامل تھی جس نے گولڈن جوبلی کا اعزاز بھی حاصل کرکے شمیم آراء کو پہلی لکھ پتی اداکارہ بنادیا تھا اور ٹھیک ویسا ہی ہوا تھا جیسا شمیم نے چاہا تھا بس ایک بات تھی جو شمیم کی منصوبہ بندی سے ہٹ کر ہوئی تھی مجید کریم سے شمیم آراء کی شادی۔
*****
مجید کریم ایگفا فلم کمپنی کا مالک ایک وجیہہ اور تعلیم یافتہ انسان تھا،شمیم آراء کا مداح ایک فلم بین کی حیثیت سے تو تھا ہی لیکن فلم کے راء مٹیریل کی خرید و ترسیل کے سلسلے میں شمیم آراء سے ملنے کے بعد وہ مزید شمیم آراء کا گرویدا ہوتا گیا،میٹھے لہجے میں متانت کے ساتھ سلجھی ہوئی نپی تلی گفتگو کرنے والی شمیم کب اور کیسے اُس کے اعصاب پر سوار ہوئی وہ خود بھی سمجھ نہیں سکا،غیر شادی شُدہ تھا اور گھر والوں کی طرف سے شادی کا دبائو بھی تھا لیکن شریک سفر کے خاکے پر پوری اترتی ہوئی شمیم کا نام گھر والوں کے سامنے لینے سے ہچکچاہٹ محسوس کررہا تھا لیکن کہا بھی نہ جائے رہا بھی نہ جائے کے مصداق بالآخر بہت سوچنے اور پھر کوئی راہ فرار نہ پاکر گھر والوں سے اس سلسلے میں بات کر ہی ڈالی، ماں کی جانب سے شدید ردعمل کا امکان تھا لیکن حیرت انگیز طور پر ماں کے علاوہ ہر ایک نے ہی اختلاف کیا،مجید کریم کیلئے ماں کا رویہ حوصلہ افزاء تھا چنانچہ شمیم کو فلم کی کامیابی پر مبارکبادی پیغام کے ساتھ ہی شادی کا پیام بھی بھجوادیا گیا، شمیم کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی،عجیب بات تھی جب شادی کی امید چھوڑ ہی دی تب ہی باقاعدہ طور پر شادی کی پیشکش ہوئی تھی جس کے پیچھے سراسر پسندیدگی کا عنصر تھا اور کوئی دوسری تیسری خواہش نہیں تھی،نانی بیمار رہنے لگی تھی اور سارا دن فلم سٹوڈیوز میں گزار کر رات کو تنہائی شمیم کو پریشان بھی کرتی تھی لہذا بہت سوچ و بچار کے بعد شمیم نے مجید کریم کی شادی کی پیشکش قبول کر لی تھی لیکن ساتھ ہی کچھ شرائط بھی شمیم نے مجید کے سامنے رکھی تھیں جن میں اولین شرط شمیم کا فلم انڈسٹری سے تعلق برقرار رکھنا تھی،مجید نے اُس وقت اس شرط کو قبول کیا تھا مگر شادی کے بعد یہی وہ شرط تھی جو اُن دونوں کی اذدواجی زندگی کیلئے قاتل ثابت ہوئی۔
*****
وہ شادی اڑھائی برس تک چلی اور یہی پُتلی کی زندگی کے وہ اڑھائی برس تھے جو اُس نے شمیم آراء کو بھول کر،دنیا کی ہر فکر،ماضی کے ہرشکوے سے غافل ہوکر صرف خوشی کے ساتھ گزارے تھے، مجید کریم محبوب بھی تھا،ہمدم بھی،ساتھی بھی اور دوست بھی،فلمی سرگرمیاں اس دوران کچھ خاص نہیں تھیں علاوہ اس کے کہ شمیم نے اپنی زیر تکمیل فلموں کو تندہی سے مجید کی اجازت کے ساتھ مکمل کروایا البتہ مجید کا فلمی دنیا سے رابطہ برقرار تھا، کچھ اُن دنوں شمیم کو فلم کی کوئی بڑی آفر بھی نہ تھی کُچھ شمیم کا اپنا ارادہ بھی نہ ہوا کہ وہ گھر،گھر داری،شوہر اور نومولود بیٹے کو چھوڑ کر فلم کے سیٹ پر خوار ہوتی پھرتی،ہر چند کہ شمیم نے فلموں سے کنارہ کشی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا لیکن قیاس تھا کہ شمیم اب فلموں میں کام نہیں کرے گی ہاں یہ ضرور سوال اٹھنے لگے تھے کہ ایک کامیاب اور معیاری فلم دینے کے بعد بھی کیا شمیم فلمسازی کو بھی خیرباد کہہ دے گی،اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے شمیم نے اگلی فلم کیلئے علی سفیان آفاقی سے کہہ دیا تھا کہ وہ ایک مزےدار کہانی سوچیں تاکہ پھر نئی فلم کی تیاریاں شروع کی جاسکیں،مجید کریم نے اُس وقت تو نہ کوئی اعتراض کیا اور نہ ہی کوئی مثبت ردعمل دکھایا جس پر شمیم نے یہی سمجھا کہ مجید کو فلمسازی سے کوئی دلچسپی نہیں چنانچہ اُس نے مزید فلم کے متعلق کوئی بات بھی گھر میں کرنی چھوڑ دی،وہ اُس کی ہمراہی میں خوش تھی پھر کیوں وہ بات کرتی جس میں مجید کو کوئی دلچسپی ہی نہ ہو۔
 آفاقی صاحب نے فلم کی کہانی مرتب کرکے شمیم کو سنائی جو اُسے بھی پسند آئی چنانچہ آفاقی فلم کا سکرپٹ لکھنے میں مصروف ہوگئے اور شمیم آراء بجٹنگ اور کاسٹنگ میں اسی دوران ہدایت کار حسن طارق نے اپنی فلم “وحشی” کیلئے شمیم آراء سے رابطہ کیا، کہانی اور اپنا کردار سُن کر شمیم آراء کے اندر کی فنکارہ مچل اٹھی اور وہ فورا اُس چونکادینے والی موضوعاتی فلم کے مضبوط کردار کو کرنے کیلئے راضی ہوگئی ،شمیم کا خیال تھا کہ اپنے فنی کیرئیر میں دوسری بار ایک ینگ ٹو اولڈ کردار ادا کرنے کے بعد وہ اداکاری سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کردے گی مگر اس سے قبل ضروری تھا کہ وہ اپنی زندگی کی کبھی نہ بھولنے والی کردارنگاری فلم کے پردے پر پیش کرجاتی تاکہ فلمی تاریخ اور فلم بینوں کے ذہن میں وہ ہمیشہ کیلئے نقش ہوجائے، شمیم اس کردار کو ادا کرنے کیلئے جس قدر بےچین اور خوش تھی مجید کریم کا ردعمل اسی قدر منفی اور حوصلہ شکن تھا،شمیم کو حیرت ہوئی۔
“تم آخر کب اس حقیقت کو قبول کروگی کہ تم اب اداکارہ نہیں ہو،تم میری بیوی ہو،میرے بیٹے کی ماں ہو، تمہارے ذہن سے فلم کا خناس کب نکلے گا”،اُس کے استفسار پر مجید جیسے پھٹ ہی تو پڑا تھا،یہ دوسرا جھٹکا تھا جو شمیم کو پہنچا تھا، یہ خناس آخر کب تھا اُس کے دماغ میں ،اڑھائی سال سے وہ خوش باش ازدواجی ذمےداریاں خندہ پیشانی سے نبھا رہی تھی،گھر پر سادہ سے کاٹن کے قمیض شلوار میں وہ امور خانہ داری انجام دیتی تھی،کھانا پکانا،سینا پرونا اُسے نہیں آتا تھا مگر اُس نے تین ماہ کے قلیل عرصے میں یہ سب سیکھ لیا تھا،مجید کو بیوی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا تو ڈھائی سال سے گھر میں خانساماں نہیں بلکہ خاتون خانہ کے بنائے کھانوں کی مہک پھیلا کرتی تھی، اُس کے کس عمل سے مجید کو ایسا لگا تھا کہ وہ بیوی اور ماں نہیں بلکہ ہیروئین ہے،وہ سوچ میں پڑ گئی تھی،بہت یاد کرنے پر بھی اُسے کوئی لمحہ ایسا یاد نہ آیا جو مجید کی شکایت پر مہر ثبت کرتا ہو۔
“مگر تم نے میری شرط مان لی تھی کہ تم مجھے کام کرنے سے نہیں روکو گے پھر۔۔اور صرف اسی ایک فلم کی تو بات ہے میں یقین دلاتی ہوں تم،بچہ اور گھر نظر انداز نہیں ہوں گے”, شمیم نے اُس کا عہد یاد دلاکر گویا ایک اور غلطی کی تھی ۔
“ٹھیک ہے تب مان لی تھی نا وہ شرط اب انکاری ہوں بولو کیا کرو گی؟”، مجید کا انداز مشتعل اور لہجہ چیلنج کرتا ہوا تھا،شمیم نے خاموشی اختیار کرلی تھی اور ٹھیک دسویں روز مجید کو خبر مل گئی تھی کہ شمیم کی خاموشی کا اُس نے بالکل غلط مطلب نکالا تھا،شمیم سمجھ میں آنے والی عورت نہیں تھی۔
*******
“اداکارہ شمیم آراء کے اپنے شوہر کے ساتھ اختلافات عروج پر۔”
” نامہ نگار (لاہور) شمیم آراء اور اُن کے شوہر مجید کریم کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے، تفصیلات کے مطابق شمیم آراء نے شوہر کے ساتھ اختلافات کی تصدیق کرتے ہوئے اختلافات کی نوعیت بتانے سے معذرت کر لی ہے, بتایا جاتا ہے کہ شمیم آراء نے ہدایتکار حسن طارق کی فلم “وحشی” سائن کرلی ہے اور اسی کی وجہ سے مجید کریم شدید برہم ہیں،فلمی حلقہ پُر امید ہے کہ جلد ہی اُن دونوں کے درمیان ناچاقی دور ہوجائے گی”۔
شمیم بے حد خاموشی سے فلم “وحشی” کیلئے ریہرسلز پر جاتی رہی،اس فلم کیلئے اُس نے فلم انڈسٹری میں اُس وقت تک کا سب زیادہ معاوضہ جو کہ پچانوے ہزار تھا،وصول کیا جبکہ فلموں کے ہیروز اُن دنوں ستر ہزار فی فلم چارج کر رہے تھے،وحشی بُردہ فروشی کے موضوع پر ایک انتہائی چونکادینے والی اعلی معیار کی فلم تھی اور شمیم کا کردار اس فلم کی ہائی لائٹ تھا،نانی اقبال بیگم سیٹ پر ایک بار پھر موجود رہنے لگی تھی لیکن اس بار شمیم نہیں بلکہ شمیم کے بیٹے کی دیکھ بھال کیلئے،وقت بھی کیا کیا چالیں چلتا ہے وہ اقبال جو سیٹ پر کسی مطلق العنان شہنشاہ کی طرح کروفر سے بیٹھ کر تفاخر سے گردن اکڑائے صرف اس بات پر پیک اپ کروادیا کرتی تھی کہ کھانا ٹھیک سے گرم کیوں نہیں،وہی اقبال آیاگیری کا فرض سر انجام دے رہی تھی،کس نے جانا تھا کہ یہ شکست فاش وقت نے اُس کے مقدر میں شمیم کے ہاتھ ہی لکھی تھی اور شمیم کو وہ وقت اچھی طرح یاد تھا۔
مجید کے ساتھ تعلقات دن بہ دن سرد ہوئے جاتے تھے،وہ بالکل مجید کا حکم مان سکتی تھی،ڈھائی سالہ ازدواجی زندگی کو بھرپور کامیاب بنانے میں کسی قدر ہاتھ شمیم کی صلح جو فطرت اور مباحثے سے اجتناب برتنے کا بھی تھا،لیکن بدعہدی۔۔۔یہ ایک چیز تھی جو شمیم کی لغت میں نہیں تھی،مجید نے غصے میں ہی سہی لیکن ایک غلط بات کہہ دی تھی اُس شمیم سے جو رشتوں کی ڈسی ہوئی تھی، جسے سردار رند نے یہ یقین دلادیا تھا کہ چونکہ اصل مقصد حیات اُس کے وجود کا حصول ہے لہذاٰ اس کیلئے ہر چال جائز ہے چنانچہ مجید کی غصے میں کہی بات کو شمیم اسی تناظر میں دیکھ رہی تھی، مجید چاہتا تو آگے بڑھ کر پہل کرتا،بات کی صفائی ہو جاتی اور رشتے میں آجانے والا بھرم رہ ہی جاتا، مجید نے مگر اسے انا کا مسئلہ بناکر لٹکایا اور لٹکتی ہوئی تلوار نکاح پر پڑی اور دو لخت کرگئی۔
 اچھے وقتوں میں یونہی باتوں باتوں میں مجید نے وعدہ کرلیا تھا کہ خدانخواستہ علیحدگی ہوئی تو وہ بہ رضا و رغبت بیٹے کو شمیم کی سپردگی میں دے دے گا اور یہ کتنی عجیب بات تھی کہ ساری زندگی ساتھ نبھانے کا عہد پورا نہ کرسکنے والے نے یہ عہد نبھادیا تھا۔
 ******
” وحشی” سپر ہٹ رہی اور شمیم آراء نے فلم انڈسٹری کی دہائیوں سے سینہ بہ سینہ چلی آنے والی اندھی روایت کو توڑ مروڑ کر منہ پہ دے مارا تھا۔
 انڈوپاک فلم انڈسٹری میں ہیروئین کا دور پانچ سے چھے برس کا ہوتا ہے اس عرصے میں وہ جتنا اعلی کام کرنا چاہے کرسکتی ہے،پیسہ کمانا چاہے کما سکتی ہے، عاشقوں کی فوج جمع کرنا چاہے اکھٹی کرسکتی ہے کہ ساتواں سال لگتے ہی پھر یہی زاد راہ ہے جو اُس کے کام آتا ہے مگر شمیم آراء مسلسل سولہویں برس میں ہیروئین آرہی تھی ،ساتھی اداکار سنتوش،درپن اور حبیب کریکٹر رولز کرنے لگے تھے اور بعد میں آنے والے وحید مراد و ندیم شمیم آراء کے ساتھ ہیروز آنے لگے تھے، فلمسازی کا سلسلہ پھر شروع ہوچکا تھا،مجید کریم کے زندگی سے نکل جانے کے کچھ ہی عرصہ بعد نانی اقبال نے بھی رخت سفر باندھا اور سب مال و متاع اسی دنیا میں چھوڑ گئیں جس دنیا کو شمیم کیلئے جہنم بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔
شمیم آراء بالآخر آزاد اور کُلی خودمختار ہوچکی تھی۔
اور اس آزادی و مختاری کی شمیم نے کب، کہاں اور کیسی کیسی قیمت چُکائی تھی یہ کوئی “پُتلی” سے پوچھتا۔
 *****
 فرید احمد پڑھا لکھا، وجیہہ اور آرٹسٹک طبیعت کا مالک نوجوان ہدائتکار تھا اپنی پہلی ہی فلم بندگی سے فلم کے سنجیدہ حلقوں کو چونکا چکا تھا، (بندگی آج تک سیمی آرٹ فلموں میں پاکستانی کلاسک مانی جاتی ہے)،فلم سے رغبت والد ڈبلیو زیڈ احمد سے ورثے میں پائی تھی جو خود بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کے معروف اور اچھے ہدایت کار تھے،شمیم آراء اُس کی زیر ہدایات بننے والی فلم “انگارے”میں ایک بہت ہی مختلف اور مضبوط کردار ادا کرچکی تھی,فرید احمد کچھ شمیم کی سلجھی ہوئی گفتگو سے متاثر تھا اور کچھ شمیم پر فرید احمد کی فنکارانہ صلاحیت کا اثر تھا چنانچہ شمیم آراء نے اپنی اگلی پروڈکشن “سہاگ”کی ہدایت کاری کیلئے فرید احمد کا انتخاب کیا تھا اور چونکہ فرید احمد شمیم آراء کا مداح تھا اور پھر اُسے فلم کی کہانی پسند آئی چنانچہ انکار سراسر بے وقوفی تھا۔ اس فلم کی خصوصیت ضیاء محی الدین تھے جو اُن دنوں Hollywood میں کام کرکے واپس آئے تھے اور اپنے مرکزی اور بھرپور نوعیت کے کردار کے ساتھ ساتھ شمیم کے ساتھ کام کرنے کے خیال سے بے حد پُرجوش تھے, فلم کی تکمیل بناء کسی بدمزگی کے مقررہ وقت پر ہوئی مگر اچھی کہانی,مسحور کُن موسیقی, فنکاروں کی اعلی اداکاری اور بہترین ہدایتکاری کے باوجود “سہاگ” ناکام رہی.
شمیم آراء نے بناء کسی لاگ لپٹ کے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ فلم بین اب اُسے ہیروئین کی حیثیت سے قبول نہیں کررہے لہٰذا  بہتر یہی ہے کہ وہ فن اداکاری سے کنارہ ہوجائے لیکن یہ فرید احمد تھا جس نے شمیم کو اپنی مزید دو فلموں “زیب النساء” اور “خواب اور زندگی” میں بطور ہیروئین کاسٹ کرلیا اور اس کے پیچھے مقصد وہ محبت تھی جس نے فرید احمد کو بے بس و مجبور کردیا تھا.
*******
فرید احمد شادی شُدہ تھا اور ٹی وی کی مایہ ناز اداکارہ ثمینہ احمد سے اُس نے پسند کی شادی کی تھی,دوبچوں کا باپ ہونے اور شمیم آراء سے عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود وہ شمیم آراء کے سِحر سے خود کو نہ بچا سکا,یہ شمیم آراء کی شخصیت تھی, متانت و سنجیدگی تھی یا پُراثر انداز گفتگو جس نے فرید احمد کا دل دبوچا تھا یا پھر یہ محبت تھی. محبت بڑی ہی آوارہ ہے,اس کی فطرت میں ہی آزادی ہے یہ بس ہوجاتی ہے,
بیٹھے بٹھائے جیسے نزلہ زُکام,سر درد مگر اس سے زیادہ مہلک.
اچانک چلتے چلتے انسان کا لڑ کھڑا جانا اور سنبھالے نہ سنبھلنا.
جیسے یونہی سر اٹھا کر آسمان کی وسعتوں کو دیکھنے لگنا مگر راستہ گنوا بیٹھنا.
یہ محبت بھی بس ایسی ہی ہوتی ہے اچانک ایک رات انسان بستر میں لیٹ کر سونے کیلئے آنکھیں موندتا ہے اور پلکوں کی ڈھکی غلاف کے نیچے پُتلی پر ایک شبیہہ نمودار ہوکر اگلی ہر رات کی نیند اپنے قبضے میں کرلیتی ہے اور پھر انسان کچھ اور دیکھنے,کچھ اور سننے اور کچھ بھی سمجھنے کے قابل نہ رہتا.. بس یہی حال تھا فرید احمد کا.
فرید نے شمیم کو حال دل سنانے میں تامل سے کام نہیں لیا لیکن شمیم نے بغور سُن کر متانت سے کہا “آپ شادی شُدہ ہیں فرید صاحب؟ “۔۔
“مگر مجھے محبت ہے آپ سے”۔
” اور ثمینہ سے محبت کیا ہوئی؟،ختم ہوگئی”. “نہیں،ثمینہ سے بھی محبت ہے مجھے،میری بیوی ہے،میرے بچوں کی ماں ہے”, مضبوط لہجے میں فرید نے کہا اور شمیم کو اُس کی یہ ادا بھائی،کسی بھی مرد کا یہی تو وصف ہوتا ہے کہ وہ پچھلی محبت سے ہاتھ نہ جھاڑے اُس میں اتنی جرات ہوکہ وہ نئی محبت کے سامنے پچھلی محبت کو فخر سے سینہ تان کر اپنی ذات،اپنے وجود اور اپنی زندگی کا حصہ ہونے کا اعتراف کرے اور فرید کی مردانگی شمیم کو اچھی لگی تھی،اُس نے دوسرے مردوں کی طرح اُس کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اپنی بدحال ازدواجی زندگی کا رونا نہیں رویا تھا،اُس نے اپنی موجودہ بیوی کی برائیاں نہیں گنوائی تھیں اُس نے دھڑلے سے اعتراف کیا تھا کہ ہاں!وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اب اُس سے بھی محبت کرتا ہے۔
شمیم نے زندگی میں جیسے مرد کے خواب دیکھے تھے فرید احمد کو قریب سے جانا تو وہ قریب قریب اُس خاکے پر پورا اترتا تھا،ظاہری کشش اور خوبروئی کے علاوہ بھی قوت فیصلہ،ثابت قدمی اور صاف گوئی وہ اوصاف تھے جو اکثر مردوں میں عنقاء تھے مگر فرید احمد میں موجود تھے چنانچہ کچھ عرصہ پس و پیش سے کام لیتے ہوئے شمیم نے فرید احمد کی شادی کی پیشکش قبول کرلی تھی۔
بعض انسان دھوکے سے محبت کرتے ہیں اسی لئے اُن سے بڑھ کر شاطر دھوکے باز کوئی نہیں ہوتا ایسی شعبدہ گری دکھاتے ہیں کہ عقل کے سارے تالے زنگ کھاجاتے ہیں اور بعض انسانوں سے دھوکہ عشق کرتا ہے لاکھ دامن بچا کر،پھونک پھونک کر چلیں یہ انہیں جا لیتا اور ایسا دھوبی پٹکہ لگاتا ہے کہ بے چارے چاروں شانے چت۔
شمیم آراء کا شمار کن میں ہوتا تھا یہ چند دنوں میں اُسے پتا چل گیا تھا ۔
اور آنے والے سالوں میں وہ کس درجہ بندی میں آنے والی تھی یہ چند سالوں بعد دنیا کو پتا چل جانا تھا۔
*******
ثمینہ احمد کو فرید احمد اور شمیم آراء کے تعلق کے بارے میں علم ہوچکا تھا مگر وہ بے حد خاموشی سے تیل دیکھو,تیل کی دھار دیکھو پر عمل پیرا تھی اور کوئی بھی ردعمل دینے کیلئے صحیح وقت کے انتظار میں تھی,وہ پڑھی لکھی باشعور خاتون تھی اور جلد بازی میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے گُریز کررہی تھی پھر کسی حد تک وہ فرید کو Margin of error  بھی دے رہی تھی کہ شوبز میں دھجی کو سانپ اور پر کو پرندہ بنانے کی روایت بھی رائج تھی,فرید احمد نے شمیم آراء سے شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی سب سے پہلا کام گھر والوں کو اعتماد میں لیکر اُنہیں اپنی دوسری شادی کے بارے میں آگاہ کرنے کا کیا تھا,شمیم آراء خفیہ شادی نہیں چاہتی تھی اور خود فرید احمد بھی اُس وقت تک خود کو بے حد مضبوط تصور کرتا تھا اور اُسے یقین تھا کہ اُس کے پڑھے لکھے والدین اور کھلے دماغ کی بیوی اُس کی خواہش اور حق کا احترام کرے گی لیکن فرید احمد کو غش آگیا جب ثمینہ سے پہلے والد ڈبلیو زیڈ احمد کا شدید ردعمل سامنے آیا.
” کوئی وجہ بھی تو ہو؟”،فرید سناٹے میں رہ گیا تھا۔ “نہیں کوئی وجہ نہیں ہے بس ہم ایسا نہیں چاہتے تو نہیں چاہتے”،باپ نے دوٹوک الفاظ میں فیصلہ صادر کردیا تھا،فرید نے ماں کو رام کرنا چاہا لیکن وہ بھی شوہر کی ہم خیال تھی،فرید احمد بُری طرح پھنسا تھا کیونکہ دوسری طرف شمیم آراء بڑی خوشی خوشی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی،الیاس رشدی کراچی سے لاہور پہنچ چکے تھے،آفاقی صاحب،بہار ،نیئر سلطانہ اور وحید مُراد سمیت شمیم آراء پروڈکشن سے تعلق رکھنے والے تمام قریبی لوگ شمیم آراء کی اس خوشی میں شرکت کیلئے کافی بےچین تھے،گوکہ شمیم تک اُڑتی اُڑتی سُن گُن فرید احمد اور اُس کے گھروالوں کے درمیان شادی کے معاملے پر مباحثے کے بارے میں پہنچ گئی تھی لیکن اُسے یقین تھا کہ فرید احمد پیٹھ دکھانے والوں میں سے نہ تھا۔
فرید احمد نے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے مایوس ہوکر بالآخر ثمینہ سے بات کرنے اور اُسے قائل کرنے کی کوشش شروع کردی تھی،فرید احمد اس بات پر حیران تھا کہ ثمینہ نے سارا معاملہ جان جانے کے باوجود کوئی بھی ردعمل کیوں نہیں دکھایا تھا۔ ہر ایک بے خبر تھا کہ ثمینہ زندگی میں ملنے والے اس پہلے جھٹکے کے زیراثر تھی اور اس حد تک تھی کہ اگلے کئی دن اُس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی جیسے ثلب ہوگئی تھی،پہلے شک تھا تو پھر بھی صورتحال پر غور کرنا آسان تھا لیکن شک کے یقین میں بدل جانے کے بعد یہ بے یقینی تھی جس نے حواس مختل کردیئے تھے،محبوب شوہر کی محبوب بیوی کیلئے یہ حقیقت تسلیم کرلینا کہ جس دل پر صرف اُس کا راج تھا اُس کا بٹوارا کرتے ہوئے حکمرانی کرنے کیلئے سلطنت دل پر کوئی اور بھی ہے جو اب شوہر کو بھی محبوب ہوگی اور کسی بھی عورت کیلئے یہ لفظ “بھی” اپنے ذات کیلئے ناقابل قبول ہوتا ہے۔
” فرید بہتر ہے کہ تم اپنے قدم روک لو جو تمہیں تباہی کی طرف لےکر جارہے ہیں”, ثمینہ نے سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔
” یہ ممکن نہیں رہا میں زبان دے چکا ہوں”, فرید احمد نے بے لچک کہا تھا اور ثمینہ نے اسی بے لچک طریقے سے بچوں سمیت گھر چھوڑ دیا تھا،وہ تباہی کا حصہ نہیں بن سکتی تھی،فرید کے ماں باپ ثمینہ کو سمجھانے اُسے واپس لانے کیلئے اُس کے گھر گئے تھے مگر ثمینہ کی پہلی اور آخری شرط لئے خالی ہاتھ لوٹے تھے کہ فرید کو سمجھالیں پھر وہ بھی واپس آجائے گی،قابل فخر بیٹے کے ہاتھوں انہیں یوں بھی زک اٹھانا تھا،فرید احمد کے والدین نے دُکھ سے سوچا تھا مگر وقت غمگین ہونے کے بجائے بیٹے کو باز رکھنے کا تھا ورنہ سب کچھ بکھر جانا تھا۔
اور یہ سن 73 کی بات ہے جب شمیم آراء تیسری بار دلہن بنی اپنے دولہا کا بے چینی سے انتظار کررہی تھی،خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، مہمانوں کی کثیر تعداد بارات کی منتظر تھی کہ ایک فون کال کرکے مطلع کردیا گیا کہ چند ناگُزیر وجوہات کی بناء پر فرید احمد بارات لے کر نہیں آ سکے گا۔
  ******
کیا ذلت سی ذلت تھی جو دلہن بنی شمیم نے موجود مہمانوں کے سامنے محسوس کی تھی۔
کیا تحقیر سی تحقیر تھی جس نے شمیم آراء کی رگ رگ میں محشر برپا کردیا تھا کہ جس شادی کے بارے میں سب باخبر تھے وہ بارات نہ آنے کی وجہ سے مئوخر ہوگئی اور اگلے کئی ہفتوں کیلئے Talk Of The Town بن گئی.
اگر یادگار کہلانا ایسا ہوتا ہے تو شمیم سارے پاکستان کی یاداشت کو کھرچ کھرچ کے مٹا ڈالنا چاہتی تھی.
مہمانوں کے رخصت ہوجانے کے بعد اپنے وجود پر موجود سونے چاندی اور پھولوں کے زیورات شمیم نے نوچ نوچ کر پھینکے تھے,لباس عروسی کو اتار کر تار تار کردیا تھا,چہرے سے غازہ اور ہونٹوں سے لپ سٹک ایسے اتاری تھی کہ اگلے کئی دن چہرے سے ناخنوں کے نشان اور زیریں لب آجانے والا زخم غائب نہ ہوا تھا. دماغ کی شریانے پھٹی جاتی تھیں,دل درد سے فگار ہواجاتا تھا,مرچ مسالے کے شوقین صحافیوں اور چٹخارے لے لے کر تماش بینی کی فطرت رکھنے والے پاکستانیوں کو شمیم کی زندگی کا ایک اور جہنم مل گیا تھا,ہنسنے کا,لطف اٹھانے کا, مزے لے لے کر ایک دوسرے سے افسوس کرنے کا “تمہیں پتا چلا شمیم آراء کا تُک تُک ”
“بے چاری..دلہن بن کر بارات کا انتظار کر رہی تھی مگر بارات ہی نہ آئی,بدنصیب”.
“ارے ان فلمی اداکارائوں کو شادی کی ضرورت ہی کیا ہے دلہن تو یہ بنتی ہی رہتی ہیں”.
” ہاں یار اب اپنے سے کم عمر کا آدمی پھانسے گی تو یہی سب ہوگا”.
یہ ہوتے ہیں اس معاشرے کے وہ جملے جو وہ خود کو “انسان” اور سکرین پر آنے والی اداکارہ کو”جسم” سمجھ کر کہتے ہیں نہ بجلی گرتی ہے نہ زمین شق ہوتی ہے…
مردودوں کے اس دیس میں گِدھوں کی سی فطرت رکھنے والے انسان نما مُردے جو جا جا قریہ قریہ انسان اور جسم،برتر اور بدتر کے مابین فرق کو ٹی بی زدہ تھوک کی طرح الٹتے پھرتے ہیں. 
اگلے چند ہفتے شمیم آراء کسی سے نہیں ملی, کسی صحافی,کسی اخبار نویس,کسی دوست,فلم انڈسٹری کے کسی شخص…کسی سے بھی نہیں. وہ بس کمرے میں مقفل اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارتی رہی,ہر چٹپٹی خبر پڑھتی رہی, ہر پھبتی کستے ہوئے قیاس پر غور کرتی رہی,بناء روئے بناء تڑپے.
اُس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا تھا؟، بس یہ ایک سوال تھا جو ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ اُس کے دل دماغ روم روم میں ہچکولے کھاتا رہتا تھا،وہ یہ تسلیم ہی نہیں کر پارہی تھی کہ بعض دفعہ زندگی میں “ہاں” کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے اور اُس نے محبت کے جھانسے میں آکر ہاں کی تھی تو قیمت بھی دُگنی تگنی چوگنی ادا کرنی تھی،فرید اس طرح اُس کی تذلیل کرنے کے اُسے دوٹوک الفاظ میں اگر بتادیتا کہ وہ شرمندہ ہے،حالات سازگار نہیں ہیں،وہ بچوں اور ماں باپ کے آگے ہتھیار ڈال رہا ہے،وہ اُس سے شادی نہیں کرسکتا۔
آخر اُس نے شمیم کو شادی کی پیشکش کرتے ہوئے تو کچھ نہیں سوچا تھا،جس مردانگی اور جواں مردی سے اُس نے شمیم کو اپنانے کی بات کی تھی ،محبت کی خوشنما بیلیں سجائی تھیں،دنیا سے ٹکرا جانے اور حقوق و فرائض کی پاسداری کی قسمیں کھائی تھیں اور پھر ثابت کیا تھا کہ اتنی سی،ذرہ برابر،چٹکی بھر مردانگی بھی اُس میں نہ تھی کہ اُسے اطلاع کردیتا کہ یہ سب ممکن نہیں،وہ کیا کر لیتی؟،اُس کا گریبان پکڑ لیتی؟،اُس کے پیروں میں گر جاتی؟،اُس کے ماں باپ سے شکایت لگاتی کہ آپ کے بیٹے نے کتنی زیادتی کی ہے میرے ساتھ؟،نہیں وہ ایسا کچھ بھی نہ کرتی،اُس نے تو محمد علی تک کو گنجائش دے دی تھی، اُسے جانے دیا تھا،دل سے نکالا نہیں تھا تو اُس کیلئے دل میلا بھی نہ رکھا تھا،وہ اتنی کمزور اتنی تھڑڈلی تو نہ تھی.
بہت بار ہو چکا تھا زندگی میں کہ شمیم منہ کے بل گرائی گئی تھی,سکول میں اُس کی ذات کو ناچنے والی کہہ کر تصحیک کا نشانہ بنایا گیا تھا.
گھنٹوں گھنٹوں وہ رقص کی مشق کرتی تھی اور اقبال کے طعنے سہتی تھی.
دو لاکھ اُس کی قیمت لگادی گئی تھی لیکن سودا نہ ہوا اور پھر بھی اُسے بیچا گیا.
مجید کریم کی بدعہدی نے اُسے توڑا پھوڑا.
محمد علی نے اُس کے سامنے کسی اور کو منتخب کرلیا.
یہ سب وہ تھا جو اُس نے خود اپنے لئے منتخب نہ کیا تھا,مگر جو دن اُس کے اپنے انتخاب نے دکھایا تھا وہ….. پس تو ثابت یہ ہوا کہ وہ “پُتلی “ہر ایک کیلئے “پُتلی” ہی تھی جس کا دل چاہتا اُسے تماشہ بناتا اور “پُتلی گھر”کی رونق بڑھ جاتی,تذلیل و بے توقیری کا کہیں کوئی اختتام تھا بھی یا بس سلسلہ درد سے زنجیر کا صدا قائم ہی رہنا تھا, وہ غم و غصے سے پاگل ہورہی تھی اور اُسے بس ایک فون کال کا انتظار تھا اور شدت سے انتظار تھا اور اسی کیلئے وہ گڑ گڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگتی رہی تھی.
*******
فرید احمد نے ثمینہ احمد کو منالیا تھا,اُسے اور بچوں کو واپس گھر بھی لے آیا تھا,ماں باپ کے ساتھ بھی تعلقات بحال ہوگئے تھے,بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا لیکن دل میں چٹکی لیتی ہوئی کسک تھی جو بڑھتی ہی جارہی تھی,مرد محبت حاصل نہ کرسکے تو پھر بپھرا ہوا شیر بن جاتا ہے چند ہفتے فرید احمد نے جیسے تیسے گزار لیئے لیکن شمیم کا خیال تھا کہ بےچینی و بےقراری کی برقی رو دل و دماغ میں دوڑا دیتا تھا,فرید حال سے بے حال تھا,محبت شدت سے جنون کی کیفیت میں ڈھلتی جارہی تھی,شمیم کے صرف ایک پیغام,ایک کال کی دیر تھی وہ سر کے بل چلتا ہوا جاتا اور قدموں میں ڈھیر ہوجاتا مگر شمیم تھی کہ چُپ اور یہ چُپ فرید کو چرکے لگا رہی تھی اور بالآخر خود کو سنبھالنے,قابو رکھنے میں ناکام رہنے پر فرید احمد نے شمیم سے رابطہ کیا تھا.
“خیریت؟”،شمیم کے لہجے کی سردمہری جھیلنا شمیم کی دوری سے زیادہ کٹھن تھا،فرید نے اعتراف کیا تھا.
“گھر آنا چاہتا ہوں”،فرید نے ندامت سے کہا تھا۔
” وہ تو تم آئے تھے۔۔۔بارات لیکر۔۔”, شمیم نے نرم لہجے میں جوتا مارا تھا۔
“میں۔۔میں بہت شرمندہ ہوں شمیم۔”
” کس لئے؟”, فرید کو کوئی جواب نہ سوجھا۔ چند لمحے خاموشی کی نذر ہوئے پھر شمیم نے ہی پہل کی.
“مجھے کبھی بھی اپنی خوش بختی کا یقین نہیں تھا فرید صاحب”, اُس کے لہجے ٹوٹے ہوئے کانچ تھے مگر وہ لفظ “صاحب” سے زخمی ہوا تھا,”لیکن آپ نے مجھے یقین دلادیا کہ ہاں مجھ سے بڑھ کر سیاہ نصیب انڈسٹری میں کوئی عورت نہیں” ۔
” ایسا مت کہو پلیز”, فرید نے منت کی۔
شمیم ہنس پڑی “ہاں حقیقت کہنے والی چیز تھوڑا ہی ہے”, وہ اگر روتی تو فرید کو اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اذیت اُسے شمیم کی ہنسی نے پہنچائی تھی۔ وہ کوئی شکوہ کیوں نہیں کرتی،وہ اُسے گالیاں کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں کہتی کہ تم نے میرا تماشہ لگوادیا کسی سرکس میں اٹھنی چونی کے عیوض دیکھے جانے والا کرتب۔
فرید اُسی وقت شمیم کے گھر جا پہنچا تھا جہاں وہ اُسے روتی ہوئی ملی تھی،فرید میں اگر ذرا بھی سوُجھ بوجھ ہوتی تو وہ شمیم کی آنکھوں کے آنسوئوں کے بجائے شمیم کی نگاہوں کے تاثر پڑھتا جو اُسے ڈبونے کی پوری داستان عزم کے ساتھ سنارہے تھے۔
فرید نے اُسے چُپ کرواتے ہوئے دوبارہ سے شادی کی پیشکش کی تھی بلکہ پیشکش نہیں حکم سنایا تھا اور “پُتلی” کو حکم کے آگے سر جھکالینا آتا تھا یہ “شمیم” تھی جو حکم نامے کالر پر چڑھ آنے والی چیونٹی کی طرح انگلی کی ہلکی سی ٹھوکر سے اڑا دینے کا فن سیکھ گئی تھی۔
“پُتلی “نے حکم تسلیم کرلیا تھا۔
” شمیم” نے شرائط رکھ دی تھیں اور فرید نے سر تسلیم خم کردیا تھا۔
فرید نے گھر چھوڑا،ماں باپ سے قطع تعلق کیا اور ثمینہ احمد کو طلاق دے کر بچے اُس کے حوالے کیئے اور شمیم آراء سے ڈنکے کی چوٹ پر شادی کرلی، اخبارات میں شائع ہونے والی ان تینوں خبروں نے بھونچال پیدا کردیا۔ ہر ایک حیران،آنکھیں پھاڑے اُن سطروں میں چھپی تفصیل بار بار پڑھتا۔
لیکن یہ تو ابتداء تھی۔
اپنی شمیم کی ہر شرط پوری کرتے ہوئے وہ خوشی سے پھولا نہیں سمایا تھا لیکن عین شادی کی رات شمیم آراء نے اُس پر بجلی گرائی تھی۔
شمیم آراء نے مہینوں پہلے ذلت بھی محسوس کی تھی، اُسے رُسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا,وہ لوگوں کے سوالوں اور دنیا کی نظروں سے ڈر کے مارے چھپتی رہی تھی,وہ متانت اور سلجھائو جس کیلئے وہ سر آنکھوں پر بٹھائی جاتی تھی یکایک ڈھونگ اور بہروپ گردانا گیا,اتنا بڑا واقعہ ہوگیا اور وہ تھی کہ چُپ۔۔
اور اب اُسی شخص سے شادی۔۔
 دنیا,دنیا نہیں ہے دو دھاری تلوار ہے.
 نہ اس پار جینے دیتی ہے نہ اُس پار مرنے.
 اور مسئلہ یہ بن گیا تھا کہ وہ بہت جی چکی تھی دوسروں کی خواہش اور ان کی ایماء پر,وہ جینا چاہتی تھی بھرپور زندگی اپنی ٹرمز پر اور بس یہی ذرا سی آرزو اُس نے کیا کرلی زندگی نے اُسے عجیب تال پر ہی نچانا شروع کردیا.
فرید احمد بالوں کو انگلیوں سے نوچتے ہوئے اُس سے اپنا جُرم،اپنا قصور پوچھتا رہا،چیختا رہا چلاتا رہا ،اُس کے سامنے دلہن بن کر بیٹھی شمیم طنزیہ مُسکراہٹ اور برفیلی نگاہوں سے اُسے دیکھتی رہی تھی۔
 اور پھر فرید احمد سے شادی کے ٹھیک تیسرے روز اُس نے ایک پریس کانفرنس کی,اپنی میٹھی آواز, متانت بھرے لہجے اور خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ نیوز رپورٹرز اور کاریسپانڈنس کے سامنے بیٹھ کر اُس نے فرید احمد سے اپنی طلاق کے مطالبے کے بارے میں صرف اتنا کہا تھا”محبت تو ہم کرتے ہیں لیکن مجبوری یہ ہے کہ وہ ازدواجی حقوق پورے کرنے کے قابل نہیں ہیں لہذا ایسی صورت میں طلاق ہی بنتی ہے”.
اور اگلے روز یہ خبر پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی تھی اور فرید احمد کا دل ایسا سکڑا تھا کہ چند ہفتوں بعد ہی وہ دنیا چھوڑ گیا.
اُس رات وہ دھاڑیں مار کر روئی.
 اُس رات وہ حلق پھاڑ قہقہے لگاتی رہی.
*****
اگلے کئی ہفتوں تک فرید احمد کی موت ایک اچھنبا بنی رہی تھی،ثمینہ احمد نے طلاق کے بعد سے اس بارے میں کوئی بات نہ کہی تھی اور پھر آج تک وہ اسی طرزعمل پر کاربند ہے،البتہ فرید کے ماں باپ نے کافی شور شرابہ کیا تھا کہ شمیم کے الزام نے اُن کے بیٹے کی جان لے لی،وہ اگر نارمل نہیں تھا تو ثمینہ سے اُس کے دو بچے کیونکر ہوئے ،جب شمیم نے اُس کے ساتھ زندگی گزارنی نہیں تھی تو یہ سب کرنے کی کیا ضروت تھی,یہ بھی عجیب ہی بات ہے کہ بیٹوں کے ماں باپ اُس وقت شور نہیں ڈالتے جب بیٹے عشق کے میدان میں بلے بازی کرتے ہوئے محبت اور وحشت کے چوکے چھکے لگارہے ہوتے ہیں،اُنہیں غدر مچانا تب یاد آتا ہے جب وہ اُس آوارہ محبت کو گھر کی دہلیز پار کروانا چاہتے ہیں اور اگر یہ محبت دل کا روگ بن جائے تو پھر سارا قصور عورت کا،مرد خود پر قابو نہیں رکھتا تو عورت پھر اُس کا مالی استعمال بھی کرتی ہی ہے اور جذباتی استحصال بھی ،خیر شمیم آراء نے انتقام لیا تھا یا وہی تذلیل مخمل میں لپیٹ کر فرید احمد کو لوٹائی تھی یا جو بھی تھا، ایک چیز واضح ہوگئی تھی کہ وہ بھلوں کے ساتھ بھلائی کرے گی اور خود کو دھوکہ دینے والے کی تابوت میں آخری کیل بھی خود ہی ٹھونکے گی۔
مگر یہ شمیم کی خوشفہمی تھی.
فرید احمد اور شمیم آراء کی اس محبت-نفرت کے تعلق کی آخری نشانی “زیب النساء”ریلیز ہوکر فلاپ ہوئی اور شمیم آراء نے ہیروئین شپ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
اس مقام پر وہ گوشہ گمنامی اختیار نہیں کرسکتی تھی اور نہ ہی اُس کا سب کچھ تیاگ کر کسی دوسرے دیس جا بسنے کا ارادہ تھا,اچھا خاصا روپیہ بینک میں پڑا تھا لیکن وہ اچھا خاصا روپیہ ساری عمر ہی کام نہیں آنا تھا چنانچہ شمیم نے ساری توجہ فلمسازی کی جانب کرلی تھی اور اُس نے اپنی اگلی پروڈکشن “بھول” کو سیٹ کی زینت بنادیا تھا، اس فلم سے شمیم آراء نے پاکستان فلم انڈسٹری کو باکس آفس پر راج کرنے والی “ممتاز” اور دلوں کو تسخیر کرنے والی “بابرہ شریف”کا تحفہ دیا تھا،سن 74 میں “بھول”نے نمائش پذیر ہوکر گولڈن جوبلی بزنس کیا اور شمیم آراء کو کامیاب ترین فلمسازوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔
ذاتی زندگی میں شمیم بیٹے کے ساتھ تنہا کی تنہا ہی تھی،بہن سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا،لاہور مستقل مسکن بن چکا تھا،فلم انڈسٹری ہی اُس کا خاندان تھی،وحید مُراد و ندیم بھائی بن گئے تھے، نیئر سلطانہ و بہار جان چھڑکنے والی سہیلیاں، شبنم چھوٹی بہن،بابرہ اور ممتاز بیٹیاں, شمیم آراء پروڈکشن سے منسلک کیمرہ مین,میوزک کمپوزر,نغمہ نگار, ایڈیٹر,لائٹ مین اور مصنف یہ سب اُس کا خاندان بن گئے تھے,فلم انڈسٹری سے ملنے والے زخموں کو وہ بھولنے لگی تھی,”بھول” کی پروڈکشن کے دوران ہدایتکار ایس سلیمان نے خاصا پریشان کیا تو بہت سوچ بچار کے بعد شمیم نے ہدایتکاری کا فیصلہ کیا اور اگلی فلم “جیو اور جینے دو” کی فلمساز ہی نہیں بلکہ مصنفہ اور ہدایتکارہ بھی رہی مگر بہت سوچ کر اٹھایا جانے والا یہ قدم غلط پڑا تھا,”جیو اور جینے دو” بھارتی فلم”مدر انڈیا”کا ایک بے حد بُرا چربہ ثابت ہوئی تھی ,موسیقی اور ممتاز کے رقوص کے علاوہ فلم کا ہر شعبہ تنقید کی زد میں آیا اور شمیم آراء کو خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا.
فلمی حلقوں کا مشورہ تھا کہ شمیم اب کسی فلم کی ہدایتکاری سے پرہیز ہی کرے تو بہتر ہے جبکہ مخالفین ایک بار پھر چھری کانٹے تیز کیئے میدان میں اُتر آئے تھے.
شمیم نے بہت خاموشی سے اگلی فلم کی تیاریاں شروع کردیں اور سن 78 میں لندن میں فلمائی ہوئی “پلے بوائے” عید کے موقع پر پیش کی جو کہ گولڈن جوبلی ہٹ رہی, کہانی,موسیقی اور لوکیشنز کو کافی سراہا گیا ساتھ یہ بات بھی فلمی مبصرین نے نوٹس کی کہ اپنی فلموں میں روتی دھوتی, مظلوم عورت کے روپ میں پیش ہونے والی شمیم نے بطور فلمساز و ہدایتکارہ اپنی فلم کے ذریعے ہیروئین کی ایک نئی جہت پاکستانی سینما کی حد تک متعارف کروائی,شمیم کی فلم ہیروئین صرف مار نہیں کھاتی, وہ اپنا حق غصب کیئے جانے پر صبر کے آنسو آہیں بھر بھر کے نہیں پیتی بلکہ وہ آگے بڑھ کر گریبان بھی پکڑتی ہے,دو کے جواب میں چار ہاتھ بھی لگاتی ہے,وہ صرف تقریریں ہی نہیں کرتی بلکہ ضرورت پڑنے پر کسی کے ہاتھ پائوں بھی توڑ دیتی ہے. بابرہ شریف کے ساتھ شمیم آراء نے مس سیریز کی بنیاد رکھتے ہوئے “مس ہانگ کانگ” بنائی اور فلم انڈسٹری کو اب تک کا سب سے خوبصورت و وجیہہ ہیرو آصف رضا میر کی شکل میں دیا. ہانگ کانگ میں فلمائی ہوئی اس فلم کی ڈیولپنگ اور Technical  Facilities شمیم آرا نے لندن سے حاصل کی تھیں اور “مس ہانگ کانگ” اُس دور میں خالصتا تفریحی فلموں کے حوالے سے ایک Trend Setter ثابت ہوئی تھی یہی نہیں پاکستانی سینما کو شمیم آراء نے لیڈی جیمز بونڈ دینے کی ایک کامیاب کوشش بھی کی تھی, ڈائمنڈ جوبلی ہٹ بزنس کرنے کے باوجود سنجیدہ فلم بینوں اور فلمی مبصرین نے شمیم پر تنقید کی تھی کہ اپنی حساس کردار نگاری سے دلوں میں جگہ بنانے والی شمیم آراء ایک سنجیدہ فلم کیوں نہیں بنارہی چنانچہ شمیم نے “میرے اپنے “شروع کی جس کیلئے شمیم نے اپنی پروڈکشن ٹیم میں بھی تبدیلیاں کیں اور سید نور کی بجائے آغا حسن امتثال سے فلم کا سکرپٹ لکھوایا,”میرے اپنے” کا مرکزی کردار شمیم نے خود ہی ادا کیا جو کہ شمیم کی ذاتی زندگی سے قدرے مماثلت رکھتا ہوا تھا,سن 82 میں “میرے اپنے” سال کی ناکام ترین فلم ثابت ہوئی, یہ وہ دہائی تھی جب پاکستان ضیاء کے قبضے میں تھا اور خاص کر فن و ثقافت کی عزت و آبرو ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھی,عوام میں ایک خاص طرح کا غم و غصہ پایا جاتا تھا اور ایسے میں پاکستانی سینما پر سلطان راہی کی ایکشن فلمیں جن میں وہ طاقت ور عناصر سے ٹکراتا ہوا پیش کیا جاتا تھا اور وہ للکار اور بڑھکیں عوام کو اپنی نمائندگی محسوس ہوتی تھی,لہٰذا  روتی دھوتی کہانیوں کی بالکل گنجائش نہ رہی تھی شمیم نے اپنے نقاد کو بے حد اطمینان سے اپنے مخصوص لہجے میں یہ کہہ کر خاموش کروایا تھا کہ”میں نے تو ایک گھریلو سنجیدہ موضوع پر فلم بنائی تھی,عوام تو دور جن کیلئے بنائی تھی وہ مخصوص طبقہ بھی دیکھنے تھیٹر نہیں گیا,فلم ماسسز کیلئے بنائی جاتی ہے اور پبلک جس طرح کی فلم دیکھنا چاہتی ہے ہمیں ویسی ہی فلمیں بنانی ہوں گی,فاسٹ ٹیمپو,میوزیکل ایکشن فلم لوگ پسند کرتے ہیں اُن پر اپنی مرضی نہیں تھونپی جا سکتی اور پھر فلم ایک بزنس ہے اسے بزنس کے تناظر میں ہی دیکھنا چاہیئے ادبی لوگ ادب پڑھ کر ہی تسکین حاصل کریں”.
شمیم کا یہ بیان اکثریت کو چبھا لیکن مارشل لاء نے اُس مخصوص طبقے کو شمیم کے خلاف محاذ نہ بنانے دیا کہ اُس دور میں مخصوص نام پابند سلاسل تھے.
سن 84 میں “مس کولمبو” ,سن86 میں”مس سنگاپور”کی کامیابیوں نے شمیم کی بات پر تصدیقی مہر ثبت کی تھی.
پیشہ ورانہ حوالے سے اداکارہ کے طور پر کامیابیاں اگر ناقابل یقین تھیں تو بحیثیت فلمساز و ہدایتکارہ پے در پے کامیابیاں بھی مثالی تھیں,شمیم آراء پروڈکشنز نے بے شک ایک فلم بھی ایسی نہیں بنائی تھی جو انور کمال پاشا,خلیل قیصر,ریاض شاہد,خورشید انور ,شریف نیئر کے معیار کو چھوتی یا احمد بشیر اور اشفاق احمد کی کاوشوں کی طرح ناکام مگرآرٹسٹک آرٹ فلموں کی فہرست میں شمار پاتی لیکن شمیم نے طربیہ,میوزیکل فلموں کی داغ بیل ضرور ڈال دی تھی جن کی بڑی بڑی کامیابیوں نے ایک جانب شمیم آراء پروڈکشن کی ساکھ کو مستحکم کیا تھا,دوسری جانب چاروں سرکٹ میں (اُس دور میں بلوچستان اور کے پی میں اردو فلمیں بڑے شوق و ذوق سے دیکھی جاتی تھیں اور پاکستانی مارکیٹ کافی بڑی تصور کی جاتی تھی ) اُس کی بنائی فلمیں کامیاب رہی تھیں اور کوئی لاکھ تنقید کرے شوبز کی دنیا میں “جو ہٹ ہے وہی فٹ ہے” کا فارمولا چلتا ہے, شمیم سے قبل اس طرح مسلسل بیرون ملک فلمبندی کا رجحان بھی پاکستانی فلم انڈسٹری میں نہیں تھا, تکنیکی لحاظ سے اُس دور کے مرد فلمساز و ہدایتکار بھی ایسی فلمیں نہیں بنا پاتے تھے جس طرح وہ عورت ہوکر مردانہ وار ایکشن سیکوئنس شُوٹ کرلیا کرتی تھی البتہ ذاتی زندگی میں وہی تنہائی تھی جو سالہا سال سے دمساز تھی,بیٹے سلمان مجید کو اُس نے تعلیم کے سلسلے میں لندن بھیج دیا تھا,اسٹوڈیوز سے گھر تھکی ہاری آتی تو ٹوٹا بکھرا ماضی یاد کے پردے سے نکل کر آنکھوں کے سامنے آجاتا, فلمی رونقیں اُس دور میں ایسی تھیں کہ گویا کسی دوشیزہ کے آنچل پر جگمگاتے ستارے,ماند ہی نہ پڑتی تھیں,شمیم کے گھر اُس کی پروڈکشن ٹیم کے ممبران جمع رہتے,کھانے چلتے,رونق میلہ لگا رہتا, بابرہ,ممتاز,آصف رضا میر,فیصل الرحمن, ثمینہ پیرزادہ و عثمان پیرذادہ شمیم کے گھر میں باقاعدہ محفل جما کر بیٹھے ہوتے,کمال کی ڈالی ہوئی تاش کی عادت شمیم کے ساتھ ساتھ تھی اور زندگی بس یونہی بسر ہورہی تھی,دل کا آنگن سُونا جو بالوں میں اُترتی ہوئی چاندی کے ساتھ گہرا ہی ہوتا جاتا تھا, کامیابی کا ہما سر پر تاج بن کر سجا تھا اس لیئے دُنیا جھک جھک کر سلامیں کرتی نہ تھکتی تھی لیکن سن87 کی “لیڈی سمگلر” کچھ اچھا بزنس نہ کر سکی اور سن 88 کی “لیڈی کمانڈو”کی ناکامی نے شمیم آراء کے پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی,شبنم اور بابرہ عرصہ دراز کے بعد اس ایک فلم میں ایک ساتھ پیش ہوئی تھیں لیکن کمزور سکرپٹ اور شمیم کی پچھلی فلموں کے مقابلے میں کمزور Treatment فلم کی بدترین ناکامی کا سبب بنا,شمیم کو مالی طور پر اس حد تک جھٹکا لگا تھا کہ اگلے تین برس تک وہ کنگال ہوچکی تھی اور اس سے پہلے وہ فٹ پاتھ پر آجاتی دبیر الحسن اُس کی زندگی میں باقاعدہ ایک ایجنڈے کے ساتھ داخل ہوا تھا.
********
دبیر الحسن کا تعلق کراچی سے تھا,لکھنے پڑھنے سے شغف رکھتا تھا اور یہ خواب سالہا سال سے دیکھ رہا تھا کہ زندگی میں وہ بھی کبھی کسی فلم کا سکرپٹ لکھے,فلم والوں سے وہ کئی برس سے رابطے کی کوشش میں مصروف تھا لیکن ایک تو کراچی میں فلمسازی نہ ہونے کے برابر تھی اور جو لوگ فلمیں بناتے بھی تھے تو اُن کی اپنی اپنی ٹیمیں تھیں جن میں ظاہر ہے دبیر کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی,پھر یہ تصور کرنے کہ “میں بہت اچھا لکھ سکتا ہوں” اور حقیقت میں یہ “قابلیت” رکھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور دبیر صرف تصور ہی رکھتا تھا مگر اس کا ادراک نہیں.
یہ کہنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ دبیر بھی شمیم آراء کے لاکھوں مداحوں میں شامل تھا لیکن لاہور تک اُس کی کوئی رسائی نہیں تھی.
دبیر بنیادی طور پر ایک بدنیت اور لالچی شخص تھا اور کئی طرح کے شعبوں سے منسلک رہ کر اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا آرہا تھا.
نوے کی دہائی کے ابتدائی سال میں پاکستان کا اُس وقت تک کا سب سے بڑا معاشی سکینڈل منظر عام پر آیا تھا, جس نے پوری دنیا کو ہی ہلا کر رکھ دیا تھا. BCCI پاکستانی پرائیوٹ بینک تھا جو ترقی کرتے ہوئے دنیا کا ساتواں بڑا بینک بن چکا تھا جو luxembourg میں رجسٹر تھا جبکہ اس کے ہیڈ آفسز کراچی اور لاہور میں تھے اور دنیا کے اٹہتر ممالک میں اس کی برانچیں تھیں,اس مالیاتی فراڈ کیس کی وجہ سے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے اٹہتر ممالک کے لاکھوں لوگ بینک کرپٹ ہوگئے تھے,اب یہ فراڈ حقیقت تھا یا CIA کی مدد سے عالمی طاقتوں کی سازش یا کچھ اور یہ قصہ پھر کبھی سہی,دبیر الحسن بھی اس بینک کے ملازمین میں سے ایک تھا اور ہزاروں لوگوں کو اس بینک میں روپیہ جمع کروانے کا ذمے دار تھا,لیکن دبیر اپنی عادت یا فطرت سے مجبور ہوکر اکثریت کے روپے سے اپنا حصہ نکال کر سرکاری بینک میں جمع کرتا رہا تھا اور بینک سے بھی بھاری کمیشن تنخواہ کے علاوہ وصول کرتا رہا تھا یہی وجہ تھی کہ بینک کے بند ہوجانے کے بعد جہاں لاکھوں افراد کنگال ہوئے تھے وہیں دبیر لاکھوں کا مالک بن بیٹھا تھا. دبیر نے مزید کوئی نوکری ڈھونڈنے یا کوئی کاروبار کرنے کے بجائے لاہور کا قصد کیا تھا,جیب میں روپیہ تھا چنانچہ رائل پارک (لاہور کا فلمی مرکز) نے اپنی بانہیں اُس کیلئے کھول دی تھیں جہاں سے پہلے وہ نامُراد لوٹایا جاتا تھا, اس عرصے میں اُس کی کئی فلمی شخصیات سے دوستی ہوئی اور ظاہر ہے اس دوستی کے پیچھے اُس روپے کا ہی ہاتھ تھا اور کئی ہدایت کار دبیر کو Investor سمجھ کر گھیرنے کی کوششوں میں تھے لیکن دبیر کی نگاہیں شمیم پر ٹکی تھیں جو کہ تین سال سے کوئی فلم نہیں بنا رہی تھی.
وہ ڈبل ورژن فلموں کا انتہائی ابتر دور تھا,اردو فلمیں دو تین سال میں گنتی کی ایک دو ہی بن رہی تھیں,سکرین پر خون خرابے,جان لیتے, للکارتے ہیروز اور بھدی اور ناچتی ہوئی ہیروئنز کا راج تھا اور شمیم کا مزاج اس طرح کے آرٹ سے میل نہیں کھاتا تھا,کئی فلمسازوں کی پیشکش وہ ٹھکرا چکی تھی اول تو وہ کسی اور ادارے کیلئے فلم بنانے کے حق میں تھی ہی نہیں کیونکہ کوئی ادارہ اُسے وہ آزادی نہ دیتا جس کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتی تھی,پھر کسی اور کی ہدایات پر کام کرنا اُسے نانی اقبال کی یاد دلاتا تھا چنانچہ اُس نے یہ عرصہ بیٹے کے پاس لندن میں ہی گزارا. سن 92 میں وہ پاکستان واپس آئی تھی اور فلم انڈسٹری کے حالات پر نئے سرے سے کُڑھ کر رہ گئی لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی کہ فلمسازی کیلئے اتنا سرمایہ اُس کے پاس نہیں تھا, دبیر الحسن نے Eveready production کو کسی طرح رضا مند کرلیا( یہ ادارہ خود بھی فلمسازی سے پیچھے ہٹ چکا تھا) کہ وہ بھی کچھ رقم اس فلم پر لگائے گا بشرطیکہ وہ ہدایئتکاری کیلئے شمیم کا انتخاب کریں,ایوریڈی کے روح رواں شمیم خورشید کے شمیم آراء کے ساتھ بھی تعلقات اچھے تھے چنانچہ ادارہ اس شرط پر کہ دبیر کا نام کریڈٹ لسٹ پر نہیں آئے گا,فلم پروڈیوس کرنے کیلئے راضی ہوگیا,شمیم کو دبیر کی یہ ادا کافی بھائی اور اُن کے درمیان اچھے پیشہ ورانہ تعلق کا آغاز ہوا,شمیم کے بینک قرضے کو سود سمیت لوٹانے میں بھی دبیر نے کافی مدد کی جس پر شمیم احسان مند بھی تھی,سن 93 میں “ہاتھی میرے ساتھی”ریلیز ہوئی اور سالوں بعد کسی اردو فلم نے دونوں مرکزی سرکٹس میں کھڑکی توڑ بزنس کیا,خون خرابے سے پاک سری لنکا میں فلمائی ہوئی یہ فلم اپنی موسیقی,ہلکی پھلکی کامیڈی اور ریما کی جاندار اداکاری کی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہوئی اور ایک بار پھر شمیم آراء کے قدم مستحکم ہوئے,وہ دبیر کی بے حد مشکور تھی مگر اُس وقت حیران رہ گئی جب دبیر نے شادی کی پیشکش کردی.
“اب اس عمر میں؟،نہیں دبیر صاحب میں مزید تماشہ نہیں بننا چاہتی”۔
دبیر ہنس پڑا تھا”اس عمر میں تنہا مر جانے سے تو بہتر ہے کہ کوئی ساتھی ڈھونڈ لیا جائے”۔
دبیر کو شیشے میں اتارنا آتا تھا دوسرا شمیم کو بھی کسی ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی تھی پھر دبیر کی باتوں کا بھی اثر تھا جو گاہے بہ گاہے وہ کرتا رہتا تھا۔
” میں اکیلا ہوں شمیم بیوی بچوں کی زندگی میں میرے لیئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے وہ بہت خوش ہیں میرے بغیر”۔
“کبھی کبھی میں سوچتا ہوں شمیم میری بھی کیا زندگی ہے پیسہ ہے کام ہے لیکن نصیب نہیں ہے”, اور شمیم سوچ میں پڑ جاتی کہ کیا دنیا میں کوئی بھی خوش نہیں ہے،کیا دنیا کا ہر انسان ہی رشتوں کے معاملے میں سیاہ نصیب ہے،خالی ہاتھ ہے۔ کوئی رشتوں اور تنہائی کا ڈسا ہوا ہے میری طرح تو ہم شائد ایک دوسرے کا سہارا بن کر اچھی زندگی گزار سکیں۔۔شائد۔۔شائد۔۔اور شمیم نے دبیر سے شادی کرلی۔
بہت آسان ہوتا ہے کسی بھی انسان کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ “اسے ضرورت ہی کیا تھی ایسا ویسا کچھ بھی کرنے کی,اچھی بھلی زندگی تھی,نام تھا شہرت تھی پیسہ تھا کامیابی تھی اولاد تھی”,کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان کی کسی ضرورت کے “ہونے” یا “نہ”ہونے کے بارے میں فیصلہ کیسے کرسکتا ہے اور ایک کردار قسمت بھی تو ہے,وہ لکڑی جو مجسم وجود نہیں رکھتی مگر ہر ایک پر پڑتی ہے اور دکھائی دے جاتی ہے اس پر کسی کا زور چلا ہے بھلا تو ہوا یوں کہ دبیر بڑی تدبیر سے اس کی زندگی میں آیا تھا.
وہ شائد پیاس تھی.
شائد چاہے جانے کی چاہ تھی.
زہنی تنہائی کا تریاق تھا.
جو بھی تھا دبیر کے ساتھ تعلق ضرورت کا تھا اور ضرورت وہ کتیا ہے جس کی فطرت دیمک کی ہے. ہر دو انسانوں کے درمیان آتی ہے اور دو میں سے ایک کو چاٹ جاتی ہے. دبیر الحسن اسی دیمک کی فطرت والی کتیا کے پجاری تھا.
شمیم کے بیٹے نے اس معاملے پر کوئی خاص رد عمل نہیں دکھایا تھا بس یہ تھا کہ اُس نے شمیم سے کہہ دیا تھا کہ وہ دبیر سے ملنا نہیں چاہتا,نہ ابھی نہ کبھی.
شمیم کی اگلی فلم “بیٹا” بھی کامیاب رہی اور شمیم آراء پروڈکشن بالآخر اس پوزیشن میں دوبارہ آگیا کہ فلم شروع کردی جاتی, لیکن شمیم آراء پروڈکشن کی “آخری مجرا” اچھی کہانی,مسحور کُن موسیقی,نیلی کی اعلی اداکاری اور ریما کے رقص کے باوجود بُری طرح ناکام رہی, شمیم کیلئے یہ ایک بڑا سیٹ بیک تھا جو پیشہ ورانہ زندگی میں اُسے پہنچا تھا لیکن اُس کی ذاتی زندگی بھی مدوجزر کی لپیٹ میں آہستہ آہستہ آنا شروع ہوگئی تھی, دبیر بہت دھیرے دھیرے پیار محبت اور چاپلوسی کی اعلی اداکاری کے ذریعے شمیم کے ہر معاملے پر اثر انداز ہوتا جارہا تھا اس حد تک کہ بابرہ اور ممتاز نے بھی شمیم سے پیشہ ورانہ تعلق ترک کردیا تھا اور صرف عقیدت و احترام کا تعلق استوار رکھا تھا,شمیم آراء پروڈکشن کے ٹیم ممبران میں بھی دبیر کے مشوروں سے نمایاں تبدیلی آئی تھی,سید نور جو شمیم کی فلموں کا مستقل مصنف تھا سے دبیر نے اپنی نوسربازی کے باعث تعلقات میں پھندا ڈالا,خود سید نور بھی مستقل طور پر ہدایت کاری کی جانب چلا گیا تھا لہذٰا دبیر نے فلم کے سکرپٹ کیلئے اپنی خدمات پیش کردیں,شمیم متامل تھی لیکن دبیر نے پیار بھری دھونس سے کام چلایا شمیم اُس وقت بھی نہیں ٹھٹکی تھی.
شمیم کی اگلی تینوں فلمیں “منڈا بگڑا جائے”, “Love 95” اور “ہم تو چلے سسرال”بھی سپرہٹ رہیں ان تینوں فلموں کے سکرپٹس دبیر نے ہی لکھے تھے اور حیرانی کی بات تھی کہ فلم انڈسٹری کے کسی دوسرے فلمساز نے اتنی بڑی بڑی ہٹس کے مصنف کو اپنی کسی ایک فلم کا سکرپٹ لکھنے کے قابل نہیں سمجھا تھا وجہ یہی تھی کہ دبیر میں لکھنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی،شمیم اُس وقت بھی نہیں ٹھٹکی جب “منڈا بگڑا جائے” پر سنجیدہ حلقوں کے ساتھ ساتھ ماسسز نے بھی تنقید کی کیونکہ “منڈا بگڑا جائے “بھارت کی دو فلموں کا سرقہ تھی,شمیم نے دبیر سے بازپرس کی تو وہ یہ کہہ کر ٹال گیا کہ “اس سے کیا فرق پڑتا ہے یہ دیکھو کہ تم فلم انڈسٹری کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم کی ہدایتکارہ ہو”, یہی خیال فلم کے فلمساز حاجی عبد الرشید کا بھی تھا اور بات بالکل ٹھیک تھی,ستر اسی لاکھ کی یہ فلم سن 95 میں چھے کروڑ کا ریکارڈ بزنس کرتے ہوئے اب تک کی واحد فلم ہے جس نے لاہور اور کراچی دونوں مراکز پر سو ہفتے یعنی ڈبل ڈائمنڈ جوبلی منائی.
ریما کے فنی کیرئیر میں شمیم آراء کا سب سے اہم اور نمایاں کردار رہا ہے اور بابرہ کے بعد ریما ہی وہ اداکارہ تھی جو نئے منظر نامے میں شمیم کو اپنی فلموں کیلئے سب سے موزوں لگتی تھی,خود ریما بھی شمیم آراء سے بے حد لگائو رکھتی تھی,شمیم کی ہر فلم کی ہیروئین ریما ہی تھی اور صرف فلم کے سیٹ پر ہی نہیں اکثر شمیم کے گھر بھی پائی جاتی تھی کہ ایک وقت ایسا آن پڑا تھا کہ شمیم کا کھانا بھی ریما کے بغیر ہضم نہ ہوتا تھا اور دبیر کے دل میں ریما کیلئے کدورت دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی جس کی سب سے بڑی وجہ ریما کی سوجھ بوجھ اور ذہانت تھی،فلم “مس استنبول” کا پروڈیوسر افتخار احمد پاکستانی نژاد تُرکش تھا اور ریما کے عشاق میں سے ایک, وہ ریما کیلئے ہی فلم انڈسٹری میں آیا تھا،فلم “مس استنبول “ہالی ووڈ کلاسک Pretty Woman سے متاثر تھی جس کا سکرپٹ ریما ہی کی ضد پر شمیم آراء نے دبیر کے بجائے مظہر انجم سے لکھوایا جو دبیر کیلئے زہر میں بجھا ہوا تیر تھا,ریما کا کہنا تھا کہ ریشم اور می را کے فلمی پردے پر نمودار ہوجانے کے بعد یہ اُس کی بقاء کا سوال ہے کہ وہ اب ایسی فلمیں بھی کرے جن میں اُس کیلئے مضبوط کردار ہوں اور وہ صرف رقص اور گلیمر تک ہی محدود نہ رہے اور دبیر الحسن کبھی مر کر بھی ایک اچھی کہانی نہیں لکھ سکتا تھا خود شمیم بھی یہ بات محسوس کرچکی تھی کہ بے سروپا ہلکی پھلکی کہانیوں پر مبنی اُس کی فلمیں گوکہ سپرہٹ تو ہورہی ہیں لیکن اُن کی وجہ سے شمیم پر تنقید بھی بہت کی جارہی ہے, چنانچہ شمیم نے ریما کی خواہش و ضد پر عمل کیا تھا, دبیر کیلئے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ ریما کا پتا بھی صاف کرتا مگر اس کیلئے چال کی نہیں جال کی ضرورت تھی,وہ جانتا تھا کہ شمیم آراء کبھی بھی One Woman of Film Industry سے نہیں بگاڑے گی یہ نوے کی دہائی کا وسط تھا جب پاکستان فلم انڈسٹری میں ایک ہی ہیروئین کی اجارہ داری تھی جو فلم انڈسٹری کا ہیرو بھی تھی “ریما” اور ریما کے دل پر بابر علی کا راج تھا لہٰذا دبیر نے بہت شاطر طریقے سے شمیم اور بابر علی کے درمیان پیشہ ورانہ تعلق کو “جسمانی تعلقات “کا نام دے دیا یہ الزام بابر علی برداشت نہ کرسکا اور دبیر کا گریبان پکڑ لیا,ہاتھا پائی کے بعد بالآخر معاملہ بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوا,بابر نے آئندہ شمیم کی کسی بھی فلم میں کام نہ کرنے کا اعلان کردیا لیکن جس مقصد کیلئے دبیر نے اس قدر گھٹیاپن دکھایا تھا وہ پھر بھی حاصل نہ ہوسکا کیونکہ دبیر نہیں جانتا تھا کہ ریما کے دل پر بابر علی کا سہی لیکن ریما کے دماغ پر صرف ریما ہی کا راج تھا. “مس استنبول” ہٹ رہی اور شمیم کی کامیابی کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب کرگئی.
سن 97 کی تینوں فلمیں “ہم کسی سے کم نہیں”, “دنیا ہے دل والوں کی “اور “کرشمہ” بُری طرح ناکام رہیں,فلمسازوں نے شمیم سے آنکھیں پھیرنا شروع کردیں بہت ضروری تھا کہ شمیم اپنی ساکھ کی بحالی کیلئے فوری ایک کامیاب فلم مارکیٹ کو دیتی چنانچہ ایک ساتھ تین فلمیں شروع کیں جن کی کہانی,موسیقی ہر چیز پر شمیم نے بہت محنت کی لیکن شمیم آراء پروڈکشن کی اگلی فلم “کبھی ہاں کبھی نا” اور “چپکے چپکے” بھی ڈیڈ فلاپ رہیں,فلم “چپکے چپکے” نے شمیم آراء کے اعصاب کو متاثر کیا اور دبیر کے چہرے سے نقاب کھینچ لیا تھا,”چپکے چپکے” کا ہیرو نعمان دبیر کا اپنا بیٹا تھا اور اُسے فلم کا ہیرو بنوانے کیلئے دبیر نے صرف شمیم پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا باقی ہر حربہ استعمال کیا تھا اور فلمی مبصرین نے اسُی لڑکے کو فلم کی ناکامی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ قرار دیا تھا مگر شمیم “پل دو پل” کی ناکامی پر دل پکڑ کر بیٹھ گئی تھی جس کی تکمیل کیلئے شمیم نے اپنی تمام جمع پونجی دائو پر لگادی تھی,نصرت فتح علی خان کی مرتب کردہ موسیقی اس فلم کی اساس تھی,ٹریڈ رپورٹ اچھی ہونے کے باوجود یہ دبیر کی ضد تھی کہ سن 2000 کی عید کے بجائے سن 99 میں نومبر کے مہینے میں فلم ریلیز کی جائے,ڈسٹری بیوٹر اور فلم ریلیز کرنے والے ادارے مسقطیہ انٹرپرائزز کے ساتھ سازباز کے ذریعے 2000 کا کوئی جمعہ بھی دبیر نے فلم “پل دو پل” کی ریلیز کیلئے شمیم کو ملنے نہ دیا چنانچہ دبیر کی نفسیاتی بیماری کے باعث “پل دو پل” رمضان سے محض دو ہفتے قبل بناء کسی تشہیر کے ریلیز ہوئی اور نتیجہ وہی نکلا جو دبیر چاہتا تھا,شمیم کی کمر ٹوٹ چکی تھی مگر ابھی ترکش میں تیر باقی تھے.
شمیم آراء کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا ایک سکینڈل سے لگا جس نے شمیم کی روح ہلا دی تھی. شمیم آراء بیرون ملک اپنی فلموں کی شوٹ کیلئے 120 افراد کا یونٹ لیکر جایا کرتی تھی,لیکن کچھ عرصے میں اچانک اس یونٹ کے افراد میں اضافہ ہونے لگا تھا جو جاتے تو یونٹ کے ہمراہ تھے مگر یونٹ کے ساتھ واپس پاکستان نہیں آتے تھے ,شمیم کے استفسار پر یہی سننے کو ملتا کہ وہ لوگ خود ہی واپس آجائیں گے اور یوں بات آئی گئی ہوجاتی, مگر یہ راز 2000 نومبر میں کھلا کہ ہر یونٹ کے ساتھ تین چار اضافی لڑکے لڑکیاں جو تُرکی, سنگاپور, سری لنکا اور مالدیپ وغیرہ گئے تھے اُن کا ان ممالک میں سودا کردیا گیا تھا یہ Human trafficking کی بدترین شکل تھی,اس سکینڈل کے منظر عام پر آتے ہی شمیم نے خود کو  سنبھالنے کے فوری بعد ہی تفتیش شروع کی تھی اور اس سارے معاملے کی حقیقت و سچائی جانتے ہی شمیم نے دبیر سے باز پُرس کی تھی کیونکہ وہ لڑکے لڑکیاں دبیر کے جھانسے میں آکر ہی لاکھوں روپوں کے عیوض صرف فلم میں چانس کیلئے اپنا سودا کروابیٹھے تھے اور نہ جانے کن حالوں میں تھے. دبیر نے اطمینان سے اس سب کی ذمےداری قبول کرتے ہوئے وہ دستاویز شمیم کو دکھا دیئے جن کے مطابق ہونے والی اس سودے بازی میں دبیر کے بجائے شمیم کا نام درج تھا اور یہ سچ شمیم کو برین ہیمبریج کرواگیا. فالج کا حملہ بھی اسی دوران ہوا اور اگلے دو سال بعد وہ اس قابل ہوسکی کہ ہل جُل سکے,بات کرسکے,وہ چہرہ جو تیس چالیس سال تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہا تھا کہ جس کی تابناکی ماند نہ ہوئی تھی وہ فالج زدہ ہوکر بگڑ گیا تھا,چمکتی آنکھوں کی جوت ماند پڑگئی تھی,آنسو جن کا نصیب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بن گئے تھے,ساتھی و دمساز چھوٹے نہ تھے لیکن پاس بھی نہ تھے,جان بچ گئی تھی,ہمت بھی باقی تھی,جمشید ظفر نے اپنی ہٹ فلموں کی ہدایتکارہ کو اس کڑے وقت میں اکیلا نہ چھوڑا اپنی فلم کی ہدایتکاری سونپ دی,ریما,ریمبو اور بابر علی جی جان سے فلم میں کام کرنے پر راضی ہوئے,دبئی اور شارجہ میں فلم شوٹ ہوئی, بھرپور پبلسٹی کے ساتھ 2002 میں “کون بنے کا کروڑ پتی” کے نام سے ریلیز ہوئی اور ناکام رہی…شمیم کو بیٹا لندن لے گیا.
دبیر پاکستان میں تنہا رہ گیا.
وہ سکینڈل کب اور کیسے دب گیا کوئی نہیں جانتا, دبیر کی نیت وہ دیر سے سہی جان گئی تھی,اُس نے بالآخر طلاق کا مطالبہ کردیا جواب میں دبیر نے کمینگی کی حد کرتے ہوئے جو بچا کھچا شمیم کے پاس تھا وہ مانگ لیا.
شمیم نے خاموشی اختیار کرلی.
دبیر نامی جونک اپنی زندگی میں وہ خود ہی لائی تھی.
لندن میں بہترین علاج کرواکر شمیم ایک بار پھر 2010 میں پاکستان بیٹے کے لاکھ منع کرنے, سمجھانے کے باوجود..پاکستان کی محبت, فلم انڈسٹری کے لوگوں کی محبت اُسے واپس کھینچ لائی,ہمت ہی تو نہ ٹوٹتی تھی شمیم کی…یہی تو مسئلہ تھا مگر اس ہمت کو پہلی ضرب فلم انڈسٹری کی مکمل تباہی نے لگائی, سٹوڈیوز کے تالے,فلورز پر مکڑی کے جالوں,کیڑوں مکوڑوں کی بہتات, مزدوروں کی بھوک سے فاقہ زدہ زندگی,شمیم بلبلا کر رو پڑی.
خالی,اجڑے ویران فلورز کی دیواروں کو چھو چھو کر دیکھتی جاتی پوچھتی جاتی.
کہاں ہو تُم سہیلیوں..کہاں ہو تُم..
آواز دو..
میرے بھائی نور (سید نور) کو بلائو وہ تو بھول ہی گیا ہے مجھے.
میری ایک بیٹی ہے بابرہ…اُسے بتادو کہ میں واپس آگئی ہوں.
میری ایک بیٹی ہے ریما..اُسے پتا ہے کہ میں زندہ ہوں..وقت عجیب شے ہے اتنی مہلت بھی بھاگتی دوڑتی ہنگامہ پرور زندگی نہیں دیتی کہ انسان لڑکھڑا کر گر جانے والے,پیچھے رہ جانے والے ساتھی کو دو ثانیئے کیلئے مڑ کر ہی دیکھ لے.
اتنی فُرصت ہی نہ تھی کسی کے پاس کہ عیادت کرلی جاتی,ایک نظر دیکھ ہی لیا جاتا.
یہ اُن رشتوں اُن چہروں کو دیکھنے,ملنے کی خواہش نہیں تھی…یہ شمیم آراء کی حسرت تھی اُس خود غرضی کو قبول نہ کرپانے کی حالت تھی کہ جب وہ چڑھا ہوا,سلگھتا سورج تھی,کامیابی کا چمکتا روشنی پھیلاتا ہوا مینارہ تھی تو لوگوں کا جھنڈ اُس کے نزدیک,اُس کے ارد گرد ہوا کرتا تھا, باجی شمیم,میڈم شمیم آراء کے ناموں کی صدائیں لگا کرتی تھیں اور وقت کی گرد نے کامیابی کو کھالیا تھا,روشنی بجھ گئی تھی لیکن وہ تو وہی تھی…باجی شمیم…میڈم شمیم آراء..
نور کی بہن..
بابرہ کی باجی..ماں..
ریما کی Mentor.
کیا خبر تھی ہمیں ٹوٹ جائے گا دل..خواب اشکوں کی صورت بکھر جائیں گے.
وہ محمد علی کی قبر پر گئی تھی,محبوب کی مہندی ہاتھوں پر تو نہ لگ سکی تھی تو قبر کی مٹی ہی سہی…مانگ نہ سج سکی تھی تو کیا ہوا خاک ہی سہی..
ہمیں آتا نہیں ہے پیار میں بے آبرو ہونا..
سکھایا حسن کو ہم نے وفا میں سُرخرو ہونا..
یہ دوسری ضرب تھی .
تیسری و جان لیوا ضرب تھی کہ اپنا ٹھکانہ اپنا نہ رہا تھا.
گلبرگ (لاہور) کا ظہور الہٰی روڈ جہاں شمیم آراء کی کوٹھی تھی,زندگی بھر کی جمع پونجی,ساری عمر کی کمائی,سر چھپانے کا آسرا..وہ کوٹھی جو رات رات بھر فلمی ستاروں کے قہقہوں سے گونجتی تھی ,جہاں تاش کی محفلیں سجتی تھی,عشق و عاشقی کے درجے مرحلہ وار طے ہوتے تھے,وہ عشرت کدہ جو سرور و لطف کی علامت تھا اور جو شمیم آراء کی ملکیت نہ رہا تھا.
دبیر الحسن کا آخری کاری وار خالی نہ گیا تھا جو شمیم کی عدم موجودگی میں کسی کالج لیکچرار کو وہ کوٹھی فروخت کرکے واپس کراچی جا چکا تھا.
شمیم کی ہمت آسمان سے منہ کے بل زمین پر آن گری تھی.
حوصلہ پارے کی طرح بکھرا تھا.
اس بار ہونے والا فالج کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ شمیم ہمیشہ کیلئے ہی مفلوج ہوئی.
کومے کی حالت میں ہی ریشم اور چند لوگوں کی مدد سے ایئر ایمبولینس کا بندوبست ممکن ہوا اور سلمان مجید اپنی ماں کو ہمیشہ کیلئے لندن لے گیا.
کومے کی حالت میں اگلے چھے برس تک اُس عالم بے بسی میں وہ کیا محسوس کرتی رہی تھی کون جانتا ہے.
آنکھیں بند کیئے سماعتیں کس کی آہٹ کی منتظر رہیں کسے خبر.
یاداشت کے پروجیکٹر سے ذہن کے پردے پر کس کس کے چہرے ابھرتے ڈوبتے رہے تھے..
ماں کی گرم آغوش…
“یہ لو..یہ ہے اماں.”..نانی نے گڑیا دیتے ہوئے کہا تھا..کب..کیوں؟۔۔
“تم ناچنے گانے والی ہو”..لوگوں کے ہجوم کی آوازیں تھیں…وہ وکیل نہ بن سکی…وہ ہیروئین بن گئی…کس لیئے..کس کے کہنے پر…کس حق سے…
وہ “کنواری بیوہ “بنی…شادیاں ہوئیں…سہاگن نہ بنی…کبھی نہیں…کس وجہ سے…کون سی غلطی تھی اور کہاں ہوئی تھی..
ضد,بدلہ,بے وقوفی…کب کیسے کیوں آجاتی ہیں یہ زندگی میں…اور دبیر….. دھوکہ…کیسے ہوجاتا ہے یہ دھوکہ…محبت نہ ملے تو حسرت کیوں بن جاتی ہے…اور حسرت روگ کیوں بن جاتی ہے…کیا حق ہے روگ کے پاس کہ اچھے بھلے انسان کو گھُن کی طرح چاٹ جائے…
رونق,میلہ,ہنسی,روپیہ,اسٹار ڈم,عشاق کا ایک ہجوم. ..سب کچھ پیچھے ہی رہ جاتا ہے بس موت ہاتھ بڑھاتی ہے اور ساتھ لے جاتی ہے..نارسائی, کرب, تنہائی,ویرانی اور حسرت جیسی عفریتیں اوربھوت پریت سے موت یوں سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں آزاد کروادیتی ہے.
5 اگست 2016 کو موت نے یہی کیا تھا..
“پُتلی” تو عرصہ پہلے مار دی گئی تھی..
“شمیم آراء” اُس روز رخصت ہولی..
انسان اور اُس کی خواہشیں…
کامیابی,دولت,طاقت.
اور ملتا کیا ہے..
تنہائی,کرب اور رُسوائی..
اور دُنیا…دُنیا نے اُس کی موت کو بھی نہ بخشا تھا.
“انا للہ افسوس ہوا لیکن بڑی ہی عجیب خاتون تھیں”.
“ہاں ساری عمر بس شادیاں ہی کرتی رہیں”.
“سُنا ہے کہ بازار سے تعلق تھا”.
“اچھا!تبھی,خیر ہمیں کیا بس خدا اُن کی بخشش کرے. ”
“آمین!ویسے تمہیں پتا ہے انسانی سمگلنگ میں بھی ملوث تھیں دیکھ لو خدا نے کیسا عذاب دیا”.
“ٹھیک کہتی ہو!ایسوں کا انجام ہی ایسا ہوتا ہے پھر”.
مرجانے پر بھی نہ بخشنا اوراُس کی موت کو چٹخارا بنادینے والوں کا اپنا کیسا انجام ہو…کوئی جانتا ہے ؟۔۔۔
خاموشی…خاموشی…اور خاموشی..!!!
ختم شُد.