ناولٹ : ’’پُتلی‘‘ …پہلا حصہ.

ایک ضروری بات
اس تحریر میں شامل مواد اور دیگر باتیں لکھاری کی اپنی ریسرچ پر مبنی ہیں ,ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ادارہ اس سلسلے میں کسی سوال و جواب کا پابند ہے.
.  ادارہ کینوس ڈائجسٹ.

تحریر : محمد یاسر

یہ موسم بہار کی آمد سے پہلے اور جاتے ہوئے جاڑے کی ایک سرد گرم ملی جُلی شام تھی،مارچ کا تیسرا ہفتہ تھا جب اُس نے اپنی موندی موندی آنکھوں سے دنیا کو دیکھا اور پہچاننے کی کوشش کی تھی ،ساتھ لیٹی ماں کی کراہیں تھیں جو شائد ہر بچے کی طرح اُس نے بھی سنی تھیں اور پھر بلک کر رودی تھی۔دنیا سے ہر انسان کا ہی تعارف اسی طرح رو کر ہوتا ہے اور بعد کا پھر سارا سفر انسان روتے اور رُلاتے ہوئے ہی طے کرتا ہے، وہ برسات کی جھڑی اپنے مقصوم میں لے کر آئی تھی یا جس دنیا میں آگئی تھی وہاں اُس کی تقدیر اس سیاہی سے لکھی جانی تھی جسے آنسو کہتے ہیں ،وہ نہیں جانتی تھی،وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اُس نے دنیا کے جس حصے میں آنکھ کھولی ہے اس کا تذکرہ معاشرے میں ہمیشہ ہتک سے ،کراہیت سے کیا جاتا ہے اور یہ ہتک یہ کراہیت اس مخصوص جگہ کی ہیبت,رعب اور رنگینی کے اثرات کو کبھی بھی زائل نہیں ہونے دیتی،ہتک، کراہیئت رکھنے کے باوجود وہ ’’دنیا‘‘ عام دنیا والوں کیلئے ایک عجیب ہی جادوئی تجسس رکھتی ہے،یہ وہ’’ ممنوعہ علاقہ ‘‘ہے جس کی سرحد ہمیشہ مردوں نے رات کی تاریکی میں اپنی وحشت کے ہاتھوں زیر ہوکر پھلانگی ہے اور یہ وہ ’’حیرت کدہ ‘‘ہے جو ہمیشہ عورتوں کی ضرورت کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور پھر مرد وزن کے وحشت وضرورت کے’’ تال میل ‘‘سے ہی پھلتا پھولتا ہے اور پھرجو کہانیاں اس کے کارن وجود میں آتی ہیں وہ دنیا کی تاریخ کیلئے داستان اور انسانی اخلاقیات کی تاریخ کیلئے تازیانہ ثابت ہوتی ہیں۔
سانولی سلونی،جھیل بھنور سیاہ گہری آنکھوں والی وہ دبلی پتلی بچی اپنی ساحر مسکراہٹ لئے ایک گود سے دوسری گود تک کا سفر قلقاریاں مارتے ہوئے کرتی رہی،اُس کے نین نقش دیکھ کر نام تجویز ہوا ’’پُتلی‘‘،جس نے بھی یہ نام اُسے دیا تھا بڑی ہی کالی زبان تھی اُس نیک بخت کی کہ ’’پُتلی‘‘ پھر ایک عرصہ ’’پُتلی‘‘ ہی بنی رہی اور جب رخصت ہونے لگی تو۔
مگر وقت رخصت سے قبل وہ حیرت کدے کی طلسم ،رنگین گھور چکاچوند والی ہوشرباداستان ’’ان کہی‘‘ ہی چھوڑ گئی، وہ داستان کے جس کا ظاہر بڑا ہی پُررونق،سرور آور اور ہیجان انگیز ہے مگر جس کا باطن لفظ لٖفظ صرف اذیت ہے،تنہائی ہے اور عبرت ہے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
یہ سن انتالیس کا علی گڑھ ہے،وہ علی گڑھ جو مسلمانان ہند کی تعلیم و تربیت کی آماجگاہ ہے،جہاں مسلمانوں کی ہندوستان میں آئندہ زندگی سے متعلق اندازے وقیافے لگائے جاتے ہیں اور یہ منطقی نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ بر صغیر کے مسلمانوں کی بھلائی و عافیت اسی میں ہے کہ وہ علم کو اپنی قسمت کی لونڈی بنانے کی پھر سے کوششیں کریں،آزاد مملکت
کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر وہ محلہ مسلمانان ہند کی تعلیم وترقی،تربیت اورآزادی کے سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کررہا, وہ محلہ علی گڑھ میں خوبصورت اور طرح دار عورتوں،اُن کے ناز وانداز،اُن کی چال ڈھال ،ان کے گلے کے سُر اور پیروں کے نرت کے حوالے سے مشہور تھا۔بڑی بڑی سکہ بند مغنیائیں اور رقاصائیں اس محلے کے فلک پر نمودار ہوئیں اور پھر تادیر اپنے فن کے چاند اور جلووں کے ستارے بکھیرتے ہوئے آسمان کا سورج بنی رہیں۔اسی محلے کے ایک چوبارے میں اقبال بیگم پان کی گلوری منہ میں دبائے بیٹی کو سمجھانے کی کوشش میں مصروف تھی مگر بیٹی تو کچھ سننے سمجھنے جوگی ہی نہیں رہی تھی۔
’’دیکھ تُو خواہ مخواہ میں حجت کررہی ہے،یہی وقت ہے بمبئی میں قسمت آزمانے کا،تجھے بچیوں کا خیال ہے نا تو بٹیا آخر تیری ماں کس مرض کی دوا ہے،مجھ پر چھوڑ انہیں،میں اچھے سے سنبھال رکھوں گی‘‘۔
’’ماں!میری بچیاں جیتی جاگتی انسان ہیں،یہ آرائشی سامان نہیں ہیں جن کی دیکھ ریکھ کے خیال سے انہیں سنبھال کر رکھ دو گی‘‘،بیٹی نے بے حد سبھاؤ سے کہا تھا۔
’’تُو ایک فیصلہ ابھی کر لے،اگر تُو یہ چاہتی ہے کہ تیرا ہندوستان میں شہرہ ہو،تیرے نا م کا ڈنکہ پٹے ،فلم کی بڑی ہیروئین کہلائے تو بٹیا یہ فن بڑی قربانی مانگتا ہے،لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں تب کہیں جا کر کوئی مقام بنتا ہے‘‘،اقبال بیگم کے لہجے میں جذبات نہیں تجربہ بولتا تھا۔
’’ماں!میں کب انکاری ہوں،شوق ہے میرا،پھر فن ہے خدا کا دیا ہوا لیکن یہ مامتا بھی تو خدا کی ہی دین ہے روشن تو چلو میں سوچ لیتی ہوں رہ لے گی کسی نہ کسی طرح لیکن پُتلی‘‘،لحظہ بھر کو وہ رُکی اور گود میں سوئی چند مہینوں کی پُتلی کو چھاتی سے لگالیا’’پُتلی تو دودھ پیتی ہے ماں،اسے تو نہیں چھوڑ کر جاسکتی‘‘۔
’’تو پھر اسے ساتھ لے جا،دودھ پیتی بچی کو چھاتی سے لگا کر جس فلم کمپنی میں بھی جائے گی نا تو تجھے ’’ماں‘‘ کا رول ہی ملے گا،ہندوستان کے جس سینے پر اپنے رقص اور خوبصورتی کا ترشول تُو گاڑنا چاہتی ہے وہ تیری ہی خواہش کے گلے پر چلے گا‘‘،اطمینان سے اقبال بیگم نے کہا تھا۔وہ خاموش رہی۔اقبال بیگم نے لمحہ بھر کیلئے اچٹتی سی نگاہ بیٹی پر ڈالی،لوہا گرم تھا اُسے بخوبی اندازہ ہوگیا تھا۔
’’اچھا چل،چند ماہ اور انتظار کر لیتے ہیں،میں پیغام بھجوادیتی ہوں تیری بہن کو ،وہ کوئی بہانہ کردے گی فلم کمپنی والوں سے‘‘۔نرم لہجے میں اقبال بیگم نے چارہ ڈالا تھا،’’مگر یہ ذہن میں رہے یہ بھنک بھی اگر پڑگئی نا کسی کو کہ تُو دو بیٹیوں کی ماں ہے تو سمجھ لے تُو کبھی بھی ہیروئین نہیں بن سکے گی،ارے تماش بین ہو یا فلم بین وہ تھیٹر ’’عورت‘‘ دیکھنے جاتا ہے،’’ماں‘‘ نہیں‘‘،اقبال بیگم نے مزید کہا تھا۔
وہ ہنس پڑی تھی۔
’’ماں!اب یہ بنیادی کاروباری نقطہ بھی مجھے تم سمجھاؤ گی ‘‘۔
اقبال بیگم طرح داری سے مسکرادی تھی۔
اقبال بیگم کے اندازے کے عین مطابق چند ماہ لگے تھے اس کی بیٹی کو مامتا نامی جذبے کی تسکین کرنے میں اور جب یہ جذبہ کچی پکی نیند سو گیا تو ایک رات وہ علی گڑھ سے بمبئی جانے کیلئے ٹرین میں سوار ہوگئی،روشن کو بہلا نا پھسلانا خاصا مشکل امر رہا تھا لیکن وہ نئی گڑیاؤں اور میٹھی گولیوں کے لالچ میں بآسانی آگئی تھی،رہ گئی پُتلی تو اُسے کوئی لالچ دے کر رام کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی،وہ اس عمر میں تھی ہی کہاں کہ زبان سے کچھ کہہ پاتی،وہ ہاتھ پیر ہلا کر، بُری طرح کُرلا کرروتی تو شائد ماں کے اٹھتے قدموں کے آگے خندق آجاتی،لیکن وہ تو میٹھی نیند سورہی تھی، ماتھے پر پیار لے کر،سینے کی گرمائش لئے۔اُسے تو سویرے یا پھر آدھی رات کو پتا چلنا تھا کہ ماں اُسے چھوڑ کر نام کمانے نکل پڑی ہے۔
’’ماں!ان کا خیال رکھنا،میں اپنا دل اور جگر چھوڑے جارہی ہوں‘‘،چوبارے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے صرف ایک لمحے کیلئے وہ ’’ماں‘‘ بنی تھی۔
’’فکر کاہے کو کرتی ہے ،تُو جانتی ہے اتنے بڑے کنبے کا خیال میں اکیلی جان برسوں سے کرتی آرہی ہوں،پھر کچھ دن جاتے ہیں میں بھی تیرے پیچھے ہولوں گی ،امام ضامن باندھا ہے نا ؟‘‘،اقبال بیگم نے تسلی دیتے ہوئے بات بدل دی تھی۔
اس وقت ایک عورت نے اپنی مامتا کی چیخ گلا پکڑ کر روکی تھی مگر پوری کائنات میں وہ خاموش چیخ پھر بھی بڑی زور سے گونجی تھی۔چھاجوں مینہ برس رہا تھا۔اُس وقت ایک بچی کا بھی گلا گھونٹا گیا تھا،لیکن اس کا ادراک کسی کو بھی نہ ہوا تھا،نہ اُس وقت،نہ آئندہ آنے والے سالوں کے کسی بھی لمحے میں ایسا ہونا تھا۔
یہ اُس چند ماہ کی پُتلی کی پہلی آزمائش تھی۔
خواہش کے ہاتھوں ہونے والی غیر فطری جدائی کب فطری اور ہمیشگی جدائی میں بدل جاتی ہے؟،کون جانے،کسے خبر۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
بمبئی میں وہ ایک فلم کمپنی سے دوسری فلم کمپنی تک چکر لگاتی رہی تھی،خوبصورتی تھی،فن تھا،چال ڈھال نشست وبرخاست میں وہ نسوانیت و نزاکت تھی جو اُس وقت کا فلم بین سکرین پر دیکھنا چاہتا تھا،رقص پر عبور حاصل تھا،علی گڑھ سے تعلق کی بنیاد پر تلفظ اور املا ایسا اعلیٰ تھا کہ گمان ہوتا تھا کہ ’’علیگی‘‘ ہو ،پہننے اوڑھنے کا سلیقہ بھی تھا،آڈیشن کیلئے دھکے کھاتے ہوئے آڈیشن کا پروانہ بھی مل جاتا تھا،فلم کمپنی کے بڑے آڈیشن لیتے بھی تھے،ناپ تول کر پرکھتے بھی تھے،فائنل سکرین ٹیسٹ کیلئے بھی منتخب کرلیا جاتا تھالیکن ’’قسمت‘‘ کیا چیز ہوتی ہے یہ اُسے ہر بار منزل پر پہنچنے سے چند قدم دور ہی منہ کے بل گرنے پر سمجھ آجاتا تھا،نہیں،سمجھ آجاتا اگر تو وہ واپس علی گڑھ کا قصد کرتی کہ جہاں روشن چار سال کی ہوا چاہتی تھی تو پتلی نے تُتلا کر بولنا شروع کردیاتھا،اقبال بیگم کے تار کے توسط سے یہ خبر تو ملتی رہتی تھی کہ بچیاں خیر خیریت سے ہیں لیکن وہ عجیب ہی ماں تھی جس کا اندر تین حصوں میں بٹا ہوا تھا۔
اولاد۔
بڑی ہیروئین بننے کا سپنا۔
علی گڑھ کو اپنے نام کا شہرہ دینا کہ اگلی کئی دہائیوں تک اقبال بیگم کا چوبارہ سب سے ممتاز،سب سے منفرد اور سب سے اونچا کہلا سکے۔
اور قسمت تھی کہ ان تینوں حصوں کی دیواریں آپس میں گڈ مڈ کئے جاتی تھی،تصویریں بنتی اور بگڑتی جاتی تھی۔
سارا سارا دن اسٹوڈیوز،فلم کمپنیز کے آفسوں میں جوتیاں چٹخاتی۔
ساری ساری رات جاگتی،تکان سے ہڈیاں ٹوٹتی رہتیں۔
مستقبل کے اندیشے ناگ بچھو بن کر ستاتے۔
اور میلوں دور علی گڑھ میں بے چین بیٹیوں کا تصور چین سے کمر نہ ٹکانے دیتا ہر چند کہ کمخواب کا بستر تھا ،پر چادروں پر جا بہ جا شکنیں راز کھول دیتیں کہ رات رات بھر کس بے آرامی کا دور دوراں تھا کہ خواب جلی نے کروٹیں ہی بدلیں۔
’’ماں!کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہر بار کون سی کالی بلی راستہ کاٹ جاتی ہے‘‘،وہ ہر تار میں کم وبیش یہی ماں کو لکھ بھیجتی۔
’’بٹیا!جب انسان وقت ضائع کرتا ہے تو پھر ضرب کے ساتھ وقت اپنا خراج انسان سے وصولتا بھی ہے،تُو نے محبت کی گٹھلی زندگی میں پھنسالی چل کوئی بات نہیں،تُو نے تو شادی کا پھندہ بھی گلے میں باندھ لیا،بٹیا ہم خاندانی طوائفیں ہیں، ہمیں محبت اور شادی راس نہیں،خیر،یہ بھی خدا کی کوئی مصلحت رہی پر تُو دل چھوٹا نہ کر،ہمت نہ ہار،کوشش جاری رکھ،تیری بہن کو بھی تاکید کی ہے کہ تیراخیال رکھے،بلکہ دو چار محفلیں تواپنی بہن کے گھر پر ہی سجا لے،کوئی بات بن جاتی ہے تو اچھی خبر، نہیں بنی تو دل میلا نہ کرنا،تقسیم تو ہونی ہی ہے اور یہ تو ناممکن ہے کہ نئے وطن کی عمارت میں ہمارے وجود کی اینٹیں نہ لگیں،ہم پاکستان جا بسیں گے،یقیناًوہاں بھی جلد ہی فلمی دنیا رونق افروز ہوگی‘‘ ،جواباً ماں تسلیوں کے ساتھ ساتھ اُس کی غلطیاں بھی گنوا بھیجتی،اچھے دنوں کی امید دلاتی۔
’’ماں!بچیوں کی خیر خبر میں صرف چند سطریں ہی لکھ بھیجتی ہو،یہ چند سطریں سیراب نہیں کرتیں ،پیاس بڑھادیتی ہیں،ماں!بچیوں کی چند تصاویر بھی بھیجو،میں بہت یاد کرتی ہوں انہیں‘‘،اُس کی تڑپ قلم نہیں سمو سکتا تھا مگر وہ لکھے جاتی۔
’’بچیوں کی فکر نہ کر،ماشاء اللہ مزے سے ہیں،عیش کررہی ہیں،ذرا دیر کو مچلتی ہیں لیکن میں بہلا لیتی ہوں،روشن کو بتایا ہے میں نے کہ تیری ماںہندوستان کی بڑی ہیروئین بننے والی ہے،بہت مشہور ، سارا ہندوستان اُس کے گُن گائے گا،وہ بے چاری پلکیں جھپکائے بغیر پٹر پٹر مجھے تکتی جاتی ہے, اُسے کیا خبر بڑی ہیروئین کیا شے ہوتی ہے،لیکن مانو بٹیا یہی عمر ہے ان دونوں کے کان میں یہ بات پہلے سبق کی طرح پڑجانی چاہئے آخر انہوں نے ہی خاندان کا نام آگے روشن کرنا ہے‘‘،اقبال بیگم بچیوں کی تصویروں کے ساتھ عجیب باتیں بھی لکھوا بھیجتی ،بچیوں کی تصویریں کئی کئی گھنٹے اُس کے آنسوؤں سے تر رہتیں،بس اپنی بیٹیوں کے بھی شمع محفل بننے والی بات پر وہ خاموش ہو رہتی،یہ خاموشی خاصی طویل ہوجاتی،وہ اقبال بیگم کی بیٹی تھی،اقبال بیگم جیسا جگر نہیں رکھتی تھی کہ خوشی خوشی اپنی بیٹیوں کا مستقبل بھی اسی چکاچوند چوبارے میں تاریکیوں کی زینت بن جانے دیتی۔
ہر کوشش ناکام جانے پر اقبال بیگم کے جی میں نہ جانے کیا سمائی کہ دونوں نواسیوں اور باقی رقاصاؤں اور خادموں کو لئے علی گڑھ سے بمبئی آن پہنچی۔
’’تُو نے بہتیری سبیل کر چھوڑیں،اب میں بھی قسمت آزمائی کرلیتی ہوں،ماں کوشش کرے گی تو کیسے نا نیا پار لگے‘‘،اقبال بیگم نے بیٹی کو دیکھ کر وثوق سے کہا تھا جو اُس کی بات پر غور کرنے کے بجائے دونوں بچیوں کو سینے سے بھینچے مہینوں اور سالوں کی پیاسی مامتا کی تسکین میں مصروف تھی۔
اقبال بیگم نے بھی بمبئی کا کوئی نامی گرامی سمیت گمنام فلم ساز،فلم اور تھیٹر کمپنی نہ چھوڑی تھی،ہر جگہ وہ بیٹی کو لئے لئے پھری،کئی فلمساز تو پہلے بھی کئی بار سکرین ٹیسٹ اور آڈیشن وغیرہ لے چکے تھے مگر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تو وہ بھی کیا کرتے،نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ کنی کتراجاتے یا ٹال دیتے جو اگر اقبال بیگم کی پشت پناہی نہ ہوتی لیکن یہ پشت پناہی کب کسی کی قسمت بدل سکی ہے۔
اقبال بیگم نے اپنی دوسری بیٹی کے گھر ہی اُس کیلئے محافل کا اہتمام کرنا شروع کردیا کہ شائد کوئی جوہری بیٹی پر نظر کرم ڈال دے،تماش بینوں ،رقص اور گائیکی کے رسیا رؤ ساء اور امراء کا آنا جانا مزید بڑھتا گیا ،اُس کی خوبصورتی کے جلوے جگر جگر جگمگاتے ،کوئی تسلیم ہی نہیں کرتاکہ وہ دو بچیوں کی ماں ہے ،سب کا متفقہ خیال تھا کہ وہ تو آسمان سے اتری ہی فلم کے پردے پر سماء باندھنے کیلئے ہے ۔جبکہ وہ ایسی ہر محفل میں اپنے رقص ،آواز اور خوبصورتی کی رونمائی کرتے ہوئے یہی سوچتی رہی کہ جلد یا بدیر فلم کے پردے پر جلوہ گر ہوجاؤں گی تو ماں سے کہوں گی کہ اپنی بیٹیوں سے یہ کام نہیں کروانا میں نے ،نری خواری ہی خواری جو اگر دل کو خواہش اپنی مٹھی میں کر لے توورنہ راحت ہی راحت ہے مگریہ مشکل کام تھا،وہ جانتی تھی ،ماں کسی قیمت پر بھی نہ مانتی،اُسے یہ بھی علم تھا،بغاوت کرنی پڑے گی،کر لے گی لیکن ہر ارادہ پانی کا قطرہ بن کر بکھرا،ہر خواہش نا آسودہ ہی رہ گئی،ہر خواب کانچ کی طرح ٹوٹا،ہوا کیا تھا صرف وبائی مرض پھیلا تھا جس کا وہ بھی شکار ہوچلی اور چٹ پٹ۔
اُس کے تو وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ اتنی جلدی وہ یوں رخصت لے گی۔
ایک کردار کے چلے جانے سے کہانی کہاں رُکتی ہے۔
کہانی اپنے وقت پر اپنے انداز میں ہی ختم ہوتی ہے۔
یہ زندگی ہے جو جاری رہتی ہے۔
اقبال بیگم کے تو گویا چراغ جلنے سے پہلے ہی گُل ہوگئے،کیا کیا نہ سوچ رکھا تھا مگر ہونی نے ہوکر ہر چیز پر پانی پھیر دیا۔
اگلے کئی مہینے اقبال بیگم ٹھنڈی سانس کے ہنکارے بھرتی اور روتی بلکتی ماں کو تلاش کرتی ہوئی تین سالہ پُتلی کو دیکھ کر آنکھیں نم کرتی۔
روشن کو بہلانا ہمیشہ ہی اقبال بیگم کیلئے آسان رہا تھا،بس یہ پُتلی تھی جو اُسے چین سے بیٹھنے نہ دیتی۔
ساری ساری رات پُتلی روتی،ہتھیلیوں کے اشارے سے ماں کو بُلاتی،اقبال بیگم نے اُسے ایک گڑیا دی کہ یہ ماں ہے۔
پُتلی نے اگلے کئی سال اُس گڑیا سے لپٹ کر گزارے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
یہ پاکستان کا شہر کراچی ہے،نئی مملکت کے قیام کے کئی سالوں کے بعد اقبال بیگم اپنی دونوں نواسیوں اور دیگر اہل وعیال کے ساتھ پاکستان ہجرت کی اور کراچی کے نیپئر روڈ کے موسیقی محل میں سکونت اختیار کرلی،یہ وہ علاقہ ہے جہاں رقص وسرور کی رات جاگنے والی اور دن چڑھے تک سونے والی بستی آباد ہے ،روشن بارہ برس کی تھی روایت کے مطابق اُس کے رقص اور گلوکاری کے رموز سیکھنے کاسلسلہ بھارت میں ہی شروع ہوچکا تھا ،وہاں وہ اپنی خالہ سے تعلیم حاصل کررہی تھی مگر یہاں ماسٹر غلام حسین کی خدمات حاصل کی گئیں۔
’’روشن کا تو مشکل ہی ہے لیکن تم پُتلی کو تعلیم دلواؤ،آنے والے دور میں پڑھا لکھا ہونا بے حد سود مند ہوگا‘‘،اقبال بیگم کو ماسٹر صاحب نے مشورہ دیا تھا،اقبال بیگم دور اندیش اور جہاندیدہ خاتون تھیں چنانچہ بات دل کو لگی اور یوں پُتلی کو مقامی سرکاری سکول میں داخل کروادیا گیا۔
پُتلی سارا دن سکول میں گزار تی۔
روشن سارا دن پیروں میں گھنگرو باندھے رقص سیکھتی یا ہارمونیم پر استاد کے ساتھ ریاض کرتی۔
رات میں دونوں بہنیں اپنے چھوٹے سے کمرے میں باہر مختلف چوباروں سے آنے والی محفلوں کی آوازوں سے بے نیاز دن بھر کی روداد ایک دوسرے کو سناتیں۔
’’تم کتنا تھک جاتی ہوگی نا روشن گھنٹوں رقص کی مشق کرتے کرتے‘‘،پُتلی اکثر بہن کے تلووں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی۔
’’ہاں!تھک جاتی ہوں مگر اب زیادہ محسوس نہیں ہوتی تکان‘‘،روشن متوازن لہجے میں کہتی۔
’’روشن!سکول میں دوسری لڑکیاں تو رقص اور گانا نہیں سیکھتیں،پھر ہم کیوں؟‘‘،وہ الجھتی۔
’’اُن کو ضرورت نہیں ہوتی ہوگی ہمیں تو ہے،ہمارا تو پیشہ ہی یہ ہے‘‘،روشن اطمینان سے کہتی۔
’’مگر مجھے یہ کام اچھا نہیں لگتا‘‘،پُتلی ناک بھنوں چڑھاتی۔
روشن ہنس پڑتی’’اچھا تو پھر تم کیا کروگی؟‘‘۔
گڑیا پہلو میں دبائے وہ ایک لمحے کیلئے سوچ میں پڑجاتی پھر چمک کر کہتی ’’میں وکیل بنوں گی، وکالت کروں گی‘‘۔
روشن ہنسی سے دوہری ہوجاتی’’اور وکیل بن کر کیا کروگی؟‘‘۔
’’لوگوں کی مدد کروں گی‘‘،وہ بے حد عزم سے کہتی۔
روشن کے قہقہے بلند ہوتے تو وہ ناراضی کے اظہار کے طور پر گڑیا سمیت اُس سے رُخ موڑ کر لیٹ جاتی۔تصور میں وہ باوقار عورت آجاتی جسے اُس نے سکول میں دیکھا تھا۔وہ وکیل عورت اُس کے سکول میں اینول فنکشن میں مہمان خصوصی کے طور پر آئی تھی،پُتلی نے اپنی جماعت میں اول آنے پر اُس وکیل عورت سے انعام وصول کیا تھا۔اُس عورت نے جھک کر اُسے پیار کیا تھا اُس کی سانولی سلونی رنگت ذہین آنکھوں اور دل آویز مسکراہٹ نے کچھ اس طرح اُسے سحر میں جکڑا تھا کہ وہ اُسے پیار کرنے سے خود کو روک نہ سکی تھی۔
’’بڑی ہوکر کیا بنو گی؟‘‘،اُس نے پوچھا تھا۔
’’آپ جیسی بنوں گی‘‘،بے ساختہ مصومیت میں ڈوبا جواب آیا تھا۔
’’میں۔۔جانتی ہو میں کون ہوں؟‘‘۔
’’آپ وکیل ہیں‘‘،اُس نے میٹھے لہجے میں کہا تھا،کئی سال ہوگئے تھے اس بات کو مگر پُتلی کے ذہن سے وہ باقار عورت،اُس کا پُر شفقت برتاؤ اور اپنا جواب نہیں نکلا تھا،بلکہ ہر دوسرے دن وہ ذہن میں اپنے اس ارادے کو دہراتی رہتی تھی۔
میٹرک سے قبل ہی موسیقی محل سے نہ جانے کس فتنے کی چھوڑی ہوئی چنگاری تھی جو سکول جا کر کچھ ایسے پھوٹی تھی کہ ساتھی بچے بچیوں,اساتذہ اور پرنسپل کے تمسخرانہ لہجوں اور” تم ناچنے گانے والی ہو” کے ایک جملے نے وہ شعلے بھڑکائے کہ پُتلی کے سارے خواب جل کر خاکستر ہوئے,اپنے نام پر اڑنے والے تمسخر اور کسی جانے والی پھبتیاں وہ سہہ گئی تھی مگر یہ ایک جملہ..
اُس جملے نے اُس پر طبقاتی فرق منکشف نہیں کیا تھا,اُس جملے کو کہنے والوں نے اُس چودہ پندرہ سال کی حساس لڑکی کو ٹھونک بجا کر بتادیا تھا کہ  یہاں اخلاقی سطح پر تفرقہ رکھا جاتا ہے,خود کو اونچے خاندان کا کہلوانے کا جنون کچھ ایسی شدت سے وار کرتا ہے کہ پاکبازوں کا ٹولہ,شرافت کا مینارہ اور اقدار پرستوں کا جھنڈ کسی کی ذہنی, نفسیاتی,شخصی ہستی کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیتے ہیں.
.روتی ہوئی گھر کو ہولی,نانی اقبال بیگم نے سمجھایا, روشن نے پیار سے چپ کروایا مگر پُتلی کی ہچکیاں ہی بندھی رہیں “تم ناچنے گانے والی ہو” نے محض ایک لمحے میں اُس کے آبائی پیشے کو گالی بنا ڈالا تھا,قابل نفرین. ذخیرہ اندوز,غاصب,غنڈے, جواری و موالی تو دور کسی جھوٹے,مکار,عیار و فاسد سے وہ نفرت نہیں ہوتی جو ایک ناچنے گانے والی سے مگر یہ بھی عجب ہی روایت ہے کہ یہ دنیا ایک پاکباز اور شریف عورت سے خوف نہیں کھاتی جس قدر ایک طوائف کی اہلیت ہے اچھے اچھوں کی ٹانگوں پر لرزا طاری کردینے کی.اس کا سکول چھوٹا,اقبال بیگم نے رقص کی تربیت کیلئے زور و زبردستی,مار پیٹ ہر نسخہ آزمالیا,وہ بے چاری پُتلی کو سرکشی پر سزا دیتے ہوئے تیر سیدھا کرنے کی کوشش کرتی رہی مگر سب بے سُود.
” تیری ماں نے بھی رقص سیکھا تھا, ارے! مانو وہ تو ایسا ناچتی تھی کہ گُمان ہوتا تھا کہ پانی کے موتی ہوا کی تال پر بکھر رہے ہوں ,ایک ایک انگ ایسا کہ کیا خیام کی رُباعی حق ہاہ ! موت کے فرشتے کو بھی عین شباب میں لقمہ بنانے کیلئے وہی ملی تھی ورنہ آج زندہ ہوتی تو فلم کے پردے پر راج کررہی ہوتی”, اقبال بیگم کی نگاہوں میں ناچتی ہوئی بیٹی کا عکس جھلملا گیا تھا اور نظروں کے سامنے وہ کل کی لونڈیا بیٹھی تھی جو تنفر سے انکاری تھی,اُس آبائی پیشے سے جس سے وہ نسل در نسل رزق حاصل کرتے آرہے تھے وہ چھٹانک بھر کی لڑکی اُسے ہیچ سمجھتی ہے” اور ایک تُو ہے”, لہجے میں گرمی بڑھ گئی” بنو تیری ماں نےجو کام اتنی محبت اور عقیدت سے کیا تیری مجال کہ تُو اُس سے نظریں پھیرے” اور ماں کے نام پر تو بڑے بڑے کیا کیا نہیں کر گزرتے اُسے تو پھر گھنگھرو باندھ کر استاد جی کے سامنے کھڑا ہونا تھا اور وہ ہوگئی تھی مگر
علم ہوا کہ پُتلی کی ٹانگوں کو قدرت نے نرت بھائو کے تحت حرکت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی,
اور یہ جان کر کہ پُتلی بے تالی ہے زندگی بھر ناچ نہیں سیکھ سکتی اقبال بیگم کو غش آگیا تھا مگر وہ تِلوں میں تیل نہیں ہے کو قبول کرلینے والوں میں سے نہ تھی,اُس کے خاندان کی لڑکی ہو اور اُسے کوئی فن نہ آئے یہ اقبال بیگم کیلئے ناقابل قبول تھا. پُتلی تو بے حد خوش تھی کہ چلو چھٹی ہوئی اب اُس کی گھنٹوں مشق کرنے کی مشقت سے خلاصی ہوئی وہ بے چاری انجان ہی رہی کہ اقبال بیگم اُس کیلئے کچھ اور ہی سوچ چکی ہے,کچھ ایسا جسے جان کر پُتلی کی سانسیں رُک گئی تھیں.
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
یہ 1954 کی بات ہے،پاکستان میں 1949 ؁سے ہی فلمیں بننا شروع ہوچکی تھیں مگر یہ وہ وقت تھا جب وسیع پیمانے پر فلم سازی کیلئے کوششیں تیز کی جارہی تھیں تاکہ باقاعدہ فلم انڈسٹری فعال ہو سکے،لاہور اور کراچی دونوں ہی فلم مرکز کے طور پر ہدائیتکاروں ،فلم کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے، کراچی میں منگھوپیر روڈ پر ایسٹرن اسٹوڈیو کا قیام عمل میں آچکا تھا اور وقت کے لحاظ سے بہترین مشینری اور ایکوئپمنٹس منگوا کر لگوائے گئے تھے ،ساتھ ہی کراچی کے نامی گرامی تاجران اور امیر کبیر بااثر شخصیات کو بھی فلم سازی کی جانب راغب کیا جارہا تھا،نئے موسیقار،لکھاری،کیمرہ مین،گلوکار ،شعراء کے ساتھ ساتھ نئے نئے اداکار واداکاراؤں کی کھوج بھی کی جارہی تھی۔
نجم نقوی بھی انہی میں سے ایک تھے،متحدہ ہندوستان میں فلم نگری میں پہلی فلم میں1936 ؁ ’’اچھوت کنیا‘‘ سے ہدایتکاری کا آغاز کیا تھا،صاحب ثروت تھے،تعلیم یافتہ تھے اور بے حد اچھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے،تھیٹر کا شوق تھا جو بعدازاں فلم کی جانب لے آیا،نجم نقوی نے ہدوستان میں چار فلمز کی ہدایتکاری کی اور چاروں ہی کامیاب رہیں ،’’رنگیلی‘‘ کی نمائش کے وقت انہیں کراچی سے دعوت ملی کہ یہاں قائم ہونے والی نئی فلم انڈسٹری کو اپنے تجربے سے فیض یاب کریں چنانچہ کراچی چلے آئے۔
ماسٹر غلام حسین کا ایسٹرن اسٹوڈیو میں آنا جانا تھا،نجم نقوی سے بھی میل ملاقات کا سلسلہ تھا،نجم نقوی کی فلم کا سکرپٹ مکمل ہوچکا تھا،گانے کمپوز کئے جارہے تھے،ہیرو بھی مل چکا تھا مگر ہیروئین کی تلاش ایک مہم بن چکی تھی،’’بازار‘‘ نجم نقوی جانا نہ چاہتے تھے اور کسی غریب گھرانے میں بھی انہیں گوہر مقصود نہ مل رہا تھا،کھاتے پیتے گھرانوں کے تو لڑکوں کو اجازت نہ تھی کہ وہ بھانڈ میراثیوں والا کام کرتے کجا کہ لڑکیوں کا فلم لائین میں آنا،ماسٹر غلام حسین اس ساری دوڑ دھوپ سے واقف تھے اور دراصل اس انتظار میں تھے کہ نجم نقوی ہر کوشش میں ناکام ہوجائیں تو پھر وہ پُتلی کا ذکر چھیڑیں اور یہ موقع انہیں جلد ہی مل گیاتھا۔
’’آپ جانتے ہیں ماسٹر جی!میں بازار کی کسی لڑکی کو فلم میں نہیں لوں گا‘‘،نجم نقوی نے قطیعت سے کہا تھا۔
’’قبلہ !ایک بار دیکھ لینے اور مل لینے میں کوئی حرج تو نہیں‘‘،ماسٹر جی نے سبھاؤ سے کہا تھا۔
’’ماسٹر جی!جب اُن بدنام گلیوں میں جانا ہی نہیں تو پھرملنے نا ملنے کی بات ہی نہیں‘‘۔
’’قبلہ!پھر آپ کی فلم کی ہیروئین کہاں سے دستیاب ہوگی؟‘‘،ماسٹر جی چمک کر بولے۔
’’مل ہی جائے گی ماسٹر جی!ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے‘‘۔
’’خدا مل جاتا ہے حضور،خاندانی نجابت رکھنے والی ہیروئین نہیں مل سکتی،فلم وتھیٹر میں کام کرنے والیاں اسی بازار سے ہی آتی ہیں،شرفاء اپنی بیٹیوں کو سکول کالج نہیں بھیجتے فلم میں کام کرنے ضرور دیں گے‘‘،ماسٹر جی نے ٹھٹھا لگایا،نجم کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔
’’اتنے مہینوں کی تلاش بسیار کے بعد بھی آپ کو کوئی نہیں مل رہی تو بات واضح ہے،اور کتنے مہینوں تک فلم کو لٹکائیے گا،تھک ہار آپ کو ان بدنام گلیوں میں قدم رکھنا ہی پڑے گاتو پھر ابھی کیوں نہیں؟‘‘ ،ماسٹر جی نے لوہا گرم دیکھ کر ایک اور ضرب لگائی تھی۔
’’ٹھیک ہے مگر پہلے آپ اُس لڑکی کی کچھ تصاویر دکھائیں پھر ہی فیصلہ کیا جائے گا‘‘،نجم نے بات سمیٹی تھی۔
ماسٹر جی نے اقبال بیگم کو ساری کتھا بلا کم و کاست کہہ سنائی۔
’’یہ تو بے حد اچھی خبر ہے ماسٹر جی،بس کل ہی تصاویر بنوانے کا بندوبست کئے دیتی ہوں‘‘،اقبال بیگم نے فوری فیصلہ سنایا تھا۔اقبال بیگم کا خیال تھا کہ ایک بار تصویریں نجم نقوی نے دیکھ لیں تو ناممکن تھا کہ وہ اُسے اپنی فلم کیلئے منتخب نہ کرتے اور خیال ہی خیال میں اقبال بیگم نے پُتلی کو سپر سٹار بنتے ہوئے بھی دیکھ لیا تھا مگر،پُتلی کے انکار نے ارمانوں پر گویا اوس ہی ڈال دی۔
’’بٹیا رانی!یہ نہیں کروگی تو پھر کیا کروگی؟‘‘،اقبال بیگم نے ماتھے پر بل لائے بغیر کہا۔
’’وکیل بنوں گی‘‘،دوٹوک جواب۔
جواباً قہقہہ بلند ہوا،اُس نے حیران ہوکر اقبال بیگم کو دیکھا۔
’’ارے سنتے ہیں ماسٹر جی،روشن‘‘،اقبال بیگم نے ہانک لگائی’’بٹیا رانی وکیل بنیں گی‘‘،قہقہے کا سلسلہ طویل ہوتا گیا،ادھرپُتلی کی حیرانی بڑھتی گئی۔
’’اس میں کونسا مذاق کا پہلو ہے؟‘‘،رہا نہ گیا تو پوچھ بیٹھی۔
’’بٹیا رانی!ہمارا جدی پشتی پیشہ ہے یہ اب تم نئی ریتیں پیدا کروگی تو مذاق ہی لگے گا نا‘‘،اقبال بیگم نے ایک اور ٹھٹھا لگایا۔
’’بات یہ ہے بٹو!کہ تصویریں تو تمہیں بنوانی پڑیں گی اور فلم میں کام بھی کرنا ہوگا ‘‘،اُس نے کچھ کہنا چاہا تو اقبال بیگم نے درشتی سے ہاتھ اٹھا کر چپ رہنے کا حکم صادر فرمادیا’’ناچنے کیلئے تم بنی نہیں ہو، بہتیری کوشش کرلی لیکن وہی بے تالی کی بے تالی ،لہجے میں مٹھاس ہے،سُر ہے مگر گلا بے سُرا ،اب یا تو تم فلم میں کام کرنے کی حامی بھرو یاپھر یہاں سے نکلنے کی تیاری‘‘،اُس نے سر اٹھا کر اقبال بیگم کا چہرہ دیکھا تھا اور سُن رہ گئی تھی،اقبال بیگم کے چہرے پر ایسے برفیلے تاثرات کبھی نہ دیکھے تھے۔
’’مگر جانے سے پہلے اب تک تمہارے اخراجات پر جو رقم ہم نے لگائی ہے وہ ادا کرنی ہوگی‘‘،اقبال بیگم کا لہجہ برف تھا یا زہر وہ سمجھ نہ سکی تھی شائد۔
’’لیکن بٹیا!تمہاری ابھی عمر ہی کیا ہے،زندگی میں دیکھا ہی کیا ہے تم نے ابھی،اس لئے مجھ پر بھروسہ کرواور جیسا کہتی ہوں ویسا کرتی جاؤ،سکھ ہی سکھ‘‘،اس بار لہجے میں وہی مٹھاس تھی جس کیلئے اقبال بیگم جانی جاتی تھی،وہ خاموش ہورہی۔
خاموشی سے ہی فوٹوشوٹ کروایا اور خاموشی سے جواب کا انتظار کرنے لگی اور خاموشی سے ہی دل ہی دل میں دعائیں بھی مانگنی شروع کردیں کہ فلم کیلئے اُسے ناپسند کردیا جائے ،اُس کی تقدیر ان تصویروں کے ہاتھ میں تھی اور ان تصویروں نے تقدیر بدل ڈالی تھی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
نجم نقوی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی میں اُس وقت تک کا سب سے دلکش چہرہ دیکھنے والے ہیں،ماسٹر غلام حسین نے تصویریں پیش کردی تھیں اور ایک نظر پہلی تصویر پر ڈالنے کے بعد وہ پلکیں جھپکنا بھول گئے تھے،تیکھے نقوش،ساحر آنکھیں،ستواں ناک،اٹھی ہوئی گردن ،مسحور کن مسکراہٹ ،وہ چہرہ ایسا چہرہ تھا جس سے کیمرہ عشق کرتا ہے،فوٹوجینک چہرے کی ایسی مثال نجم نقوی نے واقعی نہیں دیکھی تھی ،اُسی وقت ملاقات کی بات ماسٹر جی سے کہہ دی گئی اور اگلے ہی ہفتے وہ نیپئر روڈ کے اُسی موسیقی محل کے ایک مکان میں بیٹھے تھے جن گلیوں میں قدم نہ رکھنے کا اُن کا چٹانی فیصلہ تھا۔
پُتلی کو لاکر اُن کے سامنے بٹھایا گیا،وہ بغور اُس کی چال ڈھال اور نشست وبرخاست جانچ رہے تھے۔اُس کی چال میں ایک شاہانہ پن تھا،چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات تھے مگر وہ چپ چاپ ایک کرسی پر سر جھکا کر بیٹھی تھی۔
’’لکھنا پڑھنا جانتی ہو؟‘‘،پہلا سوال کیا گیا۔
’’جی ہاں‘‘،میٹھی باریک آواز میں جواب آیا۔
’’فلم دیکھی ہے کبھی؟‘‘،دوسرا سوال کیا گیا۔
’’نہیں‘‘۔
’’کیوں؟‘‘
’’مجھے شوق نہیں فلم دیکھنے کا‘‘،نجم جواب سے زیادہ ’’شوق‘‘ کے ’’ق‘‘ پر اٹکے،اتنا عمدہ تلفظ ۔
’’پھر میری فلم میں کام کروگی؟‘‘،مسکرا کر پوچھا گیا۔
’’جی‘‘،مایوس لہجہ۔
’’لیکن تمہیں تو فلم پسند نہیں‘‘۔
’’بہت کچھ کرنا پڑتا ہے زندگی میں جو انسان کو پسند نہیں ہوتا‘‘،میٹھے لہجے میں کم عمری کے باوجود زندگی کا نچوڑ تھا۔
’’ٹھیک ہے تم جاؤ‘‘،نجم نے اُسے جانے کا کہاتھا،وہ چپ چاپ اٹھ کر کمرے سے چلی گئی۔ بظاہر اُس دبلی پتلی لڑکی میں کچھ بھی نہیں تھا لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ نجم نقوی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے ،انہیں اُس سولہا سترہ سال کی لڑکی میں ایک جادو نظر آیا تھا ایسا جادو جو وہ تصویریں بھی نمایاں نہیں کرسکی تھیں،عام سی شکل وصورت تھی،نقوش بے حد دل آویز تھے،زبان بے حد میٹھی تھی،تلفظ بالکل درست تھا،اُس دور میں جتنی بھی ہیروئینز فلم میں کام کررہی تھیں اُن میں سے بیشتر کا اردو کا تلفظ اچھا نہیں تھا اور یہ خامی نجم کو ہمیشہ کھلتی تھی،یہ سب تھا یا پھر اس بازار سے تعلق ہونے کے باوجود وہ نگاہوں کی حیا اور اٹھنے بیٹھنے میں شرم تھی جس نے نجم نقوی کا دل موہ لیا تھا ۔
باقی کے معاملات اقبال بیگم سے طے پائے،معاوضہ کی پہلی قسط اُن کو ادا کردی گئی۔
اور یوں وہ ’’کنواری بیوہ‘‘ کی ہیروئین منتخب کرلی گئی۔
اقبال بیگم کیلئے وہ دن عید کا دن تھا،منتیں نہیں مانی تھیں لیکن پوری ہونے لگی تھیں،خدا دن پھیرنے والا تھا،پُتلی کو ساتھ لئے لئے اگلے کئی دن وہ مختلف مزاروں اور امام بارگاہوں پر چڑھاوے اور نذرانے دیتی رہیں،شہر کا کوئی مزار اور امام بارگاہ نہ چھوڑ رکھی تھی،اپنی خوشی میں محو اقبال بیگم نے ایک بار بھی پُتلی کے اترے ہوئے چہرے کو غور سے نہیں دیکھا تھا جس کی روئی روئی آنکھیں رات بھر گریہ وزاری کے راز کھولتی تھیں جن کی امین یا وہ خود تھی یا پھر روشن۔
’’تم کیوں روتی رہتی ہو رات رات بھر؟ِ‘‘،روشن نے پوچھا تھا۔
’’روشن!تم رات رات بھر محفلوں میں ناچتی ہو تو میں کمرے میں رات رات بھر جاگتی ہوں،تمہارے وجود کے آرپار ہوتی نظریں مجھے بند کمرے میں اپنے جسم پر رینگتی محسوس ہوتی ہیں،تم محفلوں میں تھرک رہی ہوتی ہو اور میں کمرے میں تڑپ رہی ہوتی ہوں،لیکن روشن تم تو چند لوگوں کے سامنے ایک بند محفل میں ہوتی ہو مجھے تو ہزاروں لوگ تھیٹر کے پردے پر دیکھیں گے،کیا کیا نہ ہوگا اُن کی نظروں میں؟‘‘،وہ پھپھک پھپھک کر رودی دی۔
’’تم ایک بات سمجھ لودنیا میں صرف آب زم زم ہی نہیں ہے،گندے پانی کے کیچڑ بھرے جوہڑ بھی اسی دنیا میں ہیں،کیچڑ کا انتخاب کوئی بھی نہیں کرتا لیکن پھر بھی بہت سے انسان وہاں اتار دیئے جاتے ہیں،اس میں اُن انسانوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا اور نہ ہی میٹھے پانی کے چشمے میں رہنے والوں کا اپنا کوئی کمال ،بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ انسان حقیقت کو قبول کرلے،اچھی ہے بری ہے یہی ہماری دنیا ہے،ہم اسی کیچڑ میں پیدا ہوئے ہیں اور ہمیں اسی میں رہنا ہے،ہم اگر یہاں سے نکلنا چاہیں گے بھی تو یہ جو دنیا ہے نا یہ ہمیں لات مار کر واپس دھکیل دے گی،منہ کے بل گرنے پر کیچڑ صرف وجود پر نہیں چہرے پر بھی لتھڑتی ہے‘‘،روشن کی زبان سے اُس سے ایسی باتیں بھلا کب سنی تھیں،وہ انگشت بدنداں رہ گئی تھی۔
’’رہی بات اس کی کہ فلم بین تمہیں کیسی کیسی نظروں سے دیکھیں گے ؟،ہاں یہ چیز تم بدل سکتی ہو،یہ تمہارے اختیار میں ہے‘‘،اس بار وہ مُسکرائی تھی۔
’’کیسے؟‘‘۔وہ حیرانی سے پوچھ بیٹھی۔
’’یہ میں نہیں بتاؤں گی،یہ وقت آنے پر تم خود سوچو گی‘‘۔
نجم نقوی نے اُس کے مزید فوٹوشوٹ کروائے تھے جنہیں فلمی پرچہ نگار کے سرورق پر نمایاں کر کے چھانپا گیا تھا،راتوں رات وہ پاکستان کے فلم کا شوق و ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشہور ہوگئی تھی ،ہر ایک اگلے کئی مہینوں تک اُس ساحر شکل و صورت کی سانولی سلونی لڑکی کے گُن گاتا رہا تھا اور اُس کی فلم کی ریلیز کا بے چینی سے انتظار کیا جانے لگا تھا۔
نجم نقوی نے ایک ماہ اپنی تمام تر نئے چہروں پر مبنی کاسٹ سمیت ریہرسلز کروائی تھیں،باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن کیمرے کی آنکھ سے وہ دلکش نظر آنے والی لڑکی جس کے شرمیلے پن نے انہیں متاثر کیا تھا وہی شرم اُن کیلئے درد سر ثابت ہورہی تھی۔
نجم جانتے تھے کہ اکثر نئے اداکار کیمرے کے سامنے آنے پر گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں،ناتجربہ کاری کی بناء پر اکثر لوگوں کے ارد گرد موجود گی کے باعث خائف بھی ہوتے ہیں لیکن پھر دھیرے دھیرے وہ اس طرح کام کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں،یہی وجہ تھی نجم نے گانوں کی عکسبندی بعد کیلئے اٹھا رکھی تھی اور وہ صرف رومانوی اور ڈرامائی مناظر پہلے شوٹ کررہے تھے ،دوسرے نئے اداکار تو آہستہ آہستہ اس طریقہ کار کے عادی ہورہے تھے بس ایک پُتلی تھی جسے اس ماحول کا عادی ہونے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ریہرسلز پر ریہرسلز کرنے کے باوجود جب وہ نئے ہیرو ایاز کے ساتھ رومانوی مکالمے بولنا شروع کرتی اور ہدایات کے مطابق اُسے ہیرو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہوتا یا قریب جانا ہوتا تو وہ کپکپانے لگتی،اُس کے پسینے چھوٹ جاتے،کبھی مکالمے بھول جاتی ،کبھی پاس جانا،نگاہیں ملاکر مکالموں کو بھرپور اداکاری کے ساتھ تو ناممکن بن کر رہ گیا تھا،چنانچہ پیک اپ ہوجاتا۔
’’مسئلہ کیا ہے آخر؟‘‘،جھنجھلانے کے بجائے نجم نقوی نے پیار سے پوچھا تھا۔
’’مجھے شرم آتی ہے‘‘،روہانسے لہجے میں جواب۔
’’یہ قدرتی بات ہے شرم تو آئے گی لیکن آہستہ آہستہ عادی بناؤ اس کیلئے ورنہ تم اداکاری کیسے کروگی‘‘ ،مشفق لہجہ۔وہ خاموش رہی۔
’’بہت کچھ کرنا پڑتا ہے زندگی میں جو انسان کو پسند نہیں ہوتا،تم نے یہی کہا تھا نا؟‘‘،اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
’’گھر جا کر سوچنا اپنی اس بات کو،اب سیٹ پر تب آنا جب تم یہ ناپسندیدہ کام کرنے کیلئے خود کو تیار کرلو‘‘،نجم نقوی نے نرم لہجے میں کہا تھا۔
’’کنواری بیوہ‘‘ کے سیٹ سے یہ بات فلمی حلقوں میں مشہور ہوگئی تھی کہ نجم نقوی جس ہیروئین کو متعارف کروارہے ہیں وہ اس قدر شرمیلی ہے کہ ڈر لگتا ہے کہیں ہیرو کو بھائی ہی نہ کہہ دے،اگلے کئی دن اخبارات میں ایسی خبریں لگتی رہیں اور فلمی مبصرین ہنستے رہے،لیکن اقبال بیگم کیلئے یہ ساری خبریں اور ہنسی ٹھٹھول مذاق نہیں تھیں،ایک بار پھر وہ پُتلی کو سامنے بٹھا کر اُس کی گوشمالی کرنے بیٹھ گئی تھیں،اُن کی تلخ و شیریں باتوں سے زیادہ یہ نجم نقوی کے احترام بھری ڈانٹ کا اثر تھا کہ دو ہفتے بعد جب وہ سیٹ پر پہنچی تو نجم صاحب کو شکایت کا ایک موقع بھی نہیں دیا ۔
اور یہ 1956 ؁ کا قصہ ہے،جب ’’کنواری بیوہ‘‘ بھرپور تشہیر کے ساتھ ریلیز ہوئی اور بُری طرح ناکام رہی۔
اور یہ 1956 ؁ کا ہی واقعہ ہے جب پاکستان فلم انڈسٹری کو تاریخ پلٹ دینے والی ایک ایسی ہیروئین ملی جس کے وجود سے داستانیں رقم ہونی تھیں۔
’’شمیم آراء‘‘ فاتح بننے کیلئے آچکی تھی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اپنی پہلی فلم کی نمائش کے موقع پر وہ دنیا کی پہلی ایسی ہیروئین تھی جو نہ تو خوش تھی اور نہ ہی فلم کا نتیجہ جاننے کی منتظر،نہ ہی اُس کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں،نہ ہی وہ خدا سے دعائیں کررہی تھی اور نہ ہی اُسے اپنے وجود کو تھیٹر میں پردے پر دیکھنے کی خواہش ہورہی تھی۔وہ سارا دن کمرہ بند کئے بیٹھی رہی تھی،اُس روز اُس کا دل روشن تک سے کھٹا تھا،بیزاری ہر چیز سے تھی،غصہ نہ جانے کس کس چیز پر آرہا تھا اور نفرت پتا نہیں کس کس شے سے محسوس ہورہی تھی اور جو اُس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب اقبال بیگم نے زبردستی دروازہ کھلوا کر چٹا پٹ بلائیں لے ڈالی تھیں،ماتھے پر بوسے دئیے تھے،خوب بھینج کر گلے لگایا تھا،اقبال بیگم فرط مسرت سے کپکپائے جاتی تھی اور وہ برف کی سل بن گئی تھی۔
فلمی مبصرین نے فلم کی بارے میں جو لکھا سولکھا لیکن ’’شمیم آراء‘‘ تو پردے پر پہلی جھلک دکھاتے ہی گویا اُن کے حواسوں پر چھا گئی تھی، تقریباً ہر اخبار کے فلم ایڈیشن نے شمیم آراء کی تصویریں نمایاں کرکے چھانپی تھیں،فلم سازوں کی جانب سے آفرز کا انبار تھا جو اقبال بیگم کے حواس مختل کئے دے رہا تھا،الیاس رشدی نے اس سلسلے میں اقبال بیگم کو سمجھایا کہ یہ فلمی دنیا کا دستور ہے ،ہر اُس نئے چہرے کیلئے یہ اپنی بانہیں کھول دیتی ہے جو لوگوں کے دلوں کو چھو جائے لیکن معمولی سی لغزش اس دنیا کے دروازے اُس پر ہمیشہ کیلئے بے دردی سے بند بھی کردیتی ہے،لہذاً محتاط ہوکر فلموں کا انتخاب کرنا ضروری ہے،اس سارے چکر میں کسی نے بھی اُس ’’پُتلی‘‘ کے بارے میں نہیں سوچا جو فلم کی ہیروئین بننے کے باوجود بالکل خاموش ہوکر رہ گئی تھی،فلمی نمائندے اقبال بیگم سے شمیم آراء کے انٹرویوز کیلئے آگے پیچھے پھرنے لگے تھے لیکن اقبال بیگم ہر ایک کو فی الحال ٹکا سا جواب دے رہی تھی ،یہ اُن کا لائحہ عمل تھااور جس کا نتیجہ اُن کے خیال میں یقیناًبہت اچھا نکلنا تھا۔
موسیقی محل میں چشم زدن میں اقبال بیگم کی گڈی آسمان کی وسعت چھونے لگی تھی،وہاں کی کوئی لڑکی ابھی تک فلم پردے پر نہیں آسکی تھی یہ خیال بھی اقبال بیگم کی طمانیت کا باعث بن رہا تھا،اقبال بیگم اور الیاس رشدی کی مشورے پر ہی شمیم آراء نے کئی فلمز سائین کرلی تھیں اور کچھ فلم سازوں کو انتظار کرنے کا کہہ دیا گیا تھا۔
شمیم آراء چپ چاپ کسی اعتراض کے بغیر فلم کے سیٹ پر جاکر ریہرسلز اور شوٹ کروانے لگی تھی ،الیاس رشدی ہر ممکن طور پر چاہتے تھے کہ شمیم آراء ایک کامیاب ہیروئین بن جائے،فلمی دنیا میں ایک بار جس ہیروئین پر ناکامی کی مہر لگ جائے تو پھر وہ کبھی نہیں ہٹتی،شمیم آراء اس حوالے سے خوش نصیب تھی کہ پہلی فلم کی ناکامی کے باوجود فلم ساز ہاتھوں ہاتھ اُسے اپنی فلمز کیلئے بُک کررہے تھے،یہی بات انہوں نے شمیم آراء سے بھی کہی تھی جس پر وہ خاموش ہی رہی،الیاس رشدی نے اپنے اخبار کے تقریباً ہر ہفتے آنے والے ایڈیشن میں شمیم آراء کی کوئی تصویر یا کوئی خبر نمایاں کرکے لگائی،لاہور اور مشرقی پاکستان تک شمیم آراء کی دھوم مچنے لگی تھی لیکن اگلی فلم بھی ریلیز ہوکر ناکام رہی۔
’’یہ دل لگا کر کام کرے گی تو ہی کامیابی ہاتھ لگے گی نا‘‘،اقبال بیگم نے تلملاتے ہوئے کہا تھا۔
’’کیوں شمیم کیا تمہیں فلم میں کام کرنا پسند نہیں؟‘‘ ،الیاس رشدی نے خاموش بیٹھی شمیم سے پوچھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں‘‘،شمیم شائد دل کی بات دل تک رکھنے کا سبق سیکھنے لگی تھی۔
’’تو پھر نانی غلط کہہ رہی ہیں؟‘‘۔
’’الیاس صاحب جو اداکار دل سے فلم میں کام کرتے ہیں کیا اُن کی فلمیں ناکام نہیں ہوتیں؟‘‘،بے حد تمیز سے میٹھے لہجے میں شمیم نے الیاس صاحب کو لاجواب کردیا تھا۔
’’ایک بات تو ہے،فلمی دنیا میں اتنی حاضر جواب اداکارہ پہلے کبھی نہیں آئی‘‘،الیاس رشدی نے توصیفی انداز میں کہا تھا۔
’’الیاس صاحب!حاضر جوابی دھری کی دھری رہ جائے گی جو اگر اس کی فلمیں ناکام ہوتی رہیں‘‘،اقبال بیگم نے متاثر ہوئے بغیر کہا تھا۔
الیاس رشدی کی ہی کوششیں تھیں کہ شمیم آراء کو ’’انارکلی‘‘ میں دلا رام کا چھوٹا مگر اہم رول میں کاسٹ کرلیا گیا۔
یہ خیال بھی شمیم آراء کو خوش نہ کرسکا کہ وہ برصغیر کی ایک قدر آور شخصیت کے ساتھ کیمرہ فیس کرے گی لیکن اُس شخصیت کو دل موہ لینا آتا تھا اور یہی وہ شخصیت تھی جس نے شمیم آراء کا دل بدل ڈالا تھا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
’’تم اتنی چپ چپ کیوں رہتی ہو؟‘‘،ایک روز انارکلی کے سیٹ پر مرکزی کردار ادا کرنے والی خوش گلو،خوش گفتار شخصیت نے اُس سے پوچھا تھا۔
’’یونہی‘‘،اُس نے قدرے جھجکے ہوئے انداز میں کہا تھا۔
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑیں’’یونہی تو کوئی بھی چپ نہیں رہتا‘‘۔
وہ خاموش رہی۔
’’کیا سیٹ پر آکر کام کرنا اچھا نہیں لگتا؟‘‘،اُس شخصیت کے پاس تجربے کا میزان تھا جس کے پلڑے پر وہ بڑے بڑوں کو تول دیا کرتی تھیں وہ تو پھر کل کی آئی بچی تھی اُن کے آگے۔
’’نانی ٹھیک کہتی ہیں میرا چہرہ سب کچھ عیاں کردیتا ہے‘‘،اُس نے خود کو ڈپٹا تھا۔
’’بیٹے!جو دل میں ہو وہ چہرے پر کبھی نہیں آنا چاہئے زندگی تماشہ بن جاتی ہے‘‘،انہوں نے بے حد پیار سے نصیحت کی۔
وہ خاموش ٹکر ٹکر چہرہ دیکھے گئی۔
’’تمہاری نانی تمہیں سب سے کامیاب اور بڑی ہیروئین بنانا چاہتی ہیں تم نہیں بننا چاہتیں؟‘‘۔
اُس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’اس لئے کہ تمہاری پکچریں ناکام ہوگئی ہیں؟‘‘۔
’’نہیں!کیونکہ میں وکیل بننا چاہتی ہوں‘‘۔
’’اداکارہ بننا وکیل بننے سے زیادہ مشکل ہے،تم آسان کام کرنا چاہتی ہو؟‘‘۔
وہ چپ رہی۔
’’خواہش کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ ختم ہوجاتی ہے اور بے حد آسانی سے اُس کی جگہ کوئی دوسری خواہش لے لیتی ہے،ابھی تمہیں یہ بات تکلیف دے رہی ہے کہ تم وکیل نہیں بن سکتیں،کل تمہیں کامیابی کی تلاش تکلیف دینے لگے گی،اتنی ضروری ہوجائے گی کامیابی تمہارے لئے کہ تم پھر کسی اور چیز کے بارے میں سوچو گی ہی نہیں‘‘، گال تھپکتے ہوئے بے حد پیار سے انہوں نے کہا تھا۔
بنگال کا جادو اگر انسانی بھیس میں ہوتا تو اُس کا نام ملکہ ترنم میڈم نور جہاں ہوتا،’’انارکلی‘‘ کا ٹائٹل کردار اداکرنے والی اس بے مثال اور لافانی عورت سے اقبال بیگم نے ہی گزارش کی تھی کہ شمیم کو سمجھائیں اور انہوں نے سمجھادیا تھا۔
ہدائیت کار انور کمال پاشا انار کلی میں شمیم آراء کے انہماک سے کام کرنے پر بے حد متاثر ہوئے جاتے تھے کہ شمیم آراء سے وعدہ کر بیٹھے کہ اگر اُس کی فلمز مسلسل ناکام بھی رہیں تو بھی وہ اپنی کم ازکم دو فلموں میں مرکزی کردار میں اُسے ضرور کاسٹ کریں گے۔
اور یہ بات ہے سن اٹھاون کی،
صدا ہوں اپنے پیار کی۔
جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے۔
تمہاری آرزو میں کوچہ قاتل تک آن پہنچے۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔
بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری۔
فلم کی ریلیز سے قبل ہی فلم کے گیت ملک کے گوشے گوشے میں گونجے اور مقبول عام ٹھہرے مگر ’’انارکلی‘‘ ریلیز ہوکر اوسط درجے کا ہی بزنس کرسکی،گیتوں کی مقبولیت کے علاوہ صرف شمیم آراء کی مختصر کردار میں متاثر کن اداکاری اور معصومیت تھی جس نے فلم بینوں کا دل موہ لیا تھا مگرچونکہ فلم خاطر خواہ بزنس نہ کر سکی چنانچہ ایک اور ناکامی شمیم آراء کے کریڈٹ پر آگئی۔
اقبال بیگم کی تیوریوں پر مزید بل واہ رے زمانے، عالم آراء،فیصلہ،راز،سویرا،اپنا پرایا،جائیداد،بھابھی، عزت،دو استاد،رات کے راہی اور روپ متی راز بہادر کی ریلیز نے ڈالے،جو کہ تقریباً سب ہی ناکامی سے دوچار ہوئیں،کمی نہ جانے کہاں تھی،کس چیز میں تھی،سلور سکرین پر نور جہاں،صبیحہ خانم،مسرت نذیر،نیلو،نیئر سلطانہ وغیرہ کا راج تھااور اُن کی موجود گی میں شمیم آراء کیلئے گنجائش نکل نہیں رہی تھی ہر چند کہ شمیم پر فلمائے گئے گیت مقبول و مشہور ہوئے جاتے تھے مگر فلمیں ناکام رہتیں، قسمت اگر اداکارہ بنانے پر تُل ہی گئی تھی تو پھرپے در پے یہ ناکامیاں چہ معنیٰ ۔
اقبال بیگم نے شمیم آراء پر صرف ہاتھ نہیں اٹھایا تھا باقی ہر تیر آزما چھوڑا تھا, نہ جانے کیا بات تھی کہ اقبال بیگم کے دل میں یہ دھڑکا جڑ پکڑنے لگا تھا کہ بیٹی کے بعد نواسی بھی کہیں اُس کے خوابوں کو چکنا چور نہ کردے اور یہ خیال ہی اقبال بیگم کی جان نکالے دے رہا تھا دوسری جانب ’’رات کے راہی‘‘ کی ناکامی پر شمیم آراء کو میڈم نور جہاں کے کہے الفاظ صحیح معنوں میں سمجھ آئے تھے۔
مسلسل ناکامیوں نے اُس کے اندر ایک ضد پیدا کردی تھی۔
وکیل بننے کی خواہش پیچھے رہ گئی تھی۔
اب صرف کامیاب ہونا تھا۔
ہرپچھلی فلم کے ناکام رہنے پر شمیم آراء اپنی اگلی فلم میں مزید محنت سے کام کرنے لگتی،انہماک، توجہ،دلچسپی کب اور کیسے پیدا ہوگئیں شمیم آراء کو احساس ہی نہیں ہورہا تھا،بس یہ خیال دامن گیر رہنے لگا تھا کہ ناکامی کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔
1960 ؁میں یہ فیصلہ بالآخر ہوگیا کہ شمیم آراء نے بوریا بستر نہیں سمیٹنا۔
فلم ’’سہیلی‘‘ ریلیز ہوئی اور سپر ڈپر ہٹ رہی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تھیٹر میں بیٹھے مرد جمیلہ کے روپ میں اُس کی نٹ کھٹ معصومانہ شرارتی اداؤں کے دیوانے ہوئے جاتے،دو چٹیائیں باندھے اختر بھائی جان کا جینا حرام کئے دیتی جمیلہ ہال میں بیٹھے مردوں کو گدگداجاتی , اپنی سہیلی پر جان نثار ہوتی جمیلہ ،اپنے محبوب کا انتظار کرتی ہوئی جمیلہ،خواتین جمیلہ کے عین شادی والے دن بیوہ ہوجانے پر صدمے سے نڈھال ہوئی جاتیں،سکرین پر شمیم آراء جمیلہ بنی سکتے کے عالم میں طمانچے کھاتی اور ہال میں بیٹھی خواتین کے کلیجوں پر ہاتھ پڑتا،دیوانگی کے عالم میں پاگل جمیلہ سکرین پر قہقہے لگاتی اور ہال میں بیٹھی عورتیں دھاڑیں مار کر روتیں،کورٹ روم میں چیخ چیخ کر اپنے قاتلہ ہونے کا اقرار کرتی اور ہال میں ایک جامد سناٹا چھا جاتا۔
تھیٹرزہر شو میں کھچاکھچ بھرتے جاتے اور عوام کے یہی تاثرات دیکھنے کو ملتے جاتے۔
پاکستان سلور سکرین پر کسی اداکارہ نے کسی بے جان کردار کو ایسی زندگی اس سے قبل نہ دی تھی ،شمیم آراء نے ’’جمیلہ‘‘ کو زندہ کردیا تھا،پاکستانی فلمی افق پر وہ اداکارہ جلوہ گر ہوگئی تھی جو ’’گلیمر ‘‘ سے پاک تھی اورمردوں کے حواسوں پر سوار تھی،شرم وحیا اور پاکیزگی جیسے الفاظ کی عملی تفسیر بن کر گویاخواتین کی اولین پسند بن گئی تھی۔
فلمی تبصرہ نگار وں نے اخباروں کے صفحے کالے کردیئے تھے ۔
پاکستان کا ادبی طبقہ چونک کر رہ گیا تھا۔
پاکستان کے وہ دانش ورجن کی ناک کے نیچے کوئی چیز نہ ٹھہرتی تھی ،داد دئیے بغیر نہ رہ سکے تھے۔
ایک اداکارہ آخر پردہ سیمیں پر اتنی خوبصورت کیسے لگ سکتی ہے۔
ایک اداکارہ طربیہ اور المیہ مناظر میں ’’فلمی آہنگ‘‘ بھرے بناء حقیقت کیسے لگ سکتی ہے۔
ایک اداکارہ اردو زبان کی اصل مٹھاس کو اپنے لہجے میں ڈبو کر مزید شیریں کیسے کرسکتی ہے۔
کیسے ممکن ہے کہ فلم بین کی نظریں اُس کے جسم کی پیمائش نہ کرسکیں وہ سکرین پر کچھ اس انداز میں نظروں کو کیسے باندھ سکتی ہے ۔
پورے پاکستان میں کوئی ایسا نہ تھا کہ فلم سے شغف رکھتا ہو اور اُس نے ’’سہیلی‘‘ نہ دیکھی ہو اور سہیلی کی ’’جمیلہ‘‘ کو ذہن سے نکالنے میں کامیاب رہ سکا ہو۔
شمیم آراء جوڑا۔
شمیم آراء گھیردار فراک۔
شمیم آراء ساڑھی۔
شمیم آراء چوڑی دار۔
عوامی سطح پر ایسی پذیرائی فلمی جغادریوں نے ہندوستان میں دیکھی تھی مگر پاکستان میں اس سے قبل نہیں۔
شمیم آراء ’’سٹارڈم‘‘ کی علامت بن کر فلمی آسمان پر جگمگائی تھی۔
پاکستان کے پہلے صدارتی فلم ایوارڈ (نیشنل فلم ایوارڈ) کی تقریب میں شمیم آراء کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ سے نوازا گیا اور سرخاب کے پروں میں ایک اور پر کا اضافہ ہوگیا۔
اور یہ پہلی بار تھا پوری زندگی میں جب ’’پُتلی ‘‘ نے ’’شمیم آراء‘‘ کے وجود کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے گلے سے لگایا تھا،پوری طرح خوشی کو محسوس کیا تھا۔
اقبال بیگم کی سختیوں،مطلق العنانیت اور کروفر کا گلہ و شکوہ دل سے نکلنے لگا تھا ،وہ یہ ماننے لگی تھی کہ خواہ نانی نے اُس کی مرضی کے خلاف اُسے زبردستی فلم لائین میں ڈال دیا تھا مگر جو کامیابی اُسے مل رہی تھی یہ ثابت کرتی تھی کہ نانی کا فیصلہ درست تھا۔
یہ شمیم آراء بننے کے بعد ’’پُتلی‘‘ کی پہلی سنگین غلطی تھی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
فلم سازوں کا تانتا تھا جو شمیم آراء کے گھر اپنی اپنی فلموں میں کاسٹ کرنے کیلئے ہر آن آنے کیلئے تیار رہنے لگا تھا،لاہور کے فلمساز بھی بڑھ چڑھ کر شمیم کو اپنی فلموں میں کاسٹ کررہے تھے،شمیم لاہور جانا نہ چاہتی تھی مگر الیاس رشدی کے سمجھانے پر ہی لاہور جا کر کام کرنے پر رضامند ہوئی،اخبارات ،فلمی رپورٹرز ایک انٹرویو کیلئے اُس کے آگے پیچھے گھومتے رہتے ،ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ اپنی خصوصی ٹرانسمیشن میں سامعین کی فرمائشوں کے ڈھیر کی وجہ سے مجبور ہوکر شمیم کو مدعو کرنے لگی تھی،جب اتنا کچھ ہورہا تھا تو کیسے ممکن تھا کہ کوئی بہت خاص اُس کی زندگی میں نہ آتا۔
پوری دنیا میں فلم میں کام کرنے والوں کی اپنی روایات ہیں،اچھی بُری،صحیح یا غلط سے قطع نظر ،ان میں سے ایک روایت ہیرو ہیروئین کا ایک دوسرے کی جانب ملتفت ہوجانا بھی ہے،قدرتی امر کہا جائے یا وقتی جذباتی تسکین یا عوام الناس میں مزید مشہور ہونے کیلئے نسخہ تیر بہدف،جو بھی نام دے لیں یہ روایت ہے اور شائد ہمیشہ رہے گی،شمیم آراء کامیاب تھی،ہر دل عزیز ہوچکی تھی چنانچہ انڈسٹری کے ہیرو نے اُس کی جانب نظر کرم کردی تھی۔
درپن اپنے اعلیٰ خاندان،اداکاری کے لحاظ سے تو مشہور تھا ہی مگر صحیح معنوں میں وہ اپنی مردانہ وجاہت کے باعث انڈسٹری کا ممتاز ترین ہیرو تسلیم کیا جاتا تھا،’’سہیلی‘‘ سے قبل “رات کے راہی” میں شمیم آراء کے ساتھ کام کرچکا تھا،”سہیلی “کے دنوں میں ہی وہ شمیم کے قریب آیا،اُس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد جو دل پھینک بھی تھا،عاشق مزاج بھی اور بھنورہ صفت بھی ،اُس کی لچھے دار باتوں،دلچسپ فقرے بازیوں اور بھرپور اور شاندار شخصیت نے شمیم آراء کو بے حد متاثر کیا تھا اور قبل اس کے کہ شمیم آراء مکمل طور پر درپن کی محبت میں گرفتار ہوجاتی اقبال بیگم نے شمیم آراء کو جالیا۔
’’بٹیا!ابھی تو تم نے اڑان بھری بھی نہیں ہے کہ پر کترنے کے سامان کرنے لگیں،تمہیں یہ خوش فہمی کیسے لاحق ہوگئی بنو کہ وہ مر مٹا ہے تم پر؟‘‘۔
’’وہ دبے لفظوں میں محبت کا اظہار کرچکا ہے‘‘۔
اقبال بیگم ہنس پڑیں۔
’’خوب!بٹیا رانی ہماری دہلیز پار کرنے والے بیشتر مرد اپنی اپنی بیگمات کا دم بھرتے ہیں پھر بھی محبت بھرے مکالموں کی بھوک انہیں ہماری چوکھٹ پر لے آتی ہے،روپیہ ہمارے تلووں پر رکھتے ہیں،رومانوی مکالمے ادا کرتے ہیں،چھیڑخانی کرتے ہیں ،دل بھر جاتا ہے واپس گھر کو ہولیتے ہیں ،نیت میں سیری نہیں آتی تو پلٹ کرہمارے پاس آجاتے ہیں اور تم اُس کے دبے لفظوں میں محبت کے اظہار کو حقیقت جان کر اپنی پار لگتی زندگی کو کنویں میں ڈبو دینا چاہتی ہو،بٹیا مرد میں وفاداری ہوتی نا تو ہمارے چولہے کبھی کے ٹھنڈے ہوچکے ہوتے‘‘۔
’’مگر وہ مجھے اچھا لگتا ہے‘‘۔
’’غلطی تمہاری نہیں،قصور جوانی کا ہے،بڑی کمینی شے ہے ظالم،گدھی پر بھی آتی ہے تو وہ خود کو حور شمائل سمجھنے لگتی ہے مگر چندا تم گدھی تھوڑا ہی ہو،وہ اچھا لگتا ہے کوئی بات نہیں بات یہیں تک رہے تو ٹھیک ہے اس سے آگے نہ بڑھے‘‘،لہجہ سخت کئے بغیر ہی اقبال بیگم نے فیصلہ صادر کردیا اور پھر درپن کے ساتھ اُس نے اگلے کئی سال کام تو کیا مگر کوئی دوسرا تعلق پروان چڑھانے کی کوشش نہیں کی دوسری جانب اقبال بیگم نے فلمسازوں کو صاف لفظوں میں بتادیا کہ شمیم کو اپنی فلموں میں کاسٹ کرنا چاہتے ہو تو وہ ہر فلم کے سیٹ پر اپنی نواسی کی حفاظت کے واسطے لازمی موجود ہوں گی،شمیم آراء کی ڈیٹس،معاوضہ ہر چیز کا انتظام اور دیکھ ریکھ اقبال بیگم نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا،نانی کی باتیں اُس وقت صداقت کے لبادے میں نظر آئیں جب درپن نے نیئر سلطانہ سے شادی کرلی۔
فلموں کو مکمل کرواتے ہوئے شمیم آراء نے یہ سوچ لیا تھا کہ جلد ہی وہ اس قابل ہوجائے گی کہ نانی نے جتنی رقم اُس پر خرچ کی ہے وہ اداکرسکے،کچھ ہی سال میں نانی کا اُسے فلموں میں کام کروانے کا شوق بھی پورا ہوجائے گا اور تب وہ اُن سے درخواست کرے گی کہ بازار کی دوسری لڑکیوں کے برعکس وہ رونق محفل نہیں بلکہ گھر کا دیا بننا چاہتی ہے اور یہ خیال اُس کے دماغ میں بٹھانے والا تھا خوبرو ہیرو کمال۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سن ہے 1962 ؁شمیم آراء اپنی نانی سمیٹ یونٹ کے دیگر افراد کے ساتھ سوات میں مقیم ہے جہاں فلم ’’زمانہ کیا کہے گا‘‘ کی شوٹنگ ہورہی ہے،دن بھر شوٹ کے وقت اقبال بیگم یونٹ کے ساتھ موجود ہوتی تھی اور اُن کی موجودگی کا مطلب تھا کہ دنیا کا کوئی انسان،چرند پرند غرض ہوا،دھوپ اور چاندنی کے سوا کوئی مخلوق شمیم آراء کے نزدیک نہیں آسکتی،صرف اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کے علاوہ میک اپ مین ہی تھا جو شمیم آراء سے مخاطب ہوسکتا تھا۔
’’یار!یہ نانی بیگم چیز کیا ہیں؟‘‘،کمال نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے منہ سے سنا تھا۔
’’وہ بند تالے کی کنجی ہیں‘‘،کسی نے ہنس کر کہا تھا۔
رات کے وقت وہ سارے تاش کھیلنے کیلئے جمع ہوجاتے تھے،کمال خود بھی اس کھیل کے رسیا تھے اور شغل کے طور پر اکثر آؤٹ ڈورز میں اپنے یونٹ کے ساتھیوں کے ہمراہ رات گئے تک بازی سجائے رکھتے تھے۔
’’وہ کنجی نہیں ہیں،پنجرے کا تالا ہیں اور شمیم پنجرے کی بلبل‘‘،کمال نے کہا تھا۔
’’مگر میرا خیال ہے کمال کہ تم اس بارے میں نہ ہی سوچو تو بہتر ہے‘‘،ڈائریکٹر اقبال یوسف نے سمجھاناچاہا تھا،کمال سے بے حد گہری دوستی تھی اور وہ جانتا تھا کہ کمال ایک ستھرے خیالات کاسنجیدہ نوجوان ہے اور اپنے کام سے کام ہی رکھنا پسند کرتا ہے،شمیم آراء کیلئے اُس کی نگاہوں میں پسندیدگی کسی سے بھی مخفی نہیں تھی۔
اُس وقت تو کمال نے کچھ نہ کہا تھا مگر اگلے کئی دن شمیم آراء سے بات کرنے کی کوشش ضرور کرتا رہا تھا جو اقبال بیگم نے ناکام بنادی تھی کہ وہ سائے کی طرح شمیم آراء کے ساتھ ساتھ رہتی تھیں اور اُن کی موجودگی میں شمیم آراء ’’ہوں‘‘ بھی نہیں کرتی تھی ’’چوں چراں‘‘ تو پھر بہت بڑی بات تھی۔
کمال کو اقبال بیگم کا رویہ ازحد کھٹک رہا تھا مگر چونکہ پڑھا لکھا اور تہذیب یافتہ انسان تھا لہذا اُس نے ایک بار بھی اقبال بیگم کے ساتھ غیر شائستگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
’’زمانہ کیا کہے گا‘‘ بنیادی طور پر ایک سسپنس سے بھرپورجاسوسی و کامیڈی فلم تھی،کئی ایسے مناظر تھے جن میں شمیم آراء اور کمال کو چھپنے کی اداکاری بھی کرنی تھی اور ان مناظر کی عکسبندی کے دوران ڈائریکٹر کی کوشش رہا کرتی تھی کہ سیٹ پر کم سے کم لوگ موجود ہوں تاکہ دونوں اداکاروں کے چہروں پر حقیقی تاثرات ہوں ،ایسے ہی ایک منظر کی عکسبندی کے دوران بالآخر کمال کو شمیم سے بات کرنے کا موقع مل گیا تھا۔
’’آپ اس قدر مغرور کیوں ہیں؟‘‘۔
’’میں‘‘،بے حد چونک کر شمیم نے کمال کی جانب دیکھا تھا۔
’’جی!کسی سے بات ہی نہیں کرتی ہیں‘‘۔
’’ایسی تو کوئی بات نہیں ہے،میں خاموش طبع ہوں،مغرور تو نہیں ہوں اور غرور کروں گی بھی کس بات پر؟‘‘۔
’’کامیاب ہیروئین ہیں،پاکستان مرتاہے آپ پر،یہ غرور کیلئے کیا کم وجہ ہے؟‘‘۔
شمیم روہانسی ہوگئی تھی۔
کمال دنگ رہ گیا تھا۔
“یہ مغرویت نہیں ڈوب مرنے کی بات ہے ”
’’پیک اپ‘‘ کی آواز کے ساتھ ہی ان دونوں کی گفتگو کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔
کمال کی نظروں سے شمیم آراء کا روہانسا چہرہ محو نہ ہوتا تھا،کئی راتیں وہ جاگ کر اُس کے بارے میں سوچتا رہا۔
پھر ایک رات اسسٹنٹ سے گزارش کی کہ شمیم کو بھی ہال میں لے آئیں تاکہ وہ بھی تاش کے کھیل سے لطف اندوز ہوسکیں،محفل جمی ہے اور شمیم اپنے کمرے میں مقید ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے بلانے پر شمیم نے ایک نظر سوئی ہوئی نانی پر ڈالی اور شال شانوں سے درست کرتے ہوئے ہال میں آگئی جہاں محفل عروج پر تھی۔
زندگی میں پہلی بار شمیم نے بے ضرر سی تفریح کی تھی ورنہ کام،شوٹنگ،شوٹنگ سے گھر اور گھر سے سیٹ،بس یہی اُس کی زندگی کی پگھڈنڈی تھی،ایک ایسی پٹڑی جس پر شمیم آراء کی زندگی کسی ٹرین کی طرح مقررہ وقت پر گزرا کرتی تھی ایک اضافی شوق البتہ ضرور زندگی میں شامل ہوگیا تھا اور وہ تھا کُتب بینی۔فلموں کے سکرپٹس پڑھتے ہوئے کہانیوں میں دلچسپی پیدا ہوئی ،ایک بار فیض صاحب نے ایک نشست میں اُس سے کہا تھا کہ ’’شمیم تمہاری اردو اتنی اچھی ہے تم شاعری کے ساتھ دوسری کتابیں بھی پڑھا کرو،اداکاری کیلئے قوت مشاہدہ ،حساسیت اور خداداد صلاحیت تو ضروری ہے ہی مگر کتابیں ذہن کو کھولتی ہیں،تمہیں زندگی کی نئی نئی جہتیں کھوجنے کا موقع ملے گا‘‘ اور پھر فیض صاحب ہی نے اُسے کچھ کتابیں بھجوائی تھیں، لہذاٰ تنہائی کی ساتھی کتابیں اپنا کرداربے حد خوبی سے ادا کرنے لگی تھیں۔
کئی راتوں تک اقبال بیگم کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ رات گئے تک جمنے والی محفل میں اُن کی پُتلی بھی جلوہ افروز ہوتی ہے اور کھیل کے ساتھ ساتھ کمال کی سنگت میں بھی خوب محظوظ ہوتی ہے۔کمال اور شمیم کے درمیان اجنبیت کی دیواریں آہستہ آہستہ زائل ہونے لگی تھیں،جب تک اقبال بیگم کو خبر ہوئی تب تک خاصی دیر ہوچلی تھی،کمال شمیم آراء کے دل آنگن کے مکین ہوچکے تھے۔
فلم کا گیت ’’رات سلونی آئی بات انوکھی لائی
جو ہم کسی سے نہ کہیں گے۔۔چپ رہیں گے ہم۔‘‘
کی فلمبندی کے دوران شمیم اور کمال دونوں ہی کو شدت سے یہ احساس ہوا تھا کہ دونوں ایک دوجے کیلئے ہی بنے ہیں۔اُس رات شوٹنگ کے بعد کمال نے شمیم آراء سے باقاعدہ طور پر محبت کا اظہار کردیا تھا۔
وہ رات شمیم آراء کو اگلے کئی سالوں تک پوری پوری رات سونے نہ دیتی تھی۔
کمال نے کچھ اس انداز سے اُس رات کو یادگار بنادیا تھا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
فلم کے یونٹ میں شامل اپنے قریب ترین دو تین دوستوں کی مدد سے کمال نے ہوٹل کے کمرے کے فرش کو گلاب کی پتیوں سے سجایا تھا جس کے وسط میں دل کی شکل ترتیب دی گئی تھی اورجس کے بیچوں بیچ جلتا ہوا دیا کمال کے دل میں شمیم کیلئے روشن محبت کا غماز تھا۔
شمیم اس کمرے میں آکر ’’پُتلی‘‘ سے ’’بُت‘‘ بن گئی تھی۔
کمال نے محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہاتھا’’میری محبت کا دیا ہے یہ شمیم،کیا تم میری شمیم بنوگی؟‘‘۔
آنکھوں میں برسات اور ہونٹوں پر بہار لئے شمیم نے ہاں کہہ دیا تھا۔
کمال نے کراچی پہنچتے ہی اقبال بیگم سے بات کرنے کا عندیہ دے دیا تھا،مگر کمال کو ایسی کوئی بات کرنی ہی نہیں پڑی۔
اقبال بیگم غفلت کی نیند سے جاگ گئی تھی۔
’’تم ایک بڑی ہیروئین ہو !تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہاری یہ محبت تمہاری لٹھیا ڈبو دے گی،جس ہیروئین کے پیچھے پاکستان دیوانہ ہے شادی کرتے ہی ایک ایک پروانہ اڑجائے گا اور پیچھے رہ جاؤ گی تم ہاتھ ملتے ‘‘،اقبال بیگم نے بے لچک لہجے میں کہا تھا۔
’’نانی!میں لمبے عرصے تک فلم میں کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی‘‘،اُس نے دوٹوک مگر نرم لہجے میں زندگی میں پہلی بار اپنا فیصلہ سنایا تھاجو اقبال بیگم کو چراغ پا کرگیا تھا۔
’’تم اور تمہارے ارادے‘‘،استہزائیہ ہنس کر اقبال بیگم نے اُس کی ارادے کو پھونک مار کر اڑادیا تھا’’تم کوئی بھی ارادہ باندھ لینے کی اہل نہیں ہو پُتلی بائی‘‘،’’بائی‘‘ کہہ کر اقبال بیگم نے اُسے یاد دلادیا تھا کہ وہ کون ہے،کہاں سے تعلق رکھتی ہے،اُس کی نانی اور ماں کون ہیں،وہ اُس دنیا سے ہے جہاں باپ جائز بھی ہو تو بھی اُس کی پہچان وشناخت صرف کاغذ تک محدود ہوتی ہے،باپ بذات خود وجود کی حیثیت سے کہیں نہیں ہوتا۔
’’میں جانتی ہوں کہ میں کون ہوں،کمال بھی جانتا ہے اور اس کے باوجود مجھے اپنانے کا فیصلہ کرچکا ہے‘‘، میڈم نور جہاں نے کہا تھا کہ چہرے پر دل کی کیفیت کبھی نہ آنے دینا،اُس نے پلو سے باندھ لی تھی نصیحت،شمیم کا کہتے ہوئے دل روپڑا تھا مگر چہرے پر پانی کے دو بوند تک نہ آئے تھے،نہ ہی آواز لڑکھڑائی تھی نہ لہجہ بھرایا تھا۔
’’اچھا!چلو دیکھے لیتے ہیں عاشق نامدار کو بھی‘‘، اقبال بیگم کے لہجے میں دھمکی تھی جس نے شمیم کو کپکپا دیا تھا۔
فلم مکمل ہوچکی تھی،شمیم اقبال بیگم کے ساتھ کراچی آچکی تھی،چند دن کراچی میں آرام کرنے کے بعد وہ پھر لاہور چلی گئی جہاں اُسے دو تین فلموں کی شوٹنگ کروانی تھی،اس دوران کمال اور شمیم کے درمیان خط وکتابت کا سلسلہ رہا،شمیم اپنے تئیں نہایت احتیاط اور رازداری برت رہی تھی کہ نانی کو بھنک بھی نہ ہو کہ وہ کمال کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ اقبال بیگم نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کررکھی تھیں تاکہ شمیم اس دھوکے میں آجائے کہ وہ کچھ نہیں جانتی ہیں،کمال شمیم کو ہر خط میں یہ تسلی دیتا تھا کہ وہ پریشان نہ ہو،کوئی نہ کوئی سبیل ضرور نکلے گی،شادی وہ اُسی سے کرے گا،وہ دو تین سال مزید فلموں میں کام کرنا چاہتی ہے ضرور کرے اور وہ جب کہے گی تب ہی وہ اقبال بیگم سے اُس کا ہاتھ مانگے گا،کمال نے اس سلسلے میں اپنے گھر والوں سے بات کی تھی یا نہیں اس بارے میں کمال نے کبھی کوئی بات نہ لکھی تھی۔
اسی اثناء میں ’’زمانہ کیا کہے گا‘‘ ریلیز ہوگئی،پریمئر کے موقع پر کمال اور شمیم آراء روبرو آئے تھے،فلم کی ریلیز سے قبل ہی اُن دونوں کی رومانوی داستان نانی کے ظالمانہ کردار مرچ مسالوں کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتی رہی تھی اور جسے فلموں کے شوقین چٹخارے لے لے کر پڑھتے رہے تھے،ان دونوں نے ہی ان خبروں اور باتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی مگر پریمئر کے وقت فلمی صحافیوں نے اس بارے میں کئی بار سوالات کئے جس پر شمیم آراء کے پسینے چھوٹ گئے تھے لیکن کمال نے بے حد اعتماد سے ان سوالوں کو ٹال دیا تھا۔
لیکن فلم کا وہی گیت ’’رات سلونی آئی بات انوکھی لائی‘‘ تھا جو ہر راز سے پردہ ہٹاتا گیا تھا۔ایک ایک فریم ،ایک ایک منظر وضاحت سے دکھا رہا تھا کہ شمیم آراء اور کمال پردے پر اداکاری نہیں بلکہ حقیقت کو پیش کررہے ہیں۔
فلم کے پردے پر اس گانے میں شمیم کی ہر ناز وادا کھل کر کمال کیلئے اپنی محبت کا اظہار کررہی تھی اور کمال کے چہرے کے تاثرات محبت کی ہر پہیلی کو بوجھ رہے تھے۔
اقبال بیگم سے کسی صحافی نے جب اس بارے میں پوچھا تو اس نے مُسکرا کر صرف اتنا کہا تھا ’’کمال بہت اچھا اداکار ہے،اس رومانی گانے نے ثابت کردیا ہے اور شمیم سیدھی سادھی اور بے وقوف‘‘،محفل کشت زغفران بن گئی تھی اُس وقت لیکن اقبال بیگم کے اس طنز کی کاٹ کو کمال اور شمیم نے بے حد شدت سے محسوس کیا تھا۔اقبال بیگم ان دونوں کے درمیان غلط فہمی کازہر گھولنا چاہتی ہے یہ بات کمال کو سمجھ آگئی تھی اور اُس نے شمیم کو یہی بات سمجھانے میں قطعاً دیر نہ کی تھی۔
’’تم بس چپ رہ کر زیر تکمیل فلمیں مکمل کرواؤ، نانی کو یہ یقین دلاؤ کہ ہماری راہیں جدا ہوچکی ہیں، صحیح وقت پر میں اُن سے رشتے کی بات کروں گا تب تم بھی اس پوزیشن میں ہوگی کہ انہیں رام کرسکو ‘‘،کمال نے اگلا لائحہ عمل بھی ترتیب دے دیا تھا۔
اپنے حساب سے کمال نے کمال کی پلاننگ کی تھی۔
اپنی غرض کے ہاتھوں اقبال بیگم نے غضب کی چال چلی تھی۔
اور ایک پانسہ اُس وقت قسمت کے ہاتھ تھا۔
جو جس کے حق میں بھی چلتا،بازی اُسی کے ہاتھ ہوتی۔
اور یہ بازی پُتلی بائی کو ’’کٹھ پُتلی‘‘ بنا گئی تھی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اقبال بیگم کے ہاتھ میں شمیم آراء کی فلم ڈائری تھی،جس میں تاریخوں کا حساب کتاب،کس فلم ساز نے کس قدر معاوضے کی ادائیگی کردی ہے اور کتنا معاوضہ باقی ہے،کس فلم کی کب سے شوٹنگ شروع ہوگی،کون سی فلم کیلئے کب سٹلز شوٹ ہوں گے،کس صحافی کو کب انٹرویوو دینا ہے یہ سب اقبال بیگم کی انگلیوں کی پوروں پر ہوتا تھا،سن 63تک شمیم آراء کئی فلموں کیلئے بُک کی جاچکی تھی ،اقبال بیگم کیلئے راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا جب اس پُرسکون جھیل میں طلاطم برپا ہوا۔
ایورنیو پکچرز کی ’’قیدی‘‘ کی شوٹنگ زوروشور سے ایورنیوسٹوڈیو میں جاری وساری تھی،شمیم آراء کے مقابل درپن تھے ،مگر اقبال بیگم کو اس کی چنداں فکر لاحق نہیں تھی،درپن نیئر سلطانہ سے شادی کرچکے تھے حالانکہ اُن کی عاشق مزاجی اور بھنورہ صفتی میں کوئی کمی تو نہ آئی تھی البتہ شمیم کا پیچھا وہ کافی عرصہ پہلے ہی چھوڑ چکے تھے،پھر شمیم کے سر پر کمال کا عشق بھوت بن کر سوار تھا،جس کے توڑ کی پلاننگ اقبال بیگم کرچکی تھی مگر اقبال بیگم کے ہاتھوں کے توتے اڑ گئے جب ’’قیدی‘‘ کے سیٹ پر اُس کے کسی غمخوار نے وثوق سے یہ پگھلا ہوا سیسہ اقبال کے کان میں انڈیلا کہ شمیم آراء نہایت چالاکی سے کئی فلمسازوں کو اعتماد میں لے کر مزید فلموں میں کام کرنے سے معذرت کررہی ہے ،وجہ دریافت کرنے پر وہ یہی کہہ رہی ہے کہ جلد ہی وہ اس حوالے سے پریس کانفرنس کرے گی۔
اقبال بیگم صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئی،وہ چاہتی تو تھی کہ اسی وقت شمیم کو آڑے ہاتھوں لیتی لیکن سمجھداری کا تقاضہ یہی تھا کہ کراچی واپس جانے تک چپ ہی سادھی رکھی جاتی،اقبال کو حیرت صرف اس بات کی تھی کہ جس پُتلی کو اس نے پال پوس کر بڑا کیا،اس قابل بنایا کہ وہ ایک کامیاب ترین ہیروئین بن گئی،وہ جو اُس کے کہے پر دل سے،بے دلی سے کبھی حجت کرکے تو کبھی خاموشی سے چلتی آئی تھی اتنی بڑی بات چھپاکر اتنے آرام سے بیٹھی تھی۔فلم ساز اگر شمیم کو فلموں میں کاسٹ کرنا بند کررہے تھے اور یہ خود شمیم کی ایماء پر تھا تو اس کا مطلب واضح تھا کہ کمال کے ساتھ ہر ایک کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے شادی ’’اور یقیناًاسی کا اعلان وہ پریس کانفرنس میں کرنے والی ہے‘‘،اقبال بیگم نے کڑی سے کڑی جوڑ لی تھی جس کا نتیجہ صرف اور صرف ایک تھا۔
روشن ناچ گا کر جتنا کمالیتی تھی وہ شمیم کو ملنے والے معاوضے کا عشر عشیر بھی نہیں تھا،موسیقی محل میں اُس کی حیثیت ایک نائیکہ سے بڑھ کر نہیں تھی،شمیم کی بدولت وہ کسی راجدھانی کی ملکہ بن کر فلم انڈسٹری کے بڑوں پر حکم چلاتی تھی،کسی فلم ساز کی مجال نہ تھی کہ اقبال بیگم کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہتا،فلم ساز و ہدایتکار اگر چاہتے تھے کہ اُن کی فلم مقررہ وقت پر بناء کسی تعاطل کے مکمل ہوسکے تو فلم کی ہیروئین سے زیادہ وہ ہیروئین کی نانی کو راضی رکھنے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے،اُس زمانے کا مہنگا ترین سگریٹ ’’تھری کیسل‘‘ اقبال بیگم کا مرغوب ترین سگریٹ تھا اور ہر فلم ساز پر یہ فرض تھا کہ جب تک شمیم اُس کی فلم میں کام کرتی تب تک وہ سگریٹ اقبال بیگم کی خدمت میں پیش کرتا رہے،ہندوپاک کی فلمی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ فلم ساز کسی ہیرویا ہیروئین کے اتنے نخرے نہیں اٹھاتے تھے جتنے پاپڑ انہیں ہیروئین کی نانی کے ماتھے پر بل نہ لانے کیلئے بیلنے پڑتے تھے اور شمیم کی فلموں سے کنارہ کشی اور شادی کا مطلب تھا کہ مسلسل ہونے والی بہترین آمدنی کے مستقل ذریعے کو ختم کرکے قلاشی کی طرف جانا اور ساتھ ہی اس پروٹوکول سے بھی ہاتھ دھو لینا جس کی وہ شمیم کی نانی ہونے کی حیثیت سے عادی ہوچلی تھی۔
لہذاٰ اپنی خودغرضی اور سنگ دلی کو سمجھداری اور دانش مندی کے غلاف میں چھپا کر اقبال بیگم نے شمیم سے اس حوالے سے کراچی پہنچتے ہی بات کی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے،مجھے تو مشرقی پاکستان تک سے آفرز ہورہی ہیں میں کیسے فلمسازوں کو منع کرسکتی ہوں‘‘،شمیم نے نظریں چراتے ہوئے جھوٹ بولا تھا،اقبال بیگم مُسکرائی،گویا محبت کی ہر روائت کو پورا کرنے کی ٹھان چکی تھی اُس کی نواسی،محبت میں بڑے بڑے نظریں ملائے بغیر جھوٹ بولتے ہیں تو وہ کیا چیز تھی۔
’’کمال سے شادی کرنا چاہتی ہو؟‘‘،پینترا بدل کر پانسہ پھینکا گیا تھا،وہ ہکا بکا رہ گئی۔
’’جی ہاں‘‘،سر جھکا کر دل میں بجتی ہوئی شہنائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اُس نے کہا تھا،ہشش شریر یہ بھی کوئی وقت تھا شہنائیوں کا۔
’’ٹھیک ہے،مگر ایک سال کے بعد اس سلسلے میں بات ہوگی تب تک تم اپنی فلمیں مکمل کرواؤ اور ہاں میری پہلی شرط یہ ہے کہ اب تم فلمسازوں کو فلموں کیلئے منع نہیں کروگی‘‘،شمیم نے حامی بھر لی اور پھر کمال کو فون پر ساری بات بتابھی دی تھی۔
’’اور تو کچھ نہیں کہا انہوں نے؟‘‘،ساری بات سن کر کمال نے گھمبیر لہجے میں کہا تھا۔
’’نہیں‘‘۔
’’اس کا مطلب ہے شادی سے قبل اور بھی شرائط رکھی جائیں گی‘‘،کمال نے نتیجہ اخذ کیا تھا،جو کہ شمیم نے سوچا تک نہیں تھا۔
’’ہوسکتا ہے‘‘،وہ یہی کہہ سکی۔
اگلے چند ماہ شمیم آراء لاہور میں اپنی فلموں کی عکسبندی میں مصروف رہیں،کمال کی دلچسپی فلم سازی کی طرف مائل ہوئی تو اُس نے کراچی میں ہی دو فلموں کا اعلان کردیا،کمال کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اُس کے فلمسازی کے منصوبے کو اقبال بیگم کس طرح ایک پیادے کے طور استعمال کرنے والی ہے۔
’’کمال نے تم سے کوئی مشورہ لینا تو دور تمہیں خبر تک ہونے دی کہ وہ فلمیں بنانا چاہتا ہے‘‘۔
’’اس میں حیرانی کی تو کوئی بات نہیں ہے،مصروفیت کے باعث کئی دنوں سے میری فون پر اُس سے بات بھی نہیں ہورہی‘‘،شمیم نے نپے تلے لہجے میں کہا تھا۔
’’اور یہ فلمیں وہ بنائے گا کس کے سرمائے سے؟‘‘۔
’’کیا مطلب؟‘‘۔
’ظاہر ہے تم سے شادی کررہا ہے وہ تو پھر تمہاری ساری آمدنی کا مالک بھی وہی ہوگاناں‘‘،اقبال بیگم نے جال پھینکا تھا۔
’’کمال کو قطعاً ضرورت نہیں ہے میرے سرمائے کی،وہ خودار انسان ہے،عورت کی کمائی کبھی بھی پسند نہ کرے گا‘‘،زندگی میں پہلی بار شمیم نے تلخی اقبال بیگم کو دکھائی تھی۔
’’ٹھیک ہے پھر تم بلاؤ اُسے،میں اب قصے کا منطقی انجام کئے ہی دیتی ہوں ‘‘،اقبال بیگم نے مُسکراکر کہا تھا۔
شمیم کی دعوت پر کمال اُس گھر میں داخل ہوا تھا جسے شمیم آراء کی آمدنی سے ہی خریداگیا تھا،موسیقی محل کو چھوڑے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا اقبال بیگم کو،البتہ روشن اکثر وہاں جایا کرتی تھی۔اقبال بیگم کی اگلی شرط تھی کہ کمال کے ساتھ اس ملاقات کے وقت وہ موجود نہ ہوگی،وہ جو بھی بات کریں گی تنہائی میں کریں گی،شمیم نے یہ شرط بناء کسی تردد کے مان لی تھی۔
کمال نے کچھ دیر رسمی گفتگو کے بعد اصل بات چھیڑ دی تھی۔
’’کمال!تم جانتے ہو نا کہ اس وقت شمیم سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ہیروئین میں سے ایک ہے‘‘۔
’’جی جانتا ہوں‘‘،کچھ حیرت کا شکار ہوتے ہوئے کمال نے کہا تھا۔
’’اور یہ بھی تمہارے علم میں ہے کہ انڈسٹری کی ہیروئین در اصل اپنے گھر اور خاندان کا مرد ہوتی ہے،رزق کمانے والا مرد؟‘‘۔
’’جی یہ بھی حقیقت ہے‘‘،کمال چیں بہ چیں ہوا تھا،اقبال بیگم بات کو جس جانب لے کر جارہی تھی وہ اُسے کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہوگیا تھا۔
’’پھر تم ہی کہو بیٹا!کہ اپنا کماؤ مرد میں تمہارے ساتھ رخصت کردوں گی تو میرے پاس کیا رہ جائے گا؟‘‘،اقبال بیگم نے جال کو کسنا شروع کیا تھا۔
’’میں کیا کہہ سکتا ہوں ،کماؤ ہو یا نہ ہو ایک دن تو آپ نے شمیم کی شادی کرنی ہی ہے‘‘۔
’’ظاہر ہے بیٹا!کرنی ہے بالکل کرنی ہے،مجھ سے زیادہ کسے ارمان ہوگا پُتلی بائی کو دلہن بنا دیکھنے کا‘‘،اقبال بیگم کا لہجہ ماہر شاطر کا ساتھا۔کمال نے چپ رہنے میں ہی عافیت جانی۔
’’تو بیٹا !ایسا ہے کہ تم شمیم سے محبت کرتے ہو،اُسے گھر میں بسانا چاہتے ہو،میں بھی یہی چاہتی ہوں مگر میں بھوکوں مرنا بھی نہیں چاہتی لہذاٰ ایک سبیل ہے میرے ذہن میں‘‘۔
’’جی !وہ کیا؟‘‘۔
’’تم دولاکھ روپے دے دو اور شمیم سے شادی کرلو‘‘،اقبال بیگم نے جال کو گرہ لگادی تھی۔
چند لمحوں کیلئے تو کمال کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ اقبال بیگم نے جو کہا ہے وہ کیا ہے،نہیں،سمجھ تو خیر آگیا تھا بس یقین ہی نہیں آیا تھا،کسی کو بھی نہ آتا۔
’’معاف کیجئے گا‘‘،کمال کا لہجہ روکھا ہوا،یعنی اقبال بیگم کا تیر ٹھیک نشانے پر۔
’’میں بیوی رخصت کروانا چاہتا ہوں،خرید کر لے جانا نہیں‘‘،کمال نے اپنی دانست میں جوتا بھگوئے بغیر اقبال بیگم کے مارا تھا مگر اقبال بیگم نے اُسے کسی طمغے کی طرح سر ماتھے پر قبول کیا تھا۔
’’ٹھیک ہے پھر،یہی میری آخری شرط ہے،تمہیں نہیں منظور تو کوئی بات نہیں،شمیم کو میں سمجھالوں گی‘‘۔
’’میں خود بات کروں گا شمیم سے،آپ اگر نہیں چاہتی ہیں کہ وہ عزت سے رخصت ہو تو پھر مجبوراً ہمیں کورٹ کی خدمات لینی پڑیں گی‘‘،کمال نے چال چلی تھی اور اقبال بیگم کو بازی پلٹتی دکھائی دینے لگی تھی۔
شمیم آراء کو کمال نے بے حد غم وغصے کے ساتھ اقبال بیگم کی شرط کے بارے میں بتایا تھا،شمیم آراء نے زندگی میں ایسی ذلت اس سے قبل محسوس نہ کی تھی۔
جب اُسے گھنٹوں ماسٹر جی کے سامنے رقص کا تورا کی بار بار مشق کرنی پڑتی تھی۔
جب سکول میں اُس کے بارے میں خبر پہنچی تھی کہ وہ ناچنے گانے والی ہے۔
جب اُس نے روشن کو مردوں کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا تھا۔
جب اُسے اپنی زندگی کی ان بدصورتی بھرے حقائق کا علم ہوا تھا۔
ایسی ذلت اُسے تب بھی محسوس نہ ہوئی تھی۔
اُس نے اقبال بیگم کی خاطر خواہش چھوڑی،ناچ سیکھا،فلمی دنیا میں آگئی،ہیروئین بن گئی،شعوری کوشش کا نتیجہ تھا کہ وہ پاکستان کی واحد ایسی ہیروئین تھی کہ جس کے بارے میں کبھی کوئی فحش جملہ کسی نے نہ کہا تھا،کوئی گندا خیال کبھی کسی فلم بین کے ذہن میں نہ آیا تھا،وہ سکرین پر گلیمرس نظر آنے کے بجائے باوقار نظر آتی تھی ،وہ نوٹ چھانپنے والی مشین بن گئی تھی،خود سے زیادہ اقبال بیگم اور اُس کے خاندان کا پیٹ پال رہی تھی،سخت سردیوں میں ہلکے کپڑوں میں ملبوس برفیلے علاقوں میں گانے عکس بند کرواتی تھی،سخت گرمیوں میں تپتے ہوئے سٹوڈیوز کے آگ برساتے ہوئے فلورز پر بھاری میک اپ اور موٹے کپڑے پہنے گھنٹوں ڈرامائی،المیہ مناظر فلم بند کروارہی ہوتی تھی کس کیلئے ؟،اقبال بیگم کیلئے،اور وہ اقبال بیگم اُسے دوکان میں بکنے والی کوئی شے سمجھتی تھی،یہ حیثیت تھی اُس کی،یہی وقعت تھی اُس کی،محض دولاکھ،بہت بڑی رقم تھی،دولاکھ معمولی رقم نہ تھی،چھے فلموں کی دن رات کئی کئی مہینے شوٹنگ کرواتی تب کہیں جا کر دو تین سال میں دو لاکھ روپے جمع ہوتے،مگر دنیا کے کسی بھی انسان کو اپنی قیمت دو لاکھ روپے ہمیشہ کم ہی لگنی تھی،اُسے بھی لگی تھی،یہ حد تھی۔
اسی وقت شمیم آراء نے اقبال بیگم سے کچھ بھی کہے بغیر،اقبال بیگم سے کوئی صفائی،کوئی وضاحت مانگے بغیر اُس گھر سے نکل جانا بہتر سمجھا جو اُسی کی کمائی سے بنا تھا۔
’’شمیم آراء کے اپنی نانی کے ساتھ اختلافات عروج پر‘‘۔
’’کمال کے ساتھ شادی نہ کئے جانے پر شمیم آراء نے گھر چھوڑ دیا‘‘۔
’’شمیم آراء کی نانی نے اداکار کمال سے شادی کے عوض دو لاکھ روپے کا مطالبہ کردیا‘‘۔
’’شمیم آراء گھر چھوڑ کر ہوٹل میٹروپول میں قیام پذیر ہیں‘‘۔
اگلے کئی ہفتوں تک یہ خبریں مختلف اخبارات کی سُرخیاں بنتی رہیں،اتنی وضاحت کے ساتھ فلمی صحافیوں کو یہ خبریں کس نے دی تھیں یہ الگ داستان تھی لیکن یہ خبریں کمال اور اُس کی محبت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئیں۔
آخری وار خالی نہیں گیا تھا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اداکارہ بہار اور نیئر سلطانہ نے شمیم سے رابطہ کیا تھا،بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی جو ہونا تھا وہ ہوگیا تھا مزید جگ ہنسائی کا سلسلہ رُک جانا چاہئے تھا۔
’’میں تھکنے لگی ہوں،انسان ہوں یا نوٹ چھانپنے والی مشین،نانی کو میری زندگی سے صرف اتنی دلچسپی ہے کہ میں کماتی رہوں اور بس‘‘۔
’’ہم اداکارائیں ہیں شمیم،ہمیں انسان سمجھا ہی نہیں جاتا‘‘،بہار نے کہا تھا۔
’’مگرکیوں؟‘‘۔
’’اس کا جواب ہم میں سے کسی کے پاس نہیں،تم گھر واپس چلی جاؤ‘‘۔
’’بہار!میں ایک جیتا جاگتا انسان ہوں،باقی اداکاراؤں کے بارے میں،میں کچھ نہیں کہہ سکتی،اپنے بارے میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ گھر بسانا میری اولین خواہش ہے اور کمال ٹھیک کہتا ہے نانی میرا گھر کبھی بھی نہیں بسنے دیں گی جب میں گھر نہیں بسا سکتی تو پھر نانی کی خواہشوں کا پیٹ بھی نہیں بھروں گی‘‘،شمیم نے فیصلہ بے لچک الفاظ میں سنا دیا تھا۔
کمال اُس کی زندگی سے نکل جائے گا یہ تو اُس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا اور اس قدر بدصورتی اور بدنامی کے ساتھ نکلے گا یہ اُس نے دیکھ لیا تھا،ہوٹل میں مقیم اُس نے کتنے ہی فون کمال کو کرڈالے تھے،کتنے ہی پیغام تھے جو کمال کیلئے چھوڑے تھے ،اخبارات اس سارے معاملے کو مسلسل اچھال رہے تھے،تبصرے ہورہے تھے،کسی تبصرہ نگار،اخباری نمائندے سمیت فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے لیکر عوام کا بیکراں سمندر جو مزے لے لے کر شمیم کی زندگی کے اس اہم ترین معاملے کو چٹخارے دار چاٹ کی طرح انگلیوں کی مدد سے چاٹ رہا تھا،نے ایک بار بھی یہ سوچنے کی زحمت نہ کی تھی کہ شادی اور محبت کے اس معاملے پر وہ دو انسان کیسا محسوس کررہے ہوں گے۔
کمال،جس سے محبت کے دام دو لاکھ روپے مانگے گئے تھے۔
شمیم،جس کی قیمت کسی بھی شرمندگی،ندامت کے بغیر لگادی گئی تھی۔
دنیا کا کیا کوئی بھی انسان اپنے اندرکسی دوسرے انسان کیلئے وہ چیز نہیں رکھتا جسے ساری دنیا کے ادیب،استاد،ریفارمرز،انسانی حقوق کے علمبردار اور مذہب و قانون کے ماہرین ’’احساس‘‘ کہتے ہیں،جس کے کرنے کی تلقین کی جاتی ہے،جس کو انسانی معاشرے کی تشکیل کی بنیادی اکائی گردانا جاتا ہے،لیکن نہیں۔
کمال تو پردہ سکرین پر شوخی وشرارت دکھاتا ہوا اپنی ہیروئین پر نثار ہونے والا محض ایک اداکار،اُسے کیا معلوم محبت کیا ہوتی ہے۔
شمیم تو ناچنے والیوں کی نسل ہے،ہزاروں لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے،اُسے کہاں محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
فلم انڈسٹری میں انسان تھوڑا ہی ہوتے ہیں،وہ تو بس ’’تفریح‘‘ ہوتے ہیں،چاہو تو ان کے کسی رومانی منظر پر دل کو گدگدالو،چاہو تو اُن کی المیہ اداکاری پر آنسو بہادو،چاہو تو اُن کے تھرکنے اور ناچنے پر سکوں کی بارش کردو،آخر روپیہ خرچ کرکے فلم بین انہیں یہی سب کرتے ہوئے دیکھنے جاتے ہیں،ان اداکاروں کو کہاں محبت کی سمجھ ہوتی ہے،ان کی زندگی میں کیسے تاریکیاں بے حسی،مایوسی،کم مائیگی،ناکامی اور دھوکے کی صورت میں پنجے گاڑ کر بیٹھ سکتی ہیں،دل تو انسانوں کے ٹوٹتے ہیں،تکلیفوں اور ذلت سے تو انسان گزرتے ہیں،اداکاروں کا ان باتوں سے کیا یاراں۔
الیاس رشدی پانی سر سے اونچا ہوتا دیکھ کر میٹروپول پہنچے تھے۔
’’شمیم !یہ کیسی دیوانگی ہے؟‘‘۔
’’جس عظیم زیادتی کا میں شکار ہوئی ہوں الیاس صاحب اچھے اچھے ہوش کھو بیٹھتے ہیں،کمال میرا فون تک نہیں لے رہا،مجھ سے کوئی بات نہیں کررہا اور آپ توقع کررہے ہیں کہ میں ہوش وہواس میں رہوں‘‘۔
’’کمال کنارہ کشی کرچکا ہے شمیم،جو ہوا بہت بُرا ہوا اور اس کے بعد اُس نے ایسا ہی کرنا تھا‘‘۔
’’آپ نے نہیں سمجھایا اُسے‘‘۔
’’بہت سمجھایا،لیکن شمیم وہ اپنے باپ کے آگے ہار گیا ہے،اُس نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اپنی محبت کی ایسی ذلت ہونے کے بعد بھی وہ تم سے شادی کرلیتا لیکن اپنے خاندان کی ناموس پر کوئی دھبہ وہ برداشت نہیں کرسکتا‘‘۔
شمیم خاموش ہورہی۔
کمال مہذب بھی تھا،خاندانی بھی،وہ حساس اور عزت دار بھی تھا اسی لئے عزت کرنا بھی جانتا تھا اور عزت پر جان دینا بھی،اقبال بیگم نے جو پانسہ پھینکا تھا اُس کے بعد تو ہار یقینی تھی،شمیم نے پہلی بار اقبال بیگم کیلئے اپنے دل میں کچھ بھی محسوس نہیں کیا تھا،نہ نفرت،نہ غم وغصہ،نہ کوئی شکوہ نہ کوئی گلہ۔
’’اور اب نانی کیلئے میرے دل میں کیا ہے؟‘‘۔
کافی دیر خاموش رہ کر وہ یہی سوچتی رہی تھی۔
الیاس رشدی بغور اُس کا چہرہ دیکھ رہے تھے لیکن اُس کے دل میں کیا تھا یہ جاننے میں ناکام رہے تھے۔
’’تم بھی اب کام پر لوٹو،بہت ہرج ہورہا ہے‘‘،الیاس رشدی نے اُس سے کہا تھا۔
’’ٹھیک ہے،الیاس صاحب!میں مشرفی پاکستان جارہی ہوں آپ وہاں اطلاع کرادیجئے‘‘،بے حد صاف لہجے میں اُس نے کہا تھا۔
وہ کیا کرنا چاہ رہی تھی الیاس صاحب یہ بوجھنے میں ناکام رہے تھے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
یہ سن 63ہے،شمیم آراء مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) میں فلم ’’تنہا‘‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہے،ادھر لاہور میں چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ شمیم آراء اب مشرقی پاکستان مستقل بنیادوں پر سکونت اختیار کرلے گی اور کراچی میں اقبال بیگم بیچ وتاب کھائی جاتی ہے۔
’’آپ نے بے حد غلط حرکت کی ہے،آپ کو رتی بھر ملال نہیں محسوس ہوتا‘‘،الیاس رشدی فلم انڈسٹری کے مائی باپ تھے اور میں کہتا ہوں کہ وہ حق سچ کے مائی باپ تھے ۔
’’الیاس صاحب میں بے حد عزت کرتی ہوں آپ کی،مگر کیا ہی بہتر ہو کہ آپ اس معاملے میں نہ بولیں‘‘،اقبال بیگم نے ان کے آگے چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے کہاتھا’’آپ یہ بتائیں کہ شمیم میری اجازت کے بغیر ڈھاکہ کیسے چلی گئی،اُس نے تو پانی کا گلاس میری ایماء کے بغیر نہیں اٹھایا تھا،سارا کیا دھرا اُس ملعون کمال کا ہے مجھ سے بدظن کرچھوڑا رذیل نے؟‘‘۔
’’آپ یہ بتائیں کہ آپ کس کی اجازت سے شمیم کے ساتھ زیادتی پر زیادتی کررہی ہیں؟،آپ کچھ تو اپنے اندر نرمی پیدا کریں،شمیم کس قدر دکھی ہے ،کس طرح اُس کا دل کچلا ہوا ہے اس کی فکر کرنے کے بجائے آپ کو اُن فلمسازوں کی پریشانی کھائے جارہی ہے‘‘۔
’’اُن کیلئے پریشان نہ ہوں تو اور کس کیلئے ہوں،شمیم کیلئے؟،وہ جو اتنی بڑی بے وقوفی کرنے چلی تھی‘‘۔
’’شادی تو کرنی ہی ہے ایک دن اُس نے،کتنے سالوں تک وہ ہیروئین رہے گی ،شائد آپ اس حقیقت سے نظریں چرارہی ہیں تو میں آپ کو یاددلائے دیتا ہوں کہ ہیروئین کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے صرف پانچ سے چھے سال،ہندوستان میں دیکھ لیں،آپ نے تو یوں بھی اس دشت میں زندگی گزاری ہے‘‘،الیاس صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی طنز کرگئے تھے،یقیناًیہ نانی نواسی کا ذاتی معاملہ تھا مگر شمیم کی دلی کیفیت سے الیاس صاحب بے حد دکھی تھے،اپنے اخلاق،اپنی زبان،شائستگی اور رکھ رکھاؤ سے شمیم آراء اُن کوبے حد عزیز ہوچلی تھی۔
’’الیاس صاحب آپ جیسے کرم فرماؤں کا ساتھ رہا نا تو واقعی شمیم کا دانہ پانی جلد ہی اٹھ جائے گااور رہی بات شادی کی تو وہ میں فیصلہ کروں گی کہ کب کرنی ہے اُس کی،الیاس صاحب میں نے ماں بن کر پالا ہے اُسے،ساری ساری رات اپنی ماں کیلئے روتی تھی میں ہی گود میں لئے ٹہل ٹہل کر بہلاتی رہی ہوں،اب مجھے سنبھالنے کا موقع آیا ہے تو وہ فرض سے بھاگ رہی ہے‘‘۔
’’وہ سارے فرائض ادا کررہی ہے،آگے بھی کرے گی لیکن جو آپ نے اُس کے ساتھ کیا ہے کوئی کرے گا اُس سے شادی،کون سا عزت دار خاندان اُس کا ہاتھ مانگے گا‘‘۔
’’اس کی آپ فکر نہ کریں،وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا،آپ فی الحال کسی طرح میرا اُس سے ڈھاکہ میں رابطہ کروادیجئے‘‘،اقبال بیگم کو سمجھانا ناممکنات میں سے تھا،یہ بات الیاس رشدی اُس روز جان گئے تھے۔
ڈھاکہ میں مقیم شمیم آراء ’’تنہا‘‘ کی عکسبندی میں مصروف تھی،فلم کے ہیرو ہارون اور ساتھی اداکاراؤں نیناں اور شبنم سے اچھے مراسم قائم ہوچکے تھے،ڈھاکہ کی خوبصورتی اور سادگی شمیم کو بہت بھلی لگ رہی تھی،شوٹنگ کے بعد وہ شام ڈھلے تک ڈھاکہ کی سڑکوں پر پیدل مارچ کیا کرتی تھی،اکثر لوگ پہچان جاتے تھے مگر زبان کے فرق کی بناء پر زیادہ بات چیت ممکن نہیں تھی لیکن محبت،پسندیدگی اور اپنائیت کی اپنی ہی الگ زبان ہوتی ہے،شمیم اُن سادہ لوح لوگوں کی محبت سے محظوظ ہوتی،ناریل پانی پیتی،بنگلہ کاٹن کی ساڑھیاں خریدتی ،دل میں اٹھتے درد کو نظر انداز کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جاتی مگر ایک ٹیس کا شائبہ بھی چہرے پر نہ آتا۔
کمال کی باتیں،کمال کا خیال رکھنا،کمال کی سنجیدگی و متانت،کمال کا دھیما لہجہ،کمال کی وارفتگیاں،کمال کی محبت۔
ہر چیز بازگشت بن کر پیچھا کرتی،سڑکوں پر چلتے ہوئے کب اُس کی آنکھیں نمی سے بھر جاتیں،کب وہ سسکیاں لینے لگتی اُسے احساس ہی نہ ہوتا،راتوں کو اٹھ اٹھ کر وہ ان ساری باتوں کو بھیانک خواب کی طرح دہراتی اور دعاکرتی کہ صبح آنکھ کھلنے پر سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے مگر وہ بھیانک خواب نہیں تھا،تلخ حقیقت تھی۔
مشرقی پاکستان میں فلمی سرگرمیاں عروج پر تو نہ تھیں لیکن گہما گہمی ضرور تھی،اکثر فلم ساز اپنی مزید فلموں میں اُسے کاسٹ کرنے کے خواہاں تھے،وہ مُسکرا کر ٹال دیتی۔دل تو بہت کررہا تھا کہ یہیں کی ہورہے مگر دھیرے دھیرے وہ تسلیم کرنے لگی تھی کہ وہ ان بدنصیبوں میں سے ہے جو خواہش کرتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ کبھی پوری نہ ہوسکیں،اُس کا اختیار بھی بس اتنا ہی ہے۔
وقت نے اُس کی زندگی کے کشکول میں سب کچھ ڈال دیا تھا،شہرت،دولت،اخبارات اُس کے کارناموں سے بھرتے جاتے تھے،مرد اُس کی ساحرانہ مُسکراہٹ پر جیتے تھے تو خواتین اُس کی خوش لباسی اور اندازگفتگو پر فدا تھیں۔
وہ ’’عالم آراء‘‘ تھی۔
اور کیا قسمت تھی کہ محنت وجہد مسلسل نے دنیا کی ہر شے کو اُس کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا کردیا تھا،بس ایک محبت تھی جو بیڑی نہ پہن سکی تھی،کس نے سمجھنا تھا کہ حقیقی زندگی میں وہ ’’پُتلی‘‘ بااختیار نہیں ’’قیدی‘‘ تھی۔
اُسے حکم تھا کہ وہ کچھ سوچ نہیں سکتی۔
اُس پر پابندی تھی کہ وہ کچھ محسوس نہیں کرسکتی۔
اُسے زندگی کسی چاک پر دھرے کسی بے ہیئت اور بے شکل مٹی کے ڈھیر کی طرح گزارنی تھی جس کی قسمت کا سارا انحصار کمہار کی خواہش ،ضرورت اور دلچسپی پر ہوتا ہے اور وہ چاہ کر بھی اُس کی خواہش ،ضرورت اور دلچسپی پر اختیار حاصل نہیں کرسکتی۔
فلمی صحافی گھیرا تنگ کئے دیتے۔
’’آپ شادی کب کررہی ہیں،کس سے ہوگی،کون ہوگا وہ شہزادہ؟‘‘،ہر ایک انٹرویوو کا یہ سوال لازم وملزوم تھا۔
وہ سوال جو اُسے تختہ دار پر لٹکا کر میخیں گاڑ دیتا تھا۔
’’میں اُس سے شادی کروں گی جو کشمیر فتح کرے گا‘‘،فوجیوں میں اپنی مقبولیت کے باعث نہ جانے کیسے روانی سے یہ جواب نکل پڑا تھا زبان سے،صحافی ہنس پڑا تھا،اگلے کئی ہفتوں،مہینوں اور سالوں تک شمیم کا یہ بے ساختہ جواب گفت و شنید کا مرکز بنا رہا،مگر اس جواب میں چھپے لاشعوری طنز کو کوئی نہ سمجھ سکا علاوہ اقبال بیگم کے،مگر اقبال بیگم کے سمجھ جانے سے بات کہاں بننی تھی،تقدیر تو تب پلٹنی تھی جب اقبال بیگم خودغرضی کی قلعی دل سے کھرچ دیتی۔
اور اقبال بیگم نے اپنے دل کی دیواروں سے لپٹی خودغرضی پر طمع کا ماند نہ پڑنے والا پانی چڑھالیاتھا۔
اپنی پُتلی کو ہر ایک کی پہنچ سے دور رکھنے کی سازشوں میں مصروف اقبال بیگم سردار رند کے آگے جھک گئی تھی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سندھ کے بے حد بااثر خاندان اور بلوچ قبیلے کا چشم وچراغ سردار رند پر نئی نئی جوانی نہیں آئی تھی،وہ عمر رفتہ کی سینتیس بہاریں دیکھ چکا تھا،دو دو بیویوں کا شوہر تھا،لیکن چونکہ دولت،طاقت اور اثرورسوخ اُس کی زندگی کی باندی اور چاکر تھی ایسے میں وہ پچاس کا بھی ہوجاتا تو بھی اُس کا دل کسی بھی خوبصورت عورت کو دیکھ جوان و تروتازہ کبوتر کی طرح پھڑپھڑانا ہی تھا۔
انسان کے پاس دولت ومرتبہ ،طاقت وحشمت ہو اور دنیا اُس کے آگے جھک جھک کر سلامیں نہ کرے،دنیا اپنے سیدھے ہاتھ سے اُس کے جوتے اتار کر اپنی زبان سے تلویں نہ چاٹے تودنیا ’’دنیا‘‘ کیسے کہلائے۔
سردار رند کے تعلقات فلمی دنیا تک پہنچے ہوئے تھے،کراچی و لاہور کے کئی فلم ڈسٹری بیوٹرز اُس کے خاص دوست تھے ،جب بھی لاہور جانا ہوتا تو انہی کے توسط سے اسٹوڈیوز کا بھی چکر لگ جاتا،کئی فلمساز اور ہدایتکار سمیت نامی گرامی ہیروز بھی اُس کے حلقہ احباب میں آگئے تھے۔
سردار رند شمیم آراء کو جانتا تھا،کئی فلمیں بھی دیکھ چکا تھا اور یہ تسلیم کرنے میں اُسے کوئی عار نہ تھی کہ اُس نے اپنی زندگی میں فلم سکرین پر اتنا دلکش اور متاثر کن نظر آنے والا چہرہ شمیم سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔فلم ’’فرنگی‘‘ میں ایک پٹھان نٹ کھٹ و شوخ لڑکی کے کردار میں شمیم آراء کب اُس کے دل کی دنیا پر شب خون مار گئی تھی اُسے احساس ہی نہ ہوا تھا،بس اتنا تھا کہ فلم میں جب انگریز جیلر اُسے گولیوں سے بھون دیتا ہے تو اُس کا دل چاہا تھا کہ پردہ پھاڑ کر اُس شقی کا منہ توڑ ڈالے،اپنا یہ پچگانہ خیال وہ کسی سے کہہ سناتا تو جانتا تھا کہ خوب پھبتیوں کا شکار بنتا۔
ایورنیو اسٹوڈیو میں ایورنیو پکچرز کی ’’نائلہ‘‘ کی شوٹنگ جاری تھی،اپنے ایک دوست سے کہہ کر وہ سیٹ پر جا پہنچا،خوب آؤ بھگت ہوئی،ایک کونے میں شمیم کرسی پر بیٹھی سکرپٹ ہاتھ میں پکڑے اپنے مکالمے یاد کررہی تھی۔اسی دوست کے معرفت سردار رند کا تعارف شمیم سے کروایا گیا،ایک سرسری سی نگاہ سردار پر ڈال کر شمیم نے علیک سلیک کی تھی،اُس کا سارا انہماک اس وقت ایک بے حد مشکل سین کی جانب تھا جو کچھ دیر بعد فلم بند ہونا تھاایسے میں کسی غیر فلمی انسان سے ملنا اور بات چیت کرنا شمیم کیلئے ممکن نہیں تھا۔
خودسردار رند نے بھی بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانے کی کوشش نہ کی،لیکن یہ ہوا کہ اگلے کئی ہفتوں تک شمیم آراء جس فلم کے سیٹ پر بھی ہوتی یہ لازم تھا کہ سردار رند وہاں موجود نہ ہوتے یا آکر علیک سلیک نہ کرتے۔
شمیم کو حیرت اس بات پر تھی کہ کہاں تو نانی اُس کے نزدیک چڑیا کو بھی پر مارنے نہ دیتی تھیں اور عالم یہ ہے کہ سردار رند گھنٹوں آکر سیٹ پر بیٹھا رہتا ہے،کچھ کرتا نہیں ہے صرف اُسے تکتے رہنے کے،اقبال بیگم اُس سے جس خوش اخلاقی سے بات کررہی ہوتی،اُس کے آگے بچھ رہی ہوتی،دودھ سوڈا منگوایا جارہا ہے،لاہور کے مخصوص کھانو ں کا انتظام کروایا جارہا ہے،یہی نہیں اُس روز حد ہوگئی جب اپنی گاڑی چھوڑ اقبال بیگم شمیم کو لے کر سردار کی گاڑی میں جا بیٹھی کہ وہ اُن کی رہائش گاہ تک ڈراپ کردیں گے،شمیم جز بز ہوئی مگر کچھ بولی نہیں۔
ڈھاکہ سے واپس آکر اگلے کچھ ماہ وہ لاہور میں قیام پذیر رہی اور اپنا کام مکمل کرواتی رہی تھی،اسی دوران نگار ایوارڈز کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی تھی جس میں شرکت کیلئے الیاس رشدی کے بے حد محبت بھرے اصرار پر شمیم کو کراچی آنا پڑا تھا،چونکہ اُس تقریب میں شمیم آراء کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملنا تھا چنانچہ الیاس رشدی چاہتے تھے کہ وہ بھرپور انداز میں تقریب میں شرکت کرے،تقریب کے بعد ہونے والے عشائیے میں اقبال بیگم کے ساتھ اُس کا تصفیہ کروادیا گیا تھا،اُس وقت فلمی صحافیوں سمیت تقریباً پوری فلم انڈسٹری وہاں موجود تھی لہذا ٰ شمیم نے کوئی تماشا کھڑا کرنا مناسب نہ سمجھا اور اقبال کے گلے لگ گئی تھی،مگر گلے لگ جانے سے ’’گِلے‘‘ تو دور نہ ہوئے تھے،کمال کے سانحے کو شمیم بھولی تو نہ تھی لیکن وقت نے رستے ہوئے زخم پر گرد ضرور ڈال دی تھی،تب سے ہی شمیم اقبال بیگم سے کھنچی کھنچی تھی،اُن کی تمام تر ضروریات وہ پوری کررہی تھی،ایک وجہ یہ بھی تھی کہ روشن شادی کرچکی تھی اور نانی کے بجائے اپنے میاں اور اُس کے خاندان کو پالنے میں مصروف تھی۔
’’یہ کیا نیا تماشا لگالیا ہے آپ نے؟‘‘،اُس رات شمیم پھٹ پڑی تھی۔
’’کون سا تماشا؟‘‘،انجان بنتے ہوئے اقبال بیگم نے سگریٹ کا کش لگایا تھا۔
’’سردار ہر روز سیٹ پر کیوں پہنچ جاتا ہے اور آپ کو کیا ضرورت تھی اُسے گھر تک کا راستہ دکھانے کی؟‘‘،شمیم نے تحمل سے کہا۔
’’سردار صاحب اچھے آدمی ہیں‘‘۔
’’اچھے کا تو کہہ نہیں سکتی لیکن فارغ ضرور ہیں‘‘۔
’’وہ تمہارے لیے ہی آتے ہیں‘‘۔
’’حیرت ہے آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں،آپ جان بوجھ کر انہیں میرے نزدیک آنے دیتی ہیں‘‘،شمیم نے کاری وار کیا تھا طنز کا۔
’’ہاں!میں نے سوچا ہے کہ وہ اگر تمہارا ہاتھ مانگے گا تو میں انکار نہیں کروں گی‘‘،اقبال نے بے حد اطمینان سے اُس کے چراغ پا ہونے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’یعنی!میری شادی کا ارادہ ہے آپ کا‘‘،اُس نے مزیدطنز کیا۔
’’ظاہر ہے تمہاری شادی تو مجھے کرنی ہی ہے‘‘۔
’’کمال سے تو آپ نے دو لاکھ روپے مانگے تھے،یہ سردار کتنے ادا کررہا ہے؟‘‘،اقبال بیگم اُسے اُس نہج پر لے آئی تھی کہ سودے کے جس خیال سے اُس کا دل پھٹا جاتا تھا،ارمانوں،خوابوں اور خواہشوں کے زخموں سے مسلسل لہو رستا رہتا تھا،جو قاتل خیال تھا،اُس کا ذکر وہ اس قدر آرام سے کررہی تھی کہ ایک لمحے کیلئے دل بھی چپ ہوکر رہ گیا تھا،ناسور بنتے ہوئے زخم ادھڑ چلے تھے،آبلے پھوٹ بہے تھے مگر اپنی ذات کے اندر گونجنے والے نوحوں کی جانب سے اُس نے اپنے کان بند کرلئے تھے۔
’’بٹیا‘‘،اقبال بیگم کو زبان کی کاٹ کی نہیں شہد کی ضرورت تھی اور اقبال بیگم کے پاس اس کی ہرگز کمی تو نہ تھی’’کمال کی لالچ اور خودغرضی کو جانچنے کیلئے چال چلی تھی میں نے کہ اگر وہ تمہارا سچا چاہنے والا ہوا تو روپے اداکردے گا،بھلا میں نے وہ روپے اپنے پاس رکھنے تھے کیا؟‘‘،پینترا بدلنے کا اگر کوئی مقابلہ بین الاقوامی سطح پر منعقد کیا جاتا تو اقبال بیگم دنیا کے ہر پینترے باز بازی گر کو پچھاڑدیتی،شمیم اُسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی آپ بھی اب یہ سردار کا قصہ بند کردیجئے،سیٹ پر وہ مجھے اب نظر نہ آئے‘‘،قطعی فیصلہ کن لہجہ،جو اقبال بیگم کی ’’پُتلی‘‘ کا تو نہیں تھا،وہ تو بے حد ادب آداب والی،سر جھکا کر اپنا دل مار لیا کرتی تھی،وہ ’’شمیم آراء‘‘ کا لہجہ تھا،وہ شمیم آراء جو اپنے مٹھاس بھرے لہجے،رسانیت بھرے انداز اور مدلل گفتگو کے باعث سنجیدہ حلقوں کی پسندیدہ ترین اداکارہ تھی،وہ شمیم آراء جو اپنے رکھ رکھاؤ،تہذیب واخلاق اور شائستہ اطوار کی وجہ سے فلم انڈسٹری کے ہر بڑے ڈائریکٹر سے لیکر چھوٹے سپاٹ بوائے تک کی چہیتی تھی،وہ شمیم آراء جس کے فن اور اداکاری تو دور کوئی اُس کے انداز تکلم تک پر انگلی نہ اٹھا سکتا تھا،وہ شمیم آراء فیصلہ سنا گئی تھی۔
بے حد عاقبت نا اندیش تھی شمیم آراء۔
بے حد بے وقوف تھی پُتلی۔
اقبال بیگم کو جان کر بھی اُس کی سرشت نہ پہچان سکی تھی۔
اقبال بیگم شہد میں زہر کی تاثیر کا نام تھا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ذاتی زندگی میں شمیم تنہا سے تنہا ہوئی جاتی تھی۔
فنی اعتبار سے کامیابی کا سورج گویا گہنانا جانتا ہی تھا۔
ہر فلم کے ساتھ اداکاری میں پختگی۔
مکالموں کی ادائیگی میں تاثیر۔
گانوں کی پکچرائزیشن میں وہ ،وہ کمال دکھارہی تھی جو پاکستانی کی سلور سکرین پر کسی نے نہ دکھائے تھے۔
رومانی کرداروں کیلئے وہ اولین انتخاب تھی تو مشکل اور پیچیدہ کرداروں کیلئے بھی مصنفین اسی کا نام بے دھڑک لیتے تھے۔
وہ ’’پُتلی‘‘ جو پردہ سیمیں پر نمودار نہ ہونا چاہتی تھی،وہ جو گڑیوں میں ’’مامتا‘‘ تلاش کرتی تھی،وہ جو وکیل بننے کی آرزو کئے بیٹھی تھی ’’شمیم آراء‘‘ بن کر اپنے اندر موزی بیماری کی طرح پھیلتے ہوئے سناٹے سے چھٹکارے کیلئے فلموں میں پناہ ڈھونڈنے لگی تھی،دن بھر مشقت کاٹتے ہوئے،فلم سازوں،ہدائت کاروں،ساتھی اداکاروں،ایکسٹراز کے ساتھ وقت گزارتی،اُن کے دکھ سکُھ سنتی،اقبال بیگم سیٹ پر موجود ہوتی مگر وہ انہیں نظر انداز کئے رہتی،’’پالنے‘‘ کا جو احسان ہر وقت اقبال بیگم گنواتی رہتی تھی اُس کی قیمت وہ ادا کررہی تھی،کئے جارہی تھی،دل کا آنگن ویران ہوتا جاتا تھا تو کسی کو کیا غرض،چاہے جانے کی فطری خواہش بیکراں ندی کی طرح اُسے ڈبونے کیلئے ٹھاٹھیں مارتی رہتی تو کیا فرق پڑتا ہے کسی کو،دولت و شہرت تو تھی نا اُس کے پاس،دل زیادہ پریشان کرتا،ہش ہش کرنے پر بھی ،پچکارنے پر بھی قابو میں نہ آتا تو گھبرا کر لیبارٹری میں فلم کے پرنٹ کیسے ڈیولپ ہوتے ہیں ،یہ جا کر دیکھتی،ہدا یت کاروں سے مناظر کی عکسبندی کے حوالے سے سوالات کرتی،کس منظر کیلئے کون سا لینس استعمال کرنا چاہئے؟،ٹیکنگ کیسے ہو؟،مکالموں کی ادائیگی،سکرپٹ کی تکمیل وہ ہر ماہر سے کسی طفل کی طرح سب کچھ جاننے کا تجسس لئے بیٹھ جاتی۔وحشت سوا ہوتی تو کتابیں کھول لیتی،رضیہ بٹ کو پڑھتی جس سے اچھی دوستی ہوچلی تھی،ساتھی اداکاراؤں کو خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتا دیکھتی تو دل ہوکتا،یہ جانے بغیر کہ اُن میں سے بیشتر کی ازدواجی زندگی ہر گز مثالی نہیں ،ویسی مثالی جیسی وہ چاہتی تھی،بس اک سفر تھا جو چلے جارہا تھا،زندگی ایسی ٹرین بن گئی تھی جس کی کوئی منزل دور دور تک نہ تھی،ایندھن پھوکے جاتی،سیٹیاں مارے جاتی اور پٹری پر بھاگے جاتی۔
ستمبر 65کی جنگ کی بازگشت دھیمی نہیں ہوئی تھی کہ ’’نائلہ‘‘ نے تہلکہ مچادیا۔
کامیابی کا کوئی آٹھواں آسمان ہوتا تو ’’نائلہ‘‘ کی ریلیز اور فقید المثال کامیابی یقیناًشمیم آراء کو آٹھواں آسمان دکھادیتی۔
’’غم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے‘‘
شمیم نے ’’نائلہ‘‘ کو اس طرح اوڑھا کہ رضیہ بٹ بے اختیار کہہ اٹھیں کہ ’’ناول لکھتے ہوئے میرے ذہن میں شمیم نہیں تھی لیکن شمیم نے نائلہ بن کر ثابت کردیا کہ میرا تخیل کتنا مبہم اور نامکمل ہے‘‘۔
’’نائلہ‘‘ میں شمیم آراء نے اداکاری ہی تو نہیں کی تھی۔
پتا نہیں کیسے شمیم کو نائلہ کے تانے بانے پُتلی سے جڑے محسوس ہوگئے تھے۔
ٹوٹ کر جس کو چاہتی تھی اچانک روایات آڑے آگئیں. ،مامتا میں لپٹی خودغرضی اُس محبت کی دشمن بن گئی اورمحبوب نے مامتا کا کہا مانا,محبت کا دامن چھوڑ کر محبت سے محبت کی ہی قربانی چاہی. نائلہ کو سر جھکانا پڑگیامگرمحبوب کے چھوٹے بھائی کو اپنا وجود سونپنا سوہان روح تھا چنانچہ,
’’ہمیں آتا نہیں ہے پیار میں بے آبرو ہونا۔
سکھایا حسن کو ہم نے وفا میں سرخرو ہونا۔
ہم اپنے خون دل سے زندگی کی مانگ بھر دیں گے
یہ دل کیا چیز ہے ہم جان بھی قربان کردیں گے،
خلاف ضبط الفت ہم کو مرجانا بھی آتا ہے‘‘
گنگناتے ہوئے شمیم ’’نائلہ‘‘ کے روپ میں باوقار انداز میں دنیا چھوڑ دیتی ہے۔
نائلہ کی ناقابل فراموش کامیابی نے شمیم آراء کو ناقابل تسخیر بنادیا,چھوٹے بڑے ہر برانڈ کا بہترین اداکارہ کا ایوارڈ شمیم آراء کی جھولی میں آن گرا, معاوضہ پچاس ہزار سے تجاوز کرگیا,ہر فلمساز کی اولین خواہش شمیم کو اپنی فلم کی ہیروئین بنانا تھا,مردوں کی اجارہ داری کا گڑ قرار دی جانے والی فلم انڈسٹری میں پہلی بار ایسا ہونے جارہا تھا کہ طاقت کا سرجشمہ ایک عورت بن کر ابھر رہی تھی ,ایسا سورج جس کے غروب ہونے کا کوئی امکان دکھائی نہ دیتا تھا,فلم انڈسٹری کے نامی گرامی ہیروز اس بات پر معترض نہ ہوتے تھے کہ فلم کا مرکزی کردار شمیم کے پاس کیوں ہے,پوری فلم کی کہانی شمیم کے گرد کیوں گھومتی ہے, بر صغیر پاک و ہند میں ہیروئین شپ کے تصور کو شمیم آراء بناء کسی سوچ و بچار اور خواہش کے بدل رہی تھی, ,کمال پھانس سے ناسور بنتا جارہا تھا ہر چند کہ ابھرتی ہوئی اداکارہ رانی سے کمال کی محبت کے قصے وہ سنتی رہتی تھی مگر پھر بھی دل سے اٹھنے والی ہوک کمال کے نام کی ہی عطا تھی,عجیب بات تھی جو چاہتی تھی وہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا ,جو ہورہا تھا وہ چاہا نہ تھا اور جو ہونے والا تھا وہ اگلے کئی سالوں تک کیلئے ایک قصہ بن کر دہرایا جانے والا تھا ,کچھ ایسا جو اُس کی ہستی کو فنا کرکے جوالا مکھی بنادینے والا تھا اور وہ انجان تھی کہ اقبال بیگم اُس پر کونسی بجلی گرانے والی تھی وہ بجلی جس سے فلم انڈسٹری ہی نہیں شمیم آراء کے مداح بھی تھرا کر رہ گئے تھے. ………………..
” سردار رند سے شمیم آراء کی اچانک شادی”.
( نامہ نگار,کراچی)پہلے سے شادی شُدہ ادھیڑ عمر سندھ کے بااثر شخص سردار رند سے شمیم آراء کی شادی آنا فانا کردی گئی,ذرائع کے مطابق شمیم آراء کی شادی زبردستی کی گئی ہے کیونکہ وہ سردار رند سے شادی کرنا نہیں چاہتی تھیں,بھیدی نے انکشاف کیا ہے کہ شمیم آراء کی نانی نے انہیں بیہوشی کا انجیکشن لگوا کر نکاح نامے پر اسی بیہوشی کی حالت میں انگوٹھا لگوایا تھا اور اسی حالت میں ہی شمیم آراء کی رخصتی ہوئی, شمیم آراء کی نانی اقبال بیگم سے اس بارے میں بات کرنے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کچھ بھی کہنے سے صاف انکار کردیا,یاد رہے اداکار کمال سے شمیم.آراء کی نانی نے دولاکھ روپے شادی کے عوض مانگے تھے ممکن ہے کہ سردار رند سے بھی انہوں نے شادی کی مد میں رقم وصول کی ہو”.
باقی آئندہ ما ہ