ناولٹ : “وہی ایک سجدہ”۔

تحریر :عائشہ احمد
“سر! میں نے شہر کے تمام بڑے میڈیکل سٹورز سے بات کی ہے اور چند ایک کے سوا سب سےہی معاملات طے ہوگئے ہیں وہ بھی ہماری شرائط پر”۔وقار کا چرب زبان سیکرٹری اپنی کارکردگی کی تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا, وہ جانتا تھا کہ جتنی زیادہ اُن کی میڈیسنز سیل ہوں گی اسے اُتنا ہی کمیشن ملے گا۔
“دیکھ لو۔۔۔۔۔کوئی بڑا ایشو نہ ہو۔۔۔۔ورنہ تم تو جانتے ہو۔۔۔میری اتنے مہینوں کی بنی بنائی ساکھ مٹی میں مل جائے گی”, وقارکے لہجے میں مستقبل میں رونما ہونے والے کسی ممکنہ خطرے کا خدشہ بول رہا تھا۔
“کیسی باتیں کرتے ہیں سر؟, آپ مجھے جانتے ہیں میں کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلتا۔کام پکا ہوگا،میری ڈرگ انسپکٹر سے بھی بات ہوئی ہے۔۔۔اس کی بس تھوڑی مُٹھی گرم کرنے کی دیر ہے۔۔۔۔کام خود بخود ہوجائے گا, میڈیکل ریپرسنٹیٹوس کو سیل پر15% شیئر پلس سیلری.اتنی مراعات لیکر کسی کو بھی انسانیت کا بخارنہیں چڑھے گا”, احسن اب وقار کو پٹڑی پر لا رہا تھا۔
“ہوں”, وقارنے پُرسوچ انداز میں ہنکارا بھرتے ہوئے کہا “یعنی اس بار ہمیں دوگنا منافع ملے گا؟”.
“جی سر”, احسن کچھ جوش سے بولا”آپ دیکھیے گا سر ہماری کمپنی کیسےدن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی ہے ؟”.
“ہا ں بھئی۔۔۔۔اسی لئے تو تمہاری خدمات حاصل کی ہیں،مجھے تمہاری صلاحیتوں پر پورا اعتمادہے”, وقار اسے سراہتے ہوئے بولا.
“آپ کی نوازش ہے سر! “, احسن عاجزانہ لہجے میں بولا۔”میں چلتا ہوں سر،ابھی ڈلیوری کی تیاری بھی کرنی ہے”, احسن اجازت لےکر رخصت ہوگیا۔وقار کا زہن تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا.
?×××××××?
عشا اور فرقان شام ہوتے ہی چھت پہ چلے گئے تھے۔اس لیے کہ آج رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کا امکان تھا۔فرقان گلے میں دور بین ڈالے آسمان کو تک رہا تھا۔”کب آئے گا چاند نظر ماما؟”, فرقان کی بے صبری عروج پر تھی.
“آ جائے گا بیٹا،ابھی ٹائم ہے۔ویسے بھی چاند نظر آتے آتے تو بعض اوقات رات ہو جاتی ہے”, عشا اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
“یہ کیا بات ہوئی تب تک تو میں سو چکاہوں گا،مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ چاند نظر آیا ہے؟”, فرقان معصوم سے لہجے میں بولا.
“آپ فکر نہیں کرو صبح سحری میں آپ کو جگا دوں گی،آپ نے روزہ بھی تو رکھنا ہے”, عشا پیار سے بولی۔
“۔اور پاپا بھی نہیں آئے “, اسے اب ایک نیا شکوہ یاد آگیا تھا, عشانے بے اختیار گہرا سانس لیا.
عشا کے پاس فرقان کےاس سوال کا جواب نہیں تھا۔پھر بھی اسے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرتی۔اور ہمیشہ کی طرح اسے بس تسلی ہی دے پاتی۔”پاپا کو آفس میں کام بہت ہوتا ہے اس لیے وہ لیٹ آتے ہیں”, عشا اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
“ماما سب بچوں کے پاپا شام تک آجاتے ہیں۔سب مل کر کھانا کھاتے ہیں اور پھر باہر گھومنے بھی جاتے ہیں”۔ ہمیشہ کی طرح فرقان نے ماں کی دکھتی رگ چھیڑ دی تھی اور عشابیٹے کوتو سمجھا لیتی تھی لیکن خود کو تسلی دینا اورسمجھانا اس سے نہیں ہو پاتا تھا.
” ایسی زندگی میں نے کب چاہی تھی؟ “, وہ خود سے ہم کلام تھی۔”کتنی مزے کی زندگی تھی جب ہمارے پاس ڈھیر سارا پیسہ نہیں تھا, جب ہمارے پاس ایک دوسرے کیلئے وقت ہی وقت تھا اور تب وہ واقعہ بھی تو نہیں ہوا تھا جس نے وقار کو بالکل ہی بدل دیا.. تم کتنا بدل گئے ہو وقار.. تم تو سب بھول جاتے تھے معاف کر دیا کرتےتھے پھر.. “اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں.
وقار اور عشا دونوں کزنز تھے۔عشا وقار کے چچا کی بیٹی تھی ۔دونوں ساتھ پل کر جوان ہوئے تھے۔تب تک دونوں کی دوستی محبت میں بدل چکی تھی۔دونوں مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔جہاں سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے محنت ہی سب کچھ تھی۔یہی وجہ تھی کہ دونوں کی خواہشات محدود تھیں۔چھوٹا سا گھر اور پھر جس میں ڈھیر سارا پیار یہی کچھ چاہا تھا دونوں نے۔اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔بڑوں کی رضا مندی سے دونوں کی شادی کا مرحلہ بخوبی طے پا گیا تھا۔ وہ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔وقار عشا کو پا کر بہت خوش تھا۔ وقار ایک فیکٹری میں سپر وائزر تھا۔وہ انتہائی ایماندار اور محنتی انسان تھا۔اسے اپنے کام سے عشق تھا۔شادی کے ایک سال بعد فرقان پیدا ہوا۔فرقان کے آتے ہی دونوں کی دنیا مکمل ہوگئی تھی جیسے۔عشا کو اور بچوں کی خواہش تھی لیکن ان کی قسمت میں شائد صرف فرقان ہی لکھا تھا۔زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی کہ اچانک ایک طوفان آیا اور ان کی خوشیوں کو اڑا کر اپنے ساتھ لے گیا.
وقار جس فیکٹری میں سپر وائزر تھا وہاں اس کے کچھ دشمن بھی تھے۔جو وقار کو غلط کام پہ اکساتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ وقار فیکٹری کے مال میں ہیرا پھیری کرنے میں ان کا ساتھ دے لیکن وقار ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔وہ حق حلال کی کمائی پہ یقین رکھتا تھا۔یہی بات فیکٹری کے چند لوگوں کو پسند نہیں تھی ان لوگوں میں فیکٹری کا مینجر سرِ فہرست تھا۔ایک دن وقار فیکٹری پہنچا تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا۔ایک افراتفری تھی۔وقار جیسے ہی فیکٹری میں داخل ہوا پولیس کے ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔وقار ہکا بکا رہ گیا،اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ ا سکے ساتھ ہو کیا گیا ہے۔اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو فیکٹری کے مالک باقر نے اسے یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ ایسے چور اچکے کی اس فیکٹری کو کوئی ضرورت نہیں۔عقدہ کھلا کہ اسے چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔فیکٹری کے مالک باقر نے اس کے آفس سے چند اہم دستاویزات اور بھاری مالیت کی رقم بھی برآمد کی تھی۔اس نے باقر صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس کی ایک نہ چلی اور پولیس اسے تھانے لے گئی۔وقار کے جیل جانے کی خبر سنتے ہی اس کی ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ بیچاری چند دن ہسپتال میں رہنے کے بعد دنیا سے چل بسی۔وقار کے لیے یہ ایک اور گہرا صدمہ تھا۔ایسے وقت میں عشا نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔اس نے وقار کی رہائی کے لیے ہر ممکن جتن کیے لیکن پیسہ اور طاقت جیت گئی۔باقر نے وقار کو سزا دلانے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا۔اسے یہ سب کرنے پہ مجبور کرنے والا اس کا مینجر تھا۔
وقار کے دلائل کمزور تھے اس لیے عدالت میں اس پر چوری کے الزام کے ساتھ ساتھ رشوت لینے کا الزام بھی ثبوت اور جھوٹے گواہوں کے ذریعے سچ ثابت کر دئیے گئے, نتیجتا اسے پانچ سال کی سزا سنا دی گئی. ایک سال بعد وقار کا باپ بھی چل بسا۔وقار تو جیسے ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔لیکن عشا نے اس کا پورا ساتھ دیا وہ ہر مہینے اسے ملنے جیل جاتی،اس نے ایک سکول میں جاب کر لی تھی یوں زندگی کی گاڑی چل پڑی تھی۔ فرقان سکول جانے لگا تھا۔تین سال گزر گئے۔وقار نے جیل میں بڑے اچھے رویے کا مظاہرہ کیا۔اپنے چال چلن اور حسنِ سلوک سے جیل کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔جس کی وجہ سے اس کی سزا میں ایک سال کی کمی کر دی گئی۔جس دن اسے رہا ہونا تھا عشا خود اسے لینے گئی تھی۔جیل کا افسر اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا تھا۔پھر وہ لمحہ بھی آگیا جب ایک پولیس کا سپاہی وقار کو لے کر آیا۔دونوں کے لیے بڑے رقت آمیز لمحے تھے۔وقت جیسے تھم سا گیا تھا, عشا اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی اور وقار اپنے ۔دونوں گھر پہنچے تو فرقان ان کا منتظر تھا۔وہ باپ سے مل کربہت خوش تھا۔اتنے سالوں بعد تو اسے باپ کی محبت ملی تھی۔فرقان اسے اپنے سکول کے بارے میں بتا رہا تھا اور وقار اپنے ہو نہار بیٹے کے قربان جا رہا تھا۔اس نے مسکرا کر عشا کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرا دی تھی۔عشا کو یقین تھا کہ اتنی تباہی کےبعد اب سب کچھ پہلے جیسا ہوگا مگر یہ خوش فہمی جلد ہی دور ہوگئی تھی.
اس وقت وقار کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔
?×××××××?
پچھلے کئی سالوں کی طرح اس رمضان بھی عشا اور فرقان کو اکیلے ہی سحری اور افطاری کر نی پڑ رہی تھی۔دونوں چپ چاپ سحر کھانے میں مصروف تھے۔بات بھی کرتے تو کیا کرتے۔وہ وقار کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔صبح دیر سے اٹھنا اور رات دیر تک گھر لوٹنا۔ایسے میں ان دونوں کے لیے ٹائم ہی کہا ں تھا اس کے پا س، روزہ تو درکنار وہ تو نماز بھی نہیں پڑھتا تھا۔پیسے اور طاقت کے حصول نے اسے دین سے بیگانہ کر دیا تھا۔لہکن عشا کر بھی کیا سکتی تھی وہ اس کا شوہر تھا۔اس کے بیٹے کا باپ اور سب سے بڑھ کے وہ اس سے محبت کرتی تھی۔ اس لیے چپ چاپ سب برداشت کر رہی تھی۔لیکن وقار میں ایک بات اچھی تھی کہ پیسہ آنے کے بعد عشا اور فرقان سے اس اسکا رویہ بدلا نہیں تھا۔وہ آج بھی عشا سے بہت محبت کرتا تھا لیکن محبت کا اند از بدل گیا تھا،اب وہ ہرشے کو پیسے میں تولتا تھا۔وہ آج بھی عشا کا وفادار تھااور اس کے علاوہ کوئی دوسری عورت اس کی زندگی میں نہیں آئی تھی۔لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ عورت کو صرف پیسہ ہی نہیں محبت اور توجہ بھی چاہیے ہوتی ہے۔عشا نے پراٹھے کا آخری نوالا حلق میں ڈالا تو اسے وہ رمضان یاد آگیا جس میں اس نے وقار کے جیل سے آنے کے بعد پہلی سحری کی تھی۔
“کیا سوچا تم نے؟”, عشا پلیٹ میں پڑے انڈے کو پر سوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
“وہی جو تم نے سنا،اب میں نوکری نہیں کروں گا اور ویسے بھی مجھے نوکری کون دے گا،؟ میں نے سوچ لیا ہے کہ میں اب بزنس کروں گا”۔وقار چائے پیتے ہوئے بولا۔
“تم جانتے ہو نا بزنس کرنا کتنا مشکل ہے اور اس کے لیے ڈھیر سارا پیسہ چاہیے۔”, عشا پریشان کن لہجے میں بولی۔
“جانتا ہوں میں, جیل میں پلاننگ کرتا رہا ہوں تم دیکھنا جلد ہی میرے پاس ڈھیر سارا پیسہ ہوگا اور آدھی دنیا میرے آگے پیچھے ہوگی”۔وہ خواب بنتے ہوئے بولا۔عشا وقار کے اس فیصلے سے ڈر سی گئی تھی۔
لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ہونی کو کون روک سکتا ہے۔وقار نے ایک دوست کی میڈیکل کی دکان پہ نوکری شروع کردی۔وہ نوکری کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے دوست نے مشورہ دیا کہ پہلے مارکیٹ میں اپنی ساکھ بناؤ۔تجربہ حاصل کرو اس کے بعد کسی کاروبار کا سوچنا۔اس کے دوست نے اسے فارمیسی چلانے کی مختصر سی ٹریننگ دی اور وہ بہت کم عرصے میں بہت کچھ سیکھ گیا تھا۔وہ اپنا کام پوری محنت اور ایمانداری سے کرتا۔اور ساتھ یہ بھی دیکھتا کہ اس میڈیکل سٹور پہ کیا ہوتا ہے اور کس طرح لوگوں کو جعلی دوائیوں کے نام پہ اصلی موت بیچی جاتی ہے ۔پانچ روپیے کی گولی کس طرح سو روپےمیں فروخت ہوتی ہے اور بڑی بڑی کمپنیاں جعلی ادویات بنا کر کیسے میڈیکل سٹورز پہ بھیجتی ہیں۔اس سارے گھپلےمیں بڑے بڑے نامی گرامی ڈاکٹرز بھی شامل تھے جو مریضوں کو وہی دوائیاں لکھ کر دیتے تھے جن کو لکھنے کا معاہدہ ان بڑے بڑے میڈیسنز کمپنیز کے مالکان سے کرتے تھے۔ یوں سب کی چاندی تھی اور پس رہے تھے تو غریب عوام جو وٹامنز کے نام پہ موت خرید رہے تھے۔یہیں سے وقار کے ذہن میں میڈیسز بناے کا آئیڈیا آیا۔اس نے عشا سے بات کی تو عشا فورا مان گئی۔اس نے اپنا زیور بیچ دیا اور وقار نے اس سے زمین خرید لی۔ تعمیر کے لیے اس نے بینک سے قرضہ لیا جو اسے باآسانی مل گیا۔یوں فیکٹری کی تعمیر شروع ہو گئی۔اس نے قرض میں سے کچھ پیسے بچائے تھے تاکہ مشینری وغیرہ آسکے۔جلد ہی فیکٹری تعمیر ہو گئی اس نے اپنے دوست سے بات کی کہ اگر وہ اسے کچھ قرضہ دے دے تو وہ اسے لوٹا دے گا۔دوست مان گیا اور اسے فیکٹری چلانے کے لیے قرضہ دے دیا. لائسنس کے حصول کیلئے بھی اس کا وہی دوست کام آیا۔وقار نے پہلے کئی بڑے بڑے میڈیکل سٹوزر سے اپنی ادویات بیچنے کی بات کی۔ شہر کے بڑے بڑے میڈیکل سٹورز کے مالکان مان گئے تھے۔یوں وقار کا میڈیسنز کا کاروبارچند ماہ میں ہی چل پڑا تھا اور جلد ہی اس کا شمار بڑے بڑے میڈیسنز سپلائرز میں ہونے لگا تھا۔اس نے تمام قرضہ اتار دیا تھا اور ڈیفینس میں ایک شاندار بنگلہ خریدا اور عشااور فرقان کو لے کر وہاں شفٹ ہوگیا۔۔عشا بہت خوش تھی لیکن اس کی یہ خوشی عارضی تھی جب اسے پتہ چلا کہ وقار جعلی ادویات بناتا ہے اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔عشا نے اسے بہت سمجھایا لیکن وقار سمجھنے کو تیار نہیں تھا۔اس بات پہ دونوں میں بہت جھگڑے ہوئے لیکن تھک ہار کر عشا نے ہتھیار ڈال دیے۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ فرقان اب آٹھویں جماعت میں آگیا تھا۔فرقان کے بعدا ن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔اس لیے عشا فرقان کی تربیت بڑے اچھے انداز سے کر رہی تھی اور فرقان بھی ماں کا بہت ہی فرمانبردار بیٹا ثابت ہوا تھا۔ پندرھواں روزہ تھا جب عشا کچن میں افطاری کی تیاری کر رہی تھی اسے خبر ہی نہیں تھی کہ کب وقار اس کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔عشا بدستور اپنے کام میں مصروف تھی۔اسے پتا تب چلا جب وقار نے ڈائمنڈ نیکلس اس کے گلے میں ڈال دیا تھا۔
“تم۔۔؟ تم کب آئے۔۔؟”.
“ارے بھئی ہم تو بڑی دیر سے آپ کی نظرِ کرم کے منتظر ہیں لیکن آپ ہیں کہ ہمیں دیکھ ہی نہیں رہیں”،وقارمحبت بھرے لہجے میں بولا۔
“اس کی کیا ضرورت تھی۔۔؟” وہ نیکلس کو ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولی۔
“کیوں ضرورت نہیں تھی؟ یہ اس خادم کی جانب سے ایک حقیر سا تحفہ ہے۔i love you”۔،وقار عشا کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بولا،”میں جانتا ہوں کہ میرے پاس ٹائم کم ہوتا ہے لیکن کیا کروں؟ کام ہی اتنا ہوتا ہے۔اچھا جلدی کرو۔۔افطاری بناؤ،میں فریش ہو کر آتا ہوں”۔یہ کہہ کر چلا جاتا ہے۔عشا نیکلس کو تھامے کسی سوچ میں گم ہے۔اس کے ہونٹ تھر تھراتے ہیں”حرام کی کمائی کا نیکلس۔۔”؟ اور آنسو آنکھوں سے ٹپک پڑتے ہیں۔محبت کتنا مجبور کر دیتی ہے انسان کو۔۔اسے اس نیکلس کے چمکتے ہوئے ہیروں سے خوف آیا تھا.
?×××××××?
عشا صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ کسی سوچ میں گم تھی اور ریموٹ سے مختلف چینلز گھما رہی تھی چینل گھماتے گھماتے ایک نیوز چینل پررکی. وہ نیوزبلیٹن کا نمائیندہ تھا جو سنسنی خیز انداز میں خبر دے رہا تھا. “ناضرین یہ خبر بڑی ہی درد ناک ہے کہ جعلی دوائیں پینے سے ۵ افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔”.
عشا چونک کر سیدھی ہوئی “ان افراد کو تشویش ناک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے, جہاں ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہےپولیس ابھی کسی بھی قسم کی گرفتاری کرنے سے گریزاں ہیں۔کیونکہ اس کے پیچھے بہت بااثر افراد کا ہاتھ ہے۔جن پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لئے مشکل ہی نہیں۔۔۔بلکہ ناممکن بھی ہے”۔عشا آنسوئوں سے روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی.. بے ساختہ اس کے لبوں سےسرگوشی نما چیخ نکلی ” نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔وقار ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔۔میرا وقار ایسانہیں۔۔وہ لوگوں کی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتا”۔بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہ گلے سے نیکلس نوچ کر غصے سے پھینکتی ہے۔وقار باہر سے آتا ہے کوٹ کندھے پہ ڈالا ہوا ہے۔ وقارنیچے دیکھتا ہے جھک کر نیکلس اٹھاتا ہے۔وقار نیکلس اس کے سامنے کرتے ہوئے کہتا ہے، “یہ کیا ہے عشا؟”۔
عشا وقار کو دیکھتی ہے آنسو ایک ہاتھ سے صاف کرتی ہے اور جانے لگتی ہے وقار ہاتھ پکڑ کر اسے روکتا ہے “یہ کیا ہے عشا؟۔۔۔۔تم ایسے کیوں کر رہی ہو؟۔”۔۔۔۔
“لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہو اور وجہ مجھ سے پوچھتے ہو؟”, عشا چیخ کر بولی
“لیکن اس بات کا اس نیکلس سے کیا تعلق۔؟” وقار غصے میں بولا۔
“مجھے حرام کی کمائی نہیں چاہیے۔۔سنا تم نے۔۔۔نہ مجھے،نہ میرے بیٹے کو”۔
“شٹ اپ عشا۔۔۔۔میں اکیلا نہیں ہوں۔۔۔۔۔سب ا س بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں”, اس کا لہجہ پتھریلا تھا عشارونا بھول گئی.
“مرنا سب نے ہے ویسے نہیں تو ایسے”۔۔
“تم اتنے سنگدل ہو سکتے ہو۔۔۔۔میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔۔۔۔ تم وہ وقار ہو ہی نہیں۔۔۔۔۔جس سے میں نے محبت کی تھی۔۔۔تمہیں صرف دولت سے محبت ہے۔۔۔صرف دولت سے۔”.
وقار جھنجھلاجاتا ہے،”پاگل مت بنو،مجھے تم سے اور فرقان سے بہت محبت ہے،تم نہیں جانتی کہ ہم نے کیسی زندگی گزاری ہے۔۔؟ ایک نا کردہ گناہ کی سزا میں نے بھگتی،کیوں۔۔؟ اس لیے کہ ایماندار تھا،اس کی اتنی بڑی سزا مجھے ملے گی میں نے کھی سوچا نہیں تھا”, وقار وہ لاوا اگل رہا تھا جو الزام اور پھرجیل میں گزارے جانے والے سالوں میں زہر بن گیا تھا”ایماندار اور شریف آدمی کی اس معاشرے میں کوئی زندگی نہیں ہے،عزت ہے تو صرف پیسے والے کی،طاقت والے کی،آج لوگ مجھے جھک کر سلام کرتے ہیں”،وقار کے لہجے میں کرب تھا۔
“میں کچھ نہیں جانتی۔مجھے اتنا پتہ کہ یہ حرام کی کمائی ہے اور مجھے حرام کا پیسہ نہیں چاہئے “, وہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔وقار اسے بہت روکتا ہے لیکن وہ نہیں سنتی۔غصے سےنیکلس زمین پر پٹختا ہے۔اس پر تو جیسے پہاڑ ہی گر پڑا تھا.
“عشا کو تو سمجھالوں گا پہلے اس معاملے سے نبٹوں”, صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے پینٹ سے سیل فون نکالتے ہوئے سوچا اورکال ملائی.
” تم سے جب میں نے کہا تھا کہ دھیان اور احتیاط کے ساتھ کام کرنا پھر ایسے کیسے ہو گیا۔۔۔؟”, رابطہ ملنے پروقار نے بے حد برہمی سے کہا. جوابا احسن منمناتے ہوئے وضاحتیں دینے کی کوشش کرنے لگا مگر اس نے بات کاٹی”کیا تمہیں اندازہ نہیں کہ اس سے ہماری ساکھ متاثر ہو گی،پولیس کو ہم کتنا بھی دے دیں لیکن کبھی نہ کبھی تو پول کھل جائے گا”،وقارنے سگرٹ سلگائی اور ہونٹوں سے لگا لی۔ایک کش سے ہی اسے سکون آنے لگا تھا۔وہ بس آفس میں ہی اپنا یہ شوق پورا کرتا تھا،عشا کو اس کا سگرٹ پینا پسند نہیں تھا،اس لیے وہ گھر میں نہیں پیتا تھا۔
“اس بار لگتا کچھ زیادہ ہی ناقص میٹریل ڈالا گیا تھا سر۔۔”, احسن نےبدستور منمناتے ہوئے ملبہ جیسے اپنے سر سے اتارا تھا.
“زیادہ نہیں۔۔۔۔ بلکہ بہت زیادہ۔۔۔۔۔تمہیں میں نے کتنی بار سمجھایا ہے کہ آہستہ چلو،دھیرے دھیرے چلنے سے ہی سارے معاملات صحیح چلتے ہیں”,وقار اسے سمجھا رہا تھا۔
“جی سر۔۔۔۔!”, احسن سعادت مندی سے بولا،”اگلی بار میں خیال رکھوں گا”,وہ جانتا تھا کہ سر جھکانے میں ہی اس کی عافیت ہے ورنہ وقار کا غصہ اسے کہیں کا نہ چھوڑتا،وقار کے ذہن میں صرف عشا تھی،وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے کیسے منائے گا۔۔۔۔؟
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی.
?×××××××?
“فرقان بیٹا!۔۔۔۔اٹھو۔۔۔۔سکول نہیں جانا”۔اس کےگال آہستہ سے تھپکتے ہوئے عشاچونکتی ہے “ارے۔۔۔۔ اسے تو بہت تیز بخار ہے”, جلدی سے ڈاکٹر کو کال کرتی ہے۔تھورڑی دیر میں ان کا فیملی ڈاکٹر پہنچ گیا تھا۔چیک اپ کرنے کے بعد ایک کاغذ پرچند میڈیسنز کے نام لکھ کر دیتا ہے۔
“ڈاکٹر صاحب کوئی خطرے والی بات تو نہیں؟”, عشابے چینی سے پوچھتی ہے۔
“ارے نہیں مسز وقار,موسمی بخار ہے,انشاللہ جلد ٹھیک ہوجائے گا,آپ یہ میڈیسنز ٹائم پہ دیں اور اس کی غذا کا خاص خیال رکھیں”, ڈاکٹر اکبر اسے تسلی دیتا ہے۔
وقار سے چونکے وہ بے حد ناراض تھی لہذا اسےفرقان کی طبیعت کے بارے میں اس نے کچھ نہ بتایا.وقار ہمیشہ امپورٹڈ میڈیسنز گھر کے لیے لاتا تھا مگر عشا نے ملازم سے باہر سے دوا منگوائی۔
مگر فرقان کا بخارکم ہونے کی بجائے تیز ہوگیا تھا۔اس کے فیملی داکٹر نے فرقان کو ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔عشا نے گاڑی نکالی اور فرقان کو لے کر ہسپتال چلی گئی،راستے میں اس نے وقار کو فون کر دیا تھا۔فرقان کو آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔عشا کی اپنی حالت بہت خراب تھی،ڈاکڑز کچھ بھی نہیں بتا رہے تھے۔تھوڑی دیر میں وقار بھی پہنچ گیا تھا۔عشا اس کے گلے لگ کر پھوٹ کر رو دی تھی،وقار اسے تسلیاں دے رہا تھا۔”ہوا کیا تھا اسے۔۔؟”.
“معمولی سا بخار تھا،مں نے اسے دوائی بھی دی تھی لیکن پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا”، اسی وقت آئی سی یو سے ڈاکٹر باہر آتا ہے دونو ں بیتابی سے اسکی طرف بڑھتے ہیں۔
“ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔میرا بیٹا۔۔”, عشا صرف اتنا ہی کہہ پاتی ہے.
“ہم نے ان کا معدہ واش کردیا ہے۔۔۔۔۔ابھی وہ بے ہوش ہے۔۔۔۔ہوش میں آنے کے بعدہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔۔۔آپ دعا کریں۔”,دونوں چونکتے ہیں۔
“کیا مطلب ڈاکٹر صاحب معدہ واش؟”, وقار پریشان کناں لہجے میں پوچھتا ہے۔
“دراصل فرقان کو جو میڈیسن دی گئی تھی یا تو وہ ایکسپائر تھی۔۔۔یا جعلی۔۔۔آپ تو جانتے ہیں وقار صاحب ہمارے ملک میں جعلی میڈسنز کا کاروبار عروج پر ہے۔۔۔۔اور کتنے ہی بے گناہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔شکر ہے آپ اسے ٹائم پہ لے آئے ورنہ۔۔”, ڈاکٹر نے بات اھوری چھوڑ دی تھی “بہر حال آپ فرقان کے ہوش میں آنیکی دعا کریں۔۔۔پھر ہی ہم کچھ کہہ سکتے ہیں”, وقار دیوار کے ساتھ جا لگا تھا،اس کے قدم ڈگمگا گئے تھے۔،اسے آج ایسا لگا کہ کسی نے اس کے پاؤں سے زمین کھینچ لی ہو،کئی گھنٹے اسی طرح گزر گئے تھے،فرقان کو ابھی ہوش نہیں آیا تھا،عشا فرقان کے بیڈ کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی اور وقار ہسپتال کے کوریڈور میں دیوار کے ساتھ نیچے بیٹھا تھا۔ اسے آج اپنا آپ بہت حقیر لگ رہا،فرقان ا سکی کل کائنات تھا،اگر وہ نہ رہتا تو یہ دولت بھی کس کام کی۔۔۔؟ آج اگر کوئی اسے ساری دولت کے بدلے فرقان کی زندگی دیتا تو وہ اپنی ساری دولت دے دیتالیکن وہ بھول گیا تھا کہ یہ قانونِ خدا وندی ہے،یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے،یہاں جیسا کرو گے ویسا ہی ہوگا،مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا،اور آج چھبیسواں روزہ تھا،کسی نے ہسپتال میں افطاری کر وائی تھی۔ایک آدمی اس کے پا س بھی چند کھجوریں اور پانی لے کر آیا تھا۔وہ آدمی سارے ہسپتال میں کھجوریں اور پانی بانٹ رہا تھا،کتنی دیرتک وہ ان کھجوروں اور پانی کو دیکھتا رہا،وہ کیا کرتا ان کا۔۔؟ اس نے تو کئی سالوں سے روزہ نہیں رکھا تھا، وہ تو اپنے رب کو بھول گیا تھا،دور سے مغرب کی اذان بلند ہوئی۔
“اللہ اکبر اللہ اکبر
حی الصلاۃ
حی الصلاۃ
حی الفلاح
حی الفلاح
آؤ نماز کی طرف،آؤ کامیابی کی طرف”, وہ سو چ رہ اتھا اس نے تو کبھی نماز نہیں پڑی تھی،بس جمعہ پڑتا تھا یا عید وغیرہ پہ،وہ بھی اس لیے کہ اس نے وہاں اپنے پیسے کی نمائش کرنی ہوتی تھی،ہر جمعہ وہ صدقہ اورخیرات کرتا تھا،وہ بھی دکھاوے کے لیے۔ہسپتال میں موجود لوگ قریبی مسجد میں جا رہے تھے۔اس کے اندر سے صدا آئی،”منا لے اپنے رب کو جو تجھ سے روٹھا ہوا ہے۔تیرا ایک سجدہ اسے راضی کر لے؛،وہ بے نیاز ہے،وہ تو اپنے بندے سے کچھ بھی نہیں چاہتا سوائے اپنی بندگی کے”،جماعت کھڑی ہو چکی تھی،وہ بھی سب سے پیچھے رب کی بندگی کے لیے کھڑا تھا۔
نماز ہو چکی تھی سب نمازی جا چکے تھے،سوہ دعا کے بعد سجدہ ریز ہو گیا تھا،سجدہ بہت طویل تھا،وہ اپنے روٹھے ہوئے رب کو منا رہا تھا،اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا،کتنی ہی دیرسجدے میں گزر گئی،اس کا چہرہ آنسوئوں سے بھیگ چکا تھا۔ اس کے موبائل پہ وائبریشن ہو رہی تھی،اس نے سجدے سے سراٹھا کر جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو عشا کی کال تھی،اس نے جلدی سے کال اٹھا لی،وہ رو رہی تھی،”وقار… وقار”اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی،”وقارہمارے فرقان کو ہوش آگیا ہے۔وہ بالکل ٹھیک ہے۔تم جلدی پہنچو”, وہ اسے خوشخبری سنا رہی تھی۔اس کا روٹھا رب مان چکا تھاصرف ایک سجدے کے بدلے،اس کاسر ایک بار پھر سجدہ ریز ہو گیا تھا۔
“وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات”.
?×××××××?
یہ عید کا دن تھا،فرقان اور وقار عید کی نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے۔عشا نے شیر خورمہ بنا کر فریج میں رکھ دیا تھا اور خود تیار ہونے کے لیے کمرے میں چلی گئی تھی۔آج اس نے وقار کی پسند کا سوٹ پہنا تھا۔پنک کلر کا،کچھ وہ ویسے ہی خوبصورت تھی باقی ہلکے گلابی میک اپ نے ا س کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے۔وقار اور فرقان عید کی نماز پڑھ کے آچکے تھے،وقار اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔شیر خورمہ کھانے کے بعد فرقان باہر دوستوں میں چلا گیا تھا۔جب کہ عشا اور وقار ٹیرس پہ چلے گئے تھے،موسم بہت خوشگوار تھا،ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی،ایسے ہی عشا کے بالوں کی ایک لٹ اس کے ماتھے پہ جھول رہی تھی،جسے وقار نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے پیچھے ہٹا دیا تھا۔اور عشا نے مسکرا کر اپنا سر وقار کے کندھے پہ رکھ دیا۔وقار اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ زندگی بہت آسان ہے یہ ہم انسان ہی ہیں جنہوں نے اسے بہت مشکل بنا دیا ہے۔دین کا راستہ اتنا کٹھن نہیں ہے۔بس اس خالقِ کائنا ت کی بندگی کرنی ہوتی ہے اور وہ پاک رب آپ کی مشکلات خود ہی دور کر دیتا ہے.. اور زندگی کا راستہ آسان ترین ہوتا جاتا ہے۔یہی سیدھا راستہ ہے صراطِ مستقیم کا راستہ۔جس پہ چل کر انسان اپنے رب کو پا لیتا ہے۔اور یہ راز وقار جان گیا تھا۔
“میں اب موت نہیں بیچوں گا”, وقار نے بے حد آہستہ سے کہا تھا
“میں جانتی ہوں”, عشا کے لہجے میں یقین تھا.