” وہ گونگا ہرگز نہیں تھا “

برسوں بعد پاکستان کی حدود میں جب وہ داخل ہوا تو جسم کے نام پر ہڈیوں کا بوجھ اُٹھائے ، بے ترتیب الجھے بالوں والا وہ پاگل سا بوڑھا  باربار ناک رگڑتا چہرہ صاف کرتا  دائیں ہاتھ کواپنے گریبان میں ڈالتا ایک ہی جانب دیکھتا ہوا اپنی آنکھوں کی چمک کے باعث سب سے منفرد تھا ….
آنکھیں بہت کچھ کہہ رہیں تھیں اور وہ زبان سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر مجبور تھا.وہ گونگا ہر گز نہیں تھا

برسوں بعد وہ اپنی زمین پر لوٹا تھا لیکن وہ اپنے گھر نہیں گیا تھا بلکہ . . . . . . . . . . .

پاکستانی حکام کی طرف سے ابتدائی کارروائی کے بعد یہ بوڑھا پاگل پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر رجمنٹ 22جا پہنچا. اُس کی ذہنی حالت ایسی تھی کہ اُسے صرف پاگل خانے بھیجا جا سکتا تھا مگر قدرت کچھ اور ہی کہانی دکھانا چاہتی تھی اُس بوڑھے کو رجمنٹ کمانڈر کے سامنے پیش کیاگیا-کمانڈر کے سامنے پیش ہوتے ہی اُس بوڑھے نے اتنی طاقت سے ایک فوجی کی طرح کمانڈر کو سلیوٹ کیا کہ سب دنگ رہ گئے ساتھ ہی اُس نے ایک کاغذ بڑھایا. لکھا تھا.

سپاہی مقبول حسین نمبر335139   ڈیوٹی پر آگیا ہے اور اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہے

yt_thumb

  اَس کاغذ پر لکھے الفاظ نے وہاں موجود سب کو لمحے بھر کے لئے ساکت کر دیا وہ سب اُس پاگل کو دیکھ رہے تھے جس کی آنکھوں کی چمک اُس کی سچائی کو ظاہر کر رہی تھی-

فوجی ریکارڈ کو کھنگالا گیا اور پھر ایک ایسی کہانی سامنے آئی جسے جاننے کے بعد جو اِس پاگل بوڑھے کی حرکت پر مسکرا رہے تھے  اب کھڑے ہو کر سلیوٹ پیش کر رہے تھے-اور وہ خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا کچھ کہنا چاہتا تھا مگر زُبان ساتھ نہیں تھی۔ وہ بوڑھا  گونگا ہر گز نہیں تھا
اور اُسکی کہانی کچھ یوں تھی
ستمبر1965ء کی جنگ میں “سپاہی مقبول حسین” کیپٹن شیر کی قیادت میں اپنی پشت پر وائرلیس سیٹ اورہاتھ میں گن اٹھائے اپنے افسران کے لئے پیغام رسانی کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے  دشمن  کے علاقے میں اسلحہ کے ایک ڈپو کو تباہ کرکے واپس آتے ہوئے زخمی ہو گیا-سپاہی مقبول حسین کو واپس لے جایا جانے لگاتو اُس نے جانے سے انکار کردیا اور کہاکہ
“بجائے میں زخمی حالت میں آپ کا بوجھ بنوں، میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کیلئے محفوظ راستہ مہیا کرتا ہوں” —
ساتھیوں کا اصرار دیکھ کر مقبول حسین نے خود کوچھوٹی کھائی میں گرا کر اپنے آپ کو نظروں سے اوجھل کردیا اور زخمی سپاہی نے ہندوستانی فوجیوں کو آڑے ہاتھوں لیا- اِسی دوران ایک گولے نے سپاہی مقبول حسین کو شدید زخمی کیا- وہ بے ہوش ہو کر گرپڑا اور پھرجنگی قیدی بن گیا. –
جنگ کے بعد تلاش کرنے پر بھی سپاہی مقبول نا ملا تو اُسے شہید تصورکرلیا گیا -بہادر شہیدوں کی بنائی گئی یادگار پر اِس غازی کا نام آج بھی لکھا ہوا ہے-

بھارتی فوج نے اِس کڑیل سپاہی مقبول حسین کی زبان کھلوانے کیلئے ہر طرح کا ظلم کیا – پنجرا نما کوٹھڑی میں قید کیا- انسانیت سوز مظالم بھی نہ کچھ اُگلوا سکے تو وہ مقبول حسین کو تشدد کا نشانہ بنا کر کہتے ”کہو! پاکستان مردہ باد“ اور سپاہی مقبول حسین اپنی ساری توانائی اکٹھی کرکے نعرہ لگاتا “پاکستان زندہ باد” جو بھارتی فوجیوں کو مزید پاگل کر دیتا-وہ سپاہی مقبول حسین کو ذہنی ٹارچر دیتے۔ اُنہیں یہ پاگل اپنی جان کا دشمن لگتا جوبلاخوف ہندوستان کی سرزمین پراپنی زبان سے بآواز بلند “ پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ لگاتا کیونکہ وہ گونگا نہیں تھا

فوجی اذیت دے کر اُسے پاگل کرنےکی کوشش کرتے اورسپاہی مقبول حسین  پاگل پن میں کہتا کہ
” ہاں میں پاگل ہوں— میں پاگل ہوں— اپنے ملک کے ہر ذرّے کے لئے میں پاگل ہوں اپنے ملک کے کونے کونے کے دفاع کیلئے میں پاگل ہوں اپنے ملک کی عزت و وقار کے لئے میں پاگل ہوں” —

سپاہی مقبول حسین کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ بھارتی فوجیوں کو ہتھوڑے کی طرح لگتے- آخر انہوں نے “ پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگانے والی اُسکی زُبان کاٹ ڈالی.
سپاہی مقبول حسین نے اپنی جوانی کے بہترین چالیس سال اُس کوٹھڑی میں گزار دیئے جہاں وہ اپنی کٹی زبان سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ تو نہیں لگا سکتا تھا مگر اپنے جسم سے رستے ہوئے خون کی مدد سے کوٹھری میں” پاکستان زندہ باد “لکھ دیتا-

۔کیونکہ اُس کی زُبان کٹی تھی ہاتھ نہیں.

Pakistan

سپاہی مقبول حسین اپنی زندگی کے بہترین دن اپنے وطن کی محبت کے پاگل پن میں گزار آیا اور یہاں ہم میں سے کچھ “نام نہاد مُحبِ وطن” دور بیٹھ کر اِس ملک کے لئے ” مردہ باد” کا نعرہ لگواتے ہیں اوراُن کی زبان بھی گنگ نہیں ہوتی وہ اِس زمین کے مزید ٹکڑے کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں اوراُن کا زہن بھی کام نہیں کر رہا ہوتا وہ دفاع پر اُنگلیاں اُٹھاتے ہیں اور اُن کے ہاتھ بھی نہتے نہیں ہوتے۔ اُن نام نہاد مُحبِ وطنوں کے  لئے ” سپاہی مقبول حسین” کی دیوانگی اور وطن پرستی وہ بہترین “طمانچہ” ہے جووطن سے پاگل پن کی حد تک محبت کرنے اور اپنی جوانی کو ” پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگاتے ہوئے اپنی زبان کا نذرانہ دینے کے باوجود بھی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ کر اپنے فرض کو نبھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں. کیونکہ سپاہی مقبول حسین گونگا نہیں تھا۔

“عُروج  بنتِ ارسلان”

3-sipahi-maqbool-hussain

maqbool-hussain