”ویلنٹائن نامہ”

“بنتِ ارسلان کے قلم سے …. ”

“محبت “امر ہونے کا نام ہے اور امر ہونے کے لئے محبت میں محبت پر محبت کے لئے محبت کومرنا ضروری ہوتا ہے”۔
“اور جو محبت میں مر نہیں سکتے وہ شادی شدہ ہو جاتے ہیں “۔
محبت کے عالمی دن 14 فروری کو محبت کے اظہار کا دن سمجھ کر منانے والے یہ مانتے ہیں کہ اِس دن عاشقِ نامدار “سینٹ ویلنٹائن ” اپنی محبت کے لئے قربان ہوئے تھے ۔ اور محبت تو “قربانی” کا نام ہوتا ہے نہ؟۔۔۔
تو قربان ہونے کے لئے ہمارے پاس “عید الاضحی ” ہے۔
“ہے کہ نہیں ایثار ،قربانی اور محبت کا سب سے تاریخی عالمی بڑا دن؟”۔۔۔۔۔۔۔ (جذباتی اٹیک)

روم اور یونان کی مستند اور غیر مستند خیالی داستان کے کردار “سینٹ ویلنٹائن” تیسری صدی کے پادری تھے۔

٭کوئی کہتا ہے کے راہبہ کی محبت میں کلیسا کی دھجیاں بکھیر کر محبت میں امر ہو کر پھانسی گھاٹ پرموت کو گلے لگا گئے۔۔۔
* رومیوں کے خیال میں”کلاودیوس رومی بادشاہ” نے شادی پر پابندی لگائی تو “پوپ ویلنٹائن” کو نوجوان جوڑوں کی خفیہ شادیاں کروانے کے جُرم میں قید میں ڈالا گیا جہاں اُنہیں جیلر کی بیٹی سے محبت ہو گئی اور 14 فروری کو پھانسی گھاٹ پر جانے سے پہلے الواداعی نامے پر “تمہارا ویلنٹائن” کے عظیم دستخط کر کے محبت کے نام پر سولی چڑھ گئے ۔۔۔
٭یونانیوں کے مطابق 14 فروری کو اُن کی شادی کی دیوی “یونو” کا مقدس دن ہے ۔”کیوپڈ”خدائے محبت کی تصویر بناتے ہیں جو ایک بچے کی شکل ہے جسکے ہاتھ میں ایک کمان ہے جس سے وہ اپنی محبوبہ کے دل میں تیر پیوست کررہا ہوتا ہے۔

یہ ہے و ہ تاریخی حقیقت ویلنٹائن ڈے کی جس سے یورپ کی نوجوان نسل کی اکثریت آگاہ ہے مگر انکے لیے یہ دن صرف اپنی بیوی یاگرل فرینڈ کو اپنے پیار کا احساس دلانے کا نام ہے۔ خواہ شام کو کام سے واپسی پر سرخ گلابوں کا گلدستہ ہو یا کوئی پسندیدہ تحفہ اور یا پھر کسی اچھے سے ریسٹورنٹ پر ڈ نر،فرانس میں بھی نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور شادی شدہ مردوخواتین کاویلنٹائن ڈے منانے کا یہی طریقہ ہے۔ نہ ہی بازاروں میں کوئی رش نہ ہی کالج و یونیورسٹیوں میں چھٹی اور نہ ہی کوئی شخص دفتر سےچھٹی کرتا ہے۔روز مرہ کے دنوں کی طرح کا ایک عام دن۔۔

جس کی خصوصی اہمیت صرف ان لوگوں کے دلوں میں ہوتی ہے۔ جنکا کوئی افیئرہو۔۔کوئی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ ہو ۔۔
یا پھر وہ بےچارے جو محبت کے نام پر شادی شدہ ہو چکے ہوں۔
(یہ شادی شدہ بہتر سمجھ سکتے ہیں )

مسیحی چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔
اِسی وجہ سے 2016 میں عیسائی پادریوں نے اِس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیئے۔
بنکاک میں ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کردیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔

یہ تو ہو رہا ہے یورپ میں۔۔۔ ہم میں سے وہ جہنوں نے نوے کی صدی کے اوائل اور آخر کا وقت دیکھا ہے وہ جانتے ہوں گے کہ ہمارے ہاں ویلنٹائن اُسی دور میں نازل کیا گیا اور آج باقاعدہ کاروبار اور ریٹنگ کا زریعہ بن چکا ہے۔ نوے کے آخر میں لاہور کے لبرٹی چوک میں محبت کے نام پر ایک جیل بنائی گئی جہاں محبت کرنے والوں کو اُس میں قید کیا گیا اور پھر محبت کی جیل کے جیلر نے اُن جوڑوں کے گھر اطلاع دے کر ماں باپ کو طلب کیا اور اُن کے ماں باپ نے آکر اُنہیں جیل سے رہائی دلوائی۔۔۔ گھر جا کر اُن جوڑوں کی کیا حالت ہوئی یا کی گئی یہ کوئی نہیں جانتا۔ “یا شاید یہ سکرپٹڈ / پلانٹڈ ہو۔ واللہ علم بالصواب”

ہماری تہذیب جہاں پہلے پہل کبوتر کے پاؤں میں پر چی باندھ کربھیجی جاتی تھی یا جہاں محلے کا چھوٹا بچہ ٹافی یا پانچ روپے کی پولکا آئس کریم۔یا سیون اپ ۔ ارسی کی بوتل کے لالچ میں خط اِدھر سے اُدھر لے جایا کرتا تھا وہاں پہلے پی ٹی سی ایل عام ہوا پھرپیجراور موبائل نے جگہ لی۔
چینلز کی بھرمار اشتہارات کی اشتہا انگیزی اور اورموبائل پیکچز نے تو حد ہی کر دی۔
(“موبائل سستا کیا ہوا کہ ہم چیپ ہی ہو گئے”۔۔)

پھر یہ وقت آیا کے کے مارننگ شوز شروع ہو گئے۔۔ تب سے آج تک پاکستان میں محبت کا اظہار عام ہوگیا ہے اور بری طریقے سے عامیانہ بھی اور اسے عامیانہ کرنے میں صبح سویرے میک اپ زدہ عورتیں برانڈز کو پرموٹ کرتے مہنگے لباس زیب تن کئے۔ روتے ہنستے چہروں کے پیچھے ریٹنگ کے نام پر ایک دوسرے سے سبقت لے جانےکی دوڑ میں اِن شوز کے زریعےعوام الناس کو محبت کے اظہار کا عامیانہ راستہ فراہم کرتی نظر آتی ہیں۔ خصوصی ڈرامے بازی لکھی اور پیش کی جاتی ہیں۔ انڈرگروانڈ پارٹیز ہوتی ہیں۔ ریمپ شوز ہوتے ہیں اور جو کچھ ہوتا ہے قرطاس پر اتارا نہیں جا سکتا۔۔۔

اہلِ مغرب کی پیروی اتنی بھی غلط نہیں جتنی کہ ہم نے بنا ڈالی ہے۔وہ ہماری پیروی کر کے کہاں سے کہاں جا پہنچے اور ہم نے اُن کا پونچا پکڑ کر اپنے آپ کو ان کی پاؤں کی جوتی کا تلوا بنا ڈالا ہے۔

کہنا اتنا ہے کہ اگر کسی کی تہذیب سے ہنڈیاچڑھانی ہو تو مصالحہ اُتنا ہی رکھیں جتنا ہضم ہو سکے ورنہ بواسیر بھی ہو جاتی ہے۔جسکا خمیازہ خود سمیت آگے آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ اور آگے آنے والی نسل کے پاس معافی نہیں ہو گی۔